مرض وفات النبی کا واقعہ

مرض وفات کا ایک مشھور واقعہ ہے (جو صرف اہل سنت کی کتب میں آیا ہے ) کہ صحیح بخاری کے مطابق جمعرات کے دن یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات سے چار دن پہلے، نبی صلی الله علیہ وسلم نے شدت مرض میں حکم دیا

قَالَ النَّبِى (صلى الله عليه وسلم) : (هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لا تَضِلُّوا بَعْدَهُ) ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِى عليه السلام قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ

جاؤ میں کچھ تمھارے لئے تحریرلکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو. پس عمر نے کہا کہ بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم پر بیماری کا غلبہ ہو رہا ہے اور تمہارےپاس قرآن ہے ،کتاب الله ہمارے لئے کافی ہے ، پس اہل بیت کا اس پر اختلاف ہو گیا

نبی صلی الله علیہ وسلم کے سامنے شور ہوا کہ جاو قلم و تختی لےآؤ بعض نے کہا نہیں اس پر آوازیں بلند ہوئیں اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے سب کو اٹھ جانے کا حکم دیا

صحیح مسلم ، دار إحياء التراث العربي – بيروت کی تعلیق میں محمد فؤاد عبد الباقي لکھتے ہیں

(فقال ائتوني أكتب لكم كتابا) اعلم أن النبي صلى الله عليه وسلم معصوم من الكذب ومن تغير شيء من الأحكام الشرعية في حال صحته وحال مرضه ومعصوم من ترك بيان ما أمر ببيانه وتبليغ ما أوجب الله عليه تبليغه وليس معصوما من الأمراض والأسقام العارضة للأجسام ونحوها مما لا نقص فيه لمنزلته ولا فساد لما تمهد من شريعته وقد سحر النبي صلى الله عليه وسلم حتى صار يخيل إليه أنه فعل الشيء ولم يكن فعله ولم يصدر منه صلى الله عليه وسلم في هذا الحال كلام في الأحكام مخالف لما سبق من الأحكام التي قررها فإذا علمت ما ذكرناه فقد اختلف العلماء في الكتاب الذي هم النبي صلى الله عليه وسلم به فقيل أراد أن ينص على الخلافة في إنسان معين لئلا يقع فيه نزاع وفتن وقيل أراد كتابا يبين فيه مهمات الأحكام ملخصة ليرتفع النزاع فيها ويحصل الاتفاق على المنصوص عليه وكان النبي صلى الله عليه وسلم هم بالكتاب حين ظهر له أنه مصلحة أو أوحي إليه بذلك ثم ظهر أن المصلحة تركه أو أوحي إليه بذلك ونسخ ذلك الأمر الأول وأما كلام عمر رضي الله عنه فقد اتفق العلماء المتكلمون في شرح الحديث على أنه من دلائل فقه عمر وفضائله ودقيق نظره لأنه خشي أن يكتب صلى الله عليه وسلم أمورا ربما عجزوا عنها واستحقوا العقوبة عليها لأنها منصوصة لا مجال للاجتهاد فيها فقال عمر حسبنا كتاب الله لقوله تعالى {ما فرطنا في الكتاب من شيء} وقوله {اليوم أكملت لكم دينكم} فعلم أن الله تعالى أكمل دينه فأمن الضلال على الأمة وأراد الترفيه على رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان عمر أفقه من ابن عباس وموافقيه.

