شہادت حسین کی خبریں

 شہادت حسین کی خبریں جرح و تعدیل کے میزان میں

حسین رضی الله عنہ کی شہادت یزید بن معاویہ کے دور میں ہوئی جو خلافت کا قضیہ تھا – حسین اپنی خلافت کوفہ میں قائم کرنا چاہتے تھے لیکن وہ سپورٹ حاصل نہ کر پائے جو ان کی خلافت کو برقرار بھی رکھ سکے – لہذا انہوں نے اغلبا آخری لمحات میں خلافت کے ارادے کو ترک کیا اور اپنے قافلے کا رخ کوفہ کی بجائے شمال کی طرف موڑ دیا – یہاں تک کہ کوفہ سے ٤٠ میل دور کربلا پہنچ گئے اور یہیں شہید ہوئے جس پر امت ابھی تک غمگین ہے

قاتلین حسین پر الله کی مار ہو

أهل سنت کہتے ہیں خلیفہ کے خلاف خروج کرنا حرام ہے- ہر خروج کا مطلب قتال بالسیف ہے

خروج و فساد کی حد قرآن میں موجود ہے

اِنَّمَا جَزَآءُ الَّـذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَيَسْعَوْنَ فِى الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوٓا اَوْ يُصَلَّبُـوٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَيْدِيْـهِـمْ وَاَرْجُلُـهُـمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ۚ ذٰلِكَ لَـهُـمْ خِزْىٌ فِى الـدُّنْيَا ۖ وَلَـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْـمٌ (33)
ان کی یہی سزا ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے ہیں یہ کہ انہیں قتل کیا جائے یا وہ سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت ان کے لیے دنیا میں ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

یہ فساد برپا کرنے کی سزا ہے وہ جو خروج کرے اس کے ساتھ یہی کیا گیا اب چاہے کوئی بھی ہو

بنو امیہ اور بنو عباس نے اسی حد کو جاری کیا ہے ہر خروج کرنے والے کا قتل ہوا ہے ان کو قتل یا سولی دی گئی ہے
معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجر بن عدی پر خارجی کی حد جاری کی ہے اس کو قتل کیا ہے

اسی آیت کے تحت علی نے بھی اپنی خلافت میں ایک شخص کو سولی دی اور ائمہ اہل تشیع کے مطابق حاکم  اس کے تحت  الگ الگ حکم کر سکتا ہے

قال: ذلك إلى الامام إن شاء قطع وإن شاء صلب وإن شاء نفى وإن شاء قتل، قلت: النفي إلى أين؟ قال: ينفى من مصر إلى مصر آخر، وقال: إن عليا عليه السلام نفى رجلين من الكوفة إلى البصرة.

الکافی از کلینی باب حد المحارب

جب خلیفہ کی بیعت لی جا چکی ہو اور اس پر ٦ ماہ بھی گزر چکے ہوں تو خروج پھر وہ خروج ہے جس میں حد لگ جائے گی
حسین نے ٦ ماہ کے بعد خروج کیا ہے

افسوس اس بات کا ہے کہ یہ سب حسین کے ساتھ ہوا انہوں نے اپنی طاقت و عصبیت کے غلط اندازے لگائے اور پھنس گئے

ابن عباس حبر امت کو اس کا اندازا تھا کہ حسین کا اقدام کس قدر غیر سنجیدہ ہے

– المعجم الكبير از طبرانی میں ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَأْذَنَنِي حُسَيْنٌ فِي الْخُرُوجِ، فَقُلْتُ: لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي أَوْ بِكَ لَشَبَكْتُ بِيَدِي فِي رَأْسِكَ. قَالَ: فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ أَنْ قَالَ: «لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي حَرَمُ اللهِ وَرَسُولِهِ» . قَالَ: فَذَلِكَ الَّذِي سَلَى بِنَفْسِي عَنْهُ
(الطبرانی کبیر رقم2859 )
طَاوُسٍ، ابن عباس رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حسین نے مجھ سے خروج پر اجازت مانگی میں نے کہا اگر یہ نہ ہوتا کہ میں تمہارا استهزأ کر رہا ہوں میں اپنے ہاتھ سے تمہارے سر (کے بالوں) کو پکڑتا (یعنی زبردستی روکتا ) – حسین نے کہا تو (گویا) اپ نے اس (امر خلافت) سے مجھ کو دور کیا – اگر میں اس اور اس جگہ قتل ہو جاؤں تو یہ مجھے محبوب ہے کہ میں اس کو حلال کروں جس کو اللہ اور رسول نے حرام کیا ہے – ابن عباس نے کہا تو یہ تو پھر تم نے خود ہی ان کو پیچھے لگوایا
تاریخ الاسلام از الذھبی کے محقق عمر عبد السلام التدمري کہتے ہیں أخرجه الطبراني (2782) رقم (2859) ورجاله ثقات، وهم رجال الصحيح.

اسی جیسی روایت اخبار مکہ الفاکھی کی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: اسْتَشَارَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقُلْتُ لَهُ: لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي وَبِكَ لَنَشَبْتُ بِيَدِي فِي رَأْسِكَ، قَالَ: فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ بِأَنْ قَالَ: ” لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي مَكَّةُ “، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: فَذَاكَ الَّذِي سَلَّى بِنَفْسِي عَنْهُ ثُمَّ حَلَفَ طَاوُسٌ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ تَعْظِيمًا لِلْمَحَارِمِ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أَبْكِيَ لَبَكَيْتُ
ابن عبّاس رضی الله عنہ نے کہا حسین نے مجھے عراق کی طرف اپنے خروج پر اشارہ دیا – میں نے کہا اگر ایسا نہ ہو کہ میں کم تر کر رہا ہوں میں اپنے ہاتھ سے تمہارا سر پکڑتا – حسین نے جواب میں کہا: اگر میں وہاں یا وہاں قتل ہو جاؤں تو یہ مجھ کو اس سے محبوب ہے کہ میں مکہ کو حلال کر دوں- ابن عباس نے کہا تم نے پھر تم نے خود ہی ان کو پیچھے لگوایا – طاوس نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ ابن عباس سے بڑھ کر رشتہ داروں کی تعظیم کوئی کرتا ہو اور اگر میں چاہوں تو اس پر ہی روؤں

ان روایات میں سلی ہے جو عربی میں کھال اتارنے یا غلاف اتارنے پر بولا جاتا ہے – لسان عرب ج ١٤ ص ٣٦٩ میں ہے السَّلَى سَلى الشاةِ – بکری کی کھال اتاری جائے – سلّى نفسه کا مطلب اپنے اپ کو مشغول کرنا بھی ہو سکتا ہے- اس طرح سَلَّى بِنَفْسِي عَنْهُ کا مطلب ہو گا ان کو اپنے آپ میں مشغول کروایا یہ اردو میں کہہ لیں ان کو اپنے پیچھے لگوایا – یعنی اہل بیت کے بڑوں نے بھی حسین رضی الله عنہ کو سمجھایا

البدایہ و النہایہ از ابن کثیر اور تاريخ دمشق از ابن عساکر میں ایک روایت ہے جس میں ہے حسین نے ابن عباس سے اس کلام کے بعد کہا
إنّك شيخ قد كبُرتَ (مختصر تاريخ دمشق ، لابن منظور . (7 /142
بے شک ابن عباس تم اب بوڑھے ہو چکے ہو

یعنی حسین سوچ سمجھ کر نکلے اور واپس انے کا کوئی پلان نہ تھا اس لئے سب گھر والوں کو لے کر چلے گئے

 حسین اقتدار چاہتے تھے اسلام میں یہ کوئی برائی نہیں ہے – لیکن ٹیکنیکل غلطی ہے جب  موقعہ گزر جائے تو خلافت کا دعوی نہیں کیا جاتا

حسین اقتدار حاصل نہ کر سکے اسی لئے  ابن سبا  کے پیرو کاروں نے رجعت کا عقیدہ دیا کہ جو ابھی  مر گئے وہ  مستقبل زندہ ہوں گے واپس آئیں  گے بقول شاعر

حسین کو زندہ تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

ہم تک جو خبریں آئیں ہیں ان کو جرح و تعدیل کے میزان میں پرکھنا ضروری ہے

امت نواسوں کو قتل کرے گی

مسند احمد ج ١ ص ٨٥ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ، وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ، فَنَادَى عَلِيٌّ: اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، بِشَطِّ الْفُرَاتِ قُلْتُ: وَمَاذَا قَالَ؟، دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ، مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ؟ قَالَ: «بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ» قَالَ: فَقَالَ: «هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. فَمَدَّ يَدَهُ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا

علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس گیا تو (دیکھا) آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا کسی نے آپ کو ناراض کردیا ہے ؟ آپ کی آنکھوں سے آنسو کیوں بہہ رہے ہیں؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ میرے پاس ابھی جبریل (علیہ السلام) اُٹھ کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ حسین کو فرات کے کنارے قتل کیا جائے گا۔

سند میں عَبْدِ الله بْنِ نُجَيٍّ ہے جس کے امام بخاری فیہ نظر کہتے ہیں

اسی الفاظ سے ابن عدی کہتے ہیں من الحديث وأخباره فيها نظر اپنی حدیث اور خبر میں

فیہ نظر ہے

فیہ نظر محدثین جرح کے لئے بولتے ہیں

ایک رافضی لکھتے ہیں

جہاں تک یہ کہنا کہ فیہ نظر جرح کے لیے استعمال ہوتی ہے یہ بھی یاد رکھیں کہ جرح اگر مفسر نہ ہو، تو تعدیل کو اہمیت دی جاتی ہے یعنی آپ صرف کسی کو ضعیف بھی کہہ دیں،تو فائدہ تب ہی دے گا جب آپ وجہ بھی بیان کریں کہ کیوں ضعیف ہے۔ آیا حافظہ ٹھیک نہیں، جھوٹ بولتا ہےآخر وجہ کیا ہے اسے جرح مفسر کہتے ہیں

دیکھتے ہیں کہ کیا فیہ نظر کو جرح غیر مفسر کہا جاتا ہے

السیوطی کتاب تدريب الراوي میں وضاحت کرتے ہیں

تنبيهات الأول البخاري يطلق فيه نظر وسكتوا عنه فيمن تركوا حديثه

پہلی تنبیہ بخاری اگرکسی راوی پر فیه نظر کا اطلاق کریں اور سكتوا عنه کہیں تو مراد حدیث ترک کرنا ہے

کتاب التنكيل از الشيخ المعلمي کے مطابق

وكلمة فيه نظر معدودة من أشد الجرح في اصطلاح البخاري

اور کلمہ فیہ نظر بخاری کی شدید جرح کی چند اصطلاح میں سے ہے

اللكنوي کتاب الرفع والتكميل في الجرح والتعديل میں اس پر کہتے ہیں

فيه نظر: يدل على أنه متهم عنده ولا كذلك عند غيره

فیہ نظر دلالت کرتا ہے کہ راوی بخاری کے نزدیک متہم ہے اور دوسروں کے نزدیک ایسا نہیں

رافضی کہتے ہیں إس کو فلاں اہل سنت کے امام نے ثقہ کہا ہے! سوال ہے کیا اہل تشیع علماء میں راویوں پر اختلاف نہیں ہے اگر کوئی مجروح ہے تو کیا سب کے نزدیک مجروح ہے؟ یا ثقہ ہے تو کیا سب کے نزدیک ثقہ ہے؟

رافضی لکھتے ہیں

علامہ شوکانی نے اپنی کتاب در السحابہ، ص 297 پر لکھا کہ اس کے راوی ثقہ ہیں

شوکانی ایک وقت تھا جب زیدیہ سے تعلق رکھتے تھے اسی دور میں انہوں نے در السحابہ لکھی تھی

البانی الصحیحہ میں لکھتے ہیں

قلت: وهذا إسناد ضعيف، نجي والد عبد الله لا يدرى من هو كما قال الذهبي ولم
يوثقه غير ابن حبان وابنه أشهر منه، فمن صحح هذا الإسناد فقد وهم.

