You may also send us your questions and suggestions via Contact form

Post for Questions 

قارئین سے درخواست ہے کہ سوال لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ سوال دینی مسئلہ پر ہونا چاہیے- وقت قیمتی شی ہے لہذا بے مقصد سوال سے پرہیز کریں – سوالات کے سیکشن کو غور سے دیکھ لیں ہو سکتا ہے وہاں اس کا جواب پہلے سے موجود ہو –

یاد رہے کہ دین میں غیر ضروری سوالات ممنوع ہیں اور انسانی علم محدود ہے

 اپ ان شرائط پر سوال کر سکتے ہیں

اول سوال اپ کا اپنا ہونا چاہیے کسی ویب سائٹ یا کسی اور فورم کا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا مواد  اپ وہاں سے یہاں کاپی کریں

دوم : جو جواب ملے اس کو اپ کسی اور ویب سائٹ پر پوسٹ کر کے اس پر سوال نہیں کریں گے نہ ہی اس ویب سائٹ کے کسی بلاگ کو پوسٹ کر کے کسی دوسری سائٹ سے جواب طلب کریں گے – یعنی اپ سوال کو اپنے الفاظ میں منتقل کریں اس کو کاپی پیسٹ نہ  کریں اگر اپ کو کسی اور سے یہی بات پوچھنی ہے تو اپنے الفاظ میں پوچھیں

سوم کسی عالم کو ہماری رائے سے “علمی” اختلاف ہو تو اس کو بھی اپنے الفاظ میں منتقل کر کے اپ اس پر ہمارا جواب پوچھ سکتے ہیں

چہارم نہ ہی اپ ہماری ویب سائٹ کے لنک پوسٹ کریں کہ وہاں دوسری سائٹ پر لکھا ہو “اپ یہ کہہ رہے ہیں اور وہ یہ کہہ رہے ہیں ” یہ انداز مناظرہ کی طرف لے جاتا ہے جو راقم کے نزدیک دین کو کھیل تماشہ بنانے کے مترادف ہے

تنبیہشرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں جوابات پر پابندی لگا دی جائے گی

38 thoughts on “Q & A”

  1. Shahzadkhan says:

    السلام و علیکم ابو شہریار بھائی ڈاکٹر صاحب نے سورہ الحجرات کے حوالے سے اپنے کتابچے میں لکھا ہے کہ دوسرے لفظوں میں یہ حضرات امنو باللہ ورَسُسولہ کے بجائے آمنو باللہ ورُسُولہ کی تلقین کرتے ہیں لیکن ہم اس کو صحیح نہیں سمجھتے ۔۔

    اس تحریر کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر صاحب پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ قرآن کی آیت کے انکاری تھے جس کے مطابق تمام انبیاء پر ایمان لانا فرض ہے ۔۔

    برائے مہربانی اس کی وضاحت فرما دیں

    1. Islamic-Belief says:

      و علیکم السلام

      زبان و ادب میں
      context
      میں دیکھا جاتا ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے

      ہم تمام انبیاء پر ایمان لاتے ہیں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل انبیاء سے منسوب سنتوں میں کیاصحیح ہے معلوم نہیں ہے – ان انبیاء سے منسوب سنتیں ان کے امتوں کی سند سے ہیں
      عثمانی صاحب نے کہا کہ اب قیامت تک سنت محمد پر عمل ہو گا – گزشتہ انبیاء سے منسوب سنت میں بھی اسی سنت پر عمل ہو گا جو رسول اللہ نے ادا کی
      اس طرح بتایا گیا کہ دین کی اصل قرآن و صحیح حدیث ہی ہے

