غدیر خم کا ذکر

علی میں یہ خواہش موجود تھی کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہوں جو قدرتی امر ہے اور اس میں وہ منفرد نہیں یہ خواہش سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کو بھی تھی جو خرزج کے سردار تھے
صحیح بخاری ح ٦٢٦٦ میں ہے
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ، وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَحَدَ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا حَسَنٍ، ” كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا “، فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلاَثٍ عَبْدُ العَصَا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ هَذَا، إِنِّي لَأَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ المُطَّلِبِ عِنْدَ المَوْتِ، اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الأَمْرُ، إِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا عَلِمْنَاهُ، فَأَوْصَى بِنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّا وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا لاَ يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
علی رضی الله عنہ کا ہاتھ پکڑ کر عباس رضی الله عنہ نے فرمایا کہ الله کی قسم، مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اس بیماری میں وفات پا جائیں گے کیونکہ میں بنو عبدالمطلب کے مرنے والوں کے چہرے پہچانتا ہوں اے علی آؤ چلیں اور رسول اللّہ صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کرلیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد خلیفہ کون ہوگا اگر خلافت ہمارے خاندان میں رہنے والی ہے تو ہمیں علم ہو جائے گا اور اگر کسی دوسرے کے لیے ہوگی تو ہم آپ صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کر لیں گے اور آپ صلی الله علیہ وسلم وصیت کر جائیں گے- علی رضی الله عنہ نے کہا الله کی قسم!اگر ہم نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے خلافت کے بارے میں سوال کیا اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے منع کردیا تو لوگ ہمیں کبھی بھی خلیفہ نہ بنائیں گے میں تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کبھی بھی خلافت کے بارے میں سوال نہ کروں گا

شیعان علی البتہ اس کو ایک نص سمجھتے تھے کہ علی کی خلافت پر نص ہے اور عثمان نے اقتدار غصب کیا ہوا ہے – صحیح بخاری میں ہے کہ یہ خبر ام المومنین عائشہ رضی الله عنہا کو دی گئی کہ رسول الله نے علی کو کیا کچھ خاص وصیت کی تھی- صحیح بخاری میں ہے
الاسود کہتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا کے پاس لوگوں نے ذکر کیا کہ کیا علی رضی الله عنه کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا کہ آخر کس وقت ان کو یہ وصیت کی؟ میں تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو اپنے سینے سے یا گودسے تکیہ لگاۓ ہوے تھی کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے پانی مانگا اور میری گود میں جھک پڑے مجھے تو معلوم بھی نہ ہوا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوگی ہے تو بتاؤ کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں کب وصیت کی؟”

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کوئی وصیت نہیں کی اور وفات النبی کے وقت صرف عائشہ رضی الله عنہا ساتھ تھیں- عائشہ رضی الله عنہا اس انکار وصیت میں منفرد نہیں کسی بھی وصیت کا انکار ابن ابی اوفی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے

ممکن ہے بعض شیعوں  نے  ہارون والی حدیث کو ایک وصیت سمجھا ہو جیسا اہل تشیع کا قول ہے اور اس کو خلافت علی  پر نص سمجھ لیا ہو-

غَزْوَةُ تَبُوكَ سن ٩ ہجری  کے لئے ابن اسحاق سیرت میں لکھتے ہیں

 وَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، عَلَى أَهْلِهِ، وَأَمَرَهُ بِالْإِقَامَةِ فِيهِمْ، فَأَرْجَفَ بِهِ الْمُنَافِقُونَ، وَقَالُوا: مَا خَلَّفَهُ إلَّا اسْتِثْقَالًا لَهُ، وَتَخَفُّفًا مِنْهُ. فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ الْمُنَافِقُونَ، أَخَذَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ سِلَاحَهُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجُرْفِ  ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زَعَمَ الْمُنَافِقُونَ أَنَّكَ إنَّمَا خَلَّفَتْنِي أَنَّكَ اسْتَثْقَلْتنِي وَتَخَفَّفَتْ مِنِّي، فَقَالَ: كَذَبُوا، وَلَكِنَّنِي خَلَّفْتُكَ لِمَا تَرَكْتُ وَرَائِي، فَارْجِعْ فَاخْلُفْنِي فِي أَهْلِي وَأَهْلِكَ، أَفَلَا تَرْضَى يَا عَلِيُّ أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، فَرَجَعَ عَلَيَّ إلَى الْمَدِينَةِ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَفَرِهِ.قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ إبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ هَذِهِ الْمَقَالَةَ.

 اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو اپنے گھر والوں کے لئے پیچھے چھوڑا تو مناقفوں نے اس پر افواہ پھیلائی اور کہا کہ اس کو اس لئے رکھا ہے کیونکہ اس کے لئے یہ کام بھاری ہے اور یہ کمزور ہے ، پس جب مناقفوں نے یہ بات کی تو علی بن ابی طالب نے اپنا اسلحہ لیا اور رسول الله کے پاس پہنچے اور نبی چٹانوں تک (مدینہ سے باہر) جا چکے تھے علی نے کہا اے نبی الله ! منافق کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے چھوڑا ہے کیونکہ مجھ پر یہ بھاری ہے اور میں اس قابل نہیں ؟ رسول الله نے کہا جھوٹ بولتے ہیں لیکنتم کو بنایا گیا ہے کہ تم میرے پیچھے رہو اور واپس میرے اور اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، کیا تم راضی نہیں اے علی کہ تمہارا درجہ میرے لئے ایسا ہو جیسا ہارون کا موسی کے لئے تھا؟  خبر دار میرے بعد کوئی نبی نہیں ! پس علی (یہ سن کر) واپس لوٹ گئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنا سفر جاری رکھا – ابن اسحاق نے کہا مجھ سے مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ نے روایت کیا اس نے إبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ سے اس نے   سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ سے کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ سب علی کو کہتے سنا

ابن اسحاق اس کو إبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ سے وہ   سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ سے روایت کرتے ہیں – صحیح بخاری اور صحیح مسلم ، سنن ترمدی، ابن ماجہ ، مسند احمد،  میں مصعب بن سعد بن أبى وقاص اس کو سعد بن أبى وقاص سے روایت کرتے ہیں

