Category Archives: علم و اصول حدیث

راوی کا نام لو

پہلی صدی ہجری میں جب سیاسی اور فرقہ وارانہ فتنوں کا آغاز ہوا تو روایت کے معاملے میں بھی ایک نئی صورت پیدا ہوئی۔ اس سے پہلے راوی سے اسناد کے متعلق وہ سوال نہیں کیا جاتا تھا جو بعد میں لازم سمجھا جانے لگا۔ محمد بن سیرین کا مشہور قول صحیح مسلم کے مقدمہ میں موجود ہے

حدثنا أبو جعفر محمد بن الصباح، حدثنا إسماعيل بن زكرياء، عن عاصم الأحول، عن ابن سيرين، قال

لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الإِسْنَادِ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ قَالُوا سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ، فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ، وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ

یعنی وہ اسناد کے متعلق سوال نہیں کرتے تھے، لیکن جب فتنہ واقع ہوا تو کہنے لگے اپنے راویوں کے نام ہمیں بتاؤ۔ پھر اہل سنت کو دیکھا جاتا تو ان کی حدیث لی جاتی اور اہل بدعت کو دیکھا جاتا تو ان کی حدیث نہ لی جاتی۔

بحوالہ صحیح مسلم، مقدمہ، باب بيان أن الإسناد من الدين وأن الرواية لا تكون إلا عن الثقات۔

یہ عبارت بہت اہم ہے۔ محمد بن سیرین صاف بتا رہے ہیں کہ ایک ایسا زمانہ آیا جس کے بعد صرف یہ سن لینا کافی نہ سمجھا گیا کہ فلاں شخص نے حدیث بیان کی ہے، بلکہ یہ پوچھا جانے لگا کہ یہ بات کس سے لی گئی ہے۔ پس راوی کی شناخت، اس کا تعلق، اس کا مسلک اور اس کی روایت کا ماخذ دیکھنا ضروری سمجھا گیا۔

یہی وہ علمی ماحول ہے جس میں جرح و تعدیل، رجال، علل اور موضوع روایات کی شناخت کا کام وسیع ہوا۔ بعد میں محدثین نے ان راویوں پر مستقل کتابیں لکھیں جن پر کذب، وضع، ضعف، اختلاط، ارسال، تدلیس یا دوسری علتوں کا حکم لگایا گیا۔

یہ مسئلہ صرف نظری نہیں تھا۔ صحیح مسلم کے اسی مقدمہ میں عبداللہ بن مبارک کا قول ہے

الإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ

یعنی اسناد دین کا حصہ ہے، اگر اسناد نہ ہوتی تو جس کا جو جی چاہتا کہہ دیتا۔

پس اسناد کی ضرورت ہی اس لیے پیدا ہوئی کہ ہر منقول بات کو بلا تحقیق قبول نہ کیا جائے۔

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی روایت اور عمر رضی اللہ عنہ کی احتیاط

اسی مسئلہ کو سمجھنے کے لیے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی روایت بھی قابل غور ہے۔ صحیح مسلم میں پوری روایت اس طرح آتی ہے

عن أبي إسحاق، قال

كُنْتُ مَعَ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ، وَمَعَنَا الشَّعْبِيُّ، فَحَدَّثَ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، ثُمَّ أَخَذَ الأَسْوَدُ كَفًّا مِنْ حَصًى فَحَصَبَهُ بِهِ، فَقَالَ وَيْلَكَ، تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا؟ قَالَ عُمَرُ لَا نَتْرُكُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ، لَا نَدْرِي لَعَلَّهَا حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ، لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ

شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے سکونت اور نفقہ مقرر نہیں کیا تھا۔ اس پر اسود بن یزید نے اعتراض کیا اور عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا کہ ہم کتاب اللہ اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے، ہمیں معلوم نہیں کہ اس نے بات محفوظ رکھی یا بھول گئی۔

سنن ابی داؤد میں یہی قول مختصر الفاظ میں ہے

مَا كُنَّا لِنَدَعَ كِتَابَ رَبِّنَا، وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِقَوْلِ امْرَأَةٍ، لَا نَدْرِي أَحَفِظَتْ ذَلِكَ أَمْ لَا

بحوالہ سنن أبي داود، كتاب الطلاق، حدیث 2291۔

ہم ایک عورت کے کہنے پر کتاب اللہ کو کیسے چھوڑ دیں ؟؟

یہ عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں فاطمہ بنت قیس  رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو مدینہ میں ہی بھولنے لگی تھیں اور آخری عمر میں جب عراق منتقل ہوئیں تو وہاں  انہوں نے تمیم داری سے ایک منکر روایت منسوب کی جو  دجال کو ایک دیو کے حجم میں  کسی کلیسا میں قید بتاتی تھی – افسوس امام مسلم نے اپنے اور غلطیوں کی طرح (جن میں سے چند کا ذکر نیچے آ رہا ہے ) اس کو اپنی صحیح میں شامل کر دیا

