سخن‌شناس نه‌ای، جان من، خطا اینجاست

زبان و ادب میں بات کہنے کے بہت سے انداز  ہوتے ہیں  – بعض اوقات  آدمی  سادہ الفاظ میں بات کہتا ہے – بعض اوقات ادبی انداز اختیار کیا جاتا ہے – بعض اوقات  کہنے والا مختصر بات کہتا ہے کہ سامع  اور وہ خود ایک ہی بات کو سمجھ بوجھ رہے ہوتے ہیں – سننے والے سنتے ہیں سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں

ایسا علم حدیث میں ہوتا ہے – ایک روایت میں کچھ ہوتا ہے متن راوی  کچھ سمجھ جاتا ہے مثلا قرع النعال والی روایت اس کی مثال ہے کہ بات برزخی قبر کی تھی ،  چاپ فرشتوں  کی گونج کی تھی لیکن بعد والوں نے اس کو زمینی قبر پر منطبق کر دیا – عثمانی صاحب  نے اس شرح کو پسند کیا کہ روایت میں دراصل زمین کا ذکر نہیں ہے

اس طرح محدث روایت لکھ دیتا ہے-  اس کے دور کے لوگ اس روایت کو صحیح سمت میں سمجھ رہے ہوتے ہیں لیکن بعد والے متن سے وہ وہ ثابت کر دیتے ہیں  یا ایک الٹی  ہی سمت میں چلے جاتے ہیں – ایسا ہی کچھ حال مسئلہ دجال میں درپیش ہے – روایت میں بتایا گیا  ہے کہ ایک فراڈی کیا کیا کرے گا لیکن بعد والوں نے اس فراڈی  کے عمل کو اصل سمجھ لیا اور دعوی کر دیا کہ دجال مردے زندہ کرتا پھرے گا – افسوس ان کی عقل پر

عذاب قبر اور سماع الموتی کی بحث میں ہم پر واضح ہے کہ عقائد  ایک ادھ خبر واحد پر نہیں بنائے جاتے بلکہ  قرانی آیات سے ثابت کیے جاتے ہیں جب قران سے سند مل جائے تو پھر حدیث کو عقائد میں پیش کیا جاتا ہے اسطرح خبر واحد سے عقیدہ کا اثبات ہو جاتا ہے

عقائد یا عقیدے  کا لفظ نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں ہے بلکہ یہ لفظ متکلمین کی ایجاد ہے- اس کو نصرانی عقیدہ ، ہندو عقیدہ ، یہدودی عقیدہ  ان سب کے تحت بولتے ہیں – اس طرح عقیدہ وہی ہے جو متکلمین کے نزدیک پرچار ہوتا ہے  یا ایک انسان دوسرے کو بیان کرتا ہے – البتہ جو جاہل ہیں ان کو عقیدے کے لفظ کے حدود اربعہ کا بھی پتا نہیں اور اس بات پر سخت سیخ پا ہیں کہ عقیدہ کی یہ تعریف کیسے کر دی – جاہل کہتے ہیں کہ عقیدہ تو وہ ہے جو قرآن میں ہے – جی  قرآن میں نصرانی ہو یا مشرک ہو ان کے بھی عقیدے بیان ہوئے ہیں  اگرچہ ظاہر ہے وہ عقیدے درست نہیں بلکہ اللہ تعالی نے بتا دیا ہے کہ صحیح عقیدہ کیا ہے – لہذا اس پر تو بات ہو سکتی ہے کہ صحیح عقیدہ کیا ہے اور غلط عقیدہ کیا ہے لیکن لفظ عقیدہ کی یہ تعریف اپنی جگہ قائم ہے کہ یہ وہ بات ہے  جس پر انسان جم  جاتا ہے اس کو محراب و منبر سے پھیلاتا ہے

ایک جاہل نے کہا کہ راقم نے

امام بخاری کے حوالے سے  راقم نے کہا لکھا ہے کہ انہوں نے شرک پھیلاتا ؟ بلکہ  اگر کچھ لکھا ہے تو یہ لکھا ہے کہ ایک ادھ خبر صحیح میں ہے – یہ اسی طرح کی بات جس طرح  مثلا ڈاکٹر عثمانی نے لکھا کہ قرع النعال والی روایت سے امت کی آزمائش ہوئی ہے  – تو کیا نہیں ہوئی ؟

بالکل ہوئی کیونکہ اس کی وجہ سے جاہلوں نے غلط عقیدے لئے – تو اس قسم کا حال  روایات دجال سے بھی ہو رہا ہے کہ فراڈ کو حقیقی سمجھ رہے ہیں  – اس کے عمل کو معجزہ اور نشانی اور پتا نہیں کیا کیا قرار دے رہے ہیں

غور کریں کہ کس رجعت قہقری میں گر رہے ہیں کہ عمل دجال کی دینی توجیہات کر رہے ہیں  – کیا انبیاء اور دجال میں کوئی فرق نہیں ؟ حقیقت میں زمین و آسمان ملا کر عمل دجال کو درجہ قبولیت دینے  کی   مزموم سعی ان کے اپنے خسارے کے لئے کافی ہے – باطل فرقوں نے صوفیوں کے بارے میں بتایا کہ وہ مردے زندہ کرتے تھے  تو آج یہ دجال کو صوفیاء سے بھی بلند مرتبے پر لے گئے ہیں

ہر کام اللہ کے اذن سے ہو رہا ہے لیکن حب کوئی عظیم تغیر ہوتا ہے تو اس کی خبر اللہ تعالی دیتے ہیں –  مثلاعیسیٰ علیہ السلام نے مردے کو زندہ کیا تو بتایا کہ یہ اللہ کے حکم سے ہوا ہے – دجال نے کہیں دعوی کیا کہ وہ جو فراڈ کر رہا ہے وہ اللہ کے حکم سے ہے ؟ نہیں  – ڈالو اپنی نگاہ اس روایت پر جس کے بل بوتے پر عقائد گھڑ رہے ہو اس میں تو لکھا ہے کہ دجال کہے گا کہ میں نے زندہ کیا

 صحیحین میں اس روایت کو کیا سمجھ کر لکھا گیا ؟ اس کا جواب محدثین نے خود دیا ہے کہ انہوں نے اس کو معجزہ خضر سمجھ کر لکھا ہے نہ کہ معجزہ دجال – اس کو حدیث کی متعدد کتب میں بیان کیا گیا اور یہ ہماری دلیل ہوئی کہ محدثین نے فراڈ کو فراڈ ہی سمجھا  ہے ، اللہ کی نشانی نہیں

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *