Category Archives: مساجد و تعمیرات – Architecture

مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ

سنن ترمذی میں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ  صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ [ص:139] مِنْ ثَلَاثٍ: الكَنْزِ، وَالغُلُولِ، وَالدَّيْنِ دَخَلَ الجَنَّةَ ” هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ: الكَنْزُ، وَقَالَ أَبُو
عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ: الكِبْرُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَعْدَانَ وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ

ثَوْبَانَ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جس کی روح جسم سے الگ ہوئی اور وہ تین چیزوں سے  بَرِيءٌ تھا خزانہ ، غنیمت میں خیانت، اور قرض سے تو وہ جنت میں داخل ہوا – ترمذی نے کہا سعید نے روایت میں خزانہ بولا ہے اور … سعید  کی سند سے روایت اصح ہے

الدر المنثور از السیوطی میں ہے

وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيّ إِنَّمَا هُوَ الْكَنْز بالنُّون وَالزَّاي

دارقطنی کہتے ہیں یہ حدیث کنز (خزانہ ) کے لفظ سے ہے

فارق سے ہی اردو میں فراق کا لفظ نکلا ہے یعنی جدائی ہونا- اس کو اردو شاعری میں بہت استعمال کیا جاتا ہے

یہ روایت محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک صحیح ہے البتہ فرقوں کی جانب سے موت کے مفہوم پر اشکالات آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ روح کی جسم سے مکمل فراق کے قائل نہیں ہیں – بعض کے نزدکک روح کا جسم سے تعلق باقی رہتا ہے جس کی تشریح ان کے نزدیک یہ ہے کہ روح جسم میں آتی جاتی رہتی ہے – بعض کہتے ہیں روح دفنانے کے بعد آ جاتی ہے – بعض اس کے قائل ہیں کہ روح چالیس دن میت کے پاس آتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے غسل و تکفین تک کا مشاہدہ کرتی ہے – بعض اس کے قائل ہیں کہ روح جنازہ قبرستان لے جائے جانے کے وقت جسم میں آ جاتی ہے – یہاں تک کہ امام ابن عبد البر کا قول ہے کہ ارواح قبرستان میں ہی رہتی ہیں

قرآن اس کے خلاف ہے جس میں صریحا امساک روح کا ذکر ہے یعنی روح کو روک لیا جاتا ہے – قرآن میں موجود ہے کہ جس پر موت کا حکم لگتا ہے اس کا امساک کیا جاتا ہے

الوسيط في تفسير القرآن المجيد از الواحدی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْفَضْلِ، أنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَلَفٍ، أنا أُبَيُّ بْنُ خَلَفِ بْنِ طُفَيْلٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي طُفَيْلُ بْنُ زَيْدٍ، نا أَبُو عُمَيْرٍ، نا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَعَّابُ، نا نُعَيْمُ بْنُ عَمْرٍو، نا سُلَيْمَانُ بْنُ رَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ الرُّوحَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الإِنْسَانِ؛ مَاتَ الْجَسَدُ، وَصَارَ الرُّوحُ صُورَةً أُخْرَى، فَلا يُطِيقُ الْكَلامَ؛ لأَنَّ الْجَسَدَ جِرْمٌ، وَالرُّوحُ يُصَوِّتُ مِنْ جَوْفِهِ وَيَتَكَلَّمُ، فَإِذَا فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ؛ صَارَ الْجَسَدُ صُفْرًا، وَصَارَ الرُّوحُ صُورَةً أُخْرَى، يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ، يَبْكُونَهُ، وَيُغَسِّلُونَهُ وَيَدْفِنُونَهُ، وَلا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَكَلَّمَ، كَمَا أَنَّ الرِّيحَ إِذَا دَخَلَ فِي مَكَانٍ ضَيِّقٍ سَمِعْتَ لَهُ دَوِيًّا، فَإِذَا خَرَجَ مِنْهُ لَمْ تَسْمَعْ لَهُ صَوْتًا، وَكَذَلِكَ الْمَزَامِيرُ، فَأَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ يَنْظُرُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَجِدُونَ

ابن عباس نے کہا جب روح جسم سے نکلتی ہے تو جسد مر جاتا ہے اور روح ایک دوسری صورت لے لیتی ہے پس یہ کلام نہیں کرتی کیونکہ جسم تو ایک مرکب سفینہ ہے اور روح اس کے پیٹ میں آواز پیدا کرتی ہے اور کلام کرتی ہے – پس جب یہ جسم سے الگ ہوتی ہے تو جسد پیلا پڑ جاتا ہے اور روح ایک دوسری صورت لے لیتی ہے ، لوگوں کو دیکھتی ہے کہ اس پر رو رہے ہیں ، اس کو غسل دے رہے ہیں ، اس کو دفن کر رہے ہیں ، روح سب دیکھ کر بول نہیں پاتی جیسے ہوا ہو کہ جب تنگ مکان میں جاتی ہے تو اس کی آواز آتی ہے لیکن جب نکل جاتی ہے تو آواز بھی ختم ہو جاتی ہے – اسی طرح بانسری ہے – پس ارواح مومنین جنت کو دیکھتی ہیں

اس کی سند میں مجھول راوی ہیں

مشرب تصوف والے قصے بیان کرتے ہیں کہ ان کے ہاں مردہ غسل دینے والے کی انگلی پکڑ لیتا ہے

آج بھی تصوف کے مخالفین اس قسم کے قصوں کو مقلدوں کی گھڑنت کہتے ہیں اور ان قصوں کو مریدان کا اضافہ کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے

چند سال پہلے قندوز میں ایک بمباری میں مسلمان بچے شہید ہوئے – دوران تدفین ایک مقتول نے اپنے باپ کی انکلی پکڑ لی – یہ ویڈیو یو ٹیوب پر وائرل ہو گئی

ملاحظہ کریں

https://www.youtube.com/watch?v=QIK9SAwAcH0

راقم کہتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن بھی ہے – اس کو مغرب والے بھی جانتے ہیں اور انہوں نے اس کو لذارس ایفیکٹ
Lazarus effect
کا نام دیا ہے – انجیل کے مطابق لذارس ایک بنی اسرائیلی تھا جس کو قم باذللہ کہہ کر عیسیٰ علیہ السلام نے معجزہ دکھانے میں زندہ کیا تھا بعد میں جب مردوں میں حرکت کو سائنسدانوں نے نوٹ کیا تو اس کو لذارس ایفیکٹ کا نام دیا اور اس کی وجہ سے  پٹھوں میں حرکت ہے جو انسانی  جسم میں عناصر کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے – مثلا ذبح کردہ جانور کا جسم آدھے گھنٹے تک گرم ہوتا ہے اور بعض اوقات جسم میں معمولی جنبش  بھی پیدا ہو جاتی ہے – اسی نوع کی یہ چیز ہے

وہ مسلمان علماء جو سائنس سے نابلد ہیں ، وہ جب لذارس ایفیکٹ کو مردوں میں دیکھتے ہیں تو اس کی کوئی علمی توجیہ ان کے پاس نہیں ہوتی  سوائے اس کے کہ اس کو من جانب اللہ آیا کوئی معجزہ قراردیں – دوسری طرف  انکار کرنے والے اس کو سفید جھوٹ کہتے آئے ہیں

غیر نبی کے جسد کی خبریں

  ہم تک خبریں پہنچی ہیں کہ اللہ تعالی نے بعض اصحاب رسول کے اجسام کو باقی رکھا- ولید بن عبد الملک نے حجرہ عائشہ پر قابض خبیب بن عبد اللہ   بن زبیر کو بے دخل کیا اور اپنے گورنر  عمر بن عبد العزیز کو حکم دیا کہ  خبیب کو بے دخل کرو  – اس کے بعد تعمیراتی  پروجیکٹ کا آغاز کیا کہ حجرہ کی چار دیواروں کو گرا کر پانچ کیا جائے – اس تعمیر  میں ایک    دیوار گر گئی جس کا ذکر صحیح بخاری میں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏”أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  مُسَنَّمًا”. حَدَّثَنَا فَرْوَةُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ “لَمَّا سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْحَائِطُ فِي زَمَانِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَذُوا فِي بِنَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ  فَفَزِعُوا،‏‏‏‏ وَظَنُّوا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِكَ،‏‏‏‏ حَتَّى قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ”

ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں ابوبکر بن عیاش نے خبر دی اور ان سے سفیان تمار نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک دیکھی ہے جو کوہان نما ہے۔ ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ ولید بن عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کی) دیوار گری اور لوگ اسے (زیادہ اونچی) اٹھانے لگے تو وہاں ایک قدم ظاہر ہوا۔ لوگ یہ سمجھ کر گھبرا گئے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو قدم کو پہچان سکتا۔ آخر عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم نہیں ہے بلکہ یہ تو عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے

 شیعہ روایات میں ہے کہ ایک مزدور نے امام  جعفر سے اس کام پر اجازت طلب کی – عثمانی صاحب نے ایمان خالص قسط دوم  میں الکافی کی  روایت ذکر کی

راقم  کہتا ہے ایسا  کبھی نہیں ہوا کہ  حجرہ عائشہ کی چھت گر گئی ہو

الکافی کے شیعہ  محقق نے خود  تعلیق میں اس روایت پر اقرار کیا ہے

هذا الحديث مجهول وكأن في السند سقطا او ارسالا فان جعفر بن المثنى من اصحاب الرضا عليه السلام ولم يدرك زمان الصادق عليه السلام

یہ حدیث مجہول کی سند سے ہے اور سند گری ہوئی ہے اور اس میں ارسال ہے کیونکہ جعفر بن المثنی یہ اصحاب امام رضا میں سے ہے اس نے امام جعفر کا دور نہیں پایا ہے 

معلوم ہوا کہ یہ روایت متاخرین کی ایجاد ہے

ایک روایت میں بیان ہوا ہے وہاں قبر النبی پر بھی سجدے بھی  ہو رہے تھے

الشريعة از أبو بكر محمد بن الحسين بن عبد الله الآجُرِّيُّ البغدادي (المتوفى: 360هـ) میں ہے
وَحَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ بْنِ زَكَرِيَّا أَبُو حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ إِلَى الْقَبْرِ , فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ فَرُفِعَ حَتَّى لَا يُصَلِّيَ فِيهِ النَّاسُ , فَلَمَّا هُدِمَ بَدَتْ قَدَمٌ بِسَاقٍ وَرَقَبَةٍ؛ قَالَ: فَفَزِعَ مِنْ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَتَاهُ عُرْوَةُ فَقَالَ: هَذَا سَاقُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرُكْبَتُهُ , فَسُرِّيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ نے هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ سے روایت کیا کہ میرے باپ عُرْوَةَ المتوفی ٩٤ ھ  نے بیان کیا کہ لوگ قبر کی طرف نماز پڑھتے تھے – پس عمر بن عبد العزیز  المتوفی ١٠١ ھ  نے اس کو بلند کیا کہ لوگ اس میں نماز نہ پڑھیں پس جب اس کو منہدم کیا تو ایک قدم پنڈلی … کے ساتھ دیکھا- کہا پس عمر بن عبد العزیز اس پر گھبرا گئے اور عروه آئے اور کہا یہ عمر کی پنڈلی ہے اور گھٹنا ہے -پس اس سے عمر بن عبد العزیز خوش ہوئے

نوٹ : عُروة بن الزُبير  کی وفات عمر بن عبد العزيز بن مروان بن الحكم الأموي  کی وفات  سے سات سال پہلے ہوئی ہے

الولید بن عبد الملک کے حکم پر گورنر  عمر بن عبد العزیز المتوفی ١٠١ ھ  نے حجرہ عائشہ کی چار دیواروں کو پانچ کیوں کیا ؟ اس کی  تاویلات لوگوں نے کی ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے ایسا اس وجہ سے کیا کہ کعبہ سے مطابقت نہ رہے – جبکہ یہ نہایت عجیب قول ہے کیونکہ دیگر انبیاء سے منسوب قبروں کو بھی اسی طرح ٹیڑھی دیواروں کا بنا دیا جانا چاہیے تھا – تاریخ سے معلوم ہے کہ ایسا صرف اس لئے کیا گیا کہ حجرہ میں خبیب بن عبد اللہ بن زبیر نے قیام اختیار کیا ہوا تھا اور الولید کا مقصد حجرات کو مسمار کرنا تھا تاکہ ان میں کوئی رہائش نہ کرے- حجرہ عائشہ کو مسمار نہیں کیا جا سکتا تھا لہذا اس میں دیوار کواس انداز پر بنایا گیا کوئی پیر پھیلا کر لیٹ نہ سکے کہ وہاں سو سکے یا رہائش کرے

البداية والنهاية از ابن کثیر (المتوفى: 774هـ) میں ہے

قُلْتُ: كَانَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حِينَ وَلِيَ الْإِمَارَةَ فِي سَنَةِ سِتٍّ وَثَمَانِينَ قَدْ شَرَعَ فِي بِنَاءِ جَامِعِ دِمَشْقَ وَكَتَبَ إِلَى نَائِبِهِ بِالْمَدِينَةِ ابْنِ عَمِّهِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ يُوَسِّعَ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَوَسَّعَهُ حَتَّى مِنْ نَاحِيَةِ الشَّرْقِ [1] فَدَخَلَتِ الْحُجْرَةُ النَّبَوِيَّةُ فِيهِ. وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ بِسَنَدِهِ عَنْ زَاذَانَ مَوْلَى الْفُرَافِصَةِ، وَهُوَ الَّذِي بَنَى الْمَسْجِدَ النَّبَوِيَّ أَيَّامَ [وِلَايَةِ] عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَ مَا ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ، وَحَكَى صِفَةَ الْقُبُورِ كَمَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

میں ابن کثیر کہتا ہوں : جب سن ٨٦ ہجری میں الولید کو امارت ملی اس نے جامع دمشق بنانے کا آغاز کیا اور اپنے نائب مدینہ اپنے چچا زاد عمر بن عبد العزیز کو حکم لکھ بھیجا کہ مسجد المدینہ کی توسیع کرے پس حجرہ شریفہ کو اس میں داخل کیا گیا اور حافظ ابن عَسَاكِرَ نے اپنی سند سے زَاذَانَ مَوْلَى الْفُرَافِصَةِ سے روایات کیا ہے جنہوں نے مسجد النبی کی عمر بن عبد العزیز کے دور گورنری میں تعمیر کی – پس سالم سے روایت کیا جیسا امام بخاری نے روایت کیا ہے اور جیسا ابو داود میں ایسا صفت قبور پر بیان کیا

تاریخ مكة المشرفة والمسجد الحرام والمدينة الشريفة والقبر الشريف از محمد بن أحمد بن الضياء محمد القرشي العمري المكي الحنفي، بهاء الدين أبو البقاء، المعروف بابن الضياء (المتوفى: 854هـ) میں ہے

وَأدْخل عمر بن عبد الْعَزِيز …. فَصَارَ لَهَا ركن خَامِس، لِئَلَّا تكون الْحُجْرَة الشَّرِيفَة مربعة كالكعبة، فتتصور جهال الْعَامَّة أَن الصَّلَاة إِلَيْهَا كَالصَّلَاةِ إِلَى الْكَعْبَة

عمر بن عبد العزیز نے اس میں پانچویں دیوار بنا دی کہ حجرہ شریفہ کعبه کی طرف مربع نہ ہو پس بعض عام جاہلوں کا تصور ہے کہ اس کی طرف نماز ایسی ہی ہے جیسی کعبہ کی طرف ہے

 

شہدائے احد کے اجسام کی خبر 

بعض چیزیں من جانب اللہ نشانی تھیں ان سے عموم نہیں لیا جا سکتا مثلا شہدائے بدر احد کا رتبہ سب سے بلند ہے اب کوئی شہید بھی ہو تو بھی ان کے رتبے تک نہیں جا سکتا  اس کو بطور نشانی الله تعالی نے باقی رکھا کہ ان شہداء کے جسم لوگون نے دیکھے کوئی تغیر نہیں آیا تھا

المخلصيات وأجزاء أخرى لأبي طاهر المخلص از المؤلف: محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى 393هـ) میں ہے

حدثنا عبدُاللهِ قالَ: حدثنا أبويحيى / عبدُالأعلى بنُ حمادٍ قالَ: حدثنا عبدُالجبارِ بنُ الوردِ قالَ: سمعتُ أبا الزبيرِ محمدَ بنَ مسلمٍ يقولُ: سمعتُ جابرَ بنَ عبدِاللهِ يقولُ: كتبَ معاويةُ إلى عامِلِه بالمدينةِ أَن يُجريَ عَيناً إلى أُحُدٍ، فكتبَ إليه عامِلُه أنَّها لا تَجري إلا عَلى قبورِ الشهداءِ، قالَ: فكتبَإِليه أَن أَنفِذْها، قالَ: فسمعتُ جابراً يقولُ: فرأيتُهم يُخْرَجُون على رقابِ الرجالِ كأنَّهم رجالٌ نُوَّمٌ، حتى أَصابتْ المِسْحاةُ قدمَ حمزةَ عليه السلامُ فانبعثَتْ دماً

أبا الزبيرِ محمدَ بنَ مسلمٍ نے کہا میں نے جابر بن عبد الله سے سنا بولے معاویہ نے اپنے گورنر مدینہ کو لکھا کہ احد میں سے (سیلاب کی) نہر گذارو تو اس نے جواب دیا کہ ایسا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ احد میں شہداء کی قبور ہیں – معاویہ نے کہا ان کو نکال لو پس میں نے جابر سے سنا کہ میں نے دیکھا وہ (کھودتے ہوئے ) شہداء کی گردنوں تک آ گئے اور ایسا تھا کہ گویا سو رہے ہوں یہاں تک کہ کھدال حمزہ علیہ السلام کے قدم کو لگی تو اس میں سے خون جاری ہو گیا

تاریخ مدینہ ابن شبہ میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، وَقَالَ: لَيْسَ هَذَا مِمَّا فِي الْكِتَابِ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ” صُرِخَ بِنَا إِلَى قَتْلَانَا يَوْمَ أُحُدٍ حِينَ أَجْرَى مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَيْنَ، فَأَتَيْنَاهُمْ فَأَخْرَجْنَاهُمْ رِطَابًا تَتَثَنَّى أَجْسَادُهُمْ. قَالَ سَعِيدٌ: وَبَيْنَ الْوَقْتَيْنِ أَرْبَعُونَ سَنَةً

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ اہل احد کے مقتولین کو نکالا جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے چشمہ جاری کرنا چاہا ہم احد میں گئے ان کے جسموں کو تازہ نکالا گیا – سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ نے کہا اس وقت تک ٤٠ سال گزر چکے تھے

اسی کتاب میں ہے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَأَبُو غَسَّانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ [ص:128] عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ، ثُمَّ السُّلَمِيَّيْنِ، كَانَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، وَكَانَا مِمَّنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَكَانَ قَبْرُهُمَا مِمَّا يَلِي السَّيْلَ، فَحُفِرَ عَنْهُمَا لِيُغَيَّرَا مِنْ مَكَانِهِمَا، فَوُجِدَا لَمْ يَتَغَيَّرَا كَأَنَّمَا مَاتَا بِالْأَمْسِ، وَكَانَ أَحَدُهُمَا قَدْ جُرِحَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جُرْحِهِ، فَدُفِنَ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَأُمِيطَتْ يَدُهُ عَنْ جُرْحِهِ ثُمَّ أُرْسِلَتْ، فَرَجَعَتْ كَمَا كَانَتْ. وَكَانَ بَيْنَ يَوْمِ أُحُدٍ وَيَوْمَ حُفِرَ عَنْهُمَا سِتٌّ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً ”

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ نے کہا کہ ان تک پہنچا کہ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ اور عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ انصاریوں میں سے تھے پھر ساتھ مسلمان ہوئے اور ان کی قبر ایک ہے اور ان دونوں نے احد کا دن دیکھا اور ان کی قبروں میں سیلاب کا پانی آیا تو ان کو الگ مقام پر دفنانے کے لئے نکالا گیا تو ان کے جسموں میں کوئی تغیر نہیں آیا تھا جیسے کہ کل مرے ہوں اور ایک کے ہاتھ پر رخم ہوا پس اسی حال میں دفن کیا گیا اور وہ اسی طرح رہے کہ رخم سے خون رستا رہا پھر (اس نئے مقام سے ) نکال کر واپس وہیں دفن کیا جہاں تھے تو خون پھر جاری ہو گیا جیسا پہلے بہہ رہا تھا اور یوں احد سے اس دن تک جب نکالا ٤٦ برس بیت چکے تھے

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

حَدَّثَنَا 36758 – عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ رِجَالٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ قَالُوا: «لَمَّا صَرَفَ مُعَاوِيَةُ عَيْنَهُ الَّتِي تَمُرُّ عَلَى قُبُورِ الشُّهَدَاءِ جَرَتْ عَلَيْهِمَا فَبَرَزَ قَبْرُهُمَا , فَاسْتُصْرِخَ عَلَيْهِمَا فَأَخْرَجْنَاهُمَا يَتَثَنَّيَانِ تَثَنِّيًا كَأَنَّمَا مَاتَا بِالْأَمْسِ , عَلَيْهِمَا بُرْدَتَانِ قَدْ غُطُّوا بِهِمَا عَلَى وُجُوهِهِمَا وَعَلَى أَرْجُلِهِمَا مِنْ نَبَاتِ الْإِذْخِرِ»

بنی سلمہ کے مردوں نے خبر دی کہ جب معاویہ نے وہ نہر جاری کی جو شہدائے احد کی قبروں پر سے گزری تو ان کی قبریں کھودی گئیں پس کھودا تو .. ایسے تھے کہ کل شہید ہوئے ہوں ان پر برد (ایک قسم کی ) چادریں تھیں جس سے ان کے چہروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور قدموں پر الْإِذْخِرِ کھانس تھی

 یہ الله کی آیت و نشانی تھی  کہ تابعین اور اصحاب رسول میں سے چند نے ٤٦ سال بعد بھی ان جسموں کو اصلی صورت میں دیکھا -کلی اصول ہے کہ ہر چیز کو فنا ہے لہذا یہ اصول سب پر لگے گا کیونکہ حشر میں پہاڑ چلیں گے کیا انبیاء کے جسم اس وقت ختم ہوں گے ؟ بعض اجسام اللہ تعالی نے ایک مدت باقی رکھے ان کو ظاہر کیا تاکہ لوگوں کا ایمان تازہ ہو – شہداء بدر و احد زندہ نہیں مردہ تھے ان کے جسموں سے ان کی روحوں کا کوئی تعلق نہیں تھا صرف ان کے جسد سالم نکلے ان میں خون  جما  ہوا نہیں تھا -اس کوان شہداء کا  خصوص کہا جائے گا – یہ شہداء احد کی خصوصیت تھی جو ممکن ہے کچھ عرصہ رہی ہو

واضح رہے ہر مقتول و شہید  کا جسم باقی نہیں رہتا-  یہ صرف ان شہدائے اصحاب رسول کی خبر ہے جو سچ کے گواہ بن  کر  شہید ہوئے

و الله اعلم

تاریخ قبلتین

اس کتاب میں دونوں قبلوں کی تاریخ ، ان مساجد کے تعلق سے آسمانی شریعتوں میں الگ الگ مناسک اور انبیاء کے ان مساجد سے تعلق پر بحث کی گئی ہے

   کتاب کا ایک موضوع  یہ   سوال بھی ہے کہ کیا  مسجد الاقصی کو قبلہ مقرر کرنا اللہ  کا حکم تھا یا یہودی اختراع تھی    بعض مفسرین نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ بیت المقدس  سرے ہی قبلہ نہیں تھا نہ اللہ تعالی کا مقرر کردہ تھا بلکہ یہ یہودی سازش تھی  جس   پر آزمائش  کے لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ بھی اس کو قبلہ بنا لیں  لیکن بعد میں واپس کعبہ کو ہی قبلہ کر دیا گیا  جو   تمام انبیاء کا قبلہ رہا ہے – راقم نے اس مفروضے کا تعقب  کیا ہے اور اس  مفروضے کی بے بضاعتی  کو واضح  کیا ہے – کتاب میں مشرک  اقوام  اور اہل کتاب کی آراء و دعووں  کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے

کتاب کے آخر میں حج  کی اقسام  اور طریقے  پر تفصیل دی گئی ہے

مکمل کتاب لٹریچر/ کتب ابو شہریار میں ملاحظہ کریں

مسجد دمشق کی حقیقت

صحیح بخاری کی حدیث ہے

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ وَيُونُسُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ “لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ وَهُوَ كَذَلِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا”

.مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو معمر اور یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر چہرہ     پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا، اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کو ان کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے۔

موطا    امام مالک   ميں ہے
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ. اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ نے کہا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا اے الله ميري قبر کو بت مت بنا – الله کا غضب پڑھتا ہے اس قوم پر جو اپنے انبياء کي قبروں کو مسجد بنا دے

سن ٣٢٥ بعد مسیح  کی بات ہے،   قیصر روم کونستینٹین [1]کی والدہ فلاویہ اولیا  ہیلینا آگسٹا[2]  نے  عیسائی مبلغ  یسوبئوس [3]کو طلب کیا اور نصرانی دھرم کی حقانیت جاننے کے لئے شواہد طلب کیے- کونستینٹین نے اپنی والدہ کو نصرانی دھرم  سے متعلق آثار جمع کرنے پر مقرر کیا یا بالفاظ دیگر ان کو آرکیالوجی کی وزارت کا قلمدان دیا گیا اور اس سب کام میں اس قدر جلدی کی وجہ یہ تھی کہ مملکت کے حکمران طبقہ نے متھرا دھرم[4] چھوڑ کر نصرانی دھرم قبول کر لیا تھا اور اب اس کو عوام میں بھی استوار کرنا تھا لہذا راتوں رات روم میں بیچ شہر میں موجود جوپیٹر یا مشتری کے مندر کو ایک عیسائی عبادت گاہ میں تبدیل کیا گیا اس کے علاوہ یہی کام دیگر اہم شہروں یعنی دمشق اور یروشلم میں بھی کرنے تھے – لیکن ایک مشکل درپیش تھی کہ کن کن مندروں اور مقامات کو گرجا گھروں میں تبدیل کیا جائے؟   اسی کام کو کرنے کا کونستینٹین کی والدہ   ہیلینا نے بیڑا اٹھا لیا اور عیسائی مبلغ  یسوبئوس کو ایک مختصر مدت میں ساری مملکت میں اس قسم کے آثار جمع کرنے کا حکم دیا جن سے دین نصرانیت کی سچائی ظاہر ہو-

عیسائی مبلغ  یسوبئوس  نے نصرانیت کی تاریخ پر کتاب بھی  لکھی اور بتایا کہ ہیلینا کس قدر مذہبی تھیں[5] – یہ یسوبئوس   ہی تھے جنہوں نے کونستینٹین کے سامنے نصرانیوں کا عیسیٰ کی الوہیت پر اختلاف پیش کیا اور سن ٣٢٥ ب م   میں  بادشاہ نے فریقین کا مدعا سننے کے بعد تثلیث [6]کے عقیدے کو   پسند کیا اور اس کو نصرانی دھرم قرار دیا گیا-  واضح رہے کہ کونستینٹین ابھی ایک کافر بت پرست ہی تھا کہ اس کی سربراہی میں نصرانی دھرم کا یہ اہم فیصلہ کیا گیا  – کچھ عرصہ  بعد بادشاہ کونستینٹین  نے خود بھی اس مذھب کو قبول کر لیا-

 بحر الحال،  یسوبئوس  نے راتوں رات کافی کچھ برآمد کر ڈالا جن میں انبیاء کی قبریں، عیسیٰ کی پیدائش اور تدفین کا مقام ،اصلی صلیب، یحیی علیہ السلام کے سر کا مقام، وہ مقام جہاں ہابیل قتل ہوا، کوہ طور، بھڑکتا شجر جو موسی کا دکھایا گیا اور عیسیٰ کے ٹوکرے جن میں مچھلیوں والا معجزہ ہوا تھا  وغیرہ شامل تھے – یہودی جو فارس یا بابل میں تھے وہ بھی بعض انبیاء سے منسوب قبروں کو پوجتے تھے   مثلا دانیال کی قبر وغیرہ- ان مقامات کو فورا مقدس قرار دیا گیا اور یروشلم واپس دنیا کا ایک اہم  تفریحی اور مذہبی مقام بن گیا جہاں ایک میوزیم کی طرح تمام اہم چیزیں لوگوں کو دین مسیحیت کی حقانیت کی طرح بلاتی تھیں- یسوبئوس سے قبل ان مقامات کوکوئی  جانتا تک نہیں تھا اور نہ ہی کوئی تاریخی شواہد اس پر تھے اور نہ ہی یہودی اور عیسائیوں میں یہ مشہور  تھے- مسلمان آج اپنی تفسیروں ،میگزین  اور  فلموں میں انہی مقامات کو دکھاتے ہیں جو در حققت یسوبئوس  کی دریافت تھے- سن ١٧ ہجری میں مسلمان   عمر رضی الله عنہ کے دور میں  ان علاقوں میں داخل ہوئے اور ان عیسائی و یہودی  مذہبی مقامات کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا – یہاں تک کہ نبو امیہ کا دور آیا –  خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دور میں ان میں سے بعض مقامات کو مسجد قرار دیا گیا مثلا جامع الاموی دمشق جس میں مشہور  تھا کہ اس میں یحیی علیہ السلام کا سر دفن ہے -اس سے قبل اس مقام پر الحداد کا مندر تھا پھر مشتری کا مندر بنا اور  جس کو یسوبئوس   کی دریافت پر یحیی علیہ السلام کے سر کا مدفن کہا گیا- اسی مقام پر نصرانیوں نے ایک گرجا بنا دیا اور اس میں ان کی عبادت ہونے لگی تھی  –  کہا جاتا ہے کہ جب مسلمان دمشق میں داخل ہوئے تو شہر کے وسط میں ہونے کی وجہ سے اس کے ایک حصے میں مسلمان اپنی عبادت کرتے رہے جو جنوب  شرقی حصے میں ایک چھوٹا سا مصلی تھا –  لیکن مکمل گرجا پر عیسائیوں کا ہی کنٹرول تھا وقت کے ساتھ کافی لوگ مسلمان ہوئے اور ولید بن عبد الملک کے دور میں اس پر مسلمانوں نے مکمل قبضہ کیا-

مسجد دمشق    جامع  بنی امیہ  میں یحیی علیہ السلام سے منسوب مقام

https://www.youtube.com/watch?v=kf6B1cKJFKg

ولید بن عبد الملک بن مروان   کی  تعمیرات

ولید نے کافی تعمیراتی کام کروایے ،   لیکن ان سب کو اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد کیا گیا – اگر ان کے سامنے یہ سب ہوتا تو وہ اس کو پسند نہ کرتے-وقت کے ساتھ مسلمانوں نے ان مقامات پر قبضہ کرنا شروع کیا جو بنیادی طور پر یسوبئوس  کی دریافت تھے اور وہی قبریں جن سے دور رہنے کا فرمان نبوی تھا ان کو اس  امت میں واپس آباد کیا گیا-

ابن بطوطہ المتوفی ٧٧٩ ھ کتاب تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار میں لکھتے ہیں

وفي وسط المسجد قبر زكرياء عليه السلام  ، وعليه تابوت معترض بين أسطوانتين مكسو بثوب حرير أسود معلّم فيه مكتوب بالأبيض:” يا زكرياء إنا نبشرك بغلام اسمه يحيى

اور مسجد کے وسط میں زکریا علیہ السلام کی قبر ہے اور تابوت ہے دو ستونوں کے درمیان جس پر کالا ریشمی کپڑا ہے  اس پر لکھا ہے سفید رنگ میں  یا زكرياء إنا نبشرك بغلام اسمه يحيى

کہیں اس کو یحیی علیہ السلام   کی قبر کہا جاتا ہے کہیں اس کو زکریا علیہ السلام   کی قبر کہا جاتا ہے بعض کتاب میں اس کو هود علیہ السلام کی قبر بھی کہا گیا ہے- کتاب  فضائل الشام ودمشق از ابن أبي الهول (المتوفى: 444هـ)  کے مطابق

 أخبرنا عبد الرحمن بن عمر حدثنا الحسن بن حبيب حدثنا أحمد بن المعلى حدثنا أبو التقي الحمصي حدثنا الوليد بن مسلم قال لما أمر الوليد بن عبد الملك ببناء مسجد دمشق كان سليمان بن عبد الملك هو القيم عليه مع الصناع فوجدوا في حائط المسجد القبلي لوح من حجر فيه كتاب نقش فأتوا به الوليد بن عبد الملك فبعث به إلى الروم فلم يستخرجوه ثم بعث به إلى العبرانيين فلم يستخرجوه ثم بعث به إلى من كان بدمشق من بقية الأشبان فلم يقدر أحد على أن يستخرجه فدلوه على وهب بن منبه فبعث إليه فلما قدم عليه أخبروه بموضع ذلك الحجر الذي وجدوه في ذلك الحائط ويقال إن ذلك الحائط من بناء هود  النبي عليه السلام وفيه قبره

ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ جب ولید بن عبد الملک نے مسجد دمشق بنانے کا ارادہ کیا تو سلیمان بن عبد الملک اس پر مقرر کیا   جو کاریگروں کا کام دیکھتے تھے اور ان کو ایک  پتھر کی لوح ملی مسجد کے صحن سے جس پر نقش تھے اور اس کو ولید بن عبد الملک کو دکھایا گیا جس نے اس کو روم بھجوایا  ان سے بھی حل نہ ہوا پھر یہودیوں کو دکھایا ان سے بھی حل نہ ہوا  پھر دمشق کے بقیہ افراد کو دکھایا اور کوئی بھی اس کے حل پر قادر نہ ہوا پس اس کو وھب بن منبہ پر پیش کیا  انہوں نے کہا کہ یہ دیوار هود کے دور کی ہے اور یہاں صحن میں  ان کی قبر ہے

الغرض صحابہ رضوان الله علیھم اجمعین اس مقام کو گرجا کے طور پر ہی جانتے تھے اور ایسی مسجد جس میں جمعہ ہو  کے لئے یہ جگہ معروف نہ تھی-

مینار بنانا ایک عیسائی روایت تھی،  جس میں راہب اس کے اوپر بیٹھتے اور عبادت کرتے اور باقی لوگوں کو اوپر انے کی اجازت نہیں ہوتی تھی-  کتاب  أخبار وحكايات لأبي الحسن الغساني   از  محمد بن الفيض بن محمد بن الفياض أبو الحسن ويقال أبو الفيض الغساني (المتوفى: 315هـ) کی ایک مقطوع روایت ہے

 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بن يحيى الغساني قَالَ حدثن أَبِي عَنْ جَدِّي يَحْيَى بْنِ يحي قَالَ لَمَّا هَمَّ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِكَنِيسَةِ مَرْيُحَنَّا لِيَهْدِمَهَا وَيَزِيدَهَا فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ الْكَنِيسَةَ ثُمَّ صَعَدَ مَنَارَةَ ذَاتِ الْأَكَارِعِ الْمَعْرُوفَةَ بِالسَّاعَاتِ وَفِيهَا رَاهِبٌ نُوبِيٌّ صومعة لَهُ فأحدره من الصوعمعة فَأَكْثَرَ الرَّاهِبُ كَلَامَهُ فَلَمْ تَزَلْ يَدُ الْوَلِيدِ فِي قَفَاهُ حَتَّى أَحْدَرَهُ مِنَ الْمَنَارَةِ ثُمَّ هَمَّ بِهَدْمِ الْكَنِيسَةِ فَقَالَ لَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ نَجَّارِي النَّصَارَى مَا نَجْسُرُ عَلَى أَنْ نَبْدَأَ فِي هَدْمِهَا يَا أَمِير الْمُؤمنِينَ نخشى أنَعْثُرَ أَوْ يُصِيبَنَا شَيْءٌ فَقَالَ الْوَلِيد تحذرون وتخافون يَا غلان هَاتِ الْمِعْوَلَ ثُمَّ أُتِيَ بِسُلَّمٍ فَنَصَبَهُ عَلَى مِحْرَابِ الْمَذْبَحِ وَصَعَدَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْمَذْبَحَ حَتَّى أَثَّرَ فِي هـ أَثَرًا كَبِيرًا ثُمَّ صَعَدَ الْمُسْلِمُونَ فَهَدَمُوهُ وَأَعْطَاهُمُ الْوَلِيدُ مَكَانَ الْكَنِيسَةِ الَّتِي فِي الْمَسْجِدِ الْكَنِيسَةَ الَّتِي تُعْرَفُ بِحَمَّامِ الْقَاسِمِ بِحِذَاءِ دَارِ أَن الْبَنِينَ فِي الْفَرَادِيسِ فَهِيَ تُسَمَّى مَرْيُحَنَّا مَكْانَ هَذِهِ الَّتِي فِي الْمجد وَحَوَّلُوا شَاهِدَهَا فِيمَا يَقُولُونَ هُمْ إِلَيْهَا إِلَى تِلْكَ الْكَنِيسَةِ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَنَا رَأَيْتُ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ فَعَلَ ذَلِكَ بِكَنِيسَةِ

 يَحْيَى بْنِ يحي کہتے ہیں کہ جب الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ نے    کنِيسَةِ مَرْيُحَنَّا کو گرانے کا ارادہ کیا اور اس کی جگہ مسجد کو بنانے کا تو وہ کنِيسَةِ میں آئے اور مَنَارَةَ ذَاتِ الْأَكَارِعِ  پر چڑھے جو السَّاعَاتِ کے نام سے معروف ہے جن میں  راہب    نُوبِيٌّ   تھا … پس عیسائی بڑھییوں نے کہا اے امیر المومنین ہم خوف زدہ ہیں کہ ہم کو کوئی برائی نہ پہنچے پس ولید نے کہا تم سب ڈرتے ہو اوزار لاؤ پھر محراب الْمَذْبَحِ   پر گئے اور وہاں ضرب لگائی جس پر بہت اثر ہوا پھر مسلمان چڑھے اور انہوں نے ضرب لگائی اور اس کو گرایا اور ولید نے عیسائیوں کو کنِيسَةِ کی جگہ….. دوسرا مقام دیا

بنو امیہ کا مقصد قبر پرستی نہیں تھا – ان کا مقصد سیاسی تھا کہ عیسائیوں کو   ان کے معبد خانوں سے بے دخل کرنا تھا کیونکہ وہ شہروں کے بیچ میں تھے اور اہم مقامات پر تھے  – لیکن انہوں نے ان   عیسائیوں  کے اقوال پر ان کو انبیاء کی قبریں مان لیا اور ان کو    مسجد میں بدل دیا گیا – جو مقامات  یسوبئوس نے دریافت کیے تھے ان کو بغیر تحقیق کے قبول کر لیا گیا جبکہ نہ کوئی حدیث تھی نہ حکم رسول- اگلی صدیوں میں ان مقامات کو قبولیت عامہ مل گئی –    تاریخ بیت المقدس نامی کتاب میں جو ابن جوزی تصنیف ہے اس میں مصنف نے بتایا ہے  یہاں کس کس کی قبر ہے جو روایت  بلا سند کے مطابق جبریل علیہ السلام نے بتایا

هذا قبر أبراهيم، هذا قبر سارة، هذا قبر إسحاق، هذا قبر ربعة، هذا قبر يعقوب، هذا قبر زوجته

انہی قبروں کو یہود و نصاری نے آباد کر رکھا تھا جن پر کوئی دلیل نہیں تھی  -اب  انہی  قبروں کو  مسلمانوں    نے   آباد کر رکھا ہے  اور تصور قائم رکھا ہوا کہ یہاں عیسیٰ کا نزول ہو گا – ایسی جگہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کیوں ہو گا جہاں  انبیاء کی قبریں   کو پوجا کی گئی ہو اور ابھی تک یہ مزارات وہاں موجود ہیں

جامع مسجد الاموی  کا مینار جو بقول ابن کثیر  سن ٧٤١ ھ میں   سفید  پتھر سے  بنا یا  گیا  

مسجد دمشق وہی مقام ہے   جو  انبیاء کی قبروں سے منسوب ہے  اور یہاں اصلا ایک چرچ تھا جس کو  بنو امیہ نے مسجد بنا دیا –    فضائل الشام ودمشق از ابن أبي الهول (المتوفى: 444هـ)  میں ہے

وأخبرنا تمام قال: حدثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ المعلى حدثنا القاسم بن عثمان قال: سمعت الوليد بن مسلم وسأله رجل يا أبا العباس أين بلغك رأس يحيى بن زكريا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بلغني أنه ثم وأشار بيده إلى العمود المسفط الرابع من الركن الشرقي.

