طائفہ منصورہ کیا ہے ؟

 ایک مغالطہ ہے جو  مشہور ہے – لوگ اپنے آپ کو طائفہ منصورہ بھی قرار دیتے ہیں جبکہ اس کی احادیث کے متن میں سخت اضطراب ہے – اس کے فہم پر اصحاب رسول اور محدثین کی آراء بھی متصادم ہیں – راقم اس حوالے سے صرف اصحاب رسول  کے فہم کو درجہ قبولیت دیتا ہے

صحیح مسلم

صحیح بخاری

صحیح مسلم کی ایک  اور  حدیث دیکھئے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ أَهْلُ الْغَرْبِ ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ»

سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اہل مغرب حق پر غالب رہیں گے انکو زوال نہ ہو گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو

 ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﻭﺣﺠﺎﺝ ﺑﻦ اﻟﺸﺎﻋﺮ، ﻗﺎﻻ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺣﺠﺎﺝ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﺟﺮﻳﺞ: ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﺃﺑﻮ اﻟﺰﺑﻴﺮ، ﺃﻧﻪ ﺳﻤﻊ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﻮﻝ: «ﻻ ﺗﺰاﻝ ﻃﺎﺋﻔﺔ ﻣﻦ ﺃﻣﺘﻲ ﻳﻘﺎﺗﻠﻮﻥ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﻖ ﻇﺎﻫﺮﻳﻦ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ»

ابو زبیر نے کہا کہ جابر رضی الله عنہ سے سنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کہتے سنا ایک گروہ میری امت کا حق پر لڑے گا غالب رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے

بخاری کی روایت ہے

حَدَّثَنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، خَطِيبًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ» ,

حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کہتے ہیں انہوں نے معاویہ رضی الله عنہ کو سنا انہوں نے ہم کو خطبہ دیا اور کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا انہوں نے فرمایا الله جس کو خیر دینا چاہتا ہے اس کو دین میں سمجھ کا علم دیتا ہے  اور بے شک میں (علم) باٹنے والا ہوں اور الله (علم) عطا کرنے والا ہے اور یہ امت الله کے کام سے نہیں ہٹے گی  الله کے امر پر قائم رہے گی اس کو اس کی مخالفت کرنے والے نقصان نہ دے سکیں گے یہاں تک کہ الله کا امر آ جائے

روایت کی تاویلات

اسسے مراد محدثین ہیں

اس سے مراد مغرب والے ہیں

یعنی افریقہ والے

اس سے مراد شام والے ہیں

مدینہ و عرب کا شمال

احمد بن حنبل  (241-164ھ)   سے منسوب قول   معرفۃ علوم الحدیث     از   حاکم    ابن البيع (المتوفى: 405هـ) میں  ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ بِمِصْرَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمُ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ» سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْآدَمِيَّ بِمَكَّةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: وَسُئِلَ عَنْ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: «إِنْ لَمْ تَكُنْ هَذِهِ الطَّائِفَةُ الْمَنْصُورَةُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ فَلَا أَدْرِي مَنْ هُمْ

اگر یہ طائفہ منصورہ اہل حدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں۔

 

امام بخاری خود صحیح میں باب میں لکھتے ہیں

باب قَوْلِ النبيِّ – صلى الله عليه وسلم -: “لاَ تَزَالُ طَائفَةٌ مِنْ أُمَّتي ظَاهِرينَ عَلَى الحَقِّ يُقَاتِلُونَ”، وَهُمْ أهْلُ العِلْمِ

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا قول کہ ایک میری امت میں گروہ زوال کا شکار نہ ہو گا غالب رہیں گے حق پر اور قتال کریں گے اور اس سے مراد اہل علم ہیں

 

کتاب تهذيب الأسماء واللغات از امام النووی میں ہے النووی کہتے ہیں

ففى الصحيحين أن النبى – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قال: “لا تزال طائفة من أمتى ظاهرين على الحق لا يضرهم خذلان من خذلهم” (2) . وجملة العلماء أو جمهورهم على أنهم حملة العلم

اس حدیث سے مراد اہل علم ہیں

 

محقق محمد فؤاد عبد الباقي کتاب المسند الصحيح المختصر بنقل العدل عن العدل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم میں صحیح مسلم کی تعلیق میں  لکھتے ہیں

قال علي بن المديني المراد بأهل الغرب العرب

امام علی المدینی نے کہ اہل مغرب سے مراد عرب کے مغرب والے ہیں

 

کتاب موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله  کے مطابق امام احمد سے سوال ہوا

وسئل عن: حديث النبي – صلى الله عليه وسلم -: «لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله. وهم على ذلك» .