      عثمانی صاحب کے مخاطب اصلا وہ لوگ ہیں جو بائبل و توریت سے بھی دین اخذ کرنا چاہتے ہیں مثلا امین احسن اصلاحی صاحب کا یہی منہج ہے
      ان کے نزدیک وہ عمل انبیاء جس کا علم صرف بائبل سے ہو اس کو بھی دین میں حجت سمجھا جائے گا
      لہذا ہم نے دیکھا کہ غامدی جو امین احسن کے شاگرد ہیں وہ اپنی کتب میں سنت رسول سے مراد ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کے انبیاء کی سنت بھی لیتے ہیں
      ہم اس مھنج کے خلاف ہیں اور جس اقتباس کا آپ نے ذکر کیا اس میں اس منہج کا رد ہے

      اس کو بھی دیکھ لیں
      https://www.islamic-belief.net/%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%84-%d8%af%d8%a7%d9%88%d8%af-%da%a9%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%85-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba/

      http://alsharia.org/2006/sep/ghamidi-sahib-tasawur-sunnat-hafiz-m-zubair

      یاد رہے کہ جماعت اسلامی چھوڑنے کے بعد عثمانی صاحب کو اپروج کیا جارہا تھا کہ وہ امین احسن اصلاحی کے ساتھ ہو لیں لیکن عثمانی صاحب نے شریعت کے مصادر کے حوالے سے امین کی لچک کو رد کیا اور واضح کیا کہ وہ اس منہج پر نہیں جا سکتے

      اسی اقتباس کو بعد میں سلفی جاہل ملا دامانوی نے بغیر سمجھے فتنہ پھیلانے کے لئے اپنی خود کردہ غلط تشریح کے ساتھ پھیلایا
      یہاں تک کہ آج اہل حدیث خود اس کا رد کر رہے ہیں کہ سابقہ انبیاء کی سنتوں کے حوالے سے امین احسن اور غامدی کا موقف غلط ہے

  2. Shahzadkhan says:

    جزاک اللہ ۔۔ابو شہریار بھائی ڈاکٹر صاحب نے اپنی تحریر میں مودودی صاحب کا ذکر کیا کیا مومودی صاحب کی اس حوالے سے کوئی تحریر مل سکتی ہے نیز کیا امین احسن اصلاحی اور غامدی صاحب کی اس حوالے سے کوئی تحریر مل سکتی ہے

    1. Islamic-Belief says:

      اس قسم کے حوالے کھل کر نہیں لکھے جاتے تھے ان کو مبہم انداز میں بولا جاتا تھا البتہ جب انسان ان لوگوں کے سوالات کے جوابات کو پڑھے تو جو نتائج نکلتے ہیں وہ کچھ اسی قسم کے ہیں – غامدی کے حوالے تو اب مشہور ہیں
      یہاں بہت سے لوگوں نے ان کو کوٹ کیا ہے

      http://alsharia.org/2006/sep/ghamidi-sahib-tasawur-sunnat-hafiz-m-zubair

      اس طرح کے حوالے سردست میرے پاس موجود نہیں ہیں

      امین احسن پر یہ ملا ہے
      https://magazine.mohaddis.com/home/articledetail/1469

      سنت کی بنیاد احادیث پر نہیں ہے جن میں صدق و کذب دونوں کا احتمال ہوتا ہے جیسا کہ اوپر معلوم ہوا بلکہ اُمت کے عملی تواتر پر ہے

      ——
      لہذا تواتر اہل کتاب سے بھی ان لوگوں کے ہاں دلیل لی جاتی ہے

      میرا خیال ہے کہ یہ زیر بحث اقتباس لکھتے تھے عثمانی صاحب کے ذہن میں مودودی نہیں امین احسن اصلاحی ہیں

  3. ayesha butt says:

    bukhari mn wajah mujood k Nabi s.aw ki qabr hujre mn kyun bnae gi. phir yeh hadith jhn jaan nikle wahein dafn kia jae kia sahih hai
    or agr nae
    to hazrat umr o abubakr ki wahn qabr q bnae gai. kia esko. hazrat aisha r.a ki ijtahadi khata kha jae ga

    1. Islamic-Belief says:

      hadith jhn jaan nikle wahein dafn kia jae kia sahih hai – sahih nahi ha.

