ایک کوشش اور

[wpdm_package id=’8837′]

قرآن سے متصادم ایک منکر روایت جس میں مردے میں روح کے انے کا ذکر ہے اس کا دفاع فرقہ پرستوں کے پلیٹ فارم سے ہوتا رہتا ہے اگرچہ وہ اس روایت کو صحیح کہتے اس کے راویوں کا دفاع کرتے ہیں لیکن اس روایت کے متن کو پیش کر کے اس پر بحث نہیں کرنا چاہتے کہ اس میں کیا کیا منکرات بیان ہوئی ہیں – اس روایت کا متن نکارت رکھتا ہے اس کا اقرار خود فرقوں کے امام امام الذھبی نے کیا ہے

پہلے ہم دفاع شیعہ راویان کی چند جدید کوششوں پر نظر ڈالتے ہیں

اہل حدیث عالم نورپوی مضمون حدیث عود روح، ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ میں لکھتے ہیں
لنک

مختلف ادوار کے ایک درجن سے زائد محدثین اور اہل علم کی طرف سے اس حدیث کی صحت کی توثیق ہو چکی ہے۔ کسی ایک بھی اہل فن محدث نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا۔ اہل سنت و الجماعت کا ہر دور میں اتفاقی طور پر یہی عقیدہ رہا ہے، لیکن موجودہ دور میں ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے اس کے دو راویوں منہال بن عمرو اور زاذان ابوعمر کے بارے میں جرح ذکر کی ہے

راقم کہتا ہے دوسری طرف محدثین میں امام شعبہ نے المنھال کو متروک قرار دیا اس کی حدیث لینا چھوڑ دیا تھا

۔ امام الذھبی نے سیر الاعلام النبلاء میں لکھا ہے
اس میں غرایب باتیں اور منکر باتیں ہیں
حَدِيْثُهُ فِي شَأْنِ القَبْرِ بِطُوْلِهِ فِيْهِ نَكَارَةٌ وَغَرَابَةٌ

قبر کے بارے میں طویل روایت میں نکارت اور غرابت ہے۔

ابن حبان کہتے ہیں عود روح والی روایت کی سند میں انقطاع ہے۔

خبر الأعمش عن المنهال بن عمرو عن زاذان عن البراء سمعه الأعمش عن الحسن بن عمارة عن المنهال بن عمرو
الأعمش کی خبر ، المنهال بن عمرو عن زاذان عن البراء سے اصل میں الأعمش عن الحسن بن عمارة عن المنهال بن عمرو سے ہے۔

ابن حبان کے نزدیک حدیث عود روح کی سند میں تدلیس کی گئی ہے۔

نور پوری صاحب نے المنھال بن عمرو کے دفاع کی بھی بھر پور کوشش کی ہے، چناچہ وہ عینی کی معاني الاخيار في شرح أسامي رجال معاني الآثار کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جوزجانی نے اس کو سنی المذہب (سنی مذھب والا) قرار دیا ہے-

اس کو صریح تحریف کہتے ہیں- نورپوری نے کرم خوردہ ، ناقص نسخوں سے استفادہ کیا – سيء المذهب (بد مذھب) کے الفاظ ابن حجر نے فتح الباری اور تہذیب التہذیب وغیرہمیں نقل کیے ہیں جو عینی کے ہم عصر ہیں
جوزجانی نے المنھال کو سيء المذهب (بد مذھب) قرار ديا ہے- جوزجانی یہ الفاظ شیعہ راویوں کے لئے بولتے ہیں- جوزجاني كي كتاب أحوال الرجال حديث اكادمي – فيصل آباد سے چھپ چکی ہے اس میں کو سنی المذہب (سنی مذھب والا) کے الفاظ موجود نہیں- سيء المذهب (بد مذھب) جوزجاني کی جرح کے یہ مخصوص الفاظ ہیں جو انہوں نے اور راویوں کے لئے بھی استمعال کیے ہیں