یہاں راقم کی توجہ صرف اس اصول کی طرف ہے کہ صحابہ کے دور میں بھی روایت سن کر اس کے حفظ، معنی اور دوسری معلوم سنت کے ساتھ موافقت کو دیکھا جاتا تھا۔ روایت کرنا اور روایت کی نسبت کو یقینی سمجھ لینا ایک ہی چیز نہیں تھی۔

قرن اول میں اسرائیلیات

قرن اول کے اسی دور کا دوسرا بڑا مسئلہ اہل کتاب سے آنے والی روایات ہیں۔ کعب الاحبار پہلے یہودی عالم تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی وہ سابقہ کتابوں اور بنی اسرائیل کی روایات کا علم بیان کرتے تھے۔ ان سے مختلف تابعین اور بعض صحابہ نے بھی خبریں نقل کیں۔

یہاں اصل سوال یہ ہے کہ جب ایک ہی راوی نبوی حدیث بھی نقل کر رہا ہو اور کعب الاحبار سے بنی اسرائیل کی خبر بھی سن رہا ہو تو اگلی نسلوں میں ہر خبر کی نسبت کس حد تک محفوظ رہی؟

اس مسئلہ کی ایک بہت اہم مثال صحیح مسلم کی حدیث خلق الله التربة يوم السبت» ہے۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں

حدثني سريج بن يونس، وهارون بن عبد الله، قالا حدثنا حجاج بن محمد، قال قال ابن جريج أخبرني إسماعيل بن أمية، عن أيوب بن خالد، عن عبد الله بن رافع، مولى أم سلمة، عن أبي هريرة، قال

أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فِي آخِرِ الْخَلْقِ، فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ اللہ نے ہفتہ کے دن مٹی پیدا کی، اتوار کو پہاڑ، پیر کو درخت، منگل کو مکروہ چیزیں، بدھ کو نور، جمعرات کو جانور پھیلائے اور جمعہ کے دن عصر کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔

بحوالہ صحیح مسلم، حدیث 2789۔

یہ روایت صحیح مسلم میں مرفوع ہے، یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔

لیکن اسی روایت پر امام بخاری سے یہ نقد منقول ہے کہ صحیح صورت ابو ہریرہ عن کعب ہے۔ حدیث کے  مصادر میں امام بخاری کا حکم یوں نقل ہوا ہے کہ یہ روایت معلول ہے اور صحیح یہ ہے کہ یہ کعب کا قول ہے۔

یہاں مسئلہ بہت واضح ہو جاتا ہے۔

صحیح مسلم کی صورت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

اور محدثین کی بیان کردہ دوسری صورت

کعب الاحبار ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

راقم کہتا ہے یہاں اصل بحث یہی ہے۔ ایک ہی متن کی نسبت ایک طریق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ رہی ہے اور دوسری تحقیق میں اسی متن کی اصل نسبت کعب الاحبار کی طرف قرار دی جا رہی ہے۔ پس یہ سوال محض مفروضہ نہیں رہتا کہ اسرائیلی خبر کسی مرحلہ پر مرفوع روایت کی صورت اختیار کرسکتی ہے یا نہیں۔

اسی لیے حدیث کے متن کے ساتھ اس کے قدیم ترین طریق اور اس کے مختلف اسانید کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

کعب الاحبار کی طرح وہب بن منبہ بھی سابقہ امتوں، انبیاء اور بنی اسرائیل کے متعلق بہت سی خبریں بیان کرتے تھے۔ بعد کی تفسیر اور قصص کی کتابوں میں ان سے بڑی تعداد میں روایات منقول ہیں۔

یہاں بھی وہی اصول سامنے آتا ہے۔ پہلے یہ دیکھا جائے کہ خبر قرآن میں کتنی موجود ہے، پھر یہ کہ اس کی اضافی تفصیلات سب سے پہلے کس سے منقول ہیں، اور پھر یہ کہ وہ خبر مرفوع ہے، موقوف ہے یا اہل کتاب سے منقول قصہ۔

قرآن مجید میں ہاروت و ماروت کا ذکر سورۃ البقرۃ میں ہے

وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ

قرآن یہاں اتنا بیان کرتا ہے کہ بابل میں ہاروت اور ماروت سے متعلق معاملہ تھا اور وہ کسی کو کچھ سکھانے سے پہلے کہتے تھے کہ ہم آزمائش ہیں، کفر نہ کرنا۔

لیکن بعد کی تفسیری روایات میں اس قصہ کے ساتھ عورت، شراب، قتل، زہرہ اور فرشتوں کی آزمائش کی طویل تفصیلات ملتی ہیں۔

طبری نے سورۃ البقرۃ آیت 102 کے تحت متعدد اسانید سے یہ روایات نقل کی ہیں۔ ابن کثیر نے انہی روایات کو نقل کرنے کے بعد ان کے اسرائیلی ماخذ اور ان کے ثبوت کے مسئلہ پر گفتگو کی ہے لیکن یہ روایات تفاسیر میں موجود ہیں  – ان کو قبول کیا جاتا ہے اور فرشتوں سے متعلق عجیب موقف پیش کیے جاتے ہیں ۔

