دور نبوی کے ادیان باطلہ

  تمام  انبیاء و رسل ، اولیاء اللہ  ، ربانی  اہل  کتاب  کا دین اسلام تھا – اب چاہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم کی بعثت سے صدیوں  پہلے کے ہوں – یعنی  وہ دین  جو  آدم  علیہ السلام سے چلا  آ رہا ہے وہ دین، وہی ہے جس  کا  حکم  تمام بعد کے انبیاء  نے کیا ہے –  اس کو اسلام  کہا  جاتا ہے  –  اسلام  کا مطلب  شریعت  محمد ہی نہیں ہے بلکہ  شریعت  موسوی بھی اسلام ہی  ہے ، یہودیت نہیں ہے – قوم موسی کے مومن  مسلم  تھے – بنی اسرائیل  میں سے   عیسیٰ  کے  حواری بھی  مسلم تھے –  یعنی یہ سب دین اسلام پر عمل پیرا  تھے  –  اگرچہ عیسیٰ  علیہ السلام کے حواری ،  ہیکل سلیمانی میں جا کر سوختی  قربانی دیتے یا  مناسک ہیکل بجا  لاتے تھے  اور کعبہ کی  طرف نہیں بلکہ ہیکل سلیمانی کی طرف منہ  کر کے نماز پڑھتے تھے ، قرآن  میں ان سب کو مسلم  کہا  گیا ہے – معلوم ہوا   شریعت  کا ظاہر  الگ  تھا  لیکن باطن ایک تھا –

  اس دین  سے جو روز الست سے   چلا آ رہا  ہے ،  الگ  ہو  جانے والے  فرقہ ہیں – سورہ ال عمران ١٩ میں ہے

اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّـٰهِ الْاِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَهُـمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَـهُـمْ ۗ وَمَنْ يَّكْـفُرْ بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ فَاِنَّ اللّـٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ  

بےشک دین اللہ کے ہاں اسلام  ہی ہے، اور جنہیں کتاب دی گئی تھی انہوں نے صحیح علم ہونے کے بعد آپس کی ضد کے باعث اختلاف کیا، اور جو شخص اللہ کی آیات  کا انکار کرے تو اللہ جلد ہی حساب لینے والا ہے۔

اب جب دین   ایک ہی قابل قبول ہے تو وہ اسلام ہے –  قرآن سورہ الانعام  میں ہے

 إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ

وہ جنہوں نے  اپنے دین میں فرقے  کیے   اور گروہوں  میں  بٹ گئے   ان سے  آپ کا کوئی سروکار  نہیں ہے – ان  کا فیصلہ  اللہ پر ہے ، پھر  وہ ان کو بتائے  گا کہ انہوں نے کیا  کارگزاری کی 

عرف  عام  میں ہم  یہودیت، نصرانیت  وغیرہ  کو ہم  الگ  دین کہتے ہیں  لیکن قرآن کی ڈکشنری  میں یہ  فرقے ہیں  جو اصل  صراط سے ہٹ   گئے ہیں

یہود کے نزدیک  توریت  آخری  منزل من اللہ کتاب ہے اور  آخری  نبی ملاکی

Malachi

ہے   جس  کا دور سن ٤٢٠ ق م کا کہا  جاتا ہے –  راقم   کے نزدیک  بائبل کی کتاب جو اس نبی سے منسوب  ہے گھڑی ہوئی ہے –   قتل  انبیاء  و رسل  کو  یہودی حلقوں میں  فخر  و افسوس دونوں طرح بیان کیا جاتا ہے – یہود کے نزدیک  اصل اہمیت  اس بات کی  ہے کہ یہود  تمام قوموں  میں اللہ  تعالی کے پسندیدہ ہیں  اور  اللہ نے ارض  مقدس ان کے نام  لکھ دی ہے – یہود کے مطابق  ان کے بعض  سفھاء  و جہلاء  نے انبیاء  و رسل کا قتل کیا جس کی بنا پر ان پر عذاب آیا  جو بابل و اشوری قوم کی طرف سے ان کا   حشر  اول   تھا  یعنی  یہود کو جمع کیا گیا ان کی زمین سے نکالا گیا  –   یہود کے نزدیک حشر  دوم   عذاب نہیں آزمائش  تھا کیونکہ  اس  دور میں  انہوں نے کسی اللہ کے  رسول  کا قتل نہ کیا ( یاد رہے کہ عیسیٰ   ان کے نزدیک رسول و پیغبر نہیں ہیں ) بلکہ بعض لوگوں  نے مسیح کے ظاہر  ہونے  کا جلد گمان  کیا  اور وقت سے  پہلے ان کے  مجاہدوں   نے رومی فوج  کے خلاف  خروج کر دیا  یہ سوچ کر کہ دور خروج   مسیح  آ گیا ہے –  وقت  خروج  کے تعین  میں  اس صریح   غلطی کی وجہ سے  رومی ، یہود  پر  غالب آئے – ہیکل سلمانی فنا  ہو گیا ، یہود  کا حشر  دوم ہوا –  یہود کے مطابق   وہ ابھی بھی اللہ کے محبوب  ہیں اور جہنم میں نہیں  جائیں گے  اگر گئے بھی تو سات دن سے زیادہ نہیں جلیں گے –

