زندگی، نیند ، بے ہوشی،موت

دکتور فاضل صالح السامرائي  جو قرآنی عربی  اور عربی زبان کے ماہر ہیں ، عراقی اسکالر ہیں، لغوی  ہیں ان کا کہنا ہے کہ  لغت کے  تحت توفی  کا مطلب موت نہیں ہے  اصلا  معنی  اخیتار و   شعور کو واپس لینا ہے – اس ویڈیو میں ان کو سن سکتے ہیں – لفظ توفی پر  یہ موقف راقم بھی رکھتا ہے

اس کتاب میں مختصرا زندگی کی ابتداء ، نیند ، بے ہوشی و موت پر آیات قرانی کی روشنی میں بات کی گئی ہے- کتاب کا مقصد قرانی آیا کو یکجا کرنا ہے – ہر انسان کو معلوم ہے زندگی کیا ہے ، نیند کیا ہے – ہم سے بعض کبھی بے ہوش بھی ہوئے ہوں گے لیکن قرآن میں ان سب پر توفی کا لفظ وارد ہوا ہے جس کا مطلب جکڑ لینا ، بھینچ لینا یا مٹھی میں لینا ہے عرف عام میں اس کو قبض کرنا کہا جاتا ہے –

اس  کتاب  میں  روح  اور الروح  کے فرق  کو واضح  کیا گیا  ہے

روح القدس   یعنی  جبریل  کا  ذکر  ہے

توفی  کے  مختلف    مدارج  پر بات کی گئی  ہے

4 thoughts on “زندگی، نیند ، بے ہوشی،موت

  1. Shahzadkhan

    بھائی اک اہل حدیث صاحب کا اجرت کے متعلق عبدالرحمن بن شبل کی روایت پر اعتراض ہے کہ : یحی بن ابی کثیر کی روایت میں ہم نے دو پوائنٹس اٹھائے تھے
    1)یحی بن ابی کثیر مدلس ہے *وقد عنعن*

    2)قرات قرآن اور تعلیم القرآن دونوں الگ چیزیں ہیں اسلئے یحی بن ابی کثیر کی روایت میں صرف قرات قرآن کی بات ہے جس سے مراد نماز کے اندر قرات بھی ہوسکتی ہے،دو تین کے سامنے قرات بھی ہوسکتی ہے ونحوھا جب کہ تعلیم القرآن خاص ہے جس میں الفاظ کے ساتھ ساتھ معنی مفہوم تاویل اور شان نزول وغیرہ سکھائی جاتی ہے
    3)شعیب الارنووط نے جس صراحت کا حوالہ دیا ہو وہ صحیح یا حسن سند سے پیش کریں وگرنہ ہم سے شعیب الارنووط کی تقلید کی توقع بالکل بھی نہ رکھے۔۔۔جزاک اللہ

    Reply
    1. Islamic-Belief Post author

      قرات قرآن اور تعلیم القرآن دونوں الگ چیزیں ہیں ؟ کیا قرن اول میں اس طرح کے بکاؤ قاری موجود تھے جو سڑکوں پر لوگوں کو قرآن سنا کر درہم طلب کرتے ہوں ؟
      قرات قرآن اور اس کی تعلیم کو دور نبوی میں الگ نہیں سمجھا جاتا تھا
      واقعہ معونہ میں ستر قاری شہید ہوئے تھے وہ ان قبائل کو قرآن کی تعلیم کی غرض سے ہی جا رہے تھے

      شعیب کے کس قول کی بات ہو رہی ہے ؟

      یہ سوال
      QA
      میں پوسٹ کریں

      یہ غیر متعلق بلاگ ہے

      Reply
  2. Shahzadkhan

    ابو شہریار بھائی آپ نے کتاب میں سورہ الزمر کا حوالہ دیا
    اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائے گا جو کوئی آسمانوں اور جو کوئی زمین میں ہے مگر جسے اللہ چاہے، پھر وہ دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔
    یہاں یہ بات سمجھنی تھی کہ صور پھونکنے پر لوگ بیہوش ہو کر دوسری صور پر دوبارہ کھڑے ہو جائیں گے ۔۔اس کے بعد بھی صور پھونکا جائے گا؟؟ کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا ۔۔یعنی بہوشی سے بیداری کے بعد اگلے صور کی پھونک سے تمام پر موت واقع ہو جائے گی؟؟

    Reply
    1. Islamic-Belief Post author

      قرآن میں تین صور کا ذکر ہے

      صور ایک عظیم ارتعاش
      Vibration
      ہوں گے

      پہلے صور پر تمام کائنات میں خوف و دہشت طاری ہو گی – سات آسمان لرز جائیں گے
      وہ جو جنت میں ان کو اور وہ جو جہنم میں ہیں ان سب تک بھی یہ ارتعاش جائے گا
      سب کو معلوم ہو گا کہ پہلا صور پھونکا گیا ہے
      اس سے سب مخلوق لرزے گئے

      دوسرے صور پر تمام انسان و جن مر جائیں گے (یعنی روحیں اللہ کی طرف سے براہ راست قبض ہو جائیں گی کن فیکون ہو گا) اور جس آیت کا آپ نے ذکر کیا میں سمجھتا ہوں یہ دوسرے صور پر ہی ہے لیکن فرشتوں سے متعلق بھی ہے – فرشتے جو زمین و آسمان میں ہیں وہ بے ہوش ہو جائیں گے سوائے وہ جن کو اللہ اس سے بچائے گا
      اس وقت تمام انسان ، جنات حالت موت میں ہوں گے اور جو انسانی ارواح/ برزخی جسم جہنم و جنت میں ہیں وہ اور فرشتے حالت بے ہوشی میں جائیں گے
      اس میں کچھ بے ہوش نہ ہوں گے جن میں میں سمجھتا ہوں خود اسرافیل شامل ہوں گے اور عرش کو اٹھانے والے فرشتے

      تیسرے صور پر سب واپس زندہ یا حالت بے ہوشی سے نکلیں گے – انسان و جنات محشر میں زندہ ہوں گے اور فرشتے بے ہوشی سے نکلیں گے

      و اللہ اعلم

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *