ہند کی بربادی چین سے ہو گی؟

روزانہ جنگ کی پیشن گوئییاں کرنے والوں کی زبان سے دو، تین سال سے مسلسل ایک مکذوبہ روایت سننے میں آ رہی
ہے – اخباری کالم نگار ، دانشور ، ٹی وی اینکر وغیرہ سب بلا تحقیق سند و متن اس کو سنا رہے ہیں – اس روایت کو
مکمل سنانے کی توفیق کسی کو نہیں ہے بلکہ صرف بیان کر دیا جاتا ہے کہ حدیث نبوی ہے کہ ہند کی خرابی چین سے
ہے – راقم کہتا ہے دنیا میں جنگیں ہوتی رہتی ہیں لیکن ان کو قول نبوی بنا کر آخری جنگ کی طرح پیش کرنا دینی نقطہ
نظر سے دھوکہ دہی کے مترادف عمل ہے

اخبار پڑھ کر ان کو احادیث سے ملانے کے ماہروں میں سے ایک، ڈاکٹر اسرار احمد کے نزدیک سن ٨٠ و ٩٠ کی
دھائی میں چین والے یاجوج ماجوج تھے -اس قول کو بلا تحقیق اس دور میں سب نے بیان کرنا شروع کر دیا تھا –
راقم کہتا ہے یہ قول ان علماء کا ہے جن کا شمار راقم کے نزدیک جہلاء میں ہے

عقائد میں اٹکل پچو کرنے میں متقدمین میں امام قرطبی بھی گزرے ہیں جو ضعیف و مکذوبہ روایات کے مجموعے
تیار کرنے کے ماہر تھے – قرطبي اپنی غیر محتاط انداز میں مرتب شدہ کتاب التذکرہ میں ایک روایت کا ذکر
کرتے ہیں

ذكره أبو الفرج ابن الجوزي -رحمه اللّه- في كتاب: روضة المشتاق والطريق إلى الملك الخلاق …. حديث حذيفة بن اليمان –
رضي الله عنه- عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ويبدأ الخراب في أطراف الأرض حتى تخرب مصر. ومصر آمنة من
الخراب حتى تخرب البصرة. وخراب البصرة من العراق، وخراب مصر من جفاف النيل، وخراب مكة من الحبشة، وخراب
المدينة من الجوع، وخراب اليمن من الجراد، وخراب الأيلة من الحصار، وخراب فارس من الصعاليك، وخراب الترك من الديلم،
وخراب الديلم من الأرمن، وخراب الأرمن من الخزر، وخراب الخزر من الترك، وخراب الترك من الصواعق، وخراب السند من
الهند، وخراب الهند من الصين، وخراب الصين من الرمل، وخراب الحبشة من الرجفة، وخراب الزوراء من السفياني، وخراب
الروحاء من الخسف، وخراب العراق من القحط

ابن جوزی نے اپنی کتاب روضة المشتاق والطريق إلى الملك الخلاق میں روایت ذکر کی کہ
حذيفة بن اليمان رضي الله عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کے کناروں سے
بربادی کی ابتداء ہو گی یہاں تک کہ مصر میں بھی بربادی ہو گی -مصر میں امن آئے گا جب بصرہ عراق میں بربادی
ہو گی اور بصرہ کی بربادی عراق سے ہو گی اور مصر کی بربادی نیل کے قحط سے ہو گی اور مکہ کی حبشہ سے ہو
گی اور مدینہ کی بھوک سے ہو گی اور یمن کی ٹڈی دل سے ہو گی اور الأيلة کی بربادی محاصرے سے ہو گی اور
فارس کی الصعاليك (لٹیروں) سے ہو گی اور ترک کی بربادی الدیلم (آذربیجان ) سے ہو گی اور الدیلم (آذربیجان ) کی
بربادی آرمینیا سے ہو گی اور آرمینیا کی بربادی الخزر سے ہو گی اور الخزر کی بربادی ترکوں سے ہو گی اور
ترکوں کی بربادی بجلی گرنے سے ہو گی اور سندھ کی بربادی ہند سے ہو گی اور ہند کی بربادی چین سے ہو گی اور
چین کی بربادی الرمل (ریت ) سے ہو گی اور حبشہ کی بربادی زلزلہ سے ہو گی اور الزوراء (عراق کا قدیم شہر ) کی
سفیانی سے ہو گی اور الروحاء کی بربادی دھنسنے سے ہو گی اور عراق کی بربادی قحط سے ہو گی