      عائشہ رضی اللہ عنہا کا اس تدفین سے کوئی تعلق نہیں
      یہ تو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ ان کی تدفین بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو
      اور اس کی ام المومنین نے اجازت دے دی

  4. aysha butt says:

    apki kitab. shab e barat mn hai k jab banu umayya ka takht ulta hai or abbas r.a khalifa hoty hain. to majoos paarsi or yahod nauroz manaty hai . us roz 14 shabn hota hai or muslim es din ki ehmiat mn. ibadt krty
    to kia ehmiat es waqie ki thi k banu. umayya ka takht ult k khilafat banu abbas ko milli jesa k unki chaht thi. es lie ibadat ki gae
    or bad mn yeh shab e barat ki riwayts mashoor hoi vanu abbas k dour mn

    1. Islamic-Belief says:

      نو روز کی بدعت مسلمان قبول نہیں کرتے لیکن جشن منانے کے رات کو جگا دیا گیا
      مسلمان عبادت میں رہے اور مجوس اپنے نو روز میں

  5. aysha butt says:

    تفسیر عکرمہ پہ آپ کو کچھ معلومات ہیں
    کیا یہ مسند تفسیر ہے

    1. Islamic-Belief says:

      عکرمہ یہ ابن عباس کا شاگرد تھا لیکن علم حدیث میں مختلف فیہ ہے بعض کے نزدیک سخت مجروح ہے
      اس کے ہم عصر محدثین نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے اقوال کی کیا حیثیت ہو گی

  6. aysha butt says:

    ibn e maaja ki koi riwayt hai k. Hazrat aysha ne farmya k 4 raatein ba barkt ha. aarfa dono eidon ki or 15 shabn ki
    kesi hai

    1. Islamic-Belief says:

      میرے علم میں نہیں

  7. السلام علیکم

    نبیﷺ کے زمانے میں سونے اور چاندی کے سکے ہوتے تھے۔ اس حساب سے زکوٰۃ ہوتی تھی۔ آج کے دور میں جدید -1- کرنسی ہے۔ آج کے دور میں کس طرح زکوٰۃ ادا کی جاسکتی ہے؟
    کیونکہ 52 تولہ چاندی 1 لاکھ بھی نہیں بنتی اور ساڈھے سات تولہ سونا 8 لاکھ کے قریب بنتا ہے۔

    صاحب نصاب کو کیسے کلکولیٹ کیا جائے؟ -2 –

    احادیث میں غلہ کی مقدار الگ ہے، بکریوں اور اونٹ پر زکوٰۃ الگ ہے۔ یعنی ہر چیز کی الگ -3-
    calculation
    ہے۔ پھر پاکستان کے بینک صاحب نصاب 44000 یا 45000 روپے والے کو کس طرح شمار کرتے ہیں؟

    -4- اگر کسی کے پاس 40 تولہ چاندی ہے، 4 تولہ سونا ہے اور 6 لاکھ نقد رقم ہے،
    تو وہ زکوٰۃ کس طرح کلکولیٹ کریگا؟ کیونکہ نہ چاندی اپنے نصاب پر پہیچتی ہے اور نہ سونا

    جزاک اللہ

    1. Islamic-Belief says:

      یہ سوالات غور طلب ہیں اور کسی عالم سے معلوم کریں
      میرا علم اس مسئلہ پر محدود ہے

      زکوات کا نصاب سونے و چاندی سے مقرر کر لی گئی ہے کیونکہ یہ سب سے قیمتی عام استعمال کی دھاتیں ہیں
      دور نبوی میں زکوات جنس و قسم سے حساب سے الگ الگ تھی

      دور نبوی میں سونے کو سونے سے بدلہ جا سکتا تھا اس کی قیمت درہم میں یا چاندی میں لینا سود سمجھا جاتا تھا
      لہذا یہ مسائل دقیق ہیں
      اسی طرح صدقہ فطر ہے جس میں دینار و درہم نہیں دیا جاتا تھا بلکہ گندم کا صاع دیا جاتا تھا ہر چند کہ درہم موجود تھا