اگرچہ متاخرین میں ابن حجر نے جوزجانی کی جرح کو بلا دلیل رد کیا ہے لیکن العلامة الشيخ عبد الرحمن بن يحيى المعلمي العتمي اليماني کتاب التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل میں لکھتے ہیں
وقد تتبعت كثيراً من كلام الجوزجاني في المتشيعين فلم أجده متجاوزاً الحد ، وإنما الرجل لما فيه من النصب يرى التشيع مذهباً سيئاً وبدعة ضلالة وزيغاً عن الحق وخذلانا ، فيطلق على المتشيعين ما يقضيه اعتقاده كقوله زائغ عن القصد – سيء المذهب ونحو ذلك
اور بہت سوں نے الجوزجاني کا شیعہ راویوں کے بارے میں کلام کو بغور دیکھا ہے لیکن ان کو حد سے متجاوز نہیں پایا- اور ان صاحب (الجوزجاني) میں اگرچہ نصب تھا اور شیعت کو ایک بد مذھب اور بدعت اور ضلالت اور حق سے ہٹی ہوئی بات سمجھتے تھے ، لیکن انہوں نے المتشيعين کے اعتقاد کے مطابق الفاظ کا اطلاق کیا ہے جیسے راہ سے ہٹا ہوا، سيء المذهب اور اس طرح کے اور الفاظ

علامہ الشيخ عبد الرحمن بن يحيى المعلمي العتمي اليماني صاحب تو کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں

المنھال ایک متعصبی شیعہ ہے – ابن ماجہ کے مطابق المنھال بن عمرو نے روایت بیان کی کہ علی رضی الله تعالی عنہ نے کہا
أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ
میں عبد الله ہوں اور رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا بھائی ہوں اور میں سب سے بڑا صدیق ہوں، اس کا دعوی میرے بعد کوئی نہیں کرے گا سوائے كَذَّابٌ کے

اس پر تعلیق لکھنے والے محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء الكتب العربية لکھتے ہیں
في الزوائد هذا الإسناد صحيح- رجاله ثقات- رواه الحاكم في المستدرك عن المنهال
وقال صحيح على شرط الشيخين-
اس کے راوی ثقه ہیں، حاکم نے اسکو المستدرك میں المنهال بن عمرو سے روایت کیا ہے اور کہا ہے الشيخين کی شرط پر صحیح ہے

اس روایت سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مرتبہ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے

افسوس إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة میں ابن حجر نے اس کو صحیح کہا ہے

حَدِيثٌ (كم) : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ … . الْحَدِيثَ.
كم فِي الْمَنَاقِبِ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ. ح وَثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، قَالا: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْهُ، بِهِ. وَقَالَ:
[ص:466] صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا.

الذھبی نے تلخیص میں حاکم  پر جرح کرتے ہوئے کہا

قلت: كذا قال! وما هو على شرط واحد منهما، بل ولا هو صحيح، بل هو حديث باطل، فَتَدَبَّرْه،

میں کہتا ہوں ایسا حاکم نے کہا ہے کہ یہ بخاری و مسلم کی شرط پر ہے بلکہ یہ تو صحیح تک نہیں بلکہ باطل ہے اس پر غور کرو

لوگوں نے اس روایت پر  عباد بن عبد الله الأسدي کو مہتمم کیا ہے جس کو ابن حبان نے ثقات میں شمار کیا ہے اور  العجلي کہتے ہیں  كوفيٌّ تابعيٌّ ثقةٌ   ہے – اس سے سنننے والا المنھال ہے

نورپوری کا جوابا کہنا ہے کہ ادب المفرد میں المنھال نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو ام المومنین کہا ہے اور رضی اللہ عنہا کی دعا بھی دی ہے

راقم کہتا ہے کہ حدیث لٹریچر میں غالی سے غالی راوی بھی یہ الفاظ نقل کرتا ہے آور شیعہ کتب میں بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کو ام المومنین بھی لکھا جاتا ہے کیونکہ ازواج النبی کے لئے قرآن میں ہے کہ امت کی مائیں ہیں لہذا اس ٹائٹل کو وہ رد نہیں کرتے – اس کی مثال ہے اہل سنت  کی کتب میں وارد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی احادیث پر شیعوں نے  تنقید کی ہے – کتاب کے  عنوان   میں ہی ام المومنین لکھا ہے