بحوالہ تفسير الطبري، سورۃ البقرۃ، آیت 102؛ تفسير ابن كثير، سورۃ البقرۃ، آیت 102۔

راقم کا سوال صرف یہ ہے کہ جو تفصیل قرآن میں نہیں ہے، اس کا سب سے پہلا معلوم ماخذ کون ہے؟ اگر روایت کعب، وہب یا بنی اسرائیل کے کسی قصہ سے آگے چلی ہے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت دینے سے پہلے اس کی سند کو الگ دیکھا جانا چاہیے۔

 اسی طرح  یاجوج وماجوج سے متعلق قصے ہیں  – قرآن  میں یاجوج و ماجوج اور سد کا بیان سورۃ الکہف میں ہے، لیکن حدیثی روایات میں سد کھودنے کی اضافی تفصیل بھی ملتی ہے۔

ایک روایت  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے کہ یاجوج و ماجوج ہر روز سد کھودتے ہیں، یہاں تک کہ جب سورج کی روشنی قریب دکھائی دینے لگتی ہے تو ان کا سردار کہتا ہے واپس چلو، کل اسے کھودیں گے۔ اللہ اسے پھر پہلے کی طرح مضبوط کر دیتا ہے۔ پھر جب ان کے نکلنے کا وقت آتا ہے تو ان کا سردار کہتا ہے کہ کل ان شاء اللہ واپس آکر اسے کھودیں گے، پھر وہ واپس آتے ہیں تو اسے اسی حالت میں پاتے ہیں جس میں چھوڑا تھا اور اسے کھول کر نکل آتے ہیں۔

یہ روایت سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔

بحوالہ سنن الترمذي، تفسير سورة الكهف؛ سنن ابن ماجه، كتاب الفتن، باب فتنة الدجال وخروج عيسى ابن مريم وخروج يأجوج ومأجوج۔

یہاں پھر وہی اصول ہے کہ قرآن کے اصل بیان اور بعد میں آنے والی تفصیلی روایت کو الگ رکھا جائے، پھر سند دیکھی جائے اور پھر معلوم کیا جائے کہ اسی مفہوم کی روایات سابقہ اہل کتاب کے ذخیرے میں بھی موجود تھیں یا نہیں۔

آدم علیہ السلام کے متعلق قرآن میں بنیادی واقعات بیان ہوئے ہیں تخلیق، فرشتوں کو سجدہ کا حکم، ابلیس کا انکار، جنت، شجرہ، لغزش اور زمین پر نزول۔

لیکن بعد کے قصص ذخیرے میں آدم علیہ السلام کے قد، زمین کے مختلف حصوں سے مٹی لینے، مختلف مقامات پر نزول، حوا کی تخلیق کی تفصیلات، اولاد کے قصے اور بہت سی دوسری خبریں شامل ہوتی چلی گئیں۔

ان میں سے بعض احادیث میں بھی موجود ہیں، بعض آثار صحابہ و تابعین میں اور بعض صاف طور پر اہل کتاب سے منقول ہیں۔ اس لیے ہر روایت کا حکم ایک نہیں ہو سکتا۔

اسی وجہ سے طبری، ابن ابی حاتم اور ابن کثیر کی تفاسیر میں ایک ہی واقعہ کے تحت متعدد مختلف اسانید ملتی ہیں۔

بحوالہ تفسير الطبري، سورۃ البقرۃ، آیات 30 تا 39؛ تفسير ابن أبي حاتم، اسی مقام پر؛ البداية والنهاية لابن كثير، قصة آدم عليه السلام۔

راقم کہتا ہے اس پوری بحث کو سمجھنے کے لیے حدیث خلق الله التربة يوم السبت» سب سے واضح مثال ہے۔ یہاں ہمیں صرف یہ نہیں ملتا کہ کسی اسلامی روایت کی کوئی بات سابقہ کتابوں سے مشابہ ہے، بلکہ خود حدیثی نقد کے اندر یہ سوال موجود ہے کہ یہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے یا کعب الاحبار کا۔

ایک طرف صحیح مسلم کی مکمل سند یہ ہے

ابن جریج ← اسماعیل بن امیہ ← ایوب بن خالد ← عبداللہ بن رافع ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ← رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

اور دوسری طرف امام بخاری اور بعض حفاظ کے نزدیک اس کا محفوظ ماخذ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عن کعب الاحبار ہے۔ محدثین نے اسی بنا پر اسے معلول کہا اور بعض نے صراحت کی کہ صحیح یہ ہے کہ یہ کعب الاحبار کا قول ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں راوی، سند اور اصل ماخذ کی تحقیق ضروری ہو جاتی ہے۔

