مسجد دمشق کی حقیقت

صحیح بخاری کی حدیث ہے

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ وَيُونُسُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ “لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ وَهُوَ كَذَلِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا”

.مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو معمر اور یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر چہرہ     پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا، اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کو ان کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے۔

موطا    امام مالک   ميں ہے
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ. اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ نے کہا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا اے الله ميري قبر کو بت مت بنا – الله کا غضب پڑھتا ہے اس قوم پر جو اپنے انبياء کي قبروں کو مسجد بنا دے

سن ٣٢٥ بعد مسیح  کی بات ہے،   قیصر روم کونستینٹین [1]کی والدہ فلاویہ اولیا  ہیلینا آگسٹا[2]  نے  عیسائی مبلغ  یسوبئوس [3]کو طلب کیا اور نصرانی دھرم کی حقانیت جاننے کے لئے شواہد طلب کیے- کونستینٹین نے اپنی والدہ کو نصرانی دھرم  سے متعلق آثار جمع کرنے پر مقرر کیا یا بالفاظ دیگر ان کو آرکیالوجی کی وزارت کا قلمدان دیا گیا اور اس سب کام میں اس قدر جلدی کی وجہ یہ تھی کہ مملکت کے حکمران طبقہ نے متھرا دھرم[4] چھوڑ کر نصرانی دھرم قبول کر لیا تھا اور اب اس کو عوام میں بھی استوار کرنا تھا لہذا راتوں رات روم میں بیچ شہر میں موجود جوپیٹر یا مشتری کے مندر کو ایک عیسائی عبادت گاہ میں تبدیل کیا گیا اس کے علاوہ یہی کام دیگر اہم شہروں یعنی دمشق اور یروشلم میں بھی کرنے تھے – لیکن ایک مشکل درپیش تھی کہ کن کن مندروں اور مقامات کو گرجا گھروں میں تبدیل کیا جائے؟   اسی کام کو کرنے کا کونستینٹین کی والدہ   ہیلینا نے بیڑا اٹھا لیا اور عیسائی مبلغ  یسوبئوس کو ایک مختصر مدت میں ساری مملکت میں اس قسم کے آثار جمع کرنے کا حکم دیا جن سے دین نصرانیت کی سچائی ظاہر ہو-

عیسائی مبلغ  یسوبئوس  نے نصرانیت کی تاریخ پر کتاب بھی  لکھی اور بتایا کہ ہیلینا کس قدر مذہبی تھیں[5] – یہ یسوبئوس   ہی تھے جنہوں نے کونستینٹین کے سامنے نصرانیوں کا عیسیٰ کی الوہیت پر اختلاف پیش کیا اور سن ٣٢٥ ب م   میں  بادشاہ نے فریقین کا مدعا سننے کے بعد تثلیث [6]کے عقیدے کو   پسند کیا اور اس کو نصرانی دھرم قرار دیا گیا-  واضح رہے کہ کونستینٹین ابھی ایک کافر بت پرست ہی تھا کہ اس کی سربراہی میں نصرانی دھرم کا یہ اہم فیصلہ کیا گیا  – کچھ عرصہ  بعد بادشاہ کونستینٹین  نے خود بھی اس مذھب کو قبول کر لیا-

