ذمی کی دیت

سورہ المائدہ  میں ہے  کہ یہود  دنیا میں فساد مچاتے تھے  اس وجہ سے اللہ نے ان پر حکم نازل کیا کہ

مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچالے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا اور ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول ظاہر دلیلیں لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کہ اکثر لوگ زمین میں ظلم و زیادتی اور زبردستی کرنے والے ہی رہے۔

 [سورہ المائدہ، آیت:۳۲]

اس آیت کے ذریعہ  یہود  کو  تنبیہہ کی گئی کہ وہ کسی معصوم  غیر  یہودی   کا قتل اس وجہ سے نہیں  کر سکتے کہ وہ   توریت  کو ماننے والا نہیں ہے  بلکہ ایک انسان  کا قتل تمام انسانیت کا قتل ہے

افسوس  جاہلوں  نے اس آیت  کو بدلا  اور نتیجہ اخذ  کیا کہ ایک  غیر  حربی یہودی  کا قتل  مسلمان  کے  لئے  جائز ہے اور مسلمان  کفار و مشرک کو جہاں دیکھیں قتل کر سکتے ہیں، ان   کا  کوئی پرسان  حال نہیں ہے – دوسری طرف شریعت  میں ذمی اہل کتاب کی دیت بھی   مقرر کی گئی ہے

داعش  کا لیڈر    أبو محمد العدناني (طه صبحي فلاحة)  کتاب “إن ربك لبالمرصاد” صفہ: ۱۵-۱٦  کہتا ہے

 ومَنْ سُمي كافراً فماله حلال على المسلم، ودمه مهدور مستباح، دمه دم كلب لا إثم فيه ولا دية عليه

 جس کو کافر کہا جائے تو اس کا مال مسلمان کے لیے حلال ہے اور اس کا خون ایسا جائز ہے کہ اس پر کوئی قصاص نہیں ہے کیوں کہ اس کا خون ایک کتے کا خون ہے، جس میں کوئی گناہ نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی دیت ہے

  ذمی کی دیت کے متعلق احناف کا موقف ہے کہ   چونکہ النفس بالنفس کے تحت مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل کیا جانا ہے تو ضروری ہے کہ وہ دیت میں بھی مساوی ہوں –   مسلمان کی دیت اور ذمی کی دیت اس طرح  برابر ہوگی۔ جب کہ حنابلہ کے دو موقف ہیں –  حنابلہ میں  قتل بصورت خطا  کے میں نصف دیت  ہو گی  اور بصورت عمد دیت  برابر ہو گی –  اس طرح حنابلہ اور احناف کے موقف میں بہت فرق نہیں ہے –  شوافع کے نزدیک ثلث دیت ہوگی یعنی  مسلم کی دیت کی تہائی ہو گی

مصنف عبد الرزاق  ح 18475  میں ہے

عَبْدُ الرَّزَّاقِ،  عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ,: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ عَقْلَ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنَ الْيَهُودِ , وَالنَّصَارَى نِصْفَ عَقْلِ الْمُسْلِمِ

یعنی اہل کتاب کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے

اس کی سند  منقطع ہے – عمرو  صحابی نہیں اور اس سے لے  کر  رسول اللہ تک راوی غائب ہیں

سنن ابو داود  میں ہے

 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دِيَةُ الْمُعَاهِدِ نِصْفُ دِيَةِ الْحُرِّ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، مِثْلَهُ

یہاں سند میں ابن اسحاق  ہے جو  دجال ہے امام مالک کے نزدیک  اور اس کے مطابق    ذمی کی دیت  آزاد مسلمان کی دیت کی ادھی ہے

لیکن یہ سند مرجوح  ہے

خطابی نے اس قول کو لے کر کہا

 قَالَ الْخَطَّابِيُّ لَيْسَ فِي دِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ شَيْءٌ أَبْيَنَ مِنْ هَذَا وَإِلَيْهِ ذَهَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أنس وبن شُبْرُمَةَ وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

(عون المعبود ج4 ص320)

ذمی کی دیت میں اس حدیث (مذکور) سے زیادہ واضح اور کوئی دلیل نہیں اور یہی  عمر بن عبدالعزیز، عروہ بن زبیر، مالک بن انس، ابن شبرمہ اورامام احمد کا   مذہب ہے

عمرو بن شعیب کی سند  بہت سے محدثین کے نزدیک قابل بحث  ہے . اس کو حسن کے درجہ میں لیا جاتا ہے نہ کہ احکام  کے فیصلے اس پر ہوں لہذا صحیح موقف یہی  ہے جو احناف  و حنابلہ  کا ہے کہ  قتل  عمد  میں  دیت   برابر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

seventeen − five =