اگر ایک روایت میں مرفوع اور کعب سے منقول صورت کے درمیان اختلاف محدثین نے خود محفوظ کیا ہے تو باقی اسرائیلی مواد میں بھی یہی سوال اٹھانا علمی طور پر جائز ہے کہ خبر سب سے پہلے کہاں سے آئی، کس نے کس سے سنی، کس راوی نے اسے مرفوع کیا اور کس نے موقوف یا مقطوع رکھا۔

پس  بحث یہ ہے کہ جب نبوی حدیث، صحابی کا قول، تابعی کی خبر اور اہل کتاب سے منقول قصہ ایک ہی علمی ماحول میں گردش کر رہے ہوں تو اصل ماخذ اور سند کی تحقیق کے بغیر صرف بعد کی نسبت کو کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔ محمد بن سیرین کے الفاظ میں اسی لیے کہا گیا

سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ

اپنے راویوں کے نام ہمیں بتاؤ۔

شب برات سے متعلق روایات  دس اصحاب رسول سے مروی ہیں لیکن ڈاکٹر عثمانی کے نزدیک ایک بھی صحیح السند نہیں  ہے – راقم کی تحقیق میں اس کی بیشتر سندوں میں متکم فیہ راوی بنو عبّاس کے قاضی ہیں – یعنی امت میں حکمرانوں نے قاضیوں کو استعمال کر کے ضعیف روایات کو پھیلایا ہے – اسی طرح کا رول بنو امیہ کے آخری دور کا بھی ہے جہاں  بنو امیہ کے قاضی  یحیی  نے نواس رضی اللہ عنہ سے ایک منکر روایت منسوب کی  جو اصلا  کعب احبار کے اقوال کا مجموعہ ہے اور بد عقیدگی  پر مبنی ہے – افسوس صحیح میں امام مسلم  نے اس کو قرب قیامت کی علامت میں لکھ دیا ہے  اور اغلبا یہی وجہ ہے شہر نیشا پور جو امام مسلم کا  شہر ہے اس میں ان کے استاد امام ابو زرعہ نے صحیح مسلم کو رد کر دیا اور کہا کہ کاش اس کو نا لکھا جاتا

البرذعی کے الفاظ ہیں

«ورأيته يذم وضع هذا الكتاب ويؤنبه.»

ترجمہ:“اور میں نے ابو زرعہ کو اس کتاب کی تصنیف کی مذمت کرتے اور اس پر ملامت کرتے دیکھا۔”

سعيد بن عمرو البرذعي، سؤالات البرذعي لأبي زرعة الرازي، ج 2، ص 674۔ یہی عبارت بعد میں خطیب بغدادی نے “تاريخ بغداد” میں اور مزی نے “تهذيب الكمال” میں بھی نقل کی ہے

شهدت أبا زرعة ذكر كتاب الصحيح الذي ألفه مسلم بن الحجاج، ثم الفضل الصائغ على مثاله، فقال لي أبو زرعة: هؤلاء قوم أرادوا التقدم قبل أوانه، فعملوا شيئاً يتشوفون به، ألفوا كتاباً لم يسبقوا إليه، ليقيموا لأنفسهم رياسة قبل وقتها

ابو زرعہ نے مجھ سے کہا: “یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے وقت سے پہلے آگے بڑھنا چاہا، پس انہوں نے ایسی چیز بنائی جس کے ذریعے وہ نمایاں ہونا چاہتے تھے۔ انہوں نے (امام مسلم  نے ) ایسی کتاب تصنیف کی جس کی طرف ان سے پہلے کسی نے سبقت نہیں کی، تاکہ وقت سے پہلے میاں  مٹھو بنیں

چند جدید جہلاء نے یہ نقد حدیث  کے محدثین کے طریقہ کو مستشرقین  کا طریقه قرار دے دیا ہے –  یہ وہ لوگ ہیں جن کو نہ عربی اتی ہے نہ انگریزی لیکن دین پر کلام کرنے کا ان کو منہ کا ہیضہ ہے –  مثلا زازان کی عذاب قبر کی روایت صدیوں سے فرقے قبول کر رہے ہیں لیکن سن ١٤٠٠ ہجری میں آ کر محض ڈاکٹر عثمانی کا قول ملتا ہے کہ یہ شیعہ متن کی روایت ہے – کیا یہ مشتشرقین کا طریقہ ہے یا محدثین کا – ان جاہلوں کو یہ علم نہیں کہ حدیث میں نقد صرف سند میں ہی نہیں متن میں بھی ہو سکتی ہے اور اس کو سمجھنے ، جانچنے کے پیمانے علم کے ساتھ بدلتے ہیں – ایک روایت چلتی رہتی ہے لیکن جب کسی عالم کا شرح صدر کسی روایت پر ہو جاتا ہے وہ اس کو رد کر دیتا ہے – آج بھی اہل عرب اس قسم کی کتب  لکھتے ہیں جس میں وہ مروجہ مشہور احادیث پر تنقید کرتے ہیں اور ان کو کوئی مشتشرق یا منکر حدیث نہیں کہتا – عصر حاضر میں البانی بھی ہے جس نے صحیح البخاری کی بعض احادیث کو رد کیا ہے –

۱ ۔ روایتِ لعان

صحیح بخاری میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کے الفاظ ہیں:

«شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فُرِّقَ بَيْنَهُمَا.»