پھر صحیح سند سے آیا ہے کہ غدیر خم پر رسول الله نے علی کا خاص ذکر کیا تھا
سن ١٠ ہجری میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ کو یمن بھیجا کہ وہاں جائیں اور خمس وصول کریں – علی رضی الله عنہ نے وہاں ایک لونڈی حاصل کی اس سے فائدہ اٹھایا أور لوگوں نے علی کو غسل کرتے دیکھا یعنی علی نے خمس میں سے مال خود لے لیا اور دیگر اصحاب رسول کے نزدیک اس کی تقسیم نبی صلی الله علیہ وسلم کرتے اور علی کو صبر کرنا چاہیے تھا – علی اس وفد کے امیر تھے باقی اصحاب نے اس پر علی سے اختلاف کیا یہاں تک کہ واپسی پر ایک صحابی نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو تمام صورت حال بتا دی جس پر اپ صلی الله علیہ وسلم نے تبين كي- یہ واقعہ غدیر خم پر ہوا جب نبی صلی الله علیہ وسلم حج سے واپسی پر مدینہ جا رہے تھے اور علی اپنے وفد کے ساتھ اسی مقام پر نبی صلی الله علیہ وسلم سے ملے
اس میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ
میں جس کا دوست اس کا علی دوست
یعنی ایک طرح علی رضی الله عنہ کی تعریف کی تاکہ جن اصحاب کو شکایات ہیں وہ جان لیں کہ یمن پر امیر وفد کی حثیت سے اور اہل بیت میں ہونے کی وجہ سے لونڈی لینا علی کے لئے جائز تھا- بریدہ رضی الله عنہ سے رسول الله نے فرمایا کہ تو علی سے بغض نہ رکھ کیونکہ خمس میں اس کا اس سے زیادہ بھی حصہ ہے ! (بخاری)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الخُمُسَ، وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ: أَلاَ تَرَى إِلَى هَذَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «لاَ تُبْغِضْهُ فَإِنَّ لَهُ فِي الخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ»
مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن اسحاق بن ابی اسحاق نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن بھیجا، بیان کیا کہ پھر اس کے بعد ان کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے انہیں ہدایت کی کہ خالد کے ساتھیوں سے کہو کہ جو ان میں سے تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ پھر یمن کو لوٹ جائے اور جو وہاں سے واپس آنا چاہے وہ چلا آئے۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یمن کو لوٹ گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے غنیمت میں کئی اوقیہ چاندی کے ملے تھے۔
حدیث نمبر: 4350
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لِخَالِدٍ:‏‏‏‏ أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا ؟ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ “يَا بُرَيْدَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَتُبْغِضُ عَلِيًّا ؟”فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “لَا تُبْغِضْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ”.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن سوید بن منجوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو (یمن) بھیجا تاکہ غنیمت کے خمس (پانچواں حصہ) کو ان سے لے آئیں۔ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے بہت بغض تھا اور میں نے انہیں غسل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا تم دیکھتے ہو علی رضی اللہ عنہ نے کیا کیا (اور ایک لونڈی سے صحبت کی) پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے آپ سے بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا (بریدہ) کیا تمہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بغض ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا علی سے دشمنی نہ رکھنا کیونکہ خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) میں اس سے بھی زیادہ حق ہے۔ 

مولا علی سے مراد ہے 

مناقب امام الشافعی میں اس کی تاویل ہے

أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي، قال: أخبرنا محمد بن محمد بن يعقوب؛ قال: حدثنا العباس بن يوسف الشِّكْلِي (2)، قال: سمعت الربيع بن سليمان، يقول سمعت الشافعي، يقول في معنى قول النبي، صلى الله عليه وسلم، لعلي بن أبي طالب، رضي الله عنه: «من كنت مولاه فعلى مولاه (3)» يعني بذلك وَلاَءَ الإِسلام  وذلك قول الله تعالى: {ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ

امام شافعی نے کہا مولا سے مراد ہے کہ   ایسا اسلام میں لگاؤ (اطاعت) ہے اور الله کا قول ہے

سوره محمد

یہ اس لئے کہ الله مولی ہے ایمان والوں کا اور کافروں کا کوئی مولی نہیں ہے

قاسم بن سلام غريب الحديث میں کہتے ہیں مولی کا مطلب الْعصبَة (خون کے تعلق سے رشتہ دار) ہے

فَكل وليّ للْإنْسَان هُوَ مَوْلَاهُ مثل الْأَب وَالْأَخ وَابْن الْأَخ والعَم وَابْن الْعم وَمَا وَرَاء ذَلِك من الْعصبَة كلّهم وَمِنْه قَوْله تَعَالَى: {وَإنِّي خِفْتُ الموَالِي من ورائي}

ہر انسان کا جو وليّ ہے وہ مولاہ ہے جیسے اس کا باپ یا بھائی یا بھتیجا یا چچا یا کزن اور اسی طرح خونی رشتہ والے جیسے الله کا قول ہے کہ زکریا نے کہا  اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں

یعنی مولاہ مطلب بھائی بند

یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہا علی میرا کزن میرا بھائی بند ہے اور جس طرح یہ میرا جگری خاندان کا ہے

سادہ الفاظ میں  میں جن رشتہ میں جڑا ہوں اس میں علی بھی جڑا ہے

کتاب المجموع المغيث في غريبي القرآن والحديث از محمد بن عمر بن أحمد بن عمر بن محمد الأصبهاني المديني، أبو موسى (المتوفى: 581هـ) کے مطابق

قوله عليه الصلاة والسلام: “مَن كنتُ مَولَاه فَعَلِىٌّ مَوْلاهُ”. (3)

(2 قيل: أي مَن كنتُ أتولّاه فعَلِىٌّ يتولّاه.

