نور محمدی کا ذکر ٣

متروک و منکر روایات  کو  محراب و  منبر پر بیان کرنے والے  طارق  جمیل  صاحب کی جانب سے ایک روایت پیش کی جا رہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق ، تخلیق مخلوق سے ہزار سال پہلے ہوئی اور ان کا ایک نام یاسین ہے

٩ منٹ پر

اس قول  کا تعاقب کیا گیا اور یہ معلوم ہوا ہے

کتاب الروض الباسم  از ابو سلیمان جاسم  کے مطابق

– أخبرنا خيثمة بن سليمان: نا جعفر بن محمد بن زياد الزّعفراني الرازي ببغداد: نا إبراهيم بن المنذر الحِزامي (ح). وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن عبد الرحمن (1) القرشي قراءةً عليه: أنا أبو عبد الملك أحمد بن إبراهيم القرشي قراءةً عليه، قالا (2): نا إبراهيم بن المنذر، -وهو الحِزامي-: نا إبراهيم بن مهاجر بن مِسمار عن عمر بن حفص بن ذكوان عن مولى الحُرَقَة.عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: “إنّ اللهَ -عَزَّ وجَلَّ- قرأ (طه) و (ياسين) قبلَ أن يخلقَ آدمَ بألف عامٍ، فلمّا سَمِعَ الملائكةُ القرآنَ قالوا: طُوبى لأمّةٍ يُنزَّل هذا عليها، وطوبى لأجوافٍ تحمل هذا، وطوبى لألسنٍ تكلَّمُ بهذا”.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالی نے  تخلیق آدم سے ہزار سال قبل  (طه) و (ياسين) کی قرات کی جب فرشتوں نے قرآن سنا تو کہا خوشخبری ہو اس امت پر جس پر یہ نازل ہو اور خوشخبری ہو ان جسموں پر جو اس کو اٹھائیں (یعنی حفظ کریں ) اور ان زبانوں پر جو اس کے الفاظ  کو ادا کریں

سند میں ابراہیم بن مہاجر بن مسمار ضعیف ہے

کتاب  الإيماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء – زوائد الأمالي والفوائد والمعاجم والمشيخات على الكتب الستة والموطأ ومسند الإمام أحمد

المؤلف: نبيل سعد الدين سَليم جَرَّار کے مطابق

قال الشيخ الإمام أبوبكر الخطيب هذا حديث غريب من حديث عبدالرحمن بن يعقوب مولى الحرقة عن أبي هريرة، تفرد بروايته إبراهيم بن مهاجر بن مسمار المديني، عن حفص بن عمر بن ذكوان.

وقال المنذري: إبراهيم بن مهاجر ضعيف

خطیب بغداد ی نے کہا یہ حدیث غریب ہے  …  منذری نے کہا اس میں ابراہیم بن مھاجر ضعیف ہے

سنن الدارمی میں ہے

– حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ [ص:2148] الْمِسْمَارِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَرَأَ طه وْ يس قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفِ عَامٍ، فَلَمَّا سَمِعَتِ الْمَلَائِكَةُ الْقُرْآنَ، قَالَتْ: طُوبَى لِأُمَّةٍ يَنْزِلُ هَذَا عَلَيْهَا، وَطُوبَى لِأَجْوَافٍ تَحْمِلُ هَذَا، وَطُوبَى لِأَلْسِنَةٍ تَتَكَلَّمُ بِهَذَا “

[تعليق المحقق  حسين سليم أسد الداراني ] إسناده ضعيف جدا عمر بن حفص بن ذكوان قال أحمد: تركنا حديثه وحرقناه

سند میں عمر بن حفض  متروک ہے

طارق جمیل نے ذکر کیا کہ نبی مختون پیدا ہوئے اس قول پر امام الذھبی کا کہنا ہے

علّق عليه الحافظ الذهبي في “تلخيص المستدرك” بقوله: ما أعلم صحة ذلك فكيف يكون متواترا؟