میں کہتا ہوں اس کی اسناد ضعیف ہیں نجی والد عبد الله کا پتا نہیں کون ہے جیسا کہ الذھبی نے کہا ہے اور اس کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے اور اس کا بیٹا اس سے زیادہ مشھور ہے اور جس کسی نے بھی اس کی تصحیح کی اس کو اس پر وہم ہے

البانی اس کے بعد اس کی چھ اسناد دیتے ہیں اور ان پر جرح کرتے ہیں اور آخر میں اس روایت کوصحیح (لغیرہ) بھی کہہ دیتے ہیں

کتاب أعيان الشيعة – السيد محسن الأمين – ج 4 – ص ٥٣ پر ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے شیعہ عالم محسن آمین لکھتے ہیں

قلت إنما رواه عن علي رجل مجهول يقال له عبد الله بن نجي

،میں کہتا ہوں اس کو علی سے ایک مجھول شخص نے روایت کیا ہے جس کو عبد الله بن نجی کہا جاتا ہے

محسن امین کی بات صحیح ہے کہ اہل تشیع کے ہاں یہ مجھول ہے اس کا ترجمہ تک معجم رجال الحديث از الخوئی میں نہیں

تاریخ دمشق ابن عساکر کی ایک اور روایت ہے

أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسين نا أبو الحسين بن المهتدي أنا أبو الحسن علي بن عمر الحربي نا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار نا عبد الرحمن يعني ابن صالح الأزدي نا أبو بكر بن عياش عن موسى بن عقبة عن داود قال قالت أم سلمة دخل الحسين على رسول الله (صلى الله عليه وسلم) ففزع فقالت أم سلمة ما لك يا رسول الله قال إن جبريل أخبرني أن ابني هذا يقتل وأنه اشتد غضب الله على من يقتله

ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حسین بن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) موجود تھے اورآپ رو رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل (علیہ السلام) نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی

اس کی سند میں موسى بن عقبة ہے جو ثقہ ہیں لیکن مدلس. داود مجھول ہے جس سے یہ روایت نقل کر رہے ہیں

معجم الکبیر طبرانی کی روایت ہے

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي، فَقَالَ: «لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا حُسَيْنٌ فِي حِجْرِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ حِينَ دَخَلَ، فَقَالَ: ” إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: تُحِبُّهُ؟ قُلْتُ: أَمَّا مِنَ الدُّنْيَا فَنَعَمْ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ “. فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ تُرْبَتِهَا، فَأَرَاهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُحِيطَ بِحُسَينٍ حِينَ قُتِلَ، قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قَالُوا: كَرْبَلَاءُ. قَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ

جبریل نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو کربلا کی مٹی دکھائی اور اس کو کرب و بلا کی زمیں کہا

اس کی سند میں عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَب ہے جو مجھول ہے

خواب میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو پریشانی میں دیکھنا 

مسند احمد کی روایت ہے

عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن دوپہر کو نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ کے بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود تھے، آپ کے ہاتھ میں خون کی ایک بوتل تھی ۔ میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، یہ کیا ہے ؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے ، میں اسے صبح سے اکٹھا کررہا ہوں

اسکی سند کا راوی عمار بن أبي عمار مولى بني هاشم مختلف فیہ ہے کتاب اکمال مغلطائی میں ہے

وقال البخاري: أكثر من روى عنه أهل البصرة…و لا یتابع علیہ

ابن حبان مشاہیر میں کہتے ہیں

وكان يهم في الشئ بعد الشئ

اسکو بات بے بات وہم ہوتا ہے

ابو داود کہتے ہیں شعبہ نے اس سے روایت لی لیکن کہا

وكان لا يصحح لي

میرے نزدیک صحیح نہیں

یحیی بن سعید کہتے ہیں شعبہ نے صرف ایک روایت اس سے لی

امام مسلم نےاس سےصرف ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم مکہ میں کتنے عرصے رہے

ام المومنین نے جنوں کا نوحہ سنا

طبرانی روایت کرتے ہیں کہ عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ کہتا ہے کہ

حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ: عَنْ عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ؛ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُوْلُ سَمِعْتُ الجِنَّ يَبكِيْنَ عَلَى حُسَيْنٍ، وَتَنُوحُ عَلَيْهِ

عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ نے کہا: میں نے ام سلمہ کو کہتے  سنا انہوں نے کہا  میں نے ایک جن کو سنا جو حسین پر رو رہے تھا اور  نوحہ کر رہا تھا

جبکہ ام سلمہ تو حسین کی شہادت سے پہلے وفات پا چکی ہیں

خود عمار کی ایک روایت جو صحیح مسلم میں ہے اس پر روافض جرح کرتے ہیں کہ اس میں ہے نبی صلی الله علیہ وسلم مکہ میں ١٥ سال رہے اور ان میں آٹھ سال تک کسی کو نہ دیکھا صرف روشنی دیکھتے رہے

جب صحیحین پر جرح کرنی ہوتی ہے تو روافض خود عمار بن ابی عمار کی روایت پیش کر دیتے ہیں اور جب وہ جنات کی خبریں دیتا ہے تو قبول کرتے ہیں

آسمان سے خون کی بارش ہونا

الأمالي – الشيخ الطوسي – ص 330
أخبرنا ابن خشيش ، قال : أخبرنا الحسين بن الحسن ، قال : حدثنا محمد بن دليل ، قال : حدثنا علي بن سهل ، قال : حدثنا مؤمل ، عن حماد بن سلمة عن عمار بن أبي عمار ، قال : أمطرت السماء يوم قتل الحسين ( عليه السلام ) دما عبيط

شیخ الطوسی روایت کرتے ہیں کہ عمار بن ابی عمار کہتا ہے کہ قتل حسین کے دن آسمان سے تازہ خون کی بارش ہوئی

خون کی بارش کا ذکر اہل سنت کی صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نہیں ہے عمار بن ابی عمار کی یہ قصہ گوئی ہے

عمار بن ابی عمار تو مدینہ میں تھا خون کی بارش ساری دنیا میں ہوئی؟ کہاں کہاں ہوئی؟ کس کس نے بیان کیا

مدینہ کا کوئی اور شخص اس کو نقل نہیں کرتا اگر کوفہ میں ہوئی تو اس کا فائدہ اس سے تو تمام شواہد مٹ گئے کس نے قتل کیا خون جب ہر طرف ہو گا تو مقتل کا نشان باقی نہ رہا

اتنا اہم ماحولیاتی تغیر اور اس خون سے جو فقہی مسائل پیدا ہوئے اور پینے کا پانی قابل استمعال نہ رہا اس پر کتب خاموش ہیں

لیکن لوگوں کو قصے پسند ہیں سن رہے ہیں اور قبول کر رہے ہیں

امت نے  کر بلا پر قتل کیا جیسا خبر تھی 

تاریخ دمشق ابن عساکر کی روایت ہے

أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا أبو محمد الحسن بن علي أنا أبو عمر محمد بن العباس أنا أبو الحسن أحمد بن معروف أنا الحسين بن الفهم أنا محمد بن سعد أنا محمد بن عبد الله الأنصاري نا قرة بن خالد أخبرني عامر بن عبد الواحد عن شهر بن حوشب قال أنا لعند أم سلمة زوج النبي (صلى الله عليه وسلم) قال فسمعنا صارخة فأقبلت حتى انتهيت إلى أم سلمة فقالت قتل الحسين قالت قد فعلوها ملأ الله بيوتهم أو قبورهم عليهم نارا ووقعت مغشيا عليها وقمنا

شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے پاس موجود تھا۔ میں نے حسین کی شہادت کی خبر سنی تو ام سلمہ کو بتایا ۔(کہ سیدنا حسینؓ شہید ہوگئے ہیں) انہوں نے فرمایا: ان لوگوں نے یہ کام کردیاہے، اللہ ان کے گھروں یا قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ اور وہ (غم کی شدت سے ) بیہوش ہوگئی

سند میں شہر بن حوشب ہے اس پر بحث آ رہی ہے

تاریخ دمشق ابن عساکر کی روایت ہے

أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا أبو محمد الحسن بن علي إملاء ح

وأخبرنا أبو نصر بن رضوان وأبو غالب أحمد بن الحسن وأبو محمد عبد الله بن محمد قالوا أنا أبو محمد الحسن بن علي أنا أبو بكر بن مالك أنا إبراهيم بن عبد الله نا حجاج نا حماد عن أبان عن شهر بن حوشب عن أم سلمة قالت كان جبريل عند النبي (صلى الله عليه وسلم) والحسين معي فبكى فتركته فدنا من النبي (صلى الله عليه وسلم) فقال جبريل أتحبه يا محمد فقال نعم قال جبرائيل إن أمتك ستقتله وإن شئت أريتك من تربة الأرض التي يقتل بها فأراه إياه فإذا الأرض يقال لها كربلا

شہر بن حوشب کہتا ہے کہ ام سلمة رضی الله عنہا نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور حسین ان کے ساتھ تھے پس وہ روئے…جبریل نے بتایا کہ اپ کی امت اس بچے کو قتل کرے گی اور اپ چاہیں تو میں وہ مٹی بھی دکھا دوں جس پر قتل ہونگے پس اپ صلی الله علیہ وسلم کو زمین دکھائی اور اپ نے اس کو كربلا کہا

ان دونوں روایات میں کی سند میں شہر بن حوشب ہے

النَّسَائِيُّ اپنی کتاب الضعفاء والمتروكون میں کہتے ہیں : لَيْسَ بِالقَوِيِّ، قوی نہیں .

ابْنُ عَدِيٍّ کہتے ہیں: لاَ يُحْتَجُّ بِهِ، وَلاَ يُتَدَيَّنُ بِحَدِيْثِهِ اس کی حدیث ناقابل دلیل ہے.

أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ کہتے ہیں: وَلاَ يُحْتَجُّ بِهِ، اس کی حدیث نا قابل دلیل ہے .

يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ: ثِقَةٌ کہتے ہیں.

