جزیہ کا حکم

قرآن میں سورہ المائدہ میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہے- یہ ایک مذہبی ٹیکس ہے جو اس مد میں لیا جاتا ہے کہ اسلام میں ان کو اپنے مذھب پر عمل کی آزادی ملے گی اور مسلمان اہل کتاب یہود کے سناگاگ اور نصرانیوں کے چرچ کی حفاظت کریں گے – ان کو مسمار نہ کریں گے – عبادت گاہ میں جانے کا رستہ نہیں روکیں گے اور اہل کتاب اندر عبادت گاہ میں اپنا کفر و شرک جاری رکھ سکتے ہیں ، وہ اپنے دین کو حق پر بتا سکتے ہیں – اس پر کوئی پابندی نہیں ہو گی – مسلمانوں کو ان کی عبادت گاہوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی تھی الا یہ کہ ان کو مدعو کیا جائے – اس کی مثال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی مدینہ کے  کسی یہودی سناگاگ  میں داخل نہ ہوئے بلکہ سڑک پر جا کر تبلیغ کی – اسی طرح فتح یروشلم پر عمر رضی اللہ عنہ کسی نصرانی  کلیسا میں داخل نہ ہوئے حتی کہ وہاں کے نصرانی علماء نے ہی ان کو مدعو کیا – مسلمان اس طرح ان عبادت گاہوں کے محافظ تھے

جزیہ کا حکم اس طرح اہل کتاب کو اپنے دین پر عمل کی اجازت دیتا تھا اور مسلمان دندناتے ہوئے ان کی عبادت گاہوں میں داخل نہیں ہوتے تھے

افسوس کہ یہ سمجھ بوجھ وقت کے ساتھ جا چکی ہے – آجکل مسلمان فرقے قبر پرستی کی اسی لعنت میں پڑے ہوئے ہیں جس میں اہل کتاب مبتلا تھے اور مرض وفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حکم تھا کہ نصرانی و یھودی کی طرح انبیاء سے منسوب مقابر سے دور رہنا ان کو مسجد نہ بنانا
دور نبوی اور اس کے بعد ایک طویل عرصے تک نصرانی چرچ ہمیشہ کسی قبر یا مدفون باقیات
Relics
پر بنایا جاتا تھا – اس طرح مشرق وسطی کے تمام چرچوں میں کیا جاتا تھا  اور یہی حال روم میں تھا

یہ سمجھنا کہ آیا صوفیہ کے نیچے کوئی قبر نہیں  احمقانہ بات ہو گی  کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ نصرانی کسی مقام کو چرچ بولیں ہے وہاں کچھ زمین میں دفن نہ ہو – مزید تفصیل راقم کی کتاب مجمع البحرین میں ہے

بنو امیہ کے دور میں الولید بن عبد الملک پہلا خلیفہ ہے جس نے ان مقابر یا چرچوں کو مسجدوں میں تبدیل کیا اور نصرانی راہبوں کو ان کے معبدوں سے بے دخل کیا گیا (مثلا مسجد دمشق جس میں یحیی علیہ السلام کا سر دفن تھا) – اس وقت اصحاب رسول میں سے کوئی حیات نہ تھا جو اس عمل شنیع سے منع کرتا

وقت کے ساتھ شام میں موجود انبیاء کی تمام معلوم قبروں پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا اور ارض مقدس آنے والے یورپی نصرانیوں کو مار بھگایا – اسی وجہ سے صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا اور نقطۂ عروج یہاں تک پہنچا کہ نصرانیوں کا مسجد القبلی (جس کو آجکل مسجد الاقصی کہا جاتا ہے ) پر قبضہ ہو گیا

یورپ کے نصرانی اب  اس قدر مذہبی نہیں کہ وہ مسلمانوں سے مذہبی مقامات کی وجہ سے جنگ کریں لیکن اپنے مذہبی مقامات یا چرچوں کو حاصل کرنا ان کے بعض مذہبی حلقوں میں ابھی بھی ایک مقبول خواہش ہے