کتاب أحاديث أم المؤمنين عائشة   از السيد مرتضى العسكري

ملا باقر مجلسی نے بھی ام المومنین لکھا ہے ملاحظہ کریں

بحار الانوار /جزء 32 / صفحة [226]

بحار الانوار /جزء 33 / صفحة [245]

بحار الانوار /جزء 33 / صفحة [332]

بحار الانوار / جزء 42 / صفحة [141]

 

دوم دعا رضی اللہ عنہ وغیرہ کے کلمات پبلشر آجکل حدیث کا جو نسخہ چھپتا ہے اس میں خود ہی لگا دیتے ہیں – اس کی مثال ہے کہ جرح و تعدیل کی کتب میں رضی اللہ عنہ لکھا ہوا نہیں ملتا لیکن احادیث کی کتب چونکہ عام لوگوں کے لئے ہیں ان میں اس لاحقہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے
سوم شیعہ کا تقیہ کرنا معلوم ہے تو اس سے مطلق ثابت نہیں ہوتا کہ المنھال ایک بدعتی نہیں تھا جبکہ اہل شہر کا اس پر قول ہے یہ بد مذھب تھا

اسی ادب المفرد کی روایت کی ایک سند ہے
عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ
یہاں زاذان نے ابن عمر کے ساتھ رضی اللہ عنہ کا لاحقہ کیوں نہیں لگایا ؟
اسی ادب المفرد میں ہے
عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَدَعَا بِغُلَامٍ لَهُ كَانَ ضَرَبَهُ
زاذان نے کہا ہم ابن عمر کے ساتھ تھے انہوں نے لڑکے کو بلا کر اس کو مارا

اس قسم کے حوالہ جات سے کچھ ثابت نہیں ہوتا
نور پوری نے اقرار کیا کہ بعض سندوں میں
زاذان نے سیدنا علی کے بارے میں ”امیر المؤمنین“ یا ”رضی اللہ عنہ“ کا لفظ نہیں بولا

اس سے نور پوری نے سمجھا کہ زاذان علی کو دعا نہیں دیتا تھا لیکن عمر رضی اللہ عنہ کو دیتا تھا جس سے ثابت ہوا وہ شیعہ نہیں تھا

راقم کہتا ہے کہ شیعہ کے نزدیک علی تو امام زمانہ ہیں اور باقی کو دعا کی ضرورت ہے اس لئے تقیہ اختیار کیا
بہر حال یہ مثالیں جو نور پوری لے کر آئے ہیں ان کو اگر تمام غالی راویوں پر لگایا جائے تو کوئی بھی غالی نہ رہے گا سب علی کے خاص احباب بن جائیں گے کیونکہ آجکل پبلشر نے ہر روایت ، میں اپنی طرف سے رضی اللہ عنہ و رضی اللہ عنہما لکھ دیا ہے

نورپوری نے عثمانی صاحب پر جرح کی کہ انہوں نے تعویذ پر کتاب میں شیعہ یحییٰ بن جزار سے روایت کیوں لی جبکہ غالی قسم کا شیعہ تھا

راقم کہتا ہے ہم اگر نوری پوری تحقیق کا انداز یہاں اپپلائی کرتے ہیں – کتاب المعجم
أبو يعلى میں سند ہے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا، وَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ يَعْنِي: سَتَرَ مَا يَكُونُ عِنْدَ ذَلِكَ كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ “. قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَلِهِ أَقْرَبُكُمْ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ، فَإِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ فَرَجُلٌ مِمَّنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ وَرَعًا وَأَمَانَةً»

سند میں يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ خود عَائِشَةَ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهَا کہہ رہے ہیں تو نور پوری کے اصول پر یہ غالی نہیں ہو سکتے