عَبْدِ اللهِ بنِ عَوْنٍ، قَالَ: إِنَّ شَهْراً تَرَكُوْهُ اس کو متروک کہتے ہیں

الذھبی کہتے ہیں اس کی حدیث حسن ہے اگر متن صحیح ہو اور اگر متن صحیح نہ ہو تو اس سے دور رہا جائے کیونکہ یہ ایک احمق مغرور تھا

الذھبی کتاب سير أعلام النبلاء میں اس پر لکھتے ہیں

قُلْتُ: مَنْ فَعَلَهُ لِيُعِزَّ الدِّيْنَ، وَيُرْغِمَ المُنَافِقِيْنَ، وَيَتَوَاضَعَ مَعَ ذَلِكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ، وَيَحْمَدَ رَبَّ العَالِمِيْنَ، فَحَسَنٌ، وَمَنْ فَعَلَهُ بَذْخاً وَتِيْهاً وَفَخْراً، أَذَلَّهُ اللهُ وَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَإِنْ عُوْتِبَ وَوُعِظِ، فَكَابَرَ، وَادَّعَى أَنَّهُ لَيْسَ بِمُخْتَالٍ وَلاَ تَيَّاهٍ، فَأَعْرِضْ عَنْهُ، فَإِنَّهُ أَحْمَقٌ مَغْرُوْرٌ بِنَفْسِهِ.

اس سے سنن اربعا اور مسلم نے مقرونا روایت لی ہے

کتاب رجال صحیح مسلم از ابن مَنْجُويَه (المتوفى: 428هـ) کے مطابق

مسلم نے صرف ایک روایت کہ کھمبی ، من میں سے ہے لی ہے

طبرانی الکبیر میں قول ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ فِيمَنْ قَتَلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، ثُمَّ غُفِرَ لِي، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَمُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْظُرَ فِي وَجْهِي

ابراہیم بن یزید النخعی نے فرمایا:اگر میں ان لوگوں میں ہوتا جنہوں نے حسین بن علی کو قتل (شہید) کیا، پھر میری مغفرت کردی جاتی ، پھر میں جنت میں داخل ہوتا تو میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس گزرنے سے شرم کرتا کہ کہیں آپ میری طرف دیکھ نہ لیں۔

اس کی سند میں مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ ہے – الأزدي اس کو منكر الحديث کہتے ہیں ابن حجر صدوق کہتے ہیں

اسکی سند میں سعيد بن خثيم بن رشد الهلالى ہے جس ابن حجر ، صدوق رمى بالتشيع له أغاليط شیعیت میں مبتلا اور غلطیوں سے پر ہے ، کہتے ہیں

سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، أَبُو مَعْمَرٍ الْهِلالِيُّ الْكُوفِيّ اور اس کے استاد خالد دونوں کوالازدی نے منکر الحدیث کہا ہے
دیکھئے ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين از الذھبی

راویوں کا ہر قول نہیں لیا جاتا یہی وجہ ہے ابن عدی کہتے ہیں
سعيد بن خثيم الهلالي: قال الأزدي: منكر الحديث، وقال ابن عدي: مقدار ما يرويه غير محفوظ.
بہت کچھ جو سعید روایت کرتا ہے غیر محفوظ ہے

سند میں محمد بن عثمان بن أبي شيبة بھی ہے جس کو کذاب تک کہا گیا ہے دیکھئے میزان الاعتدال
از الذھبی
عبد الله بن أحمد بن حنبل فقال: كذاب.
وقال ابن خراش: كان يضع الحديث.
وقال مطين: هو عصا موسى تلقف ما يأفكون.
وقال الدارقطني: يقال إنه أخذ كتاب غير محدث

بحر الحال اس روایت کے صحیح ہونے یا نہ ہونے سے نفس مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ یہ ابراہیم کا قول ہے کوئی حدیث رسول نہیں ہے، ان کا قتل حسین سے کوئی تعلق نہ تھا

مشخیۃ ابراہیم بن طہمان کی روایت ہے

عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِيَ فَقَالَ: «لَا يَدْخُلُ عَلَيَّ أَحَدٌ فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَدَخَلْتُ، فَإِذَا عِنْدَهُ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَإِذَا هُوَ حَزِينٌ، أَوْ قَالَتْ: يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا لَكَ تَبْكِي يَا رَسُولَ ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ أَنَّ أُمَّتِي تَقْتُلُ هَذَا بَعْدِي فَقُلْتُ وَمَنْ يَقْتُلُهُ؟ فَتَنَاوَلَ مَدَرَةً، فَقَالَ:» أَهْلُ هَذِهِ الْمَدَرَةِ تَقْتُلُهُ “

ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس حسین بن علی موجود تھے اورآپ رو رہے تھے ۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی

سند میں عَبد الرحمن بن إسحاق (عَبد الرحمن بن إسحاق، وَهو عباد بن إسحاق وعباد لقب مديني) ہے جس کے لئے کتاب الكامل في ضعفاء الرجال کے ابن عدی مطابق

يَحْيى بن سَعِيد، قالَ: سَألتُ عن عَبد الرحمن بن إسحاق بالمدينة فلم أرهم يحمدونه.

یحیی بن سعید کہتے ہیں عبد الرحمان بن اسحاق کے بارے میں اہل مدینہ سے سوال کیا لیکن ایسا کوئی نہ تھا جو اس کی تعریف کرے

طبقات ابن سعد کے محقق محمد بن صامل السلمي جو مكتبة الصديق – الطائف اس روایت کے لئے کہتے ہیں

إسناده ضعيف.

معرفة الصحابة از ابو نعیم کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ» احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لَا يَدْخُلَنَّ أَحَدٌ ” قَالَ: فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَوَثَبَ حَتَّى دَخَلَ، فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى مَنْكِبَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: أَتُحِبُّهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَإِنَّ فِي أُمَّتِكَ مَنْ يَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ، فَأَرَاهُ تُرَابًا أَحْمَرَ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَصَرَّتْهُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهَا، قَالَ: كُنَّا نَسْمَعُ أَنَّهُ يُقْتَلُ بِكَرْبَلَاءَ

عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ کہتا ہے ہم سے ثابت نے بیان کیا وہ کہتے ہیں ان سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ بارش کے فرشتے نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس انے کی اجازت مانگی پس اس کو اجازت دی اس نے ام سلمہ سے کہا کہ دروازہ کی حفاظت کریں کہ کوئی داخل نہ ہو پس حسین آ گئے اور اندر داخل ہوئے اور رسول الله کے شانے پر بیٹھ بھی گئے تو فرشتہ بولا کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں رسول الله نے کہا ہاں فرشتہ بولا اپ کی امت میں سے کچھ اس کا قتل کر دیں گے اور اگر آپ چاہیں تو اس مکان کو دکھا دوں جہاں یہ قتل ہونگے اس نے ہاتھ پر ضرب لگائی اور سرخ مٹی آپ نے دیکھی جس کو ام سلمہ نے سمیٹ کر اپنے کپڑے میں رکھا کہا ہم سنتے تھے کہ یہ کربلا میں قتل ہونگے

سند میں عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ہے جس کو محدثین ضعیف کہتے ہیں الذھبی میزان میں لکھتے ہیں

قال البخاري: ربما يضطرب في حديثه.
وقال أحمد: له مناكير.
وقال أبو حاتم: يكتب حديثه ولا يحتج به.
وقال الدارقطني: ضعيف.
وقال أبو داود: ليس بذاك.
وقال أبو زرعة: لا بأس به.

البانی نے بھی اس کی روایت کو ضعیف کہا ہے مثلا ایک دوسری روایت پر الصحیحہ ج 5 ص ١٦٦ میں لکھتے ہیں

قلت: وهذا إسناد ضعيف
، عمارة بن زاذان صدوق سيء الحفظ

میں کہتا ہوں اس کی اسناد ضعیف ہیں اس میں عمارة بن زاذان ہے جو صدوق برے حافظہ والا ہے

اس مخصوص کربلا والی روایت کو البانی الصحیحہ میں ذکر کرتے ہیں

قلت: ورجاله ثقات غير عمارة هذا قال الحافظ: ” صدوق كثير الخطأ “. وقال
الهيثمي: ” رواه أحمد وأبو يعلى والبزار والطبراني بأسانيد وفيها عمارة بن
زاذان وثقه جماعة وفيه ضعف وبقية رجال أبي يعلى رجال الصحيح “.

میں کہتا ہوں اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے عمارہ کے ابن حجر کہتے ہیں صدوق ہے غلطیاں کرتاہے اور ہیثمی کہتے ہیں اس کو امام احمد ابو یعلی البزار اور الطبرانی نے جن اسانید سے روایت کیا ہے ان میں عمارہ ہے جن کو ایک جماعت نے ثقہ کہا ہے اور اس میں کمزوری ہے اور باقی رجال ابی یعلی کے رجال ہیں

البانی مبہم انداز میں اس کو رد کر رہے ہیں لیکن التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان وتمييز سقيمه من صحيحه، وشاذه من محفوظه میں کھل کراس روایت کی تعلیق میں لکھتے ہیں

صحيح لغيره

جبکہ دوسری تمام روایات کا ضعیف ہونا اوپر واضح کیا گیا ہے لہذا یہ صحیح الغیرہ نہیں ضعیف ہے

ام سلمہ رضي الله عنہا کي اوپر دي تمام احاديث ضعيف ہيں کيونکہ ان کي وفات حسين کي شہادت سے پہلے ہو گئي تھي
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَعْنِي فِي المَنَامِ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ ، قَالَ: “شَهِدْتُ قَتْلَ الحُسَيْنِ آنِفًا” هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

سلمی سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا سے رونے کا سبب پوچھا اور کہا : کس شے نے آپ کو گریہ وزاری میں مبتلا کر دیا ہے؟ آپ نے کہا : میں نے خواب میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی ہے . کا سر اور ریش مبارک گرد آلود تھی.میں نے عرض کی ، یارسول ،آپ کی کیسی حالت بنی ہوئی ہے ؟ رسول الله نے فرمایا: میں نے ابھی ابھی حسین کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے

ترمذی اور مستدرک الحاکم میں یہ روایت نقل ہوئی ہے

اس کی سند میں سَلْمَى الْبَكْرِيَّةِ ہیں

تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي میں مبارکپوری لکھتے ہیں

هَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ لِجَهَالَةِ سَلْمَى

سَلْمَى کے مجھول ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے

کتاب مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح کے مطابق

وَمَاتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ

اور ام سلمہ کی وفات ٥٩ ھ میں ہوئی

تاریخ کے مطابق حسین کی شہادت سن ٦١ ہجری میں ہوئی

ام سلمہ رضی الله عنہا کی وفات

ایک رافضی لکھتے ہیں

اب مستند روایات تو یہ کہہ رہی ہے کہ بی بی ام سلمہ اس وقت موجود تھیں، اور یہ ناصبی یہ ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ جناب وہ تو پہلے انتقال کر چکی تھیں

ڈھول ہم ہی نہیں شیعان بھی پیٹ رہے ہیں دیکھیں اور وجد میں آئیں

المعارف از ابن قتیبہ کے مطابق

وتوفيت «أم سلمة» سنة تسع وخمسين، بعد «عائشة» بسنة وأيام.

ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں عائشہ کے ایک سال بعد یا کچھ دن بعد وفات ہوئی

کتاب جمل من أنساب الأشراف از أحمد بن يحيى بن جابر بن داود البَلَاذُري (المتوفى: 279هـ) کے مطابق
وتوفيت أم سلمة فِي شوال سنة تسع وخمسين، ودفنت بالبقيع
ام سلمہ کی وفات شوال ٥٩ ھ میں ہوئی اور بقیع میں دفن ہوئیں

طبقات ابن سعد کے مطابق واقدی کہتا ہے ام سلمہ رضی الله عنہا کی وفات ٥٩ ھ ہے
طبقات ابن سعد ” 4 / 340، 341

ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جو خود حسین سے پہلے انتقال کر گئے

ابن قتیبہ واقدی اور البَلَاذُري کے لئے کہا جاتا ہے کہ ان کا میلان شیعیت کی طرف تھا حسن اتفاق ہے ان سب کا ام سلمہ کی وفات پر اجماع ہے کہ وہ ٥٩ ھ میں حسین سے پہلے وفات پا چکی ہیں

کتاب تلقيح فهوم أهل الأثر في عيون التاريخ والسير از ابن جوزی کے مطابق
فَتزَوج رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أم سَلمَة فِي لَيَال بَقينَ من شَوَّال سنة أَربع وَتوفيت سنة تسع وَخمسين وَقيل سنة ثِنْتَيْنِ وَسِتِّينَ وَالْأول أصح

پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا سن 4 ھ میں شوال میں کچھ راتیں کم اور ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی اور کہا جاتا ہے سن ٦٢ ھ میں اور پہلا قول صحیح ہے

ابن حبان ثقات میں کہتے ہیں
وَمَاتَتْ أم سَلمَة سنة تسع وَخمسين
ام سلمہ ٥٩ ھ میں وفات ہوئی

الباجی کہتے ہیں کتاب التعديل والتجريح , لمن خرج له البخاري في الجامع الصحيح
توفيت فِي شَوَّال سنة تسع وَخمسين فصلى عَلَيْهَا أَبُو هُرَيْرَ

ان کی وفات شوال سن ٥٩ ھ میں ہوئی ابو ہریرہ نے نماز پڑھائی

الذھبی تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں

وَقَالَ بَعْضُهُمْ: تُوُفِّيَتْ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ، وَهُوَ غَلَطٌ، لِأَنَّ فِي «صَحِيحِ مُسْلِمٍ» أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ دَخَلَ عَلَيْهَا فِي خِلافَةِ يَزِيدَ
اور بعض نے کہا ان کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی اور یہ غلط ہے کیونکہ صحیح مسلم میں ہے کہ عبد الله بن صفوان ان کے پاس داخل ہوا یزید کی خلافت کے دور میں

اسی کتاب میں [حَوَادِثُ] سَنَة تسع وخمسين میں الذھبی لکھتے ہیں
وَيُقَالُ: توفيت فِيهَا أم سلمة، وتأتي سَنَة إحدى وستين
اور کہا جاتا ہے کہ اس میں ام سلمہ کی وفات ہوئی اور آگے آئے گا کہ سن ٦١ ھ میں ہوئی

یہ الذھبی کی غلطی ہے صحیح مسلم کی معلول روایت میں ہے کہ راویوں نے ان سے ابن زبیر کے دور میں پوچھا جو ٦٤ ھ سے شروع ہوتا ہے

ابن اثیر الکامل میں لکھتے ہیں
وَمَاتَتْ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ، وَقِيلَ: بَعْدَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اور ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی اور کہا جاتا ہے حسین کے قتل کے بعد ہوئی

ابن کثیر البداية والنهاية میں لکھتے ہیں
وَمَاتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فِي ذِي الْقِعْدَةِ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ
البیہقی نے روایت کیا ہے کہ ام سلمہ کی وفات ذیقعدہ سن ٥٩ ھ میں ہوئی
اسی کتاب میں ابن کثیر لکھتے ہیں
قَالَ الْوَاقِدِيُّ: تُوُفِّيَتْ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ وَصَلَّى عَلَيْهَا أَبُو هُرَيْرَةَ.
وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ: تُوُفِّيَتْ فِي أيَّام يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
قُلْتُ: وَالْأَحَادِيثُ الْمُتَقَدِّمَةُ فِي مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا عَاشَتْ إِلَى مَا بَعْدَ مَقْتَلِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

واقدی کہتا ہے ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی ابو ہریرہ نے نماز پڑھائی
ابن ابی خیثمہ کہتا ہے ان کی وفات یزید کے دور میں ہوئی
میں کہتا ہوں اور شروع کی احادیث جو مقتل حسین کے بارے میں ہیں ان سے دلالت ہوتی ہے کہ یہ ان کے قتل کے بعد بھی زندہ رہیں

قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ام سلمہ کی وفات کے حوالے سے موقف ان روایات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے بدلا گیا جبکہ یہ خود تاریخ کے مطابق غلط ہیں

ایک رافضی جھوٹ کھلتا دیکھ کر اس قدر گھبرا کر لکھتے ہیں

اب یہ مستند روایت بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ بی بی ام سلمہ امام حسین کی شہادت کے وقت موجود تھیں۔ کسی کو اگر اس پر اعتراض ہے، تو اسے کوئی مستند روایت پیش کرنی ہو گی جو یہ ثابت کر سکے کہ ان کا اس وقت انتقال ہو چکا تھا۔ صرف مولویوں کی رائے پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں

لیکن خود اوپر دی گئی احادیث کی تصحیح کے لئے خود مولویوں شیخ شعیب الارناؤط ، احمد شاکر ، البانی کے اقوال پیش کرتے ہیں

ابن قتیبہ واقدی اور البَلَاذُري کے لئے کہا جاتا ہے کہ ان کا میلان شیعیت کی طرف تھا حسن اتفاق ہے ان سب کا ام سلمہ کی وفات پر اجماع ہے کہ وہ ٥٩ ھ میں حسین سے پہلے وفات پا چکی ہیں

ام۔ سلمہ کی وفات کی خبر سند سے ھی ان مورخین نے بیان کی ھ

ہماری نہیں تو اپنے شیعوں کی ہی مان لیں

خیران کےلینے اور دینے کے باٹ الگ الگ ہیں

خود ہی غور کریں اور عقل سلیم استعمال کریں

ام سلمہ خواب میں دیکھتی ہیں یا جن بتاتا ہے- کتنے راوی ان کی حالت نیند میں ان کے پاس ہی بیٹھے ہیں! ام المومنین پر جھوٹ بولنے والوں پر الله کی مار

ام المومنین کی خواب گاہ میں یہ منحوس داخل کیسے ہوئے؟

قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تمام روایات ضعیف ہیں – اسناد دین ہیں لہذا محدثین کی جرح کو قبول کرنا چاہیے -نہ کہ محبوب راویوں کو بچانے کے چکر میں تاریخ کو ہی مسخ کر دیا جائے

بہت سے محققین نے ان روایات کو صحیح کہا ہے مثلا البانی صاحب اور صرف ثقاہت کے الفاظ نقل کیے ہیں اس صورت میں یہ روایات صحیح سمجھی جاتی ہیں لیکن اس قدر جھوٹ آپ دیکھ سکتے ہیں ام سملہ سو رہی ہیں راوی ان کے پاس بیٹھے ہیں ان کو جن بتاتے ہیں وہ خواب میں دیکھتی ہیں وغیرہ وغیرہ

یہ راوی حسین کے ساتھ کوفہ کیوں نہ گئے کیا امام وقت کی مدد ان پر فرض نہ تھی؟

عیسائی عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسیٰ انسانیت کے گناہوں کی وجہ سے جان بوجھ کر سولی چڑھا کچھ اسی نوعیت کا عقیدہ ان راویوں نے بھی پیش کیا ہے کہ حسین کو خبر تھی وہ کوفہ میں قتل ہونگے اور وہ خود وہاں چل کر گئے- ظاہر ہے اسلام میں خودکشی حرام ہے اور اس بات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کی کربلا میں شہادت کی خبر دے دی تھی اور وہ اس کو جانتے ہوئے بھی وہاں گئے

بلکہ ان سب خبروں کے باوجود علی نے مدینہ چھوڑ کر کربلا کے پاس جا کر اپنا دار الخلافہ بنایا

الکافی کی روایت ہے

[5115] 7 – الكليني، عن علي، عن أبيه، عن ابن محبوب، عن عبد الله بن سنان قال سمعت أبا عبد الله (عليه السلام) يقول: ثلاث هن فخر المؤمن وزينة في الدنيا والآخرة: الصلاة في الليل ويأسه مما في أيدي الناس وولايته الامام من آل محمد (صلى الله عليه وآله وسلم). قال: وثلاثة هم شرار الخلق ابتلى بهم خيار الخلق: أبو سفيان أحدهم قاتل رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) وعاداه ومعاوية قاتل عليا (عليه السلام) وعاداه ويزيد بن معاوية لعنه الله قاتل الحسين بن علي (عليهما السلام) وعاداه حتى قتله (1).

امام جعفر الصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تین چیزیں مومن کے لیے دنیا و آخرت میں زینت ہیں: رات کو نماز پڑھنا، جو لوگوں کے ہاتھ میں ہے، اس سے دوری رکھنا، اور اہل بیت کے امام کی ولایت۔ اور تین ایسے شریر ترین لوگ ہیں کہ جن سے سب سے بہترین لوگوں کا ابتلا/آزمائش میں ڈالا گیا: ابو سفیان کے جس نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے جنگ کی اور دشمنی رکھی، معاویہ کہ جس نے علی سے جنگ کی، اور دشمنی رکھی، اور یزید جس پر اللہ کی لعنت ہو، حسین سے لڑا، ان سے دشمنی رکھی حتی کہ قتل کر دیا

اس روایت کے راوی عبد الله بن سنان بن طریف کے لئے النجاشی لکھتے ہیں

9 – عبد الله بن سنان بن طريف :
قال النجاشي : ” عبد الله بن سنان بن طريف مولى بني هاشم ، يقال مولى
بني أبي طالب ، ويقال مولى بني العباس . كان خازنا للمنصور والمهدي والهادي
والرشيد ، كوفي ، ثقة ، من أصحابنا ، جليل لا يطعن عليه في شئ ، روى عن أبي
عبد الله ( عليه السلام ) ، وقيل روى عن أبي الحسن موسى ، وليس بثبت . له كتاب
الصلاة الذي يعرف بعمل يوم وليلة ، وكتاب الصلاة الكبير ، وكتاب في سائر
الأبواب من الحلال والحرام ، روى هذه الكتب عنه جماعات من أصحابنا لعظمه
في الطائفة ، وثقته وجلالته .