پس (نبی صلی الله علیہ وسلم کا) یہ کہنا کہ کچھ تحریر لکھ دوں. جان لو کہ بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم معصوم من الکذب ہیں اور اس سے معصوم ہیں کہ شریعت کے احکام میں تبدیلی کریں حالت صحت اور مرض دونوں میں اور اس سے بھی معصوم ہیں کہ وہ تبلیغ جس کا کیا جانا واجب ہے اس کو نہ کیا ہو . لیکن وہ امراض و اسقام ، عارضہ اجسام اور اسی نو کی چیزوں سے معصوم نہیں جس سے نبی کے درجے اور منزلت میں کوئی تنقیص نہیں آتی اور نہ کوئی فساد شریعت ہوتا ہے اور بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم پر جادو ہوا حتی کہ انہیں خیال ہوا کہ انہوں نے کوئی کام کیا ہے لیکن نہیں کیا ہوتا تھا اور اس حال میں نبی سے کوئی ایسا حکم بھی نہیں صادر ہوا جو پہلے سے الگ ہو پس جو ہم نے کہا اگر تم نے جان لیا تو پس (سمجھو) علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ وہ کیا تحریر تھی جو نبی صلی الله علیہ وسلم لکھوانا چاہتے تھے. کہا جاتا ہے کہ کسی انسان کو خلافت پر مقرر کرنا چاہتے تھے تاکہ نزآع یا فتنہ رونما نہ ہو اور کہا جاتا ہے کہ تحریر لکھوانا چاہتے تھے جس میں اہم احکام کی وضاحت کریں جو نزآع بڑھا سکتے ہوں اور ان پر اتفاق حاصل کرنا چاہتے تھے … اور جہاں تک عمر رضی الله عنہ کے قول کا تعلق ہے تو اس پر متکلم علماء کا اتفاق ہے ،اس حدیث کی شرح میں کہ یہ عمر کی دقیق النظری اور فضیلت کی دلیل ہے کہ وہ ڈرے ہوئے تھے کہ کہیں نبی صلی الله علیہ وسلم ایسا حکم نہ لکھوا دیں جس کو کر نہ سکیں …

روایت کے الفاظ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَع ( بے شک ان پر بیماری کی شدت ہے) کی شرح کی جاتی ہے

شرح صحيح البخارى میں ابن بطال المتوفی ٤٤٩ ھ لکھتے ہیں

فقنع عمر بهذا، وأراد الترفيه عن النبى (صلى الله عليه وسلم) ، لاشتداد مرضه وغلبة الوجع عليه

پس عمر نے اس (کتاب الله) پر قناعت کی ان کا ارادہ نبی کو خوش کرنے کا تھا، کیونکہ نبی پر مرض کی شدت اور بیماری غالب آ رہی ہے

ایک دوسری روایت میں ہے فقالوا ما شأنه ؟ أهجر

پس صحابہ نے کہا ان کی کیا کیفیت ہے کیا انکو ھجر ہوا

أهجر کے شروحات میں مختلف مفہوم ہیں

ابن الملقن المتوفی ٨٠٤ ھ کتاب آلتوضيح لشرح الجامع الصحيح میں لکھتے ہیں

أهجر سلف بيانه، وهو سؤال ممن حضر في البيت، هل هو هذيان؟ يقال: هجر العليل: إذا هذى، ويحتمل أن يكون من قائله على وجه الإنكار، كأنه قال: أتظنونه هجر؟ وقيل: إن عمر قال: غلبه الوجع، فيجوز أن يكون قال للذي ارتفعت أصواتهم على جهة الزجر، كقول القائل: نزل فلان الوجع فلا تؤذوه بالصوت

أهجر … یہ سوال تھا انکا جو گھر میں اس وقت موجود تھے کیا یہ ہذیان ہے کہا هجر العليل (بیمار کو هجر) جب وہ ہذیان کہے اور احتمال ہے کہ کہنے والا اس کیفیت کا انکاری ہو جسے کہے کیا سمجھتے ہو کہ یہ ہذیان ہے ؟ اور کہا جاتا ہے عمر نے کہا ان پر بیماری کی شدت ہے پس جائز ہے کہ انہوں نے شور کرنے والوں کو ڈآٹنے کے لئے ایسا کہا ہو جیسے کوئی قائل کہے ان پر بیماری آئی ہے پس اپنی آوازوں سے ان کو اذیت نہ دو

القسطلاني (المتوفى: 923هـ) کتاب إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري میں لکھتے ہیں

وقال النووي: وإن صح بدون الهمزة فهو لما أصابه الحيرة والدهشة لعظيم ما شاهده من هذه الحالة الدالة على وفاته وعظم المصيبة أجرى الهجر مجرى شدة الوجع. قال الكرماني: فهو مجاز لأن الهذيان الذي للمريض مستلزم لشدة وجعه فأطلق الملزوم وأراد اللازم، وللمستملي والحموي: أهجر بهمزة الاستفهام الإنكاري أي أهذى إنكارًا على من قال: لا تكتبوا أي لا تجعلوه كأمر من هذى في كلامه أو على من ظنه بالنبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في ذلك الوقت لشدة المرض عليه.

