عثمانی صاحب کی کتب کے تراجم

ڈاکٹر عثمانی رحمہ اللہ علیہ کے ساتھ بہت سے نیک اور پر خلوص  مومن تھے  – سب اردو بولنے والے نہیں تھے  بعض گجراتی ، عربی، سندھی ، پشتو   و فارسی سے واقف تھے – ان  لوگوں نے ان کی کتب  کا ترجمہ  کیا اور وہ مسجد  میں اگرچہ رکھا ہوا تھا لیکن  گرد آلود ہو رہا تھا – راقم کے دوست غلام اللہ صاحب نے  یہ کتب راقم کو سن ٢٠١٣  میں مہیا کیں اور  راقم نے ان کو  سکین  کرا   کر محفوظ   کر لیا تھا  – سن ٢٠١٣  میں جب اس ویب سائٹ  کا اجراء ہوا تو مواد کم تھا – اردو  میں صرف عثمانی صاحب کی کتب تھیں – راقم  کا مقصد  دعوت کو  انگریزی  میں  بیان کرنا تھا   لہذا  پہلے ا  انگریزی  میں  کتب لکھیں –  پھر  سوالات ہوئے تو اردو میں مواد جمع ہوتا رہا جس کو  پھر کتابی شکلوں میں لایا گیا –  بہر حال    آج کمپیوٹر میں  خرقه کو دیکھا تو  عثمانی صاحب  کی  ان کتب تراجم   کو موجود پایا اور اب ان کو عثمانی صاحب کی کتب کے سیکشن میں شامل کر دیا ہے 

ان کتب کو یہ سوچ  کر نہیں رکھا تھا کہ ممکن ہے ترجمہ میں غلطی ہو تو پہلے تصحیح ہو گی پھر رکھا جائے گا لیکن یہ نوبت نہ آئی-  اب چونکہ موت  کا دور دورہ ہے علم ضائع ہونے کا  خطرہ ہے-  قارئین جو اہل زبان ہوں وہ غلطیوں سے اگاہ کریں اور اگر ترجمہ کی صلاحیت رکھتے  ہوں تو ترجمہ کریں 

اللہ تعالی   ترجمہ کرنے والوں کی محنت کو قبول فرمائے  اور حقیقی  توحید کی طرف ہم کو رستہ دکھائے  

آمین 

4 thoughts on “عثمانی صاحب کی کتب کے تراجم”

  1. Shahzadkhan says:

    ابو شہریار بھائی اس نئی ویب سائٹ کے بلاگ سیکشن میں منکرین نزول مسیح کے دلائل کا بطلان جو کہ پرانی ویب سائٹ میں موجود تھا آپ نے یہاں نہیں رکھا اس میں کچھ اہم سوالات و جوابات تھے جن کی ضرورت ہے ۔۔

  2. Shahzadkhan says:

    ابو شہریار بھائی اک معتصب کی عثمانی صاحب کے خلاف تحقیقی تحریر برائے مہربانی اس کے متعلق حقائق کی وضاحت فرما دیں جزاک اللہ
    :یہ عبارات ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی صاحب کی دجل اور اکاذیب پر مبنی ایک کتاب کا حاصل ہے جس میں اس نے بخاری و مسند احمد کا موازنہ پیش کیا ہے-اس کتاب کے مطالعے سے ڈاکٹر صاحب کی فہمِ حدیث کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس قدر حدیث کے فہم سے نا آشنا تھے یا وہ حدیث کے معاملے میں کس قدر دجل و فریب کے مرتکب تھے-مثلًا یہاں پر ڈاکٹر صاحب کی کتاب سے جو استفادہ پیش ہوا ہے اس پر تبصرہ ملاحظہ کریں

    بخاری میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے متعلق احادیث پیش کرنے کے بعد دعوی کیا گیا ہے کہ
    *اس کے برعکس لیکن مسند احمد بن حنبل کی روایت بیان کرتی ہے کہ ابوبکرؓ خلافت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں نہیں تھے بلکہ علی رضی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلیفہ بنانا چاہتے تھے*

    عرض ہے بخاری کی جن احادیث کے باب میں مسند احمد کیلئے *برعکس* کے لفظ سے جس دجل و فریب دینے کی سعی کی جاتی ہے ان میں سے

    1)پہلی حدیث وہ ہے جس میں ہے
    *لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ فَأَعْهَدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ* (بخاری،کتاب المرضی،باب قَوْلِ الْمَرِيضِ إِنِّي وَجِعٌ،رقم 5666/بخاری،کتاب الاحکام،باب الاستخلاف،رقم 7217)
    میرا ارادہ ہوتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو بلاوا بھیجوں اور انہیں ( خلافت کی ) وصیت کر دوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد کہنے والے کچھ اور کہیں ( کہ خلافت ہمارا حق ہے ) یا آرزو کرنے والے کسی اور بات کی آرزو کریں