عبد الله بن سنان بن طريف مولى بني هاشم بنی ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ہیں اور کہا جاتا ہے بنو عباس کے آزاد کردہ غلام تھے اور یہ عباسی خلیفہ المنصور کے المہدی کے الہادی کے اور الرشید کے خزانچی تھے کوفی اور ثقہ تھے قابل قدر ہمارے اصحاب میں سے کسی نے ان کو برا نہ کہا عبد الله علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ابی حسن موسی سے اور یہ ثابت نہیں ہے ان کی ایک کتاب الصلاه ہے جو دن و رات کے عمل کے لئے جانی جاتی ہے اور کتاب الصلاه کبیر ہے

عبد الله بن سنان نے چار خلفاء کے لئے کام کیا لیکن اس نام کے شخص کا تاریخ میں ذکر نہیں ملتا لیکن شیعہ روایات ایسی ہی ہیں

المنصور کا دور ١٣٦ ہجری سے شروع ہوتا ہے اور ہارون الرشید کا دور ١٩٢ ہجری پر ختم ہوتا ہے

جو شخص چار خلفاء کے لئے ایک اہم عہدے پر ہو اور اس کا ذکر تاریخ میں نہ ہو تو اس کو کیا کہا جائے

اثنا العشری شیعوں کا کہنا ہے کہ بنو عبّاس ان پر ظلم کرتے تھے لیکن یہاں تو خود ان کے مطابق عبد الله بن سنان ان کے خزانچی تھے جو الکافی کے راوی ہیں؟

سوچیں اور سبائی سوچ سےنکلیں

الله حسین پر اور ان کی ال پر رحم کرے

23 thoughts on “شہادت حسین کی خبریں”

  1. وجاہت says:

    امام ذھبی اپنی کتاب سير أعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ

    المَدَائِنِيُّ: عَنْ عَلِيِّ بنِ مُدْرِكٍ، عَنْ جَدِّهِ الأَسْوَدِ بنِ قَيْسٍ، قَالَ
    احْمَرَّتْ آفَاقُ السَّمَاءِ بَعْدَ قَتْلِ الحُسَيْنِ سِتَّةَ أَشْهُرٍ تُرَى كَالدَّمِ

    امام ذھبی نے یہاں پھر المَدَائِنِيُّ سے نقل کیا ہے

    اور المزي اپنی کتاب تهذيب الكمال في أسماء الرجال میں بھی لا یے ہیں

    وَقَال علي بْن مُحَمَّد المدائني، عَن عَلِيّ بْن مدرك، عن جده الأسود بْن قيس: أحمرت آفاق السماء بعد قتل الحسين بستة أشهر، نرى ذلك في آفاق السماء كأنها الدم. قال: فحدثت بذلك شَرِيكا، فقال لي: ما أنت من الأسود؟ ، قلت: هو جدي أَبُو أمي قال: أم والله إن كَانَ لصدوق الحديث، عظيم الأمانة، مكرما للضيف
    ———-

    اور اپنی کتاب تاریخ اسلام میں بھی لا یے ہیں

    وقال جرير بن عبد الحميد ، عن زيد بن أبي زياد قال : قتل الحسين ولي أربع عشرة سنة ، وصار الورس الذي في عسكرهم رمادا ، واحمرت آفاق السماء ، ونحروا ناقة في عسكرهم ، وكانوا يرون في لحمها النيران

    اور الثقات لابن حبان میں بھی آئ ہے

    ثنا بن قتيبة بعسقلان قال ثنا العباس بن إسماعيل مولى بنى هاشم قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال حدثتنا أم شوق العبدية قالت حدثني نضرة الأزدية قالت لما قتل الحسين بن علي مطرت السماء دما فأصبح جرارنا وكل شئ لنا ملأى دما

    اور بھی کی جگہ پر آئ ہے – کیا یہ لوگ اس کو صحیح سمجھتے تھے امام ذھبی اور ابن حبان کا اس کو اپنی کتابوں میں لانا سمجھ نہیں آیا

    1. Islamic-Belief says:

      امام ذھبی اپنی کتاب سير أعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ

      المَدَائِنِيُّ: عَنْ عَلِيِّ بنِ مُدْرِكٍ، عَنْ جَدِّهِ الأَسْوَدِ بنِ قَيْسٍ، قَالَ احْمَرَّتْ آفَاقُ السَّمَاءِ بَعْدَ قَتْلِ الحُسَيْنِ سِتَّةَ أَشْهُرٍ تُرَى كَالدَّمِ

      امام ذھبی نے یہاں پھر المَدَائِنِيُّ سے نقل کیا ہے

      اور المزي اپنی کتاب تهذيب الكمال في أسماء الرجال میں بھی لا یے ہیں

      وَقَال علي بْن مُحَمَّد المدائني، عَن عَلِيّ بْن مدرك، عن جده الأسود بْن قيس: أحمرت آفاق السماء بعد قتل الحسين بستة أشهر، نرى ذلك في آفاق السماء كأنها الدم. قال: فحدثت بذلك شَرِيكا، فقال لي: ما أنت من الأسود؟ ، قلت: هو جدي أَبُو أمي قال: أم والله إن كَانَ لصدوق الحديث، عظيم الأمانة، مكرما للضيف
      علی بن مدرک نے اپنے نانا اسود سے روایت کیا کہ آسمان کا افق قتل حسین کے بعد چھ مہینوں تک سرخ رہا آسمان ایسا لگتا کہ گویا خون ہو کہا اس کا ذکر شریک سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا تم تو اسود نہیں ہو؟ میں نے کہا وہ میرے نانا تھے کہا والله اگر یہ حدیث میں سچے تھے تو یہ عظیم امانت ہے کمزور کی تکریم ہے

      علی بن مدرک کے نانا جان مجہول ہیں – اغلبا آسمان کسی دم دار ستارے کے جانے سے ایسا لگا

      ———-

      کتاب تاریخ اسلام
      وقال جرير بن عبد الحميد ، عن زيد بن أبي زياد قال : قتل الحسين ولي أربع عشرة سنة ، وصار الورس الذي في عسكرهم رمادا ، واحمرت آفاق السماء ، ونحروا ناقة في عسكرهم ، وكانوا يرون في لحمها النيران
      زيد بن أبي زياد نے کہا حسین کے قتل پر ١٤ سال ہوئے اور…اور آسمان سرخ ہوا اور حسین کے لشکر میں اونٹ کو ذبح کیا گیا تو اس کا خون اور آسمان کا رنگ ایک تھا

      اغلبا یہ يزيد بن أبي زياد ہے جو ضعیف ہے – اسی سے جرير بن عبد الحميد نے روایت لی ہے
      زيد بن أبي زياد مجہول ہے
      ———-
      اور الثقات لابن حبان میں بھی آئ ہے

      ثنا بن قتيبة بعسقلان قال ثنا العباس بن إسماعيل مولى بنى هاشم قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال حدثتنا أم شوق العبدية قالت حدثني نضرة الأزدية قالت لما قتل الحسين بن علي مطرت السماء دما فأصبح جرارنا وكل شئ لنا ملأى دما
      نضرة الأزدية نے کہا جب حسین کا قتل ہوا آسمان سے خون کی بارش ہوئی .. اور ہر چیز میں خون مل گیا
      أم شوق العبدية اور ان کی باجی نضرة الأزدية دونوں مجہول ہیں

      —————-
      تاریخ الاسلام از الذھبی میں ہے
      وَرَوَى أَبُو شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ مَكَثْنَا أَيَّامًا سَبْعَةً، إِذَا صَلَّيْنَا الْعَصْرَ نَظَرْنَا إِلَى الشَّمْسِ عَلَى أَطْرَافِ الْحِيطَانِ، كَأَنَّهَا الْمَلَاحِفُ الْمُعَصْفَرَةُ، وَبَصَرْنَا إِلَى الْكَوَاكِبِ، يَضْرِبُ بَعْضُهَا بَعْضًا1
      عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ نے کہا جب حسین کا قتل ہوا سات دن گزرے جب ہم عصر پڑھتے اور سورج کو دیکھتے تو اس کے اس پاس ہم کو پیلاہی لگتی اور ہم پر تارے گزرے جو ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے

      -===========

      راقم کہتا ہے یہ دم دار ستارے تھے جو آج بھی گرتے نظر اتے ہیں اس کا کسی کے قتل سے کوئی تعلق نہیں
      صحیح حدیث میں ہے سورج و چاند کو گرہن کسی کی موت پر نہیں لگتا
      یعنی کسی کی موت پر کوئی آفاقی تبدیلی نہیں ہوتی

      بہر حال یہ روایات مھجولین کی اسناد سے ہیں – امام ذھبی اور ابن حبان نے اپنی ان کتابوں میں مجہولین سے بھی روایت لی ہے
      ابن حبان مجہول کو بھی ثقہ کہتے تھے جس کی بنا پر ان کی جانب سے کی گئی ثقاہت پر شبہہ رہا ہے اور اس پر علم حدیث کی کتب دیکھ سکتے ہیں

      1. وجاہت says:

        ابو شہر یار بھائی اچھا ہوتا اگر یہ لوگ یہ باتیں نہ لکھتے – بہرحال حال میں آپ سے متفق ہوں

  2. جزاک الله

    شہادت حسین رضی الله عنہ مسلمانوں میں ہمیشہ سے اختلافی موضوع اور سبائی افکار کا ایک شہکار رہا ہے- تاریخ اسلام میں اس سے بہتر نظریہ مسلمانوں کو لڑوانے کے لئے نہیں گھڑا گیا – شہادت حسین رضی الله عنہ کے خبروں کا , اگر بغور جائزہ لیا جائے – تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان خبروں کی اسنادی حیثیت جو زبان رسالت سے بیان ہوئیں انتہائی مشکوک ہیں اور ان سے قطع نظر اگر ان خبروں کو درایت کے پہلو سے پرکھا جائے تو بھی ان میں بہت جھول نظر آتے ہیں- اب یہی دیکھ لیں کہ واقعہ کربلا سے پہلے کتنے ہی ایسے واقیعات ہیں جو مسلمانوں کے لئے انتہائی آزمائش کا باعث بنے – جیسے حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کی شہادت کا سانحہ ، اس کے بعد عثمان رضی الله عنہ کی شہادت جو عظیم فتنہ اور مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرنے کا باعث بنی – پھر علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں متعدد خانہ جنگیں ، جمل و صفین وغیرہ جن میں ہزاروں صحابہ کرام و مسلمان اپنی جان کھو بیٹھے – لیکن ان تمام سے متعلق کسی ایک روایت میں بھی اس تفصیل سے نبی کریم صل الله علیہ وآ له وسلم کا خواب یا پیشنگوئی نہیں ملتی جیسے شہادت حسین رضی الله عنہ کی خبروں میں بیان کی جاتی ہے- حیرت ہے کہ آپ صل الله علیہ و آ له وسلم کو خواب میں حسین رضی الله عنہ کا مقام شہادت (کربلا), اس مقام کی مٹی اور خون حسین تک دیکھا دیا گیا- لیکن اصل قاتلین حسین رضی الله عنہ کو نہ خواب میں دکھایا گیا نہ جبریل امین نے آپ صل الله علیہ و آ له وسلم کو اس کی خبر دی. اور آج امّت اسی پر لڑ مر رہی ہے کہ آیا یزید بن معاویہ رحم الله ہی حسین رضی الله عنہ کے اصلی قاتل تھے یا یہ کسی اور کی کارستانی تھی- حالاں کہ بخاری کی صحیح روایت میں ہے کہ حسین رضی الله عنہ کے اصلی قاتل کوئی اور نہیں خود کوفی تھے

    موسی بن اسماعیل ، مہدی ، ابن ابی یعقوب ، ابن ابی نعیم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان سے ایک شخص نے مچھر کے خون کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا تو کہاں کا باشندہ ہے؟ اس نے کہا کہ عراق (کوفہ) کا رہنے والا ہوں ، ابن عمر نے فرمایا کہ اس آدمی کو دیکھو یہ مچھر کے خون کے متعلق پوچھتا ہے حالانکہ ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند (یعنی حسین) کو قتل کیا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ دونوں (حسن و حسین) دنیا میں میرے دو پھول ہیں
    (بخاری ، جلد ٣ ، کتاب الادب ، باب)

