ہیکل سلیمانی ، زکریا اور مریم

مزید تفصیل کے لئے پڑھیں
تاریخ قبلتین

78 Downloads

یہود مسجد الاقصی کو هيكل سلیمان بولتے تھے اور ہیں – مسجد عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب عبادت کا مقام ہے اور الاقصی بھی عربی کا لفظ  ہے جس کا مطلب دور ہے – اور یہ دور اصل میں مکہ سے دوری کے طور پر بولا گیا تھا جب واقعہ معراج کا ذکر الله تعالی نے سورہ بنی اسرائیل میں کیا

سُبْحَانَ الَّـذِىٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى الَّـذِىْ بَارَكْنَا حَوْلَـهٝ لِنُرِيَهٝ مِنْ اٰيَاتِنَا ۚ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْـرُ (1)

پاک ہے وہ  (رب) جو لے گیا سفر میں  اپنے بندے کو رات  میں مسجد الحرام سے مسجد الاقصی جس کا ماحول ہم نے  با برکت کیا ہے  کہ اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بے شک وہ  (الله) سننے دیکھنے والا ہے

الْاَقْصَى اصل میں فاصلے پر نسبت ہے  کہ اتنی دور ایک رات میں ہی لے کر گئے- ظاہر ہے دور سلیمان و داود میں اور اس کے بعد بھی یروشلم میں رہنے والے احبار و ربانی  اہل کتاب اس مسجد کو مسجد الاقصی نہیں بولتے ہوں گے- بنی اسرائیل کی تاریخ کے مطابق اس مسجد کو ہیکل سلیمان کے نام سے یاد کیا جاتا تھا

هيكل کا لفظ  عربی اور عبرانی دونوں میں مستعمل ہے اور عربی لغت تاج العروس من جواهر القاموس میں بھی موجود ہے  

الهَيْكَلُ: الضَّخْمُ مِنْ كُلِّ شَيْء یعنی کسی بھی چیز کا بڑا ہونا – ہیکل سلیمان کا مطلب  ہے مسجد الاقصی بہت بڑی تھی

لغت مجمع بحار الأنوار في غرائب التنزيل ولطائف الأخبار از  جمال الدين، محمد طاهر بن علي الصديقي الهندي الفَتَّنِي الكجراتي (المتوفى: 986هـ) میں ہے

الهيكل – ذو الضخامة والشرف، ثم استعمل فيما يكتب من الأسماء الإلهية والأدرعة الربانية ونحو ذلك

الهيكل – بہت عظمت و شرف   والا پھر اس لفظ کا استمعال ہوا اگر اسماء الہی  وغیرہ لکھے ہوں

ظاہر ہے یہ لفظ عربی میں بھی موجود ہے تو مسجد الاقصی کو اگر ہیکل کہا جائے تو اس میں کوئی عیب نہیں کیونکہ دور سلیمان میں ظاہر ہے اس کو الاقصی نہیں کہا جا سکتا – سلیمان  علیہ السلام کی مملکت ارض مقدس میں تھی

ہیکل سلیمانی  کا مطلب ہے سلیمان علیہ السلام کا بنایا ہوا ہیکل

Heikal

جس میں ایک    چٹان یا  الصخرہ تھی اس کو یہودی زمین کا سب سے مقدس مقام سمجھتے ہیں اور ان کے مطابق زمیں کا آغاز اسی چٹان سے ہوا اور مسلمان ہونے والے  یمنی یہودیوں کے مطابق اس کے نیچے تمام دنیا کی ہوائیں اور نہریں ہیں  جیسا کہ ایک روایت میں ہے- یہود کے مطابق اس چٹان پر تابوت سکینہ رکھا ہوا تھا اور معلوم ہوا ہے کہ اس ہیکل پر کسوہ کعبہ کی طرح کا ایک غلاف بھی ہوتا تھا  اس کے سامنے

Altar

تھا جس میں قربانی کا گوشت جلا کر الله کی نذر کیا جاتا تھا اور خون کوقربان گاہ پر  چھڑکا جاتا- اس قربان گاہ کے پاس حجرات تھے جن میں منتظم سامان رکھتے اور اس مسجد کے صحن سے بھی زمزم کی طرح ایک چشمہ ابلتا تھا جس کو جیحوں

Gihon

کہا جاتا ہے

مسلمان مورخین کے مطابق تبع نے بعثت نبوی سے کئی سو سال پہلے سب سے پہلے غلاف کعبہ دیا – تبع (المتوفی ٤٢٠ بعد مسیح عیسوی ) ایک  یمنی یہودی بادشاہ تھا جس  نے کعبہ کو سب سے پہلے غلاف دیا کیونکہ مسجد اقصی میں ہیکل سلیمانی میں قدس الاقدس پر بھی غلاف تھا اس کا ذکر انجیل میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی مزموعہ صلیب کے وقت مقدس کا غلاف یا کسوہ پھٹ گیا

