بیت المقدس کی ایک حدیث

قصہ مختصر
حدیث رسول ہے کہ میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا اس کو زوال نہ ہو گا حتی کہ اللہ کا امر آئے
اس حدیث میں لاحقے لگائے گئے – بعض راویوں نے اضافہ کیا کہ اہل شام و اہل بیت المقدس غالب رہیں گے – آج کل کے فلسطین کے  سیاسی حالات میں اس موضوع اضافہ کا ذکر پھر شروع ہو چلا ہے – قابل غور ہے کہ شام و ارض مقدس  پر صلیبی نصرانی، یہودی ، نصیری ادیان  کو اللہ نے غالب کیا اور مسلمانوں کو آزمائش میں ڈالا ان کو ملغوب کیا – اس طرح ہم کو بتایا گیا کہ یہ حدیث صحیح تھی لیکن اس حدیث کا تعلق شروع کے صرف بارہ خلفاء سے تھا اور امر اللہ یعنی اللہ  کے حکم سے مراد  مسلمانوں کے زوال کا حکم تھا

مسند احمد  میں عبد اللہ بن احمد  کا اضافہ ہے ح ٢٢٣٢٠  میں ہے

 قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ: حَدَّثَنِي مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنِ السَّيْبَانِيِّ (4) وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:    لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الدِّينِ ظَاهِرِينَ لَعَدُوِّهِمْ قَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ إِلَّا مَا أَصَابَهُمْ مِنْ لَأْوَاءَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ كَذَلِكَ   . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَأَيْنَ هُمْ؟ قَالَ:    بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَكْنَافِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ

أَبِي أُمَامَةَ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نے فرمایا  میری امت میں ایک گروہ رہے گا جو اپنے دشمنوں پر غالب رہے گا ، ان پر غالب رہے گا ، اس کو مخالف  نقصان نہ دے سکیں گے سوائے اس کے کہ جو ان کو غم ملے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ اسی صورت حال میں رہیں گے  – ہم نے کہا   یا رسول  اللہ یہ کہاں

ہیں ؟  فرمایا بیت المقدس میں اور اس کے مضافات میںسند میں   عمرو بن عبد الله السَّيْباني الحضرمي  مجہول ہے

مجمع الزوائد  میں ہیثمی  نے کہا

وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ

اس کے رجال  ثقات ہیں

اس کی وجہ یہ ہے کہ عجلی اور ابن حبان نے مجہول کو بھی ثقہ قرار دیا ہے  – اس طرح اس روایت کو قبول کرنے والے  کی بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ یہ روایت صحیح ہے  جبکہ یہ متن صحیح نہیں

 قال الذهبي في   الميزان  : ما علمت روى عنه سوى يحيى بن أبي عمرو.

وقال في   الديوان  : مجهول.

وقال في   المغني  : لا يعرف.

قال الذهبي في   ديوان الضعفاء   (رقم: 3188)   تابعيٌّ مجهولٌ

بعض کتاب میں اس قسم کا متن  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی منسوب ہے –  أبو يعلى والطبراني في الأوسط  میں  أبي هريرة رضي الله عنه سے منسوب ہے

حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ دِمَشْقَ، وَمَا حَوْلَهُ وَعَلَى أَبْوَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَا حَوْلَهُ، لَا يَضُرُّهُمْ خُذْلَانُ مَنْ خَذَلَهُمْ ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ»

طبرانی نے لکھا ہے

 لم يروه عن عامر الأحول إلا الوليد بن عباد، تفرد به إسماعيل بن عياش. وقال ابن عدي: وهذا الحديث بهذا اللفظ ليس يرويه غير ابن عياش عن الوليد بن عباد

سند میں الوليد بن عباد  مجہول ہے –  الهيثمي نے اس کو  رجاله ثقات   المجمع 10/ 60 – 61 بول دیا ہے جبکہ اسی کتاب میں دوسرے مقام پر  ایک دوسری حدیث پر کہا  وفيه الوليد بن عباد وهو مجهول   المجمع 7/ 288 یہ مجہول ہے  -اسی طرح يعقوب بن سفيان کی کتاب   المعرفة   (2/ 298) میں طرق  ہے

عن محمد بن عبد العزيز الرَّمْلي ثنا عباد بن عباد أبو عتبة عن أبي زرعة عن أبي وعلة -شيخ من عك– قال: قدم علينا كريب من مصر يريد معاوية، فزرناه، فقال: ما أدري عدد ما حدثني مُرّة البهزي في خلاء وفي جماعة أنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول:   لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين على من ناوأهم، وهم كالإناء بين الأكلة حتى يأتي أمر الله عز وجل وهم كذلك

فقلنا: يا رسول الله، من هم؟ وأين هم؟ قال:   بأكناف بيت المقدس

طبرانی اور تاریخ دمشق از ابن عساکر میں ہے

أنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن ريذة (4) أنا أبو القاسم سليمان بن أحمد الطبراني نا حصين بن وهب الأرسوفي نا زكريا بن نافع الأرسوفي نا عباد بن عباد الرملي عن أبي زرعة السيباني عن أبي زرعة الوعلاني عن كريب السحولي حدثني مرة البهزي أنه سمع رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين على من ناوأهم وهم كالأناس (5) الآكلة حتى يأتي أمر الله وهم كذلك قلنا يا رسول الله وأين هم قال بأكناف بيت المقدس

اس طرق میں  یہ متن  أبو وعلة یا  أبي زرعة الوعلاني کی سند سے ہے – یہ بھی مجہول ہے

اس طرح یہ تمام طرق  ضعیف ہیں  البتہ فلسطین کے   عرب ان کو پیش کر کے دعوی کرتے ہیں کہ اس سے مراد کوئی علمی گروہ نہیں بلکہ محض  بیت المقدس میں رہنے والے  عرب ہیں جو کسی بھی فرقے کے ہو سکتے ہیں

یہ روایت ضعیف  و شامی  مجہولین کی روایت کردہ ہیں

===================
مزید تفصیل کے لئے کتاب بلا عنوان دیکھیں

78 Downloads

2 thoughts on “بیت المقدس کی ایک حدیث”

  1. کیا یہود کو اسرائیل کہنا غلط ہوگا کہتے ہیں کہ اسرائیل یعقوب علیہ السلام کا نام یالقب ہے اس لیے یہود کو اسرائیل نہ کہا جائے؟
    اس وڈیو کے آخر میں کہا ہے توصیف الرحمن نے۔

    https://youtu.be/d0jLBTZFJmM

    1. Islamic-Belief says:

      یہود کو اسرائیل نہیں بنی اسرائیل کہا جاتا ہے قرآن میں یہی آیا ہے
      ——
      مملکت یہود نے اپنا نام اسرائیل ، یعقوب علیہ السلام کی یاد میں رکھا ہے
      کسی ملک کو اسی نام سے پکارا جائے گا جو اس نے اپنے لئے بیان کیا
      نام رکھ لینے سے کوئی عبد اللہ ہی نہیں ہو جاتا
      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشرک باپ کا نام عبد اللہ تھا کہ نہیں
      غور کریں

      اسرائیل امت مسلمہ کو چاہیے کہ پہلے اپنے بچوں کا نام رکھیں تاکہ اس فکر کو ختم کیا جائے کہ اسرائیل کوئی خراب نام ہے
      پہلے رجحان کو ختم کیا جاتا ہے

      یہود کیا ہے ؟ یہودا اصل میں ایک بنی اسرائیلی قبیلہ تھا جو ١٢ میں سے ایک تھا – جب بابل کے بعد فارس حاکم ہوئے تو بچے کچھے بنی اسرائیلی اپنے آپ کو حاکم قبیلہ سے بتاتے تھے – اس طرح تمام بنی اسرائیلی اپنے آپ کو یہودی کہنے لگے
      اللہ تعالی نے کو یہودی کہا ہے
      قالت الیھود
      اس طرح جو نام انہوں نے اپنے لئے رکھا اسی کو بیان کیا جبکہ یہود میں ان کے باقی قبائل کے بھی لوگ تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

eight + twenty =