حدیث الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ اور یزید

 

صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ الدُّعَاءِ بِالْجِهَادِ وَالشَّهَادَةِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ) صحیح بخاری: کتاب: جہاد کا بیان

(باب : جہاد اور شہادت کے لئے مرد اور عورت دونوں کا دعاکرنا)

2788

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ  وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ – فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطْعَمَتْهُ وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا البَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ، أَوْ: مِثْلَ المُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ، شَكَّ إِسْحَاقُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهمْ، فَدَعَا  لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ» – كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ – قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ»، فَرَكِبَتِ البَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ البَحْرِ، فَهَلَكَتْ

حکم : صحیح 2788

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا امام مالک سے‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا‘ آپ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ( یہ انس کی خالہ تھیں جو عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں ) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انہوں نے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں‘ اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے‘ جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے ۔ ام حرام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے  کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لئے سمندر کے بیچ میں سوار اس طرح جارہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پرہوتے ہیں یا جیسے بادشاہ تخت  رواں پر سوار ہوتے ہیں یہ شک اسحاق راوی کو تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کردے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کےلئے دعا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سوگئے‘ اس مرتبہ بھی آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لئے جا رہے ہیں پہلے کی طرح‘ اس مرتبہ بھی فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے میرے لئے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہیں میں سے کردے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تو سب سے پہلی فوج میں شامل ہوگی ( جو بحری راستے سے جہاد کرے گی ) چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ام حرام رضی اللہ عنہ نے بحری سفر کیا پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرادیا اوراسی حادثہ میں ان کی وفات ہوگئی

امام بخاری صحیح میں باب ما قيل في قتال الروم  میں روایت بیان کرتے ہیں کہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ

 میری امّت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ) پر حملہ کرے گا وہ مغفور ہے

بخاری کے شا رح  الْمُهَلَّبُ  کہتے ہیں کہ

قَالَ الْمُهَلَّبُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْقَبَةٌ لِمُعَاوِيَةَ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَزَا الْبَحْرَ وَمَنْقَبَةٌ لِوَلَدِهِ يَزِيدَ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَزَا مَدِينَةَ قَيْصَرَ – بحوا لہ فتح الباری از ابن الحجر

 الْمُهَلَّبُ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں منقبت ہے معاویہ کی کیونکہ ان کے دور میں بحری حملہ ہوا اور منقبت ہے ان کے بیٹے کی کہ انہوں نے سب سے پہلے قیصر کے شہر پر حملہ کیا

اس کے برعکس ماہ نامہ الحدیث حضرو نمبر ٦ سن ٢٠٠٤ کے شمارے میں اہل حدیث عالم  حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں کہ
سنن ابی داود کی ایک حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یزید والے حملے سے پہلے بھی قسطنطينية پر حملہ ہوا ہے جس میں جماعت (پورے لشکر ) کے امیر عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ تھے – چونکہ یہ حدیث ان لوگوں کے لئے زبردست رکاوٹ ہے جو ضرور بالضرور یزید کا بخشا بخشا یا ہونا ثابت کرنا چاہتے ہیں

مزید لکھتے ہیں کہ
خلاصہ تحقیق : یزید بن معاویہ کے بارے میں دو باتیں انتہائی اہم ہیں

١. قسطنطينية پر پہلے حملہ آور لشکر میں اسکا موجود ہونا ثابت نہیں

٢. یزید کے بارے میں سکوت کرنا چاہیے حدیث کی روایت میں وہ مجروح راوی ہے

ضروری ہے کہ تاریخی حقائق کو تسلیم کیا جائے اور کسی کو بھی اپنے بغض و عناد کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے لہذا اس بلاگ میں اس تاریخی مسئلہ پر بحث کی گئی ہے

أبو عمرو خليفة بن خياط  (المتوفى: 240هـ) اپنی کتاب تاريخ خليفة بن خياط میں لکھتے  ہیں کہ