قال: هم أهل المغرب، إنهم هم الذين يقاتلون الروم. كل من قاتل المشركين، فهو على الحق. «سؤالاته» (2041)

حدیث رسول کہ میری امت کا گروہ حق پر غالب رہے گا انکو مخالفین نقصان نہ دے سکیں گے یہاں تک کہ الله کا حکم آ جائے تو یہ کون ہیں ؟ امام احمد نے کہا یہ اہل مغرب ہیں جو روم سے قتال کر رہے ہیں جو بھی مشرکین سے قتال کرے وہ حق پر ہے

 

 

کتاب  مناقب الشام وأهله (ص 79) میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں

لغة أهل مدينته في “أهل الغرب” أنهم أهل الشام

لغت اہل مدینہ میں اہل غرب سے مراد اہل شام ہیں

 

محدثین تو عرب میں یمن میں ایران میں عراق میں شام میں سب مقامات پر تھے

گویا ان محدثین کے نزدیک اس روایت کا تعلق کسی خاص ملک سے نہیں تھا

احمد اور علی المدینی کا قول ہے کہ یہ عرب کے مغرب میں روم سے قتال کرنے والے مسلمان ہیں یعنی مصر و لیبیا والے

معاویہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ ان کے دور  کے اہل شام ہیں

نبی صلی الله علیہ وسلم نے قریش کی عربی میں گفتگو کی ہے جس میں مغرب سے مراد شمال نہیں ہے – ابن تیمیہ کی بے سروپا نکتہ سنجی کی کوئی حیثیت  نہیں

شام  جزیرہ العرب کے شمال میں ہے – عرب کے مغرب میں افریقہ ہے یعنی مصر سوڈان حبشہ نوبیا وغیرہ- اس  خغرافیائی حقیقت کو صرف نظر کر کے بعض لا علم علماء نے مغرب والی حدیث کو شام سے ملا دیا ہے – اس سے یہ معاملہ اور  الجھ جاتا ہے – الأجوبة المرضية فيما سئل السخاوي عنه من الأحاديث النبوية  میں سخاوی  لکھتے ہیں

أخرجه أبو يعلى والطبراني في الأوسط من حديث أبي صالح الخولاني عن أبي هريرة رضي الله عنه بلفظ: “لا تزال عصابة من أمتي يقاتلون على أبواب دمشق وعلى أبواب بيت المقدس وما حوله لا يضرهم خذلان من خذلهم”. الحديث – وعند مسلم من حديث أبي عثمان عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه بلفظ: “لا يزال أهل الغرب ظاهرين على الحق حتى تقوم الساعة” وذكر يعقوب بن شيبة عن علي بن المديني: إن المراد بالغرب الدلو، أي العرب بفتحتين، لأنهم أصحابها، لا يستقي بها أحد غيرهم، وقال غيره: المراد بالغرب أهل القوة والاجتهاد في الاجتهاد، يقال: في لسان غَرْب بفتح ثم سكون، أي حدة. قال شيخنا رحمه الله: ويمكن الجمع بين الأخبار، بأن المراد قوم يكونون ببيت المقدس وهي شامية ويستقون بالدلو، ويكون لهم قوة في جهاد العدو، وحدة وجد. انتهى.

اور ابو یعلی  اور طبرانی نے اوسط میں حدیث ابو صالح خولانی کی  ان کی ابو ہریرہ  کی سند سے تخریج کی ہے  جس میں الفاظ ہیں   امت میں ایک گروہ    دمشق کے دروازوں  پر قتال کرتا رہے گا  اور بیت المقدس کے درازوں  پر  اور اس کے گرد  – ان کو  گرانے والے نقصان  نہ دے  پائیں گے –  اور   صحیح مسلم میں    حدیث ہے سعد بن ابی وقاص  رضی اللہ  عنہ کی  اہل  غرب کو  زوال نہ ہو گا حق پر غالب  رہیں گے یہاں تک کہ قیامت برپا ہو- اور یعقوب بن شیبہ نے امام المدینی    کے حوالے سے ذکر کیا کہ غرب سے مراد   الدلو   (پانی کی ترسیل کرنے والے) ہیں یعنی عرب … کہ وہ  اس کے اصحاب ہیں  ان   سے پانی لیا جاتا ہے   اور دوسروں نے کہا  غرب سے مراد قوت والے ہیں اجتہاد والے – … ہمارے  شیخ   (ابن حجر )  کہتے ہیں    اور ان دونوں روایات  کو اس طرح ملایا جا سکتا ہے کہ اس سے مرد قوم ہے  جو بیت المقدس کی ہے اور یہ شامی ہیں اور دلو سے پانی پلاتے ہیں  اور یہ قوت والے ہیں جہاد میں  اپنے دشمن پر

