Category Archives: بدعة

صخرہ بیت المقدس کی ایجاد

بیت المقدس کی مخصوص چٹان جس کو الصخرہ کہا جاتا ہے اور جو قبہ کے نیچے ہے اس کی اسلام میں کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ یہ شامی راویوں کی جن میں بیشتر ضعیف  اور روایات گھڑنے والے تھے صرف ان سے ہم تک آیا ہے – اصلا میں یہ پہاڑ موریہ پر ہے جو ایک کھوکھلا سا پہاڑ  ہے اور اس میں ایک غار  کو صخرہ کہہ دیا گیا ہے ایک کو اصطبل سلیمانی اور ایک مقام پر اس میں دیوار گریہ بھی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں کہ یہ معدوم اصل مسجد الاقصی  کی کوئی بچ جانے والی دیوار ہے – اصل میں جب یہود نے دیکھا کہ خود مسلمانوں نے موریہ پہاڑ پر موجود ایک مسجد کو مسجد الاقصی کہنا شروع کر دیا ہے تو  انہوں نے بھی اس کے قریب ایک دیوار کو ہیکل کی دیوار قرار دیا جبکہ ان کی کوئی تحریر خود تلمود میں موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ یہ مخصوص دیوار  کوئی مقدس مقام کی دیوار ہے – اس طرح اڑی اڑآئی   باتوں کی بنیاد پر عوام کو خوش کرنے مقدس مقام گھڑ لئے گئے ہیں

بیت المقدس پر حکمرانی (15 ہجری تا 12ویں صدی عیسوی)

حکمران / اقتدار مدت (ہجری)
  عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ 15–23 ہجری
  عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ 23–35 ہجری
  علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ 35–41 ہجری
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  41–60 ہجری
ابتدائی بنو امیہ (یزید اول، معاویہ ثانی، مروان اول) 60–65 ہجری
عبد الملک بن مروان 65–86 ہجری
ولید بن عبد الملک اور بعد کے اموی حکمران 86–132 ہجری
ابو العباس السفاح تا الواثق (عباسی خلفاء) 132–232 ہجری
خلافت عباسیہ (کمزور دور) 232–358 ہجری
اخشیدی سلطنت 323–358 ہجری
خلافت فاطمیہ 358–492 ہجری
سلجوقی سلطنت (وقفے وقفے سے) 463–492 ہجری
مملکتِ صلیبیہ یروشلم 492–583 ہجری
صلاح الدین ایوبی 583 ہجری کے بعد

 

فضائل بيت المقدس از ضياء الدين أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد المقدسي (المتوفى: 643هـ) میں بیت المقدس کی چٹان پر بہت سی روایات جمع کی گئی ہیں

بَابُ فَضْلِ صَخْرَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
26 – أَخْبَرَنَا أَبُو هَاشِمٍ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الجرباذقاني الْمُؤَدب بأصبهان أَن أَبَا الْخَيْرِ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ أَخْبَرَهُمْ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَهُوَ حَاضِرٌ أنبا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الذَّكْوَانِيُّ أنبا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مَرْدَوَيْهِ الْحَافِظُ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ … … . بْنِ إِبْرَاهِيمَ ثَنَا عبد الله بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَخْرِ بْنِ الْقَاسِمِ ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ثَنَا شَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ الْعَبَّاس قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْهَارُ أَرْبَعَةٌ سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ فَأَمَّا سَيْحَانُ فَنَهْرُ بَلْخٍ وَأَمَّا جَيْحَانُ فَدِجْلَةُ وَأَمَّا النِّيلُ فَنَهْرُ مِصْرَ وَأَمَّا الْفُرَاتُ فَفُرَاتُ الْكُوفَةِ فَكُلُّ مَا يَشْرَبُهُ ابْنُ آدْمَ فَهُوَ مِنْ هَذِهِ الْأَرْبَعَةِ الْأَنْهَارِ تَخْرُجُ مِنْ تَحْتِ الصَّخْرَةِ

باب: بیت المقدس کی چٹان کی فضیلت

26 — ہمیں ابو ہاشم الحسین بن محمد بن علی الجرباذقانی المؤدب نے اصفہان میں خبر دی کہ ابو الخیر محمد بن احمد نے انہیں پڑھ کر سنایا جبکہ وہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو الحسین احمد بن عبد الرحمن بن محمد الذکوانی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو بکر احمد بن موسیٰ بن مردویہ الحافظ نے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن … بن ابراہیم نے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبد اللہ بن محمد بن صخر بن القاسم نے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو عاصم الضحاک بن مخلد نے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں شبیب بن بشر نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

دریا چار ہیں: سیحان، جیحان، نیل اور فرات۔ پس سیحان بلخ کا دریا ہے، جیحان دجلہ ہے، نیل مصر کا دریا ہے، اور فرات کوفہ کا فرات ہے۔ آدم کی اولاد جو کچھ پیتی ہے وہ انہی چار دریاؤں سے ہے، اور یہ سب بیت المقدس کی چٹان کے نیچے سے نکلتے ہیں۔

سند میں عبد الله بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَخْرِ بْنِ الْقَاسِمِ مجہول ہے