    یہی حدیث امام احمد ابن حنبل نے مسند احمد میں بھی روایت کی ہے دیکھئے مسند احمد، مُسْنَدُ الصِّدِّيقَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،رقم 25113
    معلوم ہوا کہ خلافت ابوبکر میں بخاری و مسند احمد میں کوئی تصادم نہیں اور مسند احمد پر سند پیش ہونے کے باوجود فرد جرم عائد کرنا یقینًا دجل و فریب ہے( *والعیاذ بااللہ* )

    2)دوسری حدیثِ بخاری وہ ہے جس میں ہے کہ
    ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر آنا۔ اس نے کہا اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کر رہی تھی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    *إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ* 
    اگر تم مجھے نہ پا سکو تو ابوبکر کے پاس چلی آنا
    (بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،رقم 3659/بخاری ،کتاب الاحکام،باب الاستخلاف رقم 7220/بخاری،کتاب الاعتصام،باب الْأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلَائِلِ،رقم 7360)

    یہی حدیث امام احمد ابن حنبل نے دو مرتبہ مسند احمد کے اندر روایت کی ہے دیکھئے مسند احمد،مُسْنَدُ الْمَدَنِيِّينَ،حَدِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، رقم نمبر 16755 اور رقم نمبر 16767)
    لھذا اس دجل و فریب سے بھی پردہ اٹھ گیا

    3)تیسری حدیثِ بخاری وہ ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    *مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ* 
    ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے(صحیح بخاری،کتاب الاذان،باب حَدِّ الْمَرِيضِ أَنْ يَشْهَدَ الْجَمَاعَةَ،رقم 664)

    یہی حدیث امام احمد ابن حنبل مسند احمد میں تقریبًا 10 مرتبہ لائے ہیں مثلًا دیکھئے مسند احمد،مُسْنَدُ الصِّدِّيقَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،رقم24647 اور رقم25258)
    لھذا یہ کوشش بھی جہالت یا جھوٹ اور عیاری پر مبنی تھی
    4)علی رضی اللہ عنہ سے ابوبکر صدیق کی فضیلت صرف امام بخاری نے ذکر نہیں کی ہے بلکہ تقریبًا 23 مرتبہ علی رضی اللہ عنہ سے امام احمد ابن حنبل نے مسند احمد کی اندر بھی ذکر کی ہے
    لھذا یہ سہارا بھی کبیت العنکبوت ثابت ہوا

    5)اے علی میرے بعد اگر تم خلیفہ بنے تو اہل نجران کو جزیرة العرب سے نکال دینا

    پہلی بات یہ ہے کہ اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی نفی بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ ابوبکر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    کے بعد ہی تھے،عمر رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تھے اور اسی طرح عثمان و علی رضی اللہ عنہما بھی ان کے بعد تھے *یعنی بعد ترتیب کو مستلزم نہیں ہے*

    دوسری بات یہ ہے کہ امام احمد ابن حنبل نے اس روایت کی سند بیان کی ہے جو کہ *ضعیف جدًا* ہے اسلئے وہ اس روایت کی وبال سے برئ الذمہ ہے جیسا کہ ہم نے پہلے یہ ثابت کیا ہے کہ سند بیان کرنے سے محدث ضعیف روایت کے وبال سے برئ ہوجاتا ہے

    تیسری بات اسی معنی کی حدیث امام ترمذی اور امام دارمی نے نقل کی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ سے کہا ہے کہ اھل نجران کو جزیرة العرب سے نکال دو اسلئے ڈاکٹر صاحب کے اس فتوے کا امام ترمذی اور امام دارمی بھی شکار ہوجاتے ہیں

    6)بخاری میں عائشہ رضی اللہ عنھا کی جس حدیث میں ہے کہ
    *مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ*
    اس نے کب اس(علی)کے بارے میں وصیت کی(بخاری،کتاب الوصایا،باب الوصایا،رقم 2741/بخاری کتاب المغازی،رقم 4459)
    اس کے بارے میں صاحب نے یہ جھوٹا دعوی کیا کہ گویا کہ بخاری نے وصیت کے معاملے میں احمد ابن حنبل کی شدت کیساتھ تردید اسی حدیثِ عائشہ سے کی ہے حالانکہ امام احمد ابن حنبل نے مسند احمد میں یہی حدیثِ عائشہ روایت کیا ہے دیکھئے مسند احمد،مُسْنَدُ الصِّدِّيقَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،رقم 24039
    لھذا اس دجل کی بھی قلعی کھل گئی

    7)بخاری میں ہے *لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابُ أَبِي بَكْرٍ*
    مسجد میں سوائے ابوبکر کے دروازے کے سارے دروازے بند ہونے چاہئیے(بخاری،کتاب الصلاة،باب الْخَوْخَةِ وَالْمَمَرِّ فِي الْمَسْجِدِ،رقم466/ بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،رقم3654/بخاری،کتاب مناقب الانصار،رقم 3904)