كتب عُثْمَان إِلَى مُعَاوِيَة أَن يغزي بِلَاد الرّوم فَوجه يَزِيد بْن الْحر الْعَبْسِي ثمَّ عَبْد الرَّحْمَن بْن خَالِد بْن الْوَلِيد عَلَى الصائفتين جَمِيعًا ثمَّ عَزله وَولى سُفْيَان ابْن عَوْف الغامدي فَكَانَ سُفْيَان يخرج فِي الْبر ويستخلف عَلَى الْبَحْر جُنَادَة بْن أَبِي أُميَّة فَلم يزل كَذَلِكَ حَتَّى مَاتَ سُفْيَان فولى مُعَاوِيَة عَبْد الرَّحْمَن بْن خَالِد بْن الْوَلِيد ثمَّ ولى عبيد اللَّه بْن رَبَاح وشتى فِي أَرض الرّوم سنة سِتّ وَثَلَاثِينَ

عثمان رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ  کو حکم لکھا کہ روم کے شہروں پر حملے کئے جائیں پس معاویہ نے توجہ کی يَزِيد بْن الْحر الْعَبْسِي  کی طرف  عَبْد الرَّحْمَن بْن خَالِد بْن الْوَلِيد  کی طرف  اور دونوں کو گرمیوں کے  موسم میں امیر مقرر کیا پھر ہٹا دیا اور سُفْيَان ابْن عَوْف الغامدي کو مقرر کیا – سُفْيَان ابْن عَوْف الغامدي کو بری جنگ پر اور بحری معرکے پر جُنَادَة بْن أَبِي أُميَّة  کو مقرر کیا اور ان کو معذول نہیں کیا حتیٰ کہ سفیان کی وفات ہوئی – اس کے بعد مُعَاوِيَة عَبْد الرَّحْمَن بْن خَالِد بْن الْوَلِيد کو مقرر کیا اور ان کے بعد عبيد اللَّه بْن رَبَاح  کو روم کے شہروں کے لئے مقرر کیا سن ٣٦  ھجری تک

الذهبي (المتوفى: 748هـ) اپنی کتاب  تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام  میں سن ٣٢  ھجری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

سنة اثنتين وثلاثين:  فيها كانت وقعة المضيق بالقرب من قسطنطينية، وأميرها معاوية

سن ٣٢ ھجری : اور اس میں  المضيق  کا واقعہ ہوا جو قسطنطينية کے قریب  ہے ، اور اس کے امیر  معاوية تھے

المضيق اک استریت ہے اور اس سے مراد دردانیلیس ہے جو ایجین سمندر کو مرمرا سمندر سے ملاتا ہے اور اک تنگ سمندری گزر گاہ ہے

strait= استریت

Dardanelles= دردانیلیس

Aegean Sea=ایجین

Marmara= مرمرا

لیکن ان تمام معرکوں کے باوجود اسلامی لشکر الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ  نہیں پہنچ سکا

الذهبي (المتوفى: 748هـ) اپنی کتاب  تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام  میں سن ٥٠ ھجری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

وَفِيهَا غَزْوَةُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، كَانَ أَمِيرُ الْجَيْشِ إِلَيْهَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَكَانَ مَعَهُ وُجُوهُ النَّاسِ، وَمِمَّنْ كَانَ مَعَهُ أَبُو أيوب الأنصاري -رضي الله عنه

اور اس میں غَزْوَةُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ ہوا اور امیر لشکر عساکر یزید بن معاویہ تھے اور ان کے ساتھ لوگ تھے اور أَبُو أيوب الأنصاري -رضي الله عنه. بھی ساتھ تھے

  مزید تفصیل أبي زرعة الدمشقي (المتوفى: 281هـ) بتاتے ہیں کہ

أبي زرعة الدمشقي (المتوفى: 281هـ) اپنی کتاب تاريخ أبي زرعة الدمشقي میں لکھتے ہیں کہ

قَالَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: فَأَغْزَا مُعَاوِيةُ الصَّوَائِفَ، وَشَتَّاهُمْ بِأَرْضِ الرُّومِ سِتَّ عَشْرَةَ صَائِفَةً، تَصِيفُ بِهَا وَتَشْتُو، ثُمَّ تُقْفِلُ وَتَدْخُلُ مُعَقِّبَتُهَا، ثُمَّ أَغْزَاهُمْ مُعَاوِيَةُ ابْنُهُ يَزِيدَ فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فِي الْبَرِّ وَالبْحَرِ حَتَّى جَازَ بِهِمِ الْخَلِيجَ، وَقَاتَلُوا أَهْلَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ عَلَى بَابِهَا، ثُمَّ قَفَلَ

سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِکہتے ہیں کہ مُعَاوِيةُ نے الصَّوَائِفَ (گرمیوں کے موسم میں حملے ) کیے اور سولہ حملے ارض روم پر کیے … پھر یزید بن معاویہ نے ٥٥ ھجری میں اصحاب رسول کی جماعت کے ساتھ سمندر اور خشکی کے ذریعہ حملہ کر کے خلیج کو پار کیا اور اہل الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ سے ان کے دروازے پر جنگ کی …

(عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ (المتوفى: ٤٦ هـ

 عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کے حوالے سے روایات میں بیان ہوا ہے کہ وہ اس لشکر کے اوپر امیر تھے جس نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  پر حملہ کیا – یہ روایت سنن ابی داوود ، جا مع ترمذی ، تفسیر ابن ابی حاتم ، مستدرک حاکم وغیرہ میں بیان ہوئی ہیں – تفسیر کی کتابوں میں یہ روایت اس لئے موجود ہے کہ اس میں سوره البقرہ کی اک آیت   {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ}  کا ذکر بھی آتا ہے –  عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کے حوالے سے تاریخ خلیفہ بن خیاط  میں بیان ہوا ہے کہ  ارض روم پر کسی حملے میں معاویہ رضی الله عنہ نے ان کو استعمال کیا تھا لیکن ان کے بعد اور لوگوں کو مقرر کیا جس  سے ظاہر ہے کہ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کو ابتدائی دور میں امیر لشکر بنایا گیا تھا – سب سے  اہم بات یہ ہے کہ ٣٢ ھجری میں  خود معاویہ رضی الله عنہ بھی الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  کے پاس المضيق  تک پہنچ پائے – اس سے صاف ظاہر ہے کہ  عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ بھی الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ   نہیں پہنچ سکے تھے

الذهبي (المتوفى: 748هـ) اپنی کتاب  تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام  میں عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کے لئے لکھتے ہیں کہ

وَكَانَ يَسْتَعْمِلُهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى غَزْوِ الرُّومِ. وَكَانَ شَرِيفًا شُجَاعًا مُمَدَّحًا

ان کو معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ  نے روم کے معرکے  میں مقرر کیا اور یہ شریف – بہادر  اور ممدوح تھے

الذهبي جو اک معتدل مورخ ہیں انہوں نے کہیں بھی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کے لئے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ کے معرکوں کا ذکر نہیں کیا- ا وہ ان معرکوں میں شامل ہوۓ جو ارض روم کے مختلف شہروں میں ہوۓ – روم وسیع علاقہ تھا جس میں موجودہ ترکی اور قبرص و یونان کے جزائر بھی شامل تھے

اب ان روایات کی اسناد دیکھتے ہیں جن میں عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ  کا  الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر  حملے کا تذکرہ آ رہا ہے – الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ کے حوالے سے یہ تمام روایات تقریبا اک سند  (حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، وَابْنِ لَهِيعَةَ  عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ)  سے آ رہی ہیں لیکن اضطراب کا شکار ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل شجرہ کو دیکھنے  سے ہوتا ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، وَابْنِ لَهِيعَةَ

عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ

غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ

سنن أبي داود

مَا قُرِئَ عَلَى يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ

غَزَوْنَا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ

تفسير القرآن العظيم لابن أبي حاتم

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلًى لِكِنْدَةَ

كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ

صحيح ابن حبان

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ

غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ

المستدرك على الصحيحين

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلَى بَنِي تُجِيبَ

: كُنَّا بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ

المستدرك على الصحيحين

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ

كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ

الجامع الكبير – سنن الترمذي

 