    1. Islamic-Belief says:

      صحیح کہا اپ نے

      شہادت حسین کی خبریں فریبی اور ڈھونگییوں نے بیان کی ہیں جن میں اسلامی دیومالائی تصورات ہیں – اصل اپ غور کریں تو راوی کا مدعا ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خبر کر دی تھی کہ ان کی امت مل کر علی کی اولاد کو قتل کرے گی

      صرف ام المومنین ام سلمہ رضی الله عنہا ان راویوں کو پسند ہیں – تمام روایات میں ان کا ہی ذکر ہے کوئی روایت نہیں ملی جس میں ہو کہ حفصہ یا عائشہ رضی الله عنہا نے خبر دی ہو

  3. صحیح فرمایا آپ نے

    ویسے بھی حسین رضی الله عنہ کے اصلی قاتل یہ خود رافضی ہی تھے -خود انہی کی کتابیں اس کی گواہ ہیں- ملّا باقر مجلسی اپنی کتاب جَلاءُ ألعُیون میں فرماتے ہیں کہ حضرت زین العابدین رحم الله نے جب کوفیوں کو حسین رضی الله عنہ کے قتل پر ماتم کرتے دیکھا تو کہا “لعنت ہے تم پر- میرے والد کے قتل پر ماتم کناں ہو جب کہ تم ہی نے انہیں قتل کیا

    ظاہر ہے اپنے قتل کو چھپانے کے لئے ایسی روایات کا سہارا چاہیے تھا جسے اہل سنّت بھی تسلیم کرتے – اسی لئے ام المومنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایات کو منسوب کیا گیا- جب کہ تاریخ کہتی ہے کہ وہ اس واقعہ سے پہلے ہی وفات پا چکی تھیں

  4. Aysha butt says:

    Musand ahmed ki hadith k siffin k mokay pr jab Hazrat Ali r.a darya jhn hussain ne shaheed hona tha guzry to ruky or roye or kha hussain sabr krna … Sahih riwayt hai

    1. Islamic-Belief says:

      مسند احمد کی روایت ہے

      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ، وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ، فَنَادَى عَلِيٌّ: اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللهِ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللهِ، بِشَطِّ الْفُرَاتِ قُلْتُ: وَمَاذَا قَالَ؟، دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ، مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ؟ قَالَ: ” بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ ” قَالَ: فَقَالَ: ” هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ؟ ” قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. فَمَدَّ يَدَهُ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا (1)

      سند میں عبد الله بن نجي مجہول ہے
      اور ابن معین کہتے ہیں اس کا سماع علی سے نہیں ہے
      ———

      سیوطی کی کتاب الخصائص الكبرى میں ہے
      وأخرج أبو نعيم عن يحيى الحضرمي أنه سافر مع علي إلى صفين فلما حاذى نينوى نادى صبرا أبا عبد الله بشط الفرات قلت ماذا قال إن النبي {صلى الله عليه وسلم} قال حدثني جبريل أن الحسين يقتل بشط الفرات وأراني قبضة من تربته

      اس کی سند میں يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ الْحَضْرَمِيُّ الْكُوفِيُّ ہے جو متروک ہے

  5. Behiqi ki riwayat hai dalail un nubawa jild 6 page 471mein k jis roz hussain ko shaheed kia gya us roz v
    Bayt ul maqdas mein har pathr k neechay taza khoon paya jata

    1. Islamic-Belief says:

      یہ طبرانی میں ہے کہ خلیفہ عبد الملک نے امام زہری سے پوچھا کہ تم کو کیسے پتا چلا حسین شہید ہو گئے؟ کہا میں بیت المقدس میں تھا اس پر ہر پتھر کے نیچے سے خون نکل رہا تھا
      حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، أَنَا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ: أَيُّ وَاحِدٍ أَنْتَ إِنْ أَخْبَرْتَنِي أَيُّ عَلَامَةٍ كَانَتْ يَوْمَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ؟ قَالَ: قُلْتُ: «لَمْ تُرْفَعْ حَصَاةٌ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهَا دَمٌ عَبِيطٌ» . فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنِّي وَإِيَّاكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَقَرِينَانِ

      أَبُو مَعْشَرٍ، ضعیف ہے
      —–
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مِهْرَانَ أَبُو خَالِدٍ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ لَمْ يُرْفَعْ حَجَرٌ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهُ دَمٌ عَبِيطٌ»

      أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ متروك الحديث

      =======

      تاريخ دمشق 11/ ق66 پر ابن عساکر کہتے ہیں

      أخبرنا أبو القاسم السمرقندي أنا أبو بكر محمد بن هبة الله أنامحمد بن الحسين أنا عبد الله نا يعقوب نا ابن بكير قال قال الليث: وفي سنة اثنتين وثمانين قدم ابن شهاب على عبد الملك

      امام الزہری سن ٨٢ ھ میں عبد الملک کے پاس پہنچے اور حسین کی شہادت ٦١ ھ میں ہوئی

      وبالإسناد السابق نا يعقوب قال سمعت ابن بكير يقول: مولد ابن شهاب سنة ست وخمسين

      امام الزہری سن ٥٦ ھ میں پیدا ہوئے یعنی زہری ٦ سال کے تھے اور یہ مدینہ میں ہی رہے اس کے بعد دمشق گئے
      لہذا یہ تمام قصہ جھوٹ ہے

  6. وسیم شاہ says:

    کیا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکومت ملنے پر قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لیا ؟
    کیا حسین رضی اللہ عنہ کو حکومت کی فوج نے شہید نہیں کیا ؟ اور اگر نہیں کیا تو وہ کیا کررہے تھے اس وقت ؟

    کیا یزید نے حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلین کو کوئی سزا دی ؟؟

    1. Islamic-Belief says:

      جب کوئی مجمع قتل کرتا ہے تو شواہد میں دیکھا جاتا ہے کہ کس نے کیا کردار ادا کیا اور سرغنہ کو ہی قتل کیا جاتا ہے کیونکہ فتنة أشد من القتل ہے – اس کے تحت فتنہ پردازوں میں سے کوئی بھی خلافت علی کے اختتام تک زندہ نہیں رہا تھا بلکہ تمام سردار جو قتل عثمان میں شریک تھے قتل ہوئے کوئی جنگ جمل میں کوئی صفین میں اور جو باقی بچے ان پر مصر میں حملہ کر کے ان کو قید کیا گیا پھر ان میں سے چند جیل توڑ کر بھاگ نکلے تو ان کا پیچھا جبل لبنان تک کیا گیا اور وہاں قتل ہوا- اس طرح قصاص عثمان مکمل ہوا

      ————–
      حسین کی شہادت کا واقعہ صحیح یا متصل سند سے معلوم نہیں ہے
      کربلا کے واقعات مقتل حسین سے بیان کیے جاتے ہیں جو ایک کذاب ابو مخنف لوط بن یحیی کے اقوال ہیں
      قاتلین کے نام جو لئے جاتے ہیں بھی ایک کذاب مختار ثقفی نے بیان کیے ہیں جو اصل میں ابن زبیر اور الولید بن عبد الملک کے دور کے عراق کے گورنر تھے
      مختار ثقفی کذاب تھا کہ خود حسین کے بھائی اور علی کے بیٹے عبید نے اس جنگ میں حصہ لیا جس میں مختار جہنم واصل ہوا
      اس طرح معلوم نہیں ہے کہ اصل قاتل کون تھے
      ——–
      خروج حسین کے وقت حکومت بلوا کو کنٹرول کر رہی تھی جو کوفہ میں ہوا لوگ قتل ہوئے بیت المال لوٹا گیا اور حسین کے کزن مسلم بن عقیل اس میں تھے پکڑے گئے اور قتل ہوئے

      حسین کو جب مسلم بن عقیل کا کوفی ہمدوردؤن کا علم ہوا وہ ان کی مدد کرنے کوفہ نہیں گئے بلکہ کوفہ کا رخ چھوڑ شمال کی سمت گئے اور کوفہ سے ٤٠ میل دور کربلا میں قتل ہوئے
      اس کا مطلب ہے کہ بنو امیہ کی فوج کو سب علم تھا ان کی نقل و حرکت کی خبر تھی لیکن وہ کسی بھی بغاوت کو کچلنے کے لئے تیار تھے
      بنو امیہ نے دیکھا کہ حسین کوفہ نہیں آ رہے تو انہوں نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا
      حسین کسی بھی خلافت کو اب قائم کرنے کے قابل نہیں رہے تھے ان کے عصبیت کی کمر ٹوٹ گئی تھی اور وہ تن تہنا تھے
      نہ مدینہ و مکہ واپس جا سکتے تھے کیونکہ رخت سفر ختم ہو چکا ہو گا
      بنو امیہ کو اب ان کا قتل کرنے مزید مسائل پیدا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ وہ کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں تھے
      ان کے صرف چند ہمدرد اور خاندان کے افراد رہ گئے تھے

      حسین کس طرح قتل ہوئے معلوم نہیں ہے – اہل سنت میں بعض کا کہنا ہے شیعہ ہمدردوں نے ہی قتل کیا

      یہاں قاتل نا معلوم ہیں اس لئے یہ ایک معمہ ہے

  7. Aysha butt says:

    Agr yazeed k hukm pr shahadt nai hoi hissain r.a ki toh unka sar kat k us k darbar mn paishkrny ka kiya tuk bnta hai…. Es la mutlb to yeh howa k bagawat pr yeh huk.dia tha us ny
    Isny basra ki governy ss mazoli de kr ibne zyd ko kufe q bejha tha jab wo janta

    tha k bnda sahih nai hai
    Tabri mn likha k phle yazeed khush phir pesheman??? Yeh kia chkr hai

    1. Islamic-Belief says:

      حسین ایک باغی تھے خروج کر رہے تھے – دنیا کی تمام حکومتین اس صورت حال میں یہی کرتی ہیں کہ سب سے تیز جنرل کو حکم کرتی ہیں کہ اس شہر کی طرف جاؤ
      یہاں بھی ایسا ہی ہے حسین کے ساتھیوں نے بیت المال لوٹا – کوفہ میں بلوا کیا اس کو ختم کرنا عوام کی جان بچانا کس کا کام ہے ؟ یہ حکومت کا کام ہے کہ عوام بچ جائیں اور باغی پکڑے جائیں
      خروج کا مطلب قتال بالسیف ہے یعنی حسین عراق آ کر کشت و خون ہی کرنے والے تھے وہ کوئی لڈو کھلا کر سب کو اپنی خلافت منوانے نہیں آئے تھے
      ان کی خلافت بر حق تھی یا نہیں ؟ اصحاب رسول کے نزدیک نہیں تھی اسی وجہ سے انہوں نے حسین کا ساتھ نہیں دیا
      حسین کا مقصد اس خلافت کو واپس حاصل کرنا تھا جو حسن تحفہ میں معاویہ کو دے گئے تھے – معاویہ نے ٹیکنیکل کام کیا کہ یزید کی بیعت کا حکم دیا جیسے علی نے حسن کی بیعت کا حکم دیا – حسین اس کے خلاف کچھ نہیں بول سکتے تھے کیونکہ یہی کام ان کے باپ نے کیا تھا اس لئے وہ چپ رہے لیکن کف افسوس ملتے رہے
      پھر جب یزید کو خلیفہ ہوئے ٥ یا ٦ ماہ ہو گئے تو انہوں نے خروج کیا جس پر ابن عباس کی تنقید معلوم ہے

