فقہ میں امام مالک کے اقوال

57 Downloads

أبو عبد الله مالك بن أنس بن مالك بن أبي عامر الأصبحي الحميري المدني (93ھ – 179ھ) أمت کے جلیل القدر فقیہ و محدث ہیں – آپ اہل رائے و اہل حدیث دونوں حلقوں میں محترم ہیں- امام مالک کے دادا صحابی جلیل القدر تھے جو سوائے جنگ بدر کے باقی تمام غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔
امام مالک اہل رائے میں سے بھی ہیں – امام محمد ، امام مالک کے شاگردوں میں سے ہیں اور ان کی موطا کے راوی بھی ہیں – امام مالک کے اساتذہ میں إمام ربيعة بن أبي عبد الرحمن فرّوخ التيمى المدني، المعروف بـ ربيعة الرأي (المتوفي 136 هـ ) مشہور ہیں جو أهل رائے میں سے تھے –
امام شافعی کو بعض لوگوں نے امام مالک کے شاگردوں میں شمار کیا ہے دوسری طرف بعض أهل التراجم والسير کا قول ہے کہ امام شافعی فقط تیرہ سال کے تھے جب امام مالک سے ملے اور اسی دور میں مالک کی وفات ہوئی یعنی شافعی کا امام مالک سے اکتساب علم اتنا نہیں ہوا – کتاب الام میں شافعی نے بہت سے مسائل میں امام مالک سے اختلاف کیا ہے بس نام نہیں لیا وہ کہتا ہے کہہ کر مخاطب کیا ہے- مالکیہ کا خیال ہے کہ یہ شافعی نے مالک کا ذکر کیا ہے-
امام مالک کے خلاف بھی لوگ رہے ہیں مثلا سیر الاعلام النبلاء میں امام الشافعی کے ترجمہ میں الذھبی لکھتے ہیں
زكَرِيَّا بنُ أَحْمَدَ البَلْخِيُّ القَاضِي: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بنَ أَحْمَدَ بنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيَّ يَقُوْلُ: رَأَيْتُ فِي المَنَامِ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي مَسْجِدِه بِالمَدِيْنَةِ، فَكَأَنِّيْ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! أَكْتُبُ رَأْيَ مَالِكٍ؟ قَالَ: (لاَ) . قُلْتُ: أَكْتُبُ رَأْيَ أَبِي حَنِيْفَةَ؟ قَالَ: (لاَ) . قُلْتُ: أَكْتُبُ رَأْيَ الشَّافِعِيِّ؟ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، كَأَنَّهُ انْتَهَرَنِي، وَقَالَ: (تَقُوْلُ رَأْيَ الشَّافِعِيِّ! إِنَّهُ لَيْسَ بِرَأْيٍ، وَلَكِنَّهُ رَدٌّ عَلَى مَنْ خَالَفَ سُنَّتِي) .
زكَرِيَّا بنُ أَحْمَدَ البَلْخِيُّ القَاضِي کہتے ہیں میں نے أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بنَ أَحْمَدَ بنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيَّ کو سنا کہا میں نے نیند میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا آپ مسجد النبی میں تھے پس میں ان تک پہنچا اور سلام کیا اور کہا اے رسول الله کیا مالک کی رائے لکھوں؟ فرمایا نہیں – میں نے پوچھا کیا ابو حنیفہ کی رائے لکھوں ؟ فرمایا نہیں – پوچھا کیا شافعی کی رائے لکھوں ؟ باتھ کو اس طرح کیا کہ گویا منع کر رہے ہوں اور کہا تو شافعی کی رائے کا کہتا ہے وہ میری رائے نہیں ہے بلکہ میری سنت کی مخالف ہے
اسی طرح ایک خواب کا ذکر امام الذھبی نے کیا ہے جس میں امام مالک کی رائے کو رد کرنے کا حکم دیا گیا
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ الخُوَارِزْمِيُّ نَزِيْلُ مَكَّةَ – فِيْمَا كَتَبَ إِلَيَّ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ رَشِيْقٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَسَنٍ البَلْخِيُّ، قَالَ: قُلْتُ فِي المَنَامِ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! مَا تَقُوْلُ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيْفَةَ، وَالشَّافِعِيَّ، وَمَالِكٍ؟ فَقَالَ: (لاَ قَوْلَ إِلاَّ قَوْلِي، لَكِنَّ قَوْلَ الشَّافِعِيِّ ضِدُّ قَوْلِ أَهْلِ البِدَعِ
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ أَبِي حَاتِمٍ کہتے ہیں مکہ والے أَبُو عُثْمَانَ الخُوَارِزْمِيُّ نے روایت کیا اس خط میں جو لکھا کہ مُحَمَّدُ بنُ رَشِيْقٍ، نے کہ مُحَمَّدُ بنُ حَسَنٍ البَلْخِيّ نے روایت کیا کہا میں نے خواب میں رسول الله سے پوچھا : اے رسول الله آپ مالک شافعی اور ابو حنیفہ کی رائے پر کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا ان کا قول وہ نہیں جو میرا ہے اور شافعی کا قول اہل بدعت کی ضد ہے

امام مالک محدث بھی ہیں – امام مالک کی موطا حدیث کی صنف میں سب سے پہلی کتاب ہے جو باقی رہی ہے – اس سے قبل کی کتب معدوم ہو گئیں – امام مالک نے امام زہری سے بہت سی روایات لی ہیں –
ایک دور تک صحاح ستہ یا الكتب الستة میں موطا امام مالک کو لیا جاتا تھا – زرین بن معاویہ المتوفی ٥٣٥ ھ کے مطابق اس میں ابن ماجہ کی بجائے موطا ہے- ابن اثیر کے مطابق چھٹی کتاب موطا ہے- ابن صلاح النكت مين لکھتے ہیں کہ کافی عرصہ مغرب میں یعنی اندلس اور شمالی افریقہ میں موطا چھٹی کتاب رہی حتی کہ وہ ابن ماجہ پر متفق ہوئے
وعند المغاربة موطأ مالك عوضا عن سنن ابن ماجه قبل أن يقفوا عليه
چار فقہاء یعنی امام مالک، امام الشافعی ، امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل میں سے امام بخاری نے سب سے زیادہ امام مالک کی سند سے روایت نقل کی ہیں –
اس کتاب میں امام مالک اور ان کے فقہی منہج پر مختصرا ً بات کی گئی ہے
ابو شہریار
٢٠١٩

Leave a Reply

Your email address will not be published.

four × 5 =