آجکل نصرانی کلیسا آیا صوفیہ کا ذکر چل پڑا ہے جس کو قبل بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تعمیر کیا گیا اور  عثمانی خلفاء نے نصرانیت کو ملغوبیت کا نشان بنانے کے لئے مسجد میں بدلا اور کئی سو سال تک یہ مقام مسجد رہا – وہاں کی نصرانی عوام حکومتی دعوی کو رد کر رہی ہے کہ خلیفہ نے اس چرچ کو خرید لیا تھا یہاں تک کہ ایسٹرن آرتھوڈوکس چرچ نے بھی اس عمل  پر تنقید کی ہے – ترکی میں ہی مسلمانوں کا اس پر اختلاف ہو رہا ہے کہ کیا یہ عمل درست ہے یا نہیں ؟ اگر  کسی کام میں اختلاف ہو جاۓ تو اللہ کا حکم ہے کہ اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو یعنی دیکھو کہ قرآن میں اور سنت نبوی میں کیا حکم دیا گیا ہے

عمر رضی اللہ عنہ کی سنت ہمارے سامنے ہے – آپ رضی اللہ عنہ نے یروشلم میں موجود کلیساوں میں نماز پڑھنے سے انکار کر دیا – جزیہ لینے کے بعد کلیسا کو مسجد بنا دینا تعلیمات نبوی و سنت صحابہ میں معلوم نہیں ہے – اس مسجد آیا صوفیہ میں کی گئی عبادت قبول نہ ہوئی ہو گی کیونکہ کلیسا پر  قبضہ کرنا سنت نبوی نہیں لیکن آج اس عمل کو نیکی کی

طرح پیش کیا جا رہا ہے جبکہ یہ بدعت ہے اور بدعت دین میں گمراہی ہے قابل رد ہے

انبیاء نے عصا پکڑ کر خطبہ دیا ہے – موسی علیہ السلام کا عصا بکریاں چرانے کے دور سے اس کے ہاتھ میں تھا – بائبل میں موجود ہے کہ داود علیہ السلام کے والد یسی نے سموئیل نبی کو بتایا کہ داود بکریاں چرا رہا ہے – صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکہ میں بکریاں چراتے تھے – ریوڑ کو جمع کر کے رکھنا آسان کام نہیں ہے – ریوڑ آگے جاتا ہے چرواہا پیچھے سے ان کو ہانکتا ہے
اسی طرح ایک لیڈر کرتا ہے وہ لوگوں کو صحیح راستہ پر اپنے عصا سے لاتا ہے – عصا مار کر وہ دہشت قائم نہیں کرتا نہ خطبہ میں سنت میں مقرر کردہ عصا کو چھوڑ کر تلوار پکڑ کر قوم کو دھمکاتا ہے

ترکی نے اعلان کیا ہے کہ مسجد آیا صوفیہ   میں عیسیٰ اور فرشتوں کی تصویریں برقرار رکھی جائیں گی (ریسٹوریشن پر اقوام متحدہ   کی کثیر  رقوم لگ چکی ہے  ) لہذا عیسیٰ کی تصویر کے نیچے نماز جاری رکھی جائے گی اس طرح سے امدنی حاصل ہوتی رہے گی – اللہ بھی خوش دنیا والے بھی خوش

4 thoughts on “جزیہ کا حکم”

  1. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرًا ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَعَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، فَحَدَّثَهُمَا بَجَالَةُ سَنَةَ سَبْعِينَ عَامَ حَجَّ مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ بِأَهْلِ الْبَصْرَةِ عِنْدَ دَرَجِ زَمْزَمَ ، قَالَ : كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ فَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنْ الْمَجُوسِ وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ .

    میں جابر بن زید اور عمرو بن اوس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ان دونوں بزرگوں سے بجالہ نے بیان کیا کہ 70 ھ میں جس سال مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بصرہ والوں کے ساتھ حج کیا تھا۔ زمزم کی سیڑھیوں کے پاس انہوں نے بیان کیا تھا کہ میں احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچا جزء بن معاویہ کا کاتب تھا۔ تو وفات سے ایک سال پہلے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک مکتوب ہمارے پاس آیا کہ جس پارسی نے اپنی محرم عورت کو بیوی بنایا ہو تو ان کو جدا کر دو اور عمر رضی اللہ عنہ نے پارسیوں سے جزیہ نہیں لیا تھا۔

    Sahih Bukhari#3156

    عمر رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے یعنی انکے نزدیک مجوس اہل کتاب میں سے نہ تھے؟جب کہ بخاری میں ہی اس سے اگے والی روایت میں عبدالرحمن بن عوف نے گواہی دی کہ نبیؐ مجوس سے جزیہ لیتے تھے:

    حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ .

    لیکن جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے پارسیوں سے جزیہ لیا تھا ( تو وہ بھی لینے لگے تھے ) ۔

    Sahih Bukhari#3157

    کیا یہ گواہی عبدالرحمن بن عوف نے عمر کو دی ہوگی؟

    2-جزیہ اور ٹیکس میں کیا فرق ہے کیا ٹیکس ہی جزیہ ہے اگر ہے تو مسلم ملکوں سے کیوں لیا جاتا ہے.

    3 بعض کے نزدیک

    ’’جزیہ‘‘ جزی یجزی فعل کا ’’فعلۃ‘‘ کے وزن پر مصدر ہے ’’فعلۃ‘‘ کاوزن بیانِ نوعیت کے لیے آتا ہے۔لہٰذا اس کا ترجمہ ’’ایک قسم کا بدلا‘‘ ہونا چاہیے۔گویا جزیہ ایک قسم کا بدلہ ہے؛ ان کی جان،مال،عزت وآبرو،عبادت خانوں اور پرسنل لاز کا بدلہ۔بیرونی حملوں اور دشمنوں سے ان کی سرحدوں کی حفاظت کا بدلہ۔جزیہ درحقیقت ایک معمولی سی رقم ہے جو اسلامی اسٹیٹ کا پرامن شہری بن جانے کی علامت کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔جزیہ لفظ کا ترجمہ ٹیکس یا خراج سے کرنا، اس لفظ کے ساتھ سراسر زیادتی ہوگی۔
    اس بارے ۔میں آپ کی کیا رائے ہے؟

    1. Islamic-Belief says:

      مجوس کا شمار اہل کتاب میں ہے
      یہ قول امام شافعی اور بہت سے علماء کا ہے

      ———-
      اہل کتاب سے جزیہ لے کر ان کے مذھب کی آزادی دی گئی ہے – سورہ المائدہ میں ہے

      یہ مالی مد میں ہوتا ہے لہذا ٹیکس ہوا
      اس پر شرمانے کی ضرورت نہیں

  2. السلام عليكم

    مجوس اہل کتاب ہےاور انکا ذبیحہ اور عورتوں سے نکاح حلال ہے دلیل درکار ہے جزاک اللہ

    1. Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری میں ہے
      3156 – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ أَوْسٍ فَحَدَّثَهُمَا بَجَالَةُ، – سَنَةَ سَبْعِينَ، عَامَ حَجَّ مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ بِأَهْلِ الْبَصْرَةِ عِنْدَ دَرَجِ زَمْزَمَ -، قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَمِّ الأَحْنَفِ، فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ، فَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ المَجُوسِ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الجِزْيَةَ مِنَ المَجُوسِ،

      3157 – حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ ”

      مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ
      حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ: مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِالْمَجُوسِ وَلَيْسُوا بِأَهْلِ كِتَابٍ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ»
      عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ نے کہا رسول اللہ آنے فرمایا مجوس پر اہل کتاب والی سنت لگے گی

      یعنی ان کا شمار اہل کتاب میں کیا گیا

      سنن الکبری بیہقی میں اثر ہے
      وَقَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ.
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر اور عمر نے مجوس سے جزیہ لیا ہے

      مجوس سے جزیہ لیا گیا ہے اور جزیہ کا حکم اہل کتاب پر ہے

      شرح مشكل الآثار از أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامة بن عبد الملك بن سلمة الأزدي الحجري المصري المعروف بالطحاوي (المتوفى: 321هـ) میں ہے

      قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: فَكَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ الْمَجُوسَ كَانُوا أَهْلَ كِتَابٍ , وَكَانَ هَذَا عِنْدَنَا – وَاللهُ أَعْلَمُ
      اس حدیث میں ہے قول علی ہے کہ مجوس اہل کتاب ہیں اور ہمارے نزدیک بھی یہی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

17 + twelve =