عورتوں کے قبرستان جانے پر فقہاء کا اختلاف

کيا اسلام ميں عورتوں کے قبرستان جانے پر پابندي ہے ؟

جواب 

قرن دوم میں اغلبا اس حوالہ سے اختلاف موجود تھا کہ مرد بھی قبرستان جا سکتے ہیں یا نہیں – کوفہ کے شروع فقہاء کے نزدیک قبرستان نہیں جا سکتے تھے مثلا امام الشعبی سرے سے قبرستان ہی نہیں جاتے تھے

مصنف ابن ابي شيبہ ميں الشَّعْبِيِّ سے منسوب قول ہے
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ لَزُرْتُ قَبْرَ ابْنَتِي

الشَّعْبِيِّ نے کہا اگر رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے زيارت قبور سے منع نہ کيا ہوتا تو ميں اپني بيٹي کي قبر کي زيارت کرتا

اس کي سند ميں مجالد بن سعيد ضعيف ہے – قبروں کي زيارت ممنوع عمل نہيں ہے الشَّعْبِيِّ تک وہ حديث نہيں پہنچي ہو گي جس میں ممانعت زیارت
کو منسوخ کیا گیا ہے

الذھبي نے سير الاعلام النبلاء ميں لکھا ہے
أَمَّا مَنْ سَارَ إِلَى زِيَارَةِ قَبْرِ فَاضِلٍ مِنْ غَيْرِ شَدِّ رَحْلٍ، فَقُربَةٌ بِالإِجْمَاعِ بِلاَ تَرَدُّدٍ، سِوَى مَا شَذَّ بِهِ الشَّعْبِيُّ، وَنَحْوُهُ، فَكَانَ بَلَغَهُمُ النَّهْيُ عَنْ زِيَارَةِ القُبُوْرِ، وَمَا عَلِمُوا بِأَنَّهُ نُسِخَ
ذَلِكَ – وَاللهُ أَعْلَمُ
جو کسي فاضل (عالم ) کي قبر تک پہنچ گيا بغير سواري کسے تو وہ قبر کے پاس جائے گا بلا تردد، اس پر اجماع ہے سوائے وہ جو امام الشَّعْبِيُّ
نے جو الگ کہا اور ان جيسوں نے کيونکہ ان تک زيارت قبور کي ممانعت پہنچي اس کے منسوخ ہونے کا ان کو علم نہ ہوا

کوفہ کے ابراہیم النخعی قبرستان جانے سے کراہت کرتے تھے – لیکن امام ابو حنیفہ کے دور تک محدثین تک منسوخ و ناسخ حدیث کا مزید علم ہو ا
اور معلوم ہوا کہ قبرستان جانے سے مما نعت والی احادیث منسوخ ہیں

اس طرح واپس موقف ہوا کہ قبرستان جا سکتے ہیں لیکن اس میں بعض اس کے قائل ہوئے کہ صرف مرد جا سکتے ہیں – بعض علماء کا موقف ہوا کہ
اسلام ميں صرف مرد قبرستان جا سکتے ہيں اور عورتيں کسي صورت قبرستان نہ جائيں – بعض نے کہا جا سکتی ہیں اگر رونا دھونا نہ کریں اس کی
دلیل مصنف ابن ابي شيبہ ميں عمر رضي اللہ عنہ سے منسوب قول ہے کہ يہ پابندي صرف جذباتي ہو جانے کي وجہ سے ہے

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ «نَهَيْنَا النِّسَاءَ لِأَنَّا لَا نَجِدُ أَضَلَّ مِنْ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ»
عمر نے کہا ہم عورتوں کو روکتے ہيں کيونکہ ہم نے قبروں کي زيارت کرنے والوں ميں ان سے زيادہ گمراہ نہيں ديکھي ہيں

سند ميں ابن سنان مجہول ہے – اگر يہ سعيد بن سنان أبو سنان ہے تو اس کي تضعيف احمد نے کي ہے