شرح معاني الآثار میں سند ہے
حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ يَعْنِي ابْنَ خَلَفٍ الطَّبَرَانِيَّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ

یہاں بھی دعا کی گئی ہے

معلوم ہوا کہ نور پوری اصولوں پر یحیی بن جزار غالی نہیں تھا
راقم کا مدعا نور پوری تحقیق کی بے بضاعتی کو ظاہر کرنا ہے کہ کھوکلے ستونوں پر کھڑی ہے

راقم کہتا ہے اہل حدیث مولوی جب جی  چاہتا ہے خود راوی کی شیعیت کو جرح بنا کر پیش کر دیتے ہیں مثلا امام  بخاری کے استاد محدث علی بن الجعد کا ذکر زبیر علی زئی نے تراویح  سے متعلق ایک روایت پر  قیام رمضان نامی مضمون میں  اس طرح کیا

نور پوری کا کہنا ہے کہ
جرح و تعدیل اور صحت و سقم حدیث کی معرفت ابن حزم رحمہ اللہ کا میدان نہیں تھا۔

راقم کہتا ہے ابن تیمیہ و ابن قیم بھی محض ناقل ہیں اور رہی بات امام حاکم کی تو ان کے محدثین نے سخت اعتراضات کیے ہیں مثلا وسیلہ کی شرکیہ روایات کو صحیح قرار دینے پر – خود ابن حجر نے لسان المیزان میں لکھا ہے کہ مستدرک لکھتے وقت ان کی دماغی حالت صحیح نہیں تھی

نورپوری صاحب نے المنھال کے دفاع کا حق ادا کر دیا ہے اور مضمون میں لکھتے ہیں کہ المنھال قرآن کی تلاوت کر رہے تھے جس کو سن کر شعبہ نے المنھال کو ترک کیا
دکتور بشار عواد معروف کتاب تهذيب الكمال في أسماء الرجال میں لکھتے ہیں وَقَال علي بْن المديني ، عَن يحيى بْن سَعِيد أتى شعبة المنهال بْن عَمْرو فسمع صوتا فتركه، يعني الغناء

اس کے بعد حاشیہ میں دکتور بشار عواد معروف اس پر لکھتے ہیں
هذا الخبر أصح، والله أعلم- من خبر تركه بسبب سماعه قراءة القرآن بالتطريب، فهذا غير ذاك-
یہ خبر زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم- اس (قول) سے جس میں خبر دی گئی تھی کہ ان کے ترک کرنے کی وجہ قرآن کی سر کے ساتھ قرات تھی – پس ایسا نہیں تھا

فرقہ پرست بار بار ذکر کرتے ہیں کہ ابن حزم کے نزدیک موسیقی حرام نہیں تو المنھال پر شعبہ کی جرح مردود ہے
جبکہ ان کو اتنا معلوم نہیں کہ گانا گانا اور صرف موسیقی سننا دو الگ چیزیں ہیں

نور پوری لکھتے ہیں
زاذان کی روایات کو چھوڑنے والے امام حکم بن عتیبہ شیعہ تھے۔ زاذان کا شیعہ ہونا تو ثابت نہیں ہوا، البتہ امام حکم کا شیعہ ہونا ثابت ہے، جیسا کہ
امام، ابوالحسن، احمد بن عبداللہ، عجلی رحمہ اللہ (م 261ھ) فرماتے ہیں
وكان فيه تشيع، إلا أنّ ذلك لم يظهر منه إلا بعد مؤته .
ان میں شیعیت تھی، البتہ اس کا علم ان کی وفات کے بعد ہی ہو سکا۔
[تاريخ الثقات، ص : 125، ت : 315، طبعة دار الباز]
ذرا سوچیں کہ بھلا کوئی شیعہ اپنے مذہب کا پرچار کرنے والے کسی شیعہ پر کیوں جرح کرے گا ؟ اور فیصلہ کریں کہ ڈاکٹر عثمانی نے کتنے فیصد انصاف سے کام لیا ہے