اور النووی کہتے ہیں اور اگر یہ لفظ همزة (استفھامیہ) کے بغیر ہے (یعنی اس وقت کسی نے یہ سوال نہیں کیا بلکہ انہوں نے ایسا کہا ) تو پس جو انہوں نے یہ کیفیت دیکھی تو اس کو نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات جانا اور بڑی دہشت کے عالم میں ان سے یہ الفاظ ادا ہوئے کہ بیماری کی شدت ہے . کرمانی کہتے ہیں یہ مجاز ہے کیونکہ هذيان اس مریض کے لئے ہے جس پر بیماری کی شدت ہو

اس روایت کو شیعہ دلیل بناتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ، علی رضی الله تعالی عنہ کی امامت و خلافت کا حکم کرنے والے تھے جس کو بھانپتے ہوئے نعوذ باللہ عمر رضی الله تعالی عنہ نے یہ چال چلی اور کہنا شروع کر دیا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پر بیماری کی شدت ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم تو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے صلح حدیبیہ میں بھی محمد رسول الله کے الفاظ علی رضی الله تعالی عنہ سے پوچھ کر منہا کئے لہذا عمررضی الله تعالی عنہ اس کیفیت کو پہچان گئے نبی صلی الله علیہ وسلم کا فرمانا کہ میں لکھ دو اس بات کا غماز ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پر بیماری کی شدت تھی. اس کے بعد چار دن میں کسی بھی وقت اپ نے واپس ایسا حکم نہیں دیا

لہذا غالب رائے یہی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پر بیماری کی شدت تھی ورنہ اپ ایسا حکم نہیں دیتے

ھجر کی شرح امام احمد ، مسند احمد ج ٣ ص ٤٠٨ ح ١٩٣٥میں کرتے ہیں

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ [ص:409]: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟، ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ – وَقَالَ مَرَّةً: دُمُوعُهُ – الْحَصَى، قُلْنَا: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ: وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، فَقَالَ: «ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا، فَتَنَازَعُوا وَلا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ» فَقَالُوا: مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ – قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي هَذَى – اسْتَفْهِمُوهُ، فَذَهَبُوا يُعِيدُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ» ، وَأَمَرَ بِثَلاثٍ – وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَوْصَى بِثَلاثٍ – قَالَ: «أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» وَسَكَتَ سَعِيدٌ عَنِ الثَّالِثَةِ، فَلا أَدْرِي أَسَكَتَ عَنْهَا عَمْدًا – وَقَالَ مَرَّةً: أَوْ نَسِيَهَا – وقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ تَرَكَهَا، أَوْ نَسِيَهَا

امام احمد، سفیان ابْن عُيَيْنَة کے حوالے سے واقعہ قرطاس پر حدیث لکھتے ہیں .حدیث میں ھجر کے الفاظ کی تشریح کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس کی شرح سفیان ابْن عُيَيْنَة کے لفظ هَذَى یعنی ہذیان سے کرتے ہیں

شاید یہ سب سے قدیم شرح ہے جو حدیث ہی کی کتاب میں ملتی ہے نہ کہ ان پر لکھی جانے والی شروحات میں

آخر امام احمد نے ایسا کیوں کیا وہ چاہتے تو سفیان ابْن عُيَيْنَة کے الفاظ نقل نہ کرتے اور ان کو چھپاتے

