تعویذ کے جواز کے دلائل کا جائزہ

فرقہ پرست تعویذ کے جواز پر جو دلائل دیتے ہیں ان پر تبصرہ یہاں ایک جگہ کیا گیا ہے

فرقوں کی دلیل
قرآن میں ہے
وننزل من القرآن ما ھوشفاء ورحمۃ للمومنین۔
سورۃ بنی اسرائیل
اور ہم نے قرآن نازل کیا جو کہ مومنین کے لیے سراپا شفا اور رحمت ہے۔

تبصرہ
اس آیت کا تعلق قلبی بیماریوں سے ہے جن کو قرآن میں فی قلوبھم مرض کہا گیا ہے

غور طلب ہے قرآن فرقہ پرستوں کے مطابق شفاء ہے جس کی  دلیل ان کے نزدیک قرآن ہی کی یہ آیت سوره الاسراء ٨٢ میں ہے
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا
أور هم نے اس قرآن میں نازل کی ہے شفاء اور مومنوں کے لئے رحمت اور یہ ظالموں کے لئے کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتی سوائے خسارے کے

فرقہ پرست دم کرنے کے حوالے سے ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ایک سردار کو بچھو ڈستا ہے اور اس کافر کو قرآن سے شفاء ہو جاتی ہے
حالانکہ قرآن میں ہے کہ کفار کو قرآن سے شفاء ممکن نہیں ہے

روایت کے مطابق قبیلہ کا سردار کافر تھا یعنی شرک کا ظلم کرتا تھا تو آیت میں اگر شفاء سے مراد جسمانی شفاء ہے تو وہ روایت تو اس کے بر خلاف بیان کر رہی ہے جس میں سوره فاتحہ کے دم سے سردار کو شفاء ملتی ہے – اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت جسمانی بیماریوں کے متعلق نہیں بلکہ اعتقادی مرض سے متعلق ہے جس کو قرآن فی قلوبھم مرض کہتا ہے-

فرقوں کی دلیل

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہترین دوا قرآن ہے۔
سنن ابن ماجہ

تبصرہ
اس روایت کو فرقوں کے اماموں نے رد کیا ہے
حدثنا محمد بن عبيد بن عبد الرحمن الكندي قال: حدثنا علي بن ثابت قال: حدثنا سعاد بن سليمان، عن ابي إسحاق، عن الحارث، عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خير الدواء القرآن»
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای بہترین دوا قرآن مجید ہے ۔

تخریج دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۰۵۶) (ضعیف) (سند میں حارث الاعور ضعیف راوی ہے)

قال زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة
ضعيف / تقدم:3501

قال الألباني: ضعيف

فرقوں کی دلیل

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تعویذات لکھا کرتے تھے۔
مصنف ابن ابی شیبہ ج12 ص 75 ابوداود ج 2 ص 543 پر

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے والد سے نقل
کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی نیند میں ڈر جائے تو یہ دعا پڑھے أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ (یعنی۔ میں اللہ کے غضب، عقاب، اسکے بندوں کے فساد، شیطانی وساوس اور ان (شیطانوں) کے ہمارے پاس آنے سے اللہ کے پورے کلمات کی پناہ مانگتا ہوں) اگر وہ یہ دعا پڑھے گا تو وہ خواب اسے ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ عبد اللهؓ بن عمرو(بن العاص) یہ دعا اپنے بالغ بچوں کو سکھایا کرتے تھے اور نابالغ بچوں کے لیے لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے

۔[جامع الترمذي » كِتَاب الدَّعَوَاتِ » بَاب مَا جَاءَ فِي عَقْدِ التَّسْبِيحِ بِالْيَدِ ۔۔۔ رقم الحديث: 3475 (3528)

تبصرہ : عمرو بن شعيب بن محمد بن عبد الله بن عمرو بن العاص ضعیف ہے – بعض محدثین کے نزدیک اسکی روایت حسن ہے- عمل میں اس کی روایت سے فقہاء نے دلیل لی ہے – سند میں محمد بن اسحاق بھی ہے جس کو ثقہ کے علاوہ دجال بھی کہا گیا ہے –بعض کے نزدیک حسن الحدیث ہے