ولید بن مسلم  نے  ایک شخص کے سوال پر کہ یحیی کا سر     (مسجد دمشق میں ) کہاں ہے کہا کہ مجھ تک پہنچا پھر ہاتھ سے چوتھے ستون کی طرف رکن شرقی کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں ہے

یکایک یہ  دریافتیں شاید دمشق کی اہمیت بڑھانے کے لئے تھیں  کہ امت دمشق کو بھی مقدس سمجھے اور وہاں جا کر ان  مقامات کو دیکھے[7]،   جبکہ موطا ور  بخاری و مسلم میں انبیاء کی ان  نام نہاد قبروں کا وجود و خبر   تک نہیں

عیسیٰ دمشق میں نازل ہوں گے  

عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول پر  کہاں ظاہر ہوں گے اس پر نصرانیوں کا اختلاف ہے – ایسٹرن آرتھوڈوکس چرچ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام دمشق میں ظاہر ہوں گے – پروٹسٹنٹ  فرقے کے بقول یروشلم میں اور کیتھولک  فرقے کے مطابق روم میں-

مسیح کی آمد ثانی کو نصرانی

Parousia, the Second Coming of Christ

کہتے ہیںشام، لبنان ، اردن فلسطین  میں   آج بھی ایسٹرن آرتھوڈوکس چرچ  کا زور ہے اور  وہاں کے تمام قدیم چرچ اسی فرقہ کے کنٹرول میں ہیں –

یسعیاہ   باب ١٧ میں ہے

An  oracle concerning  Damascus.

Behold, Damascus will cease to be a city

and will become a heap of ruins

اور دمشق پر پیشنگوئی ہے کہ خبردار دمشق شہر نہ رہے گا اور کھنڈر بن جائے گا

اس آیت کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ کی آمد سے پہلے دمشق جنگ  سے اجڑا ہو گا –

نصرانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ   صلیب پر  فوت ہوئے   اور دوبارہ زندہ  ہوئے  اور  دمشق  کے رستے میں لوگوں پر ظاہر ہوئے –  ان کے جھوٹے رسول پاول نے خبر دی کہ دمشق  کے رستہ میں عیسیٰ نے حکم دیا کہ جاو تبلیغ کرو-  پاول کے بقول پہلی بار زندہ مسیح دمشق کے رستے میں ظاہر ہوا – عرب  نصرانیوں  جن کی اکثریت

Eastern Orthodox Church

کی ہے ان میں   یہ بات مشہور چلی آئی ہے  کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول ثانی پر دمشق میں ظاہر ہوں گے  –  اس کی وجہ یہ ہے کہ صلیب کے بعد سینٹ پال کے بقول اس نے دمشق کے راستہ میں سب سے پہلے جی اٹھنے والے مسیح کو دیکھا تھا –  اس بنا پر  عرب نصرانی اس کے منتظر ہیں کہ آمد ثانی پر بھی  عیسیٰ   دمشق کے پاس ظاہر ہوں گے – ایسٹرن  آرتھوڈوکس نصرانی کہتے ہیں کہ دمشق  میں نزول ثانی  کے بعد عیسیٰ فاتحانہ انداز میں گھوڑے  کی سواری کر کے یروشلم میں داخل ہوں گے – مسجد الاقصی جائیں گے وہاں   یہود یا تو آپ کو مسیح تسلیم کر لیں گے یا قتل ہوں گے  – اس  کو بائبل کی کتب  یرمیاہ    و  زکریا    سے اخذ کیا گیا  ہے –  چند سال پہلے پوپ  بینی ڈکٹ

Pope  Benedict

نے جب دمشق کا دورہ کیا تو ویٹی کن کے ایک کارندے نے اخباری نمائندوں کو اس کی یہی وجہ بتائی کہ یہ نصرانی  روایات ہیں کہ عیسیٰ نزول ثانی پر دمشق میں ظاہر ہوں گے جس کو راقم نے خود ایک ڈوکومینٹری میں سنا-

مسلمانوں میں مشہور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول  صدر   دمشق   میں  جامع  مسجد   الاموی پر ہو گا جس کا مینار سفید  ہے  – البتہ دور بنو امیہ کی مشہور جامع الاموی کا مینار  سفید نہیں تھا – کتاب  النهاية في الفتن والملاحم    میں ابن کثیر کا کہنا ہے

وقد جدد بناء المنارة في زماننا في سنة إحدى وأربعين وسبعمائة من حجارة بيض ، وكان بناؤها من أموال النصارى الذين حرقوا المنارة التي كانت مكانها ،
اس مینار کی تجدید کی گئی ہمارے دور میں سن ٧٤١ ھ میں کہ اس کو سفید   پتھر کا کیا گیا  اور اس کو   اس مال سے بنایا گیا جو نصرانییوں  کا تھا جنہوں نے اصل مینار  کو  جلا دیا  جو پہلے یہاں تھا

کتاب     البداية والنهاية ج ١٣ / ص ١٧٥ پر ابن کثیر نے لکھا

وفي ليلة الأحد الخامس والعشرين من رجب وقع حريق بالمنارة الشرقية فأحرق جميع حشوها وكانت سلالمها سقالات من خشب وهلك للناس ودائع كثيرة كانت فيها وسلم الله الجامع وله الحمد وقدم السلطان بعد أيام إلى دمشق فأمر بإعادتها كما كانت قلت ثم احترقت وسقطت بالكلية بعد سنة أربعين وسبعمائة وأعيدت عمارتها أحسن مما كانت ولله الحمد وبقيت حينئذ المنارة البيضاء الشرقية بدمشق كما نطق به الحديث في نزول عيسى عليه السلام عليها

اور اتوار  رجب کی ٢٥ تاریخ  کو شرقی مینار میں اگ لگی اور یہ سب جل گیا   بس اس کے کچھ لکڑی کے  ڈنڈے رہ گئے   …  اور اللہ نے مسجد کو بچا لیا  اس کا شکر ہے اور سلطان چند روز بعد دمشق  تشریف لائے اور انہوں نے اس کی تعمیر نو کا حکم کیا جیسا یہ پہلے تھا – میں کہتا ہوں  یہ   جلا   اور تمام گر گیا تھا پھر  سن  ٧٤١ ھ   کے بعد  اور اسکی تعمیر نو کی گئی اچھی طرح    و للہ لحمد اور اب یہ باقی ہے   سفید مینار کے طور پر جیسا حدیث نزول عیسیٰ میں بولا گیا ہے

تفسیر   ابن کثیر میں ابن کثیر کا قول ہے

وفيها دلالة على صفة نزوله ومكانه ، من أنه بالشام ، بل بدمشق ، عند المنارة الشرقية ، وأن ذلك يكون عند إقامة الصلاة للصبح وقد بنيت في هذه الأعصار ، في سنة إحدى وأربعين وسبعمائة منارة للجامع الأموي بيضاء ، من حجارة منحوتة ، عوضا عن المنارة التي هدمت بسبب الحريق المنسوب إلى صنيع النصارى – عليهم لعائن الله المتتابعة إلى يوم القيامة – وكان أكثر عمارتها من أموالهم ، وقويت الظنون أنها هي التي ينزل عليها [ المسيح ] عيسى ابن مريم ، عليه السلام

ان روایات سے عیسیٰ کے نزول  کی صفت اور مکان کا معلوم ہوا کہ وہ شام میں ہے  بلکہ دمشق میں ہے  سفید مینار کے پاس اور یہ ہو سکتا ہے نماز فجر کے وقت اور  عصر حاضر میں سن ٧٤١ ھ   میں جامع الاموی  کا مینار سفید کیا گیا     اس پتھر کو  لیا گیا جو فن صناعی میں استعمال ہوتا ہے    – اس سے مینار کو بنایا گیا جو  منسوب ہے کہ نصرانییوں کی  حرکت سے جلا ان پر اللہ کی متعدد لعنت ہو قیامت تک  اور اکثر تعمیر ان کے  ہی اموال  سے کی گئی  اور ان گمانوں کو تقویت ملی کہ عیسیٰ ابن مریم  علیہ السلام کا اس پر نزول ہو گا  

ابن کثیر کے اقوال سے معلوم ہوا کہ اصل مینار لکڑی کا تھا جو جل گیا لیکن بعد میں  یہ سمجھتے ہوئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس مسجد پر ہو گا اس کو سفید پتھر کا کیا گیا

راقم کہتا ہے عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس مقام پر ممکن نہیں جہاں انبیاء کی قبروں پر مسجد ہو

——————————–

[1] Constantine I  full name   Flavius Valerius Aurelius  Constantius Herculius Augustus (272 – 337 AD) age 65

[2] Flavia Iulia Helena c. 250 – c. 330

[3] Eusebius of Caesarea ( Greek: Εὐσέβιος, Eusébios; ad 260/265 – 339/340)

[4] Mithra Religion

[5] History of Church by Eusebius

[6] Trinity

[7]

عبد الملک بن مروان اور ولید بن عبد الملک کی جانب سے یہ یہ سب  عبد اللہ ابن زبیر رضی الله عنہ کی مخالفت میں کیا گیا تاکہ لوگ مکہ و مدینہ  کے سفر کی بجائے  دمشق میں ہی رہیں  اور اس کو بھی ایک مقدس مقام سمجھیں –  اس پر بحث مولف کی کتاب روایات المہدی تاریخ اور جرح و تعدیل کے میزان میں کی گئی ہے

مری تعمیر میں مُضمر ہے اک صورت خرابی کی

امام مسلم صحيح المسلم بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ  میں روایت بیان کرتے ہیں کہ

عن أبي الهياج الأسدي قال

قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ «أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ»

أبي الهياج الأسدي کہتے ہیں کہ مجھ سے عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ  نے کہا: کیا میں تم کو اس کام کے لئے نہ بھیجوں جس کے لئے    رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نے مجھے  بھیجا؟ کوئی تصویر نہ چھوڑوں جس کو مٹا دوں اور کوئی قبر جس کو برابر نہ کر دوں

امت میں اسی شرک کے خوف کی وجہ سے عائشہ رضی  الله تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی تدفین حجرہ میں کی گئی (صحیح البخاری

شیعوں کی کتاب   کی روایت ہے کہ صفحہ 528 الكافي از الكليني – ج 6

عدة من أصحابنا ، عن سهل بن زياد ، عن جعفر بن محمد الأشعري ، عن ابن القداح

عن أبي عبد الله عليه السلام قال : قال أمير المؤمنين عليه السلام بعثني رسول الله صلى الله عليه وآله في هدم القبور وكسر الصور

أبي عبد الله عليه السلام بیان کرتے ہیں کہ  أمير المؤمنين (علی) عليه السلام  کہتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وآله نے مجھے بھیجا کہ قبروں کو منہدم کر دوں اور تصویریں توڑ دوں

یہی بات وسائل الشيعة (الإسلامية) از الحر العاملي ج ٢ میں اور جامع أحاديث الشيعة لسيد البروجردي ج ٣  بیان ہوئی ہے

گنبد الخضراء کو ایک اسلامی سمبل سمجھا جانے لگا ہے حالانکہ اس کا دین میں کوئی مقام نہیں

ڈاکٹر عثمانی نے مزار یا میلے میں لکھا تھا

مکمل اقتباس وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى از علي بن عبد الله بن أحمد الحسني الشافعي، نور الدين أبو الحسن السمهودي (المتوفى: 911هـ) میں ہے
القبة الزرقاء
أما القبة المذكورة فاعلم أنه لم يكن قبل حريق المسجد الشريف الأول وما بعده على الحجرة الشريفة قبة، بل كان حول ما يوازي حجرة النبي صلّى الله عليه وسلّم في سطح المسجد حظير مقدار نصف قامة مبنيا بالآجر تمييزا للحجرة الشريفة عن بقية سطح المسجد، كما ذكره ابن النجار وغيره، واتمر ذلك إلى سنة ثمان وسبعين وستمائة في أيام الملك المنصور قلاوون الصالحى، فعملت تلك القبة، وهي مربعة من أسفلها مثمنة من أعلاها بأخشاب أقيمت على رؤوس
السواري، وسمر عليها ألواح من خشب، ومن فوقها ألواح الرصاص، وفيها طاقة إذا أبصر الشخص منها رأى سقف المسجد الأسفل الذي فيه الطابق، وعليه المشمع المتقدم ذكره، وحول هذه القبة على سقف المسجد ألواح رصاص مفروشة فيما قرب منها، ويحيط به وبالقبة درابزين من الخشب جعل مكان الحظير الآجر، وتحته أيضا بين السقفين شباك خشب يحكيه محيط بالسقف الذي فيه الطابق، وعليه المشمع المتقدم ذكره، ولم أر في كلام مؤرخي المدينة تعرض لمن تولى عمل هذه القبة.
ورأيت في «الطالع السعيد الجامع أسماء الفضلاء والرواة بأعلى الصعيد» في ترجمة الكمال أحمد بن البرهان عبد القوي الربعي ناظر قوص أنه بنى على الضريح النبوي هذه القبة المذكورة، قال: وقصد خيرا وتحصيل ثواب، وقال بعضهم: أساء الأدب بعلو النجارين ودق الحطب، قال: وفي تلك السنة وقع بينه وبين بعض الولاة كلام، فوصل مرسوم بضرب الكمال، فضرب، فكان من يقول إنه أساء الأدب [يقول:] إن هذا مجازاة له، وصادره الأمير علم الدين الشجاعي، وخرب داره، وأخذ رخامها وخزائنها، ويقال: إنهم بالمدرسة المنصورية اه.
قبه الزرقاء نیلا گنبد – جہاں تک اس گنبد کا تعلق ہے تو جان لو کہ مسجد شریف میں آگ لگنے سے پہلے یہ نہ تھا اور اس کے بعد بھی حجرہ شریفہ پر کوئی گنبد نہ تھا ، بلکہ حجرہ النبی کو باقی مسجد سے علیحدہ کرنے کے لئے ادھے قد کی مقدار ایک منڈھیر بنی ہوئی تھی سطح مسجد پر جیسا ابن النجار اور دیگر نے ذکر کیا ہے اور یہ منڈھیر الملك المنصور قلاوون الصالحى کے ایام سن ٦٧٨ ھ تک باقی رہی -پس الملك المنصور قلاوون الصالحى نے اس گنبد کو بنایا اور یہ نیچے سے چوکور تھا اوپر سے آٹھ پرتوں میں تھا، اصلا لکڑی کا تھا اور اس پر لیڈ کی دھات کی پرتین لگی ہوئی تھیں اور اس میں (کھڑکی یا ) طاق تھا اس میں سے کوئی جھانکتا تو نیچے مسجد کی چھت پر نظر پڑتی اور اس گنبد کے گرد مسجد کی چھت پر بھی لیڈ کی پرت تھی اور یہ پرتین اس پر پھیلی ہوئی تھی
اور گنبد کے گرد اس مقام پر جہاں مٹی کی انٹین تھیں، لکڑی کا ہتھا (ہنڈریل) بھی تھا اور ان سب کے نیچے دو چھتوں کے درمیان (یعنی مسجد النبی کی چھت اور حجرہ مطہرہ کی چھت) ایک کھڑکی ہے لکڑی کی … اور مجھ کو مدینہ کے کسی مورخ کے کلام میں نہیں ملا کہ اس نے متولییوں کے تعمیر کردہ اس گنبد پر کسی اور کے تعرض کا ذکر کیا ہو – میں نے الطالع السعيد الجامع أسماء الفضلاء والرواة بأعلى الصعيد میں الكمال أحمد بن البرهان عبد القوي الربعي ناظر قوص کے ترجمہ میں دیکھا کہ اس نے الضريح (یعنی حجرہ کے گرد جالی ) پر اس قبہ کو بنایا اور کہا کہ یہ بھلائی کا قصد و ارادہ ہے اور ثواب حاصل کرنا ہے – اس پر بعض نے کہا اس تعمیر میں بے ادبی ہے کہ بڑھئی کا کام کرنے والوں کو حجرہ سے اوپر کیا جائے اور ان کے ہتھوڑے کی آواز بے ادبی ہے -کہا اسی سال الكمال أحمد بن البرهان اور لوگوں کا اس پر کلام (بحث و مباحثہ) ہوا اور پھر (مملوک امراء کی طرف سے ) حکم ملا کہ الكمال أحمد بن البرهان عبد القوي کو کوڑے لگائے جائیں – الكمال أحمد بن البرهان عبد القوي کو کوڑے لگے- پس اس پر بعض کہتے یہ اس بے ادبی کی وجہ سے سب ہوا یا کہتے یہ اس کے عمل کی جزا ہے اور یہ حکم الأمير علم الدين الشجاعي نے صادر کیا اور انہوں نے الكمال أحمد بن البرهان عبد القوي کا گھر برباد کیا اورگھر پر لگے سنگ مرمر کو اکھاڑ دیا اور اس کے خزانے کو لیا اور کہتے ہیں اب یہ سب مدرسہ المنصوریہ میں ہے

لوگوں نے اعتراض کیا کہ اس قبہ کی تعمیر سے مسجد النبی میں شور ہو گا اور بڑھئی حجرہ کے اوپر چلے جائیں گے  یہ بے ادبی ہے ، لیکن الکمال احمد نے نہیں سنا اور پھر بھی تعمیر کی- بعد میں عوامی بحث کو ختم کرنے مملوک حاکم نے اس امیر کو معزول کر دیا اور سزا الگ دی جبکہ یہ سارا عمل ان کے علم  میں تھا اور انہوں نے ہونے دیا –  افسوس  آج  لوگ اس گنبد کو سبز رنگ  کرنے اس پر چڑھتے  ہیں پھر کئی سال تک  سال سعودی توسیعی پلان و  تعمیرات کی وجہ سے مسجد النبی کی زمین   لرزتی رہی ہے

فصول من تاريخ المدينة المنورة  جو علي حافظ کی کتاب ہے

اور  شركة المدينة للطباعة والنشر نے اس کو سن  ١٤١٧ ھ  میں چھاپا ہے اسکے مطابق

لم تكن على الحجرة المطهرة قبة، وكان في سطح المسجد على ما يوازي الحجرة حظير من الآجر بمقدار نصف قامة تمييزاً للحجرة عن بقية سطح المسجد.  والسلطان قلاوون الصالحي هو أول من أحدث على الحجرة الشريفة قبة، فقد عملها سنَة 678 هـ، مربَّعة من أسفلها، مثمنة من أعلاها بأخشاب، أقيمت على رؤوس السواري المحيطة بالحجرة، وسمَّر عليها ألواحاً من الخشب، وصفَّحها بألواح الرصاص، وجعل محل حظير الآجر حظيراً من خشب.  وجددت القبة زمن الناصر حسن بن محمد قلاوون، ثم اختلت ألواح الرصاص عن موضعها، وجددت، وأحكمت أيام الأشرف شعبان بن حسين بن محمد سنة 765 هـ، وحصل بها خلل، وأصلحت زمن السلطان قايتباي سنة 881هـ.  وقد احترقت المقصورة والقبة في حريق المسجد النبوي الثاني سنة 886 هـ، وفي عهد السلطان قايتباي سنة 887هـ جددت القبة، وأسست لها دعائم عظيمة في أرض المسجد النبوي، وبنيت بالآجر بارتفاع متناه،….بعد ما تم بناء القبة بالصورة الموضحة: تشققت من أعاليها، ولما لم يُجدِ الترميم فيها: أمر السلطان قايتباي بهدم أعاليها، وأعيدت محكمة البناء بالجبس الأبيض، فتمت محكمةً، متقنةً سنة 892 هـ.  وفي سنة 1253هـ صدر أمر السلطان عبد الحميد العثماني بصبغ القبة المذكورة باللون الأخضر، وهو أول من صبغ القبة بالأخضر، ثم لم يزل يجدد صبغها بالأخضر كلما احتاجت لذلك إلى يومنا هذا.  وسميت بالقبة الخضراء بعد صبغها بالأخضر، وكانت تعرف بالبيضاء، والفيحاء، والزرقاء” انتهى.

حجرہ مطهرہ پر کوئی گنبد نہ تھا، اور حجرہ مطهرہ  کو باقی مسجد سے علیحدہ کرنے کے لئے سطح مسجد سے آدھے قد کی مقدار تک ایک منڈھیر بنی ہوئی تھی. اور سلطان قلاوون الصالحي وہ پہلا شخص ہے جس نے حجرہ مطهرہ پر  سن 678 هـ (بمطابق 1279ء میں آج سے ٧٣٤ سال پہلے)،  میں گنبد بنایا، جو نیچے سے چکور تھا ، اوپر سے آٹھ حصوں میں تھا جو لکڑی کےتھے. … پھر اس کی الناصر حسن بن محمد قلاوون کے زمانے میں تجدید ہوئی. .. پھر سن 765 هـ،  میں الأشرف شعبان بن حسين بن محمد کے زمانے میں  پھر اس میں خرابی ہوئی اور السلطان قايتباي  کے دور میں سن  881هـ میں اس کی اصلاح ہوئی.   پھر سن 886 هـ میں اور السلطان قايتباي  کے دور میں مسجد النبی میں آگ میں گنبد جل گیا. اور سن 887هـ  میں اور السلطان قايتباي ہی  کے دور میں اس کو دوبارہ بنایا گیا…. سن 892 ھ میں اس کو سفید رنگ کیا گیا …  سن 1253هـ  میں  السلطان عبد الحميد العثماني نے حکم دیا اور اس کو موجودہ شکل میں  سبز رنگ دیا گیا. … اور یہ گنبد البيضاء (سفید)، الفيحاء ، والزرقاء (نیلا) کے ناموں سے بھی مشھور رہا

سعودی عرب کے مفتی عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ) اپنے  فتویٰ میں  کہتے ہیں جو کتاب فتاوى اللجنة الدائمة – المجموعة الأولى میں چھپاہے  اور اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء نے چھاپا ہے

لأن بناء أولئك الناس القبة على قبره صلى الله عليه وسلم حرام يأثم فاعله

ان لوگوں کا قبر نبی صلى الله عليه وسلم پر گنبد بنانا حرام کام تھا اس کا گناہ اس کے بنانے والوں کے سرہے

محمد صالح المنجد  کتاب   القسم العربي من موقع (الإسلام، سؤال وجواب) میں کہتے ہیں کہ

وقد أنكر أهل العلم المحققين – قديماً وحديثاً – بناء تلك القبة، وتلوينها، وكل ذلك لما يعلمونه من سد الشريعة لأبواب كثيرة خشية الوقوع في الشرك.

قدیم محققین اہل علم نے شرک کے دروازون کو روکنے کے لیے اس گنبد  کے بنانے کا رد کیا ہے

بيان الحكم في القبة الخضراء على قبره عليه الصلاة والسلام : نبی صلی الله علیہ وسلم  کی قبر پر گنبد الخضراء کا حکم میں  سعودی عرب کے مفتی  عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ)   اپنے فتویٰ جو کتاب فتاوى نور على الدرب ج ٢ ص ٣٣٢  میں چھپا ہے  میں کہتے ہیں کہ

لا شك أنه غلط منه، وجهل منه، ولم يكن هذا في عهد النبي – صلى الله عليه وسلم – ولا في عهد أصحابه ولا في عهد القرون المفضلة، وإنما حدث في القرون المتأخرة التي كثر فيها الجهل، وقل فيها العلم وكثرت فيها البدع، فلا ينبغي أن يغتر بذلك

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ غلطی ہے اور جھل ہے، اور یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں نہ تھا، نہ ہی صحابہ کے دور میں تھا ، نہ ہی قرون اولی میں تھا، اور بے شک اس کو بعد میں آنے والے زمانے میں بنایا گیا جس میں جھل کی کثرت تھی اور علم کی کمی تھی اور بدعت کی کثرت تھی پس یہ جائز نہیں کہ اس سے دھوکہ کھایا جائے

ج٢ ص ٣٣٩ مزید کہتے ہیں

وأما هذه القبة فهي موضوعة متأخرة من جهل بعض الأمراء، فإذا أزيلت فلا بأس بذلك، بل هذا حق لكن قد لا يتحمل هذا بعض الجهلة، وقد يظنون بمن أزالها بأنه يس على حق، وأنه مبغض للنبي عليه الصلاة والسلام،

اور یہ جو گنبد ہے تو یہ بعد میں انے والوں بعض امراء کے جھل کی وجہ سے بنا، اگر اس کو گرایا جائے تو کوئی برائی نہیں، بلکہ یہی حق ہے لیکن  کچھ جاہل لوگ ایسا نہیں لیتے، اور گمان کرتے ہیں کہ اس کے ہٹانے کو حق نہیں سمجھتے  اور اس کو النبي عليه الصلاة والسلام سے نفرت کا اظھار سمجھتے ہیں

مزید کہتے ہیں

وإنما تركت من أجل خوف القالة والفتنة

اور بےشک اس کو (جھلاء کی) بکواس اور فتنہ کے خوف سے چھوڑ دیا گیاہے

سوال یہ ہے کہ  اس گنبد کو رنگ کیوں کیا جاتا ہے

FullSizeRender

ان پر تو یہ صادق آتا ہے

لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ (63

آخر ان کے احبار اور ربی کیوں ان کو گناہ کی بات سے نہیں روکتے اور حرام کھاتے ہیں بہت برا ہے جو یہ کرتے ہیں

غیر مقلدین کی محبوب شخصیت ابن تیمیہ (المتوفى: 728هـ)  کی ، سلطان قلاوون الصالحي کے دور کے بعد وفات ہوئی لیکن جہاں موصوف نے اور قبوں (گںبدوں) کے خلاف مہم کا آغاز کیا اور قبر رسول کی زیارت کے غرض سے کیے جانے والے سفر کو بدعت کہا وہاں اس گنبد پر ایک لفظ نہ کہا

ان کے ہونہار شاگرد  ابن قیّم  (المتوفى: 751هـ ) نے بھی کچھ نہ کہا اور یہی پالیسی اب تک چلی آ رہی ہے

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

کہا جاتا ہے شروع میں وہابی علماء  اس گنبد کو گرانا چاہیتے تھے کہ برصغیر کے علماء کا ایک وفد عرب گیا وہاں بحث میں اس حدیث کو دلیل بنایا گیا

صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ (بَابُ فَضْلِ مَكَّةَ وَبُنْيَانِهَا)
صحيح بخاري: کتاب: حج کے مسائل کا بيان (باب: فضائل مکہ اور کعبہ کي بناءکا بيان)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ لَمَّا بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبي نے بيان کيا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بيان کيا، ان سے ابن شہاب نے بيان کيا، ان سے سالم بن عبداللہ نے کہ عبداللہ بن محمد بن ابي بکر نے انہيں خبردي، انہيں عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہما نے خبردي اور انہيں نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم کي پاک بيوي حضرت عائشہ صديقہ رضي اللہ عنہا نے کہ آنحضور صلي اللہ نے ان سے فرمايا کہ تجھے معلوم ہے جب تيري قوم نے کعبہ کي تعمير کي تو بنياد ابراہيم کو چھوڑ ديا تھا ميں نے عرض کيا يارسول اللہ ! پھر آپ بنياد ابراہيم پر اس کو کيوں نہيں بنا ديتے؟ آپ نے فرمايا کہ اگر تمہاري قوم کا زمانہ کفر سے بالکل نزديک نہ ہوتا تو ميں بے شک ايسا کرديتا عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہما نے کہا کہ اگر عائشہ صديقہ رضي اللہ عنہا نے يہ بات رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم سے سني ہے ( اور يقينا حضرت عائشہ رضي اللہ عنہ سچي ہيں ) تو ميں سمجھتا ہو ں يہي وجہ تھي جو نبي صلي اللہ عليہ وسلم حطيم سے متصل جو ديواروں کے کونے ہيں ان کو نہيں چومتے تھے کيونکہ خانہ کعبہ ابراہيمي بنيادوں پر پورا نہ ہواتھا

صحیح مسلم کی حدیث ہے
حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ ح وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِى بَكْرِ بْنِ أَبِى قُحَافَةَ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ – أَوْ قَالَ بِكُفْرٍ – لأَنْفَقْتُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالأَرْضِ وَلأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ
عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا کہ اگر تمہاری قوم عہد جاہلیت کے قریب نہ ہوتی یا کہا کفر کے تو میں کعبہ کا خزانہ الله کی راہ میں صدقه کر دیتا اور اس کا دروازہ زمین کے پاس کرتا کہ اس میں جانے کے لئے کوئی پتھر (بطور سیڑھی کے) استعمال نہیں کرتا

سند ميں عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ( المتوفی ٦٣ ھ واقعہ حرہ) مجہول ہے- صحيح بخاري کي ايک روايت ميں سند ميں عبد الله بن محمد بن أبي بكر الصديق ہے جن کي متقدمين ميں کوئي توثيق نہيں کرتا صرف ابن حبان نے ثقہ قرار ديا ہے – راقم کے علم ميں ان کي صرف تعمير کعبہ پر ايک روايت ذخيرہ کتب ميں ہے- اس راوي کو مجہول الحال کے درجہ پر رکھنا چاہيے

يہ کيسے ممکن ہے کہ رسول الله نے دين ميں کچھ عام اصحاب مہاجرین و انصار سے چھپا ديا ہو – پھر خود عائشہ رضي الله عنہا کا قول ہے کہ جس نے يہ کہا کہ اپ صلي الله عليہ وسلم نے دين کي کوئي بات چھپا دي اس نے جھوٹ باندھا

وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَتَمَ شَيئاً مِمَا أنْزِلَ إِليهِ مِنَ الوَحْي فَقَدْ كَذَبَ
اور جس نے يہ کہا کہ جو اپ صلي الله عليہ وسلم پر نازل ہوا الوحي ميں سے اس کو چھپا ديا اس نے کذب کہا 

راقم تعمیر کعبہ والی  روايت کومبہم قرار دیتا ہے کہ يہ روايت سننے سمجھنے ميں راويوں کو کوئي غلطي ہوئي ہے خود عائشہ رضي الله عنہا کا قول اس کے خلاف کہ نبي صلي الله عليہ وسلم نے کچھ نہيں چھپايا جبکہ روايت کہہ رہي ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس تعمیر کی بات امت پر چھپا دی

وہابی علماء کا موقف گنبد پربدلتا رہتا ہے اب وہ اس گنبد کو بچانا چاہتے ہیں

فرحت ہاشمی وہابی عالمہ کا کہنا ہے کہ گنبد خضراء  مسجد النبی کا حصہ ہے جبکہ یہ دعوی غلط  ہے  – گنبد خضراء قبر النبی کا گنبد ہے نہ کہ مسجد النبی کا اور قبر النبی حجرہ عائشہ میں ہے جو کبھی بھی مسجد النبی کا حصہ نہیں رہی

تاریخ سے معلوم ہے کہ مسجد النبی میں اگ لگی اور اس کی چھت جل گئی یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم جن کے جسد اطہر میں فرقوں کے مطابق ہر وقت روح مطہر موجود ہوتی ہے ان کے اوپر موجود چھت جل رہی تھی  لیکن انہوں نے روکا نہیں- کیا یہ ان فرقوں کے عقائد کا تضاد نہیں  !راقم کہتا ہے  اس  اگ کو الله کی جانب سے بھیجا گیا لیکن امت اس اشارہ غیبی کو نہ سمجھ سکی

وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى از السمهودي (المتوفى: 911هـ) میں ہے

قال المؤرخون: احترق المسجد النبوي ليلة الجمعة أول شهر رمضان من سنة أربع وخمسين وستمائة في أول الليل،

مورخ کہتے ہیں کہ مسجد النبی میں جمعہ کی رات رمضان کی پہلی رات اگ لگی سن ٦٥٤ ھ میں

قال المؤرخون: ثم دبت النار في السقف بسرعة آخذة قبله، وأعجلت الناس عن إطفائها بعد أن نزل أمير المدينة فاجتمع معه غالب أهل المدينة فلم يقدروا على قطعها، وما كان إلا أقل من القليل حتى استولى الحريق على جميع سقف المسجد الشريف واحترق جميعه حتى لم تبق خشبة واحدة.

،مورخین کہتے ہیں اگ مسجد کی چھت پر پھیل گئی اور اس نے قبلہ کو بھی پکڑ لیا اور لوگوں نے اس کو بجھانے کی جلدی کی …. لیکن اس پر قادر نہ  ہوئے سوائے تھوڑے کے اور تمام مسجد کی چھت اس اگ کی لپیٹ میں آ گئی – سب جل گیا حتی کہ ایک لکڑی بھی نہ بچی

غور کریں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے جھوٹوں نے خبر دی کہ وہ اپنے  جسد کو بچانے کے لئے – بادشاہ کے خواب میں آئے لیکن اس لگنے والی اگ کی خبر اب انہوں نے کسی کو پیشگی نہ دی-  یہ واقعہ سن ٥٥٧ ھ کا ہے یہ اصلا نور الدین زنگی المتوفي ٥٦٩ ھ کا خود ساختہ خوف تھا کہ عیسائی جسد اطہر کو چرا لیں گے جبکہ جب وہ سرنگ سے وہاں پہنچتے تو تین اجسام پاتے اس میں سے کون سا نبی کا ہے اور کون سا عمر و ابو بکر کا ہے وہ معلوم نہیں کر سکتے تھے- نور الدین کو سیاسی محاذ پر سلطان ایوبی سے خطرہ تھا – نور الدین اور صلاح الدین میں اختلافات ہو گئے تھے اور ایوبی نے صلیبی جنگوں میں شرکت بھی چھوڑ دی تھی یہاں تک کہ نور الدین کی وفات کے بعد صلاح الدین نے اس کی بیوہ سے شادی کر لی اور نورالدین کے بیٹے کا صلاح الدین نے تختہ الٹ دیا

علی حافظ نے ذکر کیا کہ مسجد میں دوسری بار بھی اگ لگی

 وقد احترقت المقصورة والقبة في حريق المسجد النبوي الثاني سنة 886 هـ،

جس میں مقصورہ اور گنبد بھی جل گیا

مسجد النبی میں اگ ٦٥٤  اور ھ٨٨٦  میں لگی یعنی نور الدین والے واقعہ کے سالوں بعد

 پہلی اگ میں صرف چھت جلی لیکن دوسری میں گنبد تک جل گیا افسوس اس کو پھر بھی نہ سمجھا گیا اور اس پر ایک نیا گنبد بنا دیا گیا

ہیکل سلیمانی ، زکریا اور مریم

مزید تفصیل کے لئے پڑھیں
تاریخ قبلتین

147 Downloads

یہود مسجد الاقصی کو هيكل سلیمان بولتے تھے اور ہیں – مسجد عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب عبادت کا مقام ہے اور الاقصی بھی عربی کا لفظ  ہے جس کا مطلب دور ہے – اور یہ دور اصل میں مکہ سے دوری کے طور پر بولا گیا تھا جب واقعہ معراج کا ذکر الله تعالی نے سورہ بنی اسرائیل میں کیا

سُبْحَانَ الَّـذِىٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى الَّـذِىْ بَارَكْنَا حَوْلَـهٝ لِنُرِيَهٝ مِنْ اٰيَاتِنَا ۚ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْـرُ (1)

پاک ہے وہ  (رب) جو لے گیا سفر میں  اپنے بندے کو رات  میں مسجد الحرام سے مسجد الاقصی جس کا ماحول ہم نے  با برکت کیا ہے  کہ اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بے شک وہ  (الله) سننے دیکھنے والا ہے

الْاَقْصَى اصل میں فاصلے پر نسبت ہے  کہ اتنی دور ایک رات میں ہی لے کر گئے- ظاہر ہے دور سلیمان و داود میں اور اس کے بعد بھی یروشلم میں رہنے والے احبار و ربانی  اہل کتاب اس مسجد کو مسجد الاقصی نہیں بولتے ہوں گے- بنی اسرائیل کی تاریخ کے مطابق اس مسجد کو ہیکل سلیمان کے نام سے یاد کیا جاتا تھا

هيكل کا لفظ  عربی اور عبرانی دونوں میں مستعمل ہے اور عربی لغت تاج العروس من جواهر القاموس میں بھی موجود ہے  

الهَيْكَلُ: الضَّخْمُ مِنْ كُلِّ شَيْء یعنی کسی بھی چیز کا بڑا ہونا – ہیکل سلیمان کا مطلب  ہے مسجد الاقصی بہت بڑی تھی

لغت مجمع بحار الأنوار في غرائب التنزيل ولطائف الأخبار از  جمال الدين، محمد طاهر بن علي الصديقي الهندي الفَتَّنِي الكجراتي (المتوفى: 986هـ) میں ہے

الهيكل – ذو الضخامة والشرف، ثم استعمل فيما يكتب من الأسماء الإلهية والأدرعة الربانية ونحو ذلك

الهيكل – بہت عظمت و شرف   والا پھر اس لفظ کا استمعال ہوا اگر اسماء الہی  وغیرہ لکھے ہوں

ظاہر ہے یہ لفظ عربی میں بھی موجود ہے تو مسجد الاقصی کو اگر ہیکل کہا جائے تو اس میں کوئی عیب نہیں کیونکہ دور سلیمان میں ظاہر ہے اس کو الاقصی نہیں کہا جا سکتا – سلیمان  علیہ السلام کی مملکت ارض مقدس میں تھی

ہیکل سلیمانی  کا مطلب ہے سلیمان علیہ السلام کا بنایا ہوا ہیکل

Heikal

جس میں ایک    چٹان یا  الصخرہ تھی اس کو یہودی زمین کا سب سے مقدس مقام سمجھتے ہیں اور ان کے مطابق زمیں کا آغاز اسی چٹان سے ہوا اور مسلمان ہونے والے  یمنی یہودیوں کے مطابق اس کے نیچے تمام دنیا کی ہوائیں اور نہریں ہیں  جیسا کہ ایک روایت میں ہے- یہود کے مطابق اس چٹان پر تابوت سکینہ رکھا ہوا تھا اور معلوم ہوا ہے کہ اس ہیکل پر کسوہ کعبہ کی طرح کا ایک غلاف بھی ہوتا تھا  اس کے سامنے

Altar

تھا جس میں قربانی کا گوشت جلا کر الله کی نذر کیا جاتا تھا اور خون کوقربان گاہ پر  چھڑکا جاتا- اس قربان گاہ کے پاس حجرات تھے جن میں منتظم سامان رکھتے اور اس مسجد کے صحن سے بھی زمزم کی طرح ایک چشمہ ابلتا تھا جس کو جیحوں

Gihon

کہا جاتا ہے

مسلمان مورخین کے مطابق تبع نے بعثت نبوی سے کئی سو سال پہلے سب سے پہلے غلاف کعبہ دیا – تبع (المتوفی ٤٢٠ بعد مسیح عیسوی ) ایک  یمنی یہودی بادشاہ تھا جس  نے کعبہ کو سب سے پہلے غلاف دیا کیونکہ مسجد اقصی میں ہیکل سلیمانی میں قدس الاقدس پر بھی غلاف تھا اس کا ذکر انجیل میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی مزموعہ صلیب کے وقت مقدس کا غلاف یا کسوہ پھٹ گیا

At that moment the curtain of the temple was torn in two from top to bottom. The earth shook, the rocks split

اور اس ( موت کے) وقت ہیکل کا کسوہ اوپر سے نیچے تک  پھٹ گیا زمیں لرز گئی اور چٹانیں چٹخ گئیں

http://biblehub.com/matthew/27-51.htm

قرآن میں ذکر ہے کہ زوجہ عمران  نے منت مانی کہ اگر لڑکا ہوا تو میں اس کو الله کی نذر کر دوں گی –

إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

اور جب مریم کی ماں  نے کہا اے رب  میرے بطن میں جو ہے اس کو نذر کر رہی ہوں وقف کرتے ہوئے پس اس کو قبول کر بے شک توسننے والا جاننے والا ہے 

اس میں محرر کا لفظ ہے یعنی اب اس بطن میں جو ہے وہ تمام عمر کے لئے وقف نذر ہو چکا ہے – اس نذر کی بنا پر مریم اب کبھی بھی شادی نہیں کر سکتی تھیں –

قرآن میں مریم کو اخت ہارون کہا گیا یعنی وہ ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھیں اور اس طرح ان کے والد عمران بھی نسل ہارون میں سے تھے – اہل کتاب کے  مطابق ہیکل سلیمان یا مسجد الاقصی  میں رسوم کی ادائیگی صرف نسل ہارون والے کر سکتے ہیں –  بہر حال زوجہ عمران نے لڑکے کی بجائے ایک لڑکی مریم کو جنا اور ان کو بطور منت کی ادائیگی ہیکل سپرد کر دیا گیا –

نذر کا مطلب تورات کتاب گنتی باب ٦ میں موجود ہے

اسلام میں بھی معتکف بال نہیں کاٹ سکتا

اس منت کو پورا کرانے کے لئے  اقلام ڈالے گئے یعنی قرع اندازی ہوئی  کہ کون مریم کی کفالت کرے گا

 ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ 

يه غیب کی خبریں ہیں جو ہم الوحی کر رہے ہیں تم ان کے ساتھ نہ تھے جب یہ اقلام پھینک رہے تھے کہ کون مریم کی دیکھ بھال کرے گا اور نہ ساتھ تھے جب یہ اس (کفالت ) کے لئے لڑ رہے تھے

ہیکل میں امور سر انجام دینے کے لئے اقلام کیسے ڈالے جاتے  تھے اس کا ذکر یہود کی کتاب  مشنا میں ہے

The officials of Temple said to them, Come and cast lots to decide who among  them would kill the sacrifice, who would sprinkle the blood and who would clear the altar of  ashes, who would light the menorah ” ∗. The room Gazith (Lots casting room) was in form of  large Hall. The casting took place from the east side of it. With an elder sitting on the west. The priest stood about in a circle and official grabbed the hat off this or that person, and by this they understood where the lot was to begin

Mishnah Tamid 3.1; see from Jesus Christ in Talmud by J. Lightfoot published in 1658

ہیکل سلیمانی میں خدمت انجام دینے کے لئے مسجد اقصی کے منتظمین کہتے کہ اقلام ڈالو اور ہم فیصلہ کریں کہ کون قربانی کرے گا کون خون کو چھڑکے گا کون قربان گاہ کی راکھ کو صاف کرے گا اور کون منورہ میں شمع جلاۓ گا – ایک بہت بڑا  حجرہ غازث (مسجد الاقصی میں) تھا جس میں اقلام ڈالے جاتے تھے اور وہ اس کے مشرق سے شروع کیا جاتا جب ایک عالم کرسی پر بیٹھتا اور تمام خدمت گزار ایک دائرے کی صورت کھڑے ہوتے اور عالم اشارہ دیتا  کہ اقلام ڈالنا کہاں سے شروع ہو گا

اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقلام ڈالنا مسجد الاقصی میں کیا جاتا تھا اور قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے جس سے ظاہر ہے نسل ہارون یا خدمت  گزار  لوگ  جن کو لاوی کہا جاتا تھا اس  اقلام ڈالنے میں شریک ہوتے تھے

قرآن میں مزید موجود ہے کہ مریم علیہ السلام جس مقام پر  منت کر رہی تھیں وہ المحراب تھی – یہ اس قدر واضح اشارہ ہے کہ شاید ہی کوئی اور اشارہ قرآن میں اس کے سوا ہو کہ یہ اعتکاف مسجد الاقصی میں تھا اور جب الله نے اس کا ذکر کیا تو کسی بھی یہودی پر یہ مخفی نہ رہا ہو گا-المحراب اصل میں مسجد الاقصی کا ایک حجرہ تھا جو اس کے شمال میں تھا یہ  کمرہ خدمت گزاروں کے لئے وقف تھا وہ  وہاں رکتے نماز پڑھتے اور اپس میں مسجد کے انتظام کا ذکر کرتے تھے –

Bet ha-Moed or Bet Hamoked (Chamber of the Hearth) was the domed chamber in temple, was in north of the ’Azarah (inner court where burning altar was placed), See Jewish Encyclopedia

بیت ہا معید یا بیت ہموکد ایک گنبد نما حجرہ ہیکل میں تھا جو مسجد اقصی کے صحن کے شمالی سمت میں تھا

This dome-covered structure was the quarters for the priests who performed the services

محراب نما حجرہ متظمین ہیکل کے لئے تھا

Architecture of Herod, the Great Builder by Ehud Netzer, Baker Academic, October 1, 2008

Beth-haMoked,  … was built on arches

بیت ہموکد میں محرابیں تھیں

The Temple–Its Ministry and Services by Alfred Edersheim

قرآن میں موجود ہے کہ زکریا علیہ السلام نماز محراب میں پڑھ رہے تھے جب ان پر الوحی ہوئی کہ یحیی علیہ السلام کی ولادت ہو گی

فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ أَن سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا

پس زکریا محراب سے باہر نکل کر قوم کے پاس آیا اور ان کو اشارہ کیا کہ صبح و شام تسبیح کرو

اسی طرح ذکر ہے کہ جب بھی زکریا محراب میں اتے تو مریم کے پاس رزق ہوتا

كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا

محراب میں جب بھی زکریا مریم کے پاس داخل ہوتے ان کے پاس رزق پاتے 

 یعنی یہ محراب ایک بہت بڑا حجرہ تھا جس میں مریم بھی تھیں اور زکریا بھی تھے اور  یہاں مریم معتکف تھیں ان کے باقی حجرہ کے درمیان ایک پردہ تھا اور وہ اس حجرہ کے مشرق میں تھیں

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا (16) فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا

أور الكتاب  میں مریم کا ذکر کرو جب وہ اپنے اہل کو چھوڑ(محراب میں ) شرقی جانب میں (معتکف ہو) گئی اور اپنے اور باقی لوگوں کے درمیان ایک پردہ ڈالا تو ہم نے ایک روح (ناموس یا فرشتہ) اس کی طرف بھیجا جو ایک آدمی کی صورت ظاہر ہوا

یقینا مریم اس اشکال میں ہوں گی کہ وہ ایک لڑکی ہیں اور مسجد الاقصی میں کس طرح ان کا قیام جاری رہے گا – لہذا ان کو خبر دی گئی کہ وہ اب حیض کی حالت میں کبھی نہ جائیں گی – اللہ نے خبر دی

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ

اور فرشتوں نے مریم سے کہا اے مریم الله نے اپ کو منتخب کر لیا ہے اور پاک کر دیا ہے   تمام عالمین کی عورتوں میں سے اپ کو چنا ہے

طہر کا لفظ  اشارہ ہے کہ مریم اب کبھی بھی نطفہ سے ماں نہیں بن سکیں گی اور نہ ان کو  عام عورتوں کی طرح حیض آئے گا – ساتھ ہی خبر دی گئی کہ وہ بن بیاہی ماں بن جائیں گی

إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (45)

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم بے شک الله اپ کو بشارت دیتا ہے اپنے جانب سے کلمہ کی جس کا نام المسیح عیسیٰ بن مریم ہو گا دنیا و آخرت میں مقربوں میں سے ہو گا

یقینا مریم اہل کتاب کی اس خواہش  کا علم رکھتی ہوں گی جس کا ذکر کتاب یسعیاہ میں ہے کہ ان میں ایک کنواری کے بطن سے مسیح کا ظہور ہو جو  مردوں کو زندوں کر دے جو نابینا کو نگاہ دے اور جو اپاہج کو صحیح کر دے  – فرشتوں نے ان کو خبر دی کہ وہ وہ کنواری ہیں جو المسیح کو جنم دے گی

اللہ نے اس طرح  مسیح کو کسی بھی نسب کا نہ کیا کیونکہ اہل کتاب میں اختلاف چل رہا تھا ایک گروہ کا دعوی تھا کہ مسیح داود کی نسل سے ہو گا اور دوسرے گروہ کا دعوی تھا کہ یوسف کی نسل سے ہو گا – الله نے نسل ہارون کو پسند کیا اس کی لڑکی کو المسیح کی ماں بننے کا شرف ملا اس طرح ان تمام جھگڑوں کو ختم کر دیا جو مسیح کے نسب پر اہل کتاب میں تھا

و الله اعلم

حشر دوم سے عبد الملک تک

قصہ مختصر
اصل مسجد الاقصی یروشلم میں تھی- یہ سن ٧٠ بعد مسیح میں رومیوں کی جانب سے تباہ کر دی گئی اور اس کے اثر کو زمین سے مٹا دیا گا یہاں تک کہ یہودی مورخ جوسیفث کے بقول کوئی اس مقام سے گزرتا تو اس کو یقین تک نہ اتا کہ یہاں کبھی کوئی بستا بھی تھا -صحیح ابن حبان اور سنن ترمذی کی روایت کے مطابق معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان سے ہی اصل مسجد الاقصی دکھائی گئی اور پھر آپ علیہ السلام سات آسمان کی طرف چلے گئے – سن ١٧ ھ میں عمر رضی اللہ عنہ نے یروشلم میں ایک رومی قلعہ پر مسجد عمر بنا دی – اس کو بعد میں مسجد بیت المقدس کہا جانے لگا اور الولید بن عبد الملک کے دور میں مسجد عمر کے پاس قبہ الصخرہ بنایا گیا جس کا مقصد زائرین بیت المقدس کے لئے ایک ہوٹل یا سرائے بنانا تھا – بعد کے ادوار میں مسجد عمر کو مسجد القبلی کہا جانے لگا اور یہاں تک کہ اس کا نام پھر مسجد الاقصی ہی رکھ دیا گیا – اس بلاگ میں اس چیز کی وضاحت ہے کہ مسجد القبلی ، مسجد الاقصی نہیں ہے یہ مسجد عمر ہے – اصل مسجد الاقصی کسی زندہ بشر کو معلوم نہیں کہاں ہے – نہ کسی صحابی کو معلوم تھی – نہ  آج کسی مسلمان کو معلوم ہے نہ کسی یہوودی کو معلوم ہے

مزید تفصیل کے لئے پڑھیں
تاریخ قبلتین

147 Downloads

قرآن سوره الاسراء کی آیات ہیں کہ

سُبْحَانَ الَّـذِىٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى الَّـذِىْ بَارَكْنَا حَوْلَـهٝ لِنُرِيَهٝ مِنْ اٰيَاتِنَا ۚ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْـرُ  

پاک ہے وہ  (رب) جو لے گیا سفر میں  اپنے بندے کو رات  میں مسجد الحرام سے مسجد الاقصی جس کا ماحول ہم نے  با برکت کیا ہے  کہ اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بے شک وہ  (الله) سننے دیکھنے والا ہے

یہ معراج کا واقعہ تھا جس میں جسمانی طور پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سفر کیا ایک گھوڑے اور خچر نما مخلوق پر جس کو براق کہا جاتا ہے- اس میں ایک ان میں آپ مسجد الحرام سے اصلی مسجد الاقصی پہنچ  گئے اور آپ کے ہمراہ جبریل علیہ السلام بھی تھے

دوسرے دن آپ نے جب قریش کو اس کی خبر دی تو انہوں نے آزمائشی سوالات کیے اور حجر یا حطیم میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا کہ بیت المقدس شہر کو آپ کے سامنے کر دیا گیا

الله تعالی فرماتے ہیں

فإذا جاء وعد الآخرة ليسوءوا وجوهكم وليدخلوا المسجد كما دخلوه أول مرة وليتبروا ما علوا تتبيرا عسى ربكم أن يرحمكم وإن عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا

پس جب دوسرا وعدا ہونے کو  آیا کہ چہروں کو بگاڑ دے اور اسی طرح مسجد میں داخل ہوں جیسے پہلے ہوا تھا اور تتر  بتر کر دیں جس پر بھی غلبہ پائیں ہو سکتا ہے کہ اب تم پر تمہارا رب رحم کرے لیکن اگر تم پلٹے تو ھم بھی پلٹیں گے   اور  ہم جہنم کو  تمام کافروں کے لئے گھیرا بنائیں گے

arch-titus

روم میں آرچ اف ٹائیتس پر بنا ایک نقش -رومی فوجی قدس الاقدس کا خالص سونے کا چراغ مال غنیمت کے طور پر لے جا رہے ہیں

یہودی مورخ جوسفس لکھتا ہے

For the same month and day were now observed, as I said before, wherein the holy house was burnt formerly by the Babylonians 

– Josephus Wars chapter 4

قدس الاقدس اسی مہینے اور دن جلایا گیا جس دن بابلیوں نے اس کو جلایا تھا

ظاہر ہے اصل مسجد الاقصی کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بیت المقدس شہر دکھایا گیا اور کفار مکہ نے بھی اسی شہر پر سوالات کیے وہاں کوئی مسجد تھی ہی نہیں لہذا جو بھی دیکھا وہ اصلی مسجد الاقصی  اور اس کا ماحول تھا جو الله کی قدرت کا نمونہ تھا کہ اسی مسجد کو اصل حالت میں  دکھایا گیا  جبکہ وہ وہاں تباہ شدہ حال میں تھی یعنی یہ ایک نشانی تھی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے خاص تھی

ایک بات سمجھنے کی ہے اور قرآن میں یہی بات سوره الاسراء کے شروع میں بیان ہوئی ہے اور معراج کے ساتھ مسجد الاقصی کی تباہی کا خاص ذکر ہے تاکہ غور کرنے والے بات سمجھیں

رومی مشرکوں کا بیت المقدس کو آباد کرنا

یروشلم کے لئے بیت المقدس بہت بعد میں مستعمل ہوا مشرکین مکہ اس شہر کو عیلیا کہتے تھے

بیت المقدس اصلا یہود کی زبان  کا لفظ ہے عرب مشرکین اس کو عیلیا کہتے تھے جو اصل میں

AELIA CAPITOLINA

ہے  جو ایک رومن کالونی تھی جو ہیرود کے شہر پر بنی

عیلیا کپٹلونا کو رومن ملٹری کیمپ بنانے کا حکم شاہ ہیڈرین

Hadrian

نے دیا جو رومن سلطنت کا ١٤ واں بادشاہ تھا اس کا مکمل نام تھا

Publius Aelius Hadrianus Augustus

لہذا اپنے نام

Aelius

پر اس نے یروشلم کا نام رکھا جو بعد میں ایلیا میں بدل گیا

CAPITOLINA

کا مطلب دار الحکومت ہے یعنی ایسا مقام جہاں سے اس صوبے کی عمل داری ہو گی اسی سے انگریزی لفظ کیپٹل نکلا ہے

–واضح رہے کہ  شاہ ہیڈرین کے  وقت اس شہر میں نہ عیسائیوں کے کلیسا تھے نہ یہود کے معبد  تھے کیونکہ اس دور میں یروشلم تباہ شدہ کھنڈرات کا شہر تھا – مشرک رومی فوجیوں  نے اس شہر میں ١٣٥ بعد مسیح میں پڑاو کیا اور وہاں یہودی بدعتی فرقہ عیسیٰ کے ماننے والوں کو انے دیا اور یہود  کا داخلہ بند رہا –  سن ٣٢٥ ع  ب م میں  رومن بادشاہ کونسٹنٹین عیسائی ہوا جو دین متھرا پر تھا  – اس وقت اس شہر پر متھرا دھرم کا راج تھا اور تمام مندر اسی مذھب والوں کے تھے جن میں رومیوں کی کثرت تھی جو اجرام فلکی اور برجوں  کے پجاری تھے  – متھرا اصلا ایک فارسی مذھب تھا لیکن اس کی اپیل بہت تھی انہی کا تہوار نو روز ہے جس کو آج تک ایران سے لے کر ترکی  تک منایا جاتا ہے –  عیلیا کپٹلونا کو مختصر کر کے اور ساتھ ہی  اس لفظ  کو تبدیل کر کے  اہل کتاب اور مسلمانوں نے  ایلیا کہنا شروع کر دیا  جبکہ ایلیا  عبرانی میں ایک نبی کا نام تھا نہ کہ اس شہر کا نام– یہ ایک تاریخی غلط العام چیز ہے

یہود میں ایلیا اصل میں  عیسیٰ سے 9 صدیوں قبل انے والے ایک نبی الیاس علیہ السلام کا نام ہے جو یروشلم میں نہیں آئے تھے ان کا نام انگریزی میں

Elijah

ہے جو شمال میں ایک  علاقے میں آئے تھے اور یروشلم میں کبھی بھی نہیں آئے

AELIA CAPITOLINA , name given to the rebuilt city of Jerusalem by the Romans in 135 c.e. Following the destruction of Jerusalem by the Romans in 70 c.e. the city remained in ruins except for the camp (castrum) of the Tenth Legion (Fretensis), which was situated in the area of the Upper City and within the ruins of the Praetorium (the old palace of Herod the Great), protected, according to the first-century historian Josephus (War, 7, 1:1) by remnants of the city wall and towers on the northwest edge of the city. Although Jews were banished from the city (except apparently during the Ninth of *Av), some Jewish peasants still lived in the countryside, and remains of houses (with stone vessels) have been found immediately north of Jerusalem (close to Tell el-Ful).

http://www.encyclopedia.com/article-1G2-2587500497/aelia-capitolina.html

عیلیا کپٹلونا نام ہے جو یروشلم کو دیا گیا رومیوں کی جانب سے سن ١٣٥ ب م میں جب یروشلم تباہ ہوا رومیوں کے ہاتھوں سن ٧٠ ب م میں اور اس کے کھنڈرات پر ایک لشکر تعنات ہوا جو پرایتروریم (جو ہیرود کا محل تھا)  پر رکا – اور پہلی صدی کے جوزیفس مورخ  (کتاب جنگیں ج ٧ ) کہتے ہیں شہر کی دیوار کے کنارے اور ان میناروں کے پاس جو شمال مغربی کناروں پر تھیں وہاں پڑاؤ ڈالا  – اگرچہ یہود پر داخلہ بند تھا (سوائے او کے ماہ کی نویں تاریخ پر ) کچھ یہودی کسان اس کے باہر آباد تھے جن کے گھروں کی باقیات ملی ہیں یروشلم کے شمال میں

آج اس   پرایتروریم

Praetorium

 پر ہی مسجد الأقصى ہے

فتح بیت المقدس اور عمر رضی الله عنہ کی آمد

سوره  الاسراء میں بتایا گیا کہ رومیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے دور کی مسجد  الاقصی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ہر اس چیز کو تباہ کر دیا جس پر ان کا ہاتھ پڑا بالکل اسی طرح جس طرح اس سے پہلے اس کواشوریوں کے ذریعہ  تباہ کیا گیا یعنی الله کا عذاب بن کر اشوری یروشلم پر پڑے اور انہوں نے حشر اول کیا اس کے بعد رومیوں نے حشر دوم کیا-مسجد الاقصی ٧٠ بعد مسیح  میں رومیوں نے مسمار کی اور انجیل کے مطابق یہ عیسیٰ کی زبان سے اہل کتاب پر  لعنت تھی کہ  اس مسجد کا ایک پتھر بھی اپنی جگہ نہ رہے گا یہاں تک کہ اس کا نشان مٹا دیا گیا اور صخرہ چٹان تک کو کھود دیا گیا اس وجہ سے اس کا مقام انسانوں سے محو ہو گیا

جب عمر رضی الله  عنہ ١٧ ہجری میں  بیت المقدس میں داخل ہوئے تو طبری کی تاریخ کی ایک بے سند روایت میں ہے کہ ان کے ساتھ أبو إسحاق كعب بن ماتع الحميرى اليمنى( یمن کے حبر یعنی یہودی عالم تھے- عمر رضی الله عنہ کے دور میں ایمان لائے لیکن شاید ہی انہوں نے کبھی مسجد الاقصی کا سفر کیا ہو کیونکہ یہودی ہونے کی وجہ سے    ان پر یروشلم میں  داخلے پر پابندی تھی-  انہوں)  نے عمر رضی الله عنہ کو مشورہ دیا کہ الصخرہ پر مسجد الاقصی  تھی-

عمر رضی الله عنہ نے اجتہاد سے کام لیا اور  مسجد الاقصی کو  الگ رومی فورٹ انتونیا   ( پرایتروریم ) پر ایک مقام پر بنایا اور  وہ یروشلم کا سب سے اونچا مقام تھا – لہذا مسجد الاقصی ایک غیر متنازعہ  جگہ بنائی گئی-  بعض مسلمانوں کو روایات میں الفاظ ملے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ نے  یروشلم میں محراب داودی پر نماز پڑھی لیکن ان محققین  کو خود نہیں پتا کہ محراب داودی کی کوئی اصل نہیں – یہ اصل میں جافا گیٹ

Jaffa Gate

ہے  جو عمر رضی الله عنہ کی بنائی مسجد  ( موجودہ الاقصی) سے بہت دور شہر کا مخالف سمت میں دروازہ ہے جو یقینا داود علیہ السلام کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ رومیوں کی تعمیر ہے  اس کو بعض  باب الخلیل بھی کہتے ہیں -عمر رضی الله عنہ کی بنائی ہوئی مسجد الاقصی اصل میں   عمر رضی الله  عنہ نے اپنے اجتہاد سے بنائی –     عمر رضی الله عنہ نے کعب  الاحبار سے پوچھا کہ  مسجدالاقصی کہاں تھی،   جس سے ظاہر ہے ان کو خود عمر  کو بھی معلوم نہ تھا کہ کہاں تھی نہ کسی اور صحابی نے اس کی کوئی مر فوع حدیث میں بیان کردہ  کوئی ایسی نشانی بتائی جس سے اس تک پہنچا جاتا-

طبری کی عمر رضی الله عنہ  اور کعب کے مکالمے کی  اس  روایت کی سند ہے وعن رجاء بْن حيوة، عمن شهد، قال جس میں مجھول راوی ہے

مسند احمد کی روایت ہے

حدثنا أسود بن عامر حدثنا حماد بن سلمة عن أبي سنان عن عُبيد بن آدم وأبي مريم وأبي شعيب: أن عمر بن الخطاب كان بالجابية، فذكر فتح بيت المقدس، قال: فقال أبو سلمة: فحدثني أبو سنان عن عبيد بن آدم قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول لكعب: أين ترى أن أصلي؟ فقال: إن أخذت عني صليت خلف الصخرة فكانت القدس كلها بين يديك! فقال عمر: ضاهيت اليهودية، لا، ولكن أصلى حيث صلى رسول الله – صلى الله عليه وسلم -، فتقدم إلى القبلة فصلى، ثم جاء فبسط رداءه، فكنس الكناسة في ردائه وكنس الناس.

أبو سنان ،  عبيد بن آدم سے روایت کرتا ہے کہ میں نے سنا عمر رضی الله عنہ نے کعب سے پوچھا کہ تمھاری رائے میں کہاں نماز پڑھیں ؟ کعب نے کہا اگر میں پڑھوں تو صخرہ سے پیچھے پڑھوں گا اس طرح پورا قدس آپ کے سامنے ہو گا پس عمر نے کہا یہودیوں کی گمراہی ! نہیں ہم نماز پڑھیں گے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پڑھی پس آگے بڑھ کر قبلہ کی طرف نماز پڑھی

اس کی سند میں أَبُو سِنَانٍ  عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ   ہے جس کی تضعیف محدثین نے کی ہے ابو حاتم کہتے ہیں  ليس بقوي في الحديث حدیث میں قوی نہیں ہے  ابن معين وأحمد بن حنبلاس کو ضعیف کہتے ہیں اور أبو زرعة  اس کو مخلط ضعیف الحدیث کہتے ہیں الذھبی کہتے ہیں ضعیف ہے متروک نہیں ہے ابن حجر لین الحدیث کہتے ہیں البیہقی سنن الکبری میں ضعیف کہتے ہیں المعلمي  بھی ضعیف کہتے ہیں یہ روایت صرف بصرہ کی ہے کیونکہ اس راوی نے اسکو بصرہ میں بیان کیا ہے اسکی وفات  141 – 150 ھ کے دوران ہوئی ہے

مسند احمد کی روایت کی سند میں عبید بن ادم بھی مجھول ہے – المعلمي  کہتے ہیں لم يُذْكرْ له راوٍ إلا أبو سنان اس سے صرف ابو سنان ہی روایت کرتا ہے

شعيب الأرناؤوط کہتے ہیں اسکی سند ضعیف ہے حیرت ہے کہ اس روایت کو  ابن کثیر اور احمد شاکر حسن کہتے ہیں

کتاب فضائل بيت المقدس از المقدسی  کی روایت کی  ابو سنان کی روایت ہے

أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عِيسَى بْنِ سَنَانَ الشَّامِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ فِي كَنِيسَةٍ يُقَالُ لَهَا كَنِيسَةُ مَرْيَمَ فِي وَادِي جَهَنَّمَ قَالَ ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَقَالَ عُمَرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فِي مَقْدِمِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ دَخَلْتُ إِلَى الصَّخْرَةِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ

ابو سنان ، المغیرہ سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتا ہے کہ میں نے عمر رضی الله عنہ کے ساتھ چرچ میں نماز پڑھی جس کو مریم کا چرچ کہا جاتا ہے جو وادی جہنم میں ہے –  کہا پھر ہم مسجد میں آئے اور عمر نے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ  معراج کی رات میں نے مسجد کے مقام پر نماز پڑھی پھر صخرہ آیا اور بیت المقدس شہر میں داخل ہوا

دوسری تاریخی روایات کے مطابق تو عمر رضی الله عنہ نے کسی چرچ میں نماز نہ پڑھی ابو سنان کی یہ دونوں روایآت ضعیف ہیں اگرچہ اس میں ایک نئی چیز ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نماز مسجد الاقصی پر پڑھی اور پھر صخرہ تک آئے جبکہ شیعہ روایات کے مطابق رسول الله صلی الله علیہ وسلم صخرہ آئے جو مسجد تھی اس پر تفصیل نیچے آئے گی

کنیسہ مریم

وادی ہنوم/وادی جہنم میں کنیسہ مریم کا اندرونی منظر قبر مریم کا مقام 

Church of Assumption

قبروں پر نماز پڑھنا منع ہے – عمر رضی الله عنہ , مریم علیہ السلام کی قبر پر نماز کیوں پڑھتے –  یہ نحوست ابو سنان  کی ہے

ابو سنان کی بیت المقدس کی ان روایات میں تفرد ہے انکو کوئی اور بیان نہیں کرتا خود یہ فلسطین کے ہیں اور بصرہ جا کر اس قسم کی روایات بیان کی ہیں

مسجد الاقصی

الغرض عمر اور کعب کی صخرہ کے حوالے سے بحث  فرضی اور من گھڑت قصہ ہے اس کی کوئی صحیح سند نہیں ہے اور ١٥٠ سال بعد کی قصہ گوئی ہے

عیسائیوں کے مطابق 

کہا جاتا ہے کہ الصخرہ پر عیسائیوں  کا ایک چرچ  ، چرچ اف  ہولی وسڈوم   تھا  جس کو ٦١٤ ع میں فارس والوں نے تباہ  کیا – یہ وہی حملہ تھا جس کا ذکر سوره الروم میں ہے کہ روم پر(فارسی) غالب آ گئے – شاید اسی کلیسا کا ملبہ الصخرہ پر تھا-   اس کا تذکرہ    عیسائیوں  کی کتاب   زیارت  میں ملتا ہے   جس کا عنوان ہے

Bordeaux Pilgrim

سن  ٣٣٣ ع  میں ایک عیسائی  زائر نے یروشلم کا دورہ کیا اور بتایا کہ   قلعہ انتونیا پر ایک چٹان پر ایک چرچ ہے جہاں پلاٹس نے عیسیٰ  پر    فیصلہ سنایا –  اس چٹان کا یہودی مورخ  جوسیفس  نے بھی ذکر کیا ہے

The tower of Antonia…was built upon a rock fifty cubits high and on all sides precipitous…the rock was covered from its base upwards with smooth flagstones”

(Jewish War, V.v,8 para.238)

انتونیا کا مینار  جو ٥٠ کیوبت بلند اور تمام طرف سے عمودی ہے اس نے  چٹان کو گھیرا ہوا ہے اس کی تہہ سے اوپر تک پتھر جڑے ہیں  

یعنی ہیرود کے رومی قلعہ پر بھی ایک چٹان تھی  اسی کو اب  الصخرہ کہا جاتا ہے

عیسائیوں میں یہ مشہور ہوا کہ اور اس پر عیسیٰ کے قدم کے نشان ہیں  ( جیسے  ہم مقام ابراہیم کے لئے مانتے ہیں کہ اس پر ابراہیم علیہ السلام کے قدم کے نشان تھے) کہ جب ان سے رومی تفتیش کر رہے تھے ان کو اس چٹان پر کھڑا کیا گیا اسلام کے مطابق ایسا کوئی موقعہ ہی نہیں آیا عیسیٰ کا اس سب سے قبل رفع ہو گیا لیکن عسائیوں کو اپنے مذھب کی حقانیت  کے لئے کچھ اقوال درکار تھے جس میں سے ایک یہ بھی ہے

 –  شاید یہی وجہ کے کہ  عبد الملک نے  قبہ الصخرہ کی  عمارت پر جو آیات  لکھوائیں ان میں عیسیٰ کی الوہیت کا انکار ہے  اور ہیکل کی تباہی سے متعلق ایک آیت   بھی نہیں-

صلاح الدین ایوبی کے دور کے عزالدین الزنجلی  نے اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے اسی پلیٹ فارم پر ایک  قبه المعراج بنوایا جہاں آج بھی عیسائی آ کر رفع عیسیٰ کی تقریبات کرتے ہیں  – صلیبی جنگوں کا اصل مدعآ تھا کہ قبه الصخرہ اصل میں ایک چرچ ہے جیسے سوفیا چرچ یا چرچ اف ہولی وسڈوم کہا جاتا تھا جب بیت المقدس عسائیوں سے آزاد ہوا تو اس مسئلہ کو سمجھتے ہوئے اسی پلیٹ فارم پر ایک نیا قبه رفع

Dome of Ascension

بنا دیا گیا اور مسلمانوں کے لئے اس کو قبه المعراج  کہا گیا

صليبي عسائیوں نے یروشلم پر قبضہ ہی اس مقام کی اہمیت کی وجہ سے کیا- اب کتاب البدایہ و النہایہ از ابن کثیر کی ایک بے سند روایت کا قول جو روینا یعنی ہم سے روایت کیا گیا ہے سے شروع ہو رہا ہے اس میں لکھا ہے