سفیان ابْن عُيَيْنَة کے الفاظ نقل کرنے کا مطلب ہے احمد کی بھی یہی رائے ہے

غور کریں نبی صلی الله علیہ وسلم کیا کہہ رہے ہیں اکتب لکم کتابا کہ میں لکھ دوں ایک تحریر جبکہ اپ صلی الله علیہ وسلم لکھنا پڑھنا نہیں جانتے. نبی صلی الله علیہ وسلم کو جب کچھ لکھوانا ہوتا تھا تو اپ حکم کرتے جیسے اپ نے ایک صحابی کی درخواست پر، حج کے موقعہ پر فرمایا اکتبو لابی شاہ کہ ابی شاہ کے لئے لکھ دو

بعض لوگوں نے متن کا  مطلب بدل کے شرح کی   ہے

لنک

تو (کچھ لوگوں ) نے ( مانعین کتابت سے ) کہا ۔۔ أهجر۔۔کیا (تم سمجھتے ہو ) رسول اللہ ﷺ مرض کی شدت سےایسا فرمارہے ہیں ؟؟؟ (نہیں ،تکلیف کی بناء پر ایسا نہیں فرمارہے ،بلکہ پوری سمجھ داری سے فرمایا ہے )
استفهموه، فذهبوا يعيدون عليه جائو انہی سے پوچھ لو کہ انکی منشا ،مراد کیا ہے ،
فذهبوا يعيدون عليه، فقال: «دعوني فالذي أنا فيه خير مما تدعوني إليه»تو لوگ آپ کے پاس (پوچھنے ) کیلئے گئے ،
تو آپ نے فرمایا :مجھے چھوڑ دو ،تم جس طرف مجھے لانا چاہتے ہو،میں اس سے بہتر میں (مشغول ) ہوں

محدث فورم والوں کی شرح کا مطلب ہے کہ  نبی صلی الله علیہ وسلم ایک حکم دے رہے ہیں اور اس میں صحابہ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور اپس میں جھگڑ رہے ہیں پھر وہ جا کر جب ان سے پوچھتے ہیں جبکہ ان کو پتا ہے کہ نبی نے پوری سمجھ داری سے فرمایا ہے تو معاملہ سلجھنے کے بجائے اور الجھ جاتا ہے اگر سب سمجھ داری سے فرمایا اور اس کو جا کر ان سے پوچھا تو پھر نبی صلی الله علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ مجھے چھوڑ دو ،تم جس طرف مجھے لانا چاہتے ہو،میں اس سے بہتر میں (مشغول ) ہوں کا کیا مطلب ہے

یہ سب اس لئے ہوا کہ روایت کے ترجمہ میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے الفاظ کا درست ترجمہ نہیں کیا گیا
دوم ھجر کا بھی صحیح ترجمہ نہیں کیا گیا اور اس کو زبر دستی دوسری طرف موڑا گیا جبکہ صحیح مسلم میں اس کی شرح ہو چکی ہے
سوم سفیان بن عیینہ کے الفاظ کا بھی ترجمہ نہیں کیا گیا

اس تشریح کے بعد الفاظ

أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا – میں ایک کتاب لکھ دوں 

کا ترجمہ تک ان لوگوں نے  بدلا ہے کہ اس کو کر دیا لائو میں تمھیں ایک تحریر لکھوا دیتا ہوں  تاکہ  مدعا ثابت کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا جانتے تھے لیکن لکھنے نہیں دیا گیا

لنک

راقم کہتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا نہیں جانتے تھے اس پر قرآن گواہ ہے اور متعدد روایات سے معلوم ہے

  عرب محقق احمد شاکر مسند احمد ح ١٩٣٥ کی تعلیق میں  کہتے ہیں

قول اھجر اس کی تفسیر ابن عیینہ نے کی  کہ یہ ہذیان ہے اور   النہایہ (از ابن اثیر ) میں ہے کہ مرض کے سبب سے مریض کا کلام میں اختلاط کرنا  یہ استفہام کے لئے ہے (یعنی سوال ہے ) کہ کیا ان کا کلام بدلنا اور اختلاط یہ مرض کی وجہ سے ہے 

شعيب الأرنؤوط – عادل مرشد، وآخرون مسند احمد ح ١٩٣٥ کی تعلیق میں کہتے ہیں

وقوله: “أهجر” قال في “النهاية”: أي: اختلف كلامه بسبب المرض على سبيل الاستفهام، أي: هل تَغير كلامُه واختلط لأجل ما به من المرض.