      ——————

      باغی کوفہ کا رستہ چھوڑ کربلا کی طرف گئے اور عراق حسین کے لئے کوئی اجنبی مقام نہیں تھا یہاں وہ پہلی بار نہیں آئے تھے حسین نے عراق میں اپنے باپ کے ساتھ تین جنگیں لڑی ہیں ان کو معلوم تھا کہ کربلا کہاں ہے فرات کہاں ہے وہ بھاگ رہے تھے لیکن کوفی بھی ان کے ساتھ تھے اور حکومت کے اہلکار بھی ان پر نظر رکھے ہوئے تھے

      تاریخ طبری ج ٥ ص ٣٩٢ میں ہے
      وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ على ع كَتَبَ إِلَيْهِ أَهْلُ الْكُوفَةِ…. قَالَ حصين: فَحَدَّثَنِي هلال بن يساف أن ابن زياد أمر بأخذ مَا بين واقصة إِلَى طريق الشام إِلَى طريق الْبَصْرَة، فلا يدعون أحدا يلج وَلا أحدا يخرج، فأقبل الْحُسَيْن وَلا يشعر بشيء حَتَّى لقي الأعراب، فسألهم، فَقَالُوا: لا وَاللَّهِ مَا ندري، غير أنا لا نستطيع أن نلج وَلا نخرج، قَالَ: فانطلق يسير نحو طريق الشام نحو يَزِيد، فلقيته الخيول بكربلاء، فنزل يناشدهم اللَّه والإسلام، قَالَ: وَكَانَ بعث إِلَيْهِ عُمَر بن سَعْدٍ وشمر بن ذي
      الجوشن وحصين ابن نميم، فناشدهم الْحُسَيْن اللَّه والإسلام أن يسيروه إِلَى أَمِير الْمُؤْمِنِينَ، فيضع يده فِي يده، فَقَالُوا: لا إلا عَلَى حكم ابن زياد

      حصين بن عبد الرحمن السلمى ، أبو الهذيل الكوفى المتوفی ١٣٦ ھ نے أَبَو الْحَسَنِ هلال بن يساف الأشجعي سے روایت کیا کہا ابن زیاد نے حکم کیا کہ واقصة جو شام کے راستہ پر ہے اور پھر بصرہ کا رستہ ہے اس پر پہرہ رکھا جائے نہ کسی کو گزرنے دیا جائے نہ نکلنے – حسین آگے بڑھے ان کو اس چیز کا پتا نہیں تھا یہاں کہ بدوؤں سے ملے ان سے پوچھا بدوؤں نے کہا ہم کو پتا نہیں الله کی قسم آگے نہیں جا سکتے نہ نکل سکتے ہیں – پس حسین نے شام کا راستہ لیا یزید کی طرف – ان کی كربلاء پر گھڑ سواروں سے ملاقات ہوئی پس حسین نے ان گھڑ سواروں کو اسلام اور اللہ کی نصیحت کرنے لگے- حسین کے پاس عُمَر بن سَعْدٍ اور شمر بن ذي
      الجوشن اور حصين ابن نميم کو بھیجا گیا حسین ان کو اسلام اور اللہ کی نیصحت کرنے لگے کہ اگر وہ امیر المومنین تک حسین کو لے جائیں تو اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دیں گے- عُمَر بن سَعْدٍ اور شمر بن ذي
      الجوشن اور حصين ابن نميم نے کہا نہیں الا یہ کہ عیبد اللہ بن زیاد ایسا حکم کرے

      اس کی سند میں ثقات ہیں البتہ أَبَو الْحَسَنِ هلال بن يساف الأشجعي مدلس ہے اور اس روایت میں واضح نہیں کہ یہ تمام خبر اس کو کس نے دی – أَبَو الْحَسَنِ هلال بن يساف الأشجعي کا لشکر حسین میں شامل ہونا معلوم نہیں ہے نہ حسین سے اس کے سماع کا معلوم ہے البتہ محدثین کے مطابق اس نے علی کو دیکھا ہے سنا نہیں ہے
      ——-
      حسین کے قاتل صحیح سند سے معلوم نہیں ہیں اگر ہم وقتی تسلیم کریں کہ حکومت نے قتل کیا تو اس پر ایک اور روایت ہے جو تاریخ طبری کی ہے
      حسین کو کہا جاتا ہے کہ آپشن دیا گیا کہ وہ عبید الله بن زیاد کے ہاتھ پر آ کر بیعت کریں انہوں نے انکار کیا اس میں بلوا ہوا اور وہ قتل ہوئے
      سند ہے
      حديث عمار الدهني عن أبي جَعْفَر فَحَدَّثَنِي زكرياء بن يَحْيَى الضرير، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بن جناب المصيصي قَالَ:
      حَدَّثَنَا خَالِد بن يَزِيدَ بن عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيّ قَالَ: [حَدَّثَنَا عمار الدهني قَالَ:
      قلت لأبي جَعْفَر: حَدَّثَنِي عن مقتل الْحُسَيْن حَتَّى كأني حضرته،

      راقم کہتا ہے اس سند میں زكريا بن يحيى بن أيوب الضرير ہے جس کو ہیثمی نے کہا ہے لم أعرفه نہیں جانتا اور خطیب بغدادی نے اس کا ذکر کیا ہے جرح تعدیل نہیں کی ہے
      لہذا یہ مجہول الحال ہے

      یہ روایت ضعیف ہے لیکن اہل سنت کے مورخین کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے اس لئے آٹھویں صدی کے الذھبی نے اس کو محلہ صدق کہہ دیا ہے جبکہ متقدمین محدثین کے نزدیک یہ مجہول ہے – بہر حال اس کا متن ہے

      قَ قَالَ لَهُ الْحُسَيْن: اختر واحدة من ثلاث: إما أن تدعوني فأنصرف من حَيْثُ جئت، وإما أن تدعوني فأذهب إِلَى يَزِيد، وإما أن تدعوني فألحق بالثغور، فقبل ذَلِكَ عمر، فكتب إِلَيْهِ عُبَيْد اللَّهِ: لا وَلا كرامة حَتَّى يضع يده فِي يدي!] [فَقَالَ لَهُ الْحُسَيْن: لا وَاللَّهِ لا يكون ذَلِكَ أبدا] [، فقاتله فقتل أَصْحَاب الْحُسَيْن كلهم، وفيهم بضعة عشر شابا من أهل بيته،

      حسین نے کہا ان تین میں سے کوئی ایک چیز لو یا تو مجھے چھوڑو میں جہاں جا رہا ہوں جانے دو
      یا مجھے یزید کے پاس جانے دو ، یا سرحد پر جانے دو – اس کو عمر بن سعد نے تسلیم کر لیا اور ابن زیاد کو خط لکھا- اس نے جواب دیا ہرگز نہیں اس کی کوئی عزت نہیں اس کو میرے ہاتھ پر بیعت کرنی ہو گی- حسین نے جواب دیا الله کی قسم کبھی بھی نہیں

      یعنی حسین رضی اللہ عنہ بیعت کے لیے تیار نہ ہوئے اور شرط کو مسترد کر دیا جس پر لڑائی چھڑ گئی
      حسین یزید تک کیوں جانا چاہتے تھے یہ بھی واضح نہیں جب وہ بیعت کے لئے تیار ہی نہیں – یقینا ایک باغی کو امیر المومنین کے سامنے کرنے سے امیر المومنین یزید کی زندگی خطرے میں آ سکتی تھی – حسین سرحد پر اس لئے جانا چاھتے تھے کہ وہ ملک بدری اختیار کریں اور شمال میں جانا ظاہر کرتا ہے کہ وہ آرمینا کی طرف جا رہے تھے تاکہ اغلبا وہاں کسی اور حکومت کی مدد حاصل کر سکیں
      بیعت ہمیشہ گورنر کے ہاتھ پر ہوتی ہے الا یہ کہ خلیفہ سامنے ہو لہذا حسین کا ابن زیاد کے ہاتھ پر بیعت سے انکار اصل میں بیعت یزید سے مسلسل انکار ہے

      افسوس

      کُجھ شہر دے لوگ وِی ظالم سنَ ​
      کُجھ سانوں مَرن دا شوق وِی سی​

      ابن عباس نے حسین سے یہی کہا تھا خواہ ما خواہ أُولِي الْأَمْرِ کو اپنا مخالف مت بناو

      اہل سنت کے مورخین جھوٹ بولتے ہیں جب وہ ان شرائط پر دعوی کرتے ہیں کہ حسین خروج سے تائب ہو گئے تھے – اس کی کوئی دلیل نہیں ان کے نزدیک وہ سرحد پر جانا چاہتے تھے تاکہ جہاد کریں جبکہ ایسا روایت میں نہیں لکھا یہ ان کا اپنا خیال ہے – دوم حسین یزیدکے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتے تھے یہ بھی ثابت نہیں ہوا کیونکہ یہ بیعت گورنر کے ہاتھ پر ہوتی دمشق جا کر نہیں
      پہلے بیعت ہوتی پھر جہاں جانا چاہتے ان کو بھیجھا جا سکتا تھا
      ————-

      حسین کے اقدام خروج کو سند جواز صرف اس صورت میں ملے گا جب ہم ان کو امام من جانب الله مانیں یعنی عقیدہ امامت کو تسلیم کریں کہ ان الوحی ہوئی کہ یہ خروج کرو
      ———

      طبری نے یزید کے تاثرات کے سلسلے میں جو لکھا ہے وہ ابو مخنف کا قول ہے جو کذاب ہے

      1. السلام و علیکم و رحمت الله-

        آپ نے صحیح تجزیہ کیا ہے

        ============================================

        “حسین رحم الله کا مقصد اس خلافت کو واپس حاصل کرنا تھا جو حسن تحفہ میں معاویہ کو دے گئے تھے – معاویہ نے ٹیکنیکل کام کیا کہ یزید کی بیعت کا حکم دیا جیسے علی نے حسن کی بیعت کا حکم دیا – حسین اس کے خلاف کچھ نہیں بول سکتے تھے کیونکہ یہی کام ان کے باپ نے کیا تھا اس لئے وہ چپ رہے لیکن کف افسوس ملتے رہے