 وَقَدْ كَانَتِ الرُّومُ جَعَلُوا الصَّخْرَةَ مَزْبَلَةً ; لِأَنَّهَا قِبْلَةَ الْيَهُودِ، حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ كَانَتْ تُرْسِلُ خِرْقَةَ حَيْضَتِهَا مِنْ دَاخِلِ الْحَوْزِ لِتُلْقَى فِي الصَّخْرَةِ

اور اہل روم نے صخرہ کو کوڑا ڈالنے کی جگہ بنایا ہوا تھا کہ یہ یہود کا قبلہ ہے یہاں تک کہ انکی عورتیں اپنے حیض کا کپڑا بھی اس پر پھینکتیں 

 عیسائیوں میں حیض کوئی نا پاک چیز نہیں رہی تھی –  یہ توریت کا حکم تھا جوانکے مطابق  عیسیٰ کے انے پر معطل ہو چکی ہے

صلیبی عسائیوں نے قبه الصخرہ کو

Templum Domini

کا نام دیا اور یہ اس دور کا ایک مقدس چرچ تھا اس کو انکی مہروں پر بھی بنایا گیا – جبکہ موجودہ مسجد الاقصی کو انہوں نے محل میں تبدیل کر دیا-  اب پروٹسٹنٹ کے نزدیک صلیبیوں کی طرح قبه  متبرک  ہے اصل ہیکل سلیمانی کا مقام ہے

یہود کے مطابق

    یہود کے مطابق ہیکل  سلیمانی کا سب سے اہم مقام ایک  چٹان تھی جس کو کعبہ  کی طرح  قبلہ سمجھا جاتا اورقُدس‌الاقداس   (ہولی آف ہولیز) کہا جاتا تھا –  قُدس‌الاقداس کے گرد  ، تباہ ہونے سے پہلے،  غلاف کعبہ کی طرح    ایک   دبیز پردہ تھا –  سال میں صرف ایک دن  امام یا  پروہت  اس   میں  سے  داخل ہوتا تھا-  لیکن یہود  کو خود پتا نہیں کہ اصل مسجد الاقصی کس مقام پر تھی – جب انہوں نے دیکھا کہ  مسلمانوں نے پرایتروریم پر  ایک مقام پر مسجد  کو مسجد سلیمان سے نسبت دیتے ہوئے مسجد الاقصی کہنا شروع کر دیا ہے تو انہوں بھی اس پر دعوی دائر کر دیا ہے جبکہ خود انکی کتب میں اس پر اشارات موجود ہیں کہ اس کا مقام موجودہ مسجد الاقصی والا نہیں ہے

پہلی دلیل  یہود کی کتاب تلمود کے مطابق ہیرود کے محل سے ہیکل سلیمانی میں اٹھنے والا الاو اور بخور دیکھا جا سکتا تھا اور مقصد تھا کہ ہر وقت ہیکل پر نگاہ رکھی جائے جیسا کہ آجکل سعودی حکومت نے عین حرم کے سامنے بلند عمارت بنوا رکھی ہیں بالکل اسی طرح شاہ ہیرود کی محل سے  ہیکل پر نظر تھی  اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہیکل سلیمانی (اصل مسجد الاقصی) نیچے اور ہیرود کا محل اوپر ہوں جیسا کہ یہودی مورخ جوسیفس نے کہا ہے کہ ہیرود کا محل پرتوریم پر فورٹ انتونیا پر تھا جہاں آج مسجد الاقصی ہے یعنی اسلامی مسجد الاقصی ایک سابقہ قلعہ پر ہے اور یہود کی اس سے نیچے تھی

دوسری دلیل ہے کہ آج جس مقام پر مسجد الاقصی ہے وہ تاریخی شہر سے جو سلیمان یا دود علیہ السلام نے آباد کیا اس سے باہر ہے – کیا یہ  انبیاء کی سنت تھی کہ وہ مسجد شہر سے باہر  بناتے اور  اپنے گھر کے برابر میں نہیں بناتے ہیں؟ سیرت النبوی میں تو ایسا نہیں ہے اور یہی انبیاء کی سنت ہو گی

سوم اصل مسجد کے صحن سے جیحوں کا چشمہ ابلتا تھا جو آج دریافت ہو چکا ہے اور وہ بھی موجودہ مسجد سے دور قدیم شہر ہی میں ہے اور یہودی موجودہ مسجد الاقصی کی بنیادیں کھودتے رہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے نیچے پانی کا کوئی چشمہ ہے لہذا اس کے سکین کرتے ہیں – پرتوریم کا پلیٹ فارم اصلا مختلف آرچ پر بنا کر کھڑا کیا گیا ہے اگر وہ ستون ہلا دے جائیں تو پورا پلیٹ فارم اور اس کے اوپر موجود عمارتیں دھنس جائیں گئی

چوتھی دلیل ہے کہ مسجد الاقصی کسی ہموار مقام پر نہ تھی جیسی آج ہے جیسے جیسے آدمی ہیکل سلیمانی  میں داخل ہوتا تھا وہ سیڑھیاں چڑھتا جاتا اور بلند ہوتا جاتا تھا جیسا کہ کتاب

Book of Kings

اور

Book of Chronicles

میں ہے

یعنی اصل مسجد ایک سطح مرتفع پر تھی اور آج اگر قدیم  داودی یروشلم سے موجودہ مسجد الاقصی کی سمت میں چلا جائے  تو سطح بلند ہوتی جاتی ہے

 پانچویں دلیل قدس الاقدس سے مشرقی سمت میں کوہ زیتون تھا  آج اس کوہ کا نام

Hill of  Gethsemane

رکھ دیا گیا ہے اور کوہ زیتون کو پرتوریم کے پاس بتایا جاتا ہے کیونکہ اہل کتاب کے ذہن میں ہے کہ موجودہ مسجد الاقصی ہی اصل ہیکل سلیمانی تھا – جس  پہاڑ کو کوہ زیتون کہا جا رہا ہے وہ اصلا صحیح نہیں ہے یہ بات انجیل سے پتا چلتی ہے کہ آخری وقت میں رفع سے پہلے عیسیٰ اسی پہاڑ میں چھپے ہوئے تھے اس کا  نام اب لاطینی میں گھاتصمنی  رکھ دیا گیا ہے جبکہ یہ اصل کوہ زیتون ہے

اگر اس پہاڑ کا مقام دیکھا جائے تو یہ بھی اصل مسجد الاقصی کو قدیم شہر میں لے اتی ہے

چھٹی دلیل ہیکل سلیمانی  کا مطلب ہے سلیمان علیہ السلام کا بنایا ہوا ہیکل

Heikal

جس میں ایک    چٹان یا  الصخرہ تھی اس کو یہودی زمین کا سب سے مقدس مقام سمجھتے ہیں اور ان کے مطابق زمیں کا آغاز اسی چٹان سے ہوا اور مسلمان ہونے والے  یمنی یہودیوں کے مطابق اس کے نیچے تمام دنیا کی ہوائیں اور نہریں ہیں  جیسا کہ ایک روایت میں ہے-الصخرہ  جو قبه الصخرہ کے نیچے ہے وہ بنیادی طور پر ایک چھوٹا سا غار ہے –   اصل الصخرہ جو ہیکل میں قدس الاقداس میں تھی اس کے بارے میں کسی بھی یہودی کتاب میں  غار کی خبر نہیں -ہاں وہاں ایک معمولی ابھری ہوئی چٹان ضرور تھی ( لیکن اتنی بے ہنگم   ابھری ہوئی چٹان نہ تھی جیسی کہ قبه الصخرہ کے نیچے ہے )– ہیکل کی سطح اس معمولی ابھری چٹان کے باوجود بھی ایسی تھی کہ اس پر پروہت کھڑا ہوتا تھا  جبکہ الصخرہ کے نیچے والی چٹان ہموار نہیں ہے – چٹان جو ہیکل میں تھی وہ چھوٹی تھی اور ہیکل کی جو پیمائش یہودی کتب میں ہیں ان کو جب قبه الصخرہ کے اوپر رکھا جاتا ہے تو قبه الصخرہ والی چٹان بہت بڑی ہے

ساتویں دلیل یہودی مسجد الاقصی کی ایک دیوار جس کو دیوار گریہ  کہتے ہیں اس کے پاس عبادت کرتے ہیں کیونکہ اس دیوار پر ایک آیت لکھی ہے جس میں ہے

And when ye see this, your heart shall rejoice, and their bones as grass

اور جب تم اس کو دیکھو گے تمہارا دل باغ ہو گا اور انکی ہڈیاں گھانس جیسی

یہ یسیعآہ باب ٦٦ کی ١٤ وین آیت ہے جو عین دیوار گریہ پر لکھی ہے اس میں اشارہ ہے کہ یہ مقام کسی دور میں قبرستان تھا چونکہ یہود کے مطابق یہ جگہ ہیکل تھی وہ اب  کہتے ہیں کہ کسی نے غلط آیت غلط مقام پر لکھ دی ہے لیکن یہ آج ان کا موقف  ہے جب شروع میں یہودی واپس اس شہر میں آئے ہوں گے تو اسی دیوار پر آیت دیکھ کر ہی  یہاں جمع ہوئے اور انکی غلطی کو چھپا کر موجودہ مسجد الاقصی پر انہوں نے دعوی کیا ہے

آٹھویں دلیل صخرہ کا پتھر لائم اسٹون

Lime Stone

ہے جبکہ یہود کے مطابق یہ چٹان دنیا کی پہلی تخلیق ہے یہود اسکو

Eben haShetiya

کہتے ہیں یعنی بنیاد کا پتھر لہذا اگر یہ اتنی قدیم  چٹان ہے  تو اس کا پتھر اگنیوس

Igneous

ہونا چاہیے جو لاوا سے بنا ہو کیونکہ چٹانوں میں لائم اسٹون بعد کے ہیں اگنیوس ان سے بھی  قدیم ہیں

نویں دلیل یہودی مورخ جوسیفس لکھتا ہے

It was so thoroughly laid even with the ground by those that dug it up to the foundation, that there was nothing left to make those that came thither believe it   had ever been inhabited.   – War VII.1,1.

رومیوں نے مسجد الاقصی کو مکمل تباہ کر دیا زمین تک یہاں تک کہ اسکی بنیادیں کھود دیں اور اس پر کچھ باقی نہ رہا کہ جو اس پر سے گزرتا اس کو یقین تک نہ اتا کہ کبھی یہاں کوئی رہتا بھی تھا

یعنی صخرہ تک کو کھود دیا گیا یہ الله کا عذاب تھا کیونکہ قدس الاقدس کی دیواروں میں سونا لگا ہوا تھا  یہاں تک کہ جوسیفس کے بقول جب اس میں روشنی ہوتی تو دیکھنے والے کو نگاہ ہٹآنی پڑتی- جوسیفس لکھتا ہے جب مسجد الاقصی کو اگ لگائی گئی تو

Moreover, the hope of plunder induced many to go on; as having this opinion, that all the places within were full of money: and as seeing that all round about it was made of gold. And besides, one of those that went into the place prevented Cæsar, when he ran so hastily out to restrain the soldiers: and threw the fire upon the hinges of the gate, in the dark. Whereby the flame burst out from within the holy house itself immediately: when the commanders retired, and Cæsar with them; and when nobody any longer forbad those that were without to set fire to it. And thus was the holy house burnt down, without Cæsar’s approbation.

War 4,7

رومی فوجی اپے سے باہر ہو چکے تھے یہاں تک کہ اگرچہ مسجد الاقصی جل رہی تھی اس کا قدس الاقدس نہیں جلا تھا اور انکا کمانڈر سیزر مسلسل فوجیوں کو اگ لگانے سے منع کر رہا تھا لیکن فوج میں اس قدر غصہ تھا اور شاید سونے کی لالچ تھی کہ انہوں نے اس کے دروازے پر اگ پھینکی اور اور قدس الاقدس بھڑک گیا ظاہر ہے اس میں موجود  سونا پگھل کر صخرہ پر پھیل گیا ہو گا اور  اسکو حاصل کرنے کے لئے صخرہ کو توڑ توڑ کر سونا نکالا گیا  ہو گا – لہذا  ممکن ہے اصل  صخرہ اس طرح معدوم ہو گیا

اہل سنت  اور مسجد الاقصی

مسلمانوں میں  عمر رضی الله عنہ کی بنائی مسجد کو  آہستہ آہستہ مسجد الاقصی کہا جانے لگا اور دوسری طرف امت میں تعمیراتی جھگڑے  بھی ہو رہے تھے

کعبہ کو ابن زبیر کے دور میں  جمادى الآخرة   ٦٤ ھ  میں گرایا گیا اور دوبارہ  بنایا گیا جس میں حطیم کو اس میں شامل کر دیا گیا

 اموی خلیفہ عبد الملک  بن مروان  نے  ابن زبیر کی تعمیراتی کاوش کو کم کرنے کے لئے دو سال کے اندر  صخرہ پر (چٹان)  پر ایک   آٹھ کونوں والی عمارت بنوائی جس میں عیسیٰ کے بارے میں آیات ہیں کیونکہ عسائیوں کے مطابق یہ ہیرود کا محل تھا اور اس میں چٹان پر عیسیٰ کے قدموں کے نشان تھے

 اور اس کو مسجد میں آنے والوں کے لئے سرائے کہا ساتھ  یہ سرائے اب مسجد کا ہی حصہ بن گئی

کتاب   الأنس الجليل بتاريخ القدس والخليل  میں   عبد الرحمن بن محمد الحنبلي، أبو اليمن (المتوفى: 928هـ)  لکھتے ہیں

فَلَمَّا دخلت سنة سِتّ وَسِتِّينَ ابْتَدَأَ بِبِنَاء قبَّة الصَّخْرَة الشَّرِيفَة وَعمارَة الْمَسْجِد الْأَقْصَى الشريف وَذَلِكَ لِأَنَّهُ منع النَّاس عَن الْحَج لِئَلَّا يميلوا مَعَ ابْن الزبير فضجوا فقصد أَن يشغل النَّاس بعمارة هَذَا الْمَسْجِد عَن الْحَج فَكَانَ ابْن الزبير يشنع على عبد املك بذلك وَكَانَ من خبر الْبناء أَن عبد الْملك بن مَرْوَان حِين حضر إِلَى بَيت الْمُقَدّس وَأمر بِبِنَاء الْقبَّة عل الصَّخْرَة الشَّرِيفَة بعث الْكتب فِي جَمِيع عمله وَالِي سَائِر الامصار إِن عبد الْملك قد أَرَادَ أَن يَبْنِي قبَّة على صَخْرَة بَيت الْمُقَدّس تَقِيّ الْمُسلمين من الْحر وَالْبرد وَأَن يَبْنِي الْمَسْجِد وَكره أَن يفعل ذَلِك دون رَأْي رَعيته فلتكتب الرّعية إِلَيْهِ برأيهم وَمَا هم عَلَيْهِ فوردت الْكتب عَلَيْهِ من سَائِر عُمَّال الْأَمْصَار نر رَأْي أَمِير الْمُؤمنِينَ مُوَافقا رشيدا إِن شَاءَ الله

پس جب سن ٦٦ ہجری  شروع ہوا تو   قبہ   الصَّخْرَة   اور مسجد الاقصی کی تعمیر  شروع ہوئی  اور یہ یوں کہ   عبد الملک لوگوں کو حج سے  منع کرنا چاہتا تھا کہ ممکن ہے ان کا میلان ابن زبیررضی الله عنہ  کی طرف ہو جائے     اور وہ (واپس آ کر اس کے خلاف)  شور کریں  پس اس نے لوگوں کو اس عمارت کی تعمیر میں حج میں مشغول کیا –  پس ابن زبیر نے عبد الملک کو اس  کام سے منع کیا    اور  تعمیر کی خبر میں ہے کہ  عبد الملک    بن مروان جب بیت المقدس پہنچا اور قبہ بنانے کا حکم دیا  تو اس نے اپنے تمام گورنروں کو لکھا اور ساری مملکت میں  لکھ بھیجا کہ  بے شک  عبد الملک نے ارادہ کیا ہے چٹان پر قبہ بنانے کا ،    بیت المقدس میں،    تاکہ مسلمانوں کو سردی ،گرمی سے بچائے اور مسجد کو بنائے   اور وہ کراہت کرتے ہیں کہ ایسا کریں سوائے اس کے کہ رعیت بھی اس کے حق میں ہو سو تمام گورنروں نے لکھا کہ ہم امیر المومنین کی رائے سے موافقت   رشید رکھتے ہیں    جیسا الله نے چاہا!

عبد الملک کا مقابلہ ابن زبیر رضی الله عنہ سے تھا جو مکہ میں اپنی خلافت میں کعبه کو بدل رہے تھے  اور اس میں حطیم کو شامل کر رہے تھے دوسری طرف عبد الملک بن مروان اپنے علاقہ شام میں  صخرہ پر تعمیر کر رہے تھے اس طرح کے تعمیراتی منصوبوں کا مقصد رائے عامہ کو اپنی طرح متوجہ کرنا تھا

کتاب  ابن تيمية  (اقتضاء الصراط المستقيم) میں اور ابن القيم  (المنار المنيف) میں اور محمد بن إبراهيم بن عبد اللطيف آل الشيخ (المتوفى: 1389هـ) اپنے  فتاوى ورسائل میں بیان کرتے ہیں کہ

 عن كعب أنه قال: قرأت في ” التوراة” أن الله يقول للصخرة أنت عرشي الأدنى إلخ …
كذب وافتراء على الله، وقد قال عروة بن الزبير لما سمع ذلك عن كعب الأحبار عند عبد الملك بن مروان قال عروة: سبحان الله؟

کعب سے روایت کیا جاتا ہے کہ اس نے توریت  میں سے پڑھا بے شک الله صخرہ کے لئے کہتا ہے تو میرا نچلا عرش ہے … محمد بن ابراہیم نے کہا یہ جھوٹ ہے اور بے شک عروہ نے جب اسکو سنا عبد الملک سے تو کہا سبحان اللہ

یعنی صخرہ پر تعمیر کے وقت کعب الاحبار کے اقوال سے دلیل لی گئی

تاریخ الیعقوبی ج ٢ ص  ٣٦١ اور کے  الدولَة الأمويَّة  از عَلي محمد محمد الصَّلاَّبي مطابق

  معظم العالم الإسلامي كان قد بايع عبد الله بن الزبير بالخلافة (64 ـ 73هـ) ما عدا إقليم الأردن (2)، فقد قال في كتابه: ومنع عبد الملك أهل الشام من الحج، وذلك لأن ابن الزبير كان يأخذهم إذا حجوا بالبيعة، فلما رأى عبد الملك ذلك منعهم من الخروج إلى مكة فضج الناس وقالوا: تمنعنا من حج بيت الله الحرام، وهو فرض علينا، فقال: هذا ابن شهاب الزهري يحدثكم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تشد الرحال إلا إلى ثلاث مساجد: المسجد الحرام، ومسجدي ومسجد بيت المقدس. وهو يقوم لكم مقام المسجد الحرام، وهذه الصخرة التي يروى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وضع قدمه لما صعد إلى السماء

عالم اسلامی کی اکثریت نے عبد الله بن زبیر کی خلافت کی بیعت کی سوائے اردن  کے اور اپنی کتاب میں یعقوبی نے لکھا کہ عبد الملک نے شام والوں کو حج پر جانے سے منع کیا اور یہ اس وجہ سے کہ ابن زبیر ان سے زبردستی بیعت لیتے پس جب عبد الملک نے یہ دیکھا ان کے خروج پر پابندی عائد کر دی اور لوگ بگڑ گئے اور کہا ہم حج بیت الله کرنا چاہتے ہیں یہ فرض ہے ہم پر پس عبد الملک نے کہا کہ ابن شہاب الزہری تم سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری نہ کسی جائے سواۓ تین مسجدوں کے لئے مسجد الحرام میری مسجد اور مسجد بیت المقدس اور وہ تو مسجد الحرام ہے اور یہ صخرہ اس کے لئے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس پر قدم رکھا جب آسمان کی طرف گئے

اس پر اعتراض اتا ہے

 تاريخ دمشق 11/ ق66 پر ابن عساکر کہتے ہیں

أخبرنا أبو القاسم السمرقندي أنا أبو بكر محمد بن هبة الله أنامحمد بن الحسين أنا عبد الله نا يعقوب نا ابن بكير قال قال الليث: وفي سنة اثنتين وثمانين قدم ابن شهاب على عبد الملك

امام الزہری سن ٨٢ ھ میں عبد الملک کے پاس پہنچے اور ابن زبیر کی شہادت ٧٢ ھ میں ہوئی

وبالإسناد السابق نا يعقوب قال سمعت ابن بكير يقول: مولد ابن شهاب سنة ست وخمسين

امام الزہری سن ٥٦ ھ میں پیدا ہوئے یعنی امام الزہری دس سال کے تھے جب قبه الصخرہ پر تعمیر کی گئی لہذا یعقوبی کی بات صحیح نہیں ہو سکتی

الغرض مسجد عمر وقت کے ساتھ مسجد الاقصی بن گئی اور قبه الصخرہ کو مقام معراج کہا جانے لگا جبکہ اصلا نہ یہ مسجد الاقصی ہے نہ معراج کا مقام ہے  جن روایات میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے معراج کی رات اس   کو دیکھا تو اس سے مراد نہ مسجد عمر ہو سکتی ہے نہ عبد الملک کا قبه الصخرہ کیونکہ یہ بعد کی تعمیرات ہیں  اصل مسجد  الاقصی کا مقام اب  شاید ابد تک مخفی ہی رہے گا کیونکہ اس کا مقصد و غایت فنا ہو گئی و الله اعلم

الصخرہ

قبه الصخرہ  کا اندرونی منظر  اس چٹان کے نیچے غار ہے

well of souls

Well of Souls- sakhrh cave روحوں کا غار

اہل تشیع کی معراج سے متعلق مضطرب روایات

الأمالي – از الصدوق – ص 534 – 538 کی روایت ہے

حدثنا الحسن بن محمد بن سعيد الهاشمي ، قال : حدثنا فرات بن إبراهيم بن فرات الكوفي ، قال : حدثنا محمد بن أحمد بن علي الهمداني ، قال : حدثنا الحسن بن علي الشامي ، عن أبيه ، قال : حدثنا أبو جرير ، قال : حدثنا عطاء الخراساني ، رفعه ، عن عبد الرحمن بن غنم ، …..   ثم مضى حتى إذا كان بالجبل الشرقي من بيت المقدس ، وجد ريحا حارة ، وسمع صوتا قال : ما هذه الريح يا جبرئيل التي أجدها ، وهذا الصوت الذي أسمع ؟ قال : هذه جهنم ، فقال النبي ( صلى الله عليه وآله ) : أعوذ بالله من جهنم . ثم وجد ريحا عن يمينه طيبة ، وسمع صوتا ، فقال : ما هذه الريح التي أجدها ، وهذا الصوت الذي أسمع ؟ قال : هذه الجنة . فقال : أسأل الله الجنة . قال : ثم مضى حتى انتهى إلى باب مدينة بيت المقدس ، وفيها هرقل ، وكانت أبواب المدينة تغلق كل ليلة ، ويؤتى بالمفاتيح وتوضع عند رأسه ، فلما كانت تلك الليلة امتنع الباب أن ينغلق فأخبروه ، فقال : ضاعفوا عليها من الحرس . قال : فجاء رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) فدخل بيت المقدس ، فجاء جبرئيل عليه السلام إلى الصخرة فرفعها ، فأخرج من تحتها ثلاثة أقداح : قدحا من لبن ، وقدحا من عسل ، وقدحا من خمر ، فناوله قدح اللبن فشرب ، ثم ناوله قدح العسل فشرب ، ثم ناوله قدح الخمر ، فقال : قد رويت يا جبرئيل . قال : أما إنك لو شربته ضلت أمتك وتفرقت عنك . قال : ثم أم رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) في مسجد بيت المقدس بسبعين نبيا . قال : وهبط مع جبرئيل ( عليه السلام ) ملك لم يطأ الأرض قط ، معه مفاتيح خزائن الأرض ، فقال : يا محمد ، إن ربك يقرئك السلام ويقول : هذه مفاتيح خزائن الأرض ، فإن شئت فكن نبيا عبدا ، وإن شئت فكن نبيا ملكا . فأشار إليه جبرئيل ( عليه السلام ) أن تواضع يا محمد . فقال : بل أكون نبيا عبدا . ثم صعد إلى السماء ، فلما انتهى إلى باب السماء استفتح جبرئيل ( عليه السلام ) ، ‹ صفحة 536 › فقالوا : من هذا ؟ قال : محمد . قالوا : نعم المجئ جاء فدخل فما مر على ملا من الملائكة إلا سلموا عليه ودعوا له ، وشيعه مقربوها ، فمر على شيخ قاعد تحت شجرة وحوله أطفال ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) : من هذا الشيخ يا جبرئيل ؟ قال : هذا أبوك إبراهيم . قال : فما هؤلاء الأطفال حوله ؟ قال : هؤلاء أطفال المؤمنين حوله يغذوهم .

عبد الرحمن بن غنم سے مروی ہے (کہ جبریل آئے اور نبی کو بیت المقدس لے کر گئے )…  یہاں تک کہ بیت المقدس کے ایک مشرقی پہاڑ پر سے گزرے جہاں کی ہوا گرم تھی اور آواز سنی رسول الله نے پوچھا  جبریل ! یہ کیسی بو ہے جو آئی اور جو آواز سنی؟ جبریل نے کہا یہ جہنم ہے – رسول الله صلی الله علیہ و الہ  نے فرمایا اس سے الله کی پناہ – پھر ایک خوشبو آئی اور آواز آئی پوچھا یہ کیا ہے ؟ جبریل نے کہا یہ جنت ہے – آپ صلی الله علیہ و الہ نے فرمایا میں الله سے جنت کا سوال کرتا ہوں – پھر چلے یہاں تک کہ بیت المقدس کے شہر کے دروازے تک پہنچے اور وہاں ہرقل تھا اور شہر کے دروازے تمام رات کو بند رھتے- … پس رسول الله بیت المقدس میں داخل ہوئے اور جبریل صخرہ تک آئے اس کو اٹھایا اور اس کے نیچے سے تین قدح نکالے – ایک قدح دودھ کا تھا ایک شہد کا ایک شراب کا – پس رسول الله نے دودھ پسند کیا اور پیا – پس کہا کہ جبریل بیان کرو- انہوں نے کہا اگر آپ اس شراب سے پی لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی اور اس میں تفرقہ ہوتا –  پھر رسول الله نے ستر انبیاء کی امامت کی  اور کہا جبریل کے ساتھ اترآ ایک فرشتہ جو اس سے پہلے زمین پر نہیں آیا تھا ….. پھر آپ آسمان پر پہنچے اور ایک شیخ پر سے گزرے جن کے ساتھ بچے تھے پوچھا یہ کون شیخ ہیں ؟ کہا گیا ابراہیم آپ کے باپ – رسول الله نے فرمایا اور ان کے ارد گرد یہ بچے ؟ جبریل نے کہا یہ مومنوں کی اولاد ہیں

اس روایت کے مطابق جنت و جہنم دونوں بیت المقدس میں ہیں اور صخرہ سے آپ کو آسمان پر لے جایا گیا اور وہاں تمام انبیاء سے نہیں صرف ٧٠ کی امامت کی

صخرہ  کو اصل مسجد الاقصی بھی بیان کیا گیا ہے

بیت المقدس میں جہنم کا ہونا ایک یہودی قول ہے جس کو ہنوم کی وادی کہا جاتا ہے

اہل تشیع کی ایک دوسری روایت کے مطابق مسجد الاقصی سے مراد بیت المعمور ہے

کتاب  اليقين – السيد ابن طاووس – ص 294 –  میں  علی کی امامت پر روایت ہے جس  کی سند اور متن ہے

حدثنا أحمد بن إدريس قال : حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى قال : حدثنا الحسين بن سعيد عن فضالة بن أيوب عن أبي بكر الحضرمي عن أبي عبد الله عليه السلام قال : أتى رجل إلى أمير المؤمنين وهو في مسجد الكوفة وقد احتبى بحمائل سيفه . فقال : يا أمير المؤمنين ، إن في القرآن آية قد أفسدت علي ديني وشككتني في ديني ! قال : وما ذاك ؟ قال : قول الله عز وجل * ( واسئل من أرسلنا من قبلك من رسلنا ، أجعلنا من دون الرحمان آلهة يعبدون ) *   ، فهل في ذلك الزمان نبي غير محمد صلى الله عليه وآله فيسأله عنه ؟ . فقال له أمير المؤمنين عليه السلام : إجلس أخبرك إنشاء الله ، إن الله عز وجل يقول في كتابه : * ( سبحان الذي أسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى الذي باركنا حوله لنريه من آياتنا ) * ، فكان من آيات الله التي أريها محمد صلى الله عليه وآله أنه انتهى جبرئيل إلى البيت المعمور وهو المسجد الأقصى ، فلما دنا منه أتى جبرئيل عينا فتوضأ منها ، ثم قال يا محمد ، توضأ . ‹ صفحة 295 › ثم قام جبرئيل فأذن ثم قال للنبي صلى الله عليه وآله : تقدم فصل واجهر بالقراءة ، فإن خلفك أفقا من الملائكة لا يعلم عدتهم إلا الله جل وعز . وفي الصف الأول : آدم ونوح وإبراهيم وهو وموسى وعيسى ، وكل نبي بعث الله تبارك وتعالى منذ خلق الله السماوات والأرض إلى أن بعث محمدا صلى الله عليه وآله . فتقدم رسول الله صلى الله عليه وآله فصلى بهم غير هائب ولا محتشم . فلما انصرف أوحى الله إليه كلمح البصر : سل يا محمد * ( من أرسلنا من قبلك من رسلنا أجعلنا من دون الرحمان آلهة يعبدون ) * . فالتفت إليهم رسول الله صلى الله عليه وآله بجميعه فقال : بم تشهدون ؟ قالوا : نشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأنت رسول الله وأن عليا أمير المؤمنين وصيك ، وأنت رسول الله سيد النبيين وإن عليا سيد الوصيين ، أخذت على ذلك مواثيقنا  لكما بالشهادة . فقال الرجل : أحييت قلبي وفرجت عني يا أمير المؤمنين

ایک شخص، علی رضی الله عنہ کے پاس آیا اور وہ مسجد کوفہ میں تھے اور ان کی تلوار ان کی کمر سے بندھی تھی – اس شخص نے علی سے کہا اے امیر المومنین قرآن میں آیت ہے جس نے  مجھے اپنے دین میں اضطراب میں مبتلا کیا ہے انہوں نے پوچھا کون سی آیت ہے وہ شخص بولا

  واسئل من أرسلنا من قبلك من رسلنا ، أجعلنا من دون الرحمان آلهة يعبدون

اور پوچھو  پچھلے بھیجے جانے والے رسولوں  میں سے کیا ہم نے  رحمان کے علاوہ کوئی اور الہ بنایا جس کی انہوں نے  عبادت  کی ؟

امام علی نے کہا بیٹھ جاؤالله نے چاہا تو میں بتاتا ہوں- الله نے قرآن میں کہا متبرک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو رات میں مسجد الحرام سے مسجد الاقصی جس کو با برکت بنایا تاکہ اپنی کچھ نشانیاں دکھائے

ایک نشانی جو دکھائی گئی وہ یہ تھی کہ محمد صلی الله علیہ و الہ کو جبریل بیت المعمور لے گئے جو مسجد الاقصی ہے – وہ وضو کا پانی لائے اور جبریل نے اذان دی اور محمد کو کہا کہ آگے آئیے اور امامت کرائیے- فرشتے صفوں میں کھڑے ہوئے اور ان کی تعداد الله ہی جانتا ہے اور پہلی صف میں آدم، عیسیٰ اور ان سے پہلے گزرے انبیاء  تھے – جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان کو کہا گیا کہ رسولوں سے پوچھیں کہ کیا انہوں نے الله کے سوا دوسرے خدائوں کی عبادت کی ؟ تو جب انہوں نے پوچھا تو رسولوں نے کہا ہم گواہی دتیے ہیں کہ الله کے سوا کوئی الہ نہیں، آپ الله کے رسول ہیں اور علی امیر المومنین آپ کے وصی ہیں – آپ سید الانبیاء ہیں اور علي،  سيد الوصيين ہیں اس کے بعد انہوں نےعہد کیا  – وہ شخص بولا اے امیر المومنین آپ نے میرے دل کو خوشی دی اور مسئلہ کھول دیا

بحار الأنوار – العلامة المجلسي – ج 18 – ص ٣٩٤ میں  اس  روایت کی سند ہے

 كشف اليقين : محمد بن العباس ، عن أحمد بن إدريس ، عن ابن عيسى ، عن الأهوازي عن فضالة ، عن الحضرمي عن أبي عبد الله ( عليه السلام ) قال : أتى رجل إلى أمير المؤمنين ( عليه السلام ) وهو في مسجد الكوفة

کتاب  تأويل الآيات – شرف الدين الحسيني – ج 2 – ص  ٥٦٤ کے مطابق سند ہے

وروى محمد بن العباس ( رحمه الله ) في سورة الإسراء عن أحمد بن إدريس عن أحمد بن محمد بن عيسى ، عن الحسين بن سعيد ، عن فضالة بن أيوب ، عن أبي بكر الحضرمي ، عن أبي عبد الله عليه السلام قال : أتى رجل إلى أمير المؤمنين عليه السلام وهو في مسجد الكوفة وقد احتبى بحمائل سيفه ، فقال : يا أمير المؤمنين إن في القرآن آية قد أفسدت علي ديني وشككتني في ديني قال : وما ذاك ؟ قال : قول الله عز وجل : ( وسئل من أرسلنا من قبلك من رسلنا أجعلنا من دون الرحمن آلهة يعبدون ) فهل كان في ذلك الزمان نبي غير محمد فيسأله عنه ؟

أحمد بن محمد بن عيسى الأشعري کو   أحمد بن محمد أبو جعفر اور أحمد بن محمد بن عيسى الأشعري القمي بھی کہا جاتا ہے یہ الحسين بن سعيد الأهوازي سے روایت کرتے ہیں مندرجہ بالا تمام کتب میں مرکزی راوی  الحسين بن سعيد ہیں  جو فضالة سے روایت کرتے ہیں  کتاب  معجم رجال الحديث – السيد الخوئي – ج 14 – ص 290 – ٢٩١ کے مطابق

 قال لي أبو الحسن بن البغدادي السوراني البزاز : قال لنا الحسين ابن يزيد السوراني : كل شئ رواه الحسين بن سعيد عن فضالة فهو غلط ، إنما هو الحسين عن أخيه الحسن عن فضالة ، وكان يقول إن الحسين بن سعيد لم يلق فضالة ، وإن أخاه الحسن تفرد بفضالة دون الحسين ، ورأيت الجماعة تروي ‹ صفحة 291 › بأسانيد مختلفة الطرق ، والحسين بن سعيد عن فضالة ، والله أعلم

ابو الحسن نے کہا کہ الحسین بن یزید  نے کہا کہ جو کچھ بھی حسین بن سعید ، فضالة سے روایت کرتا ہے وہ غلط ہے بے شک وہ حسین اپنے بھائی حسن سے اور وہ فضالة سے روایت کرتا ہے اور کہتے تھے کہ حسین کی فضالة

 سے تو ملاقات تک نہیں ہوئی اور ان کا بھائی حسن ، فضالة سے روایت میں منفرد ہے  اور ایک جماعت  اس سے روایت کرتی ہے .. و الله اعلم

عمر رضی الله عنہ کی بنائی مسجد الاقصی اور اموی خلیفہ عبد الملک کے تعمیر شدہ قبه الصخرہ کی اہمیت پر اہل تشیع کا جلوس نکالنا اور اس کے حق میں تقریریں کرنا بھی عجیب  بات ہے- کسی بھی شیعہ امام کا مسجد الاقصی جا کر عبادت کرنا ثابت نہیں ہے

=========

یہ بلاگ چند سال پہلے کا ہے – سن ٢٠١٧ میں یہ ویڈیو یو ٹیوب پر آئی ہے جس کے مطابق اصل مسجد اقصی داود علیہ السلام کے شہر میں تھی آج جہاں کہا جا رہا ہے وہاں نہیں تھی

مساجد

جواب

تیل نکلنے سے پہلے عرب میں قحط پڑنا ایک عام چیز تھی لہذا اکثر استسقا کی نماز ہوتی عمر رضی الله عنہ کے دور تک میں قحط پڑا جس کو عام الرماد کہا جاتا ہے یعنی راکھ کا سال

 استسقا کے لئے عمر رضی الله عنہ اپنی شوری کے رکن عباس رضی الله عنہ کو کہتے کہ وہ نماز پڑھائیں

کسی نیک بزرک سے دعائیں کرانا مذھب کے عین مطابق ہے لیکن وفات کے بعد ان سے یہ نہیں کرایا جا سکتا کیونکہ وہ غیب سے غافل ہیں اور ان کی ارواح اس عالم سے نکل چکی ہیں

 ایک کتاب میں وسیلہ کے شرک کے دفاع میں ایک روایت پیش کی گئی ہےکہ

tawasul-1

اس کے بعد لکھتے ہیں کہ

matlab

ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ اس روایت پر کتاب مزار اور میلے میں اس روایت کا ائمہ حدیث کے اقوال کی روشنی میں رد کرتے  ہیں

usmani-1

الألباني نے «المشكاة» 3/ 1676 (5950): میں کہا ہے کہ  إسناده ضعيف، اس کی اسناد ضعیف ہیں

بحر الحال امت  کے جمہور نے اس عمل کو پذیرائی دی اور علماء نے اس عمل  میں آسانی کے لئے گنبد میں ایک روشن دان بھی  بنوا دیا

window-grave

Exif_JPEG_PICTURE

السمهودي (المتوفى: 911هـ) کتاب وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى  میں لکھتے ہیں کہ  مسجد النبی میں آگ لگنے سے پہلے ابن رشد (المتوفی ٥٢٠ ھ)  تک حجرہ کے اوپر سوۓ مسجد کی چھت کے کوئی چھت نہ تھی

 السمهودي مزید لکھتے ہیں

سنة أهل المدينة في أعوام الجدب

قال: قحط أهل المدينة قحطا شديدا، فشكوا إلى عائشة رضي الله عنها فقالت:

فانظروا قبر النبي صلّى الله عليه وسلّم، فاجعلوا منه كوة إلى السماء حتى لا يكون بينه وبين السماء سقف، ففعلوا، فمطروا حتى نبت العشب وسمنت الإبل حتى تفتقت من الشحم، فسمي عام الفتق.