    امام احمد ابن حنبل نے یہی حدیث مسند احمد میں روایت کی ہے دیکھئے مسند احمد،مُسْنَدُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،رقم 11134 اور رقم 11863
    اسلئے یہ اعتراض نہیں بلکہ جہالت یا فریب تھا

    8)مسند احمد کی *باب علی رضی عنه* سے متعلق زید بن ارقم کی جس حدیث کو ذریعہ تقابل بنایا جاتا ہے تو اس کے بارے میں عرض ہے

    (الف) یہ روایت مسند احمد میں زید ابن ارقم،عبداللہ ابن عباس اور سعد بن مالک رضی اللہ عنھم سے ضعیف،مجہول اور منکر طرق سے مروی ہے دیکھئے مسند احمد رقم 1511 سعد بن مالک اور رقم3061 ابن عباس اور رقم19287 زید بن ارقم
    اور یہ کوئی نئی بات نہیں کہ سند لانے سے محدث برئ ہوجاتا ہے

    (ب) عبداللہ ابن عباس کی روایت امام ترمذی نے بھی روایت کی ہے دیکھئے رقم 3732 اورامام ترمذی امام بخاری کے شاگر رشید ہے-
    امام بخاری کی ایک اور شاگرد رشید احمد بن شعیب النسائی نے تو باقاعدہ باب علی پر باب باندھا ہے
    *باب ﻗَﻮْﻝِ اﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠﻪُ ﻋلیہ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﺃُﻣِﺮْﺕُ ﺑِﺴَﺪِّ ﻫَﺬِﻩِ اﻷَْﺑْﻮَاﺏِ ﻏَﻴْﺮَ ﺑﺎﺏ ﻋﻠﻲ* (السنن الکبری للنسائی)
    اور السنن الکبری کے اندر مذکورہ روایت ایک بار نہیں بلکہ 5 مرتبہ بیان کیا ہے

    امام بخاری کی اور شاگرد ابن ابی عاصم نے عبداللہ بن ارقم،عبداللہ ابن عباس اور عبداللہ ابن عمر سے یہ روایت تین دفعہ بیان کی ہے دیکھئے السنة لابن ابی عاصم رقم 1384،1351،1326-

    اور اسی طرح امام نسائی کے شاگرد امام طبرانی نے بھی المعجم الاوسط میں مذکورہ روایت بیان کی ہے رقم 3930 اور المعجم الکبیر میں بھی بیان کی ہے رقم 2031

    یہ تو صرف ان کی ایک مثال کی دجل و فریب کی وضاحت تھی مزید بھی اس سے زیادہ ڈاکٹر صاحب کی مذکورہ کتابچے سے ڈاکٹر صاحب کی فہم حدیث سے نا آشنائی یا دجل و فریب کی قلعی کھل سکتی ہے

    1. Islamic-Belief says:

      اس کتاب میں اس کا ذکر ہے کہ ڈاکٹر عثمانی نے جو موازنہ پیش کیا ہے وہ صحیح بخاری اور مسند احمد کی روایات کے تقابل پر ہے
      https://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2020/06/موازنہ-بخاری-و-مسند.pdf

      مسند احمد میں وہ صحیح روایات بھی ہیں جو صحیح بخاری میں ہیں – لیکن عثمانی کا مدعا ہے کہ امام احمد نے جو رطب و یابس جمع کیا ہے اس سے رافضیت کو تقویت ملی ہے
      یہ مقدمہ ہے
      اور اس حد تک عثمانی درست ہیں
      —-
      البتہ میں کہتا ہوں کہ بہتر ہوتا اگر عثمانی ، امام احمد کے ان منکر روایات کے راویوں پراقوال بھی دیکھتے
      عثمانی کی پیش کردہ مسند احمد کی ان بعض شیعی روایات کے راویوں پر امام احمد کی جرح بھی ہے
      لہذا ان شیعی روایات میں سے کچھ میں سمجھتا ہوں امام احمد کے نزدیک صحیح نہیں ہیں

      لہذا میں نے فٹ نوٹ میں امام احمد کے راویوں پر تبصرے بھی نقل کیے ہیں – امام احمد میں شیعیت تھی – اس میں شک نہیں
      وہ معاویہ کی خلافت کو بادشاہت کہتے تھے اور تیس سال پر خلافت ختم ہو جانے کے قائل تھے
      یہ اجماع صحابہ کے خلاف موقف ہے

      امام بخاری کا منہج ، امام احمد سے الگ ہے – اسماء و صفات میں تاویل کرتے تھے
      عقائد میں تلاوت کو عمل کہتے تھے
      امام احمد اس سے الگ کہتے تھے
      ان مسائل پر تفصیل سے میری کتب میں بات کی جا چکی ہے

      مسند احمد ، مستشرقین اور رافضیوں کی پسندیدہ کتاب اسی وجہ سے بنی ہے کہ اس میں ہر قسم کا مواد ہے
      اس سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا

      ——

      ہم کو تمام زاویے سامنے رکھنے چاہیے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

three × five =