        ============================================

        دور حاضر کے مشھور موّرخ محمود احمد عباسی نے بھی تقریباً یہی بات لکھی ہے کہ

        واقعۂِ کربلا کی اصل تاریخ

        “حسین ؓنے اپنے خروج میں بڑی شدید غلطی کا ارتکاب کیا جس سے امّت میں تفرقہ اور اختلاف کا ایسا وبآلِ پڑا کہ الفت اور محبت کے ستون آج تک متزلزل ہیں۔ اس حادثہ کو اکثر مورخین نے اس انداز سے پیش کیا ہے جس سے ان کا مقصد لوگوں کے دلوں میں بغض کی آگ بھڑکا نہ ہے۔ واقعہ تو صرف اتنا ہی تھا کہ ایک شخص(یعنی حضرت حسینؓ)حکومت کی طلب میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اسکے حصول کے لئے جن اسباب و اعوان کی ضرورت ہوتی ہے وہ فراہم نہیں کر سکتا اور بغیر امر مطلوبہ حاصل کئے قتل ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے اس کے والد(حضرت علیؓ) بھی قتل ہو گئے تھے۔ لکھنے والوں کے قلم روکے نہیں جا سکتے ، انہوں نے حسین ؓکے قتل کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے جس سے عداوت کی آگ بڑھتی گئی۔ مگر یہ سب لوگ اب اللہ کے حضور پہنچ چکے ہیں وہی ان کے لئے کافی محاسبہ لے گا لیکن اس واقعہ سے تاریخ ایک عبرت دلاتی ہے اور وہ یہ کہ جو شخص بڑے کاموں کا ارادہ کرے تو مناسب تیاری سے پہلے ان کی جانب بڑھنا ٹھیک نہیں اور جب تک وہ اتنی قوت نہ حاصل کر لے کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے یا کم از کم اس کے قریب ہی ہو سکے تو اسے تلوار اٹھانا نہ چاہیے نیز اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے اسباب حقیقی طور پر موجود ہوں جو امّت کے لئے اصلاح طلب ہوں یعنی بین طور سے ناقابل برداشت ظلم ہو رہا ہو اور لوگوں پر اتنی تنگی ہو کہ وہ درماندہ ہوں مگر حسین ؓ نے یزید کی مخالفت اس حال میں کی تھی کہ امّت نے ان کی بیعت کر لی تھی اور حسین ؓکی مخالفت کے وقت امیر یزید کی جانب سے کسی طرح کے ظلم و ستم کا اظہار بھی نہیں ہو ا تھا۔

        لنک

        https://tehreemtariq.wordpress.com/2012/11/14/%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%DB%82%D9%90-%DA%A9%D8%B1%D8%A8%D9%84%D8%A7-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%84-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE-4/

        1. Islamic-Belief says:

          و علیکم السلام

          اس اقتباس کا شکریہ –

          میں نے عباسی صاحب کے تجزیے کو پہلی بار پڑھا ہے لیکن میں بھی اسی نتجہ پر پہنچا جس پر وہ تحقیق کے بعد پہنچے

          و للہ الحمد

      2. Aysha butt says:

        Ali ne hassan ko bnya kya yeh riwayt sahih hai..
        Jo moida hassn o mavia mn tha us mn toh khilaft unko wapis krni thi phir mavia ne khilafwarzi q ki

        Ik trf kaha ja rha hukomt ne marwaya yeh jo uper iqtabas likhy
        Phir kha un.k apne sathio ne mara.
        Jab hukmot ne mara to qatil kesy namollm hoye.
        Yazid ki moat kese hoi

        Or yazid k bete ne jo tabri mn hukmot chorne ki wajh likhi or kha k mera baap zaalim tha. Wo b galt hai kia

        1. Islamic-Belief says:

          علی نے حسن کو مقرر کیا یہ اہل سنت اور اہل تشیع میں متفقہ امر ہے

          اس کی تفصیل اپ کتاب میں دیکھ سکتی ہیں
          ——–
          معائدہ حسن اور معاویہ کے درمیان ہوا تھا
          معائدہ ختم ہو گیا کیونکہ حسن کی وفات معاویہ سے پہلے ہوئی
          لہذا معاویہ کس کو لوٹاتے حسین تو اس معائدہ میں شریک نہیں تھے
          ——–
          حکومت نے مارا یہ فرض کیا گیا ہے ایک مجہول کی سند پر جو میں نے اوپر ذکر کی اور نام کذاب نے لئے
          تو کیا ایک مجہول اور کذاب کہتے پر کوئی مقدمہ چلتا ہے ؟

          یزید کے بیٹے کی باپ کے غم میں جلد وفات ہوئی
          وَقَالَ عَوَانَةُ: اسْتَخْلَفَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ابْنَهُ مُعَاوِيَةَ بْنَ يَزِيدَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلا أَرْبَعِينَ يَوْمًا حَتَّى مَاتَ.
          وَحَدَّثَنِي عُمَرُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: لما استخلف مُعَاوِيَة بن يَزِيدَ وجمع عمال أَبِيهِ، وبويع لَهُ بدمشق، هلك بِهَا بعد أربعين يَوْمًا من ولايته
          اور ان کے پوتے خالد کو خلافت سے نہیں سائنس سے دلچسپی تھی -خالد نے اس بنا پر خلافت کو چھوڑ دیا
          تاریخ طبری میں یہ کہاں لکھا ہے میرا باپ یزید ظالم تھا ؟

  8. السلام و علیکم و رحمت الله

    مجھے مرزا حیرت دہلوی کی کتاب “شہادت” کی تلاش ہے جو ابھی تک نیٹ پر نہیں مل سکی- اس کتاب میں مصنف نے کربلا کا واقعہ سراسر جھوٹ ثابت کیا ہے- مصنف کے مطابق حسین رضی الله عنہ “جہاد قسطنطنیہ” میں شہید ہوے تھے- ناکہ میدان کربلا میں – (واللہ اعلم

    اگر کسی بھائی کے پاس اس کتاب کا لنک یا انفارمیشن ہو تو اس ای میل اڈریس پر فراہم کردیں

    jawad.saturn@gmail.com

    پیشگی شکریہ

    1. Islamic-Belief says:

      و علیکم السلام
      یہ کتاب میرے پاس نہیں – مل جائے تو مجھے بھی درکار ہو گی

  9. عمر بن سعد بن ابی وقاص کے بارے.میں آتا ہے کہ انہوں نے حسین رضی اللہ کو شہید کیا واقعہ کی وضاحت درکار ہے

    1. Islamic-Belief says:

      تاریخ طبری ج ٥ ص ٣٩٢ میں ہے
      وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ على ع كَتَبَ إِلَيْهِ أَهْلُ الْكُوفَةِ…. قَالَ حصين: فَحَدَّثَنِي هلال بن يساف أن ابن زياد أمر بأخذ مَا بين واقصة إِلَى طريق الشام إِلَى طريق الْبَصْرَة، فلا يدعون أحدا يلج وَلا أحدا يخرج، فأقبل الْحُسَيْن وَلا يشعر بشيء حَتَّى لقي الأعراب، فسألهم، فَقَالُوا: لا وَاللَّهِ مَا ندري، غير أنا لا نستطيع أن نلج وَلا نخرج، قَالَ: فانطلق يسير نحو طريق الشام نحو يَزِيد، فلقيته الخيول بكربلاء، فنزل يناشدهم اللَّه والإسلام، قَالَ: وَكَانَ بعث إِلَيْهِ عُمَر بن سَعْدٍ وشمر بن ذي
      الجوشن وحصين ابن نميم، فناشدهم الْحُسَيْن اللَّه والإسلام أن يسيروه إِلَى أَمِير الْمُؤْمِنِينَ، فيضع يده فِي يده، فَقَالُوا: لا إلا عَلَى حكم ابن زياد

      حصين بن عبد الرحمن السلمى ، أبو الهذيل الكوفى المتوفی ١٣٦ ھ نے أَبَو الْحَسَنِ هلال بن يساف الأشجعي سے روایت کیا کہا ابن زیاد نے حکم کیا کہ واقصة جو شام کے راستہ پر ہے اور پھر بصرہ کا رستہ ہے اس پر پہرہ رکھا جائے نہ کسی کو گزرنے دیا جائے نہ نکلنے – حسین آگے بڑھے ان کو اس چیز کا پتا نہیں تھا یہاں کہ بدوؤں سے ملے- ان سے پوچھا- بدوؤں نے کہا ہم کو پتا نہیں الله کی قسم آگے نہیں جا سکتے نہ نکل سکتے ہیں – پس حسین نے شام کا راستہ لیا یزید کی طرف – ان کی كربلاء پر گھڑ سواروں سے ملاقات ہوئی پس حسین ان گھڑ سواروں کو اسلام اور اللہ کی نصیحت کرنے لگے- حسین کے پاس عُمَر بن سَعْدٍ اور شمر بن ذي
      الجوشن اور حصين ابن نميم کو بھیجا گیا حسین ان کو اسلام اور اللہ کی نصیحت کرنے لگے کہ اگر وہ امیر المومنین تک لے حسین کو لے جائیں تو اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دیں گے- عُمَر بن سَعْدٍ اور شمر بن ذي
      الجوشن اور حصين ابن نميم نے کہا نہیں الا یہ کہ عبید اللہ بن زیاد ایسا حکم کرے

      اس کی سند میں ثقات ہیں البتہ أَبَو الْحَسَنِ هلال بن يساف الأشجعي مدلس ہے اور اس روایت میں واضح نہیں کہ یہ تمام خبر اس کو کس نے دی – أَبَو الْحَسَنِ هلال بن يساف الأشجعي کا لشکر حسین میں شامل ہونا معلوم نہیں ہے نہ حسین سے اس کے سماع کا معلوم ہے البتہ محدثین کے مطابق اس نے علی کو دیکھا ہے سنا نہیں ہے

      حسین کے قاتل صحیح سند سے معلوم نہیں ہیں

      دوسری روایت ہے
      حديث عمار الدهني عن أبي جَعْفَر فَحَدَّثَنِي زكرياء بن يَحْيَى الضرير، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بن جناب المصيصي قَالَ:
      حَدَّثَنَا خَالِد بن يَزِيدَ بن عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيّ قَالَ: [حَدَّثَنَا عمار الدهني قَالَ قلت لأبي جَعْفَر: حَدَّثَنِي عن مقتل الْحُسَيْن حَتَّى كأني حضرته،
      راقم کہتا ہے اس سند میں زكريا بن يحيى بن أيوب الضرير ہے جس کو ہیثمی نے کہا ہے لم أعرفه نہیں جانتا اور خطیب بغدادی نے اس کا ذکر کیا ہے جرح تعدیل نہیں کی ہے لہذا یہ مجہول الحال ہے – یہ روایت ضعیف ہے لیکن اہل سنت کے مورخین کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے اس لئے آٹھویں صدی کے الذھبی نے اس کو محلہ صدق کہہ دیا ہے جبکہ متقدمین محدثین کے نزدیک یہ مجہول ہے – بہر حال اس کا متن ہے
      قَالَ لَهُ الْحُسَيْن: اختر واحدة من ثلاث: إما أن تدعوني فأنصرف من حَيْثُ جئت، وإما أن تدعوني فأذهب إِلَى يَزِيد، وإما أن تدعوني فألحق بالثغور، فقبل ذَلِكَ عمر، فكتب إِلَيْهِ عُبَيْد اللَّهِ: لا وَلا كرامة حَتَّى يضع يده فِي يدي!] [فَقَالَ لَهُ الْحُسَيْن: لا وَاللَّهِ لا يكون ذَلِكَ أبدا] [، فقاتله فقتل أَصْحَاب الْحُسَيْن كلهم، وفيهم بضعة عشر شابا من أهل بيته
      حسین نے کہا ان تین میں سے کوئی ایک چیز لو یا تو مجھے چھوڑو میں جہاں جا رہا ہوں جانے دو
      یا مجھے یزید کے پاس جانے دو ، یا سرحد پر جانے دو- اس کو عمر بن سعد نے تسلیم کر لیا اور ابن زیاد کو خط لکھا- اس نے جواب دیا ہرگز نہیں اس کی کوئی عزت نہیں اس کو میرے ہاتھ پر بیعت کرنی ہو گی- حسین نے جواب دیا الله کی قسم کبھی بھی نہیں
      یعنی حسین رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اور بیعت کو مسترد کر دیا جس پر لڑائی چھڑ گئی-

      سند میں مجہول ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

eighteen − one =