کیا امت محمد شرک سے پاک ہے ؟
بریلوی کہتے ہیں کہ امت محمد شرک کر ہی نہیں سکتی – لہذا امت اب جو بھی کرے وہ شرک نہیں – بعض دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کے فرقے شرک کرنے سے امت مسلمہ سے خارج ہیں- ان کا یہ قول بریلویوں جیسا ہی ہے کہ امت محمد شرک نہیں کر سکتی – دونوں گروہوں کا مقصد یہی ہے کہ امت محمد شرک نہیں کر سکتی- راقم اس کو رد کرتا ہے
عرف عام میں امت محمد کو مسلمان کہا جاتا ہے ان میں شرک بھی ہو رہا ہے مثلا الله نے کہا قوم موسی نے بچھڑے کی پوجا کی – اب ہم بحث کریں کہ اس کو قوم موسی نہ کہا جائے یہودی کہا جائے تو یہ صرف لفظی نزاع ہے-حدیث میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا قسم اللہ کی مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے اور اسی طرح حدیث یہ بھی ہے کہ میری امت فرقوں میں بٹ جائے گی یعنی آپ صلی الله علیہ وسلم نے کافر و گمراہ فرقوں کو امت میں شمار کیا ہے لہذا وہ بنیادی چیزیں جن کا انکار کیا جائے تو اسلام سے خارج ہو جانا ہے ان میں ہے
توحید کا اقرار کہ الله ایک ہے اس کی بیوی بیٹی اور بیٹا نہیں ہے – کوئی ہمسر نہیں ، کفو نہیں
نبی صلی الله علیہ وسلم آخری نبی و رسول ہیں
قرآن جو ہاتھوں میں ہے آخری الہامی کتاب ہے
اسلام کے ارکان دین کا ظاہر ہیں ان کا مطلق انکار بھی کفر ہے –
اس بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ فرقے امت محمد کا ہی حصہ ہیں- اسلام سے خارج نہیں، ایمان سے خارج ہوئے ہیں
ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جو سنن ترمذی میں ہے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ،
ابو امیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کے پاس آ کر پوچھا: اس آیت کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: آیت یہ ہے: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» انہوں نے کہا: آگاہ رہو! قسم اللہ کی تم نے اس کے متعلق ایک واقف کار سے پوچھا ہے، میں نے خود اس آیت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، آپ نے فرمایا: “بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ لوگ بخالت کے راستے پر چل پڑے ہیں، خواہشات نفس کے پیرو ہو گئے ہیں، دنیا کو آخرت پر حاصل دی جا رہی ہے اور ہر عقل و رائے والا بس اپنی ہی عقل و رائے پر مست اور مگن ہے تو تم خود اپنی فکر میں لگ جاؤ، اپنے آپ کو سنبھالو، بچاؤ اور عوام کو چھوڑ دو، کیونکہ تمہارے پیچھے ایسے دن آنے والے ہیں کہ اس وقت صبر کرنا (کسی بات پر جمے رہنا) ایسا مشکل کام ہو گا جتنا کہ انگارے کو مٹھی میں پکڑے رہنا، اس زمانہ میں کتاب و سنت پر عمل کرنے والے کو تم جیسے پچاس کام کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا۔ (اس حدیث کے راوی) عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: عتبہ کے سوا اور کئی راویوں نے مجھ سے اور زیادہ بیان کیا ہے۔ کہا گیا: اللہ کے رسول! (ابھی آپ نے جو بتایا ہے کہ پچاس عمل صالح کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا تو) یہ پچاس عمل صالح کرنے والے ہم میں سے مراد ہیں یا اس زمانہ کے لوگوں میں سے مراد ہیں؟ آپ نے فرمایا: “نہیں، بلکہ اس زمانہ کے، تم میں سے”۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
اس کی سند ضعیف ہے – سند میں أبو أمية الشَّعْبانيُّ الدِّمَشْقيُّ. ہے
قال أبو حاتم: شاميٌّ جاهليّ ابو حاتم کہتے ہیں شامی ہے پہلے ایام جاہلیت کو دیکھا ہے
حدیث حوض
صحیح بخاری حدیث نمبر: 7048
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا عَلَى حَوْضِي أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ، فَيُؤْخَذُ بِنَاسٍ مِنْ دُونِي فَأَقُولُ أُمَّتِي. فَيَقُولُ لاَ تَدْرِي، مَشَوْا عَلَى الْقَهْقَرَى». قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَنَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن سری نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے دن) میں حوض کوثر پر ہوں گا اور اپنے پاس آنے والوں کا انتظار کرتا رہوں گا پھر (حوض کوثر) پر کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔ ابن ابی ملیکہ اس حدیث کو روایت کرتے وقت دعا کرتے اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھر جائیں یا فتنہ میں پڑ جائیں۔
رسول اللہ کہیں گے یہ میری امت کے لوگ ہیں لیکن یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ امتی نہیں ہیں بلکہ ان کی بد عملی کا ذکر کیا جائے گا
Sahih Bukhari Hadees # 6576
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “”أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَلَيُرْفَعَنَّ مَعِي رِجَالٌ مِنْكُمْ، ثُمَّ لَيُخْتَلَجُنَّ دُونِي، فَأَقُولُ يَا رَبِّ: أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ””، تَابَعَهُ عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَقَالَ حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ اس روایت کی متابعت عاصم نے ابووائل سے کی، ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔
اصحابی سے مراد منافق ہو سکتے ہیں کیونکہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو مدینہ کے تمام منافقین کا علم نہیں تھا سوره توبہ میں اس کا ذکر آیا ہے
امتی جنہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے ملاقات نہیں کی وہ اصحاب رسول نہیں لہذا پہلا قول بھی ممکن ہے کہ حدیث میں اصحابی سے مراد غیر معروف اصحاب رسول ہیں
صحیح بخاری میں ہے نبی صلی الله علیہ وسلم کہیں گے
سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي
دور دور ہو جس نے میرے بعد بدلا
صحیح بخاری میں ہے
إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ
یہ اس سے نہیں ہٹے کہ مرتد ہوئے جب اپ نے ان کو چھوڑا
بغوی نے شرح السنہ میں کہا
وَلَمْ يرْتَد أحد بِحَمْد اللَّه من أَصْحَاب النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا ارْتَدَّ قوم من جُفَاة الْعَرَب.