 کبھی راوی کہتے ہیں

غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ – ہم نے جنگ کی اک شہر میں ہم الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  چاہتے تھے

غَزَوْنَا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  ہم نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  میں جنگ کی

كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ  ہم روم کے اک شہر  میں تھے

كُنَّا بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ  ہم الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  میں تھے

اسی اضطراب کی وجہ سے شاید  یہ روایت صحیحین میں نہیں اور امام ترمذی بھی اس کو  حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ کا درجہ دیتے ہیں

دراصل عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کے امیر لشکر ہونے کے حوالے سے صحیح بات یہی ہے کہ وہ كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ ہم روم کے اک شہر میں تھے اور غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ اور انہوں نے جنگ کی اک شہر میں اور وہ ا لْقُسْطَنْطِينِيَّةَ تک رسائی چاہتے تھے

منطقی نقطۂ نگاہ سے بھی یہ بات درست نہیں کہ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيد کی قیادت میں ہونے والا یہ حملہ پہلا تھا کیونکہ اگر یہ پہلا حملہ تھا اور ا لْقُسْطَنْطِينِيَّةَ تک رسائی ہو گئی تھی تو پھر ا لْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر سولہ حملوں کی کیا ضرورت تھی – اصل بات یہی ہے کہ یہ سارے حملے قُسْطَنْطِينِيَّةَ تک بری راستہ بنانے کے لئے تھے کیونکہ ا لْقُسْطَنْطِينِيَّةَ (موجودہ استنبول )ایک بندر گاہ تھی اور اس کا دفاع بہت اچھا تھا

اس روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ایک مسلمان کفّار کی صفوں میں کود پڑا جس پر لوگوں نے کہا کہ اس نے اپنے آپ کو ہلاک کیا اور آیت {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ الله وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} پڑھی اس پر أَبُو أيوب الأنصاري رضي الله عنه.نے فرمایا کہ یہ آیت جہاد سے کنارہ کشی کرنے کی ہماری خواھش کی بنا پر نازل ہوئی تھی- اس کے برعکس امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ آیت {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ الله وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] کی تفسیر حذیفہ رضی الله تعالیٰ عنہنے بیان کی ہے کہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ الله وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] قَالَ: «نَزَلَتْ فِي النَّفَقَةِ»

یہ آیت انفاق کے بارے میں نازل ہوئی ہے

اس  بحث کا خلاصہ ہے کہ تاریخ کی مستند کتابوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ یزید بن معاویہ   الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر حملہ کرنے والے لشکروں میں شامل تھے –  الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر دو دفعہ حملہ ہوا – ایک  سن ٥٠  یا ٥١  ھجری  میں  ہوا اور اس میں  أَبُو أيوب الأنصاري رضي الله عنه. بھی ساتھ تھے- دوسرا  حملہ  سن ٥٥ ھجری میں ہوا اور اصحاب رسول کی جماعت کے ساتھ سمندر اور خشکی کے ذریعہ حملہ کر کے خلیج کو پار کیا اور اہل الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ  سے ان کے دروازے پر جنگ کی – ان دونوں حملوں میں سپہ سالار لشکر یزید بن معاویہ  تھے

حدیث الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ   پر شیعہ اعتراضات

تمام راویوں کا شامی ہونا. وہی شام جو معاویہ ابن ابی سفیان اور اسکے بیٹے یزید کا دارلحکومت تھا اور یہاں کے لوگ سخت مخالفین اہلبیت تھے اور بنی امیہ کی شان میں احادیث گھڑنے میں مشہور تھے

جواب: اس روایت میں شامیوں کا تفرد نہیں. اس کے ایک راوی خالد بن معدان بن أبي كرب الكلاعي بھی ہیں

الأعلام الزركلي کے مطابق : خالد بن معدان بن أبي كرب الكلاعي، أبو عبد الله: تابعيّ، ثقة، ممن اشتهروا بالعبادة. أصله من اليمن، وإقامته في حمص (بالشام)

خالد بن معدان بن أبي كرب الكلاعي، أبو عبد الله یمنی تھے لیکن حمص شام میں رہتے تھے

 یہ روایت ام حرام بنت ملحان رضی الله تعالی عنہا  کی ہے اور ام حرام ، انس بن مالک رضی الله تعالی عنہ کی خالہ اور عُبَادَةَ بنِ الصَّامِتِ  رضی الله تعالی عنہ کی بیوی ہیں. مدینہ کی رہنے والی تھیں.  یہ بھی شامی نہیں. مسلمان فتوحات کی وجہ سے بہت علاقوں میں پھیل گئے تھے. اگر اس اعتراض کو صحیح مانا جاے تو اس بنیاد پر تو علی رضی الله تعالی عنہ بھی کوفی کہلائیں گے.

روایت کے دوسرے راوی ثور بن يزيد کے لئے لکھتے ہیں کہ

یحیی ابن معین (جن کے فن رجال کو تمام علماء مانتے ہیں) اس ثور کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ ثور اس جماعت میں شامل تھا جو علی ابن ابی طالب پر سب کرتے تھے (سب کا مطلب ہے برا کہنا اور گالیاں وغیرہ دینا)۔ یحیی ابن معین کے الفاظ یہ ہیں : و قال فى موضع آخر : أزهر الحرازى ، و أسد بن وداعة و جماعة كانوا يجلسون  و يسبون على بن أبى طالب ، و كان ثور بن يزيد لا يسب عليا ، فإذا لم يسب جروا برجلہ.

جواب: احمد کہتے ہیں کہ : وكان من أهل حمص  اور یہ اہل حمص میں سے تہے.  ابن معین کے الفاظ کا مطلب ہے:   أزهر الحرازي اورأسد بْن وداعة  علی کو  گالیاں دتیے تھے و كان ثور بن يزيد لا يسب عليا  اور ثور بن يزيد  علی کو گالیاں نہیں دیتے تھے بحوالہ الكامل في ضعفاء الرجال از ابن عدی

اس بات کا تو مطلب ہی الٹا ہے ثور بن يزيد ، علی کو گالیاں نہیں دیتے تھے. ہاں یہ ضرور ہے کہ ابن سعد کے مطابق  وہ لا أحب رجلا قتل جدى : علی کو اپنے دادا  کے صفیں میں قتل کی وجہ سے نا پسند کرتے تھے

یزید بن معاویہ  کی بیعت

اب ہم اک دوسرے مسئلے کی طرف آتے ہیں جو کافی بحث طلب ہے اور اس مختصر بلاگ میں اس کو مکمّل احاطہ ممکن بھی نہیں لیکن چند معروضات پیش خدمت ہیں

١ سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یزید بن معاویہ کی بیعت سے لے کر متمکن خلافت ہونے تک کل دس سال ہیں یعنی سن ٥١ ھجری سے لے کر سن ٦٠ ھجری تک – اس دوران تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ کسی نے مخالفت نہ کی لیکن معاویہ رضی الله عنہ کی وفات کے اک سال بعد یعنی ٦١ ھجری میں حسین رضی الله عنہ نے اور عبدللہ بن زبیر رضی الله عنہ نے خروج کیا – دونوں کو وہ عصبیت یا سپورٹ نہ مل سکی جو یزید بن معاویہ کو حاصل تھی – ان دونوں نے راست قدم اٹھایا یا نہیں – اس پر رائے زنی کرنے کا ہمارا مقام نہیں کیونکہ حسین رضی الله عنہ اور عبدللہ بن زبیر رضی الله عنہ دونوں جلیل القدر ہیں

٢ معاویہ رضی الله عنہ کا اپنے بیٹے کو خلیفہ مقرر کرنے کا عمل بھی قابل جرح نہیں کیونکہ اسلام میں خلیفہ مقرر کرنے کا حق خلیفہ کا ہی ہے جیسے ابوبکر رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو خلیفہ مقرر کیا – عمر رضی الله عنہ نے شہادت سے پہلے اک کمیٹی مقرر کی – علی رضی الله عنہ نے شہادت سے پہلے اپنے بیٹے حسن رضی الله عنہ کو مقرر کیا – اسی طرح معاویہ رضی الله عنہ نے بھی علی رضی الله عنہ کی طرح اپنے بیٹے یزید کو مقرر کیا- اسلام میں موروثی خلافت کا نظریہ علی رضی الله عنہ نے ہی پیش کیا