یہ روایت انڈیا کے اہل حدیث  کفایت اللہ سنابلی و غیرھم  کے نزدیک بھی ضعیف  ہے – یہی بات جب سن ٨٠ میں ڈاکٹر عثمانی کرتے تھے تو اہل حدیث اس روایت کے دفاع میں تقریریں کرتے تھے  – اللہ کا شکر ہے جس نے  ہم کو سن ٨٠ میں ہی اس روایت سے بچا لیا  جبکہ  متعدد اہل حدیث تعویذ گلوں میں  لکٹائے  اپنے  مقام برزخ میں پہنچ  گئے –  و للہ الحمد

فرقوں کی دلیل عیسیٰ علیہ السلام کا تعویذ کا حکم

المجالسة وجواهر العلم از المؤلف : أبو بكر أحمد بن مروان الدينوري المالكي (المتوفى : 333هـ) میں ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ قُتَيْبَةَ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِنْ وَلَدِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنْ أَبِي بِشْرِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: [ص:170] مَرَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ [صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] بِبَقَرَةٍ قَدِ اعْتَرَضَ وَلَدُهَا فِي بَطْنِهَا، فَقَالَ: يَا كَلِمَةَ اللهِ! ادْعُ اللهَ أَنْ يُخَلِّصَنِي. فقال [صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] : ياخالق النَّفْسِ مِنَ النَّفْسِ! وَيَا مُخْرِجَ النَّفَسِ مِنَ النَّفْسِ! خَلِّصْهَا، فَأَلْقَتْ مَا فِي بَطْنِهَا. قَالَ: فَإِذَا عَسِرَ عَلَى الْمَرْأَةِ وَلْدُهَا؛ فَلْيُكْتَبْ لَهَا هَذَا

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا ایک گائے پر گزر ہوا جس کے بطن میں اولاد نے مشکل کی تھی پس گائے نے کہا اے کلمہ اللہ اللہ سے دعا کریں کہ اس مشکل سے خلاصی ہو – پس عیسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے   کہا اے نفس سے نفس کو خلق کرنے والے اے نفس میں سے نفس کو نکالنے والے اس کو خلاصی دے پس جو اس گائے کے  بطن میں تھا نکل آیا – ابن عباس نے کہا جب عورت کو اس طرح جننا مشکل ہو تو یہ کلمات اس کے لئے لکھ دو

سند میں ابراہیم بن سلیمان مجہول ہے

لیکن تفسیر روح البيان میں اس قصہ کو درج کیا گیا ہے

سلف کی دلیل جلد ولادت کا مجرب نسخہ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بچے کی پیدائش کے لیے دو آیات قرآنی لکھ کر دیتے تھے کہ ان کو دھو کر مریضہ کو پلا دو
مصنف ابن ابی شیبہ ج12 ص 60 پر
بلکہ طبرانی شریف میں اس حدیث کے بعض الفاظ یوں بھی ملتے ہیں کہ کچھ پانی اس کے پیٹ اور منہ پر چھڑک دو۔

تبصرہ

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِذَا عَسِرَ عَلَى الْمَرْأَةِ وَلَدُهَا، فَيَكْتُبُ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَالْكَلِمَاتِ فِي صَحْفَةٍ ثُمَّ تُغْسَلُ فَتُسْقَى مِنْهَا «بِسْمِ اللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ» {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا} [النازعات: 46] {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ} [الأحقاف: 35]

سعید بن جبیر نے ابن عباس سے روایت کیا کہ جب عورت کو بچہ جننے میں مشکل ہو تو اس کے لئے یہ دو آیات اور کلمات ایک صفحہ پر لکھو پھر ان کو دھو کر اس کا دھون عورت کو پلا دو
بِسْمِ اللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