دوسری روایت ہے

أَبَا الْحُسَيْنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَرَّاءِ أخْبرهُم قِرَاءَة عَلَيْهِ أنبا عبد العزيز بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ النَّصِيبِيِّ إِجَازَةً أنبا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَاسِطِيِّ الْمَقْدِسِيُّ الْخَطِيبُ ثَنَا عُمَرُ هُوَ ابْنُ الْفَضْلِ بْنِ المُهَاجر الربعِي ثَنَا أبي ثناالوليد هُوَ ابْنُ حَمَّادٍ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عبد الرحمن ثَنَا أَبُو عبد الملك الْجَزَرِيُّ عَنْ غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ
الْأَنْهَارُ كُلُّهَا وَالسَّحَابُ وَالْبِحَارُ وَالرِّيَاحُ مِنْ تَحْتِ صَخْرَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
28 – وَبِهِ ثَنَا الْوَليِدُ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا آدَمُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ
فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {إِلَى الأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ} قَالَ مِنْ بَرَكَتِهَا أَنَّ كُلَّ مَاءٍ عَذْبٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِ صَخْرَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
29 – وَبِهِ ثَنَا إِبْرَاهِيُم بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا زُهَيْرُ ثَنَا دَاوُدُ بْنُ هِلَالٍ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ نَوْفٍ الْبِكَالِيّ قَالَ
الصَّخْرَةُ يَخْرُجُ مِنْ تَحْتِهَا أَنْهَارٌ مِنَ الْجَنَّةِ سَيْحَانُ وَجيْحَانُ وَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ

ابو الحسین بن محمد بن محمد بن الحسین بن الفراء نے انہیں پڑھ کر سنایا کہ عبد العزیز بن احمد بن عمر النصیبی نے انہیں اجازت کے طور پر روایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ابو بکر محمد بن احمد بن محمد بن الواسطی المقدسی الخطیب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمر، یعنی ابن الفضل بن المہاجر الربعی، نے ہم سے روایت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ولید، یعنی ابن حماد، نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ محمد بن النعمان نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ سلیمان بن عبد الرحمن نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابو عبد الملک الجزری نے غالب بن عبید اللہ سے، انہوں نے ابو الزناد سے، انہوں نے الاعرج سے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تمام دریا، بادل، سمندر اور ہوائیں بیت المقدس کی چٹان کے نیچے سے نکلتی ہیں۔

28 — اسی سند کے ساتھ ولید نے بیان کیا کہ ابراہیم، یعنی ابن محمد، نے ہم سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ آدم نے ابو جعفر سے، انہوں نے ربیع بن انس سے، انہوں نے ابو العالیہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں روایت کیا:

“اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہان والوں کے لیے برکت رکھی”

انہوں نے کہا: اس کی برکت میں سے یہ ہے کہ ہر میٹھا پانی بیت المقدس کی چٹان کی جڑ سے نکلتا ہے۔

29 — اسی سند کے ساتھ ابراہیم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ زہیر نے ہم سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ داود بن ہلال نے صلت بن دینار سے، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے نوف البکالی سے روایت کی، انہوں نے کہا:

اس چٹان کے نیچے سے جنت کے دریا نکلتے ہیں: سیحان، جیحان، فرات اور نیل۔

سند میں راوی ضعیف ہے

قَال يَحْيى بْن مَعِين وغالب بن عُبَيد الله لَيْسَ بثقة.
حَدَّثَنَا ابْن حَمَّاد، حَدَّثَنا معاوية، عَن يَحْيى، قال: غالب بن عُبَيد الله ضعيف

ایک اور روایت میں ہے

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَمْدَانِيِّ بِقِرَاءَتِي عَلَيْهِ بِبَغْدَادَ قُلْتُ لَهُ أَخْبَرَكُمْ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ إِجَازَةً أنبا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ النَّصِيبِيُّ إِجَازَةً أنبا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ ثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ثَنَا الْعَبَّاس بن أَحْمد بن عبد الله ثَنَا عبد الله بْنُ عُمَيْرَةَ الْمَقْدِسِيُّ ثَنَا بَكْرُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
لَمَّا أُسْرِيَ بِي إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ مَرَّ بِي جِبْرِيلُ إِلَى قَبْرِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ انْزِلْ صَلِّ هَهُنَا رَكْعَتَيْنِ فَإِنَّ هَهُنَا قَبْرَ أَبِيكَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ مَرَّ بِي بِبَيْتِ لَحْمٍ فَقَالَ انْزِلْ فَصَلِّ هَهُنَا رَكْعَتَيْنِ فَإِنَّ هَهُنَا وُلِدَ أَخُوكَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ أَتَى بِي الصَّخْرَةَ فَقَالَ مِنْ هَهُنَا عَرَجَ رَبُّكَ إِلَى السَّمَاءِ فَأَلْهَمَنِي اللَّهُ أَنْ قُلْتُ نَحْنُ بِمَوْضِعٍ عَرَجَ مِنْهُ رَبِّي إِلَى السَّمَاءِ فَصَلَّيْتُ بِالنَّبِيينَ ثُمَّ عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاء

ہمیں سعید بن محمد بن محمد بن الہمدانی نے بغداد میں میرے ان پر پڑھنے کے ذریعے خبر دی۔ میں نے ان سے کہا: کیا آپ کو ابو الحسین محمد بن محمد بن الحسین بن محمد بن خلف نے اجازت کے طور پر روایت دی؟ انہوں نے کہا: ہمیں عبد العزیز بن احمد بن عمر النصیبی نے اجازت کے طور پر روایت دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن احمد بن محمد الواسطی نے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں عیسیٰ، یعنی ابن عبید اللہ الوراق، نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو الحسن علی بن جعفر الرازی نے بیت المقدس میں بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں العباس بن احمد بن عبد اللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبد اللہ بن عمیرہ المقدسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں بکر بن زیاد الباہلی نے عبد اللہ بن المبارک سے، انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب مجھے بیت المقدس کی طرف اسراء کرایا گیا تو جبرائیل علیہ السلام مجھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر کے پاس لے گئے اور کہا: یہاں اتر کر دو رکعت نماز پڑھیں، کیونکہ یہاں آپ کے باپ ابراہیم علیہ السلام کی قبر ہے۔ پھر وہ مجھے بیت لحم لے گئے اور کہا: یہاں اتر کر دو رکعت نماز پڑھیں، کیونکہ یہاں آپ کے بھائی عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ پھر وہ مجھے صخرہ (چٹان) کے پاس لائے اور کہا: یہاں سے آپ کے رب نے آسمان کی طرف عروج فرمایا۔ اللہ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں نے کہا: ہم اس جگہ پر ہیں جہاں سے میرے رب نے آسمان کی طرف عروج فرمایا۔ پھر میں نے انبیاء کے ساتھ نماز پڑھی، اس کے بعد مجھے آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔

سند میں  بكر بن زياد الباهلي ہے جو امام ابن المبارك. سے روایت کرتا ہے
قال ابن حبان: دجال يضع الحديث، ثم ساق عنه، عن ابن المبارك، عن سعيد،
عن قتادة، عن زرارة، عن أبي هريرة – مرفوعاً / مر بى جبرائيل ببيت لحم، فقال: انزل فصل ههنا ركعتين، فإن هنا ولد أخوك عيسى، ثم أتى بى قبر إبراهيم فقال: صل هنا، ثم أتى بى الصخرة فقال: من هنا عرج ربك (1) إلى السماء..الحديث

ابن حبان نے کہا بکر حدیثیں گھڑتا ہے

ایک اور روایت میں ہے
وَبِهِ أنبا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو شُرَحْبِيلٍ الْحِمْصِيُّ ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي شَمَرٍ الْأُرْدُنِيِّ عَنْ كَعْبٍ قَالَ
إِنَّ اللَّهَ تَبَارَك وَتَعَالَى نَظَرَ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَ إِنِّي واطيء عَلَى بَعْضِكِ فَاسْتَبَقَتْ إِلَيْهِ الْجِبَالُ وَتَضَعْضَعَتِ الصَّخْرَةُ فَشَكَرَ لَهَا ذَلِكَ فَوَضَعَ عَلَيْهَا قَدَمَهُ فَقَالَ هَذَا مَقَامِي وَمَحْشَرُ خَلْقِي وَهَذِهِ جَنَّتِي وَهَذِهِ نَارِي وَهَذَا مَوْضِعُ مِيزَانِي وَأَنَا دَيَّانُ الدِّينِ

 روایت ہے کہ عبد اللہ بن محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابراہیم، یعنی ابن محمد بن الحسن، نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابو شرحبیل الحمصی نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابو الیمان نے صفوان بن عمرو سے، انہوں نے شریح بن عبید سے، انہوں نے ابو شمر الاردنی سے، انہوں نے کعب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا:

بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین کی طرف نظر فرمائی اور کہا: میں تمہارے بعض حصے پر قدم رکھوں گا۔ پس پہاڑ اس کی طرف سبقت لے گئے اور چٹان جھک گئی، تو اللہ نے اس کا شکر ادا کیا اور اس پر اپنا قدم رکھا، پھر فرمایا:

یہ میری قیام گاہ ہے، یہ میری مخلوق کے جمع ہونے کی جگہ ہے، یہ میری جنت ہے اور یہ میری جہنم ہے، اور یہ میرے میزان کی جگہ ہے، اور میں ہی بدلہ دینے والا ہوں۔

سند میں أَبِي شَمَرٍ الْأُرْدُنِيِّ مجہول ہے

ایک اور روایت میں ہے

أَخْبَرَنَا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ الثَّقَفِيُّ بِأَصْبَهَانَ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَدِيبَ أَخْبَرَهُمْ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أنبا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَنْصُورٍ أنبا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أنبا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ المتَوَكل الْمقري ثَنَا يَحْيَي بْنُ وَاضِحٍ ثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ جُنَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي انْتَهَيْتُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَخَرَقَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّخْرَةَ بِأُصْبُعِهِ وَشَدَّ بِهَا الْبُرَاقَ

ہمیں ظاہر بن احمد الثقفی نے اصفہان میں خبر دی کہ حسین بن عبد الملک الادیب نے انہیں پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ابراہیم بن منصور نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو یعلیٰ الموصلی نے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبد الرحمن بن المتوکل المقری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں یحییٰ بن واضح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں الزبیر بن جنادہ نے عبد اللہ بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے کہا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں بیت المقدس پہنچا تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے چٹان میں سوراخ کیا اور اس کے ساتھ براق کو باندھ دیا۔

سند میں ہے
الزبير بن جنادة: عن عطاء، فيه جهالة.