٣ حسن رضی الله عنہ نے علی رضی الله عنہ کی وفات کے اگلے سال ٤١ ھجری میں  سات ماہ کے بعد خلافت سے دست برداری کا ١علان کر دیا – چونکہ وہ حسین رضی الله عنہ کے بڑے بھائی تھے اس لئے خاندان علی کے اک نمائندہ تھے – معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں دونوں بھائیوں کو وظیفہ بھی ملتا رہا – حسن رضی الله عنہ کی سن ٥٠ ھجری میں وفات ہوئی – سن ٥١ ہجری میں یزید بن معاویہ نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر حملہ کر کے امّت میں اپنی امیر کی صلاحیتوں کو منوا لیا – اس حملے میں جلیل القدر اصحاب رسول بھی ساتھ تھے – سن ٥١ ھجری میں معاویہ رضی الله عنہ نے یزید کی بیعت کی طرف لوگوں کو دعوت دی

بخاری نے سوره الاحقاف کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ

باب {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِنْ قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ الله وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ الله حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (17)} [الأحقاف: 17]

 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِى بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ قَالَ كَانَ مَرْوَانُ عَلَى الْحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ، فَخَطَبَ فَجَعَلَ يَذْكُرُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، لِكَىْ يُبَايِعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ شَيْئًا، فَقَالَ خُذُوهُ. فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْوَانُ إِنَّ هَذَا الَّذِى أَنْزَلَ الله فِيهِ {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي}. فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ مَا أَنْزَلَ الله فِينَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِلاَّ أَنَّ الله أَنْزَلَ عُذْرِى.

مروان جو معاویہ رضی الله تعالیٰ کی جانب سے حجاز پر (گورنر ) مقرر تھے انہوں نے  معاویہ  کے بعد يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت  کے لئے خطبہ دیا – پس عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ  نے کچھ  بولا – جس پر مروان بولے اس کو پکڑو  اور عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ  عائشہ رضی الله تعالیٰ کے گھر میں داخل ہو گئے – اس پر مروان بولے کہ یہی وہ شخص ہے جس کے لئے نازل ہوا ہے {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي} – اس پر عائشہ رضی الله تعالیٰ  نے  پردے کے پیچھے سے فرمایا کہ ھمارے لئے قرآن میں سواے برات کی آیات کے کچھ نازل نہ ہوا

عائشہ رضی الله تعالی عنہا ٰ کی وفات ٥٧ ھجری کی ہے لہذا یہ واقعہ معاویہ ر ضی الله تعالیٰ عنہ سے کم از کم تین سال پہلے کا ہے

أبو عمرو خليفة بن خياط  (المتوفى: 240هـ) اپنی کتاب تاريخ خليفة بن خياط میں لکتھے ہیں کہ

فِي سنة إِحْدَى وَخمسين وفيهَا غزا يَزِيد بْن مُعَاوِيَة أَرض الرّوم وَمَعَهُ أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ وفيهَا دَعَا مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان أهل الشَّام إِلَى بيعَة ابْنه يَزِيد بْن مُعَاوِيَة فأجأبوه وَبَايَعُوا

اور سن ٥١ ھجری  میں یزید بن معاویہ نے رومی سر زمین پر جہاد کیا اور ان کے ساتھ تھے أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ اور اسی سال مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان نے اہل شام کو یزید بن معاویہ کی بیعت کی دعوت دی  جس کو انہوں نے قبول کیا اور بیعت کی