البانی   الصحيحة (2/ 690) میں لکھتے ہیں

 وأعلم أن المراد بأهل الغرب في هذا الحديث أهل الشام

اور جان لو کہ  اہل غرب سے مراد  اس حدیث میں اہل شام ہیں

راقم کہتا ہے کیسے جان لیں کہ شمال اور مغرب کیا ایک ہیں ؟  سلفی علماء مدینہ کے مشرق میں نجد کو شمال میں عراق سے ملا دیتے ہیں یعنی ان کے نزدیک حدیث نجد میں  مشرق اور شمال ایک ہیں اور یہاں طائفہ منصورہ میں مغرب اور شمال ایک کر رہے ہیں – ان کو علم خغرافیہ پڑھنے کی اشد ضرورت ہے – جس شخص نے سفر کیے ہیں کعبه کی سمت میں نماز پڑھی ہو وہ کیا اس طرح سمتوں میں غلطی کرے گا ؟  یقینا یہ اپنے اپنے مولویوں کی آراء کو بچانا ہے

متضاد آراء

ائمہ
شام میں ایک گروہ

وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ

معاویہ رضی الله عنہ

صحیح مسلم صحیح بخاری

  اہل علم

 

ظَاهِرينَ عَلَى الحَقِّ يُقَاتِلُونَ”،

وَهُمْ أهْلُ العِلْمِ

امام بخاری
روم سے قتال کرنے والے –

هم أهل المغرب، إنهم هم الذين يقاتلون الروم.

امام احمد
اہل مغرب / اہل حدیث / أهل الغرب العرب

امام علی المدینی

دوسری طرف نیشاپور میں   امام  أَبُو زُرْعَةَ   اور  امام ابو حاتم   دونوں اس روایت کو منکر کہتے تھے- علل  ابن ابی حاتم میں ہے

عَنْ معاوية، عن النبيِّ (ص) قَالَ: لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي … . قَالَ أَبِي: فأنكرتُ ذَلِكَ، وأنكَرَه أَبُو زُرْعَةَ

وأعلمُ أَنَّ الحديثَ مُنكَرٌ  – جان لو یہ حدیث منکر ہے

سوال ہے اہل علم یا محدثین غلبہ میں کب رہے؟    اہل حدیث  یعنی     محدثین بھی اس حدیث کا مصداق نہیں ہیں  –   محدثین  کی تو خوب تذلیل ہوئی – امام احمد کو کوڑے لگے-  امام بخاری کو شہر نکالا ملا کسمہ پرسی میں شہر سے باہر ہلاک ہوئے-  محدثین کی عوام میں کوئی قدر و منزلت نہیں    عوام  نے کبھی   بھی حکومت  کے خلاف  لب کشانی نہیں کی   اور  بنو عباس کی   معتزلی حکومت   محدثین  کی مخالف رہی- محدثین  نے الٹا   عباسی خلفاء  کو  امیر المومنین  کہہ کر ہی مخاطب کیا ہے[1]

اس روایت کے بعض متن میں ہے کہ وہ شام والے ہیں یا کہا قیامت تک ہوں گے-  معلوم  ہے کہ صلیبی نصرانییوں   نے دو سو سال قبضہ شام پر کیا-  انگریر نے قبضہ کیا اور اب اس کے ایک جز پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور باقی پر نصیری فرقے کا قبضہ ہے لہذا یہ روایت قیامت تک کے حوالے سے ہے ہی نہیں-  راقم  کہتا  ہے ا س روایت  کے جس متن میں بھی قیامت کا ذکر ہو اس کی سند میں علت  ملی  ہے-

حقائق کو مد نظر رکھیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس طائفہ منصورہ کا تعلق بارہ خلفاء سے تھا جو الله کا حکم تھا  کہ  ایمان پھیلے گا اس کے مخالف مشرک و اہل کتاب اس کو پھیلنے سے نہیں روک سکیں گے – اور ان بارہ خلفاء کے ساتھ لڑنے والے طائفہ منصورہ تھے-

شام پر   سن ١٣١  ھ  میں  بنو عباس نے حملہ کیا اس وقت بارہ خلفاء گزر چکے تھے اور   طائفہ منصورہ معدوم ہو چکا تھا-   اس روایت کی شرح  میں    اس کا مصداق  اہل علم یا محدثین کہنا نہایت سطحی بات ہے – ایک گروہ کا ذکر ہے جو حق پر رہے گا اس کے مخالف اس کو نہیں گرا سکیں گے اور ساتھ ہی   دوسری احادیث  میں ہے   بارہ  خلفاء گزریں گے جن کو کوئی نقصان نہ دے سکے گا-  طائفہ منصورہ  اصل میں ان خلفاء کا مددگار گروہ تھا –