راقم کہتا ہے نور پوری کو علم نہیں کہ خود عجلی بھی شیعہ کہے گئے ہیں اور وہ اگر شیعہ تھے تو وہ الحکم پر جرح نہیں ان کی تعریف کر رہے ہیں
شیعہ تو عام لفظ ہے جو لشکر علی پر بولا جاتا تھا جس میں غالی ابن سبا بھی تھا اور زاذان بھی اور اصحاب رسول بھی – یہ سب شیعان علی تھے
ظاہر ہے جب محدث شیعہ کہتا ہے تو اس کے پیچھے شواہد ہوتے ہیں اور زاذان کو شیعہ خود ابن حجر نے قرار دیا ہے

البتہ نور پوری کا قول ہے
حقیقت وہی ہے جو ہم نے ابن حجر کے بقول بیان کر دی ہے کہ راوی اگر سچا ہو تو اس کا شیعہ ہونا اس کی روایت کو نقصان نہیں دیتا۔ لہٰذا زاذان کا شیعہ ہونا اگر ثابت بھی ہو جائے تو اس سے اس کی حدیث میں کوئی خرابی نہیں آتی

راقم کہتا ہے خود متقدمین شیعہ کے لئے ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں غالی کا اطلاق کیا ہے
مثلا
عدي بن ثَابت الْأنْصَارِيّ الْكُوفِي التَّابِعِيّ الْمَشْهُور پر الدَّارَقُطْنِيّ نے کہا كَانَ يغلو فِي التَّشَيُّع
تشیع میں غلو کرتا تھا
اس حوالے کو ابن حجر نے بھی فتح الباری میں تہذیب التھذیب میں لکھا ہے
عَبْدِ الله بن الْكواء، جو علی کے اصحاب میں سے ہے اس پر ابن حجر نے فتح الباری ج ص ٨٧ پر لکھا ہے
وَإِنَّمَا كَانَ يَغْلُو فِي الرَّفْضِ
بے شک یہ رفض میں غلو کرتا

دوسری طرف ابن حجر نے تشیع کی تعریف اس طرح کی

تہذیب التہذیب از ابن حجر ترجمہ ابان بن تغلب

فالتشيع في عرف المتقدمين هو اعتقاد تفضيل علي على عثمان, وأن عليا كان مصيبا في حروبه وأن مخالفه مخطئ مع تقديم الشيخين وتفضيلهما, وربما اعتقد بعضهم أن عليا أفضل الخلق بعد رسول الله -صلى الله عليه آله وسلم-, وإذا كان معتقد ذلك ورعا دينا صادقا مجتهدا فلا ترد روايته بهذا, لا سيما إن كان غير داعية, وأما التشيع في عرف المتأخرين فهو الرفض المحض فلا تقبل رواية الرافضي الغالي ولا كرامة

پس تشیع (شیعیت) کا مطلب متقدمین کے نزدیک علی کی عثمان پر فضیلت کا اعتقاد رکھنا ہے، اور یہ کہ بے شک علی اپنی جنگوں میں حق پر تھے اور انکے مخالف غلطی پر، ساتھ ہی شیخین (ابو بکر اور عمر) کی فضیلت کا اعتقاد رکھنا، اور ان میں سے بعض کا کبھی یہ اعتقاد رکھنا کہ علی، نبی صلی الله علیہ وسلم کے بعد افضل مخلوق ہیں اور اگر یہ عقیدہ ھو اور وہ شیعہ راوی مجتہد، دین میں صادق ھو تو اس وجہ سے اس کی روایت رد نہیں کی جائے گی، خاص طور سے اگر داعی نہ ھو، اور تشیع متاخرین کے نزدیک محض رفض ہے پس اس رافضی ، غالی کی نہ روایت لی جائے اور نہ کوئی عزت کی جائے

اس سے نتیجہ نکلا کہ جو علی سے محبت کرے وہ شیعہ ہے اورغالی شیعہ یا رافضی وہ ہے جو ابو بکر اور عمر پر علی کی فضلیت کا اعتقاد رکھے