كَاَنَّـهُـمْ يَوْمَ يَرَوْنَـهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحَاهَا
جس دن اسے دیکھ لیں گے (تو یہی سمجھیں گے کہ دنیا میں) گویا ہم ایک شام یا اس کی صبح تک ٹھہرے تھے۔

كَاَنَّـهُـمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوْعَدُوْنَ لَمْ يَلْبَثُـوٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّـهَارٍ ۚ بَلَاغٌ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُوْنَ
ایک دن میں سے ایک گھڑی بھر رہے تھے، آپ کا کام پہنچا دینا تھا، سو کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا۔
اسکی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ہے جو خراب حافظہ کا مالک تھا

تفسیر الدر المنثور از السیوطی میں ہے
أخرج ابْن السّني والديلمي عَن ابْن عَبَّاس – رَضِي الله عَنْهُمَا – قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: إِذا عسر على الْمَرْأَة وِلَادَتهَا أَخذ اناءٌ نظيفٌ وكُتِبَ عَلَيْهِ (كَأَنَّهُمْ يَوْم يرَوْنَ مَا يوعدون ) (الْأَحْقَاف الْآيَة 35) إِلَى آخر الْآيَة (وَكَأَنَّهُم يَوْم يرونها ) (النازعات الْآيَة 46) إِلَى آخر الْآيَة {لقد كَانَ فِي قصصهم عِبْرَة لأولي الْأَلْبَاب} إِلَى آخر الْآيَة ثمَّ تغسل وتسقى الْمَرْأَة مِنْهُ وينضح على بَطنهَا وفرجها

تفسیر قرطبی میں ہے
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذَا عَسِرَ عَلَى الْمَرْأَةِ وَلَدُهَا تَكْتُبُ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَالْكَلِمَتَيْنِ فِي صَحِيفَةٍ ثُمَّ تُغَسَّلُ وَتُسْقَى مِنْهَا، وَهِيَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ” كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَها لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً «4» أَوْ ضُحاها” [النازعات: 46].” كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ” صَدَقَ اللَّهُ الْعَظِيمُ. وَعَنْ قتادة: لا يهلك الله»

الدعوات الكبير از طبرانی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْمَرْأَةِ يَعْسُرُ عَلَيْهَا وَلَدُهَا قَالَ: يُكْتَبُ فِي قِرْطَاسٍ ثُمَّ تُسْقَى: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَكِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ تَعَالَى رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، بَلَاغٌ، فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ} [الأحقاف: 35] ، {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا} [النازعات: 46] “. هَذَا مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ

المجالسة وجواهر العلم از أبو بكر أحمد بن مروان الدينوري المالكي (المتوفى : 333هـ) میں ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُسْلِمٍ؛ قَالَ: حَدَّثُونِي عَنْ يَعْلَى، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: [ص:171] إِذَا عَسِرَ عَلَى الْمَرْأَةِ وِلَادُهَا؛ فَلْيُكْتَبْ لَهَا: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهَ الْحَلِيمَ الْكَرِيمَ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إلا القوم الفاسقون} [الأحقاف: 35]

اہل حدیث کے شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنے فتوی میں سندا اس روایت کو لکھا ہے اور محدث کا تجربہ بھی نقل کیا ہے
مجموع الفتاوى ج ١٩ ص ٦٥ پر

قال علي: يكتب في كاغدة فيعلق على عضد المرأة قال علي: وقد جربناه فلم نر شيئا أعجب منه فإذا وضعت تحله سريعا ثم تجعله في خرقة أو تحرقه.
علي بن الحسن بن شقيق المتوفی ٢١٥ ھ نے کہا اس کو کاغذ پر لکھے پھر اس کو عورت کی ران پر لٹکا دے اور ہم نے اس کا تجربہ کیا اور ہم نے اس سے زیادہ حیرانگی والی چیز نہ دیکھی جیسے ہی عورت جن دے  اس تعویذ کو خرقے میں جلدی  رکھو  یا  پھر اس کو  جلا دو