 بحر الحال،  یسوبئوس  نے راتوں رات کافی کچھ برآمد کر ڈالا جن میں انبیاء کی قبریں، عیسیٰ کی پیدائش اور تدفین کا مقام ،اصلی صلیب، یحیی علیہ السلام کے سر کا مقام، وہ مقام جہاں ہابیل قتل ہوا، کوہ طور، بھڑکتا شجر جو موسی کا دکھایا گیا اور عیسیٰ کے ٹوکرے جن میں مچھلیوں والا معجزہ ہوا تھا  وغیرہ شامل تھے – یہودی جو فارس یا بابل میں تھے وہ بھی بعض انبیاء سے منسوب قبروں کو پوجتے تھے   مثلا دانیال کی قبر وغیرہ- ان مقامات کو فورا مقدس قرار دیا گیا اور یروشلم واپس دنیا کا ایک اہم  تفریحی اور مذہبی مقام بن گیا جہاں ایک میوزیم کی طرح تمام اہم چیزیں لوگوں کو دین مسیحیت کی حقانیت کی طرح بلاتی تھیں- یسوبئوس سے قبل ان مقامات کوکوئی  جانتا تک نہیں تھا اور نہ ہی کوئی تاریخی شواہد اس پر تھے اور نہ ہی یہودی اور عیسائیوں میں یہ مشہور  تھے- مسلمان آج اپنی تفسیروں ،میگزین  اور  فلموں میں انہی مقامات کو دکھاتے ہیں جو در حققت یسوبئوس  کی دریافت تھے- سن ١٧ ہجری میں مسلمان   عمر رضی الله عنہ کے دور میں  ان علاقوں میں داخل ہوئے اور ان عیسائی و یہودی  مذہبی مقامات کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا – یہاں تک کہ نبو امیہ کا دور آیا –  خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دور میں ان میں سے بعض مقامات کو مسجد قرار دیا گیا مثلا جامع الاموی دمشق جس میں مشہور  تھا کہ اس میں یحیی علیہ السلام کا سر دفن ہے -اس سے قبل اس مقام پر الحداد کا مندر تھا پھر مشتری کا مندر بنا اور  جس کو یسوبئوس   کی دریافت پر یحیی علیہ السلام کے سر کا مدفن کہا گیا- اسی مقام پر نصرانیوں نے ایک گرجا بنا دیا اور اس میں ان کی عبادت ہونے لگی تھی  –  کہا جاتا ہے کہ جب مسلمان دمشق میں داخل ہوئے تو شہر کے وسط میں ہونے کی وجہ سے اس کے ایک حصے میں مسلمان اپنی عبادت کرتے رہے جو جنوب  شرقی حصے میں ایک چھوٹا سا مصلی تھا –  لیکن مکمل گرجا پر عیسائیوں کا ہی کنٹرول تھا وقت کے ساتھ کافی لوگ مسلمان ہوئے اور ولید بن عبد الملک کے دور میں اس پر مسلمانوں نے مکمل قبضہ کیا-

مسجد دمشق    جامع  بنی امیہ  میں یحیی علیہ السلام سے منسوب مقام

https://www.youtube.com/watch?v=kf6B1cKJFKg

ولید بن عبد الملک بن مروان   کی  تعمیرات

ولید نے کافی تعمیراتی کام کروایے ،   لیکن ان سب کو اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد کیا گیا – اگر ان کے سامنے یہ سب ہوتا تو وہ اس کو پسند نہ کرتے-وقت کے ساتھ مسلمانوں نے ان مقامات پر قبضہ کرنا شروع کیا جو بنیادی طور پر یسوبئوس  کی دریافت تھے اور وہی قبریں جن سے دور رہنے کا فرمان نبوی تھا ان کو اس  امت میں واپس آباد کیا گیا-

ابن بطوطہ المتوفی ٧٧٩ ھ کتاب تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار میں لکھتے ہیں

وفي وسط المسجد قبر زكرياء عليه السلام  ، وعليه تابوت معترض بين أسطوانتين مكسو بثوب حرير أسود معلّم فيه مكتوب بالأبيض:” يا زكرياء إنا نبشرك بغلام اسمه يحيى

اور مسجد کے وسط میں زکریا علیہ السلام کی قبر ہے اور تابوت ہے دو ستونوں کے درمیان جس پر کالا ریشمی کپڑا ہے  اس پر لکھا ہے سفید رنگ میں  یا زكرياء إنا نبشرك بغلام اسمه يحيى

کہیں اس کو یحیی علیہ السلام   کی قبر کہا جاتا ہے کہیں اس کو زکریا علیہ السلام   کی قبر کہا جاتا ہے بعض کتاب میں اس کو هود علیہ السلام کی قبر بھی کہا گیا ہے- کتاب  فضائل الشام ودمشق از ابن أبي الهول (المتوفى: 444هـ)  کے مطابق

 أخبرنا عبد الرحمن بن عمر حدثنا الحسن بن حبيب حدثنا أحمد بن المعلى حدثنا أبو التقي الحمصي حدثنا الوليد بن مسلم قال لما أمر الوليد بن عبد الملك ببناء مسجد دمشق كان سليمان بن عبد الملك هو القيم عليه مع الصناع فوجدوا في حائط المسجد القبلي لوح من حجر فيه كتاب نقش فأتوا به الوليد بن عبد الملك فبعث به إلى الروم فلم يستخرجوه ثم بعث به إلى العبرانيين فلم يستخرجوه ثم بعث به إلى من كان بدمشق من بقية الأشبان فلم يقدر أحد على أن يستخرجه فدلوه على وهب بن منبه فبعث إليه فلما قدم عليه أخبروه بموضع ذلك الحجر الذي وجدوه في ذلك الحائط ويقال إن ذلك الحائط من بناء هود  النبي عليه السلام وفيه قبره

ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ جب ولید بن عبد الملک نے مسجد دمشق بنانے کا ارادہ کیا تو سلیمان بن عبد الملک اس پر مقرر کیا   جو کاریگروں کا کام دیکھتے تھے اور ان کو ایک  پتھر کی لوح ملی مسجد کے صحن سے جس پر نقش تھے اور اس کو ولید بن عبد الملک کو دکھایا گیا جس نے اس کو روم بھجوایا  ان سے بھی حل نہ ہوا پھر یہودیوں کو دکھایا ان سے بھی حل نہ ہوا  پھر دمشق کے بقیہ افراد کو دکھایا اور کوئی بھی اس کے حل پر قادر نہ ہوا پس اس کو وھب بن منبہ پر پیش کیا  انہوں نے کہا کہ یہ دیوار هود کے دور کی ہے اور یہاں صحن میں  ان کی قبر ہے

الغرض صحابہ رضوان الله علیھم اجمعین اس مقام کو گرجا کے طور پر ہی جانتے تھے اور ایسی مسجد جس میں جمعہ ہو  کے لئے یہ جگہ معروف نہ تھی-

مینار بنانا ایک عیسائی روایت تھی،  جس میں راہب اس کے اوپر بیٹھتے اور عبادت کرتے اور باقی لوگوں کو اوپر انے کی اجازت نہیں ہوتی تھی-  کتاب  أخبار وحكايات لأبي الحسن الغساني   از  محمد بن الفيض بن محمد بن الفياض أبو الحسن ويقال أبو الفيض الغساني (المتوفى: 315هـ) کی ایک مقطوع روایت ہے

 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بن يحيى الغساني قَالَ حدثن أَبِي عَنْ جَدِّي يَحْيَى بْنِ يحي قَالَ لَمَّا هَمَّ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِكَنِيسَةِ مَرْيُحَنَّا لِيَهْدِمَهَا وَيَزِيدَهَا فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ الْكَنِيسَةَ ثُمَّ صَعَدَ مَنَارَةَ ذَاتِ الْأَكَارِعِ الْمَعْرُوفَةَ بِالسَّاعَاتِ وَفِيهَا رَاهِبٌ نُوبِيٌّ صومعة لَهُ فأحدره من الصوعمعة فَأَكْثَرَ الرَّاهِبُ كَلَامَهُ فَلَمْ تَزَلْ يَدُ الْوَلِيدِ فِي قَفَاهُ حَتَّى أَحْدَرَهُ مِنَ الْمَنَارَةِ ثُمَّ هَمَّ بِهَدْمِ الْكَنِيسَةِ فَقَالَ لَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ نَجَّارِي النَّصَارَى مَا نَجْسُرُ عَلَى أَنْ نَبْدَأَ فِي هَدْمِهَا يَا أَمِير الْمُؤمنِينَ نخشى أنَعْثُرَ أَوْ يُصِيبَنَا شَيْءٌ فَقَالَ الْوَلِيد تحذرون وتخافون يَا غلان هَاتِ الْمِعْوَلَ ثُمَّ أُتِيَ بِسُلَّمٍ فَنَصَبَهُ عَلَى مِحْرَابِ الْمَذْبَحِ وَصَعَدَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْمَذْبَحَ حَتَّى أَثَّرَ فِي هـ أَثَرًا كَبِيرًا ثُمَّ صَعَدَ الْمُسْلِمُونَ فَهَدَمُوهُ وَأَعْطَاهُمُ الْوَلِيدُ مَكَانَ الْكَنِيسَةِ الَّتِي فِي الْمَسْجِدِ الْكَنِيسَةَ الَّتِي تُعْرَفُ بِحَمَّامِ الْقَاسِمِ بِحِذَاءِ دَارِ أَن الْبَنِينَ فِي الْفَرَادِيسِ فَهِيَ تُسَمَّى مَرْيُحَنَّا مَكْانَ هَذِهِ الَّتِي فِي الْمجد وَحَوَّلُوا شَاهِدَهَا فِيمَا يَقُولُونَ هُمْ إِلَيْهَا إِلَى تِلْكَ الْكَنِيسَةِ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَنَا رَأَيْتُ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ فَعَلَ ذَلِكَ بِكَنِيسَةِ