پھر کچھ احادیث بھی تھیں – عورتيں قبر پر نہ جائيں اس پر مزيد احاديث ہيں

مصنف ابن ابي شيبہ ميں ہے کہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے قبروں کي زيارت کرنے واليوں پر لعنت کي ہے
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ
حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ سے مروي ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے قبروں کي زيارت کرنے واليوں پر لعنت کي ہے

عبد الرحمن بن بهمان پر امام علي المديني کا قول ہے کہ اس کو نہيں جانتا کون ہے
شعيب الأرنؤوط نے کہا
إسناد ضعيف لجهالة حال عبد الرحمن بن بهمان
سند ضعيف ہے مجہول راوي کي وجہ سے

سنن ابن ماجہ ميں اسي سند سے ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ،
وَقَبِيصَةُ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ»

مجہول راوي کي وجہ سے يہ روايت حسن درجہ پر ہے – امام حاکم کا قول ہے کہ يہ حکم منسوخ ہے
وَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ الْمَرْوِيَّةُ فِي النَّهْيِ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ مَنْسُوخَةٌ “

طبراني ميں ابن عباس رضي اللہ عنہ سے منسوب قول ہے

حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «إِنَّهُ لَعَنَ زَائِرَاتِ
الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ، وَالسُّرُجَ»
نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے قبروں کي زيارت کرنے واليوں پر لعنت کي ہے اور ان مسجديں بنانے واليوں پر اور ان پر ديے جلانے واليوں پر

يہ اغلبا يہودي عورتيں ہوں گي جو ايسا کرتي ہوں گي – مومن عورتيں دور نبوي ميں ايسا نہيں کر سکتيں – يہ صرف زيارت قبر نہيں ہے بلکہ قبر سے متعلق
مراسم ہيں جو ادا کيے جاتے تھے – اہل کتاب پر نبي کي زبان سے لعنت اسي وجہ سے تھي

سند ميں صالح بن نبهان پر بھي کلام ہے – يہ مختلط ہو گئے تھے اور معلوم نہيں کہ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ نے کس دور ميں سنا ہے
سنن الکبري بيہقي ميں مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ کہتے ہيں کہ جب يہ حديث سني اس وقت صالح بن نبهان بوڑھے ہو چکے تھے لہذا اختلاط کا دور ہي لگتا ہے
مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، وَقَدْ كَانَ كَبِرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ” لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذَاتِ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ

مصنف عبد الرزاق 6704 ميں ہے

مصنف عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «لُعِنَ زَوَّارَاتُ الْقُبُورِ

عکرمہ نے کہا کہ رسول اللہ نے قبروں کي زيارت کرنے واليوں پر لعنت کي ہے

سند منقطع ہے عکرمہ صحابي نہيں ہے

مسند ابو داود طيالسي ميں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَعَنَ اللَّهُ [ص 114] زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ»
مسند ابو يعلي ميں ہے
حَدَّثنا أَبُو كامل، قَال حَدَّثنا أَبُو عَوَانة، عَن عُمَر بن أبي سَلَمَة، عَن أَبِيه، عَن أبي هُرَيرة، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم زوارات القبور
سنن ترمذي ميں ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ زَوَّارَاتِ القُبُورِ
عمر بن أبي سلمة بن عبد الرحمن کو نسائي اور ابن معين نے ضعيف قرار ديا ہے
فقہ ميں جب صحيح سند نہ ہو تو ضعيف سے دليل لي جاتي ہے – يہاں ايسا ہي ہے اس کو اس وجہ سے حسن کہہ کر دليل لي گئي ہے

ان روايات ميں بلا استثنا قبر کي زيارت کرنے پر لعنت ہے – اس بنا پر راقم کے نزديک ان روايات کا متن صحيح نہيں ہے – ام المومنين عائشہ اپنے حجرہ
ميں تين قبروں کو ديکھتي ہوں گي اگر قبر کي زيارت ممنوع ہوتا تو وہ کبھي بھي اپنے حجرہ ميں کسي کي بھي تدفين کي اجازت نہ ديتيں