مکمل متن ہے
كَمَا نَصَّ عَلَى ذَلِكَ أَحْمَد وَغَيْرُهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَد: قَرَأْت عَلَى أَبِي ثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ؛ ثَنَا سُفْيَانُ؛ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْحَكَمِ؛ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ؛ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إذَا عَسِرَ عَلَى الْمَرْأَةِ وِلَادَتُهَا فَلْيَكْتُبْ: بِسْمِ اللَّهِ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا} {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ} . قَالَ أَبِي: ثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ بِإِسْنَادِهِ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: يُكْتَبُ فِي إنَاءٍ نَظِيفٍ فَيُسْقَى قَالَ أَبِي: وَزَادَ فِيهِ وَكِيعٌ فَتُسْقَى وَيُنْضَحُ مَا دُونَ سُرَّتِهَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: رَأَيْت أَبِي يَكْتُبُ لِلْمَرْأَةِ فِي جَامٍ أَوْ شَيْءٍ نَظِيفٍ. وَقَالَ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَد بْنِ حَمْدَانَ الحيري: أَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ النسوي؛ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَد بْنِ شبوية؛ ثنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ؛ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ؛ عَنْ سُفْيَانَ؛ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى؛ عَنْ الْحَكَمِ؛ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ؛ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إذَا عَسِرَ عَلَى الْمَرْأَةِ وِلَادُهَا فَلْيَكْتُبْ: بِسْمِ اللَّهِ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ؛ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ؛ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا} {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ} . قَالَ عَلِيٌّ: يُكْتَبُ فِي كاغدة فَيُعَلَّقُ عَلَى عَضُدِ الْمَرْأَةِ قَالَ عَلِيٌّ: وَقَدْ جَرَّبْنَاهُ فَلَمْ نَرَ شَيْئًا أَعْجَبَ مِنْهُ فَإِذَا وَضَعَتْ تُحِلُّهُ سَرِيعًا ثُمَّ تَجْعَلُهُ فِي خِرْقَةٍ أَوْ تُحْرِقُهُ.

الغرض ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ سلف میں اس عمل کو کیا گیا ہے اور یہ عمل ابن عباس سے منسوب کیا گیا ہے

لیکن یہ ابن عباس سے ثابت نہیں ہے کیونکہ اس کی سندوں میں محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى کا تفرد ہے جو ضعیف ہے
محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى الفقيه: صدوق، سيء الحفظ، قال ابن معين: ضعيف، وقال مرة: ليس بذاك، وقال النسائي: ليس بالقوي

وہابی عالم أبو عبيدة مشهور بن حسن آل سلمان نے المجالسة وجواهر العلم از أبو بكر أحمد بن مروان الدينوري المالكي (المتوفى : 333هـ) میں اس سند کو کتاب میں ضعیف قرار دیا ہے-

سند میں مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ہے
محمد بن أبي ليلى سيئ الحفظ جدا بہت خراب حافظہ کے مالک تھے-
اور اس حالت میں اس نے اس روایت کو ابن عباس سے منسوب کر دیا ہے-

أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ نے کہا : لا يُحْتَجُّ بِهِ، سَيِّئُ الحفظ.دلیل مت لینا خراب حافظہ کا ہے
وَرَوَى مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ: ضَعِيفٌ. ابن معین نے کہا ضعیف ہے
وَقَالَ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.نسائی نے کہا قوی نہیں ہے
وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: رديء الحفظ، كثير الوهم.دارقطنی نے کہا ردی حافظہ اور کثرت سے وہم کا شکار تھا-

امام احمد نے اس سند کو ناقابل دلیل قرار دیا ہے لیکن ان کے بیٹے نے خبر دی کہ اسی روایت کی بنیاد پر امام احمد تعویذ کرتے تھے کتاب المسائل امام احمد بن حنبل میں امام احمد نے با قاعدہ تعویذ بتایا کہ