 يَحْيَى بْنِ يحي کہتے ہیں کہ جب الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ نے    کنِيسَةِ مَرْيُحَنَّا کو گرانے کا ارادہ کیا اور اس کی جگہ مسجد کو بنانے کا تو وہ کنِيسَةِ میں آئے اور مَنَارَةَ ذَاتِ الْأَكَارِعِ  پر چڑھے جو السَّاعَاتِ کے نام سے معروف ہے جن میں  راہب    نُوبِيٌّ   تھا … پس عیسائی بڑھییوں نے کہا اے امیر المومنین ہم خوف زدہ ہیں کہ ہم کو کوئی برائی نہ پہنچے پس ولید نے کہا تم سب ڈرتے ہو اوزار لاؤ پھر محراب الْمَذْبَحِ   پر گئے اور وہاں ضرب لگائی جس پر بہت اثر ہوا پھر مسلمان چڑھے اور انہوں نے ضرب لگائی اور اس کو گرایا اور ولید نے عیسائیوں کو کنِيسَةِ کی جگہ….. دوسرا مقام دیا

بنو امیہ کا مقصد قبر پرستی نہیں تھا – ان کا مقصد سیاسی تھا کہ عیسائیوں کو   ان کے معبد خانوں سے بے دخل کرنا تھا کیونکہ وہ شہروں کے بیچ میں تھے اور اہم مقامات پر تھے  – لیکن انہوں نے ان   عیسائیوں  کے اقوال پر ان کو انبیاء کی قبریں مان لیا اور ان کو    مسجد میں بدل دیا گیا – جو مقامات  یسوبئوس نے دریافت کیے تھے ان کو بغیر تحقیق کے قبول کر لیا گیا جبکہ نہ کوئی حدیث تھی نہ حکم رسول- اگلی صدیوں میں ان مقامات کو قبولیت عامہ مل گئی –    تاریخ بیت المقدس نامی کتاب میں جو ابن جوزی تصنیف ہے اس میں مصنف نے بتایا ہے  یہاں کس کس کی قبر ہے جو روایت  بلا سند کے مطابق جبریل علیہ السلام نے بتایا

هذا قبر أبراهيم، هذا قبر سارة، هذا قبر إسحاق، هذا قبر ربعة، هذا قبر يعقوب، هذا قبر زوجته

انہی قبروں کو یہود و نصاری نے آباد کر رکھا تھا جن پر کوئی دلیل نہیں تھی  -اب  انہی  قبروں کو  مسلمانوں    نے   آباد کر رکھا ہے  اور تصور قائم رکھا ہوا کہ یہاں عیسیٰ کا نزول ہو گا – ایسی جگہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کیوں ہو گا جہاں  انبیاء کی قبریں   کو پوجا کی گئی ہو اور ابھی تک یہ مزارات وہاں موجود ہیں

جامع مسجد الاموی  کا مینار جو بقول ابن کثیر  سن ٧٤١ ھ میں   سفید  پتھر سے  بنا یا  گیا  

مسجد دمشق وہی مقام ہے   جو  انبیاء کی قبروں سے منسوب ہے  اور یہاں اصلا ایک چرچ تھا جس کو  بنو امیہ نے مسجد بنا دیا –    فضائل الشام ودمشق از ابن أبي الهول (المتوفى: 444هـ)  میں ہے

وأخبرنا تمام قال: حدثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ المعلى حدثنا القاسم بن عثمان قال: سمعت الوليد بن مسلم وسأله رجل يا أبا العباس أين بلغك رأس يحيى بن زكريا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بلغني أنه ثم وأشار بيده إلى العمود المسفط الرابع من الركن الشرقي.

ولید بن مسلم  نے  ایک شخص کے سوال پر کہ یحیی کا سر     (مسجد دمشق میں ) کہاں ہے کہا کہ مجھ تک پہنچا پھر ہاتھ سے چوتھے ستون کی طرف رکن شرقی کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں ہے

یکایک یہ  دریافتیں شاید دمشق کی اہمیت بڑھانے کے لئے تھیں  کہ امت دمشق کو بھی مقدس سمجھے اور وہاں جا کر ان  مقامات کو دیکھے[7]،   جبکہ موطا ور  بخاری و مسلم میں انبیاء کی ان  نام نہاد قبروں کا وجود و خبر   تک نہیں