  8. aysha butt says:

    aesi koi hadith hai k ik shkhs ne qible ki samt thoka to ap s.aw. ne pocha kon hai yeh. to kha gya imamat krata hai to kehny lagy es ko imamat se hatta do
    mishkt se hai
    es ka status kia hai

    1. Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری میں ہے

      “عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ، فَقَامَ فَحَكَّهُ بِيَدِهِ، فَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلاَتِهِ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، أَوْ إِنَّ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ – فَلاَ يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ قِبْلَتِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَقَالَ: أَوْ يَفْعَلْ هَكَذَا”. (1/112)

      ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی جانب میں کچھ تھوک دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار ہوا، یہاں تک کہ غصہ کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں ظاہر ہوا، چناں چہ آپ کھڑے ہو گئے اور اس کو اپنے ہاتھ سے صاف کردیا، پھر فرمایا کہ تم میں سے کوئی جب اپنی نماز میں کھڑا ہوتا ہے، تو وہ اپنے پرودگار سے مناجات کرتا ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس کا پرودگار اس کے اور قبلہ کے درمیان میں ہے؛ لہذا اسے قبلہ کے سامنے نہ تھوکنا چاہیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ لیا اور اس میں تھوک کر اسے مل ڈالا اور فرمایا کہ یا اس طرح کرے۔

      اس کا تعلق اس سے ہے کہ کسی نے نماز میں سجدہ کے مقام پر تھوک دیا اور اس کو اسی طرح چھوڑ کر چلا گیا – اس کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو ہٹایا

  9. السلام علیکم

    کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ یہ ابن حبان972 میں بھی موجود ہے۔ ابو یعلی میں بھی موجود ہے۔ مسند احمد میں بھی موجود ہے۔

    ۔ (۵۵۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ ہَمٌّ وَلَا حَزَنٌ، فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ، نَاصِیَتِی بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُکَ، أَسْأَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ، أَوْ عَلَّمْتَہُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ، أَوْ أَنْزَلْتَہُ فِی کِتَابِکَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیعَ قَلْبِی، وَنُورَ صَدْرِی، وَجِلَائَ حُزْنِی، وَذَہَابَ ہَمِّی، إِلَّا أَذْہَبَ اللّٰہُ ہَمَّہُ وَحُزْنَہُ، وَأَبْدَلَہُ مَکَانَہُ فَرَجًا۔)) قَالَ: فَقِیلَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَلَا نَتَعَلَّمُہَا، فَقَالَ:(( بَلٰی یَنْبَغِی لِمَنْ سَمِعَہَا، أَنْ یَتَعَلَّمَہَا۔)) (مسند أحمد: ۳۷۱۲)