راوی الزبیر مجہول الحال ہے

ایک اور روایت میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي شُكْرٍ التَّمِيمِيُّ بِأَصْبَهَانَ أَن أَبَا الْخَيْرِ مُحَمَّدَ بْنَ رَجِاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُونُسَ أَخْبَرَهُمْ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أنبا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الذَّكْوَانِيُّ أنبا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مَرْدَوَيْهِ الْحَافِظُ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عِيسَى بْنِ سَنَانَ الشَّامِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ
صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ فِي كَنِيسَةٍ يُقَالُ لَهَا كَنِيسَةُ مَرْيَمَ فِي وَادِي جَهَنَّمَ قَالَ ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَقَالَ عُمَرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فِي مَقْدِمِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ دَخَلْتُ إِلَى الصَّخْرَةِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَإِذَا أَنَا بِمَلَكٍ قَائِمٍ مَعَهُ آنِيَةٌ ثَلَاثٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ وَأَشَارَ بِالْآنِيَةِ قَالَ فَتَنَاوَلْتُ الْعَسَل فَشَرِبْتُ مِنْهُ قَلِيلًا ثُمَّ تَنَاوَلْتُ الْآخَرَ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى رُوِيتُ فَإِذَا هُوَ لَبَنٌ

ہمیں ابو بکر محمد بن محمد بن ابی القاسم بن ابی شکر التمیمی نے اصفہان میں خبر دی کہ ابو الخیر محمد بن رجاء بن ابراہیم بن عمر بن الحسن بن یونس نے انہیں پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو الحسین احمد بن عبد الرحمن بن محمد الذکوانی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو بکر احمد بن موسیٰ بن مردویہ الحافظ نے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن احمد بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں احمد بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں حسن بن سہل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو اسامہ نے عیسیٰ بن سنان الشامی سے، انہوں نے المغیرہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے کہا:

میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک گرجا میں نماز پڑھی جسے وادی جہنم میں “کنیسۃ مریم” کہا جاتا ہے۔ پھر ہم مسجد میں داخل ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے مسجد کے سامنے نماز پڑھی، پھر میں بیت المقدس میں صخرہ کے پاس داخل ہوا تو میں نے ایک فرشتہ کو کھڑے دیکھا جس کے پاس تین برتن تھے۔ اس نے کہا: اے محمد، اور برتنوں کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے شہد والا برتن لیا اور اس میں سے تھوڑا پیا، پھر دوسرے برتن کو لیا اور اس میں سے پیا یہاں تک کہ سیراب ہو گیا، اور وہ دودھ تھا۔

• وقال الأثرم أبو بكر: قلت لأبي عبد الله، يعني أحمد بن حنبل: أبو سنان عيسى بن سنان؟ فضعفه. «الجرح والتعديل» 6/ (1537) .

سند میں موجود ابو سنان کی خود امام احمد نے تضیف کی ہے

ایک اور روایت میں ہے
أنبا الْمُبَارَكُ بْنُ أَبِي الْمَعَالِي الْحَرِيمِيُّ بِبَغْدَادَ أَنَّ هِبَةَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُمْ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أنبا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَنَانَ عَنْ عُبَيْدِ بن آدم وَأبي مَرْيَم وَأبي شُعَيْب
أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ بِالْجَابِيَةِ فَذَكَرَ فَتْحَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
قَالَ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَحَدَّثَنِي أَبُو سَنَانَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ آدَم
قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِكَعْبٍ أَيْنَ تَرَى أَنْ أُصَلِّي فَقَالَ إِنْ أَخَذْتَ عَنِّي صَلَّيْتَ خَلْفَ الصَّخْرَةِ فَكَانَتْ الْقُدْسُ كُلُّهَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَقَالَ عُمَر ضَاهَيْتَ الْيَهُودِيَةَ لَا وَلَكِنْ أُصَلِّي حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَقَدَّمَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَصَلَّى كَذَا أَخْرَجَهُ الْإِمَامُ أحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ

ہمیں المبارک بن ابی المعالی الحریمی نے بغداد میں خبر دی کہ ہبۃ اللہ بن محمد نے انہیں پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں الحسن بن علی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں احمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبد اللہ بن احمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا، انہوں نے کہا کہ ہمیں اسود بن عامر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں حماد بن سلمہ نے ابو سنان سے، انہوں نے عبید بن آدم، ابو مریم اور ابو شعیب سے روایت کی:

کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ جابیہ میں تھے، تو انہوں نے بیت المقدس کی فتح کا ذکر کیا۔

ابو سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو سنان نے عبید بن آدم سے روایت کر کے بتایا کہ انہوں نے کہا:

میں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو کعب سے کہتے ہوئے سنا: تمہاری رائے میں میں کہاں نماز پڑھوں؟ کعب نے کہا: اگر آپ میری بات مانیں تو صخرہ کے پیچھے نماز پڑھیں، اس طرح پورا بیت المقدس آپ کے سامنے ہوگا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے یہودیوں سے مشابہت اختیار کی ہے! نہیں، بلکہ میں وہیں نماز پڑھوں گا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ پھر وہ قبلہ کی طرف آگے بڑھے اور نماز ادا کی۔

اس روایت کو امام احمد نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔

وقال ابن إبراهيم بن هانىء: سَمِعتُهُ يقول (يعني أحمد بن حنبل) : سعيد بن سنان، ليس حديثه بشيء

امام احمد نے کہا سعید بن سنان کی حدیث کوئی شی نہیں

اس طرح یہ تمام روایات ضعیف ہیں لیکن امت میں صخرہ بیت المقدس کی فضلیت انہی ضعیف روایات کے ذریعہ ذاکروں اور خطیبوں نے پھیلا رکھی ہے

عید میلاد النبی

330 Downloads

فاطمی شیعوں نے امت میں پہلی بار عید میلاد النبی کا اجراء کیا – ساتھ ہی اہل سنت میں شاہ اربل نے بھی اس کو کرنا شروع کیا – مظفر الدين أبو سعيد كوكبري رشتے میں سلطان صلاح الدين ايوبي کے بہنوئي تھے عید میلاد النبی پر مسلمانوں میں ساتویں صدی ہجری سے اختلاف چلا آ رہا ہے کہ یہ مستحسن ہے یا بدعت ہے –

فہرست

پیش لفظ 3
خلفائے اربعہ سے منسوب اقوال 9
قرآن میں عید میلاد النبی کا ذکر ہے ؟ 14
ثُوَيْبَةُ کا قصہ 16
سلف کا غلو 18
عید میلاد النبی پر سوالات 20
علم ہیت اور پیر کا دن 27
پیدائش النبی پر نور نکلا 28

بدعات کا ذکر

 

اس  کتاب  میں  بدعت سے متعلق  بحث کی گئی ہے  –  اس ویب سائٹ  پر  پہلے سے موجود ہے  جوابات میں اضافہ کے ساتھ اس کو شائع  کیا گیا ہے 

 

فہرست

پیش لفظ 6
نصرانی بدعت کا حق 11
ہر بدعت گمراہی ہے ؟ 13
قرآن سے الگ نیا حکم کرنا 19
بدعتی پر لعنت ہے 23
مسجد الحرام کے اندر کی جانے والی بدعات 24
دوران طواف کعبہ کو پکڑنا 24
نماز کے بعد حجر اسود کو چھونا 25
غلاف کعبہ پر آیات و حکمرانوں کے نام درج کرنا 26
حرم مدینہ کے اندر کی جانے والی بدعات 29
قبر النبی پر گنبد کی تعمیر 30
یروشلم سے متعلق بدعات 40
یروشلم سے احرام باندھنا 40
قبہ الصخرہ کا طواف کرنا 41
اذان سے متعلق بدعات 44
جمعہ کی نماز کی اذانیں 44
الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہنے کی بدعت 48
اذان سننے میں انگوٹھے چومنا 50
نو مولود کے کان میں اذان دینا 52
اذان کے بعد السلام عليك يا رسول الله کہنا 55
عید سے متعلق بدعات 56
عیدین میں اذان دینا 56
عید کی دو نمازیں پڑھانا 57
جمعہ سے متعلق بدعات 58
رمضان سے متعلق بدعات 59
مسجد الحرام میں رمضان کے وتر میں قبوت نازلہ پڑھنا 59
دعا ختم القرآن کرنا 62
مقابر کے حوالے سے بدعات 65
نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا 65
قبر پر مٹی ڈالتے وقت کی دعا 66
تدفین کے بعد دعا کرنا 67
قبروں پر جا کر نمازیں پڑھنا 70
قبر کے پاس قرات کرنا 72
قبروں پر پھول ڈالنا 75
اذکار سے متعلق بدعات 78
نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنا 78
شب جمعہ درود پڑھنا 82
بسم اللہ کی بجائے ٧٨٦ لکھنا 84
قرآن سے متعلق بدعات 87
قرآن کو زعفران سے لکھنا اور پینا 87
آیات کو جسم پر لکھنا 94
مساجد سے متعلق بدعات 96
چٹائی پر نماز پڑھنا 96
مینار بنانا بدعت ہے 98
محراب بنانا بدعت ہے 102
مساجد پر چاند کے طغرے لگانا 109
اسلامی ربع الحزب کا نشان 115
ہڑپہ کی تہذیب مسجد الحرام کی زیبائش 119
معاشرت میں بدعات کا ذکر 125
سالگرہ ماننا 125
جمعہ مبارک یا شادی مبارک کہنا 127
شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھنا 127
سبز عمامہ مسلسل باندھنا 129
فوٹو کیا تصویر سازی ہے ؟ 133
کھڑے ہو کر پانی پینا بدعت ہے ؟ 138
کالا خضاب لگانے کو حرام قرار دینا 139

کسی خاص قبر پر جانا

عثماني صاحب نے کتاب مزار يہ ميلے ميں لکھا

کچھ دوسرے لوگ کہتے ہيں کہ ہم فلاں بزرگ کے مزار پر جاتے ہيں تو اس لئے جاتے ہيں کہ آپ کے مزار کي زيارت کي بڑي فضليت ہے – يہ بات بھي صحيح نہيں ہے کيونکہ عام قبروں کي زيارت مستحب ہے مگر کسي خاص قبر کي زيارت حتي کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم کي قبر کي زيارت کے سلسلے کي جتني روايات ہيں وہ ضعيف ہيں – ان کے متعلق ائمہ حديث کا فيصلہ ہے کہ وہ موضوع يعني گھڑي ہوئي ہيں ايک حديث بھي صحيح نہيں … رہا قبر نبوي تک جانا تو يہ کام نہ صحابہ نے کيا ہے نہ تابعين نے

راقم کہتا ہے حج کے بعد زيارت قبر النبي سے متعلق تمام روايات پر ائمہ حديث کا جرح کا کلام ہے – ان روايات کو رد کيا گيا ہے ليکن جہاں تک عثماني صاحب کا يہ قول ہے کہ قبر نبي تک کوئي صحابي يا تابعي نہيں گيا تو يہ صحيح نہيں ہے کيونکہ متعدد تابعين نے حجرہ عائشہ تک کا قصد کيا ہے اور ام المومنين سے احاديث کو سنا ہے – قبر النبي حجرہ عائشہ رضي اللہ عنہا ميں ہي ہے – لہذا درست قول يوں ہوتا کہ صرف زيارت قبر النبي کے مقصد سے قبر نبوي تک جانا تو يہ کام نہ صحابہ نے کيا ہے نہ تابعين نے

بعض لوگوں نے موقف اختیار کیا کہ زیارت القبور فی المقابر جائز ہے یعنی اگر قبرین ، قبرستان میں ہوں تو صرف اس صورت میں ان کی زیارت کی جا  سکتی ہے – یہ محض گمان ہے

احناف میں الآثار لمحمد بن الحسن میں ہے
مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَبْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مُسَنَّمَةً نَاشِزَةً مِنَ الْأَرْضِ عَلَيْهَا فَلَقٌ مِنْ مَدَرٍ أَبْيَضَ [ص:185]، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ يُسَنَّمُ الْقَبْرُ تَسْنِيمًا، وَلَا يُرَبَّعُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
امام محمد نے امام ابو حنیفہ سے روایت کیا انہوں نے حماد سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے کہ ان کو اس نے خبر دی جس نے قبر النبی کو دیکھا اور ابو بکر و عمر کی قبر کو دیکھا

اس روایت کو امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمد نے بیان کیا ہے یعنی کوئی گیا اور اس نے جا کر قبر النبی کو دیکھا کہ کس طرح کی تھی – ظاہر ہے جب تک ان خاص قبروں کی زیارت نہ ہو تو معلوم ہی نہ ہو پائے گا کہ قبروں کی شکل کس نوعیت کی تھی

اسی کتاب میں امام محمد نے روایت کیا
مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «نَهَيْنَاكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا؛ فَقَدْ أُذِنَ لِمُحَمَّدٍ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ، وَعَنْ لَحْمِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَأَمْسِكُوهُ مَا بَدَا لَكُمْ، وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّا إِنَّمَا نَهَيْنَاكُمْ لِيَتَّسِعَ  مُوسِعُكُمْ عَلَى فَقِيرِكُمْ، وَعَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ، فَانْتَبِذُوا فِي كُلِّ ظَرْفٍ فَإِنَّ ظَرْفًا لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ [ص:314]، وَلَا تَشْرَبُوا الْمُسْكِرَ» قَالَ مُحَمَّدٌ:  وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ، لَا بَأْسَ بِزِيَارَةِ الْقُبُورِ لِلدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ وَلِذِكْرِ الْآخِرَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ، اب قبروں کی زیارت کرو اور هُجْر نہ بولو – کیونکہ محمد کو قبر ماں (آمنہ ) کی زیارت کی اجازت ملی – اور میں نے قربانی کے گوشت سے منع کیا تھا کہ اس کو رکھو، تو اب اس کو رکھو … امام محمد نے کہا ہم یہ سب کہتے ہیں کہ زیارت قبور میں کوئی برائی نہیں ہے میت پر دعا کے لئے اور آخرت کے ذکر کے لئے اور یہی امام ابو حنیفہ کا  قول ہے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ماں کی قبر پر جانا سلف امت امام محمد ، امام ابو حنیفہ ، کے لئے دلیل بنا کہ قبروں کی زیارت پر جا سکتے ہیں

اصحاب رسول رضي الله عنہم ميں کوئي بھي سماع النبي عند القبر کا قائل نہيں تھا – سب جانتے تھے کہ وفات النبي ہو چکي ہے – ابن عمر رضي اللہ  عنہ واقعہ حرہ کے وقت مدينہ ميں تھے ليکن مدينہ ميں حالات کي خرابي کي وجہ سے مکہ منتقل ہو گئے – وہاں ابن زبير خليفہ ہوئے اور ايک دور ميں ابن زبير کي حکومت حجاز ميں مکمل تھي – اس کے بعد ابن عمر رضي اللہ عنہ مدينہ بھي ذاتي کاموں کے مقصد سے جاتے تھے اور جب سفر کر کے وہاں پہنچتے تو قبر النبي صلي اللہ عليہ وسلم پر جا کر درود کہتے تھے

موطأ مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني ميں ہے
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ «كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا، أَوْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ جَاءَ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: هَكَذَا يَنْبَغِي أَنْ يَفْعَلَهُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ يَأْتِي قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبد الله بن دينار المتوفي 127 ھ نے کہا کہ ابن عمر جب سفر کا ارادہ کرتے اور سفر سے اتے تو قبر نبي صلي الله عليہ وسلم تک جاتے اور وہاں درود پڑھتے اور  دعا کرتے پھر جاتے
امام محمد نے کہا : يہ اس طرح ہونا چاہيے کہ جب وہ مدينہ (سفر کر کے ) جاتے ہوں تب قبر نبي صلي الله عليہ وسلم پر آتے ہوں