  مدینہ قیصر تک بری رستہ یا خشکی کے رستہ سے نہیں جایا جا سکا تھا نہ وہ دور صحابہ میں فتح ہو سکا بلکہ ترکوں نے  اس کو  فتح کیا – راقم کہتا ہے روم کی کچھ زمین جو ارض شام تھی وہ عمر کے دور میں فتح ہوئی وہ بھی  مدینہ قیصر نہیں ہے – مدینہ قیصر یعنی روم کا کیپٹل یا دار الحکومت جب تک دار الحکومت فتح نہ ہو ملک مفتوح متصور نہیں ہوتا – یزید جس لشکر میں تھے اس نے اسٹریٹجی سے کام لیا اور سمندری بیڑے سے حملہ کیا تھا اسی لئے مدینہ قیصر پہنچ سکا اس سے قبل بھی حملے ہوئے

مسند احمد مصنف عبد الرزاق میں ہے

   عَبْدُ الرَّزَّاقِ – عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ امْرَأَةَ حُذَيْفَةَ قَالَتْ: نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ: تَضْحَكُ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا وَلَكِنْ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَخْرُجُونَ غُزَاةً فِي الْبَحْرِ، مَثَلَهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَةِ» ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتُيْقِظَ أَيْضًا فَضَحِكَ. فَقُلْتُ: تَضْحَكُ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «لَا وَلَكِنْ مِنْ قَوْمٍ يَخْرُجُونَ مِنْ أُمَّتِي غُزَاةً فِي الْبَحْرِ فَيَرْجِعُونَ قَلِيلَةً غَنَائِمُهُمْ مَغْفُورًا لَهُمْ» قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ يَجَعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ: فَدَعَا لَهَا، قَالَ فَأَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ: «فَرَأَيْتُهَا فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى أَرْضِ الرُّومِ وَهِيَ مَعَنَا فَمَاتَتْ بِأَرْضِ الرُّومِ

عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ نے کہا پھر میں نے دیکھا حُذَيْفَةَ کی بیوی نے الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ کے ساتھ جہاد کیا أَرْضِ الرُّومِ پس وہیں أَرْضِ الرُّومِ  میں فوت ہوئیں
عطاء بن يسار نے ایک مجہول امْرَأَةَ حُذَيْفَةَ  سے روایت کیا ہے اور یہ ارسال کرتا ہے یعنی جس سے سنا نہ ہو اس کے حوالے سے روایت کر دیتا ہے

مسند احمد میں سند ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ امْرَأَةً، حَدَّثَتْهُ
عَطَاءِ بْنِ يَسَار نے ایک عورت سے روایت کیا

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ کے بقول یہ  کسی   حُذَيْفَةَ کی بیوی تھی جبکہ ابن حجر کا کہنا ہے یہ أم حرام بنت ملحان تھیں جو عبادة بن الصامت کی بیوی تھیں جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے – راقم کہتا ہے اس سے ظاہر ہے یہ سند صحیح نہیں ہے عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ نے روایت جس عورت تک پہنچائی اس عورت کا علم نہیں کون ہے

بعض لوگوں کا کہنا ہے  قیصر روم کا شہر حمص تھا جس کو ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ  کے دور میں اس پر حملہ کیا تھا – یہ یزید کی پیدائش سے ١٥ – ٢٠ سال پہلے ہوا  – راقم کہتا ہے حمص قیصر کا دار الحکومت نہیں تھا

یہ
Byzantine Empire
کی تاریخ میں بھی موجود ہے

Constantine
مشرک رومی تھا جو نصرانی ہوا اس کے دور سے دور نبوی اور بعد تک قسطنطنیہ ہی دار الحکومت رہا ہے
اس کا دفاع بہت مضبوط ہے جغرافیہ کی وجہ سے تین طرف سمندر ہے ایک ہی طرف خشک رستہ ہے اور سمندر بھی تیز چلتا ہے – قیصر جنگ میں مصروف تھا جس کا ذکر سورہ روم میں ہے کہ وہ شام میں ملغوب ہو گیا ہے لیکن پھر غالب آئے گا اور جنگی حکمت عملی کے طور پر قیصر بیت المقدس بھی گیا جہاں ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے سوالات کیے تھے

===================

دیکھیں

Podcasts

Leave a Reply

Your email address will not be published.

sixteen − fourteen =