    1. Islamic-Belief says:

      حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ ‏وَلَا حَزَنٌ، فَقَالَ: اللهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ (2) عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، ‏عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ ‏أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ‏‎
      اے الله میں تجھ سے تیرے ہر نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تو اپنے نفس کے ‏رکھے یا اپنی کتاب میں نازل کیے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھائے یا وہ جو تیرے ‏علم غیب میں جمع ہیں
      جواب
      دارقطنی العلل میں اس کو ضعیف کہتے ہیں اس کی سند میں أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ جو ‏مجھول ہے
      سند کا دوسرا راوی فضيل بن مرزوق بھی مجھول ہے مسند احمد کی تعلیق میں شعیب ‏اس کو ضعیف روایت کہتے ہیں اور فضيل بن مرزوق پر لکھتے ہیں
      ‎ ‎فقال المنذري في “الترغيب والترهيب” 4/581: قال بعض مشايخنا: لا ندري من هو، وقال ‏الذهبي في “الميزان” 4/533، والحسيني في “الإكمال” ص 517: لا يدرى من هو، وتابعهما ‏الحافظ في “تعجيل المنفعة‎”‎
      حسين سليم أسد الدّاراني – عبده علي الكوشك کتاب موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان میں ‏اس کی تعلیق میں أبو سلمة الجهني پر کہتے ہیں
      والحق أنه مجهول الحال، وابن حبان يذكر أمثاله في الثقات، ويحتج به في الصحيح إذا كان ما ‏رواه ليسَ بمنكر”. وانظر أيضاً “تعجيل المنفعة” ص‎. (‎‏490‏‎ – ‎‏491‏‎).‎
      حق یہ ہے کہ یہ مجھول الحال ہے اور ابن حبان نے ان جیسوں کو الثقات میں ذکر کر دیا ‏ہے اور صحیح میں اس سے دلیل لی ہے
      اس روایت کی بعض اسناد میں عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ بھی ہے جو ضعیف ہے
      لہذا روایت ضعیف اور مجھول لوگوں کی روایت کردہ ہے
      ‎ ‎جب الله کو پکارا جاتا ہے تو اس کو رحمت مانگتے وقت یا القہار نہیں کہا جاتا جبکہ ‏یہ بھی الله کا نام ہے – مسند احمد کی روایت کے مطابق الله کو پکارتے وقت اس کے ‏تمام ناموں کو پکارا گیا ہے جو سنت کا عمل نہیں
      صحیح حدیث کے مطابق الله تعالی کے ٩٩ نام ہیں لیکن اس مسند احمد کی ضعیف ‏روایت کے مطابق بے شمار ہیں

      روایت منکر ہے – متن صحیح احادیث کے خلاف ہے – راوی مجہول ہیں یا ضعیف ہیں

  10. السلام علیکم
    آپ نے فجر کی اذان کے میں جو الفاظ آئے ہیں اس حوالے سے لکھا کہ

    ابی داود کی تیسری سند ہے

    حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي مَحْذُورَةَ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَحْذُورَةَ، يَقُولُ: ” أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ

    اس میں عَبد الْمَلِكِ بْنِ أَبي مَحذُورَة، ہے جن کا ذکر تو محدثین نے کیا ہے لیکن توثیق کہیں نہ ملی سوائے ابن حبان کی کتب کے جو مجھول راویوں کی توثیق کے لئے مشھور ہیں لہذا ان کا درجہ مجھول کا ہے

    —– ان کا ذکر تاریخ الکبیر امام بخاری میں بھی ہے اور تقريب التهذيب – ابن حجر العسقلاني نے بھی کیا ہے۔ —-

    عبد الملك بن أبي محذورة القرشي عن أبيه وعن بن محيرز روى عنه ابنه محمد والنعمان بن راشد وإسماعيل بن عبد الملك وإبراهيم بن عبد العزيز المكي

    ——–
    عبد الملك بن أبي محذورة الجمحي مقبول من الثالثة عخ د ت س
    ——-
    تهذيب التهذيب – ابن حجر —– عبد الملك بن أبي محذورة الجمحي روى عن أبيه وعن عبد الله بن محيريز عنه وعنه أولاده عبد العزيز ومحمد وإسماعيل وحفيداه إبراهيم بن إسماعيل وإبراهيم بن عبد العزيز والنعمان بن راشد ونافع بن عمر وأبو البهلول الهذيل بن بلال ذكره بن حبان في الثقات >> عخ د ت س البخاري في خلق أفعال العباد وأبي داود والترمذي والنسائي

    — یہ تابعی ہیں۔ مجھول تو نہ ہوئے۔ —
    جزاک اللہ

    1. Islamic-Belief says:

      تابعی ہونے کا مطلب ہے صحابی کو دیکھا ہے – مجہول کا مطلب ہے احوال معلوم نہیں
      یہ دو الگ چیزیں ہیں

      علم حدیث میں صحابی بھی اگر غیر معروف ہو تو اس کی حدیث کو قبول کرنے پر اختلاف ہے

      ذيل لسان الميزان «رواة ضعفاء أو تكلم فيهم، لم يذكروا في كتب الضعفاء والمتكلم فيهم»
      المؤلف: حاتم بن عارف بن ناصر الشريف العوني
      الناشر: دار عالم الفوائد للنشر والتوزيع، مكة المكرمة – المملكة العربية السعودية