یہ خلفاء بیشتر بنو امیہ کے ہوئے جن کے ہمدرد اہل شام تھے اسی بنا پر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے بنی کہ یہ اہل شام ہیں جن کو مخالف (اہل کتاب و مشرک ) گرا نہ سکیں گے- صحیح سند سے بخاری کی روایت ہے

طائفہ منصورہ والی روایت کو آجکل   جیسا منہ ویسی بات کی طرح ہر کوئی اس کو اپنے اوپر فٹ کر دیتا ہے

جہادی کہتے ہیں یہ ہمارے لئے ہے

شامی کہتے ہیں ہمارے لئے ہے

فرقہ اہل حدیث کہتے ہیں ہمارے لئے ہے

صوفی کہتے ہیں ہمارے لئے ہے- یاد رہے کہ شام و یروشلم میں انبیاء کی قبروں پر امت معتکف ہے

اگر ہم فی الوقت ابو حاتم اور ابو زرعہ کی رائے اس حدیث پر چھوڑ کر امام بخاری کی صحیح کی حدیث کو لیں تو اس کی ایک تاویل ممکن ہے جس پر متن کو  صحیح سمجھا جا سکتا ہے – صحیح بخاری کی روایت ہے

 حَدَّثَنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، خَطِيبًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ» ,

حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کہتے ہیں انہوں نے معاویہ رضی الله عنہ کو سنا انہوں نے ہم کو خطبہ دیا اور کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا انہوں نے فرمایا الله جس کو خیر دینا چاہتا ہے اس کو دین میں سمجھ کا علم دیتا ہے  اور بے شک میں (علم) باٹنے والا ہوں اور الله (علم) عطا کرنے والا ہے اور یہ امت الله کے کام سے نہیں ہٹے گی  الله کے امر پر قائم رہے گی اس کو اس کی مخالفت کرنے والے نقصان نہ دے سکیں گے یہاں تک کہ الله کا امر آ جائے

راقم سمجھتا ہے کہ یہ روایت کنڈیشن ہے نہ کہ خبر – یعنی یہ امت غالب رہے گی اس کے مخالف اس کو نقصان نہ دے سکیں گے جب تک یہ امر الله پر قائم رہیں گے-  ایسا ١٢ خلفاء کا دور تھا شام میں – اس کے بعد مسلمانوں کی خلافت کی اینٹ بنو عباس نے بجا دی- اس کے بعد منگولوں نے اس کے بعد انگریزوں نے-   یاد رہے کہ محدثین کے نزدیک عباسی خلفاء صحیح عقیدہ پر نہ تھے-

روایت میں ہے اس امت اپنے مقام سے نہ ہٹے گی یہاں تک کہ الله کا امر آئے  اس میں امر کو قیامت لینے سے مفہوم بدل جاتا ہے-  لیکن اگر امر کو الله کا عذاب کا حکم لیا جائے تو کوئی اشکال نہیں رہتا   یعنی ترجمہ ہو گا

وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ» ,

یہ امت اپنے مقام سے نہ ہٹے گی الله کے حکم پر قائم (خلافت کھڑی) رہے گی – اس کے مخالف اس کو نقصان نہ دے سکیں گے یہاں تک کہ الله (کے عذاب) کا حکم آئے

عذاب  یعنی اغیار  کا امت کے وسائل پر کنٹرول  اور  ان پر جنگوں کا مسلط کرنا  –

 

الغرض معلوم ہو گیا کہ معاویہ رضی الله عنہ نے اس حدیث سے مراد اگر اہل شام لئے ہیں تو وہ وقتی بات تھی قیامت تک اس سے مراد نہیں تھی اور آج حقیقت حال بھی یہی ہے – البتہ فرقوں نے اپنے استحکام کے لئے معاویہ رضی الله عنہ کی بات کو رد کیا مثلا فرقہ اہل حدیث نے  ابن عبدالھادی المقدسی کی کتاب فضائل شام کا ترجمہ کیا تو اس میں اس حدیث کی تعلیق پر ص  ٥١ سے ٥٣  پر لکھا

اس طرح نہایت بے باکی سے معاویہ رضی الله عنہ کے قول  کو رد کیا کہ اس حدیث کا مفہوم عام ہے خاص نہیں ہے