عیسیٰ  و  محمد  صلی اللہ علیھما   یہود  کے نزدیک  جھوٹے  انبیاء  تھے  اسی لئے تلمود کے مطابق   عیسیٰ کو رجم کر دیا گیا اور   خیبر  میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا  – احمق  راویوں  نے بیان کیا کہ اسی  زہر کے زیر اثر  وفات النبی  ہوئی  جبکہ یہ جھوٹ ہے

قرآن  میں اس کا صریح  رد ہے کہ عیسیٰ  کا قتل ہوا – قرآن میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام  کا رفع  ہوا ان کو زندہ حالت نیند  میں آسمان پر  اٹھا لیا گیا

صابئی

Sabians

کے نزدیک ان  کا مذھب  شیث بن آدم  و نوح  علیھما السلام  سے اتا ہے –  یہ انوخ کی نبوت کے بھی قائل ہیں –  کہا جاتا  ہی کہ ان کے نزدیک  آخری پیغمبر یحیی علیہ السلام   تھے اور آخری منزل من اللہ کتاب زبور ہے – یہ  لوگ عراق  میں آج بھی  آباد ہیں- البیرونی کے مطابق یہ  یہودی قبائل تھے جو غلام بنا کر  بابل  لائے  گئے تھے – وہاں یہ جادو و کہانت سے متاثر  ہوئے – اصل توریت کو کھو بیٹھے –  صابئیوں  پر معلومات  کا مصدر  صرف  ایک کتاب  ہے   جس کا نام ہے

الفلاحة النبطية   یا   الزراعة النبطية

 The Nabataean Agriculture

ہے – جو  أبو بكر أحمد بن علي بن قيس  المعروف  ابن وحشية النبطي کی تالیف ہے- کہا  جاتا  ہے کہ یہ سن ٢٩١ ھ  میں لکھی گئی تھی –  یہ کتاب   صلاح الدین  ایوبی  کے   طبیب   یہودی  حبر    میمونید

Maimonides

کے پاس بھی تھی اور اس نے بھی اس کے حوالے  اپنی کتب میں دیے ہیں

راقم البیرونی کی رائے سے متفق نہیں ہے – صابئی  کو روحانیون بھی کہا  جاتا ہے  – یہ عقیدے رکھتے ہیں کہ جو چیز آسمان میں ہے اور زمین پر اتی ہے اس کی روح ہے مثلا شہاب یا قوس قزح یا ستاروں و سیاروں میں روح ہے اور اہرام مصر انبیاء کی قبروں پر ہیں

مجوس  کے نزدیک  آخری  نبی فارس  میں زرتشت  تھے – ان کے اقوال کا مجموعہ   اوستا ہے –  مقدس آگ  رب نہیں ہے مظہر  الہی ہے ، قبلہ نما ہے  جس کو مخصوص طریقہ سے جلایا جاتا ہے –  –  مجوس  کا لفظ اصل میں فارسی میں   مگوس  ہے  ( جو معرب  ہوا تو مجوس ہوا )  – مگؤس سے ہی  میگی

Magi

کا لفظ نکلا ہے  یعنی آتش   پرست – نصرانیوں  کے نزدیک یہ علم ہیت سے واقف تھے اور   انجیل میں ذکر ہے کہ پیدائش عیسیٰ پر   ستارہ بیت لحم  پر  ظاہر ہوا اور تین مگؤس   وہاں اس ستارہ کو دیکھتے دیکھتے پہنچے  (گویا مجوس بھی منتظر  مسیح  تھے) پھر انہوں نے تحائف  عیسیٰ علیہ السلام کو عطا کیے جس طرح ایک  بادشاہ کو دیے جاتے ہیں –

انگریزی میں  میگی  کا لفظ   میجی بھی ہوا اور اسی سے میجک یعنی جادو  کا لفظ نکلا ہے

 دور  عمر  میں فتح فارس  ایک روایت کے مطابق   مجوس  کے علماء کو جادو  گر قرار دے کر قتل کر دیا گیا تھا

امام شافعی اور دیگر فقہاء   نے  مجوس و صابئیوں  کا شمار اہل کتاب میں کیا ہے  ان کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا ہے