اور الحمد للہ اصحاب میں سے کوئی مرتد نہ ہوا سوائے عربوں کی ایک قوم کے
بخاری کے شاگرد فربری کا کہنا ہے
قال محمدُ بنُ يوسفَ الفِرَبرِيُّ: ذُكِرَ عن أبي عبدِ اللهِ عن قَبيصة قالَ: هُمُ المُرْتَدُّونَ الذين ارتدُّوا على عَهْدِ أبي بكرٍ، فقاتَلهُم أبو بكرٍ رضي الله عنه
میں نے عبد الله سے اس روایت کا ذکر کیا کہا یہ وہ مرتد ہیں جنہوں نے ابو بکر کے دور میں ارتاد کیا تو ابو بکر نے ان سے قتال کیا
مسند البزار میں ہے کہ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی الله عنہ نے اس کو روایت کیا پھر کہا
قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: ادْعُ اللَّهِ أَلا يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ الله سے دعا کرو کہ مجھے ان میں سے نہ کرے
مسند الشامییں از طبرانی میں ہے
فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ , قَالَ: «لَسْتَ مِنْهُمْ» , فَمَاتَ قَبْلَ عُثْمَانَ بِسَنَتَيْنِ
ابو درداء نے کہا دعا کرو الله ان میں سے نہ کرے – لوگوں نے کہا اپ ان میں سے نہیں پس ان کی وفات قتل عثمان سے دو سال پہلے ہوئی
اس روایت پر ایک تابعی نے کہا
قَالَ: فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَتَنَ عَنْ دِينِنَا
اے الله ہم پناہ مانگتے ہیں کہ اپنی گردنوں پر پلٹ جائیں اور دین میں فتنہ کا شکار ہوں
کتاب الشريعة از الآجُرِّيُّ البغدادي (المتوفى: 360هـ) میں ہے
قَالَ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ: ذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِإِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيِّ فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , كَتَبَ بِهِ إِلَيْنَا يُونُسُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ: وَسَمِعْتُ أَبَا إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيَّ وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ: هَذَا فِي أَهْلِ الرِّدَّةِ
ابو بکر نیشاپوری نے کہا ہم نے اس حدیث کا ابراہیم سے ذکر کیا تو کہا عجیب روایت ہے اور انہوں نے یہ یونس کو لکھ بھیجی اور ابو ابراہیم الزہری نے کہا یہ اہل الردہ یعنی مرتدوں کے حوالے سے ہے
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” لَيَرِدَنَّ عَلَى الْحَوْضِ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِي وَرَآنِي حَتَّى إِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ اخْتُلِجُوا دُونِي فَلَأَقُولَنَّ: رَبِّ , أَصْحَابِي , فَلَيُقَالَنَّ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ”
میرے اصحاب میں سے مرد جنہوں نے مجھے دیکھا اور صحبت اختیار کی ہو گی میرے حوض پر لائے جائیں گے
راقم کے نزدیک سند منقطع ہے حسن نے ابی بکرہ سے سماع نہیں کیا البتہ امام بخاری کے مطابق حسن بصری کا ابی بکرہ سے سماع ہے
بخاری و مسلم میں اسی حدیث میں الفاظ یہ بھی ہیں إِنَّهُمْ مِنِّي یہ مجھ سے ہیں یعنی میرے رشتہ دار ہیں
جن احادیث میں مجھ میں سے ہیں اتا ہے اس میں مراد خاندان نبوی کے افراد لئے جاتے ہیں-
روایت میں الفاظ امتی بھی ہیں یعنی تمام امت میں کوئی بھی ہو سکتا ہے- یعنی
اصحاب رسول اس روایت سے خوف کھاتے
محدثین کہتے یہ مرتدوں کے لئے ہے
مراد منافقین بھی ہو سکتے ہوں
خاندان نبوی کے افراد بھی لئے جا سکتے ہیں
یہ تمام احتمالات ممکن ہیں- الله سے دعا کریں ہم ان میں سے نہ ہوں