راقم کہتا ہے صحیح مسلم میں اس  استفہام انکاری کا بھی رد کیا گیا ہے اور اس کو خبر کے طور پر بیان کیا گیا ہے

ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ جَعَلَ تَسِيلُ دُمُوعُهُ، حَتَّى رَأَيْتُ عَلَى خَدَّيْهِ كَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ – أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ – أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا»، فَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ

  کہا بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم سے ھجر ادا ہوا

یہ سعید بن جبیر کی ابن عبّاس سے سنی ہوئی روایت ہے اور اس میں اس کو خبر کے طور پر کہا گیا ہے کہ

واقعہ قرطاس بہت سادہ سا وقوعہ ہے جس کو بحث نے غیر ضروری طور پر اہم بنا دیا ہے. نبی صلی الله علیہ وسلم کو بیماری کی شدت تھی اس کیفیت میں اپ نے ایک بات کہ دی جو حقیقت حال کے خلاف تھی. صحابہ اور اہل بیت نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ ہی بعد میں اس پر کوئی جھگڑا ہوا اور نہ ہی طنزا علی رضی الله تعالی عنہ نے اس کو کبھی استمعال کیا نہ حسن نے نہ حسین نے . نبی صلی الله علیہ وسلم نے اگلے چار دن واپس اس کا حکم نہیں دیا ، بس اور یہ کچھ بھی نہیں

شیعہ حضرات کے لئے اس میں دلیل نہیں کیونکہ اگر نبی صلی الله علیہ وسلم ، علی کی خلافت کا حکم لکھوا بھی دیتے تو بھی علی خلیفہ نہیں بن پاتے کیونکہ ان کے خیال میں تو سب صحابہ نعوذ باللہ منافق تھے . علی رضی الله تعالی عنہ اس نوشتہ کو بھی علم باطن ، قرآن اور علم جفر کی طرح چھپا کر ہی رکھتے. یاد رہے کہ شیعوں کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم حجه الوداع سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر دبے لفظوں میں علی کو دوست کہہ چکے ہیں لیکن کھل کر ایک دفعہ بھی ان کو خلیفہ نہیں بتایا

مسلمانوں کی خلافت پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے کسی کو بھی مقرر نہیں کیا کیونکہ ان کا مقصد ہدایت پہنچانا تھا جو انہوں نے کر دیا تھا. اصل مسئلہ شرک کی طرف صحابہ کا پلٹنا تھا جس کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے خود واضح فرمایا بخاری کی حدیث ہے

وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي

اور الله کی قسم مجھے اس کا خوف نہیں کہ تم شرک کرو گے

نبی صلی الله علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ امت بارہ خلفاء تک سر بلند رہے گی اور وہ سب قریشی ہونگے

اور تاریخ گواہ ہے ایسا ہی ہوا
راقم کے خیال میں نبی صلی الله علیہ وسلم اگر کچھ لکھواتے تو اس کا تعلق امت کی قبر پرستی سے ہوتا آخری لمحات میں اپ کپڑا چہرے پر ڈالتے اور ہٹاتے اور کہتے

اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاری پر جنہوں نے انبیاء و صلحاء کی قبروں کو مسجد بنا دیا

آج حب اہل بیت پر انکی قبریں ہی پوجی جا رہی ہیں

اہل سنت میں بھی قبر پرستی زوروں پر ہے اور اس کو سند جواز ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے علماء نے فراہم کیا ہے جس پر انکی کتب شاہد ہیں

راقم اس تین وصیتوں والی روایت کو سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ کی منکرات میں شمار کرتا ہے کیونکہ ان تین میں سے ایک  پر اضطراب ہے بعض اوقات یہ کہتا ہے سعید نے اس کو چھپایا  بعض اوقات کہتا ہے بھول گئے پھر مزید کہ ان وصیتوں پر خلفاء  کا عمل بھی نہیں ملا کہ مشرکوں کو جزیرہ العرب سے نکال دیا گیا ہو – جو صحیح متن ہے وہ صرف امام مسلم نے طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ کی سند سے روایت کیا ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم کو زبردستی دوا پلائی گئی