At that moment the curtain of the temple was torn in two from top to bottom. The earth shook, the rocks split

اور اس ( موت کے) وقت ہیکل کا کسوہ اوپر سے نیچے تک  پھٹ گیا زمیں لرز گئی اور چٹانیں چٹخ گئیں

http://biblehub.com/matthew/27-51.htm

قرآن میں ذکر ہے کہ زوجہ عمران  نے منت مانی کہ اگر لڑکا ہوا تو میں اس کو الله کی نذر کر دوں گی –

إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

اور جب مریم کی ماں  نے کہا اے رب  میرے بطن میں جو ہے اس کو نذر کر رہی ہوں وقف کرتے ہوئے پس اس کو قبول کر بے شک توسننے والا جاننے والا ہے 

اس میں محرر کا لفظ ہے یعنی اب اس بطن میں جو ہے وہ تمام عمر کے لئے وقف نذر ہو چکا ہے – اس نذر کی بنا پر مریم اب کبھی بھی شادی نہیں کر سکتی تھیں –

قرآن میں مریم کو اخت ہارون کہا گیا یعنی وہ ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھیں اور اس طرح ان کے والد عمران بھی نسل ہارون میں سے تھے – اہل کتاب کے  مطابق ہیکل سلیمان یا مسجد الاقصی  میں رسوم کی ادائیگی صرف نسل ہارون والے کر سکتے ہیں –  بہر حال زوجہ عمران نے لڑکے کی بجائے ایک لڑکی مریم کو جنا اور ان کو بطور منت کی ادائیگی ہیکل سپرد کر دیا گیا –

نذر کا مطلب تورات کتاب گنتی باب ٦ میں موجود ہے

اسلام میں بھی معتکف بال نہیں کاٹ سکتا

اس منت کو پورا کرانے کے لئے  اقلام ڈالے گئے یعنی قرع اندازی ہوئی  کہ کون مریم کی کفالت کرے گا

 ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ 

يه غیب کی خبریں ہیں جو ہم الوحی کر رہے ہیں تم ان کے ساتھ نہ تھے جب یہ اقلام پھینک رہے تھے کہ کون مریم کی دیکھ بھال کرے گا اور نہ ساتھ تھے جب یہ اس (کفالت ) کے لئے لڑ رہے تھے

ہیکل میں امور سر انجام دینے کے لئے اقلام کیسے ڈالے جاتے  تھے اس کا ذکر یہود کی کتاب  مشنا میں ہے

The officials of Temple said to them, Come and cast lots to decide who among  them would kill the sacrifice, who would sprinkle the blood and who would clear the altar of  ashes, who would light the menorah ” ∗. The room Gazith (Lots casting room) was in form of  large Hall. The casting took place from the east side of it. With an elder sitting on the west. The priest stood about in a circle and official grabbed the hat off this or that person, and by this they understood where the lot was to begin

Mishnah Tamid 3.1; see from Jesus Christ in Talmud by J. Lightfoot published in 1658

ہیکل سلیمانی میں خدمت انجام دینے کے لئے مسجد اقصی کے منتظمین کہتے کہ اقلام ڈالو اور ہم فیصلہ کریں کہ کون قربانی کرے گا کون خون کو چھڑکے گا کون قربان گاہ کی راکھ کو صاف کرے گا اور کون منورہ میں شمع جلاۓ گا – ایک بہت بڑا  حجرہ غازث (مسجد الاقصی میں) تھا جس میں اقلام ڈالے جاتے تھے اور وہ اس کے مشرق سے شروع کیا جاتا جب ایک عالم کرسی پر بیٹھتا اور تمام خدمت گزار ایک دائرے کی صورت کھڑے ہوتے اور عالم اشارہ دیتا  کہ اقلام ڈالنا کہاں سے شروع ہو گا

اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقلام ڈالنا مسجد الاقصی میں کیا جاتا تھا اور قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے جس سے ظاہر ہے نسل ہارون یا خدمت  گزار  لوگ  جن کو لاوی کہا جاتا تھا اس  اقلام ڈالنے میں شریک ہوتے تھے

قرآن میں مزید موجود ہے کہ مریم علیہ السلام جس مقام پر  منت کر رہی تھیں وہ المحراب تھی – یہ اس قدر واضح اشارہ ہے کہ شاید ہی کوئی اور اشارہ قرآن میں اس کے سوا ہو کہ یہ اعتکاف مسجد الاقصی میں تھا اور جب الله نے اس کا ذکر کیا تو کسی بھی یہودی پر یہ مخفی نہ رہا ہو گا-المحراب اصل میں مسجد الاقصی کا ایک حجرہ تھا جو اس کے شمال میں تھا یہ  کمرہ خدمت گزاروں کے لئے وقف تھا وہ  وہاں رکتے نماز پڑھتے اور اپس میں مسجد کے انتظام کا ذکر کرتے تھے –