امام محمد نے ايسا کہا کيونکہ ابن عمر رضي الله عنہ مدينہ سے مکہ منتقل ہو گئے تھے – موطا کي اور اسناد عن: معن والقعنبي، وابن بكير، وأبي مصعب. وقال
ابن وهب ميں ہے ثم يدعو لأبي بكر وعمر
پھر ابن عمر رضي الله عنہ ، ابو بکر اور عمر کے لئے دعا کرتے

امام مالک اور ان کے شاگرد امام محمد جو امام ابو حنيفہ کے شاگرد بھي تھے – قبر النبي ، مسجد النبي کا حصہ نہيں بلکہ حجرہ عائشہ کا حصہ ہے  متعدد تابعين نے اس حجرہ کا قصد کيا اور ام المومنين عائشہ رضي اللہ عنہا سے اکتساب علم کيا ہے لہذا حجرہ عائشہ تک جانا بدعت و کفر قرار نہيں  ديا جا سکتا – اگر کوئي قبر النبي تک بلا کسي نيکي کے تصور سے جائے تو اس ميں کوئي قباحت نہيں ہے – جس طرح انسان کسي بھي قبر پر جا کر دعا  سلامتي کرتا ہے اسي طرح قبر النبي پر جا کر درود پڑھے گا کيونکہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کے امت کو دعا اسي انداز ميں سکھائي گئي ہے – واضح رہے کہ اس دعائے درود کو پڑھنا ، يہ ثابت نہيں کرتا کہ اس کو کہنے والا سماع کا عقيدہ رکھتا ہے – يہ ثابت ہے کہ ابن عمر رضي اللہ عنہ نے  اس درود کو پڑھا ہے اور وہ يقينا سماع الموتي کا عقيدہ نہيں رکھتے تھے

موطا کے بعض نسخوں ميں ہے
وحدثني عن مالك، عن عبد الله بن دينار، قال: رأيت عبد الله بن عمر «يقف على قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فيصلي على النبي صلى الله عليه وسلم، وعلى  أبي بكر وعمر
عبد اللہ بن دينار نے کہا ميں نے ابن عمر کو ديکھا وہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم کي قبر پر رکتے پھر نبي صلي اللہ عليہ وسلم پر درود کہتے اور ابو بکر اور عمر پر بھي درود کہتے

اس روايت پر اختلاف الفاظ ہے کہ کيا عمر و ابو بکر رضي اللہ عنہما پر بھي درود کہتے تھے يا دعا کرتے تھے

عن: معن والقعنبي، وابن بكير، وأبي مصعب. وقال ابن وهب: ثم يدعو لأبي بكر وعمر.
موطا کے راوي معن اور القعنبي اور ابن بكير اور أبي مصعب. کہتے ہيں پھر ابو بکر و عمر کے لئے دعا کرتے

وقال روح بن عبادة: ثم يسلم على أبي بكر وعمر.
اور روح بن عبادة کي سند سے ہے کہ ابو بکر و عمر پر سلام کہتے

وقال أيوب بن صالح: يقف على قبر النبي ويدعو لأبي بكر وعمر.
اور أيوب بن صالح کي سند سے ہے کہ قبر نبوي پر رکتے اور ابو بکر و عمر کے لئے دعا کرتے

ابن عمر ارادہ سفر پر ايسا کرتے تھے اور سندوں سے بھي معلوم ہے مثلا موطا سے باہر کتب ميں بھي اس کو روايت کيا گيا ہے

حماد بن زيد، عن أيوب، عن نافع “أن ابن عمر كان إذا قدم من سفر دخل المسجد ثم أتى القبر فقال: السلام عليك يا رسول الله، السلام عليك يا أبا بكر، السلام عليك  يا أبتاه”.

ان الفاظ ميں اختلاف اس پر ہے کہ ابو بکر و عمر پر درود کہا جا سکتا ہے يا نہيں ؟

غير نبي کے لئے صلي اللہ کے الفاظ کہنا سنت النبي سے ثابت ہيں – حديث ابن ابي اوفي ميں ہے
اللهم صل على آل أبي أوفى
اے اللہ ال ابي اوفي پر درود بھيج

لہذا اگر وہ صلي علي ابو بکر و عمر کہتے تھے تو يہ سنت سے معلوم ہے – دوسرا مسئلہ جو امام مالک کے سامنے پيش ہوا وہ يہ تھا کہ کيا اہل مدينہ کا  آجکل کا عمل درست ہے جو سفر سے انے يا سفر پر جاتے وقت تو قبر النبي پر درود نہيں کہتے بلکہ جمعہ کے دن ميں وہاں جمع ہو جاتے ہيں

الصَّارِمُ المُنْكِي في الرَّدِّ عَلَى السُّبْكِي از شمس الدين محمد بن أحمد بن عبد الهادي الحنبلي (المتوفى: 744هـ) ميں ہے

وقال مالك في المبسوط أيضاً، ولا بأس لمن قدم من سفر أو خرج إلى سفر أن يقف على قبر النبي صلى الله عليه وسلم فيصلي عليه ويدعو له ولأبي بكر وعمر قيل  له: فإن ناساً من أهل المدينة يقدمون من سفر ولا يريدون يفعلون ذلك في اليوم مرة أو أكثر، وربما وقفوا في الجمعة أو الأيام المرة والمرتين أو أكثر عند القبر فيسلمون ويدعون ساعة، فقال: لم يبلغني هذا عن أهل الفقه ببلدنا وتركه واسع، ولن يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها، ولم يبلغني عن أول هذه الأمة وصدرها أنهم كانوا  يفعلون ذلك، ويكره إلا لمن جاء من سفر أو أراده