اس روایت کی مکمل سند نہ تو ابن جوزی نے پیش کی ہے نہ قرطبی نے پیش کی ہے

أبو عمرو الداني نے اپنی کتاب السنن الواردة في الفتن میں اس کی سند دی ہے

عبد المنعم بن إدريس، حدثنا أبي، عن وهب بن منبه

یہ سند مقطوع ہے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں جاتی اور سند سخت مجروح ہے
سند میں إدريس بن سنان اليماني ہے جو سخت ضعيف ہے جیسا ابن حجر کی التقريب. میں بیان ہوا ہے
اور اس کا بیٹا عبد المنعم بھی سخت مجروح ہے امام الذهبي کا الميزان میں کہنا ہے

مشهور قصاص، ليس يعتمد عليه. تركه غير واحد، وأفصح أحمد بن حنبل فقال: كان يكذب على وهب بن منبه. وقال البخاري:
ذاهب الحديث … قال ابن حبان: يضع الحديث على أبيه وعلى غيره
مشہور قصہ گو ہے ناقابل اعتماد ہے اس کو بہت سے محدثین نے ترک کیا ہے اور احمدبن حنبل نے وضاحت کی کہ
کہا کہ یہ وھب بن منبہ پر جھوٹ بولتا ہے اور امام بخاری نے کہا حدیث سے نکلا ہوا ہے اور ابن حبان نے کہا
حدیث گھڑتا ہے

اس روایت میں مہمل کلمات ہے جو ثابت کرتے ہیں کہ یہ قول نبوی نہیں ہے- روایت گھڑنے والا علم جغرافیہ سے
ناواقف تھا مثلا روایت میں ہے کہ ترک کی بربادی الدیلم (آذربیجان ) سے ہو گی- مسلمانوں کی علم خغرافیہ سے متعلق
کتب میں موجود ہے کہ الدیلم (ازربیجان ) کے علاقے میں ترک آباد تھے اور یہ انہی کا علاقہ سمجھا جاتا تھا – آج
ترکمانستان ، ازربیجان وغیرہ تک اپنے آپ کو ترک نسل کا ہی بتاتے ہیں – اگے روایت میں ہے کہ ترکوں پر
الصواعق یعنی بجلی گرے گی وہ اس میں برباد ہوں گے ، جو کیوں ہے ؟ کوئی واضح قول نہیں ہے

الخزر ایک معدوم یہودی ریاست تھی جو
Caspian Sea
کے ساتھ آباد تھی – یہ ریاست معدوم ہوئی اور اس کے بسنے والے یورپ کی طرف کوچ کر گئے تھے

روایت میں ہے بصرہ کی بربادی عراق سے ہو گی جبکہ بصرہ دور نبوی میں سے آج تک عراق کا ہی علاقہ ہے

الزوراء (عراق کا قدیم شہر ) کو بھی عراق سے الگ کر کے بتایا گیا ہے جس طرح بصرہ کو بتایا گیا تھا

عرب خغرافیہ دان  السند  میں  کابل (موجودہ افغانستان ) تک کو شمار  کرتے تھے  – اس حوالہ پر راقم کی امام  مہدی سے متعلق  کتاب  کا ضمیمہ ملاحظہ کریں

یہ سب مہمل کلام ہے اس کو کسی صورت حدیث نبوی نہیں سمجھا جا سکتا – محدثین نے اس کی سند کو مجروح قرار
دیا ہے اور متن تاریخ و جغرافیہ سے ناواقفیت کا کھلا ثبوت ہے