ترجمہ: “میں نے لعان کرنے والے میاں بیوی کا واقعہ دیکھا، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی، پھر ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی گئی۔”

امام دارقطنی نے اس روایت کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا:

«وَهَذَا مِمَّا وَهِمَ فِيهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ؛ لِأَنَّ أَصْحَابَ الزُّهْرِيِّ قَالُوا: فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، وَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا سُنَّةً. لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ: إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَرَّقَ بَيْنَهُمَا.»

ترجمہ: “یہ ان مقامات میں سے ہے جن میں ابن عیینہ کو وہم ہوا ہے، کیونکہ زہری کے دوسرے شاگردوں نے بیان کیا ہے کہ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی، اور اس کا اسے جدا کرنا سنت قرار پایا۔ ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرائی تھی۔”

حوالہ: الدارقطني، الإلزامات والتتبع، ص 200؛ ابن حجر العسقلاني، هدي الساري، الفصل الثامن، الحديث الرابع بعد المائة۔

۲۔ روایتِ مغیرہ بن شعبہ: «إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات»

صحیح بخاری میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

«إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ.»

ترجمہ: “اللہ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا اور دوسروں کا حق روکنا اور ناحق مانگنا حرام کیا ہے، اور تمہارے لیے قیل و قال، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنا ناپسند کیا ہے۔”

بخاری کے ایک طریق میں سند ہے:

«شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ.»

امام دارقطنی نے اس مخصوص طریق کے متعلق کہا:

«وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ وَرَّادٍ.»

ترجمہ: “یہ مسیب بن رافع سے محفوظ نہیں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ شیبان نے اسے منصور سے، منصور نے شعبی سے، اور شعبی نے وراد سے روایت کیا ہے۔”

حوالہ: الدارقطني، الإلزامات والتتبع؛ ابن حجر العسقلاني، هدي الساري، الفصل الثامن، الحديث التسعون۔

۳۔ عصر کی نماز کے بعد “قباء” پہنچنے والی روایت

صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کے ایک طریق کے الفاظ ہیں:

«كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ مِنَّا إِلَى قُبَاءَ، فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.»

ترجمہ: “ہم عصر کی نماز پڑھتے، پھر ہم میں سے جانے والا قباء جاتا اور وہاں اس وقت پہنچتا جبکہ سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔”

ابن عبدالبر نے اس روایت میں “قباء” کے لفظ پر کہا:

«قَوْلُ مَالِكٍ: قُبَاءَ، وَهْمٌ لَا شَكَّ فِيهِ.»

ترجمہ: “مالک کا یہاں ‘قباء’ کہنا بلا شبہ وہم ہے۔”

حوالہ: صحيح البخاري، كتاب مواقيت الصلاة؛ ابن عبد البر، التمهيد؛ النسائي، السنن؛ عمدة القاري، شرح صحيح البخاري۔

۴۔ تعزیر میں دس کوڑوں سے زیادہ کی روایت

صحیح بخاری میں ابو بردہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

«لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ.»

ترجمہ: “اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے علاوہ دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارا جائے۔”

اس روایت کے طرق اور اس کی سند میں اختلاف کے متعلق امام اصیلی نے کہا:

«الْحَدِيثُ مُضْطَرِبٌ فَلَا يُحْتَجُّ بِهِ لِاضْطِرَابِهِ.»

ترجمہ: “یہ حدیث مضطرب ہے، لہٰذا اس کے اضطراب کی وجہ سے اس سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔”

حوالہ: صحيح البخاري، كتاب الحدود، باب كم التعزير والأدب؛ ابن حجر العسقلاني، فتح الباري، شرح اسی باب۔

۵۔ حدیث «ما بعث الله من نبي إلا كان له بطانتان»

صحیح بخاری میں ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے:

«مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ.»

ترجمہ: “اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا اور نہ کسی خلیفہ کو مقرر کیا مگر اس کے دو قسم کے خواص ہوتے ہیں: ایک گروہ اسے نیکی کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور دوسرا اسے برائی کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور محفوظ وہ ہے جسے اللہ محفوظ رکھے۔”

امام دارقطنی نے اس روایت کی سند میں شدید اختلاف بیان کیا۔ بخاری کے طریق میں ابو سلمہ، ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، لیکن دارقطنی نے بیان کیا:

«وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ وَقَفَهُ، وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ.»