اس پیراگراف پر فرقہ پرستوں کا فہم ہے کہ تابعین میں رافضی نہیں تھے جبکہ حوالہ جات دے دیے گئے ہیں خود ابن حجر نے اصحاب علی میں رافضی کے وجود کا اقرار کیا ہے

نورپوری ابن حبان کے خلاف ایک مصنوعی ماحول پیدا کر کے لکھتے ہیں
تیسری بات یہ کہ اگر امام ابن حبان رحمہ اللہ کبار ائمہ دین کی موافقت میں منہال بن عمرو کی حدیث کو صحیح قرار دیں تو ڈاکٹر عثمانی اس کا ذکر تک نہ کریں اور جب وہ ان سب کی مخالفت میں زاذان پر جرح کریں تو ڈاکٹر عثمانی جھٹ سے اسے قبول کر لیں، حالانکہ وہ خود اسے ثقہ بھی قرار دے چکے ہوں اور اس کی حدیث کو صحیح بھی کہہ چکے ہوں، کیا اسے انصاف کہتے ہیں ؟

راقم کہتا ہے ابن حبان نے تو عود روح کی روایت کو منقطع قرار دیا ہے
صحیح ابن حبان میں ابن حبان لکھتے ہیں

وزاذان لم يسمعه من البراء
اور زاذان نے البراء سے نہیں سنا

ڈاکٹر عثمانی نے ابو احمد الحاکم کے قول پر کہا ہے کہ محدثین کے نزدیک مظبوط نہیں
مُحَمَّدُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ أَحْمَدَ بنِ إِسْحَاقَ النَّيْسَابُوْرِيُّ ، أبو أحمد الحاكم المتوفی ٣٧٨ ھ ہیں الذھبی کہتے ہیں وَكَانَ مِنْ بُحورِ العِلْمِ علم کا سمندر تھے (سیر الاعلام النبلاء ج ١٢ ص ٣٦٦ دار الحدیث)- لیکن جدید محدث نورپوری ان کی علمی حیثیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں

یہ بات ابو احمد الحاکم کی علمی لغزش ہے۔ وہ اہل علم کون ہیں جنہوں نے زاذان کو کمزور کہا ہو

ظاہر ہے سن ٣٧٨ ھ سے پہلے زاذان محدثین کے نزدیک مضبوط راوی نہیں تھا
خاص کر نیشا پور میں اس پر تنقید کی جاتی ہے یہ اور بات ہے بغداد کے ابن معین یا احمد نے اس کو ثقہ کہا
یہ اختلاف محدثین میں اس دور میں حدیث زاذان پر موجود تھا اور اس کو متاخرین کی ثقاہت سے رد نہیں کیا جا سکتا
ابو احمد الحاکم کے ہم عصر ابن حبان نے بھی زاذان کو وہمی اور بہت غلطیاں کرنے والا قرار دیا ہے

نور پوری کہتے ہیں
اگر زاذان شیعہ ہیں بھی تو اس سے مراد فقہ جعفریہ کے ماننے والے شیعہ نہیں۔

راقم کہتا ہے یہ قول محض گمان ہے کیونکہ روافض خود زاذان کو اپنے جیسوں میں شمار کرتے ہیں
کیا عقیدہ رجعت شیعوں کا عقیدہ نہیں ہے ؟ اور حدیث عود روح میں اسی روح کے واپس آنے کا قبر میں قیامت تک رہنے کا ذکر ہے