امام ترمذي کي رائے ہے
فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ هَذَا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُرَخِّصَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَلَمَّا رَخَّصَ عَمَّتِ الرُّخْصَةُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ، وَمِنْهُمْ مَنْ كَرِهَهَا لِلنِّسَاءِ، لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ، وَكَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ.
بعض اہل علم کي رائے ہے کہ يہ اقوال اس دور کے ہيں جب قبروں کي زيارت کي رخصت نہيں تھي پس بعض نے رخصت کو تمام مرد و عورت پر ليا ہے اور
بعض نے عورتوں کے قبرستان جانے پر کراہت کي ہے کيونکہ ان ميں صبر کم ہے

امام بخاری کا موقف فقہائے کوفہ سے الگ تھا – ان کے نزدیک عورتین جنازہ بھی پڑھ سکتی ہیں – اور قبر پر بھی جا سکتی ہیں

—————

عائشہ رضي اللہ عنہا کا اپنے بھائي کي قبر پر جانا

تاریخ و حدیث کی ایک سے زائد کتب میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنے بھائی عبد الرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی قبر پر جانا آیا ہے – اس خبر میں
کسی ایک راوی کا تفرد نہیں ہے جیسا بعض کو وہم ہے – اس خبر کو قبول کیا گیا ہے تفصیل یہ ہے

تاريخ اوسط از امام بخاري ميں ہے

حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَن بسطَام هُوَ الْبَصْرِيّ بن مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حميد عَن بن أَبِي مُلَيْكَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ انْطَلَقَ يَزُورُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ زُرْتُ
قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْتُ وَتُزَارُ الْقُبُورُ قَالَتْ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِي فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَأَكْلِ الأضاحى وَالْجَرَاد حَدِيثُ أُمَيَّةَ هَذَا لَا يَصِحُّ
وروى حَمَّاد بن زيد عَن أَبى التياح عَن بن أبي مليكَة قَالَ رَأَيْت عَائِشَة فَقلت أَيْن تذْهب أَو أَيْن تَجِيء قَالُوا زارت قبر أَخِيهَا

اميہ نے حديث ذکر کي …. ابن ابي مليکہ نے کہا کہ عائشہ رضي اللہ عنہا کے پاس گيا تو انہوں نے کہا ميں عبد الرحمان کي قبر کي گئي تھي ميں نے
پوچھا آپ قبروں پر گئيں ؟ عائشہ رضي اللہ عنہا نے فرمايا کہہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے مجھ کو رخصت دي تھي کہ ميں قبروں کي زيارت کروں ، قرباني
سے کھا لوں اور ٹڈياں کھا لوں – امام بخاري نے کہا اميہ کي حديث صحيح نہيں اور حماد بن زيد نے روايت کيا کہ ابن أبي مليكَة نے کہا ميں نے عائشہ
کو ديکھا پوچھا آپ کہاں سے آ رہي ہيں يا جا رہي ہيں ؟ فرمايا اپنے بھائي کي قبر کي زيارت کو

امام بخاري نے دوسري سند پر کوئي جرح نہيں کي اور اس طرح اس بات کو صحيح قرار ديا ہے کہ يہ واقعہ ہوا ابن ابي مليکہ بعد ميں نہيں ملا تھا بلکہ
ان سے راستہ ميں ملا تھا

تاريخ الکبير ميں امام بخاري نے مزيد وضاحت کي

قَالَ لِي ابْنُ أَبي الأَسود حدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيوب، ذَكَرَ ابْنُ أَبي مُلَيكةَ زيارة القبور، والأوعية، فقلتُ يا أبا بكر، مَن حَدَّثَكَ؟ قَالَ حَدَّثني أَبو الزِّنَادِ، عَنْ بعض
الكوفيين.
وحدثني أُمَيَّة، قال حدَّثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيع، عَنْ بِسطام، حَدَّثَنَا أَبو التَّيّاح، حدَّثنا ابْنُ أَبي مُلَيكةَ، سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَن النبيِّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم … ، نحوه.
قَالَ أَبو عَبد اللهِ والأول، بإرسالَهُ، أصح.