Bet ha-Moed or Bet Hamoked (Chamber of the Hearth) was the domed chamber in temple, was in north of the ’Azarah (inner court where burning altar was placed), See Jewish Encyclopedia

بیت ہا معید یا بیت ہموکد ایک گنبد نما حجرہ ہیکل میں تھا جو مسجد اقصی کے صحن کے شمالی سمت میں تھا

This dome-covered structure was the quarters for the priests who performed the services

محراب نما حجرہ متظمین ہیکل کے لئے تھا

Architecture of Herod, the Great Builder by Ehud Netzer, Baker Academic, October 1, 2008

Beth-haMoked,  … was built on arches

بیت ہموکد میں محرابیں تھیں

The Temple–Its Ministry and Services by Alfred Edersheim

قرآن میں موجود ہے کہ زکریا علیہ السلام نماز محراب میں پڑھ رہے تھے جب ان پر الوحی ہوئی کہ یحیی علیہ السلام کی ولادت ہو گی

فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ أَن سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا

پس زکریا محراب سے باہر نکل کر قوم کے پاس آیا اور ان کو اشارہ کیا کہ صبح و شام تسبیح کرو

اسی طرح ذکر ہے کہ جب بھی زکریا محراب میں اتے تو مریم کے پاس رزق ہوتا

كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا

محراب میں جب بھی زکریا مریم کے پاس داخل ہوتے ان کے پاس رزق پاتے 

 یعنی یہ محراب ایک بہت بڑا حجرہ تھا جس میں مریم بھی تھیں اور زکریا بھی تھے اور  یہاں مریم معتکف تھیں ان کے باقی حجرہ کے درمیان ایک پردہ تھا اور وہ اس حجرہ کے مشرق میں تھیں

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا (16) فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا

أور الكتاب  میں مریم کا ذکر کرو جب وہ اپنے اہل کو چھوڑ(محراب میں ) شرقی جانب میں (معتکف ہو) گئی اور اپنے اور باقی لوگوں کے درمیان ایک پردہ ڈالا تو ہم نے ایک روح (ناموس یا فرشتہ) اس کی طرف بھیجا جو ایک آدمی کی صورت ظاہر ہوا

یقینا مریم اس اشکال میں ہوں گی کہ وہ ایک لڑکی ہیں اور مسجد الاقصی میں کس طرح ان کا قیام جاری رہے گا – لہذا ان کو خبر دی گئی کہ وہ اب حیض کی حالت میں کبھی نہ جائیں گی – اللہ نے خبر دی

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ

اور فرشتوں نے مریم سے کہا اے مریم الله نے اپ کو منتخب کر لیا ہے اور پاک کر دیا ہے   تمام عالمین کی عورتوں میں سے اپ کو چنا ہے

طہر کا لفظ  اشارہ ہے کہ مریم اب کبھی بھی نطفہ سے ماں نہیں بن سکیں گی اور نہ ان کو  عام عورتوں کی طرح حیض آئے گا – ساتھ ہی خبر دی گئی کہ وہ بن بیاہی ماں بن جائیں گی

إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (45)

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم بے شک الله اپ کو بشارت دیتا ہے اپنے جانب سے کلمہ کی جس کا نام المسیح عیسیٰ بن مریم ہو گا دنیا و آخرت میں مقربوں میں سے ہو گا

یقینا مریم اہل کتاب کی اس خواہش  کا علم رکھتی ہوں گی جس کا ذکر کتاب یسعیاہ میں ہے کہ ان میں ایک کنواری کے بطن سے مسیح کا ظہور ہو جو  مردوں کو زندوں کر دے جو نابینا کو نگاہ دے اور جو اپاہج کو صحیح کر دے  – فرشتوں نے ان کو خبر دی کہ وہ وہ کنواری ہیں جو المسیح کو جنم دے گی

اللہ نے اس طرح  مسیح کو کسی بھی نسب کا نہ کیا کیونکہ اہل کتاب میں اختلاف چل رہا تھا ایک گروہ کا دعوی تھا کہ مسیح داود کی نسل سے ہو گا اور دوسرے گروہ کا دعوی تھا کہ یوسف کی نسل سے ہو گا – الله نے نسل ہارون کو پسند کیا اس کی لڑکی کو المسیح کی ماں بننے کا شرف ملا اس طرح ان تمام جھگڑوں کو ختم کر دیا جو مسیح کے نسب پر اہل کتاب میں تھا

و الله اعلم

Leave a Reply

Your email address will not be published.

17 + 15 =