كِتَابَة التعويذة للقرع والحمى وللمراة اذا عسر عَلَيْهَا الْولادَة

حَدثنَا قَالَ رَأَيْت ابي يكْتب التعاويذ للَّذي يقرع وللحمى لاهله وقراباته وَيكْتب للمراة اذا عسر عَلَيْهَا الْولادَة فِي جَام اَوْ شَيْء لطيف وَيكْتب حَدِيث ابْن عَبَّاس

کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کو تعویذ لکھتے دیکھا گنج پن ، بیماری یا درد زہ کے لئے- خاندان والو اور رشتہ داروں کے لئے اور ان عورتوں کے لئے جن کو جننے میں دشواری ہو ان کے لئے وہ ایک برتن یا باریک کپڑے پر ابن عبّاس کی روایت لکھتے تھے-

محمد عمرو بن عبد اللطيف مصری عالم نے تكميل النفع بما لم يثبت به وقف ولا رفع میں لکھا ہے
مع ضعف هذا الأثر، فقد عمل به الإمام أحمد رحمه الله …. قال الخلال : أنبأنا أبو بكر المروذي (3) أن أبا عبد الله جاءه رجل فقال : يا أبا عبد الله تكتب لامرأة قد عسر عليها ولدها منذ يومين ، فقال : قل له يجئ بجام واسع وزعفران . ورأيته يكتب لغير واحد … )) . قلت : وفي هذا دليل على أن الإمام أحمد رحمه الله كان يأخذ بالأحاديث والآثار الضعيفة إذا لم يجد في الباب غيرها ، ولم يكن هناك ما يدفعها ، والله أعلم

اور اس اثر کے ضعیف ہونے کے باوجود امام احمد کا اس پر عمل ہے …. خلال نے ذکر کیا کہ ہمیں ابو بکر المروزی نے خبر دی کہ ایک شخص امام احمد کے پاس آیا اور کہا اے ابو عبد اللہ میرے بیوی کے لئے تعویذ لکھیں اس کو جننے میں مشکل ہے دو روز سے  پس امام احمد نے کہا ایک بڑا برتن لاو اور زعفران اور میں نے دیکھا کہ ایک سے زائد کے لئے یہ لکھتے تھے
میں (محمد عمرو بن عبد اللطيف) کہتا ہوں یہ دلیل ہے کہ احمد ان احادیث و اثار کو لیتے تھے جو ضعیف ہوتے تھے جب ان کو اس باب میں کوئی اور نہ ملتا و اللہ اعلم

ہمارا سوال ہے کہ باریک کپڑے پر لکھنے کا مقصد کیا ہے؟اصلا توہم پرست ان آیات لکھےکپڑوں کو کھاتے تھے یا زعفران سےآیات کٹورے کے کناروں پر لکھتے پھر اس میں پانی ڈال کر دھون پیتے-

امام ابن تیمیہ کتاب إيضاح الدلالة في عموم الرسالة میں لکھتے ہیں

قال عبد الله بن أحمد بن حنبل – قال أبي : حدثنا أسود بن عامر بإسناده بمعناه وقال يكتب في إناء نظيف

فيسقى … قال عبد الله رأيت أبي يكتب للمرأة في حام أو شئ نظيف

عبد الله بن احمد کہتے ہیں میرے باپ نے کہا ہم سے اسود نے روایت کیا….. اور کہا اور وہ صاف برتن پر لکھتے اور پھر پیتے عبد الله کہتے ہیں میرے باپ باریک چیز یا صاف چیز پر لکھتے۔

ابن تیمیہ اس کی تائید میں کہتے ہیں:

يجوز أن يكتب للمصاب وغيره شئ من كتاب الله وذكره بالمداد المباح – ويسقى

اور یہ جائز ہے کہ مصیبت زدہ کے لئے کتاب الله اور ذکر کو مباح روشنائی سے لکھے اور پی لے