امام بخاري نے کہا مجھ سے ابْنُ أَبي الأَسود نے حديث بيان کي حدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيوب کہ ابْنُ أَبي مُلَيكةَ نے حديث ذکر کي زيارت قبور پر ميں
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ (ابن عُلَيَّةَ) نے ايوب سے کہا اے ابو بکر يہ کس نے بيان کي ؟ کہا اس کو أَبو الزِّنَادِ نے بعض کوفيوں سے روايت کيا تھا – (امام بخاري
نے کہا مجھ کو ) اميہ نے حديث بيان کي کہ حدَّثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيع، عَنْ بِسطام، حَدَّثَنَا أَبو التَّيّاح، حدَّثنا ابْنُ أَبي مُلَيكةَ، سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَن النبيِّ صَلى اللَّهُ عَلَيه
وسَلم … اور اسي طرح کي حديث تھي – امام بخاري نے کہا پہلي سند ارسال کے ساتھ زيادہ أصح ہے

الكنى والأسماء از الدولابي (المتوفى 310هـ) ميں امام احمد کا قول ہے

، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ وَالْأَدْعِيَةِ، فَقُلْتُ يَا أَبَا بَكْرٍ مَنْ
حَدَّثَكَ؟ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ بَعْضِ الْكُوفِيِّينَ، قَالَ أَبِي وَهَذَا الْحَدِيثُ يَرْوِيهِ رَوْحٌ، عَنْ بِسْطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَالْأَدْعِيَةِ، وَهُوَ خَطَأٌ، إِنَّمَا الْحَدِيثُ حَدِيثُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ بَعْضِ الْكُوفِيِّينَ

عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے کہا ميرے باپ نے حديث بيان کي ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ (ابن عُلَيَّةَ)، عَنْ (أَبَو بَكْرٍ ) أَيُّوبَ (بنَ أَبِي تَمِيْمَةَ) کہ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ نے
ذکر کيا زيارت قبور پر – ميں (ابن عُلَيَّةَ) نے کہا اے ابو بکر (يعني ايوب ) کس نے اس کو روايت کيا ؟ کہا اس کو أَبو الزِّنَادِ نے بعض کوفيوں سے روايت کيا تھا
ميرے باپ نے کہا اسي حديث کو روح نے بِسْطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کي سند سے زيارت قبور کے حوالے
سے روايت کيا ہے اور يہ غلطي ہے کيونکہ يہ حديث َايُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ کي بعض کوفيوں سے آتي ہے

امام بخاري اور امام احمد کا مقصد اس روايت (عائشہ رضي اللہ عنہا کا بھائي کي قبر پر جانا ) کو مطلقا رد کرنا نہيں ہے بلکہ دونوں کے نزديک اس کي ايک
دوسري سند صحيح ہے

المعارف از ابن قتيبہ ميں ہے
ومات فجأة سنة ثلاث وخمسين بجبل بقرب مكة. فأدخلته «عائشة بنت أبى بكر» الحرم ودفنته
عبد الرحمان سن 35 ھ ميں مکہ کے پاس پہاڑ کے قريب فوت ہوئے ان کو عائشہ نے حرم ميں داخل کيا اور دفن کرايا

يہ قول بلا سند لکھا گيا ہے اور مکمل درست نہيں ہے

المعرفة والتاريخ از الفسوي ميں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ تُوُفِّيَ عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق، فاصعد مَعَهُ ابْنُ عُمَرَ
حَتَّى إِذَا جَاءَ الرَّدْمَ أَعْلَى مَكَّةَ قَالَ رُدُّوا النِّسَاءَ.
مجاہد نے کہا عبد الرحمان کي وفات (دوران سفر ) ہوئي تو ابن عمر ساتھ آئے حتي کہ الردم مکہ سے اوپر پہنچے تو کہا ان کي عورتوں کو بلا لو

تاريخ أبي زرعة الدمشقي ميں ہے
حدثنا أبو زرعة قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بكر في نومة نامها
عبد الرحمان کي وفات سوتے ميں ہوئي

المنتظم ابن جوزي ميں ہے
قَالَ ابْنُ سَعْدٍ وَأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ] بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ تُوُفِّيَ فِي مَنْزِلٍ لَهُ فَحَمَلْنَاهُ عَلَى رِقَابِنَا سِتَّةَ أَمْيَالٍ إِلَى
مَكَّةَ، وَعَائِشَةُ غَائِبَةٌ، فَقَدِمَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَتْ أروني قبر أخي، فصلت عَلَيْهِ.
اْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ نے ذکر کيا کہ عبد الرحمان کي وفات ہوئي ايک منزل پر ، ہم نے ان کو اٹھايا اپني گردنوں پر چھ ميل تک حتي کہ مکہ پہنچے اور عائشہ وہاں
نہيں تھيں وہ اس کے بعد آئيں اور فرمايا مجھے ميرے بھائي کي قبر دکھاو پس وہاں دعا کي

المنتظم ابن جوزي ميں ہے
قَالَ مُحَمَّد بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لاحِقٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ
مَاتَ عبد الرحمن بالحبشي فَحُمِلَ حَتَّى دُفِنَ بِمَكَّةَ، فَقَدِمَتْ عَائِشَةُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَتَتْ قَبْرَهُ فَوَقَفَتْ عَلَيْهِ فَتَمَثَّلَتْ بِهَذَيْنِ الْبَيْتَيْنِ
وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَة [3] … مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا
فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا … لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعًا
ثُمَّ قَالَتْ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شَهِدْتُكَ مَا زُرْتُ قَبْرَكَ، وَلَوْ شَهِدْتُكَ مَا حَمَلْتُ مِنْ حَبَشِي مَيِّتًا وَلَدُفِنْتُ مَكَانَكَ

عبد الرحمن کي موت الحبشي ميں ہوئي پھر مکہ ميں دفن ہوئے ، عائشہ وہاں مدينہ سے گئيں قبر پر پہنچيں ، رکيں اور اشعار کہے
وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَة … مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا
فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا … لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعًا
پھر فرمايا و اللہ اگر موت پر ديکھ ليا ہوتا تو قبر کي زيارت نہ کرتي اور اگر الحبشي ميں ديکھا ہوتا تو وہيں دفن کراتي

عائشہ رضي اللہ عنہا کے رشتہ داروں کي نسل ميں آنے والے مورخ الزبير بن بكار بن عبد الله القرشي الأسدي المكي (المتوفى 256هـ) کتاب الأخبار
الموفقيات للزبير بن بكار لکھتے ہيں
وَقَفَتْ عَائِشَةُ عَلَى قَبْرِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَتَمَثَّلَتْ
«وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً … مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا
فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا … لِطُولِ اجْتَمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعًا»

عائشہ اپنے بھائي کي قبر پر گئيں اور اشعار کہے

جن فقہاء نے عورتوں پر قبرستان جانے پر پابندي لگائي ہے ان ميں بعض نے قياس کيا ہے کہ عورتيں روئيں گي کيونکہ وہ جذباتي ہيں اس لئے وہ نہيں
جائيں البتہ ان کو روکنے کي کوئي صحيح سند دليل نہيں ہے – صحيح بخاري ميں موجود ہے کہ عورت نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے قبر پر ديکھي اور اس
پر آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے لعنت نہيں کي

حديث أنس قال مَر النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بامرأة عند قبر تبكي على صبي لها، فقال لها “اتقي الله واصْبِري” فقالت وما تُبالي بمصيبتي، فلما ذهب قيلَ لها
إنَهُ رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فأخذها مثلُ الموت، فأتت بابَه، فلم تجد على بابه بوابين، فقالت يا رسولَ الله، لم أعرفك، فقال “إنما الصبرُ عند الصدمةِ الأولى