اس روایت کی صحت ہی معلوم ہی نہیں ہے ، متواتر کیسے ہے ؟

2 thoughts on “نور محمدی کا ذکر ٣

  1. Ilias Aktar

    جناب ابو شہر یار الحمد اللہ آپکی اکثر کتب میرے مطالعہ میں ہیں اور اس ناچیز کے علم میں بہت اضافہ ہوا اور کافی غلط فہمیاں دور
    ہوئی ۔وواقعی آپ جیسے مخلص شخصیات کی اس امت کو اشد ضرورت ہے اللہ آپ کو ترقیات سے نوازے آمین حضرت میرے پاس ایک عیسائی عالم کی لکھی ہوئی کتاب ہے https://www.google.com/url?sa=t&source=web&rct=j&url=https://archive.org/details/MkhtotatElKoranMohamadElMsayh&ved=2ahUKEwit3fLEy9fnAhXP7HMBHU-_AhMQFjAAegQIAxAB&usg=AOvVaw2K4_t5jeDRxN4Xhj1xhko7
    یہ کتاب کی لنک ہے اسمیں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرآن محرف اور مختلف ہے اور اس کتاب کو ہتیار بنا کر کچھ آریہ سماجی لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن کی old manuscriptسے پتا چلتا ہے کہ قرآن تحریفات سے بھرا ہوا ہے حضرت اس کتاب کو لیکر بہت کشمکش میں مبتلا ہوں آپسے عاجزانہ درخواست ہے کہ اس کتاب کا قسط وار دندان شکن جواب دیا جائے حضرت میں خود آریہ سماج کے پروپیگنڈا کا بڑوں بزرگوں کی کتب سے جواب دیتا ہوں آپ تو خود ان فتنہ پرور لوگوں کو جانتے ہو ں گے ان لوگوں نے سوشل میڈیا کہ اپنا بہترین تجارتی پلٹ فارم بنا لیا ہے خاص طور سے Ankur Arya । Mahendra pal Arya ۔ thanks Bharat۔ Sandeep Arya حضرت ان لوگوں نے بہت سے سیدھے مسلمانوں کو گمراہ کردیا ہے اور ان لوگوں کا فتنہ مظفر نگر سہارنپور دہرادون بنگال اور کئی علاقوں میں زور پکڑا ہوا ہے اور ہمارے علماء ان سب فتنوں سے غافل ہی نہیں کوسو دور ہیں یہ بہت بڑا فتنہ ہے جس کی ہمیں آپ جیسے مخلص شخصیات کی توجہات کی سخت ضرورت ہے امید ہے آپ اس راۓ سے متفق ہوں گے جزاک اللّہ اور اس کتاب کو جن لوگوں نے قرآن مجید کے محرف ہونے کے دعوے میں ہتیار بنایا ہوا ہے ان سب کو ایک مسکت جواب ہوگا ۔

    Reply
    1. Islamic-Belief Post author

      اس کتاب میں قراتوں کے اختلاف پر بات کی گئی ہے جو مشہور قراتوں میں ہیں اور یہ سب قرات والوں کو معلوم ہیں – اگر آپ ان پر غور کریں تو الفاظ اگر بدل بھی جائیں تو معنوں میں کتنا فرق اتا ہے یہ اہم ہوتا ہے اور یہ فرق بہت نہیں ہے معمولی ہے مثلا مالک یوم الدین بولیں یا ملک یوم الدین – اللہ تعالی کی شان میں کوئی فرق نہیں اتا
      ایک میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مالک روز جزا ہے دوسرے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بادشاہ ہے
      اسی طرح ان فراتوں کو میں نے جہاں تک دیکھا ہے ایسا کوئی فرق نہیں ہے کہ کہا جائے کہ قرآن بدل گیا
      ———-

      دوسرا اس میں نسخوں کے اختلاف کا ذکر ہے – نسخوں میں سب سے قدیم صنعا کے نسخہ ہے اس میں دو تحریر ہیں ایک مٹا دی گئی ہے ایک اس کے اوپر لکّھی ہوئی ہے کیونکہ کاغذ کی کمی کے سبب ایسا کیا گیا -یعنی ایسا ہوا کہ ایک نسخہ میں کاتب نے غلط لکھا تو اس کو مٹا کر دوبار لکھا گیا
      – اور امریکہ کی یونیورسٹی نے اس کی خوب چیک کرنے کے بعد نتیجہ یہی نکالا کہ آج جو قرآن ہے وہ وہی ہے جو دور عثمان میں تھا

      ———
      میری انگریری میں تفسیر مین مقدمہ میں اسی کا ذکر ہے
      https://www.islamic-belief.net/download/two-illuminated-clouds-of-quran-and-umm-ul-quran/

      کیا آپ نے اس کا مقدمہ پڑھا ہے ؟

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *