یہودن کے زہر سے وفات النبی ہوئی ؟

جنگ خیبر    ( سن  سات ہجری )کے بعد  نبی صلی اللہ علیہ  وسلم نے   اس علاقے میں چند ایام   قیام کیا –    روایات   میں ہے کہ  ان دنوں   یہودن    زينب بنت الحارث،  جو   مِرْحب      کی بہن  تھی  اس نے    زہر میں بجھی ، بھنی  ہوئی  بکری   آپ  صلی اللہ علیہ  وسلم کو   تحفہ میں بھیجی    –  بمطابق   بعض روایات   آپ   صلی   اللہ علیہ وسلم    نے  لقمہ  منہ میں  رکھا  ہی   تھا کہ خبر  دی گئی کہ اس میں زہر ہے   اور بعد میں  اس زہر کے زیر اثر   تین ، چار سال بعد آپ  صلی اللہ علیہ  وسلم کی وفات ہوئی –  بعض   روایات  میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زہر تناول  کر لیا تھا   جبکہ    سیرت النبویہ از  ابن  حبان کے مطابق  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زہر نہیں کھایا  تھا بلکہ جب زہر کے مقام پر پہنچے تو ہڈی نے کہا مجھ پر زہر لگا ہے  فرمایا     إن هذا العظم يخبرني  أنه مسموم       اس ہڈی نے خبر دی ہے کہ یہ زہر آلودہ ہے-  بعض  میں ہے کہ  ساتھ ایک صحابی   بشر  رضی اللہ عنہ بھی کھا رہے تھے   جن کی  وفات ہوئی –  دوسری طرف      الإشارة إلى سيرة المصطفى وتاريخ من بعده من الخلفا از  مغلطاي  کے مطابق صحابی  بشر بن البراء بن معروررضی اللہ عنہ کی   اس کی وجہ سے  وفات نہیں ہوئی تھی  –   سنن  ابو داود میں ہے کہ  وأكل رهط من أصحابه  معه. اصحاب رسول کے ایک  گروہ نے  بھی  اس میں سے کھایا –   یہودن کا کیا ہوا  اس میں بھی  شدید اختلاف ہے –  جامع معمر میں ہے امام زہری کہتے ہیں   قال الزهري: فأسلمت، فتركها النبي    اس کو چھوڑ دیا گیا  اور وہ ایمان  لائی  – ابو سلمہ کی  روایت میں ہے اس کو قتل کیاگیا  اور بعض میں ہے صلیب دی گئی–    صحیح   بخاری  میں یہ قصہ   انس  بن مالک کی  سندسے ہے اس  میں ہے کہ   یہودن کو  چھوڑ  دیا گیا     –   قاضی عیاض نے اس طرح تطبیق دی کہ یہ ایمان لائی  لیکن بعد میں قصاص میں قتل ہوئی-  الغرض    اس واقعہ کے حوالے سے قصوں  میں   بہت اضطراب  پایا جاتا ہے

 صحیح  بخاری  کے بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ  میں  ایک   معلق    قول   لکھا ہے

وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ»

امام  بخاری  نے سند کے بغیر   یونس  سے روایت کیا کہ زہری سے  روایت کیا   انہوں نے عروہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا  سے کہ  وہ مرض   جس میں نبی صلی اللہ علیہ  وسلم کی وفات ہوئی  اس میں وہ   فرمایا   کرتے تھے کہ اے عائشہ       وہ  کھانا جو خیبر   میں کھایا  تھا  اس   کی تکلیف   ختم  نہیں ہوئی  ،    اس وقت لگ  رہا ہے کہ میری   شہ رگ  کٹ   جائے گی

راقم   کہتا ہے  یہ سند   منقطع ہے  اور یونس   الأَيلي سے امام بخاری تک سند نہیں ہے –      البانی  نے بھی اقرار   کیا ہے کہ سند   معلق   ہے    کہا    هذا معلق عند المصنف  مصنف  یعنی امام بخاری کے نزدیک یہ معلق ہے

اصل  سند مستدرک  حاکم کی ہے

أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْأَشْقَرُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ، إِنِّي أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُهُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فَقَالَ: وَقَالَ يُونُسُ

اس  روایت کا مدار   عنبسة بن خالد   پر  ہے – التنکیل  میں معلمی کہتے ہیں کہ

التنكيل” رقم (176): قال ابن أبي حاتم: “سألت أبي عن عنبسة بن خالد فقال: كان علي خراج مصر وكان يعلق النساء بثديهن  وقال ابن القطان: كفى بهذا في تجريحه. وكان أحمد يقول: ما لنا ولعنبسة .. هل روى عنه غير أحمد بن صالح؟. وقال يحيى بن بكير: إنما يحدث عن عنبسة مجنون أحمق، لم يكن بموضع للكتابة عنه”.

ابن ابی حاتم نے کہا میں نے باپ سے عنسبہ  کا پوچھا  کہا یہ مصر  کے خراج پر تھا اور عورتوں کے پستان پر لٹکا  رہتا تھا – ابن قطان نے کہا  یہ جرح کے لئے کافی ہے اور احمد کہتے نہ عنبسة  ہمارے لئے ہے نہ تمہارے لئے .. پوچھا کہ کیا  احمد بن صالح اس سے روایت کرتے ہیں ؟ کہا ابن بکیر کہتے ہیں  احمد بن صالح نے عنبسة  احمق سے روایت  کیا ہے

راقم  کہتا ہے کہ مستدرک   حاکم میں ایسا ہی ہے   احمد بن صالح  نے عنسبہ   احمق سے روایت کیا ہوا ہے –

مسند احمد میں یہ قول  امام زہری  نے   ام مبشر  رضی اللہ عنہا کا بھی کہا ہے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ  ، عَنْ  مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ أُمَّ مُبَشِّرٍ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَتَّهِمُ بِنَفْسِكَ؟ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُ إِلَّا الطَّعَامَ الَّذِي أَكَلَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ، وَكَانَ ابْنُهَا مَاتَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” وَأَنَا لَا أَتَّهِمُ غَيْرَهُ، هَذَا أَوَانُ قَطْعِ أَبْهَرِي

اس کی سند میں علت ہے کہ   عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّهِ،  سند میں ہے اور  ان کی والدہ   مجہول ہیں

سنن ابو داود ٤٥١٣ میں ہے

حدَّثنا مخلدُ بنُ خالدٍ، حدَّثنا عبدُ الرزاق، حدَّثنا معمر، عن الزهريِّ، عن ابنِ كعبِ بنِ مالكٍ عن أبيهِ: أن أم مُبشِّر قالت للنبى -صلَّى الله عليه وسلم- في مرضه الذي ماتَ فيه: ما تتَّهم بكَ يا رسولَ الله؟ فإني لا أتَّهِمُ بابني شيئاً إلا الشاة المسمومةَ التي أكلَ معكَ بخيبَر، فقال النبيُّ -صلَّى الله عليه وسلم-: “وأنا لا أتَّهِمُ بنفسي إلا ذلك، فهذا أوانُ قطعِ أبهرِي

یہاں سند میں عبد الرحمان بن  کعب نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ  ام مبشر نے کہا

ابو داود نے اس پر لکھا ہے

قال أبو داود: ورُبَّما، حدَّث عبدُ الرزاق بهذا الحديثِ مُرسلاً، عن معمرٍ، عن الزُّهريِّ، عن النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلم-. وربما حدَّثَ به عن الزهريِّ، عن عبدِ الرحمن بنِ كعب بنِ مالكٍ. وذكر عبدُ الرزاق: أن معمراً كانَ يُحدِّثهم بالحديثِ مرةً مرسلاً، فيكتبونه، ويحدَّثهم مرةً به فَيُسنِدُه، فيكتبونه، وكل صحيح عندنا. قال عبد الرزاق: فلما قَدِمَ ابنُ المبارك على معمرٍ أسندَ له معمرٌ أحاديثَ كان يوقفها.

عبد الرزاق نے اس حدیث کو مرسل بھی بیان کیا ہے امام زہری نے براہ راست نبی سے روایت کیا ہے اور بعض اوقات زہری نے اس کو عبد الرحمان بن کعب سے روایت کیا ہے اور عبد الرزاق نے ذکر کیا کہ معمر نے اس کو ایک بار مرسل روایت کیا جو لکھا اور ایک بار اس کو مسند روایت کیا اس کو بھی لکھا اور یہ دونوں صحیح ہیں ہمارے نزدیک – عبد الرزاق نے کہا  جب ابن مبارک  ، معمر کے پاس پہنچے تو اس کو معمر کی سند سے روایت کرتے

پھر   سنن ابو داود   میں  سند ٤٥١٤ میں ہے

حدَّثنا أحمدُ بن حنبل، حدَّثنا إبراهيمُ بنُ خالدٍ، حدَّثنا رَباحٌ، عن معمرٍ، عن الزهري، عن عبدِ الرحمن بنِ عبدِ اللهِ بنِ كعبِ بنِ مالكٍ   عن أُمِّه أمِّ مُبشِّر: دخلتُ على النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلم-، فذكَرَ معنى حَدِيثِ مخلد بنِ خالدٍ. قال أبو سعيد ابن الأعرابي: كذا قال: عن أمه، والصواب: عن أبيه، عن أم مُبشر

زہری  نے عبد الرحمان بن عبد اللہ بن کعب سے انہوں نے والدہ سے روایت کیا  -یعنی زہری نے اس کو دو الگ الگ لوگوں سے روایت کیا ہے ایک عبد الرحمن بن كعب سے اور دوسرے انہی کے بھتیجے  عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب سے

 راقم  کہتا ہے کہ اصلا  یہ سب اضطراب ہے  جو  امام زہری  کی وجہ سے بعض اوقات وہ اس کو ام مبشر   کا کلام کہتے ہیں  بعض اوقات ام المومنین  عائشہ    کا  اور  پھر     سند کو بھی  بار بار بدلتے ہیں   کبھی   اس کو   کعب  بن مالک   کی سند  سے لاتے ہیں تو کبھی  عروہ کی سند سے –     اسناد  میں یہ اضطراب   اس متن کو مشکوک کرتا ہے     یہی  وجہ ہے کہ  صحیحین   میں یہ  مسند  روایت نہیں ہوا ہے  –  قابل غور ہے کہ     امہات المومنین  ام سلمہ ،  ام المومنین  صفیہ ،   ام المومنین سودہ ، ام المومنین   زینب  ،  ام المومنین  حفصہ  رضی اللہ عنہما   سے یہ متن  نہیں آیا

مسند الدارمی   اور  سنن ابو داود  ٤٥١٢  میں ہے

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ، [ص:208] عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ، فَأَهْدَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ يَهُودِ خَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً فَتَنَاوَلَ مِنْهَا، وَتَنَاوَلَ مِنْهَا بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ، ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ تُخْبِرُنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ»، فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ؟» فَقَالَتْ: إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ شَيْءٌ، وَإِنْ كُنْتَ مَلِكًا، أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ، فَقَالَ فِي مَرَضِهِ: «مَا زِلْتُ مِنَ الْأُكْلَةِ الَّتِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ أَبْهَرِي»

ابو سلمہ     کہتے ہیں کہ   رسول  اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم   ہدیہ میں سے کھاتے   تھے  لیکن  صدقه میں سے نہیں کھاتے تھے – پس ان کو خیبر کی ایک یہودن نے   تحفہ  بھیجا   ایک   بھنی  ہوئی   بکری   کا  جس میں سے آپ  علیہ السلام نے کھایا  اور   اس  میں سے  بشر   بن البراء   نے بھی تناول   کیا –  پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم     نے ہاتھ اٹھا لیا   اور فرمایا مجھ کو   خبر  دی گئی ہے کہ یہ  زہر میں بجھا    ہوا ہے   پس  بشر   کی  موت  واقع   ہوئی  ،  نبی   صلی اللہ علیہ  وسلم نے اس یہودن   کو    پکڑنے  لوگ بھیجے  اور پوچھا  ایسا کیوں کیا ؟  بولی    اگر تم   نبی  ہو تو   تم کو کوئی نقصان نہ ہو گا   اور اگر   بادشاہ ہو  تو لوگ   آسانی  پائیں گے  – پس  آپ   مرض  وفات میں فرمایا کرتے کہ    خیبر  میں جو کھایا  تھا   اس کا اثر باقی ہے  کہ میری  شہ رگ کٹی  جا رہی ہے

 راقم  کہتا ہے   محمد بن عمرو بن علقمة بن وقاص الليثي نے  اس کو تابعی  أبي سلمة بن عبد الرحمن  سے روایت کیا ہے   اور  اس قصہ کا مصدر  معلوم نہیں ہے –  قابل غور ہے کہ یہودن  کا قول تھا کہ زہر سے غیر نبی  کی وفات ہو جائے گی   اور   مسلمانوں  نے غیر  ارادی طور   پر ایک   ضعیف و منکر  قول قبول  کر لیا کہ   زہر   کی وجہ سے وفات النبی  ہوئی

طبقات ابن سعد میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ. أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قُتِلَ قَتْلا أحب إلي أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً وَذَلِكَ بِأَنَ اللَّهَ اتَّخَذَهُ نَبِيًّا وَجَعَلَهُ شَهِيدًا.

ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر نو گواہی دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہوئے تو مجھ کو یہ پسند ہے کہ ایک حلف لے کہ  اللہ نے ان کو نبی بنایا اور شہید بنایا

یہاں شہید  کا مطلب ہے گواہ بنایا  جس طرح قرآن سورہ النساء  میں ہے

فَكَـيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰٓؤُلَآءِ شَهِيْدًا (41)

پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے گواہ بلائیں گے اور تمہیں ان پر گواہ کر کے لائیں گے۔

یہاں شَهِيْدًا کا لفظ ہے یعنی گواہ بنا کر  لائیں گے

سورہ حاقه میں ہے

اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے

 تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے

پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

زہر کا اثر یہی بتایا جا رہا ہے کہ اس سے رگ گردن  کٹی  جا رہی تھی  لہذا اس قسم کی روایات کس طرح صحیح سمجھی جائیں

صحيح الجامع میں البانی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے

ما زالت أَكْلَةُ خَيْبَرِ تعاودني في كل عام، حتى كان هذا أوان قطع أَبْهُرِي

 جو خیبر میں کھایا تھا اس کا اثر ختم نہیں ہوا ، ہر سال اس کا اثر آتا ہے یہاں تک کہ لگتا ہے کہ شہ رگ کٹی جا رہی ہے

راقم کہتا ہے طب النبوی از ابو نعیم میں اسکی سند ہے

 أخبرنا أبو بكر فيما كتب إلي، حَدَّثَنا أحمد بن عمير بن يوسف، حَدَّثَنا إبراهيم بن سعيد، حَدَّثَنا سعيد بن محمد الوراق، حَدَّثَنا محمد بن عَمْرو، [ص:218] عَن أَبِي سلمة، عَن أَبِي هُرَيرة، قال: قال رسول الله صَلَّى الله عَليْهِ وَسلَّم: ما زالت أكلة خيبر تعاودني في كل عام حتى كان هذا أوان قطع أبهري.

 اس کی سند ضعیف ہے  سند میں سعيد بن محمد الوراق ہے  جس پر محدثین کی جرح ہے

حَدَّثَنا الجنيدي، حَدَّثَنا البُخارِيّ قال ابْن مَعِين سَعِيد بْن مُحَمد الوراق ليس بشَيْءٍ هو الثقفي الكوفي

مسند البزار میں بھی یہی سند ہے

حَدَّثنا إبراهيم بن سَعِيد الجوهري، قَال: حَدَّثنا سَعِيد بن مُحَمد الوراق، قَال: حَدَّثنا مُحَمد بن عَمْرو، عَن أبي سَلَمَة، عَن أبي هُرَيرة، قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم: ما زالت أكلة خيبر تعادني حتى هذا أوان قطعت أبهري.

وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ مُحَمد، عَن أبي سَلَمَة، عَن أبي هُرَيرة إلاَّ سَعِيد بن مُحَمد ولم يسمعه إلاَّ من إبراهيم بن سَعِيد وسعيد بن مُحَمد ليس بالقوي وحدث عَنْهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَاحْتَمَلُوا حَدِيثَهُ، وَكان من أهل الكوفة.

اور امام البزار نے ذکر بھی کیا ہے کہ راوی سعيد بن محمد الوراق قوی نہیں ہے

یہود انبیاء کو قتل کرتے رہے ہیں اور  لوگوں  نے اسی خبر  سے یہ استخراج کیا کہ یہود  کے دیے گئے زہر کے زیر اثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ہوئی – اس سے دو مقصد حاصل ہوئے ایک یہ کہ یہود پر قتل نبی کا الزام لگ سکے دوم نبی کو شہید  قرار دیا جا سکے  – حالانکہ دونوں غیر حقیقی ہیں – نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ شہید سے بہت بہت بلند ہے اور کسی قدرتی مرض میں وفات سے  ان کی شان اقدس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی -دوم نبی پر کسی بھی زہر کا اثر نا ممکن ہے کیونکہ ان کے منہ میں لعاب دھن خود شفاء پیدا کرتا تھا

صحیح بخاری کی ایک حدیث میں خاص واقعہ نقل ہوا    ہے کہ ایک سفر میں   اصحاب رسول  کا ایک مشرک بستی   پر سے گذر ہوا – انہوں نے وہاں پڑاو  کیا  اور مشرکوں سے حق ضیافت طلب  کیا   – مشرکوں نے    یہ دینے سے انکار کیا حتی کہ ان کے سردار کو بچھو  نے ڈس  لیا –  مشرک     دم    کرنے والے کی تلاش میں مسلمانوں  کے پاس پہنچے  اور ایک صحابی نے      حکمت کے تحت   اس  سردار کو   اپنے تھوک  اور سورہ  فاتحہ سے دم کیا اور زہر کا اثر ختم ہو گیا –    یعنی یہ  ایک      مخصوص  واقعہ   تھا   –  اس  واقعہ کی بنیاد  پر سورہ  فاتحہ کو   زہر   کا دم سمجھا جاتا ہے –  قابل غور ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  جن پر مسلسل  قرآن نازل ہوتا رہا اور وہ صبح و  شام و رات  سورہ  فاتحہ کی تلاوت  کرتے رہے تو یہ   یہودن   کے زہر  کا اثر   کیسے   باقی رہا گیا ؟

راقم  سمجھتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  زہر آلودہ  مقام  سے کچھ  بھی نہیں کھایا تھا  اور وہ مسلسل     اللہ کی پناہ میں تھے   خود   قرآن میں ہے   و  اللہ  یعصمک   من  الناس   (سورہ المائدہ )   اللہ تم کو   لوگوں سے بچائے  گا –   جوابا   بعض     کہتے ہیں کہ سورہ مائدہ تو    جنگ خیبر   کے بعد   نازل ہوئی ہے   ، لیکن  وہ غور نہیں  کرتے کہ  اگر کوئی  زہر رہ  گیا تھا تو وہ  اس آیت کے نزول کے بعد بھی    جسم اطہر  میں رہ گیا ؟           تبلیغ  میں انبیاء   مشقت   برداشت  کرتے رہے ہیں ،   نبی  صلی اللہ علیہ  وسلم کو  بھی    تکلیف  دی گئی  ،    جنگ  احد    میں   چہرہ مبارک    پر چند    زخم   آئے  تھے   جو خراش   نما   تھے –   لیکن ایسا نہیں ہوا کہ  جسم اطہر    کو نقصان پہنچا   ہو   یہاں تک کہ   زہر       آپ  صلی اللہ علیہ  وسلم کو    محسوس  ہوتا رہا ہو –  لہذا    راقم  سمجھتا ہے کہ ایام    خیبر  میں     زہر  تناول   کرنے والی   روایات    صحیح متن سے نہیں ہیں  اور  زہر  کا اثر   بیان کرنے والی روایات  شاذ  و   منکر ہیں

8 thoughts on “یہودن کے زہر سے وفات النبی ہوئی ؟”

  1. آپ کی بات ١٠٠ فیصد درست ہے کہ زہر والی روایت ٹھیک نہیں ہے. اور الله نے اور بھی مقامات پر آپ کو محفوظ رکھنے اور دشمنوں کے شر سے بچانے کی بات کی ہے.
    بہت سے غیر مسلم نبی کریم کے غلط ہونے کی دلیل میں اس روایت کو قرآن کی آیت اور ایک دوسری روایت سے ملا کر ثابت کرتے ہیں کہ قرآن خود نبی کے غلط ہونے کی دلیل دے رہا ہے.
    https://www.youtube.com/watch?v=QKkmmju-Inc
    اور
    https://www.youtube.com/watch?v=6st_tFj6ouM
    مزید یہ کہ سوره مائدہ کی تفصیلی پوسٹ آپ کو دی تھی اور آپ نے پڑھنے کی یقین دہانی کرائی تھی.

    1. Islamic-Belief says:

      اس کو مصروفیت کی وجہ سے ابھی نہیں دیکھ سکا
      انشاء اللہ دیکھنا ہے ذہن میں ہے

  2. Ilias Aktar says:

    ماشاءاللہ بہت خوب عیسائی عالم ان احادیث کی بنا پر بہت اعتراض کیا کرتے تھے ۔ الحمد اللہ آج اسکا جواب بھی مل گیا ۔ حضرت میں نے آپسے ایک عیسائی عالم کی کتاب کے سلسلے میں بتا یا تھا جسکے بارے میں آپنے کہا کہ اسمیں قرأتوں کا اختلاف دیکھا یا گیا ہے یہ بات صحیح تو ہے ہی لیکن اسمیں یہ بھی دکھلا یا گیا ہے قرآن کے قدیم نسخے مثلاً مخطوطاء صنعاء اور حالیہ قرآن میں کمی زیادتی و تحریفات موجود ہے اسی طرح اور بھی قدیم نسخے اور حالیہ قرآن کریم میں بہت تحریفات موجود ہے حضرت اس کا جواب ضرور دیں

    1. Islamic-Belief says:

      قرآن کے قدیم نسخے مثلاً مخطوطاء صنعاء اور حالیہ قرآن میں کمی زیادتی و تحریفات موجود ہے اسی طرح اور بھی قدیم نسخے اور حالیہ قرآن کریم میں بہت تحریفات موجود ہے حضرت اس کا جواب ضرور دیں

      ——–
      جواب

      اصل میں نسخے میں وہ بھی لیا گیا ہے جو
      discarded manuscript
      ہے یعنی اس کو اسٹور میں رکھ چھوڑا تھا لیکن مستشرقین بحث میں ان کو بھی شامل کر دیتے ہیں
      کتابت میں غلطی ہو جانے کے بعد قرآن کو گلی میں نہیں پھیکنا جاتا تھا کیونکہ یہ مقدس ہے اگر غلطی بھی ہو تو رکھا جاتا تھا –
      – صنعاء کا نسخہ سب سے قدیم ہے اس کے بعض سے اوراق اسی نوعیت کے ہیں
      صنعاء کا نسخہ اصل میں
      discarded manuscript
      تھا جو مسجد کے تہہ خانہ میں اسٹور میں رکھا ہوا تھا
      سن ١٩٧٢ میں یہ مسجد کی توسیع میں مسلمانوں کو ملا اور پھر یمنی یونیورسٹی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ قرن اول کا ہے
      پھر چونکہ آجکل ہر چیز پر تحقیق ہوتی ہے اس نسخہ پر بھی ہوئی
      مستشرقین کو جب اس کا پتا چلا انہوں نے بھی اس کا فوٹو حاصل کیا – تحقیق کی اور نتجہ مثبت نکلا کہ متن قرآن میں تحریف نہیں ہے
      لیکن بعض کفار عنید مسلسل منہ کی کھانے کے باوجود اپنی بکواس پھیلا رہے ہیں کہ گویا یہ نسخہ ان کی دریافت ہوں یا آج تک کسی نے ان کے سوا اس کو دیکھا نہ ہو یا نہ ان ہی کی کسی مغربی یونیورسٹی نے اس پر تحقیق کی ہو
      لہذا ان نصرانیوں کو گھانس ڈالنے کی ضرورت نہیں جن کو نسخوں کی تواریخ و دریافت تک کا علم نہیں لیکن کتاب لکھ دیتے ہیں
      اس قسم کے بہت سے جاہل ہیں

      ———-

      بحث اس پر ہونی چاہیے کہ کیا متن قرآن اس قدر بدل جاتا ہے کہ
      نمبروں میں فرق ہو مثلا دس کی بجائے ٢٠ لکھا ہو
      یا کفار کو یا نصرانی پر کلام بدلا گیا ہو
      اس فرق کو تحریف کہتے ہیں
      الحمد للہ نقطوں کے فرق اعراب کے فرق سے قرآن کی قراتوں میں اس قسم کی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی
      آپ نے جو کتاب بھیجی ہے اس کو دیکھیں ان کو صرف یہ ملا ہے کہ اعراب وہ نہیں جو عاصم بن ابی النجود کی قرات میں نہیں
      یا کسی اور قرات میں نہیں ہے

      ———–
      مسلمانوں کا یہ دعوی کب ہے کہ ایک قرات کے علاوہ دوسری قرات ممنوع ہے
      بلکہ ان قراتوں پر امت جمع ہو چکی ہے کہ مختلف سندوں سے قراتوں کے اماموں سے جا ملتی ہیں
      لہذا ہم ان سب قراتوں کو قبول کرتے ہیں
      ————–

      الگ الگ شہروں میں اگر کسی ایک ادھ مقام پر کاتب کی تحریر میں غلطی ہوئی ہو اور کوئی ان سب “مقدس ردی ” کو ملا کر یہ دعوی کرے کہ قرآن قرآن میں فرق ہے تو یہ محض حماقت ہے
      اور یہی سب اس کتاب میں کیا گیا ہے جس کا لنک آپ نے بھیجا ہے