انس رضي اللہ عنہ سے مروي ہے کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم ايک عورت پر گزرے جو قبر کے پاس تھي قبر پر اپنے بيٹے کے لئے رو رہي تھي – آپ نے
فرمايا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو – عورت بولي تم کو ميري مصيبت کا کيا معلوم – جب آپ صلي اللہ عليہ وسلم تشريف لے گئے تو اس سے کہا گيا کہ يہ رسول
اللہ صلي اللہ عليہ وسلم تھے اس عورت نے اس (لا علمي ) کو موت کي طرح ليا اور نبي کے پاس گئي … بولي ميں آپ کو پہچاني نہيں – نبي نے فرمايا
صبر صدمہ کے شروع ميں ہے

وہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کو پہچان نہ سکي اور آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے اس کو قبر پر ديکھ کر اس پر لعنت نہ کي بلکہ صرف رونے سے منع کيا
– قبر کے پاس جانے ميں کوئي مضائقہ نہيں اگر مقصد آخرت کو ياد کرنا ہو

امام بخاري نے صحيح ميں روايت دي
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الحَذَّاءِ، عَنْ أُمِّ الهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ «نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا
أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا نے کہا ہم کو جنارہ کے پيچھے جانے سے منع تو کيا جاتا تھا ليکن مگر تاکيد سے منع نہيں ہوا تھا

امام مسلم نے بھي اس کو روايت کيا ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ «كُنَّا» نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا

يعني اگر کوئي عورت جنازہ کے ساتھ جاتي تو اس کو زبردستي روکا نہيں جاتا تھا کيونکہ اس ميں صريح ممانعت ختم ہو چکي تھي

ابن حجر نے فتح الباري ميں الفاظ کي وضاحت ميں لکھا
ولم يؤكد علينا في المنع كما أُكدَ علينا في المنهيات
ہم کو منع کي تاکيد نہيں کي جاتي تھي جس طرح ديگر ممنوعات ميں کيا جاتا تھا

صحيح مسلم ميں ہے کہ قبروں پر جانے سے منع کرنے کا پچھلا حکم منسوخ ہوا اب اجازت ہے – اس حديث ميں کوئي استثنا نہيں ہے کہ عورتيں اب
بھي نہيں جا سکتيں يہ حکم صرف مردوں کے لئے ہے – مزيد کہ جو علماء عورتوں کو قبرستان جانے سے منع کرتے ہيں وہي صحيح مسلم کي اس
روايت کو بھي بيان کرتے ہيں جس ميں ہے کہ ايک رات نبي البقيع قبرستان گئے تو عائشہ رضي اللہ عنہا نے اندھيرے ميں ان کا پيچھا کيا – راقم کے
نزديک صحيح مسلم کي يہ روايت منکر ہے

امام بخاری کے مطابق امہات المومنین نے سعد بن ابی وقاص کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی( اس کا مطلب ہے کہ جنازہ میں عورتوں کا شامل ہونا
معیوب نہیں تھا ) حدیث ابو ہریرہ کے مطابق جنازہ مرد اٹھاتے تھے عورتیں نہیں اور مرد جنازہ لے کر قبرستان جاتے تھے – حدیث ام عطیہ کے مطابق
بعض خواتین بھی شامل ہو جاتی تھیں جن کو روکا نہیں جاتا تھا – خواتین کو قبر کے پاس دیکھ کر ان کو ڈانٹنے کا کوئی ذکر نہیں ملا – اس سے یہ
نکلا کہ فقہائے بغداد کے نزدیک قبر پر جانا عورت و مرد کے لئے جائز ہے ليکن جو چيز منع ہے وہ شور و غل وغيرہ کرنا

فقہائے کوفہ یعنی احناف کے نزدیک عورت نہ جنازہ پڑھے گی نہ قبرستان جائے گی  

مالکي فقہاء کے اقوال ہيں کہ امام مالک کے نزديک عورتيں قبرستان جا سکتي ہيں قرطبي نے ذکر کيا
ومال مالك إلى الجواز، وهو قول أهل المدينة
امام مالک کا ميلان (عورتوں کے قبرستان جانے کے ) جواز پر ہے اور اہل مدينہ کا بھي يہي قول ہے

حنابلہ کے نزدیک عورت جا سکتی ہے اگر رونا دھونا نہ کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

twenty − eighteen =