قال الزين المراغي: واعلم أن فتح الكوة عند الجدب سنة أهل المدينة حتى الآن، يفتحون كوة في سفل قبة الحجرة: أي القبة الزرقاء المقدسة من جهة القبلة، وإن كان السقف حائلا بين القبر الشريف وبين السماء.

قلت: وسنتهم اليوم فتح الباب المواجه للوجه الشريف من المقصورة المحيطة بالحجرة، والاجتماع هناك، والله أعلم.

(ابی الجوزاء کی اوپر والی روایت بیان کرنے کے بعد)

زین المراغی کہتے ہیں: اور جان لو کہ یہ كوة  روشن دان قحط  پر کھولنا اہل مدینہ کی سنت ہے  آج تک  ،  حجرہ کے اوپر گنبد کے نچلے حصے میں كوة  روشندان کھولتے ہیں  یعنی قبہ الزرقا  المقدس قبلے کی جانب سے اگر قبر اور آسمان کے درمیان چھت حائل ھو

السمهودي کہتے ہیں میں کہتا ہوں: اور آج کل ان کی سنت ہے کہ حجرہ کے سامنے مقصورہ کی دیوار میں دروازہ کھولتے ہیں اور وہاں جمع ہوتے ہیں

كوة یا سوراخ  یا شباک یا کھڑکی  کو اس تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے

window-grave3

كوة نا صرف گنبد میں ہے بلکہ حجرہ عائشہ کی چھت میں بھی ہے جو ایک اندرونی گنبد ہے واضح رہے کہ ٥٢٠ھ سے قبل نہ اندرونی گنبد تھا نہ گنبد الخضراء

گنبد الخضراء کے ماضی میں کئی نام رہے ہیں

فصول من تاريخ المدينة المنورة  جو علي حافظ کی کتاب ہے اور  شركة المدينة للطباعة والنشر نے اس کو سن  ١٤١٧ ھ  میں چھاپا ہے اسکے مطابق

لم تكن على الحجرة المطهرة قبة، وكان في سطح المسجد على ما يوازي الحجرة حظير من الآجر بمقدار نصف قامة تمييزاً للحجرة عن بقية سطح المسجد.  والسلطان قلاوون الصالحي هو أول من أحدث على الحجرة الشريفة قبة، فقد عملها سنَة 678 هـ، مربَّعة من أسفلها، مثمنة من أعلاها بأخشاب، أقيمت على رؤوس السواري المحيطة بالحجرة، وسمَّر عليها ألواحاً من الخشب، وصفَّحها بألواح الرصاص، وجعل محل حظير الآجر حظيراً من خشب.  وجددت القبة زمن الناصر حسن بن محمد قلاوون، ثم اختلت ألواح الرصاص عن موضعها، وجددت، وأحكمت أيام الأشرف شعبان بن حسين بن محمد سنة 765 هـ، وحصل بها خلل، وأصلحت زمن السلطان قايتباي سنة 881هـ.  وقد احترقت المقصورة والقبة في حريق المسجد النبوي الثاني سنة 886 هـ، وفي عهد السلطان قايتباي سنة 887هـ جددت القبة، وأسست لها دعائم عظيمة في أرض المسجد النبوي، وبنيت بالآجر بارتفاع متناه،….بعد ما تم بناء القبة بالصورة الموضحة: تشققت من أعاليها، ولما لم يُجدِ الترميم فيها: أمر السلطان قايتباي بهدم أعاليها، وأعيدت محكمة البناء بالجبس الأبيض، فتمت محكمةً، متقنةً سنة 892 هـ.  وفي سنة 1253هـ صدر أمر السلطان عبد الحميد العثماني بصبغ القبة المذكورة باللون الأخضر، وهو أول من صبغ القبة بالأخضر، ثم لم يزل يجدد صبغها بالأخضر كلما احتاجت لذلك إلى يومنا هذا.  وسميت بالقبة الخضراء بعد صبغها بالأخضر، وكانت تعرف بالبيضاء، والفيحاء، والزرقاء” انتهى.

حجرہ مطهرہ پر کوئی گنبد نہ تھا، اور حجرہ مطهرہ  کو باقی مسجد سے علیحدہ کرنے کے لئے سطح مسجد سے آدھے قد کی مقدار تک ایک منڈھیر بنی ہوئی تھی. اور سلطان قلاوون الصالحي وہ پہلا شخص ہے جس نے حجرہ مطهرہ پر  سن 678 هـ (بمطابق 1279ء میں آج سے ٧٣٤ سال پہلے)،  میں گنبد بنایا، جو نیچے سے چکور تھا ، اوپر سے آٹھ حصوں میں تھا جو لکڑی کےتھے. … پھر اس کی الناصر حسن بن محمد قلاوون کے زمانے میں تجدید ہوئی. .. پھر سن 765 هـ،  میں الأشرف شعبان بن حسين بن محمد کے زمانے میں  پھر اس میں خرابی ہوئی اور السلطان قايتباي  کے دور میں سن  881هـ میں اس کی اصلاح ہوئی.   پھر سن 886 هـ میں اور السلطان قايتباي  کے دور میں مسجد النبی میں آگ میں گنبد جل گیا. اور سن 887هـ  میں اور السلطان قايتباي ہی  کے دور میں اس کو دوبارہ بنایا گیا…. سن 892 ھ میں اس کو سفید رنگ کیا گیا …  سن 1253هـ  میں  السلطان عبد الحميد العثماني نے حکم دیا اور اس کو موجودہ شکل میں  سبز رنگ دیا گیا. … اور یہ گنبد البيضاء (سفید)، الفيحاء (چمک دار) ، والزرقاء (نیلا) کے ناموں سے بھی مشھور رہا

 قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دسویں ہجری تک اتنی گمراہی پھیل چکی تھی کہ امت نے قبر کے ساتھ عجیب و غریب سلوک اختیار کیا ہوا تھا اور اس کو بارش پانے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا

واضح رہے کہ گنبد میں  تبدیلی کے عمل میں پرانے گنبدوں کو مقدس سمجھتے ہوئے توڑ کر مسمار نہیں کیا گیا بلکہ

انہی میں اضافہ کیا جاتا رہا

گنبد بنانے میں شاید یہی حکمت پوشیدہ تھی کہ جب بھی قحط پڑے روشن دان کو کھولا جا سکے

والله آعلم

السلطان الناصر محمد بن قلاوون (جس کی ماں ایک منگول تھی ) نے قبر نبوی پر گنبد بنوایا وہ امام ابن تیمیہ کا ہم عصر تھا – اس کے دور میں منگول مسلمانوں (التتار) نے دمشق پر حملہ کیا اور مصریوں کو دمشق سے کوئی دلچسپی نہیں تھی – دمشق کی حکومت نے ابن تیمیہ کو ایک طرح سرکاری مفتی بنا دیا اور اس نے سلطان مصر کو خط لکھا کہ آ کر منگولوں سے لڑے اور دمشق کی  حکومت کی مدد کرے – السلطان الناصر محمد بن قلاوون   اپنے لشکر کے ساتھ آیا اور ابن تیمیہ کے ساتھ مل کر منگول مسلمانوں سے لڑا جن پر ابن تیمیہ نے کفر کا فتوی لگا دیا تھا – حیرت ہے کہ موصوف نے  اس گنبد کو بنانے پر الناصر محمد بن قلاوون کو کوئی خط نہیں لکھا

ابن تیمیہ کتاب الرد علی البکری میں لکھتے ہیں

وما روي عن عائشة رضي الله عنها من فتح الكوة من قبره إلى السماء، لينزل المطر فليس بصحيح، ولا يثبت إسناده، ومما يبين كذب هذا أنه في مدة حياة عائشة لم يكن للبيت كوة، بل كان باقياً كما كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، بعضه مسقوف وبعضه مكشوف، وكانت الشمس تنزل فيه، كما ثبت في “الصحيحين” عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر والشمس في حجرتها

اور وہ جو عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کیا جاتا ہے کہ   روشن دان کو کھول دو قبر سے آسمان تک  کہ اس پر بارش ہو یہ صحیح نہیں ہے اور نہ ثابت اسناد سے ہے اور جو بات اس کے جھوٹ ہونے کو  واضح کرتی ہے وہ یہ ہے کہ عائشہ کی مدت حیات میں  گھر میں کوئی روشن دان نہیں تھا بلکہ وہ ویسا ہی باقی تھا جیسا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے  عہد میں تھا بعض پر چھت تھی اور بعض    پر نہیں تھی اور   سورج   نیچے اتا    اس پر اور صحیحین میں ہے عائشہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عصر و   شمس  (کی نفل نماز) حجرے میں پڑھتے

صحیح بخاری  ج   ٢  ص ٣٧٧    حدیث  ٥١٢  میں ہے    عائشہ رضی الله عنہ روایت کرتی ہیں کہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرْ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا

بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم عصر اور شمس (کے نوافل) حجرے ہی میں پڑھتے جب حجرے  میں سایہ  نہیں  ظاہر ہوتا تھا

ابن رجب فتح الباری میں لکھتے ہیں

قال ابو عبد الله: وقال مالك، ويحيى بن سعيد، وشعيب، وابن أبي حفصة: والشمس قبل أن تظهر

امام بخاری کہتے ہیں امام مالک اور یحیی اور شعیب اور ابن ابی حفصہ کہتے ہیں شمس  سے مراد ظہر سے پہلے

یعنی ظہر  سے پہلے جب سورج پورا بلند نہ ہوا ہو اس وقت حجرہ میں باہر والی چیزوں اور لوگوں کا  سایہ  نہیں اتا تھا اسی طرح جب عصر سے پہلے غروب ہوتا اس وقت بھی یہی کیفیت تھی

ابن رجب فتح الباری میں لکھتے ہیں

والفيء: هو الظل بعد الزوال بذهاب الشمس منه ، والمعنى: أن الفيء لم يعم جميع حجرتها، بل الشمس باقية في بعضها.

اور الفيء: یہ سایہ ہے سورج کا زوال کے بعد اور معنی ہے کہ یہ سایہ پورے حجرے میں  نہیں ہوتا تھا بلکہ سورج (کی دھوپ) باقی رہتی  حجرے کے بعض (حصہ)  پر

اس روایت میں یہ کہیں نہیں ہے کہ حجرہ عائشہ رضی الله عنہا کی چھت نہیں تھی بلکہ دھوپ دروازہ سے اندر اتی تھی کیونکہ دروازہ خالص لکڑی کا نہیں بلکہ ادب المفرد از امام بخاری کے مطابق  ڈنڈیوں کا تھا جس روۓ  لگے ہوئے تھے   لہذا اس سے گزر کر دھوپ اندر تک نظر اتی تھی جو حجرے کے ایک حصہ میں رہتی اور پورا حجرہ میں سایہ نہیں ہوتا تھا-   دوم عرب کی چلچلاتی دھوپ میں یہ تصور بالکل ناممکن ہے کہ حجرات کی چھت نہ ہو جبکہ مسجد النبی کی چھت  تھی- ظاہر ہے گھر سکون اور پردہ کے لئے ہے جس میں چھت، مسجد سے زیادہ ضروری ہے-

لہذا  ابن تیمیہ کی یہ  بات کہ حجرہ عائشہ کی چھت نہیں تھی  بے سروپا تاویل ہے

_الحجر_الأسو

جواب

حجر اسود کی ایک خبر سنن الترمذی میں اور مسند البزار میں   جرير عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير کی سند سے دی ہے اور اسکو حسن بھی قرار دیا ہے البانی اس کو صحیح کہہ دیا ہے

حدثنا قتيبة حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نزل الحجر الأسود من الجنة وهو أشد بياضا من اللبن فسودته خطايا بني آدم قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وأبي هريرة قال أبو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح.

جریر روایت کرتے ہیں عطاء بن السائب سے وہ روایت کرتے ہیں   سعيد بن جبير سے کہ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول   صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  حجراسود جنت سے آیا تودودھ سے بھی زیادہ سفید تھا اوراسے بنو آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیاہے

اس روایت کو عطاء بن السائب نے روایت کیا  ہے – عطاء بن السائب ثقہ ہیں لیکن آخری عمر میں اختلاط کا شکار تھے – امام عقیلی کی رائے میں سے آخر میں بصرہ میں عطاء بن السائب المتوفی ١٣٦ ھ  سے سننے والوں میں یہ لوگ ہیں

فأما جرير وخالد بن عبد الله وابن علية وعلى بن عاصم وحماد بن سلمة وبالجملة أهل البصرة فأحاديثهم عنه مما سمع منه بعد الاختلاط لانه إنما قدم عليهم فى آخر عمره انتهى

پس جریر اور خالد بن عبد الله اور ابن علية اور على بن عاصم  اور حماد بن سلمة اور دیگر اہل بصرہ آخر میں سننے والوں میں ہیں اختلاط کے عالم میں

کتاب الجرح والتعديل از ابن ابی حاتم میں ہے

وقال أبو طالب: سألت أحمد، يعني ابن حنبل، عن عطاء بن السائب. قال: من سمع منه قديماً كان صحيحاً، ومن سمع منه حديثاً لم يكن بشيء، سمع منه قديماً شعبة، وسفيان، وسمع منه حديثاً جرير، وخالد بن عبد الله، وإسماعيل، يعني ابن علية، وعلي بن عاصم، فكان يرفع عن سعيد بن جبير أشياء لم يكن يرفعها. . «الجرح والتعديل» 6/ (1848)

ابو طالب کہتے ہیں میں نے امام احمد سے عطاء بن السائب پر سوال کیا انہوں نے کہا جس نے ان سے قدیم سنا ہے وہ صحیح ہے اور جس نے بعد میں اس کا سماع کوئی چیز نہیں اور ان سے قدیم سننے والوں میں شعبة، وسفيان ہیں اور جرير اور خالد بن عبد الله اور إسماعيل ابن علية اور علي بن عاصم نے اس سے حدیث سنی جس میں انہوں نے اس کو رفع کر کے سعيد بن جبير تک ان چیزوں کو پہنچایا جو ان تک نہیں جاتی تھیں

یعنی عطاء بن السائب سے جریر نے آخر میں سنا جو عالم اختلاط تھا اور اس میں انہوں نے روایات کو سعید بن جبیر تک پہنچا دیا-  اس عالم میں عطاء بن السائب روایات کو صحابہ تک لے جاتے جبکہ وہ التابعين کی بات ہوتی

الأحاديث المختارة أو المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما از ضياء الدين أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد المقدسي (المتوفى: 643هـ)  ، شعب الإيمان  از البیہقی ،  مسند احمد کے مطابق اسکو حماد بن سلمہ نے بھی  عطاء بن السائب سے روایت کیا ہے- ابن حجر نے  فتح الباري (3/462) میں رائے اختیار کی ہے کہ نے حماد بن سلمة نے عطاء بن السائب سے اختلاط سے قبل یا بعد سنا ہے اس میں اختلاف ہے فتح الباری  (ج ١ ص ٤٢٥) میں  کہتے ہیں

وَتحصل لي من مَجْمُوع كَلَام الْأَئِمَّة أَن رِوَايَة شُعْبَة وسُفْيَان الثَّوْريّ وَزُهَيْر بن مُعَاوِيَة وزائدة وَأَيوب وَحَمَّاد بن زيد عَنهُ قبل الِاخْتِلَاط وَأَن جَمِيع من روى عَنهُ غير هَؤُلَاءِ فَحَدِيثه ضَعِيف لِأَنَّهُ بعد اخْتِلَاطه إِلَّا حَمَّاد بن سَلمَة فَاخْتلف قَوْلهم فِيهِ

اور جو اس تمام کلام سے حاصل ہوا ہوا وہ یہ کہ شعبہ اور سفیان اور زہیر اور زائدہ اور ایوب اور حماد بن زید نے عطَاءٍ  سے اختلاط سے قبل سنا پس ان کے علاوہ کسی اور کی حدیث ضعیف ہو گی سوائے حماد بن سلمہ کی روایت کے کہ ان کے بارے میں اختلاف قول ہے

 لیکن ج 3 ص ٤٥٢ پر جا کر جب حجر اسود والی یہ روایت پر بحث آئی تو اس کے دفاع میں سب بھول بھال گئے اور کہا وَحَمَّادٌ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْ عَطَاءٍ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ اور حماد بن سملہ نے عَطَاءٍ سے اختلاط سے قبل سنا ہے- یعنی ایک ہی کتاب میں موقف تبدیل کر گئے –   ابن حجر کی بات کی کوئی دلیل نہیں – کتاب الضعفاء الكبير از  العقيلي (المتوفى: 322هـ) میں اس پر بحث ہے

قَالَ عَلِيٌّ: قُلْتُ لِيَحْيَى: وَكَانَ أَبُو عَوَانَةَ حَمَلَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِطَ؟ فَقَالَ: كَانَ لَا يَفْصِلُ هَذَا مِنْ هَذَا، وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ -وَكَانَ يَحْيَى لَا يَرْوِي حَدِيثَ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ إِلَّا عَنْ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ.

علی المدینی نے کہا میں نے یحیی القطان سے کہا کہ أَبُو عَوَانَةَ نے عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ سے اختلاط سے قبل روایت لی ؟ انہوں نے کہا  اس نے اس کو واضح نہیں کیا اور اسی طرح حماد بن سملہ نے بھی اور یحیی،  عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ کی صرف شعبہ اور سفیان کی روایت لکھتے

الضعفاء الكبير از عقیلی کے مطابق

عباس کہتے ہیں میں نے یحیی کو سنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ  کے حوالے سے کہ

سَمِعْتُ يَحْيَى قَالَ: عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ: مَنْ سَمِعَ مِنْهُ قَدِيمًا، وَمَنْ سَمِعَ وَقَدْ تَغَيَّرَ فَلَيْسَ هُوَ بِذَاكَ

جس نے اس سے قدیم سنا (وہ صحیح ہے) لیکن جس کسی نے بعد میں سنا اور یہ بدل گیا تھا تو وہ ایسا (صحیح) نہیں

عصر حاضر کے ایک محقق کتاب مَنْهجُ الإمَامِ الدَّارَقطنِي في نقدِ الحديث في كِتَابِ العِلَّل از  أبو عبد الرحمن الداودي ایک دوسری روایت کی بحث میں کہتے ہیں

لأن جرير وحماد سمعا من عطاء بن السائب بعد الاختلاط، قال أبو سعيد العلائي: ” وذكر العقيلي أن حماد بن سلمة ممن سمع منه بعد الاختلاط. قال ابن القطان: وكذلك جرير وخالد بن عبد الله وابن علية وعلي بن عاصم وبالجملة- أهل البصرة فإنَّ أحاديثهم عنه مما سمع بعد الاختلاط لأنَّه قدم عليهم في آخرة عمره

 کیونکہ بے شک حماد بن سلمہ اور جریر نے عطاء بن السائب سے اختلا ط کے بعد سنا ہے ایسا خليل بن كيكلدي بن عبدالله  العلائي نے کہا کہ اس کا ذکر عقیلی نے کیا کہ حماد بن سلمہ سے اختلاط کے بعد سنا ہے اور ابن القطان کہتے

ہیں اور اسی طرح جریر… اھل بصرہ نے عطاء بن السائب سے آخری عمر میں عالم اختلاط میں اس سے سنا

اس روایت کی دو اور سندیں بھی ہیں –  صحیح ابن خُزَيمة میں زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ  (امام علی المدینی کہتے ہیں اس سے روایت نہ کرو،  ابو حاتم کہتے ہیں لاَ يُحْتَجُّ بِهِ ناقابل دلیل ہے، ابن حبان اس کی ایک روایت کو  بَاطِلٌ کہتے ہیں – بخاری نے  اگرچہ روایت لی ہے- ابن القيسراني کہتے ہیں یہ راوی کوئی چیز نہیں ہے  ) اور مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ (ابو داؤد ضعیف کہتے ہیں ) نے بھی   عطاء بن السائب سے روایت کیا ہے

اس بحث سے علم ہوا کہ حماد بن سلمہ اور جریر بن عبد الله نے عطاء بن السائب سے جو روایت کیا وہ متقدمین محدثین کے ہاں  ضعیف سمجھا جاتا تھا – عطاء بن السائب نے سعید بن جبیر کی بات رفع کر کے ابن عباس تک پہنچا دی

ان دو کے علاوہ جنہوں نے روایت کیا ہے وہ خود ضعیف ہیں- کتاب مستخرج الطوسي على جامع الترمذي کے مطابق اس کی ایک اور سند مجاہد سے ہے لیکن اس میں مجہولین ہیں

صحيحُ ابن خُزَيمة میں اس کی جیسی ایک اور روایت ہے

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو الْجُنَيْدِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ يَاقُوتَةٌ بَيْضَاءُ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّمَا سَوَّدَتْهُ خَطَايَا الْمُشْرِكِينَ، يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْل أُحُدٍ يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ وَقَبَّلَهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا”.

کتاب الكامل في ضعفاء الرجال از ابن عدی کے مطابق

اسکی سند میں عَبد الله بن عثمان بن خثيم مكي ہے  یحییٰ ابن معین کہتے ہیں أحاديثه ليست بالقوية اسکی احادیث قوی نہیں – کتاب الإلزامات والتتبع میں دارقطنی اس کو ضعیف کہتے ہیں

حجر اسود کا رنگ  ایام جاہلیت میں بھی کالا نہ تھا -ایک روایت ہے – کتاب  الآحاد والمثاني از  ابو بكر بن أبي عاصم المتوفى  287ه  کے مطابق   کے مطابق

حَدَّثَنَا سَمَوَيْهُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، نا الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ، نا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: ” رَأَيْتُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَكَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا ذَبَحُوا لَطَّخُوهُ بِالْفَرْثِ وَالدَّمِ

أَبِي الطُّفَيْلِ اپنے باپ سے  یا دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حجر اسود کو ایام جاہلیت میں دیکھا برف جیسا سفید تھا اور اہل جاہلیہ ذبح کرنے کے بعد اس پر آنتیں  اورخون لیپتے تھے

کتاب اخبار المکہ از الْأَزْرَقِيّ  کے مطابق مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کہتے ہیں کہ انکی والدہ نے کہا كَانَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ قَبْلَ الْحَرِيقِ مِثْلَ لَوْنِ الْمَقَامِ فَلَمَّا احْتَرَقَ اسْوَدَّ  انہوں نے کہا حجر اسود کا رنگ   کعبه جلنے سے پہلے ، مقام ابراہیم جیسا تھا پس جب کعبہ جلا تو یہ  کالا ہو گیا

اہل تشیع کی روایات

الكافي از الكليني – ج 4 – ص 184 – کی روایت ہے

محمد بن يحيى ; وغيره ، عن محمد بن أحمد ، عن موسى بن عمر ، عن ابن سنان ، عن أبي سعيد القماط ، عن بكير بن أعين قال : سألت أبا عبد الله ( عليه السلام ) لأي علة وضع الله الحجر في الركن الذي هو فيه ولم يوضع في غيره ولأي علة تقبل ولأي علة اخرج من الجنة ؟ ولأي علة وضع ميثاق العباد والعهد فيه ولم يوضع في غيره ؟ وكيف السبب في ذلك ؟ تخبرني جعلني الله فداك فإن تفكري فيه لعجب ، قال : فقال سألت وأعضلت في المسألة ( 2 ) واستقصيت فافهم الجواب وفرغ قلبك واصغ سمعك أخبرك إن شاء الله ‹ صفحة 185 › إن الله تبارك وتعالى وضع الحجر الأسود وهي جوهرة أخرجت من الجنة إلى آدم ( عليه السلام ) فوضعت في ذلك الركن لعلة الميثاق وذلك أنه لما اخذ من بني آدم من ظهورهم ذريتهم حين أخذ الله عليهم الميثاق في ذلك المكان وفي ذلك المكان ترائى ( 1 ) لهم ومن ذلك المكان يهبط الطير على القائم ( عليه السلام ) فأول من يبايعه ذلك الطائر وهو والله جبرئيل ( عليه السلام ) وإلى ذلك المقام يسند القائم ظهره وهو الحجة والدليل على القائم وهو الشاهد لمن وافا [ ه ] في ذلك المكان والشاهد على من أدى إليه الميثاق والعهد الذي أخذ الله عز وجل على العباد

محمد بن یحیی اور دیگر، محمد بن احمد سے وہ موسی بن عمر سے وہ ابن سنان سے وہ ابی سعید سے اور بکیر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام جعفر سے سوال کیا کس وجہ سے حجر اسود کو الله نے رکن کعبہ میں لگوایا اور کہیں اور نہ لگوایا ؟ اور کس وجہ سے اس کو جنت سے نکالا گیا ؟ اور کس وجہ سے بندوں سے عہد اس پر ہوا اور کسی اور پر نہ ہوا ؟  اور اس کا سبب کیا ہے ؟ مجھ کو خبر دیں … پس امام جعفر نے کہا … اس کا جواب ہے … کہ بے شک الله نے اس حجر اسود  کو جو ایک جوہر تھا اور جنت سے آدم کے ساتھ نکلا اس کو اس رکن میں نصب کیا گیا بطور میثاق اور یہ اس وجہ سے ہے کہ الله نے ان سے عہد لیا جب الله نے بنی آدم کو ان کی پشت سے نکالا  اس مکان پر (یعنی میثاق ازل حجر اسود پر لیا گیا) اور اسی مقام پر پرندہ امام مہدی پر اڑے گا- پس جو ان کی بیعت کرے گا سب سے پہلے وہ ایک پرندہ ہو گا اور وہ جبریل علیہ السلام ہوں گے اور اس مقام سے امام مہدی ظاہر ہوں گے اور وہ حجت و دلیل ہوں گے

جواهر الكلام – الشيخ الجواهري – ج 14 – ص 141 –  کی اصبع بن نباتہ کی  راویت ہے

أن أمير المؤمنين ( عليه السلام ) قال : يا أهل الكوفة لقد حباكم الله بما لم يحب به أحدا ، من فضل مصلاكم بيت آدم وبيت نوح ، وبيت إدريس ، ومصلى إبراهيم الخليل ، ومصلى أخي الخضر ، ومصلاي وإن مسجدكم هذا لأحد المساجد الأربعة التي اختارها الله عز وجل لأهلها ، وكان قد أتي به يوم القيامة في ثوبين أبيضين شبيه المحرم ، ويشفع لأهله ولمن يصلي فيه ، فلا ترد شفاعته ، ولا تذهب الأيام والليالي حتى ينصب الحجر الأسود فيه ، وليأتين عليه زمان يكون مصلى المهدي من ولدي ، ومصلى كل مؤمن ، ولا يبقى على الأرض مؤمن إلا كان به أو حن قلبه إليه ، فلا تهجروه ، وتقربوا إلى الله عز وجل بالصلاة ‹ صفحة 142 › فيه ، وارغبوا إليه في قضاء حوائجكم ، فلو يعلم الناس ما فيه من البركة أتوه من أقطار الأرض ولو حبوا على الثلج

الوسائل الباب 44 من أبواب أحكام المساجد الحديث 18

اصبع بن نباتہ نے کہآ کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا اے اہل کوفہ بے شک الله  تمہیں ایسی چیز عطا کی ہے جو اس نے دوسروں کو نہیں دی ہے، اس   نے تمہاری اس  مسجد  کو خاص قسم کی برتری بخشی۔  میری نماز کی جگہ آدم کا گھر ہے نوح کا گھر ہے یہی ادریس کا گھر ہے اور ابراہیم خلیل کا گھر ہے اور میرے بھائی خضر کی نماز کی جگہ ہے – اور یہ میری نماز کی جگہ اور بے شک یہ مسجد ان چار مسجدوں میں سے ہے جن کو الله نے اختیار کیا  ہے اس کے اہل کے لئے اور قیاَمت کے دن یہ مسجد دو سفید کپڑوں میں نمودار ہو گی جیسے ایک محرم (حالت احرام میں) ہوتا ہے اور اس میں نماز پڑھنے والوں کے لئے شفاعت کرے گی پس شفاعت رد نہ ہو گی اور دن و رات نہیں جائیں گے کہ یہاں تک کہ مسجد کوفہ میں حجر الاسود نصب ہو گا اور اس پر ایک دور آئے گا کہ میری نسل میں سے مہدی ائے گا اور ہر مومن اس میں نماز پڑھے گا اور زمین پر ایسا کوئی مومن  نہ رہے گا جس کا دل اس کی طرف مائل نہ ہو، پس اس (مسجد) کو مت چھوڑو اور الله کا قرب نماز سے حاصل کرو اور اس کی طرف اپنے حوائج کے لئے رغبت کرو پس جب لوگوں کو اس میں برکت کا علم ہو گا وہ اس (مسجد) کی طرف آئیں گے دنیا کے گوشے گوشے سے چاہے وہ برف پر گھسٹ کر ہی کیوں نہ پہنچیں

 قرامطہ   نے مکہ پر حملہ کیا اور  حجر اسود کو کعبہ سے نکالا اس کی تفصیل کتاب النجوم الزاهرة في ملوك مصر  القاهرة
ازأبو المحاسن، جمال الدين (المتوفى: 874هـ)  میں ہے

وجلس بو طاهر على باب الكعبة والرجال تصرع حوله في المسجد الحرام يوم التروية، الذي هو من أشرف الأيام، وهو يقول
أنا لله وبالله أنا … يخلق الخلق وأفنيهم أنا »
ودخل رجل من القرامطة الى حاشية الطواف وهو راكب سكران، فبال فرسه عند البيت، ثم ضرب الحجر الأسود بدبّوس فكسره ثم اقتلعه. وكانت إقامة القرمطىّ بمكّة أحد عشر يوما. فلما عاد القرمطىّ الى بلاده رماه الله تعالى في جسده حتى طال عذابه وتقطّعت أوصاله وأطرافه وهو ينظر اليها، وتناثر الدود من لحمه.