ایک دوسرا واقعہ ہے(جو صرف اہل سنت کی کتب میں آیا ہے ) جس میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے منع کرنے کے باوجود ان کو دوا پلا دی گئی . نبی صلی الله علیہ وسلم کو جب ہوش آیا تو اپ نے فرمایا کہ میرے منع کرنے کے باوجود دوا کیوں دی ؟ نبی صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس وقت حجرے میں موجود سب کو جو اس وقت وہاں موجود تھے ان سب کو یہ دوا پلائی جائے سوائے ان کے چچا عبّاس کے کیونکہ وہ دوا پلاتے وقت وہاں نہیں تھے

بخاری کتاب الطب کی حدیث ہے

حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثنا موسى بن أبي عائشة، عن عبيد الله بن عبد الله قَالَتْ عَائِشَةُ لَدَدْنَاهُ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا، أَنْ لاَ تَلُدُّونِي‏.‏ فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ‏”‏ أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي ‏”‏‏.‏ قُلْنَا كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَقَالَ ‏”‏ لاَ يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلاَّ لُدَّ ـ وَأَنَا أَنْظُرُ ـ إِلاَّ الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض ( وفات ) میں دوا آپ کے منہ میں ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ دو ا منہ میں نہ ڈالو ہم نے خیال کیا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے اس کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما رہے ہیں پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ دوا میرے منہ میں نہ ڈالو ۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مریض کی دوا سے طبعی نفرت کی وجہ سے فرمایا ہو گا ۔ اس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب گھر میں جتنے لوگ اس وقت موجود ہیں سب کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا ، البتہ عباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ میرے منہ میں ڈالتے وقت موجود نہ تھے ، بعد میں آئے ،

مسند احمد مستدرک الحاکم مسند اسحاق میں مختلف الفاظ کے ساتھ روایت میں یہ بھی ہے کہ

فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ هَذَا مِنْ فِعْلِ نِسَاءٍ جِئْنَ مِنْ هُنَا وَأَشَارَ إِلَى الْحَبَشَةِ وَإِنْ كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ عَلَيَّ ذَاتَ الْجَنْبِ مَا كَانَ اللَّهُ لِيَجْعَلَ لَهَا عَلَيَّ سُلْطَانًا وَاللَّهِ لَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ وَلَدَدْنَا مَيْمُونَةَ وَهِيَ صَائِمَةٌ

پس جب نبی صلی الله علیہ وسلم کو ہوش آیا تو اپ نے فرمایا یہ عورتوں کا کام ہے جو وہاں سے آئی ہیں اپ نے حبشہ کی طرف اشارہ کیا اور (کہآ) کیا تم یہ دیکھتے ہو کہ الله ذَاتَ الْجَنْبِ (دوا کا عنصر) کو میرے اوپر مسلط کرے گا الله اس کو میرے اوپر اختیار نہیں دے گا . الله کی قسم ! اب گھر میں کوئی ایسا نہ رہے جس کو یہ دوا پلائی نہ جائے . پس کوئی نہ چھوڑا گیا جس کے منہ میں دوا نہ ڈالی گئی ہو اور (ام المومنین) مَيْمُونَةَ (رضی الله عنہا) کو بھی پلائی جبکہ وہ روزے سے تھیں

شیعہ حضرات اس روایت سے دلیل لیتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو شبہ تھا کہ ان زہر دیا جا رہا ہے لہذا نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا اور نبی صلی الله علیہ وسلم کو زہردے کر شہید کیا گیا

افسوس ان کی عقل پر اہل بیت میں سے عباس رضی الله تعالی عنہ کی موجوگی میں سب کو دوا پلائی گئی عائشہ رضی الله تعالی عنہا نے بھی پی لیکن سب زندہ رہے اگر اس دوا میں زہر تھا تو کسی اور کی وفات کیوں نہیں ہوئی

نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا المهلب کہتے ہیں

وجه ذلك – والله أعلم – أنه لما فعل به من ذلك ما لم يأمرهم به من المداواة بل نهاهم عنه

شرح صحيح البخارى لابن بطال

اس کی وجہ اللہ کو پتا ہے ، پس جب انہوں نے ایسا کیا جس کا حکم نہیں دیا گیا تھا تو منع کرنے کے لئے ایسا کیا 

نبی صلی الله علیہ وسلم نے شاید کسی بیماری میں بھی دوا نہیں لی یہ ان کی خصوصیت تھی لیکن چونکہ مرض وفات میں شدت بہت تھی اس وجہ سے اہل بیت نے دوا پلا دی. نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہا الله اس دوا کو میرے اوپر اختیار نہیں دے گا جس سے ظاہر ہے کہ اگر زہر ہوتا تو وفات نہیں ہوتی

نبی صلی الله علیہ وسلم کو اس وفات کی پہلے سے خبر تھی جیسا کہ بخاری حدیث میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور کہا کہ

إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ

الله نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ دنیا کی زینت لے یا وہ جو الله کے پاس ہے، پس اس بندے نے اختیار کر لیا

ان دو واقعات سے شیعہ حضرات کا اپنے عقائد کے لئے دلیل پکڑنا صحیح نہیں بلکہ ان کے مذھب میں تو امام سب کر سکتا ہے اس کے آگے کائنات کا زرہ رزہ سر نگوں ہوتا ہے. دوئم الله تعالی اپنا پرانا حکم بدل دیتا ہے لہذا نبی صلی الله علیہ وسلم پر زہر کا اثر کیوں ہونے دیا گیا ؟ امام تو عالم الغیب ہوتا ہے . اس با خبری کے عالم میں تو یہ نعوذ باللہ علی رضی الله عنہ کی چال بنتی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ دیا گیا کہ جلدی خاتمہ ہو اور خلافت ملے

تاریخ الطبری میں ابو مخنف (جو شیعوں کا معتبر راوی ہے ) کی روایت ہے کہ اس دوا پلانے والے واقعہ میں علی بن ابی طالب بھی شامل تھے

دوا اسماء بنت عمیس رضی الله تعالی عنہا نے بنائی جن سے ابو بکر رضی الله عنہ کی وفات کے بعد علی رضی الله عنہ نے شادی کی ہمارا شیعہ حضرات سے سوال ہے کہ اگر یہ کوئی سازش تھی تو علی اس سازش کا بھرپور حصہ بنے اور ایسی عورت کو بعد میں نکاح میں لیا جو زہر بناتی تھی

اہل سنت سے بھی ہماری گزارش ہے کہ عمر رضی الله تعالی عنہ کے الفاظ کی وہی تاویل کریں جو حقیقت کے قریب ہو یہ کہنا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم پر بیماری کی شدت نہیں تھی بخاری کی حدیث کے خلاف ہے. نبی صلی الله علیہ وسلم پر اگر بیماری کی شدت نہیں تھی تو صحابہ نے انکو زبردستی دوا کیوں پلائی

عمر رضی الله تعالی عنہ کو نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کا گمان نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وفات النبی والے دن کہا کہ جو یہ کہے کہ نبی کی وفات ہو گئی اس کی میں گردن اڑا دوں گا

عائشہ رضی الله تعالی عنہا کو بھی آخری وقت تک نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کا گمان نہیں تھا لیکن جب نبی صلی الله علیہ وسلم نے آخری الفاظ کہے کہ

مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا

ان لوگوں کے ساتھ جن پر الله نے انعام کیا نبیوں صدیقین شہداء صالحین

فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، يَقُولُ: {مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ} [النساء: 69] الآيَةَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ

پس اس وقت میں جان گئی کہ آپ نے (دنیا کی رفاقت چھوڑنے کا) فیصلہ کر لیا

الله ہم سب کو ہدایت دے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

fourteen − 9 =