نصرانی   (الله کی پناہ) کہتے ہیں کہ عیسیٰ رب ہے – الله  کا ایک جز  (الروح آیلوھم / نور   ) عرش سے زمین تک  آیا –  ایک عورت کو حمل رکھوا دیا اور پھر اس کا وجود کا حصہ عالم بشری میں پیدا ہوا-  اس طرح عیسیٰ کو رب کہتے ہیں آج کل یہی نصرانی مذھب ہے

دور نبوی میں یا اس سے پہلے ایک فرقہ تھا جو کہتا تھا کہ عیسیٰ الله کا منہ بولا بیٹا تھا،  انسان ہی تھا  لیکن یہ فرقہ عام  نصاری کے نزدیک بدعتی تھا اور اب معدوم ہے- قرآن  میں اس کا بھی رد ہے

نصرانیوں کے نزدیک الله  تعالی  خود کو تین اقانیم   ثلاثہ   میں منقسم کرتا ہے  – اس کو لاھوت  کا  ناسوت  میں جانا کہتے ہیں – قرآن  کے مطابق  اللہ  تعالی  کے تین ٹکڑے کرنا کہ کہنا کہ   رب تعالی :   روح القدس اور عیسیٰ اور الله  ہے – یہ کفر ہے   اور اس میں شرک بھی ہے-  اس عقیدے  کو سورہ  المائدہ  میں کفر   کہا گیا  ہے کہ  نصرانیوں  نے کہا الله تو اب تین میں سے ایک  ہے- یہ عقیدہ  آجکل تمام نصرانیوں  کا ہے

سوال اٹھتا ہے کہ اگر یہی عقیدہ صحیح تھا تو اللہ  تعالی  نے توریت  میں اس کا ذکر  کیوں نہ کیا ؟ اس اشکال  کا جواب نصرانی علماء  اس طرح دیتے ہیں کہ   یہود کی کم  عقلی کی وجہ سے اصل مذھب موسی نے توریت میں نہیں بتایا تھا کہ الله تین کا ایک ہے بلکہ اس میں ایک ہی  رب کا ذکر کیا گیا  لیکن اشارات  چھوڑے  گئے کہ  رب منقسم ہوتا ہے – نصرانیوں نے  اپنے فلسفہ سے  الله  تعالی کی ذات کے تین حصے کیے اور کہا کہ یہ تین رب نہیں،  ایک ہی ہیں،  صرف متشکل تین طرح ہوتے ہیں-  یعنی الله تو ایک ہی ہے لیکن ظہور الگ الگ ہے-  آج کل  نصرانی عامیوں  کی جانب سے اس کی مثال پانی سے دی جاتی ہے کہ پانی  زندگی ہے  جو  بھاپ ہے ، مائع ہے اور برف بھی ہے-   الله نے اس  عقیدے کو کفر کہا

 نصرانی اپنے مذھب کا شمار

Monotheism

یا توحیدی مذھب میں کرتے ہیں – جو ان کی خود فریبی ہے-  یعنی یہ بھی مانتے ہیں کہ الله کی تین شکیں یا ظہور یا تجلیات ہیں لیکن اس کو ایک ہی رب بھی کہتے ہیں –  نصرانی  عبادت  میں  پطرس کا اور اپنے اولیاء  کا وسیلہ بھی لیتے ہیں- پوپ

ویٹی کن میں موجود  قبر پطرس کو سجدہ  کرتا ہے

پوپ قبر پطرس کو سجدہ کرتے ہوئے

اللہ  تعالی   قرآن سورہ  المائدہ ٦٩ میں کہتا  ہے کہ وہ   یہودی ، نصرانی ، صائبی  میں سے ان کو معاف  کرے  گا  جو  اللہ  تعالی  اور روز جزا پر ایمان  لائیں  گے

اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَادُوْا وَالصَّابِئُـوْنَ وَالنَّصَارٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ  

بے شک مسلمان اور یہودی اور صابئی اور عیسائی جو کوئی بھی   اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور نیک کام کیے تو ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

سورہ  حج ١٧  میں ہے کہ   یہودی، نصرانی ، صائبی، مجوسی ، مشرکین  سب کا فیصلہ  اللہ کرے گا

اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَادُوْا وَالصَّابِئِيْنَ وَالنَّصَارٰى وَالْمَجُوْسَ وَالَّـذِيْنَ اَشْرَكُوْاۖ اِنَّ اللّـٰهَ يَفْصِلُ بَيْنَـهُـمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ (17)

بے شک اللہ مسلمانوں اور یہودیوں اور صابیوں اور عیسائیوں اور مجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا، بے شک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے۔

یہ وہ   لوگ  ہیں  جو رسول  اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم سے قبل گزرے  ہوں گے – بعثت  محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کا اقرار   قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہے کہ  اخروی  کامیابی  کے لئے  ضروری امر ہے –  اللہ نے  خبر دے دی ہے کہ وہ شرک کو معاف   نہیں کرے  گا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

two × 4 =