      إسماعيل بن عبد الملك بن أبي محذورة:
      روى عن: أبيه عبد الملك بن أبي محذورة.
      ذكره المزّي في سياق الرواة عن أبيه، في تهذيب الكمال (18/ 397).
      قال علي بن المديني -في سؤالات محمَّد بن عثمان بن أبي شيبة (رقم 142) -: “بنو محذورة الذين يُحدّثون عن جدِّهم كلهم ضعيف ليس بشيء

      امام علی المدینی کے بقول وہ تمام بنی محذورة جو دادا کے نام سے روایت کرتے ہیں وہ ضعیف ہیں
      لہذا اس اسمعیل بن عبد الملک کو ضعیف قرار دیا گیا اور محققین نے اس قول کو اس کے ترجمے میں ذکر کیوں کیا ہے
      غور کریں یہ ضعیف راوی ایک مجہول کا نام لے کر روایت کرتے تھے

  11. aysha butt says:

    namaz meraj mn farz hoi
    ummat. e mosa mn 5namazein thi kia
    aap s aw phle jo namz prhte wo galibn tajaud thi .. q k waqia e meraj mn bhi hai k mn kaaba mn letha tha…
    ik admi ne sawal uthaya k. whn to bot thy bothon k huye huye woh namaz prhte to ab agr koi mezar oe sajda krta to unki niyat pe q shak hai…. butt to fath makkah pe toray gy …. button ki mujoodgi mn sab namaz prhte jo us waqt eman lae thy

    1. Islamic-Belief says:

      سوال اردو میں لکھ کر بھیجیں – پڑھا نہیں جا رہا

      1. aysha butt says:

        اعتراض یہ کیا گیا کہ اپ علیہ سلام معراج سے قبل جو نماز پڑھتے تھے وہ کعبہ
        میں بتوں کے ہوٹے ہوئے پڑھی بت فتح مکہ پہ ٹوٹے جب وہ ایسے ہی نماز پڑھ سکتے۔ تو اگر کوئی مزار پہ سجدہ کرے تو ہم انکی نیت پ شک کیون کرتے
        ہییں؟ جب ان کا ایمان ایمان رہاتو اب کیوں کافر کہا جاتا
        ہے
        امت موسی پہ پانچ نماز تھی کیا
        کیونکہ شیعی نہ کہا کہ معراج پہ پانچ ہی نمازملی پچاس۔ نہیں

        1. Islamic-Belief says:

          ہم کعبہ کو قبلہ ماں کر سجدہ اللہ کے حکم کی وجہ سے کر رہے ہیں
          مزارات پر سجدوں کی کیا دلیل ہے ؟

  12. السلام علیکم

    کیا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
    اور اگر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں تو اس کا کیا طریقہ ہے؟

    1. Islamic-Belief says:

      معذوری یا کسی مجبوری پر کیا جا سکتا ہے

  13. aysha butt says:

    اللہ کو کسی کام کا پہلے سے علم نہیں ہوتا جب تک
    کہ وہ ہو نہ جائے
    shia ka yeh aqeda asool e kafi mn hai
    kia yeh bt aisy hi hai… agr aisi hi bt hai toh kufr ka fatwa kia kaiz hai un pe

    1. Islamic-Belief says:

      حوالہ درکار ہے

      1. aysha butt says:

        usool e kafi
        yeh kitab kia imam jafer sadiq se theak mansob hai

        1. Islamic-Belief says:

          اصول کافی کا اہل تشیع میں وہی درجہ ہے جو صحیح البخاری کا ہے – اس کی سند ثابت نہیں ہے
          اور یہ الکلینی کی تالیف ہے جو امام بخاری کے بعد پیدا ہوئے ہیں

  14. السلام علیکم

    سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    “اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