      ===============

      نوٹ
      مقدس اوراق میں کتابت کی غلطی کے بعد یہودی بھی “مقدس ردی ” کو جمع کر کے رکھتے تھے – اس کی بھی مثالیں موجود ہیں

      1. Haider Ali says:

        جو روایت حضرت انس سے مروی ہے اس کے تو تمام راوی ثقہ ہیں

        (1649)Chapter: If A Person Gives A Man Poison To Drink Or Eat, And He Dies, Is He Subject To Retaliation ?(6)باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ
        انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری لے کر آئی ، آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا ، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، آپ نے اس سلسلے میں اس سے پوچھا ، تو اس نے کہا : میرا ارادہ آپ کو مار ڈالنے کا تھا ، آپ نے فرمایا : ” اللہ تجھے کبھی مجھ پر مسلط نہیں کرے گا “ صحابہ نے عرض کیا : کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں ، آپ نے فرمایا : ” نہیں “ چنانچہ میں اس کا اثر برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھوں میں دیکھا کرتا تھا ۔
        حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ امْرَأَةً، يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ أَرَدْتُ لأَقْتُلَكَ ‏.‏ فَقَالَ ‏”‏ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَلِكَ ‏”‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏”‏ عَلَىَّ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالُوا أَلاَ نَقْتُلُهَا قَالَ ‏”‏ لاَ ‏”‏ ‏.‏ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
        Grade : Sahih (Al-Albani) صحيح (الألباني) حكم :
        Reference : Sunan Abi Dawud 4508
        In-book reference : Book 41, Hadith 15
        English translation : Book 40, Hadith 4493
        Report Error | Share

        1. Islamic-Belief says:

          اس روایت کا ترجمہ آخر میں ٹھیک نہیں کیا گیا

          میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
          epiglottis
          پر اس (کا اثر ) پہچان جاتا تھا

          لَهَواتِ یہ لَهَاة کی جمع ہے
          https://www.almaany.com/en/dict/ar-en/%D9%84%D9%87%D8%A7%D8%A9/

          یہاں تک نظر کا جانا ممکن نہیں ہے – زہر کے اثر سے روایت میں کہا جا رہا ہے کہ حلق کے اندر تک کا حصہ متاثر ہو گیا تھا – بعض نے لکھا ہے یہ
          وهي اللحمة الحمراء المعلقة في أصل الحنك
          ہے جس کو ہم حلق کا کوا کہتے ہیں

          زہر سے جھلس گیا تھا ؟ کیسا متاثر تھا ؟ کچھ واضح نہیں ہے
          حلق کا کوا متاثر ہو تو بولنے میں دقت ہوتی جو ظاہر ہے نہیں تھی
          لہذا واپس یہ حلق سے نیچے کا مقام بنتا ہے جس کا اوپر ذکر کیا اور وہاں تک نگاہ نہیں جا سکتی
          ————-

          ثقہ بھی غلطی کر سکتا ہے – انس کو یہ اثر نظر آتا تھا باقی اصحاب رسول کو نظر نہیں اتا تھا ؟
          یہ تو جسم اطہر میں عیب آ جانا ہوا کہ زہر سے منہ اندر سے جھلس گیا تھا
          میرے نزدیک متن صحیح نہیں ہے

          1. Haider Ali says:

            JAZAK ALLAH Khair mery 2 aur sawal Hain, aik ye ke kiya Nabi saw ne Hazrat Ayesha se 6 sal ki umr Mai nikah kiya aur 9 saal ki umr Mai rukhsati hue aur Dusra sawal hai ke kiya hazrat Saad Bin Ubadah ne Hazrat Abu Bakr ki bayat ki thi aur kiya iska koe hawala De sakty Hain ap?

          2. Islamic-Belief says:

            عائشہ رضی اللہ عنہا سے چھ سال کی عمر میں نکاح کیا تھا اور رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی
            تفصیل اس کتاب میں ہے
            https://www.islamic-belief.net/%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%DB%8C%D9%86-%D8%B9%D8%A7%D8%A6%D8%B4%DB%81-%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%86%DB%81%D8%A7/
            ———-
            سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی اور مدینہ سے چلے گئے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

sixteen − seven =