ترجمہ: “شعیب نے زہری سے یہی روایت بیان کی لیکن اسے موقوف رکھا۔ اوزاعی اور معاویہ بن سلام نے زہری، ابو سلمہ، ابو ہریرہ کے طریق سے بیان کیا، جبکہ صفوان بن سلیم نے ابو سلمہ، ابو ایوب کے طریق سے بیان کیا۔”

حوالہ: الدارقطني، الإلزامات والتتبع؛ ابن حجر العسقلاني، هدي الساري، الفصل الثامن، الحديث الخامس بعد المائة۔

حوالہ: صحيح البخاري، كتاب الأذان؛ الدارقطني، الإلزامات والتتبع؛ ابن حجر العسقلاني، هدي الساري، الفصل الثامن۔

کہنے کا مقصد ہے کہ احادیث  کے سند و متن پر تحقیق جاری ہے اور صحیح بخاری و مسلم کی روایات جرح و نقد سے خالی نہیں

دجّال سے آٹوگراف لینے والے متمنّین کے نام

اسلام میں دجّال کا ذکر تحت الاسباب یا فوق الاسباب نہیں کیا جاتا بلکہ آخرت کی علامت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ دجّال فراڈی ہے نہ کہ اللہ کی نشانی، لیکن یار دوستوں نے نہ سمجھی میں اس کا دائرۂ تصرف اس قدر وسیع کر دیا ہے کہ اب دجّال کو فراڈ کی بجائے اللہ کے معجزہ کے تحت لے آئے ہیں۔

سوچنے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن سوچتے سوچتے حقیقت کو لانگ جانا حماقت و جہل ہے – روایات میں بیان کردہ دجال کے تماشوں میں ایک ادھ میں ہے کہ وہ  ایک مردہ کو زندہ کرے گا –  یہ  واقعہ صرف دجال کے کیمپ کا بیان کیا جاتا ہے جہاں صرف ایک مومن  ہے جس  کے ساتھ یہ ہو رہا ہے اس طرح واقعہ کو خبر واحد خود  روایت  میں ہی بیان کیا گیا ہے – دجال کے حوالے سے ایک شخص کو زندہ کرنے کا تماشہ   روایت میں بیان ہوا ہے جو اس کے فراڈ  کے حوالے سے بیان کی گئی  ہے۔

اگر اس کو من و عن  قبول کیا جائے تو برزخ سے روح کو باہر نکالنے کا دجّال کا فعل خلافِ قرآن و احادیث ہے اور اس پر کوئی ایک بھی نص  نہیں جس میں ہو کہ کافروں کو آیت و معجزہ ملتا ہے یا  ان کے فراڈ کے پیچھے فاعل حقیقی اللہ تعالی  ہی ہوتا ہے ۔

روایت خبر واحد صحیح سے  عقیدہ نہیں رکھا جا سکتا  (الا یہ کہ نص قرآن کے مطابق ہو ) اور خبر متواتر تک قرآن کے خلاف نہیں لی جاتی  ۔ صرف یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ دجّال فتنہ ہے، فراڈ ہے اور من جانب اللہ آئی کوئی آیت یا نشانی نہیں۔

عثمانی صاحب کا موقف ہے کہ خبر واحد پر عقیدہ مت لینا، اس کی تاویل کر کے قرآن کے تحت کرنا۔

عثمانی صاحب  کتاب ایمان  خالص میں تبصرہ  فرماتے ہیں

سوال  و جواب میں بھی انہوں نے فتنہ دجال کے حوالے سے اس کے زندہ کرنے کے عمل کو مکمل حذف کر دیا ہے اور یہی کام واتقوا اللہ میں کیا گیا تھا  – اس کی وجہ یہی  ہے روایت کو اس حد تک قبول کیا جاتا ہے جتنا اس کا متن نص قرآن کے تحت قابل تاویل ہو

لیکن راقم کہتا ہے یہاں تو مسئلہ ہی دوسرا ہے علم حدیث کے تحت ایسی روایت جو قرائن پر نہ اتر رہی ہو اس کو قبول نہیں کیا جا سکتا لہذا راقم کہتا ہے غور کرو ہے سمجھو  کہ دجال کے کیمپ میں ایک مومن لایا جاتا ہے اس کو دجال بقول راوی مارے گا پھر   زندہ کرے گا پھر مارنے کی کوشش گا    – کیا تم نے غور کیا کہ جب یہ شخص واپس دیگر مومنوں سے ملے گا اور کہے گا کہ میرے ساتھ دجال نے یہ کیا کہ میری روح فرشتوں نے قبض  کی اور حکم دجال پر لوٹا دی تو مومن مل کر اس شخص کو پٹائی کریں گے جوتے ماریں گے اور کہیں گے کہ جاہل تو  نے دجال کو حکم قرآن کے تحت کیوں نہیں کہا کہ 

قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ

جب اس نے کہا میں زندہ کرتا  مارتا  ہوں  تو  ابراہیم  نے کہا  اللہ سورج کو مشرق سے لاتا ہے تو اس کو مغرب سے لا کر دکھا  پس بھونچکہ ہو گیا  کافر

رب تعالی کا تو یہ حکم  ہوا کہ اس قسم  کے مکالمہ پر جو راویوں نے بیان کیا صریحا حکم کرو کہ سورج کو مغرب سے نکال میرے جسم کو  مارنے جلانے کی چھوڑ

افسوس صد افسوس بعضوں نے اس پر کہا 

جو عقائد ہم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں رکھتے ہیں فاعل اللہ تعالیٰ ہے، سب کام میں لیکن عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں میں کرتا ہوں اللہ کے حکم سے، اللہ کے اذن سے۔

اگر یہ بات حدیث میں آگئی ہے تو قرآن و صحیح حدیث تو ہم مانتے ہیں۔

تو اعتراض کس بات پر ہے؟

سالوں  یہی تو عقیدے کا مسئلہ  رہا ہے ولی اللہ تک مردے زندہ  نہیں کر سکتے اسی کی ہم تبلیغ کرتے آئے ہیں اب کیا بغیر تاویل روایت  کیے ہم اب یہ مان لیں کہ اللہ کے دشمن تک زندہ کر سکتے ہیں ؟؟؟ یا للعجب

ہرگز  نہیں ! ہر اس شخص  کا رد کرو جو یہ مانے کہ دجال اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ  کرے گا

جاہلوں سے پوچھو  هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ  اپنی دلیل پیش کرو کہ اللہ نے تم پر نص نازل کو ہو کہ کافروں کو مردہ زندہ کرنے کی آیت نشانی دے دیتا ہے

روایت صحیح تک میں جو آیا ہے اس کی تاویل محدثین نے کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ  متن روایت کو من وعن نہیں جاتا – قرع النعال والی روایت کی مثال واضح ہے اس کو زمینی قبر نہیں سمجھا گیا – ابن حزم اور عثمانی صاحب  نے اسی تاویل کو پیش  کیا ہے – اسی طرح ہر اس روایت کی تاویل ہو گی جو نص قرآن  سے ٹکرا جائے

قرن دوم میں محدثین میں دجال کے حوالے سے  یہ روایت بھی نزاع کا مسئلہ تھی اور وضاحت کی جاتی تھی  – محدثین نے اس کی تاویل کی کہ اصلا دجال زندہ نہ کرے گا بلکہ یہ تمام معاملہ  خضر علیہ السلام کے ساتھ ہو گا جن کی موت  موخر ہے

اس طرح یہ تاویل محدثین میں چل رہی تھی اور امام مسلم کے کاتب شاگرد نے اسی کو وضاحت میں بیان کے ہے-  لہذا سمجھا جا سکتا ہے کہ قرن دوم میں محدثین میں امام بخاری بھی اس کو اسی تاویل کے تحت شاید لے رہے ہوں

واللہ اعلم

 

 

یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے

لا تنظر إلى من قال بل أنظر إلى ما قيل

یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کیا کہا جا رہا ہے

لا تنظروا الیٰ من قال، انظروا الیٰ ما قال

کہا جاتا ہے کہ امیر المومنین  علی رضی اللہ عنہ نے  کہا کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے – اس کی اسناد جمع کی جانی چاہیے تھیں   کہ دیکھا جائے اس قول کا علی پر بہتان کس نے باندھا  ہے،  کیونکہ یہ قول علی ممکن نہیں ہے – یہ قرآن کے حکم  خبر فاسق   کی تحقیق کرو (سورہ الحجرات) سے براہ راست متصادم  ہے

حیرت کی بات یہ ہے مصادر اہل تشیع میں یہ قول سندا کہیں بھی بیان نہیں ہوا – كتاب غُرر الحِكم ودُرر الكلم، للقاضي ناصح الدين أبي الفتح عبد الواحد بن محمَّد التميمي الآمدي (ت: 550 للهجرة)، میں اس کو بلا سند علی سے منسوب  کیا گیا ہے

اور اہل سنت کی کتب میں کہا جاتا ہے ابن السمعاني نے   اپنی کتاب الدلائل اور تاریخ  میں اس کا ذکر کیا ہے البتہ یہ کتاب مفقود ہیں

  کتاب  الفوائد الموضوعة في الأحاديث الموضوعة المؤلف: مرعي بن يوسف بن أبى بكر بن أحمد الكرمى المقدسي الحنبلى (المتوفى: 1033هـ) کے مطابق  یہ قول علی ہے لیکن اس میں بھی کوئی  سند نہیں دی

سن چھ  ہجری تک اہل تشیع میں  مکمل  جرح و تعدیل شروع   نہیں ہو سکی تھی لہذا علم  اسماء الرجال سے جان چھڑانے  کے لئے یہ قول ایجاد  کیا گیا  کہ  اہل بیت سے منسوب کچھ بھی مل جائے اس کو مستند مان لو – یہ مت دیکھو  کون (کذاب  یا جاہل)   کہہ رہا ہے  بلکہ صرف متن پسند آ جائے تو اس کو قبول کر لو

کسی کے پاس علی سے منسوب  اس قول کی سند ہو تو برائے  مہربانی  یہاں پیش کرے

کیا میت کو عذاب ہوتا ہے ، کوئی حدیث ہے ؟

قصہ مختصر
عذاب قبر کی بحث میں لوگ جنہوں نے صحیح طرح صحیح بخاری و مسلم نہیں پڑھی وہ بار بار ایک قول کو حدیث کی طرح پیش کرتے ہیں کہ میت کو رونے پر عذاب ہوتا ہے – راقم نے غور کیا تو پایا کہ یہ قول نبوی ہرگز نہیں بلکہ قول ابن عمر تھا جو ان کو مغالطہ سے ایجاد ہوا – اس قول کو علم حدیث کی متعدد کتب میں سامع کی غلطی کی مثال میں پیش کیا جاتا ہے بسا اوقات ایک شخص کسی اور سے کچھ سنتا ہے لیکن اصل مدعا نہیں جان پاتا تو متن حدیث نبوی میں علت قادحہ آ جاتی ہے جس کی تحقیق ضروری ہوتی ہے

روایات میں آیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث غلط بیان کی کہ کہا میرے والد ابو عبد الرحمان عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا  تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ
میت کو عذاب ہوتا ہے جب اس کے گھر والے اس پر روتے ہیں

یہ قول عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا

إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِّي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ، وَلاَ مُكَذَّبَيْنِ، وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ صحیح مسلم
یہ حدیث ان سے روایت کی گئی ہے جو جھوٹ نہیں بولتے تھے لیکن سننے میں غلطی ہو جاتی ہے

صحیح بخاری میں ہے کہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا
قَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، لاَ وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – بِهَذَا
اللہ عمر پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ایسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل نہیں فرمایا

علم حدیث میں یہ مثال بن گئی کہ یہ متن درست نہیں کہ میت کو عذاب ہوتا ہے اور کو متعدد کتب میں بیان کیا گیا مثلا

اليواقيت والدرر في شرح نخبة ابن حجر از المناوي القاهري (المتوفى: 1031هـ) میں ہے
وَقع هَذَا عَن الثِّقَات لَا عَن تعمد بل لنسيان كَمَا رُوِيَ أَن ابْن عمر روى أَن الْمَيِّت يعذب ببكاء أَهله فَبلغ ابْن عَبَّاس فَقَالَ: ذهل أَبُو عبد الرَّحْمَن
ثقات سے غلطی ہوتی ہے جان بوجھ کر نہیں بلکہ بھول جانے کی وجہ سے جیسا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ میت کو عذاب ہوتا ہے پس یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو فرمایا ابو عبد الرحمان (صحیح متن ) بھول گئے

علوم الحديث ومصطلحه – عرضٌ ودراسة از د. صبحي إبراهيم الصالح (المتوفى: 1407هـ) کے مطابق

ويروي عبد الله بن عمر عن النبي – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ المَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ
فتقضي عليه عاثشة أم المؤمنين بأنه لم يأخذ الحديث على وجهه، ولم يضبط لفظه،

اور عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا میت کو اس کے اہل کے رونے سے عذاب ہوتا ہے پس ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فیصلہ دیا کہ ابن عمر نے یہ حدیث اس کے اصل پر نہیں لی اور (اصلی) الفاظ کو یاد نہ رکھا

قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث از محمد جمال الدين الحلاق القاسمي (المتوفى: 1332هـ) میں ہے

ومنها: اختلاف الضبط مثاله ما روى ابن عمر1 أو عمر عنه -صلى الله عليه وسلم- من أن الميت يعذب ببكاء أهله عليه، فقضت عائشة عليه بأنه لم يأخذ الحديث على وجهه

اور حدیث کے الفاظ کو یاد رکھنے میں اختلاف کی مثالوں میں سے ہے وہ جو عمر یا ابن عمر نے رسول اللہ سے روایت کیا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے پس عائشہ رضی اللہ عنہا نے فیصلہ دیا کہ انہوں نے حدیث کو صحیح رخ سے نہیں لیا

تحرير علوم الحديث از عبد الله بن يوسف الجدیع میں ہے
وعن عروة بن الزبير، قال: ذكر عند عائشة أن ابن عمر يرفع إلى النبي صلى الله عليه وسلم: ” إن الميت يعذب في قبره ببكاء أهله عليه “، فقالت: وَهل
ابن زبیر سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ابن عمر کی ایک حدیث بیان کی گئی جس کو رفع کر کے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر رہے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے پس عائشہ نے فرمایا  بھول گئے

ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کے ساتھ کوئی قول نہیں فرمایا کہ میت کو عذاب ہوتا ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا  جب آپ  ایک جنازہ  پر سے گزرے  کہ  مرنے والے یہودی کو عذاب ہوتا ہے – اور ہم کو معلوم ہے کہ عذاب کفار  کو وہیں ہے جہاں ال فرعون کو عذاب ہوتا ہے  جہنم کی اگ کے پاس جیسا کہ قرآن میں وارد ہے