عیسیٰ دمشق میں نازل ہوں گے  

عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول پر  کہاں ظاہر ہوں گے اس پر نصرانیوں کا اختلاف ہے – ایسٹرن آرتھوڈوکس چرچ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام دمشق میں ظاہر ہوں گے – پروٹسٹنٹ  فرقے کے بقول یروشلم میں اور کیتھولک  فرقے کے مطابق روم میں-

مسیح کی آمد ثانی کو نصرانی

Parousia, the Second Coming of Christ

کہتے ہیںشام، لبنان ، اردن فلسطین  میں   آج بھی ایسٹرن آرتھوڈوکس چرچ  کا زور ہے اور  وہاں کے تمام قدیم چرچ اسی فرقہ کے کنٹرول میں ہیں –

یسعیاہ   باب ١٧ میں ہے

An  oracle concerning  Damascus.

Behold, Damascus will cease to be a city

and will become a heap of ruins

اور دمشق پر پیشنگوئی ہے کہ خبردار دمشق شہر نہ رہے گا اور کھنڈر بن جائے گا

اس آیت کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ کی آمد سے پہلے دمشق جنگ  سے اجڑا ہو گا –

نصرانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ   صلیب پر  فوت ہوئے   اور دوبارہ زندہ  ہوئے  اور  دمشق  کے رستے میں لوگوں پر ظاہر ہوئے –  ان کے جھوٹے رسول پاول نے خبر دی کہ دمشق  کے رستہ میں عیسیٰ نے حکم دیا کہ جاو تبلیغ کرو-  پاول کے بقول پہلی بار زندہ مسیح دمشق کے رستے میں ظاہر ہوا – عرب  نصرانیوں  جن کی اکثریت

Eastern Orthodox Church

کی ہے ان میں   یہ بات مشہور چلی آئی ہے  کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول ثانی پر دمشق میں ظاہر ہوں گے  –  اس کی وجہ یہ ہے کہ صلیب کے بعد سینٹ پال کے بقول اس نے دمشق کے راستہ میں سب سے پہلے جی اٹھنے والے مسیح کو دیکھا تھا –  اس بنا پر  عرب نصرانی اس کے منتظر ہیں کہ آمد ثانی پر بھی  عیسیٰ   دمشق کے پاس ظاہر ہوں گے – ایسٹرن  آرتھوڈوکس نصرانی کہتے ہیں کہ دمشق  میں نزول ثانی  کے بعد عیسیٰ فاتحانہ انداز میں گھوڑے  کی سواری کر کے یروشلم میں داخل ہوں گے – مسجد الاقصی جائیں گے وہاں   یہود یا تو آپ کو مسیح تسلیم کر لیں گے یا قتل ہوں گے  – اس  کو بائبل کی کتب  یرمیاہ    و  زکریا    سے اخذ کیا گیا  ہے –  چند سال پہلے پوپ  بینی ڈکٹ

Pope  Benedict

نے جب دمشق کا دورہ کیا تو ویٹی کن کے ایک کارندے نے اخباری نمائندوں کو اس کی یہی وجہ بتائی کہ یہ نصرانی  روایات ہیں کہ عیسیٰ نزول ثانی پر دمشق میں ظاہر ہوں گے جس کو راقم نے خود ایک ڈوکومینٹری میں سنا-

مسلمانوں میں مشہور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول  صدر   دمشق   میں  جامع  مسجد   الاموی پر ہو گا جس کا مینار سفید  ہے  – البتہ دور بنو امیہ کی مشہور جامع الاموی کا مینار  سفید نہیں تھا – کتاب  النهاية في الفتن والملاحم    میں ابن کثیر کا کہنا ہے

وقد جدد بناء المنارة في زماننا في سنة إحدى وأربعين وسبعمائة من حجارة بيض ، وكان بناؤها من أموال النصارى الذين حرقوا المنارة التي كانت مكانها ،
اس مینار کی تجدید کی گئی ہمارے دور میں سن ٧٤١ ھ میں کہ اس کو سفید   پتھر کا کیا گیا  اور اس کو   اس مال سے بنایا گیا جو نصرانییوں  کا تھا جنہوں نے اصل مینار  کو  جلا دیا  جو پہلے یہاں تھا

کتاب     البداية والنهاية ج ١٣ / ص ١٧٥ پر ابن کثیر نے لکھا

وفي ليلة الأحد الخامس والعشرين من رجب وقع حريق بالمنارة الشرقية فأحرق جميع حشوها وكانت سلالمها سقالات من خشب وهلك للناس ودائع كثيرة كانت فيها وسلم الله الجامع وله الحمد وقدم السلطان بعد أيام إلى دمشق فأمر بإعادتها كما كانت قلت ثم احترقت وسقطت بالكلية بعد سنة أربعين وسبعمائة وأعيدت عمارتها أحسن مما كانت ولله الحمد وبقيت حينئذ المنارة البيضاء الشرقية بدمشق كما نطق به الحديث في نزول عيسى عليه السلام عليها

اور اتوار  رجب کی ٢٥ تاریخ  کو شرقی مینار میں اگ لگی اور یہ سب جل گیا   بس اس کے کچھ لکڑی کے  ڈنڈے رہ گئے   …  اور اللہ نے مسجد کو بچا لیا  اس کا شکر ہے اور سلطان چند روز بعد دمشق  تشریف لائے اور انہوں نے اس کی تعمیر نو کا حکم کیا جیسا یہ پہلے تھا – میں کہتا ہوں  یہ   جلا   اور تمام گر گیا تھا پھر  سن  ٧٤١ ھ   کے بعد  اور اسکی تعمیر نو کی گئی اچھی طرح    و للہ لحمد اور اب یہ باقی ہے   سفید مینار کے طور پر جیسا حدیث نزول عیسیٰ میں بولا گیا ہے

تفسیر   ابن کثیر میں ابن کثیر کا قول ہے

وفيها دلالة على صفة نزوله ومكانه ، من أنه بالشام ، بل بدمشق ، عند المنارة الشرقية ، وأن ذلك يكون عند إقامة الصلاة للصبح وقد بنيت في هذه الأعصار ، في سنة إحدى وأربعين وسبعمائة منارة للجامع الأموي بيضاء ، من حجارة منحوتة ، عوضا عن المنارة التي هدمت بسبب الحريق المنسوب إلى صنيع النصارى – عليهم لعائن الله المتتابعة إلى يوم القيامة – وكان أكثر عمارتها من أموالهم ، وقويت الظنون أنها هي التي ينزل عليها [ المسيح ] عيسى ابن مريم ، عليه السلام

ان روایات سے عیسیٰ کے نزول  کی صفت اور مکان کا معلوم ہوا کہ وہ شام میں ہے  بلکہ دمشق میں ہے  سفید مینار کے پاس اور یہ ہو سکتا ہے نماز فجر کے وقت اور  عصر حاضر میں سن ٧٤١ ھ   میں جامع الاموی  کا مینار سفید کیا گیا     اس پتھر کو  لیا گیا جو فن صناعی میں استعمال ہوتا ہے    – اس سے مینار کو بنایا گیا جو  منسوب ہے کہ نصرانییوں کی  حرکت سے جلا ان پر اللہ کی متعدد لعنت ہو قیامت تک  اور اکثر تعمیر ان کے  ہی اموال  سے کی گئی  اور ان گمانوں کو تقویت ملی کہ عیسیٰ ابن مریم  علیہ السلام کا اس پر نزول ہو گا  

ابن کثیر کے اقوال سے معلوم ہوا کہ اصل مینار لکڑی کا تھا جو جل گیا لیکن بعد میں  یہ سمجھتے ہوئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس مسجد پر ہو گا اس کو سفید پتھر کا کیا گیا

راقم کہتا ہے عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس مقام پر ممکن نہیں جہاں انبیاء کی قبروں پر مسجد ہو

——————————–

[1] Constantine I  full name   Flavius Valerius Aurelius  Constantius Herculius Augustus (272 – 337 AD) age 65

[2] Flavia Iulia Helena c. 250 – c. 330

[3] Eusebius of Caesarea ( Greek: Εὐσέβιος, Eusébios; ad 260/265 – 339/340)

[4] Mithra Religion

[5] History of Church by Eusebius

[6] Trinity

[7]

عبد الملک بن مروان اور ولید بن عبد الملک کی جانب سے یہ یہ سب  عبد اللہ ابن زبیر رضی الله عنہ کی مخالفت میں کیا گیا تاکہ لوگ مکہ و مدینہ  کے سفر کی بجائے  دمشق میں ہی رہیں  اور اس کو بھی ایک مقدس مقام سمجھیں –  اس پر بحث مولف کی کتاب روایات المہدی تاریخ اور جرح و تعدیل کے میزان میں کی گئی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

sixteen − 13 =