امام مالک نے المبسوط ميں فرمايا کوئي برائي نہيں کہ کوئي جو سفر سے آيا ہو يا سفر پر نکل رہا ہو ہو قبر النبي صلي اللہ عليہ وسلم پر رکے اور درود کہے اور ابو بکر و عمر پر دعا کرے – ان سے کہا گيا اہل مدينہ ميں لوگ ہيں جو سفر سے اتے ہيں اور وہ يہ کام نہيں کرنا چاہتے اور کبھي کبھار وہ جمعہ ميں قبر پر رکتے ہيں اور بعض دنوں ميں ايک يا دو بار اور ايک ساعت تک قبر پر درود کہتے ہيں – امام مالک نے کہا اس امت کي اصلاح نہ ہو گي مگر جيسي پہلوں کي ہوئي اور اس امت کے پہلے والے اس کام (قبر النبي پر رکنا اور درود کہنا ) کو صرف سفر سے انے پر يا ارادہ سفر پر کرتے تھے

يعني جو (مدينہ کا باسي) مدينہ سے سفر کي غرض سے باہر نکل رہا ہو يا اس ميں سفر کر کے داخل ہوا ہو اس کے لئے يہ گناہ کي بات نہيں کہ قبر النبي تک جائے اور درود پڑھے ليکن خاص اسي مقصد کے لئے دور دراز سے مدينہ تک کا سفر کرنا سنت اصحاب رسول نہيں تھا

اسی طرح کسی خاص قبر کی زیارت کی دلیل میں جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے کہ انہوں نے عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کو ان کی  قبر سے نکالا اور دوسرے مقام پر قبر دی – ظاہر ہے یہ سب کرنا ممکن نہیں جب تک اس قبر تک نہ جایا جائے

آٹھويں صدي ہجري ميں امام ابن تيميہ نے اس پر فتوي ديا تھا کہ اہل شام کا سفر کر کے خاص مدينہ قبر النبي کو ديکھنے کي غرض سے جانا بدعت ہے   ليکن اس ميں دليل ابن تيميہ نے اس روايت کو بنايا کہ تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے جبکہ يہ روايت ثابت نہيں تھي – اسي طرح ابن تيميہ نے اس روايت کو دليل بنايا کہ

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: المَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى
سواري نہ کسي جائے مگر تين مسجدوں کے لئے ايک مسجد الحرام دوسري مسجد النبي اور تيسري مسجد الاقصي

اس حديث کا متن بھي شاذ ہے کيونکہ مسجد الاقصي اصحاب رسول کو معلوم نہيں تھي کہ کہاں ہے ، کس مقام پر ہے؟ تو ظاہر ہے کوئي مسجد اقصي  کے سفر کا قصد کر ہي نہيں سکتا تھا – خود نبي صلي اللہ عليہ وسلم سواري پر مسجد قبا تک جاتے تھے جو اس دور ميں مدينہ کے مضافات ميں مدينہ  سے باہر کي مسجد سمجھي جاتي تھي اور وہاں امام بھي سالم رضي اللہ عنہ کو مقرر کيا گيا تھا

صحيح بخاري ميں ہے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ قَالَ: «كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَؤُمُّ المُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ، وَأَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَبُو سَلَمَةَ، وَزَيْدٌ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ

موطا ميں ہے کہ دور نبوي ميں
كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ
ايک انصاري مسجد قباء ميں امامت کرتے تھے

صحيح بخاري ميں ہے
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ كُلَّ سَبْتٍ، مَاشِيًا وَرَاكِبًا
نبي صلي اللہ عليہ وسلم ہر ہفتہ کو سواري پر يا پيدل مسجد قبا جاتے تھے

اصحاب رسول بھي ايسا کرتے مثلا صحيح بخاري ميں ہے کہ ابن عمر رضي اللہ عنہ پر ہفتے مسجد قباء جاتے تھے
فَإِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ

اس طرح معلوم ہوا کہ سواري کسي بھي مسجد کے لئے کسي جا سکتي ہے اور لا تشد الرحال والي روايت شاذہ پر خود نبي صلي اللہ عليہ وسلم کا اور  ان کے اصحاب کا عمل نہيں ہے

رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے اپني ماں کي قبر تک گئے اور امام نسائي اس پر زيارت قبر مشرک کا باب قائم کيا ہے -کسي بھي قبرستان ميں مسلمان موت کو ياد کرنے داخل ہو سکتے ہيں – اب بحث اس ميں ہے کہ کيا کوئي مومن اپنے ماں باپ کي قبر پر جا سکتا ہے تو شرع ميں اس پر کوئي قباحت نہيں ہے کہ اس کو کفر و شرک قرار ديا جائے

مزارات وہ عمارتین ہیں جو صوفیاء کے اولیاء سے منسوب ہیں – وہاں ان اولیاء کے حوالے سے غلو پر مبنی کلام ہوتا ہے جس کو قوالی کہتے ہیں – پرستش کے مماثل کلمات ادا کیے جاتے ہیں – شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں – شرع میں قبر دیکھنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن مزارات کا ماحول ایمان کشا ہے – شرع میں خود اپنے آپ کو فتنہ میں ڈالنا منع ہے