صحیحین کے راوی

نور پوری  نے ابن حجر کی بات کو صحیح طرح سمجھا بھی نہیں اور بیان کر دیا لکھتے ہیں

ابن حجر رحمہ اللہ (م :852 ھ) فرماتے ہیں :
ينبغي لكل منصف ان يعلم ان تخريج صاحب الصحيح لاي راو، كان مقتض لعدالته عنده، وصحة ضبطه، وعدم غفلته، ولا سيما ما انضاف إلى ذلك من إطباق جمهور الأئمة على تسمية الكتابين بالصحيحين، وهذا معنى لم يحصل لغير من خرج عنه فى الصحيح، فهو بمثابة اطباق الجمهور على تعديل من ذكر فيها 
’’ ہر منصف شخص کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ امام بخاری و مسلم کے کسی راوی سے حدیث نقل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ راوی ان کے نزدیک کردار کا سچا اور حافظے کا پکا ہے، نیز وہ حدیث کے معاملے میں غفلت کا شکار بھی نہیں۔ خصوصاً جب کہ جمہور ائمہ کرام متفقہ طور پر بخاری و مسلم کی کتابوں کو ”صحیح“ کا نام بھی دیتے ہیں۔ یہ مقام اس راوی کو حاصل نہیں ہو سکتا جس کی روایت صحیح (بخاری و مسلم ) میں موجود نہیں۔ گویا جس راوی کا صحیح بخاری و مسلم میں ذکر ہے، وہ جمہور محدثین کرام کے نزدیک قابل اعتماد راوی ہے۔“ [فتح الباري شرح صحيح البخاري : 384/1، طبعة دار المعرفة، بيروت]

↰ معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک منصف شخص وہ ہے جو صحیح بخاری و مسلم کے راویوں کو امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر جمہور ائمہ حدیث کی توثیق کی بنا پر ثقہ اور قابل اعتماد سمجھے۔ اب ڈاکٹر عثمانی کی طرح کا جو شخص صحیح بخاری کے راویوں کو ’’ ضعیف، مجروح اور متروک“ کہتا ہے، وہ بقول ابن حجر، منصف نہیں، بلکہ خائن ہے۔

نور پوری کے نزدیک جو بھی المنھال کو ضعیف کہے وہ خائن  ہے – دوسری طرف  ابن حجر النکت میں   اس  بات کی وضاحت کرتے   ہیں

قلت : ولا يلزم في كون رجال الإسناد من رجال الصحيح أن يكون الحديث الوارد به صحيحاً ، لاحتمال أن يكون فيه شذوذ أو علة

میں کہتا ہوں اور کسی روایت کی اسناد میں اگر صحیح کا راوی ہو تو اس سے وہ حدیث صحیح نہیں ہو جاتی کیونکہ اس کا احتمال ہے کہ اس میں شذوذ یا علت ہو

مبارک پوری اہل حدیث ہیں ، ترمذی کی شرح تحفہ الاحوذی، بَاب مَا جَاءَ فِي الْجَمَاعَةِ فِي مَسْجِدٍ  میں لکھتے ہیں

وَأَمَّا قَوْلُ الْهَيْثَمِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ فَلَا يَدُلُّ عَلَى صِحَّتِهِ لِاحْتِمَالِ أَنْ يَكُونَ فِيهِمْ مُدَلِّسٌ وَرَوَاهُ بِالْعَنْعَنَةِ أَوْ يَكُونَ فِيهِمْ مُخْتَلِطٌ وَرَوَاهُ عَنْهُ صَاحِبُهُ بَعْدَ اِخْتِلَاطِهِ أَوْ يَكُونَ فِيهِمْ مَنْ لَمْ يُدْرِكْ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ أَوْ يَكُونَ فِيهِ عِلَّةٌ أَوْ شُذُوذٌ ، قَالَ الْحَافِظُ الزَّيْلَعِيُّ فِي نَصْبِ الرَّايَةِ فِي الْكَلَامِ عَلَى بَعْضِ رِوَايَاتِ الْجَهْرِ بِالْبَسْمَلَةِ لَا يَلْزَمُ مِنْ ثِقَةِ الرِّجَالِ صِحَّةُ الْحَدِيثِ حَتَّى يَنْتَفِيَ مِنْهُ الشُّذُوذُ وَالْعِلَّةُ ، وَقَالَ الْحَافِظُ اِبْنُ حَجَرٍ فِي التَّلْخِيصِ فِي الْكَلَامِ عَلَى بَعْضِ رِوَايَاتِ حَدِيثِ بَيْعِ الْعِينَةِ لَا يَلْزَمُ مِنْ كَوْنِ رِجَالِ الْحَدِيثِ ثِقَاتٍ أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا اِنْتَهَى