    ’’وہ شخص جس کے جسم کو میں تندرست بناتا ہوں اور جسے میں کافی رزق دیتا ہوں لیکن پانچ سال گزر جاتے ہیں اور وہ میرے پاس نہیں آتا [عمرہ یا حج کے لیے میرے گھر جانا] درحقیقت محروم ہے۔

    (صحیح ابن حبان؛ الاحسان، حدیث: 3703)

    آپ کیا کہتے ہیں؟

    1. Islamic-Belief says:

      خْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ:
      (قَالَ اللَّهُ: إِنَّ عَبْدًا صحَّحتُ لَهُ جِسْمَهُ ووسَّعت عَلَيْهِ فِي الْمَعِيشَةِ يَمْضِي عَلَيْهِ خمسة أعوام لا يَفِدُ إليَّ لَمَحْرُومٌ)
      = (3703) [68: 3]

      علل ابو حاتم میں ہے
      إِنَّمَا هُوَ الْعَلاءُ بْنُ المسيَّب، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، مُرْسَلٌ مرفوع

      اس کی سند میں یونس بن خباب ہے جو ضعیف ہے

      مزید کہا
      قلتُ لأَبِي: لَمْ يَسْمَعْ يونسُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟
      قَالَ: لا.

      یونس کا سماع ابو سعید سے نہیں ہے

      لہٰذا یہ منقطع ہے

      علل دارقطنی میں اس پر ہے اس پر کوئی صحیح روایات نہیں ہے

      وَسُئِلَ عَنْ حَدْيثِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ: إِنَّ عَبْدًا أَصْحَحْتُ لَهُ جِسْمَهُ وَأَوْسَعْتُ عَلَيْهِ فِي الْمَعِيشَةِ، فَأَتَى عَلَيْهِ خَمْسَةُ أَعْوَامٍ لَا يَفِدُ إِلَيَّ؛ لَمَحْرُومٌ.
      فَقَالَ: يَرْوِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَاخْتُلِفَ عَنْهُ؛
      فَرَوَاهُ خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
      وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ.
      وَغَيْرُهُ يَرْوِيهِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مِنْ قَوْلِهِ.
      وَرَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
      وَقَالَ الْأَخْنَسِيُّ: عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَلَا يَصِحُّ مِنْهَا شَيْءٌ.

  15. aysha butt says:

    .kia abu bakr. umer r.a ne aap s.aw pr janaza nae prha…. or wo hadith kesi hai
    jis mn hai k hazrt ayesha ne kaha beljo k chlne se khbr hoi k tadfeen ho ch uki hai…..
    kia hzrt abu bakr r.a ne fatima r.a ka janaza nae prha tha. ya sirf unko khbr nae ki gae ya wesy hi rat k andhre mn qabr mn utara gya . jesy k bukhari o muslim hi hadith mn hai ….

    1. Islamic-Belief says:

      میری تحقیق کے مطابق انبیاء کی نماز جنازہ کا کوئی تصور نہیں ہے
      نماز جنازہ کا مقصد مغفرت کرنا ہے چونکہ انبیاء مغفور ہیں ان کی نماز جنازہ کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ہے

      jis mn hai k hazrt ayesha ne kaha beljo k chlne se khbr hoi k tadfeen ho ch uki hai…..
      اس روایت کی سند ضعیف ہے

      ابو بکر رضی اللہ عنہ کو تدفین کے بعد علی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی ہے تدفین کر دی گئی ہے
      ایسا روایات میں ہے – ان کی سند کی صحت کا مجھ کو علم نہیں

  16. السلام علیکم

    کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

    مجمع الزوائد:

    “وعن أبي وائل قال : جاء رجل من بجيلة إلى عبد الله – يعني ابن مسعود – فقال : إني تزوجت جاريةً بكراً وإني خشيت أن تفركني، فقال عبد الله: ألا إن الإلف من الله، وإن الفرك من الشيطان؛ ليكره إليه ما أحل الله، فإذا دخلت عليها فمرهافلتصل خلفك ركعتين. قال الأعمش : فذكرته لإبراهيم [ فقال ]: قال عبد الله : وقل : اللهم بارك لي في أهلي وبارك لهم في، اللهم ارزقهم مني وارزقني منهم، اللهم اجمع بيننا ما جمعت إلى خير، وفرق بيننا إذا فرقت إلى الخير”. رواه الطبراني ورجاله رجال الصحيح”. (کتاب النکاح، باب ما يفعل إذا دخل بأهله :۴/ ۵۳۶، ط: دار الفكر، بيروت)

