ڈاکٹر عثمانی اور ایک خبر منکر

ڈاکٹر عثمانی سے قبل پتا نہیں کتنی صدیوں تک عوام میں یہ خبر پھیلائی جاتی رہی کہ انبیاء قبروں میں زندہ ہیں ، قرآن کا ترجمہ نہ کیا گیا ، اس کو چھت کے قریب  طاق پر رکھ دیا گیا ، لوگ قبروں پر معتکف رہے لیکن جان نہ پائے  کہ انبیاء قبروں میں زندہ ہیں محدثین کے نزدیک ایک خبر منکر ہے
اس منکر روایت کے دفاع میں فرقوں کی جانب سے ہر سال نیا مواد شائع ہوتا رہتا ہے – مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار از أبو بكر أحمد بن عمرو بن عبد الخالق بن خلاد بن عبيد الله العتكي المعروف بالبزار (المتوفى: 292هـ) میں ہے
حَدَّثنا رزق الله بن موسى، حَدَّثنا الحسن بن قتيبة، حَدَّثنا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَن الحَجَّاج، يَعْنِي: الصَّوَّافَ، عَنْ ثابتٍ، عَن أَنَس؛ أَن رَسولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم قَالَ: الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ.
أَنَس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انبیاء زندہ ہیں اپنی قبروں میں ، نماز پڑھتے ہیں

– اس روایت کو امام الذھبی نے منکر قرار دیا ہے جنہوں نے جرح و تعدیل پر کتب لکھی ہیں – البتہ فرقوں میں اس بات کو چھپایا جاتا ہے – ميزان الاعتدال في نقد الرجال
شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ) لکھتے ہیں
حجاج بن الأسود.
عن ثابت البناني.
نكرة.
ما روى عنه فيما أعلم سوى مستلم بن سعيد، فأتى بخبر منكر، عنه، عن أنس في أن الانبياء أحياء في قبورهم يصلون.
حجاج بن الأسود یہ ثابت سے روایت کرتا ہے ، منکر روایتیں اور جو روایت کیا  اس سے صرف مستلم بن سعيد  نے کہ  پس ایک منکر خبر لایا ہے جو انس سے مروی ہے کہ انبیاء زندہ ہیں اپنی قبروں میں ، نماز پڑھتے ہیں

خالد الملیزی نام کے ایک صاحب نے ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے لکھا
اپ نے ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی صاحب کی کتاب یہ مزار یہ میلے ص 24 سے 25 کی جو عبارت پیش کی ہے جس میں انہوں نے مستلم بن سعید کو ضعیف کہا ہے اس بارے میں عرض ہے
الجواب: مستلم بن سعید صدوق و حسن الحدیث تھے اور ان کو ضعیف الحدیث گرداننا جھوٹ یا جھل ہے
جہاں تک مستلم سے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی کی بات ہے تو ان کی آدھی گواہی پیش کرنا اور آدھی چھپالینا یقینا خیانت اور کتمان ہے
ابن حجر عسقلانی نے مستلم بن سعید کے بارے میں فرمایا ہے
صدوق عابد ربما وھم (تقریب التھذیب ص 934،تھذیب التھذیب 56/4)
صدوق،عابد تھے اور کھبی کھبی وھم کرتے تھے
یہاں پر حافظ ابن حجر عسقلانی نے توثیق کی ہے جبکہ ربما وھم کوئی جرح نہیں ہے
لیکن ابن حجر کے الفاظ ربما وھم کا اظہار کرنا اور صدوق عابد چھپالینا فریب ہے
المزید: مستلم بن سعید کے بارے میں
امام الجرح والتعدیل یحی ابن معین نے فرمایا ہے صویلح (تاریخ ابن معین بروایة الدوری 161/4)
یاد رہے صویلح دراصل تعدیل برائے احساس جرح ہے عند بعض الناس اسلئے اس کو صرف جرح پر محمول کرنا درست نہیں ہے
احمد ابن حنبل نے فرمایا شیخ ثقة من اھل واسط قلیل الحدیث (سوالات ابی داود ص 321)
امام ابوداود نے خود ثقہ کہا ہے(سوالات ابی داود ص 321)
امام نسائی نے فرمایا لیس به بأس (الجرح والتعدیل 438/8)
امام حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے(الثقات لابن حبان 520/7) جبکہ ربما خالف کوئی چیز نہیں ہے
امام ذھبی نے صدوق کہا ہے(الکاشف 255/2)
معلوم ہوا کہ مستلم بن سعید صدوق و حسن الحدیث تھے اور ان کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی کی رائے میں صدوق عابد کے مقابلے میں ربما وھم کا ہونا اور نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا جبکہ صدوق عابد کو چھپا کر ربما وھم کے تحت فتوی دینا کتمان مبین ہے

راقم اس سب پر کہتا ہے کہ یہ درست ہے کہ مستلم بن سعید کو ثقہ کہا گیا ہے لیکن ثقہ کہہ کر محدث یہ نہیں کہتا کہ جو بھی  اس کی سند سے آئے اس کو قبول کر لیا جائے بلکہ متعدد ثقات کی منکر روایات کا علل کی کتب میں ذکر ہے

تهذيب الكمال في أسماء الرجال میں ہے
قال عبّاس: وسمعت يزيد بن هارون يقول: كان مستلم عندنا ها هنا بواسط، وكان لا يشرب إلا في كلّ جمعة
يزيد بن هارون کہتے تھے یہ مستلم واسط میں ہمارے ساتھ تھا اور صرف جمعہ کے دن پانی پیتا تھا

