الصابئين اور حنیف مذھب

صابئی   / الصابئين/ الصابئون

Sabians

کے نزدیک ان  کا مذھب  شیث بن آدم  و نوح  علیھما السلام  سے آتا ہے- آجکل یہ عراق میں آباد ہیں  – صابئیوں کے ہاں بہتا   پانی (الماء  الجاری ) زندگی ہے لہذا یہ مقدس نہروں دجلہ و فرات کے پاس رہتے ہیں –   صابئی کہتے ہیں کہ ان کے مذھب   کا نام صبغ    سے تھا یعنی پانی میں پبتسمہ دینا  لیکن  غلط العام میں  یہ بدل کر  صابئی  ہو گیا – بعض مفسرین نے کہا کہ لفظ   صابئ  کا تعلق اولاد ادریس سے ہے

  متوشلخ بن إدريس عليه الصلاة والسلام، وكان علي الحنيفية الأولى

 یہ ادریس علیہ السلام  کی نبوت کے بھی قائل ہیں –  کہا جاتا  ہی کہ ان کے نزدیک  آخری پیغمبر یحیی علیہ السلام   تھے اور آخری منزل من اللہ کتاب زبور ہے – یہ  لوگ عراق  میں آج بھی  آباد ہیں – صابئی  مذھب کی اصل تحاریر  نبطی زبان  میں ہیں البتہ ان کے تراجم عربی میں موجود ہیں  –   صابئی اپنے عقائد کو سر   عام  بیان  نہیں کرتے یعنی  ان کے   مذھب قبول کروانے والی مشنریاں/ تبلیغی گروہ   نہیں ہیں  جیسی اسلام و نصرانیت  میں ہیں

آجکل  صابئیوں   کو

Mandaeism

المندائية بھی کہا جاتا ہے – ان کی مقدس کتاب کا نام کنز اربا

Ginza Rba

   ہے جو  آرامی میں ہے

  https://www.youtube.com/watch?v=IC06iY2KHJE

صابئیوں  یا المندائية ‏ کے نزدیک صوم صغیر ہے کہ  تیس دن تک کسی بھی  ذی روح  پر مبنی کھانا  نہیں کھاتے-  تین وقت کی  نماز   (اشراق  ، ظہر اور مغرب)   پڑھتے ہیں  جو وضو کے بعد پڑھی جاتی ہے جس میں صرف قیام و سجود ہوتا ہے – ان کا قبلہ قطب شمالی ہے  – یہ    اپنے اپ کو نصرانیوں سے الگ کرتے ہیں  اور ہر ہفتہ کے دن بپتمسہ   لیتے ہیں –  اللہ کو واحد کہتے ہیں  – آجکل  یہ عراق میں ہی آباد ہیں-

ابتداء  کے حساب سے الصابئين کا آغاز مصر سے ہوتا ہے – وہاں ادریس علیہ السلام کی  نبوت پر ایمان لانے والے موحد اصل میں الصابئين تھے – یہ بت پرستی کے خلاف تھے – اس طرح  صابئی   اور  حنیف  لوگوں  میں مماثلت تھی – دونوں موحد تھے اور بت پرستی کے خلاف تھے  – السراج المنير في الإعانة على معرفة بعض معاني كلام ربنا الحكيم الخبير از شمس الدين، محمد بن أحمد الخطيب الشربيني الشافعي (المتوفى: 977هـ) میں ہے

 وما سموا صابئين إلا لأنهم صبأوا عن الأديان كلها أي  خرجوا

صابئين  کو نام دیا گیا کیونکہ انہوں نے ادیان سے  صبأوا  کیا یعنی ان سب ادیان  سے نکل گئے

حنیف مذھب والے کسی بھی دین پر نہیں تھے – یہ موحد تھے  – اس وجہ سے ان میں اور صابئين   میں مماثلت تھی

مصر میں  الصابئين  کا ایک فرقہ گمراہ ہوا اور اس نے  اللہ تعالی  کے ساتھ نجوم کی پرستش شروع کر دی -غرائب التفسير وعجائب التأويل از  محمود بن حمزة بن نصر، أبو القاسم برهان الدين الكرماني، ويعرف بتاج القراء (المتوفى: نحو 505هـ) میں  ہے

كان فرعون يتعاطى مذهب الصابئين، وإنهم يعبدون النجوم

فرعون ،الصابئين کے مذھب  پر چلتا تھا اور یہ ستاروں کی پوجا کرتے تھے

یہاں تک کہ انہوں نے سمجھا کہ کائنات کو کئی الہ  کنٹرول کر رہے ہیں – ال فرعون  نے اللہ کو الہ موسی  کہا   اور کہتے کہ دعا کرو کہ یہ وبا ہٹا دے-  اس طرح  ال فرعون   اللہ  تعالی کے وجود و قدرت کے قائل تھے البتہ یہ باقی الصابئين   و حنیف گروہوں   سے الگ ہو چکے تھے- اس طرح دربار فرعون  مصر میں  حنیف عقیدہ والے تھے جن میں سورہ مومن کا رجل مومن بھی  تھا جو مصلحتا  تقیہ کر رہا تھا –   ال فرعون   کو خوب  معلوم تھا کہ موسی (علیہ السلام )  سے پہلے  مصر میں  یوسف (علیہ السلام ) بھی اللہ کا نبی تھا-

صابئیوں کو روحانیون  بھی کہا  جاتا تھا – راقم سمجھتا ہے  کہ ال فرعون اسی عقیدہ پر تھے   – یہ عقیدہ  رکھتے ہیں کہ جو  چیز بھی  آسمان  میں ہے اور زمین پر آتی ہے اس کی روح ہے مثلا  شہاب  یا قوس قزح یا ستاروں و سیاروں میں روح ہے اور  اہرام مصر  انبیاء کی قبروں کے اوپر  تعمیر کیے  گئے  ہیں- حنیف مذھب والے اس قسم کا تصور نہیں رکھتے تھے کہ ستاروں سے روح زمین پر آتی ہے  – آجکل کے صابئی اپنے عقیدہ کو مشرکوں سے الگ کرتے خود کو موحد  کہتے ہیں –

 صابئیوں  کی ایک بستی تستر  یا شوشتر فارس  میں بھی آباد تھی –   البیرونی  کی الاثار  الباقیہ   کے مطابق یہ  یہودی قبائل تھے جو غلام بنا کر  بابل  لائے  گئے تھے  ،  وہاں یہ جادو و کہانت سے متاثر  ہوئے ،  اصل توریت کو کھو بیٹھے – البیرونی   نے اس طرح تمام صابئیوں   کو مشرک کہہ دیا ہے ،  راقم  اس رائے سے متفق نہیں ہے  –

صابئیوں  پر  اہل سنت کے پاس  تحریری  معلومات  کا مصدر  صرف  ایک کتاب  ہے   جس کا نام ہے

الفلاحة النبطية   یا   الزراعة النبطية

 The Nabataean Agriculture

ہے – جو  أبو بكر أحمد بن علي بن قيس  المعروف  ابن وحشية النبطي کی تالیف ہے- کہا  جاتا  ہے کہ یہ سن ٢٩١ ھ  میں لکھی گئی تھی –  یہ کتاب   صلاح الدین  ایوبی  کے   طبیب   یہودی  حبر    میمونید

Maimonides

کے پاس بھی تھی اور اس نے بھی اس کے حوالے  اپنی کتب میں دیے ہیں – ابن وحشیہ  کے دور  میں یہ  الحران  میں آباد  تھے اور ان کو نبطی  مذھب  کہا  جاتا تھا – تب سے لے کر آج تک  صرف ان پر کوئی کتاب نہیں لکھی گئی – صرف شهرستاتی و ابن حزم نے سرسری تبصرے کیے ہیں- ابن وحشیہ کے مطابق صابئی  کہتے ہیں کہ ہیکل سلیمانی کے مقام    پر ایک مندر  تعمیر  انبیاء سے  پہلے سے موجود  تھا  جو  مریخ  کا مندر  تھا  اور طاموز

Tammùz /  Dumuzid

 کا بت اس میں نصب  تھا  جو  انات ( عربي  دیوی المناة)  کا عاشق  تھا [1]

موسوعة الملل والأديان میں  عَلوي بن عبد القادر السقاف نے ذکر کیا کہ

وقد أفتى أبو سعيد الاصطخري بأن لا تقبل الجزية منهم  ونازعه في ذلك جماعة من الفقهاء.

 أبو سعيد الاصطخري نے فتوی دیا کہ صابئیوں کا جزیہ قبول نہیں جس پر  فقہاء کی ایک جماعت نے اس پر اس سے جھگڑا گیا

دَرْجُ الدُّرر في تَفِسيِر الآيِ والسُّوَر از  أبو بكر عبد القاهر بن عبد الرحمن بن محمد الفارسي الأصل، الجرجاني الدار (المتوفى: 471هـ) میں ہے

والصّابئون: أهل كتاب عند أبي حنيفة تحلّ مناكحتهم وذبائحهم

صابئی   ‏، امام ابو حنیفہ کے نزدیک اہل کتاب ہیں ان سے نکاح اور ان کا ذبیحہ  حلال ہے

امام شافعی کا موقف عجیب و غریب ہے – ان کے نزدیک یہ اہل کتاب ہیں لیکن ذبیحہ  حلال نہیں ہے

مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه از  إسحاق بن منصور بن بهرام، أبو يعقوب المروزي، المعروف بالكوسج (المتوفى: 251هـ) میں ہے

قال إسحاق: لا بأس بذبائح الصابئين لأنهم طائفة من أهل الكتاب

 إسحاق بن راهويه نے کہا الصابئين  کے ذبیحہ میں کوئی برائی نہیں یہ اہل کتاب کا ایک طائفہ ہیں

کتاب غرائب التفسير وعجائب التأويل از  محمود بن حمزة بن نصر، أبو القاسم برهان الدين الكرماني، ويعرف بتاج القراء (المتوفى: نحو 505هـ) میں ہے

والصابئون مقدمون على النصارى في الزمان، لأنهم كانوا قبلهم

صابئی   ، نصرانیوں سے بھی پہلے کے ہیں

أخرج ابْن أبي حَاتِم عَن أبي الزِّنَاد قَالَ: الصابئون قَالَ: الصابئون مِمَّا يَلِي الْعرَاق وهم بكوثى يُؤمنُونَ بالنبيين كلهم

 أبي الزِّنَاد نے کہا صابئی    عراق میں كوثى میں ہیں اور یہ تمام انبیاء پر ایمان لاتے ہیں

كوثى  اصل میں ابراھیم علیہ السلام  کا شہر ہے

قرآن سورہ الحج میں ہے

الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

اس میں صلوات  بعض  مفسرین  کے   مطابق مَسَاجِد الصابئين ہیں

[1]

The Last Pagans of Iraq: Ibn Wahshiyya And His Nabatean Agriculture (Islamic History and Civilization) (Islamic History & Civilization)  –  Jaakko Hameen-Anttila ، Brill Academic Publishers  June 1, 2006

Leave a Reply

Your email address will not be published.

one × 1 =