اور ابو طاہر کعبہ کے دروازے پر بیٹھا اور لوگ مسجد الحرام کے سامنے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ ) میں تھے جو سب سے اشرف دن ہے اور اس نے کہا

میں الله ہوں اور الله کی قسم

میں تخلیق کرتا اور فنا کرتا ہوں

اور قرامطہ کا ایک شخص  نشے کی حالت میں آیا اور اس نے دبوس ( یعنی کیلا ) حجر اسود پر مارا جس سے وہ ٹوٹ گیا اور اس کو اکھاڑا اور ابو طاہر مکہ میں ١١ دن رہا پس جب یہ واپس گیا الله نے اس کا جسم گھلا دیا اس پر عذاب بڑھا اور اس کے  (جسم کے) حصے کاٹ دے گئے کہ یہ دیکھ رہا تھا اور اس کے گوشت میں کیڑے پڑے

قرامطہ اس کو لے کر کوفہ پھنچے اور اس کو مسجد کوفہ میں لے آئی اس طرح انہوں نے قرب قیامت کی امیر المومنین علی علیہ السلام کی بات پوری کر دی

شیعہ عالم کی کتاب خاتمة المستدرك – الميرزا النوري الطبرسی – ج 2 – ص 296 – 297 کے مطابق

السيد الأجل الأكمل ، الأرشد المؤيد ، العلامة النحرير ، بهاء الدين على  بن السيد غياث الدين عبد الكريم بن عبد الحميد بن عبد الله ابن أحمد بن حسن بن علي بن محمد بن علي غياث الدين – الذي خرج عليه جماعة من العرب بشط سوراء بالعراق ، وحملوا عليه وسلبوه ، فمانعهم عن سلب  سراويله فضربه أحدهم فقتله . وكان عالما ” تقيا ” – ابن السيد جلال الدين عبد الحميد : الذي يروي عنه محمد بن جعفر المشهدي في المزار الكبير ، وقال فيه : أخبرني السيد الأجل العالم عبد الحميد بن التقي عبد الله بن أسامة العلوي الحسيني رضي الله عنه ، في ذي القعدة من سنة ثمانين وخمسمائة قراءة عليه بحلة الجامعين  ، ابن عبد الله بن أسامة – المتولي للنقابة بالعراق – ابن أحمد بن علي ابن محمد بن عمر ، الرئيس الجليل الذي رد الله على يده الحجر الأسود ، لما نهبت القرامطة مكة في سنة ثلاث وعشرين وثلاثمائة ، وأخذوا الحجر ، وأتوا به إلى الكوفة ، وعلقوه في السارية السابعة من المسجد التي كان ذكرها أمير المؤمنين عليه السلام ، فإنه قال ذات يوم بالكوفة : لا بد أن يصلب في هذه السارية ( 2 ) وأوما إلى السارية السابعة . والقصة طويلة ( 3 ) . وبنى قبة جده أمير المؤمنين عليه السلام من خالص ماله ، ابن يحيى القائم بالكوفة ابن الحسين النقيب الطاهر ابن أبي عانقة أحمد الشاعر المحدث بن أبي علي عمر بن أبي الحسين يحيى – من أصحاب الكاظم عليه السلام ، المقتول سنة خمسين ومائتين ، الذي حمل رأسه في قوصرة إلى المستعين – بن أبي عبد الله الزاهد العابد الحسين الملقب بذي الدمعة ، الذي رباه الصاد

ابن عبد الله بن أسامة ابن أحمد بن علي ابن محمد بن عمر  – المتولي للنقابة بالعراق  تھے جن کے ہاتھ پر الله نے حجر اسود لوٹایا  نے فرمایا کہ جب قرامطہ نے مکہ کو سن ٣٢٣ ھ میں لوٹا اور حجر اسود کو اس میں سے لیا اور اس کو لے کر وہ کوفہ پہنچے  اور اس کو مسجد کے  ساتویں السارية (ستون یا علم و جھنڈے کا ستون)  پر لٹکایا جس کا ذکر امیر المومننین (علی) نے (پہلے) کیا تھا

یعنی حجر اسود مکہ سے کوفہ پہنچا

اثنا عشری شیعوں نے حجر اسود واپس کر دیا اور قرامطہ اس کو لے کر سعودی عرب کے مشرقی شہر الحسا  چلے گئے جہاں ایک کنواں نما تعمیر میں اس کو رکھ  دیا گیا

كعبة القرامطة3

كعبة القرامطة2

-قرامطہ کی بدبختی کی وجہ سے حجر اسود کئی  ٹکڑوں میں ٹوٹا اور بعد میں اس پر دور عثمانی خلافت میں ایک عیسائی نے ضرب لگائی –  اس کو جوڑنے کے لئے  کالے رنگ کا مواد ستعمال کیا گیا  اور آج دیکھنے والے کو یہ مکمل ایک ٹھوس کالا پتھر لگتا ہے – حقیقت میں یہ پتھر کے کئی ٹکڑے ہیں جو اس کالے مواد میں چھپے ہوئے ہیں اصل حجر اسود ایک ہتھیلی برابر تھا   جو اسود یا کالا نہ تھا (کتاب اخبار المکہ از الْأَزْرَقِيّ )  بلکہ  ابن زبیر کی شہادت کے وقت ہونے والے واقعے میں کعبه جلنے پر کالا ہوا اور یہی لفظ ابن زبیر رضی الله عنہ کے بعد مستعمل ہوا- حجر اسود کو اصلا رکن کہا جاتا تھا  جن صحابہ (مثلا جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، ابن عَبَّاسٍ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ ) اور تابعین (مثلا مجاہد ) نے اس کو حجر اسود کہا ہے وہ سب ابن زبیر رضی الله عنہ کے بعد تک رہے اور یہی لفظ اس پتھر کے لئے مشھور ہو گیا اور حدیث  لٹریچر میں آ گیا

الغرض حجر اسود  کے رنگ کے حوالے سے دو رائے ہیں ایک مشھور ہے کہ یہ کفار کی وجہ سے کالا ہوا

 ابن قتیبہ اس بات پر کہ مُلْحِدِينَ کہتے ہیں کہ اگر یہ کفار کی وجہ سے کالا تھا تو ابرار کی وجہ سے سفید کیوں نہ ہوا پر کہتے ہیں

لَوْ شَاءَ اللَّهُ لَكَانَ ذَلِكَ وَإِنَّمَا أَجْرَى اللَّهُ الْعَادَةَ بِأَنَّ السَّوَادَ يَصْبُغُ وَلَا يَنْصَبِغُ عَلَى الْعَكْسِ مِنَ الْبَيَاضِ

اگراللہ تعالی چاہتا تواس طرح ہوجاتا ، اللہ تعالی نے یہ طریقہ اورعادت بنائ ہے کہ سیاہ رنگا ہوجاتا ہے اوراس کے خلاف  نہيں ہوتا

دوسری رائے ہے کہ حجر اسود کالا نہ تھا مسلمانوں نے جب کعبہ جلایا اس وقت کالا ہوا یہ الْأَزْرَقِيّ   کی روایت ہے

دو افراد کا نام تاریخ میں ملتا ہے کہ ان کی پیدائش کعبه میں ہوئی- سب سے پہلے حکیم بن حزام رضی الله عنہ اور دوسرے علی بن ابی طالب رضی الله عنہ ہیں

صحیح مسلم بَابُ الصِّدْقِ فِي الْبَيْعِ وَالْبَيَانِ کی روایت ہے

حَدَّثَنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ: “وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً”

امام مسلم کہتے ہیں حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ ابن خويلد رضی الله تعالی عنہ ( المتوفی ٥٤ ھ ) کعبہ کے پیٹ (بیچوں بیچ) میں پیدا ہوئے اور ١٢٠ سال زندہ رہے

ان کی والدہ کا نام فَاخِتَةَ ابْنَةَ زُهَيْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ہے- حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ ابن خويلد رضی الله تعالی خدیجہ رضی الله عنہا کے بھتیجے  ہیں –  ابن کثیر کے مطابق واقعہ الفیل سے ١٣ سال پہلے ان کی پیدائش ہوئی الذھبی تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں أَنَّهُ وُلد في جوف الكعبة یہ کعبہ کے پیٹ میں پیدا ہوئے عام الفتح پر ایمان لائے لیکن قبل نبوت سے نبی صلی الله علیہ وسلم کے دوست رہے تھے

مستدرک الحاکم میں ہے

سَمِعْتُ أَبَا الْفَضْلِ الْحَسَنَ بْنَ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ غَنَّامٍ الْعَامِرِيَّ، يَقُولُ: «وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، دَخَلَتْ أُمُّهُ الْكَعْبَةَ فَمَخَضَتْ فِيهَا فَوَلَدَتْ فِي الْبَيْتِ

عَلِيَّ بْنَ غَنَّامٍ الْعَامِرِيَّ کہتے ہیں حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رضی الله تعالی عنہ کعبہ کے پیٹ (بیچوں بیچ) میں پیدا ہوئے ان کی ماں کعبہ میں داخل ہوئی کہ ان کو درد ہوا اور حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ کی کعبہ میں پیدائش ہوئی

یہی بات الزبيرُ بن بكَّار، ابن مندہ  نے بھی کہی ہے

ان کی والدہ زیارت کی غرض سے گئیں کہ درد ہوا اور کعبہ میں داخل ہو گئیں  جو ایک اتفاقیہ امر تھا

مستدرک میں امام حاکم لکھتے ہیں

فَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَخْبَارِ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَسَدٍ وَلَدَتْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ»

پس تواتر سے خبر ملی ہے کہ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَسَدٍ نے امیر المومنین علی بن ابی طالب کو کعبہ میں جنم دیا

کتاب أخبار مكة في قديم الدهر وحديثه از أبو عبد الله الفاكهي (المتوفى: 272هـ)   کے مطابق عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ کہتے ہیں کہ  عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ کہتے ہیں

وَأَوَّلُ مَنْ وُلِدَ فِي الْكَعْبَةِ: حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ …..وَأَوَّلُ مَنْ وُلِدَ فِي الْكَعْبَةِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ

کعبہ میں جو سب سے پہلے پیدا ہوا وہ  حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہیں اور بنو ہاشم میں سب  سے پہلے  عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ  پیدا ہوئے

کتاب تاريخ مكة المشرفة والمسجد الحرام والمدينة الشريفة والقبر الشريف از محمد بن أحمد بن الضياء ابن الضياء (المتوفى: 854هـ) کے مطابق

وَقيل: ولد عَليّ بن أبي طَالب فِي جَوف الْكَعْبَة. وَهَذَا ضَعِيف عِنْد الْعلمَاء كَمَا قَالَه النَّوَوِيّ فِي ” تَهْذِيب الْأَسْمَاء

اور کہا جاتا ہے کہ  عَليّ بن أبي طَالب کعبہ کے پیٹ میں پیدا ہوئے لیکن یہ قول علماء کے نزدیک ضعیف ہے جیسا کہ النووی نے تَهْذِيب الْأَسْمَاء  میں کہا ہے

النووی کہتے ہیں

ولد حكيم فى جوف الكعبة، ولا يُعرف أحد ولد فيها غيره، وأما ما روى أن على بن أبى طالب، رضى الله عنه، ولد فيها، فضعيف عند العلماء.

حکیم کعبہ کے پیٹ میں پیدا ہوئے اور ہم یہ بات  کسی اور کے لئے نہیں جانتے اور یہ جو علی بن ابی طالب کے لئے روایت کیا جاتا ہے کہ وہ اس میں پیدا ہوئے تو یہ علماء کے نزدیک ضعیف ہے

کتاب  إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال  از مغلطاي (المتوفى: 762هـ)  کے مطابق

وذكر أبو الفرج بن الجوزي في كتابه «مثير العزم الساكن إلى أشرف الأماكن»: وقول من قال: إن علي بن أبي طالب ولد في جوف الكعبة ليس بصحيح، لم يولد فيها غير حكيم.

اور ابو الفرج بن الجوزی نے کتاب  مثير العزم الساكن إلى أشرف الأماكن میں ذکر کیا ہے کہ کہنے والے کا قول کہ علی بن ابی طالب کعبہ کے پیٹ میں پیدا ہوئے صحیح نہیں ہے اس میں سوائے حکیم کے کوئی اور پیدا نہیں ہوا

کعبہ میں پیدائش ہمارے نزدیک کوئی منقبت نہیں بلکہ تاریخ کے مطابق  ” هبل ” في جوف الكعبة  کعبہ کے بیچ میں ھبل کا بت تھا (تاریخ دمشق، طبری  وغیرہ) اس کے سامنے  کسی کا جنم ہونا  اور اس کو عظمت سمجھنا عقل سے بالا ہے

شیعہ کتب میں واقعہ بیان کیا جاتا ہے

سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں یزید بن قعنب کو یہ کہتے سنا کہ میں عباس بن عبد المطلب اور بنی عبد العزیٰ کے کچھ لوگوں کے ساتھ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک فاطمہ بن اسد (مادر حضرت علی علیہ السلام) خانہ کعبہ کی طرف آئیں۔ وہ نو ماہ کے حمل سے تھیں اور ان کے درد زہ ہو رہا تھا۔ انھوں نے اپنے ہاتھوں کو دعا کے لےے اٹھایا اور کہا کہ اے اللہ! میں تجھ پر، تیرے نبیوں پر اور تیری طرف سے نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ میں اپنے جد ابراہیم علیہ السلام کی باتوں کی تصدیق کرتی ہوں اور یہ بھی تصدیق کرتی ہوں کہ اس مقدس گھر کی بنیاد انھوں نے  ہی رکھی ہے۔ بس اس گھر کی بنیاد رکھنے والے کے واسطے سے اور اس بچے کے واسطے سے جو میرے شکم میں ہے، میرے لےے اس پیدائش کے مرحلہ کو آسان فرما۔

یزید بن قعنب کہتا ہے کہ ہم نے دیکھا کہ خانہ کعبہ میں پشت کی طرف درار پیدا ہوئی۔ فاطمہ بن اسد اس میں داخل ہو کر ہماری نظروں سے چھپ گئیں اور دیوار پھر سے آپس میں مل گئی۔ ہم نے اس واقعہ کی حقیقت جاننے کے لےے خانہ کعبہ کا تالا کھولنا چاہا، مگر وہ نہ کھل سکا، تب ہم نے سمجھا کہ یہ امر الہی ہے۔

چار دن کے بعد فاطمہ بنت اسد علی کو گود میں لئے ہوئے خانہ کعبہ سے باہر آئیں اور کہا کہ مجھے پچھلی تمام عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے۔ کیونکہ آسیہ بن مزاحم (فرعون کی بیوی) نے اللہ کی عباد ت وہاں چھپ کر کی جہاں اسے پسند نہیں ہے (مگر یہ کہ ایسی جگہ صرف مجبوری کی حالت میں عبادت کی جائے۔) مریم بنت عمران (مادر حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے کھجور کے پیڑ کو ہلایا تا کہ اس سے تازی کھجوریں کھا سکے۔ لیکن میں وہ ہوں جو بیت اللہ میں داخل ہوئی اور جنت کے پھل اور کھانے کھائے۔ جب میں نے باہر آنا چاہا تا ہاتف نے مجھ سے کہا کہ اے فاطمہ! آپ نے اس بچے کا نام علی رکھنا۔ کیونکہ وہ علی ہے اور خدائے علی و اعلیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس کا نام اپنے نام سے مشتق کیا ہے، اسے اپنے احترام سے احترام دیا ہے اور اپنے علم غیب سے آگاہ کیا ہے۔ یہ بچہ وہ ہے جو میرے گھر سے بتوں کو باہر نکالے گا، میرے گھر کی چھت سے آذان کہے گا اور میری تقدیس و تمجید کرے گا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس سے محبت کرتے ہوئے اس کی اطاعت کریں اور بد بخت ہیں وہ لوگ جو اس سے دشمنی رکھیں اور گناہ کریں۔

اس  کی سند ہے

بشارة المصطفى – محمد بن علي الطبري – ص 26 – 27

أخبرنا الرئيس الزاهد العابد العالم أبو محمد الحسن بن الحسين بن الحسن

في الري سنة عشرة وخمسمائة ، عن عمه محمد بن الحسن ، عن أبيه الحسن بن

الحسين ، عن عمه الشيخ السعيد أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه y ،

قال : حدثني علي بن أحمد بن موسى  الدقاق ، قال : حدثنا محمد بن جعفر

الأسدي ، قال : حدثنا موسى بن عمران ، عن الحسين بن يزيد ، عن محمد بن سنان ،

عن المفضل بن عمر ، عن ثابت بن دينار ، عن سعيد بن جبير ، قال : قال يزيد بن قعنب :

” كنت جالسا مع العباس بن عبد المطلب وفريق من عبد العزى  بإزاء بيت

الله الحرام ، إذ أقبلت فاطمة بنت أسد أم أمير المؤمنين ، وكانت حاملا به لتسعة

أشهر ، وقد أخذها الطلق ، فقالت : رب إني مؤمنة بك وبما جاء من عندك من رسل

وكتب ، وإني مصدقة بكلام جدي إبراهيم الخليل ، وأنه بنى بيتك العتيق ، فبحق

الذي بنى هذا البيت ، وبحق المولود الذي في بطني لما يسرت علي ولادتي .

قال يزيد بن قعنب : فرأينا البيت قد انفتح عن ظهره ودخلت فاطمة وغابت

عن أبصارنا فيه والتزق الحائط ، فرمنا أن ينفتح لنا قفل الباب ، فلم ينفتح ، فعلمنا ان

ذلك أمر من الله عز وجل ، ثم خرجت بعد الرابع وبيدها أمير المؤمنين علي ( عليه السلام ) .

فقالت : إني فضلت على من تقدمني من النساء لأن آسية بنت مزاحم عبدت

الله عز وجل سرا في موضع لا يحب أن يعبد الله فيه إلا اضطرارا ، وان مريم بنت

عمران هزت النخلة اليابسة بيدها حتى أكلت منها رطبا جنيا ، واني دخلت بيت الله

الحرام فأكلت من ثمار الجنة وأرزاقها ، فلما أردت أن أخرج هتف بي هاتف :

يا فاطمة ! سميه عليا ، فهو علي ، والله العلي الأعلى يقول : إني شققت اسمه من

اسمي وأدبته بأدبي ووقفته على غامض علمي ، وهو الذي يكسر الأصنام في بيتي

وهو الذي يؤذن فوق ظهر بيتي ويقدسني ويمجدني ، فطوبى لمن أحبه وأطاعه ،

وويل لمن أبغضه وعصاه

کتاب الأمالي – الشيخ الصدوق – ص  ١٩٤ پر بھی اس کی سند میں مجھول شخص ہے

حدثنا علي بن أحمد بن موسى الدقاق ( رحمه الله ) ، قال : حدثنا محمد

ابن جعفر الأسدي ، قال : حدثنا موسى بن عمران ، عن الحسين بن يزيد ، عن محمد بن

سنان ، عن المفضل بن عمر ، عن ثابت بن دينار ، عن سعيد بن جبير ، قال : قال يزيد بن

قعنب

يزيد بن قعنب مجھول ہے جس کو ذکر نہ شیعہ کتب رجال میں ہے نہ اہل سنت کی کتب میں

کتاب المفيد من معجم رجال الحديث از محمد الجواهري میں بھی اس کا ذکر نہیں ہے – لیکن اسی مجھول راوی کی سند سے صدوق اور طوسی نے اس کو لکھا ہے جس کا ترجمہ تک کتب رجال شیعہ میں نہیں ملتا

دیوار کعبه میں ان کو ایک شگاف بھی نظر آ گیا ہے لیکن کیا کعبہ کی تعمیر مشرکین کے زمانے سے لے کر آج تک نہیں ہوئی

کعبہ کو ابن زبیر کے دور میں  جمادى الآخرة   ٦٤ ھ  میں گرایا گیا اور دوبارہ  بنایا گیا جس میں حطیم کو اس میں شامل کر دیا گیا اس کے بعد مخالفین نے ابن زبیر کو قتل کرنے کے لئے کعبہ پر پتھر برسائے کیونکہ ابن زبیر نے اپنے اپ کو اس میں بند کر لیا تھا کعبہ ٹوٹا اور دوبارہ تعمیر ہوا (تعجيل المنفعة صـ453) جس میں حطیم کو واپس نکال دیا گیا

مزید دیکھئے : شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام از  محمد بن أحمد بن علي، تقي الدين، أبو الطيب المكي الحسني الفاسي

 قرامطہ نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور اسکی بےحرمتی کی، خاص طور سے وہاں  ٣٠ ہزار حاجیوں  کا قتل عام کیا- انہوں نے خانہ کعبہ سے حجر اسود کو بھی چرایہ اور زمزم میں لوگوں کی لاشیں پھینکیں

قرامطہ کے شیعہ نے بھی اس کو خراب کیا یہاں تک کہ اس سے حجر اسود اکھاڑ کر لے  گئے

 جواب  صحیحین میں حجر الاسود کی تاریخ پر روایت نہیں صرف عمر رضی الله عنہ کا اس سے کلام کا ذکر ہے کہ میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے وغیرہ

آپ کا سوال شاید یہ ہے کہ یہ کہاں سے آیا؟  ضعیف روایات میں آتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو ہند یا سندھ  میں اتارا گیا اور ان کے ساتھ  جنت کا حجر تھا-

صحيح ابن خزيمه ، ترمدی اور نسائی كي ابن عباس سے مروی  روایت ہے

نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ

حجر الاسود جنت سے نازل ہوا اور یہ برف سے زیادہ سفید تھا

البتہ اس کا مقصد حدیث میں بیان نہیں ہوا- ایک مشھور قول ہے کہ  اس کا مقصد آدم کو  مقام کعبہ  دکھانا تھا اور طوفان نوح کے بعد یہ اسی مقام سے نکلا جب ابراہیم نے کعبہ کی بنیاد رکھی-

مستدرک حاکم کی روایت ہے جس کو حاکم اور الذھبی مسلم کی شرط پر کہتے ہیں

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، ثنا عُبَيْدُ الله بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا خَالِدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ الله عَنْهُ عَنْ {أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا} [آل عمران: 96] أَهُوَ أَوَّلُ بَيْتٍ بُنِيَ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ  أَوَّلُ بَيْتٍ وُضِعَ فِيهِ الْبَرَكَةُ وَالْهُدَى، وَمَقَامُ إِبْرَاهِيمَ، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمَنَّا، وَلَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ كَيْفَ بَنَاهُ الله عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّ الله أَوْحَى إِلَى إِبْرَاهِيمَ أَنِ ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ فَضَاقَ بِهِ ذَرْعًا، فَأَرْسَلَ الله إِلَيْهِ السَّكِينَةَ، وَهِيَ رِيحٌ خَجُوجٌ، لَهَا رَأْسٌ، فَاتَّبَعَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ حَتَّى انْتَهَتْ، ثُمَّ تَطَوَّقَتْ إِلَى مَوْضِعِ الْبَيْتِ تَطَوُّقَ الْحَيَّةِ، فَبَنَى إِبْرَاهِيمُ فَكَانَ يَبْنِي هُوَ سَاقًا كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَكَانَ الْحَجَرِ، قَالَ لِابْنِهِ: أَبْغِنِي حَجَرًا فَالْتَمَسَ ثَمَّةَ حَجَرًا حَتَّى أَتَاهُ بِهِ، فَوَجَدَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ قَدْ رُكِّبَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: جَاءَ بِهِ مَنْ لَمْ يَتَّكِلْ عَلَى بِنَائِكَ جَاءَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ السَّمَاءِ فَأَتَمَّهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا  کہ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكً  میں  کیا یہ زمین پر بننے والا پہلا گھر ہے ؟ علی نے کہا نہیں لیکن پہلے گھر میں برکت اور ہدایت ہے اور وہ مقام ابراہیم ہے جو اس میں داخل ہو امن میں ہے اور اگر چاہو تو میں تمہیں خبر دوں کہ الله نے یہ کیسے بنوایا  بے شک الله نے ابراہیم پر الہام کیا کہ زمین پر میرے لئے گھر بناو پس ان کا دل تنگ ہوا پس الله نے سکینہ کو بھیجا جو ایک تند و تیز ہوا تھی جس کا سر بھی تھا پس اس کے پیچھے ابراہیم کا ایک ساتھی لگا یہاں تک کہ وہ رک گئی اور بیت الله کا ایک زندہ کی طرح طواف کرنے لگی پس ابراہیم اس مقام پر روز بیت الله بناتے یہاں تک کہ (بنیاد کھودتے ہوئے) کہ ایک (بڑے) پتھر تک پہنچ گئے پس انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا یہ پتھر دو اور انہوں نے اس کو اٹھایا تو اس کے نیچے حجر الاسود تھا جس پر ابراہیم بیٹھ  گئے تو ان کے بیٹے  نے کہا یہ آپ کو کہاں سے ملا؟  یہ ان سے ملا جن تک تمہاری نگاہ نہیں جاتی – جبریل آسمان سے لائے اور یہ پورا کیا

يه روایت تفسیر طبری میں بھی نقل ہوئی ہے

حجر الاسود کو رکن بھی کہا جاتا ہے –  کیونکہ اس کو ایک کنارہ میں نصب کیا گیا تھا – علی رضی الله عنہ رسول الله کی  نبوت سے ١٣ سال پہلے پیدا ہوئے –  بعض روایات کے مطابق نبوت سے پانچ سال قبل  کعبہ میں آگ لگی اور اس کا ایک حصہ جل گیا اور اس کی تعمیر کی گئی –   روایات  کے مطابق ایک ڈوبی ہوئی رومی کشتی کی لکڑی سے بنایا گیا  جو حبشہ جا رہی تھی لیکن جدہ کے ساحل پر آ لگی اور مسافروں کو عربوں نے بچایا ( مصنف عبد الرزاق) لہذا اس کو نبوت سے پانچ سال پہلے بنایا گیا جس میں یہ جھگڑا پیدا ہوا کہ کعبہ میں حجر الاسود کہاں نصب ہو  گا؟  اس میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنی حکمت سے حرم میں قتل و غارت گری روک دی اور اہم قبائل کے سرداروں نے چادر کے حصے پکڑے جس پر حجر الاسود کو رکھا گیا اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کو کعبہ میں نصب کیا

إس کو البيهقي نے  شعب الإيمان (3 – 436) میں ذکر کیا ہے اور مسند احمد میں بھی اس طرح کی ایک روایت ہے-

بخاری مسلم میں ہے کہ پتھروں  کو کعبہ تک لے جایا جا رہا تھا کہ آپ کے چچا عباس نے کہا کہ اپنا آزار دو تاکہ اس پر رکھ کر لے جائیں آپ نے آزار کھولا تو غشی آ گئی  – شارحین کے مطابق یہ واقعہ ہوا جب اپ کی عمر ١٥ سال تھی اگر یہ قول درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حجر الاسود کو کعبہ سے نکالا اور واپس لگایا جاتا رہا ہے –

کتاب  أخبار مكة وما جاء فيها من الأثار از الأزرقي کے مطابق

هَدَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْبَيْتَ حَتَّى سَوَّاهُ بِالْأَرْضِ

ابن زبیر نے کعبہ کو منہدم کیا حتی کہ زمین کے برابر کر دیا

اور وَجَعَلَ الرُّكْنَ فِي تَابُوتٍ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ  رکن یا حجر کو ایک تابوت میں رکھا جس میں ریشمی کپڑا تھا

قَالَ عِكْرِمَةُ: فَرَأَيْتُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، فَإِذَا هُوَ ذِرَاعٌ أَوْ يَزِيدُ

عکرمہ نے کہا میں نے حجر الاسود کو دیکھا وہ ایک ہتھیلی یا اس سے بڑا تھا

ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں قرامطہ   کے حوالے سے جو لکھا ہے اس کا خلاصہ ہے

قرامطہ  ٣١٧ ھ میں  ایام ترویہ میں حرم میں داخل ہوئے ٣٠ ہزار حجاج کا قتل کیا اور لاشوں کو اٹھا کر زمزم میں پھینک دیا ان کا سردار ابو طاہر بولا کہاں ہیں ابابیل ؟ کہاں ہیں سجیل؟  پھر حجر الاسود کو اکھاڑ کر نکالا جس میں اس کے ٹکڑے ہو گئے  ان کو وہ بحرین لے گئے اور ٢٢ سال ان کے پاس رہا- سن ٣٣٩ ھ میں خلیفہ مقتدر کو ٣٠ ہزار دینار میں واپس  کیا –

حنبلی عالم ابی بکر الجراعی  المتوفی ٨٨٣ ھ    کتاب تحفة الراكع والساجد بأحكام المساجد میں لکھتے ہیں

إنهم باعوه [أي القرامطة] من الخليفة المقتدر بثلاثين ألف دينار. ولما أرادوا تسليمه، أشهدوا عليهم ألا تسلّموا الحجر الأسود، وقاله لهم بعد الشهادة: يا من لا عقل لهم، من علم منكم أن هذا هو الحجر الأسود ولعلنا أحضرنا حجرا أسودا من هذه البرية عوضة، فسكت الناس، وكان فيهم عبد الله بن عكيم المحدث، فقال لنا في الحجر الأسود علامة، فإن كانت موجودة : فهو هو، وإن كانت معدومة، فليس هو، ثم رفع حديثا غريبا أن الحجر الأسود يطفو على وجه الماء ولا يسخن بالنار إذا أوقدت عليه، فأحضر القرمطي طستا فيه ماء ووضع الحجر فيه فطفى على الماء، ثم أوقدت عليه النار فلم يحس بها فمد عبد الله المحدث يده وأخذ الحجر وقبله وقال: أشهد أنه الحجر الأسود، فتعجب القرمطي من ذلك، وقال: هذا دين مضبوط بالنقل. وأرسل الحجر إلى مكة

قرامطہ نے خلیفہ المقتدر سے معاہدہ کیا کہ ٣٠ ہزار درہم میں اس کو دیں گے …. ( جب وہ دینے لگے تو کہا)  اے احمقوں تم کو کیسے پتا کہ یہ ہی حجر الاسود ہے؟ اور ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی زمین سے کوئی کالا پتھر  لے آئیں ہوں اور دے دیں پس لوگ چپ ہو گئے- ان میں محدث عبد الله بن عكيم تھے  انہوں نے کہا کہ اس حجر الاسود کی ہمارے پاس ایک نشانی ہے اگر اس میں ہوئی تو یہی ہے اور اگر نہیں تو یہ وہ  نہیں ہو سکتا پھر ایک غریب حدیث بیان کی کہ اگر حجر الاسود کو پانی میں ڈالو تو ڈوبے گا نہیں اور اگ میں ڈالو تو گرم نہیں ہو گا پس …( یہ سب کیا گیا)…. اور محدث عبد الله نے کہا  میں شہادت دیتا ہوں یہی حجر الاسود ہے پس ابو طاہر کو تعجب ہوا اور بولا یہ دین روایت میں بہت مظبوط ہے پس حجر کو واپس مکہ بھیجا گیا

ابی بکر الجراعی یہ بھی کہتے ہیں کہ  ابن دحیہ کہتے ہیں کہ عبد الله بن عكيم  نامعلوم ہیں-  البتہ اصلی حجر الاسود کو کیسے ثابت کیا گیا کہ وہی حجر اسود ہے کسی اور روایت میں نہیں

الغرض  حجر الاسود جنت کا پتھر ہے اور اس کو رکن کہا جاتا ہے  اسی قدر معلوم ہو سکا ہے

ہاب ثاقب کے پتھر پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور لاوا والے کچھ پتھر پانی میں کچھ عرصے تیرتے ہیں لیکن وہ بھی بعد میں

ڈوب جاتے ہیں جن کو پومس(١) کہاجاتا ہے

(١)Pumice

 یہ صرف حجر الاسود ہے کہ ہزاروں سال بعد بھی تیر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کو اس دنیا کا  نہیں سمجھا جاتا تھا اور عربوں کو اس کا پتا تھا

جواب

یہ بات کہ مسجد الحرام اور مسجد الاقصی کی تعمیر میں ٤٠ سال کا دور تھا – صرف ایک سند سے آئی ہے

الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ

اس میں اعمش کا تفرد ہے جو مدلس ہے اور ذخیرہ احادیث میں اس مخصوص روایت کی ہر سند میں اس نے عن سے ہی روایت کیا ہے

کتاب  جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

وقال سفيان الثوري لم يسمع الأعمش حديث إبراهيم في الوضوء من القهقهة منه

سفيان الثوري کہتے ہیں کہ  الأعمش نے ابراہیم کی حدیث وضو میں قہقہہ پر نہیں سنی

احمد یہ بات العلل میں کہتے ہیں

قال سفيان: لم يسمع الأعمش حديث إبراهيم في الضحك.

کتاب المعرفة والتاريخ کے مطابق امام احمد کہتے تھے کہ ابراہیم سے روایت کرنے میں اگر اعمش یا منصور غلطی کریں تو فوقیت منصور کودو

وقال الفضل بن زياد: سمعت أبا عبد الله أحمد بن حنبل، وقيل له: إذا اختلف

منصور، والأعمش، عن إبراهيم فبقول من تأخذ؟ قال: بقول منصور، فإنه أقل سقطاً

تدليس الإسناد کے حوالے سے علم حدیث کی کتابوں میں یہ بات موجود ہے کہ اسناد میں گڑبڑ ہوئی ہے مثلا  أبو عوانة نے عن الأعمش عن إبراهيم التيمي، عن أبيه، عن أبي ذر کی سند سے روایت کیا ہے

أن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال: فلان في النار ينادي، يا حنان يا منان.

قال أبو عوانة: قلت للأعمش سمعت هذا من إبراهيم؟ قال: لا، حدثني به حكيم بن جبير عنه.

ابو عوانة کہتے ہیں میں نے اعمش سے پوچھا تم نے یہ روایت ابراہیم سے سنی ہے ؟ بولے نہیں اس کو حكيم بن جبير نے ان سے روایت کیا ہے دیکھئے معرفة علوم الحديث ص: 105 پر

اسی طرح العلل دارقطنی میں ہے

وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاتَيْنِ تَنْتِطَحَانِ.

فَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَلَا يَثْبُتُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحديث.

الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ کی سند سے روایت ہے اس کو دارقطنی کہتے ہیں اعمش سے ثابت نہیں ہے

اب  مثالیں موجود ہیں کہ اعمش جب عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ کی سند سے روایت کرتے ہیں تو بعض اوقات انہوں نے تدلیس کی ہے اور  ان سے غلطی ہوئی ہے لہذا  صحیح کی یہ روایت کہ مسجد الحرام اور مسجد الاقصی کی تعمیر میں صرف چالیس سال کا فرق تھا درست نہیں کیونکہ یہ تاریخآ غلط روایت ہے- مسجد الحرام یا کعبہ کی تعمیر ابراہیم علیہ السلام نے کی اس کے بعد سلیمان یا داؤد  علیہ السلام کے دور میں مسجد الآقصی تعمیر ہوئی- اس کے مقابلے پر یہ کہنا تاریخ بے سند ، من گھڑت ہے جاہلانہ بات ہے – تاریخ بھی سند سے ہی ہے اور انبیاء کے ادوار میں جو تفاوت ہے وہ قرآن میں بھی موجود ہے جس سے کسی بھی طرح اس حدیث کی تطبیق قرآن سے نہیں ہو سکتی

بعض لوگوں نے اسطرح تطبیق دی ہے کہ مسجد الحرام آدم علیہ السلام نے تعمیر کی  لیکن اس صورت میں انبیاء کے درمیان فاصلہ گھٹنے کے بجاے اور بڑھ جاتا ہے- خود نوح علیہ السلام نے ٩٥٠ سال تبلیغ کی ہے

کہا جاتا ہے کہ ابن حجر  نے حوالہ دیا ہے کہ ابن ہشام کی کتاب التیجان میں ہے کہ جب آدم علیہ السلام کعبہ تعمیر کرچکے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بیت المقدس کی صرف جانے کا حکم دیا-  لیکن اس کی سند کیا ہے ؟ ایک بے سند قول سے یہ کیسے ثابت ہو گیا

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسند احمد کی روایت ہے

عن ابن عباس قال لمامر رسول اللہ ﷺ بوادی عسفان حین حج قال یا ابا بکرای واد ھذا قال وادی عسفان قال لقدمر بہ ھود وصالح علی بکرات حمر خطمھا اللیف ازرھم العباء واردیتھم النمار یلیون یحجون البیت العتیق۔ (مسند امام احمد فتح ربانی جز ۲۰، ص۴۲)

ابن عباس نے کہا  ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج  پر  وادی عسفان سے گزرے، تو آپ نے   فرمایا، اے ابوبکر یہ کون سی وادی ہے، انہوں نے  کہا  یہ وادی عسفان ہے، آپ نے فرمایا، یہاں سے هود اور صالح علیہ السلام بھی سرخ اونٹنیوں پر گزرے ہیں… وہ حج کرتے تھے اس بیت عتیق (یعنی کعبہ) کا۔
کیونکہ   هود اور صالح علیہ السلام   پیغمبروں کا زمانہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ہے، لہٰذا کعبہ   ابراہیم سے پہلے بھی موجود تھا۔

مسند احمد کی اس روایت کی سند ہے

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي عُسْفَانَ حِينَ حَجَّ، قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، أَيُّ وَادٍ هَذَا؟» قَالَ: وَادِي عُسْفَانَ، قَالَ: «لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ، وَصَالِحٌ عَلَى بَكَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُهَا اللِّيفُ، أُزُرُهُمْ الْعَبَاءُ، وَأَرْدِيَتُهُمْ النِّمَارُ، يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ»

کتاب موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله کے مطابق امام احمد خود العلل میں  کہتے ہیں

سلمة بن وهرام اليماني.   قال عبد الله بن أحمد: سألته (يعني أباه) ، عن سلمة بن وهرام. فقال: روى عنه زمعة أحاديث مناكير، أخشى أن يكون حديثه حديثاً ضعيفاً. «العلل» (3479)

راوی سلمة بن وهرام اليماني پر عبد الله بن احمد کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے سلمة بن وهرام اليماني کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا زمعة ان سے منکر روایات نقل کرتا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اس کی حدیث ضعیف ہے

 قرآن کہتا ہے

   اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًاوَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ   اٰل عمران
سب سے پہلا گھر جو انسانوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا وہ ، وہ ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور عالمین کے لیے ہدایت ہے

معلوم ہوا ابراہیم سے بھی پہلے آدم علیہ السلام نے بیت الله تعمیر کیا تھا لیکن ان کا مسجد الاقصی تعمیر کرنا کسی صحیح السند روایت میں نہیں آیا

قرآن میں ہے موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو حکم دیا

   یٰقَوْمِ ادْخُلُوْا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللہُ لَکُمْ   المائدہ

اے قوم ارض مقدس میں داخل ہو جاؤ، یہ اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے

اس سے یہ استخراج کیا جاتا ہے کہ ارض مقدس پہلے سے موجود تھی   لہذا اس میں کسی موقعہ پر مسجد تعمیر ہوئی ہو گی –  کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے صدیوں پہلے اس سرزمین میں بیت المقدس تعمیر ہوچکا تھا- لہذا اس روشنی میں اگر صحیح کی روایت دیکھی جائے تو مطلب ہوا کہ کعبه  جو آدم نے تعمیر کیا اس میں اور مسجد اقصی بھی جو آدم نے تعمیر کی اس میں ٤٠ سال کا فرق تھا- لیکن یہ دلیل نہیں بلکہ محتاج دلیل قول ہے – آدم علیہ السلام کا بیت الله تعمیر کرنا تو قرآن سے ثابت ہے لیکن ارض مقدس شام میں ان کا کچھ تعمیر کرنا  قرآن س میں نہیں اور کسی صحیح حدیث میں نہیں

الغرض روایت اعمش کی غلطی ہے اس میں تدلیس کی گئی ہے جس طرح انھوں نے ابراہیم عن ابیہ عن ابی ذر کی دوسری روایات میں کی ہے

جواب

یہ روایت دو اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم سے منسوب کی جاتی ہے

ابی سعید رضی الله عنہ کی روایات

صحیح مسلم کی روایت ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَا تَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنُ عُمَيْرٍ، قَزَعَةَ سے وہ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ  سے روایت کرتے ہیں کہ قَزَعَةَ نے کہا میں نے ایک حدیث سنی جس پر میں حیران ہوا پس میں نے پوچھا کیا آپ نے اس کو رسول الله سے سنا ؟ انہوں نے کہا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے حدیث روایت کروں جو ان سے سنی نہ ہو !  اور فرمایا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا کہ سواریاں نہ کسی جائیں سوائے تین مسجدوں کے لئے مسجد یہ والی ، مسجد الحرام اور مسجد الاقصی

  قَزَعَة بْن يَحيى، مَولَى زِياد  یا قَزَعَة بْن الأَسود مَولَى عَبد الملك  ہیں جن کے لئے ہے کہ یہ بصرہ کے ہیں اور ثقہ ہیں بني الحريش  أهل العراق میں سے ہیں دمشق پہنچے بعض مقام پر انہیں أَبُو الغادية الْبَصْرِيّ لکھا گیا ہے – یہ ثقہ سمجھے جاتے ہیں اور امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت لکھی ہے

اس کی سند میں عبد الملك بن عُمير الكوفي ہے – کتاب المختلطين از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

قال أبو حاتم: تغير حفظه. ابو حاتم کہتے ہیں اس کا حافظہ متغیر ہوا

وقال ابن معين: مخلط اور ابن معین کہتے ہیں مختلط ہے

اس کے علاوہ  امام احمد کہتے ہیں  في حديثه اضطراب  اسکی حدیثوں میں اضطراب ہے

عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ سے سننے والے زُهَيْرٌ، شُعْبَةُ، جَرِيرٌ ، سُفْيَانُ  ہیں

محدثین نے یہ واضح نہیں کیا کہ عبد الملک سے عالم اختلاط میں کس کس نے سنا اور کس نے پہلے سنا جو ایک ضروری امر تھا لیکن افسوس ایسا بیان نہیں ہوا

اس روایت کو قَتَادَةَ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ کی سند سے بھی روایت کیا گیا ہے

قتادہ مدلس ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں لہذا ضروری نہیں کہ سنا بھی ہو

ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی روایت

اس روایت کے کچھ متن میں ہے کہ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ طور پہاڑ گئے کہ وہاں عبادت کریں واپس پر ابو ہریرہ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے یہ حدیث سنائی مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَقِيَ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ، أَبَا هُرَيْرَةَ، وَهُوَ جَاءٍ مِنَ الطُّورِ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ قَالَ: مِنَ الطُّورِ صَلَّيْتُ فِيهِ قَالَ: أَمَا لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْحَلَ إِلَيْهِ مَا رَحَلْتَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ کہتے ہیں میں ابو بصرہ رضی الله عنہ  کی ملاقات ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے ہوئی اور وہ طور سے آ رہے تھے پس کہا کہاں سے آئے؟ ابو بصرہ رضی الله عنہ نے کہا طور سے وہاں نماز پڑھی ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے کہا اگر میں آپ سے پہلے ملتا تو آپ یہ سفر نہ کرتے  میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کے لئے ایک مسجد الحرام دوسرے میری یہ مسجد اور مسجد الاقصی

مسند ابو داود طیالسی کی روایت ہے

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّ أَبَا بَصْرَةَ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ جَاءٍ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنَ الطُّورِ صَلَّيْتُ فِيهِ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَوْ أَدْرَكَتُكَ لَمْ تَذْهَبْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى»

ان دونوں سندوں میں پھر وہی عبد الملك بْن عمير ہے جو عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ سے اس روایت کو بیان کر رہا ہے

مسند احمد میں ایک دوسری روایت میں سب الگ  ہے

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَسِيرُ إِلَى مَسْجِدِ الطُّورِ لِيُصَلِّيَ فِيهِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْتَحِلَ مَا ارْتَحَلْتَ، قَالَ: فَقَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَمَسْجِدِي

مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيّ رضی الله عنہ ِ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ابو ہریرہ رضی الله عنہ  سے ملا اور وہ مسجد الطور سے آ  رہے تھے کہ وہاں عبادت کریں میں نے ان سے کہا اگر میں آپ کے سفر سے پہلے آپ سے ملا ہوتا  تو آپ یہ نہ کرتے ابو ہریرہ رضی الله عنہ  نے کہا کیوں میں نے کہا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم  سے سنا کہ سواری نہ کسی جائے سوائے اس کے تین مسجدوں کے لئے مسجد الحرام الاقصی اور میری مسجد

یعنی ابو بصرہ رضی الله عنہ کہتے کہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ کوہ طور کا سفر کرتے تھے

کوہ طور آجکل مصر میں جزیرہ سینآ میں بتایا جاتا ہے جبکہ اس  کا اصل مقام ثابت نہیں – موجودہ کوہ طور اصل میں   ہیلینا اور عیسائی مبلغ  یسوبؤس کی دریافت تھے  جن پر کوئی دلیل نہیں تھی صرف کونسٹنتیں مشرک بادشاہ کی خواہش پر اس کو دریافت کیا گیا تھا – پاول کے خطوط کے مطابق کوہ طور عرب میں ہے نہ کہ مصر میں – الغرض آج  یہودی تو سرے سے اس مقام کو کوہ طور کے لئے قبول ہی نہیں کرتے اور عیسائیوں کی بھی ایک بڑی تعداد اس مقام کو کوہ طور تسلیم نہیں کرتی- لہذا اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم اس پہاڑ تک کا سفر کیوں کرتے جبکہ اس کا مقام خود اہل کتاب میں متنازعہ ہے

دارقطنی علل میں کہتے ہیں لا تشد الرحال کی

وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَقَالَ أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ

اور صحیح ہے حَدِيثُ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَقَالَ أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ

لیکن دارقطنی کی بات صحیح نہیں ہے

کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

محمد بن المنكدر قال بن معين وأبو زرعة لم يسمع من أبي هريرة ولم يلقه

محمد بن المنكدر :  ابن معین  اور أبو زرعة کہتے ہیں اس نے ابو ہریرہ سے نہیں سنا نہ ان سے ملاقات ہوئی

لہذا روایت اس سند سے ضعیف ہے

اور اسی کتاب میں دارقطنی اس کی دو اور سندیں دیتے ہیں

حدثنا النيسابوري، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابن المسيب، عن أبي هريرة، قال

رسول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الأقصى.

صحیح بخاری و مسلم معمر بن راشد کی امام الزہری سے حدیث لکھی گئی لہذا یہ سند صحیح ہے

اگرچہ تمام محدثین کے نزدیک ایسا نہیں تھا

امام احمد کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے کہا

ما رأيت أحدًا أروى عن الزهري من معمر، إلا ما كان من يونس، فإن يونس كتب كل شيء. «العلل» (109

میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی معمر کی امام الزہری کی روایت لکھتا ہو سوائے وہ جو یونس کی سند سے ہوں

علل دارقطنی کی دوسری سند ہے

حدثنا محمد بن إسماعيل الفارسي، حدثنا أبو أسامة الحلبي، حدثنا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا الرِّحْلَةُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إلى المسجد الحرام، ومسجدي هذا، وإيلياء.

اس روایت کی سند میں حجاج بن يوسف بن أبى منيع  ، نَا جَدِّي (عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ) المتوفی ١٥٩ ھ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ہے

تاریخ الکبیر از امام بخاری کے مطابق عُبَيد اللهِ بْن أَبي زِياد، الشامي  پر نہ جرح ہے نہ تعدیل ہے لیکن دارقطنی نے ان کو ثقہ کہا ہے تاریخ الاسلام از الذھبی کے مطابق ولينه بعضهم بعض نے ان کو کمزور کہا ہے

دوسری طرف حجاج بن يوسف بن أبى منيع کو

الساجي: متروك الحديث کہتے ہیں

ابن السمعاني: منكر الحديث، تركوا حديثه  منکر الحدیث ہے حدیث ترک کر دو

لہذا یہ روایت اس  سند سے ضعیف ہے

مسند الحمیدی کی سند ہے

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ روایت الزُّهْرِيُّ سے روایت کر رہے ہیں – روایت اس سند سے صحیح ہے

اب اس  کے  مخالف اقوال

اس کے برعکس مصنف ابن ابی شیبه میں ہے کہ عبد الله بن أبي الهذيل کا قول ہے

لا تشد الرحال إلا إلى البيت العتيق

سواری نہ کسی جائے سوائے مسجد الحرام کے لئے

اور مسند الفاروق از ابن کثیر کے مطابق عمر رضی الله عنہ کہتے تھے

لا تشد الرحال إلا إلى البيت العتيق

سواری نہ کسی جائے سوائے مسجد الحرام کے لئے

امام بخاری تاریخ الکبیر میں لکھتے ہیں

قَالَ: حدَّثنا يَحيى بْنُ آدَمَ، حدَّثنا الأشجَعِيّ، عَنْ سُفيان بْنِ سَعِيد، عَنْ أَبي سِنان ضِرار، حدَّثنا عَبد اللهِ بْنُ أَبي الهُذَيل، سَمِعتُ عُمَر بْنَ الخَطّاب خَطِيبًا بالرَّوحاء؛ لا تَشُدُّوا الرِّحال إِلا إِلَى الْبَيْتِ العَتِيق.

وَقَالَ النَّبيُّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم: إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَة، وحديثُ النَّبيِّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم أَولَي

عَبد اللهِ بْنُ أَبي الهُذَيل کہتے ہیں انہوں نے عمر رضی الله عنہ کو روحا میں خطاب کرتے سنا کہ سواری مت کسنا لیکن صرف بیت العتیق کے لئے

اور نبی صلی الله علیہ وسلم کا قول ہے تین کے لئے اور حدیث نبوی کو اولیت حاصل ہے

لیکن جب عمر رضی الله عنہ نے مجمع میں اس رائے کا اظہار کیا تو کسی صحابی نے اس کی تردید کیوں نہ کی؟

واضح رہے کہ عمر رضی الله عنہ نے بیت المقدس کا سفر کیا لیکن خود وہ اس کے قائل نہ تھے کہ بیت المقدس کا سفر اس  مسجد  کے لئے کیا جائے – بیت المقدس کا سفر عیسائیوں کی درخوست پر کیا گیا تھا کہ وہ اپنے کلیساووں کی چابیاں امیر المومنین کو دین گے نہ کہ کسی اور کو –    عمر رضی الله  عنہ  ،  اہل کتاب کے مطابق   یروشلم وہاں کے پٹریارک    صوفرونئوس (المتوفی ١٧ ھ/  ٦٣٨ ع)   کی درخواست پر گئے کہ یروشلم کے اہم   چرچ  کی چابی وہ کسی عام مسلمان کو نہیں  بلکہ  مسلمانوں کے خلیفہ کو دیں  گے-   اس کا آج تک  احترام کیا جاتا   اور  چرچ اف  نتویتے    یعنی  عیسیٰ کی پیدائش کے چرچ   کی چابی  مسلمانوں کے پاس ہے اور اس کا تالا مسلمان ہی کھولتے ہیں  اور اس روایت کا عیسائی بھی  احترام کرتے ہیں –

امیر المومنین عمر رضی الله عنہ جہنوں نے یروشلم تک کا سفر کیا اور وہ خود  اس سے منع کرتے کہ کوئی مسجد الحرام کے علاوہ  کسی اور مسجد کے لئے سفر کرے قابل غور ہے

جواب

اس میں اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کا اختلاف تھا سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھیں یہ سب ایک کرشمہ الہی اور معجزاتی رات ہے اس میں جو بھی ہو گا وہ عام نہیں ہے خاص ہے

امام طحآوی نے مشکل الاثار میں اس بات  پر بحث کی ہے اور ان کی رائے میں نماز پڑھائی ہے

وہاں انہوں نے عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ کی ایک روایت دی ہے

 عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ کی ایک  روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے براق کو باندھا اور وہاں تین انبیاء ابراہیم علیہ السلام ، موسی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی بشمول دیگر انبیاء کے جن کا نام قرآن میں نہیں ہے واضح رہے کہ مسجد الاقصی داود یا  سلیمان علیہ السلام کے دور میں بنی اس میں نہ موسی علیہ السلام نے نماز پڑھی نہ ابراہیم علیہ السلام نے نماز پڑھی  لہذا روایت میں ہے انبیاء نے نماز پڑھی  فَصَلَّيْتُ بِهِمْ إِلَّا هَؤُلَاءِ النَّفْرَ سوائے ان تین کے جن میں إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى عَلَيْهِمُ السَّلَامُ ہیں  – اسکی سند میں مَيْمُون أَبُو حَمْزَة الْقَصَّاب الأعور كوفي. کا تفرد ہے جو متروک الحدیث ہے حیرت ہے امام حاکم اس روایت کو اسی سند سے  مستدرک میں پیش کرتے ہیں

الهيثمي  اس ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت کو کتاب  المقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي میں پیش کرتے ہیں کہتے ہیں

قُلْتُ: لابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ فِي الإِسْرَاءِ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا

میں کہتا ہوں صحیح میں اس سے الگ روایت ہے

مسند احمد میں انس رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ  رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے براق کو باندھا  ثُمَّ دَخَلْتُ، فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ میں اس مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت پڑھی-   لیکن انبیاء کی امامت کا ذکر نہیں – اس روایت میں حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ البصری کا تفرد بھی ہے جو آخری عمر میں  اختلاط کا شکار تھے  اور بصرہ  کے ہیں

مشکل آثار میں الطحاوی نے اس بات کے لئے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انبیاء کی امامت کی کچھ اور روایات پیش کی ہیں مثلا

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي أُسْرِيَ بِهِ إِلَيْهِ فِيهَا، بُعِثَ لَهُ آدَمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ دُونَهُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَمَّهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ،  انس سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم بیت المقدس معراج کی رات پہنچے وہاں آدم علیہ السلام دیگر انبیاء کے ساتھ آئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے امامت کی

اس کی سند میں عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ہیں جو مجھول ہیں دیکھئے المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري از أكرم بن محمد زيادة الفالوجي الأثري

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ

قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى قَامَ يُصَلِّي، ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ يُصَلُّونَ مَعَهُ

جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے، پھر آپ نے ادھر ادھر دیکھا تو تمام انبیائے کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ نماز ادا کر رہے تھے

امام احمد ( 4 / 167 ) نے اس کو ابن عباس سے روایت کیا ہے، لیکن اس کی سند بھی کمزور ہے سند میں قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ الْجَنْبِيُّ ہے جس کے لئے ابن سعد کہتے ہیں  وَفِيهِ ضَعْفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ اس میں کزوری ہے نا قابل دلیل ہے البتہ ابن کثیر نے اس روایت کو تفسیر میں صحیح کہا ہے شعيب الأرنؤوط  اس کو اسنادہ ضعیف اور احمد شاکر صحیح کہتے ہیں

صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ بیت المقدس میں فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ  نمازکا وقت آیا تومیں نے انبیاء کی امامت کرائی

 سندآ یہ بات  صرف  أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ بنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ  المتوفی ١١٠ ھ  ، أَبِي هُرَيْرَةَ سے نقل کرتے ہیں

یہ روایت صحیح نہیں کیونکہ اس وقت – وقت نہیں ہے –  وقت تھم چکا ہے اور کسی نماز کا وقت نہیں آ سکتا کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم رات کی نماز پڑھ کر سوتے تھے انکو سونے کے بعد جگایا گیا اور اسی رات میں آپ مکہ سے یروشلم  گئے وہاں سے سات آسمان اور پھر انبیاء سے مکالمے  ہوئے – جنت و جنہم کے مناظر، سدرہ المنتہی کا منظر یہ  سب دیکھا تو کیا وقت ڈھلتا رہا؟ نہیں

صحیح بخاری کی کسی بھی حدیث میں معراج کی رات انبیاء کی امامت کا ذکر نہیں ہے جبکہ بخاری میں أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کی سند سے روایات موجود ہیں – لہذا انس رضی الله عنہ کی کسی بھی صحیح روایت میں انبیاء کی امامت کا ذکر نہیں ہے

الغرض یہ قول اغلبا  ابو ہریرہ رضی الله عنہ کا تھا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بیت المقدس میں انبیاء کی امامت کی بقیہ اصحاب رسول اس کو بیان نہیں کرتے

روایات کا اضطراب آپ کے سامنے ہے ایک میں ہے باقاعدہ نماز کے وقت جماعت ہوئی جبکہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ رات کے وقت سونے کی حالت میں آپ  کو جگایا گیا دوسری میں ہے رسول الله نے خود دو رکعت پڑھی امامت کا ذکر نہیں تیسری میں ہے رسول الله نماز پڑھ رہے تھے جب سلام پھیرا تو دیکھا انبیا ساتھ ہیں یعنی یہ سب مضطرب روایات ہیں

صحیح ابن حبان اور مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ” فَانْطَلَقْتُ ـ أَوْ انْطَلَقْنَا   ـ حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ “، فَلَمْ يَدْخُلَاهُ، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ دَخَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ وَصَلَّى فِيهِ، قَالَ: مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ؟ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ، وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ، قَالَ: فَمَا عِلْمُكَ بِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ لَيْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: الْقُرْآنُ يُخْبِرُنِي بِذَلِكَ، قَالَ: مَنْ تَكَلَّمَ بِالْقُرْآنِ فَلَجَ، اقْرَأْ، قَالَ: فَقَرَأْتُ: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [الإسراء: 1] ، قَالَ: فَلَمْ أَجِدْهُ صَلَّى فِيهِ، قَالَ: يَا أَصْلَعُ، هَلْ تَجِدُ صَلَّى فِيهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: وَاللهِ مَا صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ، لَوْ صَلَّى فِيهِ لَكُتِبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِيهِ، كَمَا كُتِبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِي الْبَيْتِ الْعَتِيقِ، وَاللهِ مَا زَايَلَا الْبُرَاقَ حَتَّى فُتِحَتْ لَهُمَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ، ثُمَّ عَادَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا، قَالَ: ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ، قَالَ: وَيُحَدِّثُونَ أَنَّهُ رَبَطَهُ   أَلِيَفِرَّ مِنْهُ؟، وَإِنَّمَا سَخَّرَهُ لَهُ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، قَالَ: قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ اللهِ، أَيُّ دَابَّةٍ الْبُرَاقُ؟ قَالَ: دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ هَكَذَا خَطْوُهُ مَدُّ الْبَصَرِ

أَبُو النَّضْرِ  کہتے ہیں ہم سے شَيْبَانُ نے روایت کیا ان سے ْ عَاصِمٍ نے ان سے  زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ نے کہا میں حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رضی الله عنہ کے پاس پہنچا اور وہ معراج کی رات کا بیان کر رہے تھے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ  میں چلا یا ہم چلے (یعنی جبریل و نبی) یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے لیکن اس میں داخل نہ ہوئے- میں ( زر بن حبیش ) نے کہا بلکہ وہ داخل ہوئے اس رات اور اس میں نماز پڑھی – حُذَيْفَةَ رضی الله عنہ نے کہا اے گنجے تیرا نام کیا ہے ؟ میں تیرا چہرہ جانتا ہوں لیکن نام نہیں – میں نے کہا زر بن حبیش- حُذَيْفَةَ نے کہا تمہیں کیسے پتا کہ اس رات رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نماز بھی پڑھی ؟ میں نے کہا قرآن نے اس پر خبر دی – حُذَيْفَةَ نے کہ جس نے قرآن کی بات کی وہ حجت میں غالب ہوا  – پڑھ !  میں نے پڑھاپاک ہے وہ جو لے گیا رات کے سفر میں  اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد الاقصی  .. حُذَيْفَةَ نے کہا مجھے تو اس میں نہیں ملا کہ نماز بھی پڑھی – انہوں نے کہا اے گنجے کیا تجھے اس میں ملا کہ نماز بھی پڑھی ؟ میں نے کہا نہیں – حُذَيْفَةَ نے کہا الله کی قسم کوئی نماز نہ پڑھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس رات  اگر پڑھی ہوتی تو فرض ہو جاتا جیسا کہ بیت الحرام کے لئے فرض ہے اور الله کی قسم وہ براق سے نہ اترے حتی کہ آسمان کے دروازے کھلے اور جنت و جہنم کو دیکھا اور  دوسری باتوں کو دیکھا جن کا وعدہ ہے پھر وہ آسمان ویسا ہی ہو گیا  جسے کہ پہلے تھآ -زر نے کہا  پھر حُذَيْفَةَ ہنسے  اور کہا اور لوگ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کو (براق کو) باندھا کہ بھاگ نہ جائے،  جبکہ اس کو تو عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے مسخر کیا

حذیفہ رضی الله عنہ کی روایت عاصم بن ابی النجود سے ہے جو اختلاط کا شکار ہو گئے تھے لہذا اس روایت کو بھی رد کیا جاتا ہے لیکن جتنی کمزور امامت کرنے والی روایت ہے اتنی ہی امامت نہ کرنے والی ہے

 راقم کے نزدیک حذیفہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث صحیح ہے اور  صوآب  ہے- یہ صحابہ کا اختلاف ہے – حذیفہ رضی الله عنہ  کے مطابق رسول الله صلی الله علیہ وسلم یروشلم گئے آپ کو مسجد الاقصی فضا سے ہی  دکھائی گئی –  واضح رہے  براق سے اترنے کا صحیح بخاری میں بھی  کوئی ذکر نہیں ہے- محدث ابن حبان  کے نزدیک حذیفہ رضی الله عنہ کی روایت صحیح ہے اور انہوں نے اسکو صحیح ابن حبان میں بیان کیا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے دوسرے اصحاب کے اقوال بھی نقل کیے ہیں جن میں براق سے اترنے کا ذکر ہے

جواب

اسماعیلی فرقہ شیعوں کے ان فرقوں میں سے ہے جن میں شریعت اور اس کے ظاہری اعمال کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ امیریا امام کی جانب سے شریعت کی حدود بدل جاتی ہیں لہذا حج میں قتل کرنا اور کعبه کی تعظیم نہ کرنے کے باوجود بھی یہ مسلمان ہی سمجھتے ہیں -قرامطہ ایک عجیب غالی فرقہ تھا لہذا بہت سے کاموں کا حکم قرآن جو صآمت یا گونگا ہے سے لینے کی بجائے قرآن ناطق یا امام سے لیا جاتا تھا
ابو طاہر  اسماعیلی شیعہ تھا جو علی کے اقوال کو اہمیت دیتا ہے جس میں حجر اسود کا کوفہ پہنچنا بیان ہوا تھا اس کے نزدیک رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی کوئی اہمیت نہیں تھی کیونکہ وہ شارع نہیں بلکہ علی اصل شارع تھے

بعض  مورخین کے مطابق قرامطہ حجر اسود کو ایک مقناطیس سمجھتے تھے

قرامطہ نے حجر اسود کو ایک مقناطیسی قوت کا مالک سمجھا
تاريخ ابن الوردي کے مطابق
أَنه لما أَخذ الْحجر الْأسود قَالَ: هَذَا مغناطيس بني آدم وَهُوَ يجرهم إِلَى مَكَّة وَأَرَادَ أَن يحول الْحَج إِلَى الإحساء
انہوں نے حجر اسود کو لیا اور کہا یہ مقناطیس ہے بنی آدم کا جس سے یہ مکہ تک جاتے ہیں انکا ارادہ حج کو الآحسا لانے کا تھا

کتاب اتعاظ الحنفاء بأخبار الأئمة الفاطميين الخلفاء از المقريزي کے مطابق
وقلع الحجر الأسود وأخذه معه وظن أنه مغناطيس القلوب
حجر اسود کو اکھاڑا اور ساتھ لیا اور گمان کیا کہ دلوں کا مقناطیس ہے

لیکن یہ اصل بات نہیں ہے راقم کے نزدیک صحیح بات اہل تشیع اور دیگر مورخین بتاتے ہیں

جواهر الكلام – الشيخ الجواهري – ج 14 – ص 141 –  کی اصبع بن نباتہ کی  راویت ہے

أن أمير المؤمنين ( عليه السلام ) قال : يا أهل الكوفة لقد حباكم الله بما لم يحب به أحدا ، من فضل مصلاكم بيت آدم وبيت نوح ، وبيت إدريس ، ومصلى إبراهيم الخليل ، ومصلى أخي الخضر ، ومصلاي وإن مسجدكم هذا لأحد المساجد الأربعة التي اختارها الله عز وجل لأهلها ، وكان قد أتي به يوم القيامة في ثوبين أبيضين شبيه المحرم ، ويشفع لأهله ولمن يصلي فيه ، فلا ترد شفاعته ، ولا تذهب الأيام والليالي حتى ينصب الحجر الأسود فيه ، وليأتين عليه زمان يكون مصلى المهدي من ولدي ، ومصلى كل مؤمن ، ولا يبقى على الأرض مؤمن إلا كان به أو حن قلبه إليه ، فلا تهجروه ، وتقربوا إلى الله عز وجل بالصلاة ‹ صفحة 142 › فيه ، وارغبوا إليه في قضاء حوائجكم ، فلو يعلم الناس ما فيه من البركة أتوه من أقطار الأرض ولو حبوا على الثلج

الوسائل الباب 44 من أبواب أحكام المساجد الحديث 18

اصبع بن نباتہ نے کہآ کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا اے اہل کوفہ بے شک الله  تمہیں ایسی چیز عطا کی ہے جو اس نے دوسروں کو نہیں دی ہے، اس   نے تمہاری اس  مسجد  کو خاص قسم کی برتری بخشی۔  میری نماز کی جگہ آدم کا گھر ہے نوح کا گھر ہے یہی ادریس کا گھر ہے اور ابراہیم خلیل کا گھر ہے اور میرے بھائی خضر کی نماز کی جگہ ہے – اور یہ میری نماز کی جگہ اور بے شک یہ مسجد ان چار مسجدوں میں سے ہے جن کو الله نے اختیار کیا  ہے اس کے اہل کے لئے اور قیاَمت کے دن یہ مسجد دو سفید کپڑوں میں نمودار ہو گی جیسے ایک محرم (حالت احرام میں) ہوتا ہے اور اس میں نماز پڑھنے والوں کے لئے شفاعت کرے گی پس شفاعت رد نہ ہو گی اور دن و رات نہیں جائیں گے کہ یہاں تک کہ مسجد کوفہ میں حجر الاسود نصب ہو گا اور اس پر ایک دور آئے گا کہ میری نسل میں سے مہدی ائے گا اور ہر مومن اس میں نماز پڑھے گا اور زمین پر ایسا کوئی مومن  نہ رہے گا جس کا دل اس کی طرف مائل نہ ہو، پس اس (مسجد) کو مت چھوڑو اور الله کا قرب نماز سے حاصل کرو اور اس کی طرف اپنے حوائج کے لئے رغبت کرو پس جب لوگوں کو اس میں برکت کا علم ہو گا وہ اس (مسجد) کی طرف آئیں گے دنیا کے گوشے گوشے سے چاہے وہ برف پر گھسٹ کر ہی کیوں نہ پہنچیں

قرامطہ کا لیڈر ابو طاہر القرامطی اصلا اپنے آپ کو امام المہدی ثابت کرنا چاہتا تھا یا المہدی کے لئے راہ ہموار کر رہا تھا  اور اس کے لئے اس کو اثنا عشری شیعوں پراتمام حجت کرنا تھا اس کی وجہ شیعوں کی روایات تھیں کہ آخری دور میں مہدی مسجد کوفہ میں آئے گا اور وہاں حجر اسود بھی آئے گا اس کو ثابت کرنے کے لئے یہ سب کشت و خون ہو رہا تھا لیکن اثنا عشری اس کو مہدی نہیں مان سکے کیونکہ یہ اسماعیلی شیعہ تھا اور اہل بیت کی نسل سے نہ تھا

يه وقت بہت اہم تھا گیارہویں امام حسن العسکری کی وفات ٢٦٠ ھ میں ہوئی اور بارہویں امام غیبت میں تھے لہذا اس وقت اثنا عشری اگر ابو طاہر کو مہدی مان جاتے تو آج اسماعیلی اور اثنا عشری ایک ہوتے

کتاب كنز الدرر وجامع الغرر از الدواداري کے مطابق
وكان قصدهم بذلك استمالة قلوب الناس. فنصبوه فى مسجد الجامع على الأسطوانة السّابعة فى القبلة مما يلى صحن المسجد. وكان فى ذلك آية عظيمة من آيات النبوة بيّن الله صدق رسوله صلّى الله عليه وسلم عند نجوم الأشكال فيه. فوطّى الله بذلك حجة نبوة محمد صلى الله عليه وسلم، ومكّن به صحة شريعته بأن جاء عنه فى الخبر أنّ الحجر الأسود يعلّق فى مسجد الجامع بالكوفة فى آخر وقت. وجاء الخبر بذلك منقولا مشهورا عن محمد بن على بن الحسين بن على بن أبى طالب عليه السلام. ومثل هذا لا يكون عن منّجم، ولا يوصل إليه إلاّ بخبر من رسول ربّ العالمين.
فهذا ما جرى من أبى سعيد الجنّابى وولده فى تلك الديار. وهم شعب من القرامطة.
کوفہ لانے میں ایک عظیم نشانی تھی جو نبوت کی نشانیوں میں سے تھی اس کی ایک خبر رسول الله سے منقول تھی اور اسی طرح کی علی سے بھی

اب ایک شاذ قول بھی بیان ہوا ہے –  نظام الملک الطوسی ابو علی حسن بن علی سلجوقی حکمرانوں کا ایک وزیر تھا
اس نے سیر الملوک کے نام سے کتاب لکھی جس میں بادشاہوں کا تذکرہ ہے  کتاب میں لکھا ہے قرامطہ نے
وشق الْحجر الاسود نِصْفَيْنِ وَوَضعه على حافتي مرحاض وَكَانَ يضع إِحْدَى رجلَيْهِ حِين يجلس على نصفه وَالْأُخْرَى على النّصْف الآخر
حجر اسود کو بیچ میں توڑا اور حصوں کو کھڈی میں قدمچی کے طور پر لگوایا کہ ایک پیر ایک پر رکھتا اور دوسرا حجر اسود کے دوسرے حصے پر

یہ بات جھوٹ ہے کیونکہ قرامطہ کی خبریں ان کے مخالفین نے ہم تک پہنچائیں ہیں قرامطہ شیعہ تھے کافر نہیں حجر اسود کو اکھاڑنے کا مقصد اس کو مسجد کوفہ لانا تھا
شیعہ عالم کی کتاب خاتمة المستدرك – الميرزا النوري الطبرسی – ج 2 – ص 296 – 297 کے مطابق حجر اسود کو قرامطہ لے کر کوفہ پہنچے تاکہ علی کرم الله وجھہ کی بات سچ کر سکیں کہ قیامت سے پہلے یہ حجر اسود کوفہ کی مسجد میں نصب ہو گا لہذا یہ وہاں ایک ستون سے باندھ دیا گیا لیکن اثنا عشری شیعہ (ال بویہ) کا کوفہ پر کنٹرول تھا انہوں نے اس کو واپس قرامطہ کو دے دیا اور وہ اس کو الحسا لے گے وہاں ایک عبادت گاہ بنوائی جس میں اس کو نصب کر دیا

قرامطہ اور اثنا عشری شیعہ کے اچھے تعلقات تھے اور ظاہر ہے وہ حجر الاسود کی بے حرمتی کروانے کے لئے اس کو قرامطہ کو واپس کرنے والے نہیں تھے

السمنانی ابو قاسم علی بن محمد المتوفی ٤٩٩ ھ نے اپنی تاریخ کی کتاب میں اس کا ذکر کیا یہ اور نظام الملک ہم عصر ہیں
الذہبی نے اس پر تاریخ الاسلام میں لکھا کہ حجر اسود کو بیت الخلا میں پھیکنے کا حکم دیا لیکن غلام بھول گیا

ثمّ ذكر السِّمْنانيّ خرافات لا تصح
اس کے بعد السمنانی نے خرافات ذکر کیں جو صحیح نہیں ہیں

نظام الملک ایک وزیر تھا کوئی مورخ نہیں تھا اس کے مقابلے پر کتب اہل سنت اور کتب شیعہ میں مسجد کوفہ کے حوالہ جات اس قدر ہیں کہ الطوسی کی بات منفرد ہونے کی بنا پر شاذ ہے یہ اس کے بیت الخلاء تک کیسے پہنچے ؟ خود ١٢٠ سال بعد اس نے یہ سب لکھا ہے جبکہ قرامطہ حجر اسود کو جامع الکوفہ لے گئے اور وہیں سے واپس مکہ لائے

حجر اسود کوفہ پہنچ گیا 

کتاب مآثر الإنافة في معالم الخلافة از أحمد بن علي بن أحمد الفزاري القلقشندي ثم القاهري (المتوفى: 821هـ) کے مطابق
لِأَحْمَد بن أبي سعيد أَمِير القرامطة بعد موت أبي طَاهِر القرمطي برد الْحجر الْأسود إِلَى مَكَانَهُ فَرده فِي سنة سبع وَثَلَاثِينَ وثلاثمائة
ابی طاہر القرامطی کی موت کے بعد امیر قرامطہ احمد بن ابی سعید نے سن ٣٣٧ ھ میں واپس کیا

کتاب تاريخ مكة المشرفة والمسجد الحرام از ابو البقاء کے مطابق
ثمَّ انْصَرف وَمَعَهُ الْحجر الْأسود وعلقه على الاسطوانة السَّابِعَة من جَامع الْكُوفَة
حجر اسود کو نکال کر قرامطہ جامع کوفہ لائے ہے اس کو ساتویں ستون پر لٹکا دیا

حجر اسود کے واپس کرنے پر  بھی نظام الملک ایک جھوٹ لکھتا ہے  نظام الملک   کتاب سیر الملوک میں کہتا ہے
وَلما صَار الْمُسلمُونَ إِلَى مَسْجِد الْكُوفَة الْجَامِع إِذا الْحجر الْأسود ملقى هُنَاكَ
اور مسلمان مسجد کوفہ پہنچے کہ حجر اسود وہاں پھینکا گیا

حالانکہ قرامطہ نے حجر اسود  کو مسجد کوفہ میں ستون پر لٹکایا کہ لوگ اس کو دیکھیں

اس سب بلوہ کے پیچھے مہدی کا نظریہ کارفرما تھا  الذھبی تاریخ الاسلام ج ٢٥ ص 9 میں ابو طاہر کے لئے لکھتے ہیں
وزعم بعض أصحابه به أنّه إله المسيح، ومنهم مَن قالَ هو نبيّ. وقيل: هو المهديّ، وقيل: هو الممهّد للمهديّ.
اور اس کے اصحاب میں سے بعض کا دعوی تھا کہ ابو طاہر  مسیح رب ہے اور بعض کہتے نبی ہے اور کہا جاتا ہے یہ المہدی تھا اور کہا گیا مہدی کی راہ دکھانے والا

كتاب النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة أز آبن تغري کے مطابق
وكان زنديقا ملحدا لا يصلّى ولا يصوم شهر رمضان، مع أنه كان يظهر الإسلام ويزعم أنه داعية المهدىّ عبيد الله
یہ زندیق ملحد تھا نماز نہ پڑھتا تھا نہ روزہ رکھتا تھا….. اور دعوی کرتا تھا کہ یہ المہدی عبید الله کا داعی ہے

تاریخ ابن خلدون کے مطابق عبید الله فاطمی اس سے خود نالا تھے
وبلغ الخبر إلى المهدي عبيد الله بإفريقية وكانوا يظهرون الدعاء له، فكتب إليه بالنكير واللعن
ابو طاہر کی خبر المہدی عبید الله تک پہنچی افریقہ میں کہ ان کے لئے لوگ ظاہر ہوئے ہیں پس انہوں نے خط لکھا اور نکیر اور لعنت کی

الذھبی نے تاریخ الاسلام میں ابو طاہر کے اشعآر نقل کیے ہیں
أَنَا الدّاعي المهديّ لَا شكَّ غيرُه … أَنَا الضَّيْغَمُ  الضِّرُغام والفارسُ الذَّكَرْ
أُعَمَّرُ حتّى يأتي عيسى بْنُ مريمَ … فيحمَدُ آثاري وأرضى بما أمَرْ

میں المہدی کا داعی ہوں اس میں شک نہیں

عیسیٰ ابن مریم کا انتظار کرتے ایک عمر ہوئی پس میں نے بدلہ لینے کی تعریف کی اور حکم پر راضی ہوا

لہذا یہ بھی تاریخ میں ہے کہ ابو طاہر اسماعیلی امام عبید الله (المہدی) کا داعی تھا اور خود اس کے بعض اصحاب ابو طاہر کو ہی مہدی ماننے لگ چکے تھے

ابی طاہر کے بعد اس کے بیٹے منصور نے المہدی ہونے کا دعوی کیا اور بقول عماد الدين أبو حامد محمد بن محمد الأصفهاني (المتوفى 597 هـ ) کے
المهدي المنصور أمير المؤمنين
کے نام کے سکے ڈھالے گئے

بحوالہ  البستان الجامع لجميع تواريخ أهل الزمان

کتاب الروضتين في أخبار الدولتين النورية والصلاحية از ابی شامہ کے مطابق
وَقَامَ بعده ابْنه الْمُسَمّى بالمعز فَبَثَّ دعاته فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ الْمهْدي الَّذِي يملك وَهُوَ الشَّمْس الَّتِي تطلع من مغْرِبهَا
ابو طاہر کے پوتے معز نے بھی المہدی کا دعوی کیا اور سورج ہونے کا جو مغرب سے طلوع ھوا

محمد بن سنبر العامري القرمطي نے حجر اسود کو واپس کعبہ میں نصب کیا جو ابو طاہر کی موت پر واپس کیا گیا
ظاہر ہے ابو طاہر نہیں تو اس کے بیٹے یا پوتے جو مہدی ہونے کے دعویدار تھے انہوں نے اس کو کوفہ کے راستے مکہ پہنچایا تاکہ اپنا سیاسی اثرورسوخ بڑھا سکیں

اسی طرح جب واپس کر نے لگے تو
الكامل في التاريخ از ابن اثیر کے مطابق جب قرامطہ حجر واپس کرنے لگے تو اس کو کوفہ لائے اور اس کو جامع کوفہ میں لٹکا دیا
فَلَمَّا أَرَادُوا رَدَّهُ حَمَلُوهُ إِلَى الْكُوفَةِ، وَعَلَّقُوهُ بِجَامِعِهَا حَتَّى رَآهُ النَّاسُ، ثُمَّ حَمَلُوهُ إِلَى مَكَّةَ

کتاب تاريخ ابن الوردي کے مطابق
، وَقبل إِعَادَته علقوه بِجَامِع الْكُوفَة ليراه النَّاس وَالله أعلم.
اور واپس کرنے سے پہلے حجر کو جامع کوفہ میں لٹکا دیا کہ لوگ دیکھیں

کتاب نزهة الأنظار في عجائب التواريخ والأخبار
کے مطابق
واپس کرتے وقت سنبر بن الحسن القرمطي جو قرامطہ کا سفیر تھا اس نے خود اس کو واپس کعبہ میں نصب کیا

اتنے دلائل کی روشنی میں واضح ہے کہ حجر اسود قرامطہ کی جانب سے ایک عظیم نشانی کو پورا کرنے کے لئے نکالا گیا تھا اور واپس کرتے وقت بھی اس کو کوفہ لایا گیا تاکہ لوگوں کو علی کی بیان کردہ نشانی پر یقین آئے

یہ شمشاد کی لکڑی کا بنا ھوا ایک صندوق تھا جو آدم علیہ سلام پر نازل ھواتھا۔، یہ پوری زندگی آپ کے پاس رھا۔ پھر بطور میراث آپکے اولاد کو ملتا رھا، یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ سلام کو ملا اور آپکے بعد آپکی اولاد بنی اسرایئل کو ملا اور بعد میں یہ حضرت موسئ علیہ سلام کو ملا جس میں وہ اپنا حاص سامان اور تورات شریف رکھا کرتے تھے۔یہ بڑا ھی مقدس اور بابرکت صندوق تھا، بنی اسرایئل جب کفار سے جہاد کرتے اور انکو شکست کاڈر ھوتا تو وہ اس صندوق کو آگے رکھتے تو اس صندوق سے ایسی رحمتوں اور برکتوں کا ظہور ھوتا کہ مجاھدین کے دلوں کو چین آرام و سکون حاصل ھو جاتا اور صندوق وہ جتنا آگے بڑھاتے آسمان سے نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ کی بشارت عظمی نازل ھوتی۔بنی اسرایئل میں جب بھی کھبی احتلاف ھوتا تو وہ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز حود ھی آتی العرض یہ تابوت بنی اسرایئل کے لیے تابوت سکینہ ثابت ھوی۔

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَىٰ وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

جواب

تابوت سریانی کا لفظ ہے اور سکینہ عبرانی کا لفظ ہے

الله تعالی کا قول ہے کہ اس تابوت میں سکینہ ہے تو اس سے مراد سکون و اطمینان ہے اس کی موجودگی بنی اسرئیل کے لئے باعث سکون تھی

اس کو موسی علیہ السلام نے دشت میں بنایا تھا اس میں توریت کی الواح کو رکھا گیا تھا اور یہ تابوت خیمہ ربانی یا طبرنقل میں رکھا گیا تھا موسی علیہ السلام کے بعد ان کا عصا اور ال ہارون کے تبرکات کو اس میں رکھا گیا یھاں تک کہ داود علیہ السلام کے دور میں اس کو فلسطینی چرا کر لے گئے اور حکم ہوا کہ ان سے قتال کرو
اس پر نبی اسرئیل میں شش و پنج ہوا کہ ہم کس کی سربراہی میں قتال کریں ہمارے تو الگ الگ سردار ہیں جس پر اس دور کے نبی جن کا نام بائبل میں سمائل ہے انہوں نے کہا کہ ایک شخص طالوت کو تم پر من جانب الله حاکم کر دیا گیا ہے جس کی نشانی یہ ہے کہ جب تم قتل کرو گے تو یہ تابوت تم کو واپس مل جائے گا

یہودی تصوف کے مطابق تابوت میں الواح تھیں جن پر اسم اعظم لکھا تھا یہ اسم بولتا بھی تھا
لہذا اپ نے جو اقتباس پیش کیا ہے اس میں ہے “بنی اسرایئل میں جب بھی کھبی احتلاف ھوتا تو وہ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز خود ھی آتی” جو ایک عجیب قول ہے
اس پر راقم کی تفسیر
Two Illuminated Clouds of Quran pg 65
پر تفصیل ہے
——–
The Great Divine Name manifested as an Angel who thinks independent of God. Even Ark of Covenant
has power as it was actually the incarnation of Name of God (see 2 Samuel 6:1-2). According to
Jews Ark contains Sekinah (feminine version of God’s power). God name has lips (Isaiah 30:27)
———-
گویا اپ نے جو اقتباس پیش کیا ہے اس میں اس یہودی تصوف کو قبول کر لیا گیا ہے

یہود کے مطابق اس تابوت میں سکینہ نام کا ایک مونث فرشتہ تھا جو ایک ہوا کی مانند تھا ہمارے محدثین نے سکینہ کا ذکر کیا ہے

مستدرک حاکم کی روایت ہے جس کو حاکم اور الذھبی مسلم کی شرط پر کہتے ہیں

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، ثنا عُبَيْدُ الله بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا خَالِدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ الله عَنْهُ عَنْ {أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا} [آل عمران: 96] أَهُوَ أَوَّلُ بَيْتٍ بُنِيَ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ أَوَّلُ بَيْتٍ وُضِعَ فِيهِ الْبَرَكَةُ وَالْهُدَى، وَمَقَامُ إِبْرَاهِيمَ، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمَنَّا، وَلَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ كَيْفَ بَنَاهُ الله عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّ الله أَوْحَى إِلَى إِبْرَاهِيمَ أَنِ ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ فَضَاقَ بِهِ ذَرْعًا، فَأَرْسَلَ الله إِلَيْهِ السَّكِينَةَ، وَهِيَ رِيحٌ خَجُوجٌ، لَهَا رَأْسٌ، فَاتَّبَعَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ حَتَّى انْتَهَتْ، ثُمَّ تَطَوَّقَتْ إِلَى مَوْضِعِ الْبَيْتِ تَطَوُّقَ الْحَيَّةِ، فَبَنَى إِبْرَاهِيمُ فَكَانَ يَبْنِي هُوَ سَاقًا كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَكَانَ الْحَجَرِ، قَالَ لِابْنِهِ: أَبْغِنِي حَجَرًا فَالْتَمَسَ ثَمَّةَ حَجَرًا حَتَّى أَتَاهُ بِهِ، فَوَجَدَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ قَدْ رُكِّبَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: جَاءَ بِهِ مَنْ لَمْ يَتَّكِلْ عَلَى بِنَائِكَ جَاءَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ السَّمَاءِ فَأَتَمَّهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا کہ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكً میں کیا یہ زمین پر بننے والا پہلا گھر ہے ؟ علی نے کہا نہیں لیکن پہلے گھر میں برکت اور ہدایت ہے اور وہ مقام ابراہیم ہے جو اس میں داخل ہو امن میں ہے اور اگر چاہو تو میں تمہیں خبر دوں کہ الله نے یہ کیسے بنوایا بے شک الله نے ابراہیم پر الہام کیا کہ زمین پر میرے لئے گھر بناو پس ان کا دل تنگ ہوا پس الله نے سکینہ کو بھیجا جو ایک تند و تیز ہوا تھی جس کا سر بھی تھا پس اس کے پیچھے ابراہیم کا ایک ساتھی لگا یہاں تک کہ وہ رک گئی اور بیت الله کا ایک زندہ کی طرح طواف کرنے لگی پس ابراہیم اس مقام پر روز بیت الله بناتے یہاں تک کہ (بنیاد کھودتے ہوئے) کہ ایک (بڑے) پتھر تک پہنچ گئے پس انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا یہ پتھر دو اور انہوں نے اس کو اٹھایا تو اس کے نیچے حجر الاسود تھا جس پر ابراہیم بیٹھ گئے تو ان کے بیٹے نے کہا یہ آپ کو کہاں سے ملا؟ یہ ان سے ملا جن تک تمہاری نگاہ نہیں جاتی – جبریل آسمان سے لائے اور یہ پورا کیا

يه روایت تفسیر طبری میں بھی نقل ہوئی ہے

یہود کے مطابق یہ مونث فرشتہ  سکینہ کہلاتی تھی اوریہ تابوت میں تھی اسی کی آواز اتی تھی محققین کے مطابق جب بابل والوں نے حملہ کیا اس دور میں اس فرشتہ کی بطور دیوی پوجا پاٹ بھی شروع ہو چکی تھی

شیعہ عالم سيد نعمت الله جزائرى المتوفی ١١١٢ ھ کتاب قصص الانبیاء میں لکھتے ہیں
قوله فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ فإن التابوت كان يوضع بين يدي العدو و بين المسلمين فيخرج منه ريح طيبة لها وجه كوجه الإنسان و عن الرضا ع قال السكينة ريح من الجنة لها وجه كوجه الإنسان
اور الله تعالی کا قول اس میں تمہارے رب کی طرف سے سکینہ ہے تو پس تابوت مسلمانوں اور دشمن کے درمیان رکھا جاتا اس میں ایک طیب ہوا نکلتی جس کا چہرہ انسان جیسا تھا اور امام الرضا سے روایت ہے کہ سکینہ جنت کی ایک ہوا تھی جس کا چہرہ انسان جیسا تھا

راقم کہتا ہے سکینہ ایک ہوا تھی نہ کہ فرشتہ اور اس کا تابوت سے کوئی تعلق نہیں تھا یہ یہودی تصوف تھا جس نے اس سکینہ کو ایک دیوی بنا دیا لہذا تابوت سکینہ کا بولنا ایک بے سروپا قول ہے

اپ نے جو اقتباس پیش کیا ہے اس کے مطابق یہ جنت میں آدم علیہ السلام کے پاس بھی تھا جو کوئی یہودی قول لگتا ہے

http://www.jewishencyclopedia.com/articles/1777-ark-of-the-covenant
کے مطابق یہ قصص الانبیاء يا عرائس المجالس الثعلبی میں لکھا ہے

———-

راقم کہتا ہے سن ٥٨٧ میں حشر اول سے یہ تابوت لا پتہ ہے اور اغلبا یہ اس روز جل کر معدوم ہو گیا
سوره بنی اسرئیل میں ہے
پھر جب پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے بھیجے پھر وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے، اور اللہ کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا

یعنی جب بابلی افواج نے مسجد اقصی کو تباہ کیا تو اس میں سے ابھی تک کوئی چیز نہیں ملی ہے ظاہر ہے الله کا حکم پلٹ نہیں سکتا جو لکھا تھا وہ شدنی تھا لہذا راقم کی رائے میں یہ تابوت اور اس کے تبرکات فنا ہو گئے

یہود کے مطابق یہ معدوم نہیں ہو سکتا اس کو ہو سکتا ہے حشر اول کے بپا ہونے سے قبل کہیں چھپا دیا گیا ہو گا یہود کی رائے ہے مصر میں اور مسلمان کہتے ہیں انطاکیہ میں

ظہور مہدی کے منتظرین کے نزدیک یہ تابوت امام مہدی نکالیں گے اور یہودی کہتے ہیں مسیح نکالے گا

جواب

مسلمانوں کے پاس قالین نہیں تھے پہلا قالین کسری کے مال غمیمت میں آیا جس کا عرض بہت تھا لیکن اس کو فارس میں ہی کاٹ کاٹ کر اونٹوں اور گھوڑوں پر لاد کر مدینہ لایا گیا
مجوسیوں کو اس قالین کا بہت قلق ہے آج تک اس کا تذکرہ کرتے ہیں کہ یہ کتنا شاندار تھا
ان کے بعض ہمدردوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ نماز زمین یا مٹی پر پڑھی جائے تو قبول ہو گی ورنہ نہیں

اپ صلی الله علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ہے

صحیح بخاری کی روایت ہے
عبداللہ بن شداد سے، انہوں نے کہا میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں سنا کہ میں حائضہ ہوتی تو نماز نہیں پڑھتی تھی اور یہ کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (گھر میں) نماز پڑھنے کی جگہ کے قریب لیٹی ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز اپنی چٹائی پر پڑھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کا کوئی حصہ مجھ سے لگ جاتا تھا۔

امام بخاری باب قائم کرتے ہیں
بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى الْخُمْرَةِ:
باب: کھجور کی چٹائی پر نماز پڑھنا

صحیح بخاری کی حدیث ہے
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انصار میں سے ایک مرد نے عذر پیش کیا کہ میں آپ کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہو سکتا اور وہ موٹا آدمی تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چٹائی بچھا دی اور اس کے ایک کنارہ کو (صاف کر کے) دھو دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بوریے پر دو رکعتیں پڑھیں۔ آل جارود کے ایک شخص (عبدالحمید) نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ اس دن کے سوا اور کبھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے نہیں دیکھا

ایک اور حدیث ہے

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں انس بن سیرین نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے گھرانہ میں ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا، جب آپ واپس تشریف لانے لگے تو آپ کے حکم سے ایک چٹائی پر پانی چھڑکا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور گھر والوں کے لیے دعا کی۔

جواب

مینار بنانا بدعت ہے – اسلام میں پہلا مینار عباسي خلیفہ المتوكل على الله ابن الخليفة المعتصم بالله، کے دور میں سن ٢٣٤ سے ٢٣٧ ہجری میں جامع الملوية سامراء میں بنا- اس کو بابل کے مینار کی طرز پر بنایا گیا جس کو
ziggurat
کہا جاتا ہے

ظاہر ہے کسی جاہل نے عبّاسی خلفاء کو یہ مشورہ دیا کہ اس طرح بابل کے مقام پر اسی طرح کا مینار نما مسجد بنا دو جو بقول توریت قدیم بابل پر عذاب کا موجب بنی تھی

کتاب پیدائش باب ١٠ میں ہے
And the Lord descended to see the city and the tower that the sons of man had built.
And the Lord said, “Lo! [they are] one people, and they all have one language, and this is what they have commenced to do. Now, will it not be withheld from them, all that they have planned to do?

اس سے قبل جامع اموی دمشق جو اصل میں ایک چرچ تھا اس پر جب قبضہ کر کے اس کو مسجد قرار دیا گیا الولید بن عبد الملک (سن ٨٦ ہجری تا ٩٦ ہجری) کے دور میں تو اس سے منسلک مینار جس میں ناقوس لٹک رہا ہو گا اس کو مسجد کا مینار قرار دیا گیا
شام میں یہ روایت بھی تھی کہ مینار پر نصرانی راہب عبادت کیا کرتے تھے اور دور بنو امیہ میں النوبی نام کا ایک راہب اسی طرح کے کسی مینار پر رہتا تھا
جامع اموی پر قبضہ کیا گیا جو یحیی علیہ السلام کے سر کا مدفن کہا جاتا ہے یا ھود علیہ السلام کا مدفن بھی کہا گیا ہے جبکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا حکم تھا
الله کی لعنت ہو یہود و نصاری پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو مسجد بنا دیا
——–
مینار یا کیل نما عمارت مشرک قوموں کی نشانی ہے قرآن میں ہے
وفرعون ذو الاوتاد
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ
إس كا ترجمه میںخون والا فرعون کیا جاتا ہے

لیکن یہ ممکن ہے
Obelisk
ہو جس کو آجکل عرب المسلة بولتے ہیں
المسلة کا ترجمہ میںخ ہی ہے
http://www.almaany.com/en/dict/ar-en/المسلة/
from Ancient Greek: ὀβελίσκος obeliskos; diminutive of ὀβελός obelos, “spit, nail, pointed pillar

Obelisk
یا
المسلة کو مندروں کے ساتھ ہی بنایا جاتا تھا گویا یہ مینار ہی تھا یعنی دور سے انسان دیکھ سکے کہ مندر کہاں ہے

مصری زبان میں اس کو
tekhenu
کہا جاتا تھا جس کا ترجمہ ہے وہ جو آسمان میں میںخ لگا دے
راقم سمجھتا ہے کہ مساجد کی تطہیر کی ضرورت ہے
⇑ مساجد کی تطہیر
⇑ ہڑپہ کی تہذیب حرم کی زیبائش
https://www.islamic-belief.net/masalik/وھابیت/

مسلم میں یے کہ عیسی علیہ السلام قیامت سے پہلے دمشق کی مسجد کے مشرقی مینار پر اترے گےبعض اس سے استدلال کرتے ہیں کہ مینار بنانا جائز ہے جبکہ وہ روایت منکر ہے
کعب الاحبار کے اقوال کا مجموعہ ہے جس کو حدیث نبوی بنا دیا گیا ہے
https://www.islamic-belief.net/نزول-المسیح-و-خروج-الدجال-پر-کتاب/

شیعوں کی کتاب موسوعة أحاديث امير المؤمنين علي کے مطابق

حدَّثنا محمّد بن إبراهيم بن إسحاق ـ رضي اللّه عنه ـ قال: حدَّثنا عبد العزيز ابن يحيى الجلوديّ بالبصرة قال: حدَّثنا الحسين بن معاذ قال: حدَّثنا قيس بن حفص قال: حدَّثنا يونس بن أرقم، عن أبي سيّار الشيباني، عن الضحّاك بن مزاحم، عن النَّزال ابن سبرة قال: خطبنا أمير الموَمنين عليُّ بن أبي طالب ـ عليه السلام ـ فحمدَ اللّهَ عزَّ وجلَّ وأثنى عليه وصلّى على مُحمدٍ وآلهِ، ثمَّ قال: سَلُوني أيُّها النَّاسُ قَبْلَ أن تَفقِدُوني ـ ثلاثاً ـ فقامَ إليه صعصَعَةُ بن صُوحانَ فقال: يا أمير الموَمنين متى يخرجُ الدَّجّالُ؟ فقال لهُ علي _ عليه السلام _

علی رضی الله عنہ سے سوال ہوا کہ دجال کب نکلے گا انہوں نے جو نشانیاں بتائیں ان میں تھا وَطُوِّلَتِ المَنارَاتُ اور مینار طویل کیے جائیں گے – جبکہ مینار کا اس دور میں اسلامی تعمیرات میں  کوئی ذکر نہیں ملتا

جواب

الموسوعة الفقهية الكويتية کے مطابق
لَمْ يَكُنْ لِلْمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ الشَّرِيفِ مِحْرَابٌ فِي عَهْدِ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلاَ فِي عَهْدِ الْخُلَفَاءِ بَعْدَهُ، وَأَوَّل مَنِ اتَّخَذَ الْمِحْرَابَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَحْدَثَهُ وَهُوَ عَامِل الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَلَى الْمَدِينَةِ الْمُنَوَّرَةِ عِنْدَمَا أَسَّسَ مَسْجِدَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَدَمَهُ وَزَادَ فِيهِ، وَكَانَ هَدْمُهُ لِلْمَسْجِدِ سَنَةَ إِحْدَى وَتِسْعِينَ لِلْهِجْرَةِ، وَقِيل سَنَةَ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ وَفَرَغَ مِنْهُ سَنَةَ إِحْدَى وَتِسْعِينَ – وَهُوَ أَشْبَهُ – وَفِيهَا حَجَّ الْوَلِيدُ
مسجد النبی میں محراب دور نبوی میں نہیں تھی نہ دور خلفاء میں تھی اور گورنر مدینہ عمر بن عبد العزیز پہلے شخص ہیں جنہوں نے مسجد النبی میں محراب بنوائی جنہوں نے خلیفہ الولید بن عبد الملک کے دور میں مسجد النبی کو منہدم کیا اور اس میں اضافہ کیا اور یہ انہدام سن ٩١ ہجری میں ہوا اور کہا جاتا ہے ٨٨ ہجری میںہوا اور اس تعمیر سے سے ٩١ میں فارغ ہوئے جو اچھا ہے

————-
محراب مسجد الاقصی یا ہیکل سلمانی کی نشانی ہے اس کا ذکر قرآن میں بھی ہے کہ وہاں مریم اور زکریا نماز پڑھتے تھے
راقم کی تحقیق کے مطابق مسجد الاقصی کے صحن میں ایک الاو جلتا رہتا تھا جس میں سوختی قربانی ڈالی جاتی تھی اس کو
Azarah
کہا جاتا تھا
مسجد کے منتظمین کے لئے ایک بڑا ہال نما حجرہ
Bet ha-Moed or Bet Hamoked (Chamber of the Hearth)
اس صحن سے متصل تھا جس کی چھت محراب نما تھی تلمود کے مطابق آدھے گنبد جیسی تھی اس میں لاوی رہتے تھے جو ہارون علیہ السلام کی نسل کے لوگ تھے مسجد الاقصی یا ہیکل کے منتظم تھے اور زکریا علیہ السلام بھی انہی میں سے تھے چونکہ وہ مریم علیہ السلام کے کفیل مقرر ہوئے تھے لہذا اسی بڑے حجرہ میں ایک مشرقی کونہ میں مریم معتکف ہوئیں تاکہ نذر پوری کی جا سکے
نصرانییوں نے جب چرچ قائم کیے تو اسی مسجد الاقصی کی تعمیر سے بہت سی چیزیں لیں جن میں محراب بھی تھی – اسلام کے بعد ان چرچوں اور یہود کی مساجد کو جب مسلمانوں نے قبضہ میں لیا ان کو یہ چیز پسند آئی کہ اپنی مسجدوں میں محراب بنا دی جائے

Bet ha-Moed or Bet Hamoked (Chamber of the Hearth) was the domed chamber in temple, was in north of the ’Azarah (inner court where burning altar was placed), See Jewish Encyclopedia

راقم کی تفسیر ص ٢٠٢ بھی دیکھ سکتی ہیں
https://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2015/09/Tafseer-book.pdf

بہت سی مساجد میں محراب پر یہ آیت لکھی جاتی ہے
فنادته الملائكة وهو قائم يصلي في المحراب

نصرانی کلیسا میں اس کو
https://en.wikipedia.org/wiki/Apse
کہا جاتا ہے جو لاطینی میں محراب کا ترجمہ ہے

الجامع لعلوم الإمام أحمد – علل الحديث ما جاء في المحراب في المسجد کے مطابق
قال الإمام أحمد: ما أعلم فيه حديثًا يثبت
احمد نے کہا محراب کے حوالے سے کوئی ثابت حدیث نہیں ہے

شروع میں اس کو الطاق بھی کہا جاتا تھا

شهيد المحراب عمر بن الخطاب کو کہا جاتا ہے جبکہ ان پر حملہ محراب میں نہیں ہوا کیونکہ اس دور میں مسجد النبی میں محراب نہیں تھی
کتاب البدء والتاريخ از المطهر بن طاهر المقدسي (المتوفى: نحو 355هـ) کے مطابق
وأول من نصب المحراب في المسجد
الحسن بن علي رضي الله عنهما پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے مسجد میں محراب بنائی

الاستيعاب في معرفة الأصحاب أز قرطبي کے مطابق ابن ملجم نے جب علی پر حملہ کیا
فأما أحدهما فوقعت ضربته فِي الطاق
وہ طاق میں تھے یعنی محراب میں

محراب کوفہ میں اغلبا خوارج کے نماز میں حملہ سے بچنے کے لئے بنائی گئی کہ اگر کوئی مقتدیوں میں ہوں تو نماز کے امام یعنی خلیفہ علی یا حسن تک آسانی سے نہ جا سکیں

شام میں محراب نصرانی کنیسہ اور کلیسا میں پہلے سے تھیں لیکن ان کا رخ مشرق کی طرف تھا اور کعبہ جنوب میں تھا
شام میں نصرانی عبادت گاہوں پر جب قبضہ کیا گیا تو کتاب المعرفة والتاريخ از الفسوی کے مطابق
كان الوليد قال للنصارى من أهل دمشق: ما شئتم ان أخذتم كنيسة توما عنوة وكنيسة الداخلة صلحا، فانا لنهدم كنيسة توما.
– قال هشام: وتلك أكبر من الداخلة- قال: فرضوا أن أهدم كنيسة الداخلة وأدخلها في المسجد.
قال: وكان بابها قبلة المسجد. اليوم المحراب الّذي يصلّي فيه.
الولید بن عبد الملک نے جس کنیسہ پر قبضہ کیا اس کا باب جہاں تھا وہاں محراب بنا دی گئی

الثمر المستطاب في فقه السنة والكتاب المؤلف : محمد ناصر الدين الألباني کے مطابق
المناوی نے کہا
خفي على قوم كون المحراب في المسجد بدعة وظنوا أنه كان في زمن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يكن في زمنه ولا في زمن أحد من خلفائه بل حدث في المائة الثانية مع ثبوت النهي عن اتخاذه
اور ایک قوم پر مخفی رہا ہے کہ مسجد میں محراب ایک بدعت ہے یہ نہ دور نبوی میں تھی نہ دور خلفاء میں بلکہ اس کا آغاز قرن دوم میں ہوا اس کی نھی کے ثبوت کے ساتھ

تاریخ الکبیر از امام بخاری میں ہے
هُرَيم بْن سُفيان، البَجَلِيُّ، أَبو مُحَمد.
عَنْ أُم عَمرو، قَالَت: رأَيتُ البَراء بْن عازب يُصلي فِي الطاق.
البَراء بْن عازب رضی الله عنہ طاق میں نماز پڑھتے

الجرح والتعديل از ابن ابی حاتم کے مطابق
الفضل أبو يزيد قال رأيت سعيد بن مسروق يصلى في الطاق
مسروق طاق میں نماز پڑھتے

کتاب الجامع لعلوم الإمام أحمد – الفقه کے مطابق

الصلاة في المحراب وطاق القبلة
قال إسحاق بن منصور: قُلْتُ: تكره المحراب في المسجدِ؟
قال: ما أعلم فيه حديثًا يثبتُ، ورُبَّ مسجدٍ يحتاجُ إليه يُرتفق بِهِ.
قال إسحاق: كما قال.
“مسائل الكوسج” (248)
إسحاق بن منصور نے امام احمد سے پوچھا اپ مسجد میں محراب سے کراہت کرتے ہیں ؟ احمد نے کہا اس پر کوئی ثابت حدیث نہیں ہے اور مسجد بڑھانے والوں نے دلیل لی کہ اس سے (جہت قبلہ میں) اتفاق ہوتا ہے
اسحاق نے ایسا ہی کہا

قال إسحاق بن منصور: قال إسحاق: وأما المحاريب فجائزة، للأئمةِ أن يعدلوا يمنة عن الطّاق، فإن لمْ يفعلوا فقاموا في الطّيقان أجزأتهم صلاتُهم.
“مسائل الكوسج” (249)
اسحاق بن راھویہ نے کہا محرابین جائز ہے اماموں کے لئے کہ طاق میں جائیں اگر ایسا نہ کریں تو نماز کا کچھ اس میں کریں

قال صالح: حدثني أبي، قال: حَدَّثنَا علي بن مجاهد، عن أبي شهاب قال: رأيت سعيد بن جبير يصلي في الطاق (1).
“مسائل صالح” (854)
مجاہد نے ابی شھاب سے روایت کیا کہ انہوں نے سعید بن جبیر کو طاق میں نماز پڑھتے دیکھا

قال أبو داود: سمعت أحمد سُئِلَ عن محراب يريد أن ينحرف عنه الإمام؟
قال: ينبغي بأن يحول ويحرف.
“مسائل أبي داود” (321)
ابو داود نے کہا میں نے احمد سے پوچھا محراب کے بارے میں کہ امام اس سے دور ہو جاتا ہے
احمد نے کہا اس کو چاہیے کہ اس سے دور ہو

الغرض محراب یا طاق کو بنانے پر اختلاف ہوا لیکن وقت کے ساتھ اس کو قبول کر لیا گیا

کعبہ پر کسوۃ ( غلاف ) کا رواج بہت قدیم ایام سے ہے ۔ جہاں تک تاریخ میں پتہ لگتا ہے تبع بادشاہ یمن پہلا شخص ہے ، جس نے بیت اللہ پر مکمل کسوہ ( غلاف ) چڑھایا تھا

http://forum.mohaddis.com/threads/غسل-کعبہ-و-غلاف-کعبہ-کی-شرعی-حیثیت.3958/

 تبع بادشاہ یمن کون تھا؟
جواب
تبع یمن کا یہودی تھا- مملکت حمیر کے ایک بادشاہ أبو كرب أسعد یا أسعد أبو كُرَيْب بن مَلْكيكرب یا اسعد الكامل یا التبع نے حمیر پر ٣٩٠ سے ٤٢٠ ع تک حکومت کی- کہتے ہیں اس نے یثرب پر حملہ کیا تاکہ وہاں بڑھتے ہوئے عیسائی بازنیطی اثر کو ختم کرے- اس جنگ میں یہودیوں نے بھی مملکت حمیر کا ساتھ دیا – لیکن التبع وہاں بیمار ہو گیا حتی کہ کسی چیز سے شفا یاب نہ ہو سکا- یہ ایک مشرک تھا لیکن یثرب کے یہودیوں احبار نے اس کو جھاڑا اور یہ ٹھیک ہو گیا- اس سے متاثر ہو کر اس نے یہودی مذھب قبول کیا – اس طرح مملکت حمیر ایک یہودی ریاست بن گئی- اس کی قوم کا قرآن میں ذکر ہے
الله تعالى کہتا ہے : أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ الدخان ٣٧ میںکیا یہ (مشرکین مکہ) بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور جو ان سے قبل گزرے جن کو ہم نے ہلاک کیا یہ سب مجرم تھے
اور
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ . وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ . وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ سوره ق ١٢ سے ١٤ میںان (مشرکین مکہ) سے قبل قوم نوح اور اصحاب الرس اور ثمود اور عاد اور فرعون اور قوم لوط اور َأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ اور َقَوْمُ تُبَّعٍ کو ہلاک کیا سب نے رسولوں کا انکار کیا پس ان پر وَعِيدِ ثبت ہوئی
ابو داود کی حدیث ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
لا أدري تبع لعينًا كان أم لامیں نہیں جانتا کہ تبع، مردود ہے یا نہیں
یعنی تبع کے اس تبدیلی ایمان میں وہ صحیح تھا یا نہیں اس کی خبر نہیں دی گئی لیکن اس کی قوم کو برا کہا گیا ہے- کعب الاحبار کا قول ہے ذم الله تعالى قومه ولم يذمه الله نے اس کو برا نہیں کہا اس کی قوم کو کہا ہے
⇑ یمن کی مملکتیں اور قرآنhttps://www.islamic-belief.net/history/
تبع نے کعبہ کو غلاف دیا کیونکہ مسجد اقصی میں ہیکل سلیمانی میں قدس الاقدس پر بھی غلاف تھااس کا ذکر انجیل میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی مزموعہ صلیب کے وقت مقدس کا غلاف یا کسوہ پھٹ گیا
At that moment the curtain of the temple was torn in two from top to bottom. The earth shook, the rocks splithttp://biblehub.com/matthew/27-51.htm
مسلمان مورخین کے اس بیان پر کہ تبع نے سب سے پہلے غلاف کعبہ دیا – مستشرقین کا کہنا ہے کہ کعبه اصل میں ایک یہودی پروجیکٹ تھا جس کا مقصد عربوں کو عبادت گاہ دینا تھا راقم کہتا ہے یہ بات باطل ہے یہ محض مفروضہ ہے

إِنَّ أَوَّلَ بَيۡتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلۡعَـٰلَمِينَ
بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما
بھائی اک صاحب کا اعتراض ہے کہ ال عمران نمبر 96 میں جو لفظ بکہ آیا ہے وہ کوئی اور مقام ہے اور مکہ کوئی اور مقام ہے؟؟ آیت میں لفظ بکہ آنے کی وجہ کیا ہے؟؟۔۔۔۔اور دوسرا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے دوسری آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس مقام پر پھلوں کے باغات ہیں جبکہ مکہ میں 2000 سال پہلے تک بھی اس ایریا میں کوئی پھلوں وغیرہ کے باغات نہیں تھے ۔۔۔۔ ؟؟
جواب
ایک شہر کا ایک قدیم نام ہے اور ایک جدیدبکّہ قدیم نام ہے اور مکہ جدید نام ہے
اہل کتاب سے اس سورت میں کلام ہو رہا ہے – بکہ کا نام ان کی کتب میں ہےآج کل کے اہل کتاب کہتے ہیں بکہ اصل میں یروشلم ہے یا گلیل میں ہے یا کوہ طورکے پاس ہے لیکن اغلبا دور نبوی میںوہ اس کے قائل نہیں ہوں گے بلکہ مکہ کو ہی بکہ کہتے ہوں گے
میں نے تفسیر میں اس پر بات کی ہے⇓ Two Illuminated Clouds of Quranhttps://www.islamic-belief.net/literature/english-booklets/
[Exegesis V. 95−97] Bakkah was the old name of Makkah. In Psalm∗ it is said:  Blessed is the man whose strength is in thee; in whose heart are the ways ofthem.Who passing through the valley of Baca make it a well; the rain also filleth  the pools  Bacca should be a bone dry land otherwise the verses of Psalm does not make sense. It is claimed  that Bacca is Jerusalem or in Sinai district or may be in Galilee. Also the translators some times  translate it as valley of weeping or valley of balsam trees. However in no way such play with the  word can be accepted. In times of David Jerusalem was not city of weeping. Also Jericho was famous for Balsam trees not Jerusalem. An Ishamelite caravan taken Joseph out of well when  it was going to Egypt with Myrrah. Genesis (37:25) says: As they sat down to eat their meal,  they looked up and saw a caravan of Ishmaelites coming from Gilead. Their camels were loadedwith spices, balm and myrrh, and they were on their way to take them down to Egypt. Myrrah is also produced through Balsam trees in Arabia so converting the Bacca into valley of balsam would not change the issue.

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَىٰ عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (2:126)
جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائده دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بےبس کردوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہےجواب
ابراہیم نے دعا کی ہے کہ ان کو پھل ملیں کیونکہ مکہ ( بوادٍ غير ذي زرع) بے آب وادی تھی-ابراہیم کی دعا مکہ کے لئے ہے جو بکہ ہی ہےیا ان صاحب کے نزدیک یہ دعا بکہ کے لئے ہے ؟مکہ میں جب ابراہیم پہنچے تو وہاں قبیلہ جرہم آباد ہوا تھا اور ساتھ ہاجرہ اور اسمعیل علیھما السلام بھی تھےیہ لوگ زمزم کا پانی پیتے اور تیروں سے شکار کرتے اغلبا ان پرندوں کا جو پانی پر اتے تھےمکہ میں پھل آگے نہیں وہاں تجارت سے اور قافلوں سے پہنچےمثلا مکہ کے قریب طائف ہے جو سرسبز ہے وہاں کا موسم بھی الگ ہے کیونکہ طائف پہاڑ کے اوپر ہےکعبہ کی تعمیر سے وہاں مکہ یا بکہ میں لوگوں کا آنا جانا حج وغیرہ شروع ہوااور اس طرح وہ نظم بن گیا کہ دنیا کی نعمت اہل مکہ کو مل گئیقرآن میں ہےأَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ} [القصص: 57کیا ہم نے ان کو ایک حرم میں نہیں ٹھرایا جہاں ہر چیز کا پھل پہنچتا ہے
ظاہر ہے یہ حرم مکی ہے
سوره ابراہیم آیت ٣٧ میں ہےرَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ
سوره قریشالَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ
سیوطی نے تفسیر الدر المنثور میں کچھ روایات دی ہیں کہ ابراہیم کی دعا پر الله نے جبریل کو حکم کیا اور انہوں نے ملک اردن یا فلسطین کے ایک قطعہ کو عرب میں منتقل کیا جس کو طائف کہا جاتا ہے
أما قَوْله تَعَالَى: {وارزق أَهله من الثمرات} أخرج الأرزرقي عَن مُحَمَّد بن الْمُنْكَدر عَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لما وضع الله الْحرم نقل لَهُ الطَّائِف من فلسطينوَأخرج ابْن جرير وَابْن أبي حَاتِم عَن مُحَمَّد بن مُسلم الطَّائِفِي قَالَ: بَلغنِي أَنه لما دَعَا إِبْرَاهِيم للحرم {وارزق أَهله من الثمرات} نقل الله الطَّائِف من فلسطينوَأخرج الن أبي حَاتِم والأزرقي عَن الزُّهْرِيّ قَالَ: إِن الله نقل قَرْيَة من قرى الشَّام فوضعها بِالطَّائِف لدَعْوَة إِبْرَاهِيم عَلَيْهِ السَّلَاموَأخرج الْأَزْرَقِيّ عَن سعيد بن الْمسيب بن يسَار قَالَ: سَمِعت بعض ولد نَافِع بن جُبَير بن مطعم وَغَيرهيذكرُونَ أَنهم سمعُوا: أَنه لما دَعَا إِبْرَاهِيم بِمَكَّة أَن يرْزق أَهله من الثمرات نقل الله أَرض الطَّائِف من الشَّام فوضعها هُنَالك رزقا للحرم
نکتہابراہیم علیہ السلام نے تو دعا کی کہ پھل مومنوں کو ملیں لیکن الله نے دعا قبول کر کے مومن ہو یا کافر سب کو پھل دیے
مکہ کو حرم الله تعالی نے قرار دیا ہےاس کی وجہ سے سال کے چار ماہ حرمت والے ہیں اس دن سے جس دن زمیں و آسمان بنے
قرآن میں سوره توبه أية ٣٦ ہےإِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚالله کے نزدیک مہینے ١٢ ہیں جو کتاب الله میں ہیں اس روز سے جب زمیں و آسمان خلق ہوئے ان میں سے چار حرمت والے ہیں
صحیح مسلم میں ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاإِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَاس شہر مکہ کو الله نے حرم قرار دیا اس روز جب آسمان و زمین خلق ہوئے