    1. Islamic-Belief says:

      حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَمَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ جَارِيَةً بِكْرًا، وَإِنِّي قَدْ خَشِيتُ أَنْ تَفْرِكَنِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّ الْإِلْفَ مِنَ اللهِ، وَإِنَّ الْفَرْكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، لِيُكَرِّهَ إِلَيْهِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَهُ، فَإِذَا دَخَلْتَ عَلَيْهَا فَمُرْهَا فَلْتُصَلِّ خَلْفَكَ رَكْعَتَيْنِ» قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: ” وَقُلْ: اللهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي، وَبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ، اللهُمَّ ارْزُقْنِي مِنْهُمْ وَارْزُقْهُمْ مِنِّي، اللهُمَّ اجْمَعَ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ إِلَى خَيْرٍ، وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى خَيْرٍ ”
      سند ضعیف ہے
      إسحاق بن إبراهيم الدبري
      پر کلام ہے کہ یہ عبد الرزاق سے منکرات نقل کرتا ہے

  17. سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سورۂ بقرہ سیکھو، اس کی تعلیم حاصل کرنا باعث ِ برکت ہے اور اسے چھوڑنا باعث ِ حسرت ہے، باطل پرست اس پر غالب نہیں آ سکتے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ دیر کے لیے ٹھہر گئے اور پھر فرمایا: سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران سیکھو،یہ دونوں چمکدار اور خوبصورت سورتیں ہیں،یہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کواس طرح ڈھانپ لیں گی گویا کہ دو بادل ہوں یا دو سایہ دار چیزیں یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو غول ہوں اور یقیناقرآن مجید قیامت کے دن تلاوت کرنے والے کو اس وقت ملے گا، جب اس کی قبر پھٹے گی، وہ کمزور اوررنگت تبدیل شدہ آدمی کی مانند ہوگا اور بندے سے کہے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا: میں نہیں پہچانتا، قرآن پھر کہے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ یہ کہے گا: میں نہیں پہچانتا، وہ کہے گا: میں تیرا ساتھی قرآن ہوں، جس نے تجھے دوپہر کے وقت پیاسا رکھا اورتجھے رات کو جگاتا رہا، آج ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے (یعنی ہر تاجر اپنی تجارت سے نفع حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے) اور آج تو ہر تجارت کے پیچھے ہو۔ (یعنی آج تجھے ہر تجارت سے بڑھ کر فائدہ حاصل ہوگا) پھر اسے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دی جائیگی، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اور اس کے والدین کو دو عمدہ پوشاکیں پہنائی جائیں گی، وہ اس قدر بیش قیمت ہوں گی کہ دنیا ومافیہا (کی قیمت) ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! یہ پوشاکیں ہمارے لیے کیوں ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ تمہارے بیٹے کے قرآن پڑھنے کی وجہ سے پہنایا گیا ہے، پھر اس سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور جنت کی منزلیں طے کرتا جا، وہ جنت کے بالا خانوں میں چڑھتا جائے گا، جب تک پڑھتا جائے گا، چڑھتا جائے گا، تیز پڑھے یا آہستہ پڑھے۔

    Musnad Ahmed#8482

    What will you about this hadith? is it authentic?

    1. Islamic-Belief says:

      یہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کواس طرح ڈھانپ لیں گی گویا کہ دو بادل ہوں

      Yes authentic

      My Tafseer of Surah Al-Baqarah and Surah Aal-Imran is named after this hadith

      Two illuminated Clouds of Quran

Leave a Reply

Your email address will not be published.

13 + 3 =