وقال الحسن بن عليّ، عن يزيد بن هارون: مكث المستلم أربعين سنة لا يضع جنبه على الأرض
يزيد بن هارون نے کہا : چالیس سال تک اس نے پہلو زمین سے نہ لگایا
تالي تلخيص المتشابه از أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ) میں ہے
الْحسن بن الْخلال حَدثنَا يزِيد بن هَارُون قَالَ مكث المستلم بن سعيد أَرْبَعِينَ سنة لَا يضع جنبه إِلَى الأَرْض قَالَ وسمعته يَقُول لم أشْرب المَاء مُنْذُ خَمْسَة وَأَرْبَعين يَوْمًا
يزِيد بن هَارُون کہتے ہیں میں نے المستلم بن سعيد کو کہتے سنا کہ میں نے ٤٥دن سے پانی نہیں پیا

اب جب یہ حال ہو تو اس کی روایت جائز نہیں ہے کیونکہ یہ سنت النبی پر عمل نہ کرتا تھا – انبیاء نے زمین پر آرام کیا ہے اور پانی پیا ہے
ایسا نہیں کہ صرف جمعہ کے دن پانی پیتے ہوں یا چالیس سال تک لیٹے نہ ہوں
اس قسم کے بدعتی اور حواس باختہ راویوں کا دفاع فرقوں کی جانب سے کیا جانا آنکھوں دیکھی مکھی کھانے کے ساتھ ساتھ اس مکھی کو لذیذ قرار دینے کے بھی مترادف ہے

مستلم کی اس حالت کو دیکھ کر سلیم الفطرت مسلمانوں کے ذہن میں جو مستلم کی شکل بنتی ہے وہ ایک ہندو سادھو والی ہے نہ کہ متقن راوی کی

امام شعبہ ، المستلم کے بارے میں کہتے تھے
ما كنت أظن ذاك يحفظ حديثين
یہ اس قابل بھی نہیں کہ دو حدیثین یاد رکھ سکے

امام ابن معین نے مستلم کوصویلح  قرار دیا ہے

تاريخ ابن معين (رواية عثمان الدارمي) ، المحقق: د. أحمد محمد نور سيف ، الناشر: دار المأمون للتراث – دمشق میں ہے
امام ابن معین کے شاگرد عثمان الدارمي راوی محمد بن أبي حَفْصَة پر سوال کرتے ہیں تو امام ابن معین کہتے ہیں
قَالَ صُوَيْلِح لَيْسَ بِالْقَوِيّ
صُوَيْلِح ہے قوی نہیں ہے
اس سے معلوم ہوا کہ ابن معین کے نزدیک صُوَيْلِح وہ راوی ہے جو قوی نہیں ہے – اور ظاہر ہے غیر قوی راوی سے دلیل نہیں لی جا سکتی

سير أعلام النبلاء میں المُسْتَلِم بن سَعِيْدٍ کی ایک اور روایت کو بھی الذھبی نے منکر کہا ہے
قَرَأْنَا عَلَى عِيْسَى بنِ يَحْيَى، أَخبركُم مَنْصُوْرُ بنُ سَنَد، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ السِّلَفِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ أَحْمَدَ الحَافِظ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بنُ عَبْدِ اللهِ بن عُمَرَ الوَاعِظ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ العَسَّال، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَبْدِ اللهِ بنِ رُسْتَه، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ المُسْتَلِم بن سَعِيْدٍ، عَنِ الحَكَمِ بنِ أَبَانٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:
أَنَّ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: (مَا مِنْ وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ إِلَى وَالِدِهِ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلاَّ كَانَتْ لَهُ بِكُلِّ رَحْمَةٍ حَجَّةٌ مَبْرُوْرَةٌ) ، قِيْلَ: وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ مائَةُ رَحمَةٍ (1) ؟ قَالَ: (نَعَمْ، إِنَّ اللهَ أَطْيَبُ وَأَكْثَرُ (2)) .
هَذَا مُنْكَرٌ.

امام الذھبی اس کی منکر روایات کا مسلسل ذکر رہے ہیں – ان کا مدعا یہ رہا ہے کہ محض راوی کو ثقہ کہہ دینے سے اس کی تمام روایات قابل قبول نہیں ہیں اور جیسا ہم نے دیکھا کہ اس نے پانی تک نہیں پیا – اب جو پانی نہ پئے اس کی دماغی حالت کیا ہو گی – اس قسم کے جوگی کی روایت سن کر وجد میں آ جانے والے ملا قبروں پر دھمال ڈال رہے ہیں ، ہو ھا کی ضربیں لگا رہے ہیں لیکن ہم ان کے اس رقص قبور میں شامل نہ ہوں گے

کیا انسانی عدالتوں میں اس شخص کی گواہی معتبر ہے جس نے چالیس دن پانی نہ پیا ہو ، ہوش و حواس میں نہ ہو ؟ ظاہر ہے نہیں – جب ہم انسانی جھگڑوں کا فیصلہ اس قسم کے گواہ سے نہیں لیں گے تو پھر ایک مجذوب کے قول کو کیوں حدیث نبوی سمجھیں جس نے پانی کو چھ دن حرام کر لیا ہو اور ٤٠ سال لیٹ کر سویا   نہ ہو ؟

1 thought on “ڈاکٹر عثمانی اور ایک خبر منکر”

  1. Shahzadkhan says:

    جزاک اللہ ابو شہریار بھائی موصوف خالد الملیزی صاحب مختلف گروپس میں اپنی ناقص تحقیق کا کوڑا اچھالتے رہتے ہیں ان شاء اللہ اسی طرح آپ اس کوڑے کو پھیلنے سے روکتے رہینگے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

1 × 5 =