لیکن موجودہ دور کے تنازعات میں بعض لوگ اس مکذوبہ روایت کو بار بار قول نبوی کہہ کر پیش کر رہے ہیں ان
بھائیوں سے درخواست ہے کم از کم سند اور متن کو مکمل سمجھ تو لیں کیا کہا جا رہا ہے
نہ کہ ہمارے رسول صادق و امین سے جھوٹ منسوب کرنے لگ جائیں

عرب علماء اس روایت کو رد کر رہے ہیں لیکن حیرت ہے کہ ان کے خوچہ چیں اہل حدیث چپ سادھے بیٹھے ہیں

لنک

لنک

لنک

شیعہ کتاب بحار الأنوار – العلامة المجلسي – ج ٤١ – الصفحة ٣٢٥ میں ہے

مناقب ابن شهرآشوب: وأخبر عليه السلام عن خراب البلدان، روى قتادة عن سعيد بن المسيب أنه سئل أمير المؤمنين عليه
السلام عن قوله تعالى: ” وإن من قرية إلا نحن مهلكوها قبل يوم القيامة أو معذبوها ” فقال عليه السلام في خبر طويل انتخبنا
منه: تخرب سمرقند وخاخ وخوارزم وإصفهان والكوفة من الترك، وهمدان والري والديلم والطبرية والمدينة وفارس بالقحط
والجوع، ومكة من الحبشة، والبصرة والبلخ بالغرق ، والسند من الهند والهند من تبت، وتبت من الصين، ويذشجان وصاغاني
وكرمان وبعض الشام بسنابك الخيل والقتل، واليمن من الجراد، و السلطان وسجستان وبعض الشام بالريح وشامان بالطاعون،
ومرو بالرمل وهرات بالحيات، ونيسابور من قبل انقطاع النيل، وآذربيجان بسنابك الخيل والصواعق، وبخارا بالغرق والجوع،
وحلم وبغداد يصير عاليها سافلها

سعيد بن المسيب نے علی علیہ السلام سے سوال کیا کہ اللہ تعالی کا قول ہے
وإن من قرية إلا نحن مهلكوها قبل يوم القيامة أو معذبوها
بستیوں میں ہیں جن کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک کریں گے اور عذاب دیں گے
پس علی نے جواب دیا ایک طویل خبر میں جس کے آخر میں فرمایا
ترک برباد کریں گے سمرقند اور خاخ اور خوارزم اور إصفهان اور الكوفة کو
اور بھوک و قحط ہلاک کرے گا همدان اور الري اور الديلم اور الطبرية اور المدينة اور فارس کو
اور مکہ کو حبشہ برباد کرے گا
اور بصرہ و بلخ غرق آب ہوں گے
اور سندھ کو ہند برباد کرے گا
اور ہند کو تبت برباد کرے گا
اور تبت کو چین برباد کرے گا
اور بذشجان وصاغاني وكرمان وبعض الشام کو قتل و غارت برباد کرے گی
اور یمن کو ٹڈی دل برباد کرے گا
اور السلطان وسجستان وبعض الشام کو ہوا برباد کرے گی
اور شامان الطاعون سے ہلاک ہو گا
اور مرو ریت میں دب جائے گا
اور هرات بچھووں سے برباد ہو گا
اور نيسابور برباد گا انقطاع نيل سے پہلے اور
آذربيجان خچروں اور بجلی گرنے سے اور بخارا بھوک سے اور غرق اب ہونے سے اور حلم وبغداد کا اوپر والا نیچے
کر دیا جائے گا

یہ بھی اسی قبیل کی چربہ روایت ہے اور قتادہ مدلس کا عنعنہ موجود ہے – باوجود تلاش کے شیعہ کتب میں اس کی
مکمل سند نہیں ملی تاکہ اصل شیعہ رواة کا علم ہو سکے

1 thought on “ہند کی بربادی چین سے ہو گی؟”

  1. منصور says:

    شکریہ – یہ روایت بہت مشہور کر دی گئی ہے – لوگ چونکہ حدیث وغیرہ نہیں پڑھتے ان کو علم نہیں ہے کہ یہ کوئی حدیث نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

one + thirteen =