راقم کہتا ہے بقول اھل حدیث  دین میں فہم صحابہ اگر فہم سلف سے ٹکرا جائے تو اصول یہ  ہے کہ فہم صحابہ کو حجت حاصل ہو گی لیکن یہاں وہ خود اس اصول کو توڑ رہے ہیں –  دور معاویہ میں حدیث بیان کرنے والے اس کو سمجھنے والے اصحاب تمام بلاد میں موجود تھے گویا اہل علم ہر مقام پر تھے لیکن پھر بھی معاویہ رضی الله عنہ نے اس حدیث کے مفہوم کو صرف شام پر خاص کیا ہے – لہذا اس کی صرف ایک ہی صحیح تاویل ہے کہ روایت  اصل میں ان بارہ خلفاء سے متعلق ہے جو  پے در پے قریش میں سے بنے اور ان کو ان کے مخالفین زد نہ  پہنچا سکے

صحیح مسلم

 بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، ذَكَرَ حَدِيثًا رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِنْبَرِهِ حَدِيثًا غَيْرَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَلَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جس کو چاہتا ہے دین کی سمجھ دیتا ہے مسلمانوں میں سے ایک گروہ حق پر قتال کرتا رہے گا اپنے دشمن پر غلبہ رکھے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے

تبصرہ

سند میں جعفر بن برقان  ضعیف ہے

قال ابن خزيمة لا يحتج به اس سے دلیل مت لینا

ذكره العقيلي وأبو القاسم البلخي في جملة «الضعفاء». اس کا ذکر ضعیف راویوں میں کیا گیا ہے

قال الساجي: عنده مناكير اس کے پاس منکر روایات ہیں

 أبو داود: وكان يخطئ على الزهري، وكان أميا

ابو داود نے کہا یہ امی تھا یعنی ان پڑھ تھا

محدثین نے کہا ہے کہ اس کی احادیث جو زہری سے ہوں ان میں غلطی ہوتی ہے

راقم کہتا ہے جو روایت زہری سے نہ ہو اس میں بھی غلطی کرے گا کیونکہ غلطی کرنا کوئی سوئچ نہیں  کہ غیر زہری سے روایت کے وقت بند تھا اور زہری سے روایت کے وقت اون تھا

=============================================================

[1]

صحيح بخاري کی روایت ہے

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُهْلِكُ النَّاسَ هَذَا الحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ» قَالَ: مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ

مجھ سے محمد بن عبدالرحيم نے بيان کيا ، کہاہم سے ابومعمر اسماعيل بن ابراہيم نے بيان کيا ، کہاہم سے ابواسامہ نے بيان کيا ، کہا ہم سے شعبہ نے بيان کيا ، ان سے ابوالتياح نے ، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہريرہ رضي اللہ عنہ نے بيان کيا کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا : اس قريش کا یہ محلہ لوگوں کو ہلاک وبرباد کردے گا ? صحابہ نے عرض کيا : اس وقت کے ليے آپ ہميں کيا حکم کرتے ہيں ؟ نبی صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا : کاش لوگ ان سے الگ رہتے ? محمود بن غيلان نے بيان کيا کہ ہم سے ابوداود طيالسي نے بيان کيا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبردي ، انہيں ابوالتياح نے ، انہوں نے ابوزرعہ سے سنا

مسند احمد میں امام احمد اس کو منکر کہتے ہیں

حدثنا محمَّد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح، قال: سمعت أبا زُرعة، يحدث عن أبي هريرة، عن النبي – صلى الله عليه وسلم -، قال: “يُهلكُ أمتي هذا الحيُّ من قريبٌ”، قالوا: في تأمُرُنا يا رسول الله؟، قال: “لو أن الناس اعتزلوهم”. [قال عبد الله بن أحمد]: وقال  أبي- في مرضه الذي  مات فيه: اضرب على هذا الحديث، فإنه خلافُ الأحاديث عن النبي – صلى الله عليه وسلم -، يعني قوله: “اسمعوا وأطيعوا واصبروا”.

ابو ہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ محلہ جلد ہی ہلاک کرے گا ہم نے پوچھا آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں اے رسول الله ! فرمایا کاش کہ لوگ ان سے الگ رہتے عبد الله بن احمد کہتے ہیں  میں نے اپنے باپ سے اس حالت مرض میں (اس روایت کے بارے میں) پوچھا جس میں ان کی وفات ہوئی احمد نے کہا اس حدیث کو مارو کیونکہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی احادیث کے خلاف ہے یعنی سمع و اطاعت کرو اور صبر کرو

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

17 − one =