اور   الْهَيْثَمِيِّ کا یہ کہنا کہ رجال ثقہ ہیں دلیل نہیں بنتا کہ یہ روایت صحیح ہے کیونکہ اسمیں شذوذ یا علّت ہو سکتی ہے اور ہو سکتا ہے اس میں مدلس ہو جو عن سے روایت کرے – الزَّيْلَعِيُّ کہتے ہیں… کسی حدیث میں ثقہ راوی ہونے سے وہ صحیح نہیں ہو جاتی

معلوم ہوا کہ صحیحین کے راویوں کی وہ روایات جو صحیحین سے باہر ہیں ضعیف ہو سکتی ہیں اس کی مثال ہے کہ کفایت اللہ سنابلی جو اہل حدیث میں نور پوری کے استاد کی طرح ہیں ن کے نزدیک المنھال کی روایت صحیح نہیں ہے اس کا شمار ضعیف راویوں میں کیا گیا ہے

کتاب  التلخيص الحبير میں ابن حجر لکھتے ہیں

لا يلزم من كون رجاله ثقات أن يكون صحيحا؛ لأن الأعمش مدلِّس ولم يذكرسماعه من عطاء

ثقہ رجال ہونے سے روایت صحیح نہیں ہو جاتی کیونکہ اس میں اعمش ہے جس نے عطا سے سماع کا ذکر نہیں کیا

قارئین نوٹ کریں کہ اعمش صحیحین کے راوی ہیں لیکن ابن حجر روایت رد کر رہے ہیں

فتح الباری کے مقدمہ انیس الساری کا حاشیہ لکھنے والے  نبيل بن مَنصور بن يَعقوب البصارة
ابن حجر کا قول پیش کرتے ہیں

لا يلزم من كون الإسناد محتجا برواته في الصحيح أن يكون الحديث الذي يُروى به صحيحا لما يطرأ عليه من العلل

اگر سند میں صحیح کے راوی سے احتجاج کیا گیا ہو تو اس کی حدیث صحیح نہیں ہو جاتی اگر اس کو معلول گردانا گیا ہو

  أحمد بن محمد بن الصدِّيق بن أحمد کتاب  المداوي لعلل الجامع الصغير وشرحي المناوي میں کہتے ہیں

قلت: لا يلزم من كون السند رجاله رجال الصحيح أن يكون الحديث صحيحا بل قد يكون ضعيفا

ایک دوسری حدیث پر کہتے ہیں

قلت: لا يلزم من كون الرجال رجال الصحيح أن يكون الحديث صحيحًا، إذ قد يكون مع ذلك منقطعًا أو معلولًا بشذوذ واضطراب

کتاب المطَالبُ العَاليَةُ بِزَوَائِدِ المسَانيد الثّمَانِيَةِ کے محقق سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري
لکھتے ہیں

لا يلزم من كون الرجل أخرج له أصحاب الصحيح، صحة الإسناد،

ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ یہ کوئی عثمانی فکر نہیں کہ صحیحین کے راوی کی روایت ضعیف ہو سکتی ہے بلکہ اس بات کو ابن حجر نے بھی اور دیگر محققین نے بھی بیان کیا ہے

حدیث عود روح کو رد کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا ذکر اگلے بلاگ میں ہو گا

 

 

2 thoughts on “ایک کوشش اور”

  1. آپ نے آخر میں لکھا کہ نور پوری کی اسی قسم کی سابقہ تحریر پر تبصرہ یہاں موجود ہے ۔ لیکن یہاں پر کلک کرنے سے نئی پیج اوپن نہیں ہورہا ۔۔

    1. Islamic-Belief says:

      یہ لنک اس کتاب تک لے جاتا تھا جو اب شروع میں ہی رکھی ہوئی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

one × five =