والمَولَى على وُجُوهٍ: منها ابنُ العَمّ، قال الله تعالى في قصّةِ زكَرِيّاء عليه الصّلاة والسّلام: {وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي} (1)،

وأنشَدَ: مَوَالِينا إذا افتَقَرُوا إلينا

فإن أثْرَوْا فَليسَ لنا مَوالِ (2)

الثانى: المعتِق؛ ومَصْدَرُه الوَلَايَةُ (3).

والثالث: المُعتَقُ؛ ومَصْدَرُه الوَلَاءُ.

والرابع: المُحِبُ.

كقوله عليه الصّلاة والسَّلام (4): “مُزينَةُ وأسْلَمُ وَجُهَيْنَةُ وغِفَار مَوَالى الله تعالَى ورَسُولِه”

والخَامسُ: الجَارُ، كَما أنشدَ:

هُمُ خلطُونا بالنفوس وأَلْجَئُوا

إلى نَصْرِ مولاهُم مُسَوَّمَةً جُرْدَا

السّادِسُ: الناصِرُ، قال الله تعالى: {ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا …} (5) الآية.

السَّابع: المأوى، قال الله تعالى: {مَأْوَاكُمُ النَّارُ هِيَ مَوْلَاكُمْ}

وقيل: أي مَن كان يتولاَّنى تولَّاه

کہا جاتا ہے کہ میں نے جس سے دوستی کی اس سے علی نے کی

اور جس نے مجھ سے دوستی کی اس سے علی کی ہوئی

اور مولی کے کئی رخ ہیں یعنی چچا زاد قرآن میں زکریا کے قصہ میں ہے

اس سے مراد آقا ہے جو آزاد کرے

اس سے مراد محبت کرنے والا ہے

اس سے مراد پڑوسی ہے

اس سے مراد مددگار ہے

اس کے مراد ماوی و ملجا ہے

اس کے اور بھی مفہوم ہیں یہ آقا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں سوره النحل ٧٦ میں ہے

2 thoughts on “غدیر خم کا ذکر”

  1. Shahzadkhan says:

    بھائی آیت تطہیر کے حوالے سے اہل تشیعوں کے دلائل پر تحقیق درکار ہے

    1. Islamic-Belief says:

      سورہ الاحزاب کی آیت تطہیر پر صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ یہ علی، فاطمہ اور حسن، حسین کے بارے میں ہے
      آپ اہل تشیع کی بجائے اپنے اہل سنت کے مصادر کو دیکھیں
      ——–

      صحیح مسلم میں عائشہ رضی الله عنہا سے مروی حدیث ہے

      خرج النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ غداةً وعليه مِرْطٌ مُرحَّلٌ ، من شعرٍ أسودٍ . فجاء الحسنُ بنُ عليٍّ فأدخلَه . ثم جاء الحسينُ فدخل معه . ثم جاءت فاطمةُ فأدخلها . ثم جاء عليٌّ فأدخلَه . ثم قال ” إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ” [ 33 / الأحزاب / 33 ] .

      عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت ایک اونی منقش چادر اوڑھے ہوئے باہر تشریف لائے تو آپ کے پاس حسن بن علی رضی اﷲ عنہما آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اُس چادر میں داخل کر لیا، پھر حسین رضی اللہ عنہ آئے اور وہ بھی ان کے ہمراہ چادر میں داخل ہو گئے، پھر فاطمہ رضی اﷲ عنہا آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں بھی اس چادر میں داخل کر لیا، پھر علی رضی الله عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں بھی چادر میں لے لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی : بے شک اللہ چاہتا ھے کہ وہ تم اہل بیت سے رجس کو دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔

      میرے نزدیک یہ منکر روایت ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

two × one =