علم باطن کی شرعی دلیلیں

[wpdm_package id=’9879′]

فہرست

پیش لفظ 5
ابو المنذر علم مبارک ہو 8
علم انبیاء و فرشتے آ کر دیتے ہیں 10
ہر آیت کا ظاہر و باطن ہے ؟ 14
دربار سلیمان کی خبر 16
خضر کون ہیں 21
خواب میں غیب کی خبر 35
حارث کا قول ہے 38
خالد کا زہر پینا 44
نزول ملائکہ ہر وقت ؟ 52
ابو مسلم خولانی کا قصہ 55
ساریہ پہاڑ پہاڑ کی طرف 60
ابو بکر رضی اللہ عنہ کا خواب یا کشف 71
زبیر رضی اللہ عنہ کا قول 75
صحو و سکر کا تماشہ 77
ابن تیمیہ کے کشف کا ذکر 87
آدم ، اللہ تعالی کی صورت پر ؟ 89
اسرار حروف اور انسان کامل 92
محدثین کا کشفی خواب بیان کرنا 96
کتم علم کے دلائل 99
علم چھپانے کا حکم نبوی ؟ 102
علم باطن ایک راز ہے 117
کعبہ کا اصل ڈیزائن چھپایا جائے ؟ 119

پیش لفظ

علم لدنی کا حوالہ سورہ کہف سے آتا ہے کہ خضر نے موسی علیہ السلام کی بتایا کہ ان کو جو علم حاصل ہے وہ من جانب اللہ ملا ہے – ارشاد باری تعالیٰ ہے – وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْماً اور ہم نے اسے اپنی جانب سے علم دیا – قرآن میں اللہ تعالی نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی آیات بھی من جانب اللہ ہیں – سورہ طہ میں ہے وَقَد ءاتَينـٰكَ مِن لَدُنّا ذِكرً‌ا ہم نے تم کو اپنی طرف سے ذکر و نصیحت دی –
اہل تشیع کے مطابق ائمہ کو علم لدنی حاصل ہے اور صوفیاء کے مطابق ان کے اعلام کو یہ علم حاصل ہے – علم لدنی کے اور ناموں میں علم طریقت یا علم عرفان یا علم مکاشفہ یا علم باطن وغیرہ بھی ہیں- امام غزالی کتاب احیاء العلوم الدین میں علم مکاشفہ کی تعریف بیان کرتے ہیں
علم المكاشفة وهو علم الباطن وذلك غاية العلوم فقد قال بعض العارفين من لم يكن له نصيب من هذا العلم أخاف عليه سوء الخاتمة
علم مکاشفہ ہی علم باطن ہے اور علوم کا مقصد اسی کو حاصل کرنا ہے بعض عارفین کہتے ہیں جس کو اس کا حصہ نہ مل پائے اس کا خوف ہے کہ اس کا خاتمہ برائی پر ہو گا
طاہر القادری کتاب علم و مصادر علم میں کشف و علم لدنی پر لکھتے ہیں
https://www.minhajbooks.com/english/book/Ilm-awr-Masadir-e-Ilm/read/img/btid/4306/

اس کتاب میں کتاب و سنت کے حوالے سے علم لدنی کے دلائل پر بات کی گئی ہے جو علم لدنی یا علم خواص پر پیش کی جاتی ہیں – تصوف نا پسند حلقوں میں انہی دلائل کو علم احسان و تذکیہ کا نام دیا جاتا ہے –
قابل غور ہے کہ انبیاء و رسل پر الوحی آتی ہے – ان کا خواب بھی الوحی کی قسم ہے – قرآن سے یہ سب ثابت ہے البتہ بحث اس میں ہے کہ کیا بعد وفات النبی کیا کسی امتی پر بھی غیب کو کشف کیا جا سکتا ہے ؟ اس کے کیا دلائل ہیں جو صوفیاء نے اپنے خواص کے حوالے سے بیان کیے ہیں جن کو متصوفانہ تحاریر میں اولیاء اللہ کہا جاتا ہے – یعنی اس کتاب کا مدعا غیر نبی پر کشف غیب کے دلائل کا جائزہ لینا ہے –
گزشتہ امتوں کے لئے معلوم ہے کہ ان میں کرامات ہو جاتی تھی مثلا اصحاب کہف کا برسوں سوتے رہنا ، مریم علیہ السلام تک رزق پہنچنا ، کھجوروں کا ان پر گرنا ، حدیث غار وغیرہ – لیکن امت محمد کے حوالے سے ہے یہ الہام اب بند ہے کیونکہ صحیح حدیث میں ہے کہ غیبی خبر میں سے اب صرف سچا خواب ہے ، وہ بھی قرب قیامت میں مومنوں کو آئے گا – محدثوں (الہام والوں ) کے وجود کے قائل اہل سنت کے مطابق اولیاء اللہ کو نیند ، خواب ، بیداری سب میں کشف ہوتا ہے ، الہام ہوتا ہے – بعض سلفی و اہل حدیث فرقے بھی اس کے قائل ہیں – ان کی دلیلوں میں وہ واقعہ ہے جس میں عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر سے جنگ کا منظر نظر آتا ہے یا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قول ہے جو حاملہ بیوی ے پیٹ کے اندر اولاد مادہ پر ہے گویا ابو بکر یہ تک جان گئے کہ ہونے والا بچہ ہے یا بچی ہے – راقم نے ان روایات پر اس کتاب میں بحث کی ہے –
علم کشف کو چھپایا بھی جاتا ہے ، ہر ایک پر پیش نہیں کیا جاتا – اس کو اس کتاب میں کتم علم کہا گیا ہے
ابو شہر یار
٢١ رمضان ١٤٤١ ھ

Leave a Reply

Your email address will not be published.

eighteen − 7 =