اس کو ابن قیم نے بھی کتاب زاد المعاد میں جائز کہا ہے۔

فرقوں کی دلیل : فاطمہ پر دم

ابن السنی نے میں ایک اور روایت دی ہے
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُنَيْسٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: ” أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَنَا وِلَادُهَا أَمَرَ أُمَّ سُلَيْمٍ، وَزَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ أَنْ تَأْتِيَا فَاطِمَةَ، فَتَقْرَآ عِنْدَهَا آيَةَ الْكُرْسِيِّ، وَ {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ} [الأعراف: 54] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَتُعَوِّذَاهَا بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ “

حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ولادت کا وقت انے کا پتا چلا آپ نے ام سلیم اور زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ فاطمہ کے پاس جائیں اور ان پر آیت الکرسی پڑھیں اور سورہ الاعراف کی آیت ٥٤ سے آخر تک اور مُعَوِّذَتَيْنِ   پڑھیں

تبصرہ
سند میں بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ضعیف ہے
موسى بن أبي حبيب بھی ضعیف ہے – الذھبی نے دیوان میں اس کا ذکر کیا ہے عن زين العابدين علي، ضعفه أبو حاتم

فرقوں کی دلیل

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی اس کی قائل تھیں کہ پانی میں تعویذ ڈال کر وہ پانی مریض پر چھڑکا جائے۔
مصنف ابن ابی شیبہ ج12 ص60
تبصرہ
عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت:-

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّهَا كَانَتْ لَا تَرَى بَأْسًا أَنْ يُعَوَّذَ فِي الْمَاءِ ثُمَّ يُصَبَّ عَلَى الْمَرِيضِ»

أَبِي مَعْشَرٍ سے مروی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس میں برائی نہیں دیکھتی تھیں کہ پانی پر تعوذ کیا جائے پھر مریض پر اس کو ڈالا جائے-

ابی معشر ضعیف ہے – العلل ومعرفة الرجال از احمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ) کے مطابق

سَأَلت یحیی بن معِين عَن أبي معشر الْمَدِينِيّ الَّذِي يحدث عَن سعيد المَقْبُري وَمُحَمّد بن كَعْب فَقَالَ لَيْسَ بِقَوي فِي الحَدِيث
ابن معین کہتے ہیں کہ أبي معشر الْمَدِينِيّ جو سعید المقبری سے روایت کرتا ہے … یہ حدیث میں قوی نہیں ہے-

ابی معشر زياد بن كليب کا سماع تابعین سے ہے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کی روایت منقطع ہے اور ان دونوں کے درمیان إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ اور الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ کا واسطہ ہے اور بعض اوقات ان دونوں کے درمیان الشَّعْبيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ کا واسطہ اتا ہے-

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنِ النُّشَرِ، فَقَالَتْ: «مَا تَصْنَعُونَ بِهَذَا؟ هَذَا الْفُرَاتُ إِلَى جَانِبِكُمْ، يَسْتَنْقِعُ فِيهِ أَحَدُكُمْ يَسْتَقْبِلُ الْجِرْيَةَ»
الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ نے ام المومنین عائشہ سے نشر کا (عمل ) پوچھا – انہوں نے کہا کیسے کرتے ہیں ؟ یہ میٹھا پانی تمہارے پہلو میں ہے تم میں سے کوئی اس پانی کو لے اور گلے کے حلقوم کے سامنے لائے-

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَنْ أَصَابَهُ بُسْرَةٌ أَوْ سُمٌّ أَوْ سِحْرٌ فَلْيَأْتِ الْفُرَاتَ، فَلْيَسْتَقْبِلِ الْجِرْيَةَ، فَيَغْتَمِسْ فِيهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ»
الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ نے ام المومنین عائشہ سے روایت کیا انہوں نے فرمایا جس کو بسرہ کی بیماری ہو یا زہر یا جادو- وہ میٹھا پانی لے اس کو حلقوم کے سامنے کرے اور اس پانی میں سات بار اپنے آپ کو ڈبوئے-

عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس میں پانی پر دم کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ صرف سات بار پانی سے بخار ٹھنڈا کرنے کا ذکر کیا ہے

فرقوں کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا کا تعویذ کرنا

اماں عائشہ رضی ش عنہانے فرمایا کہ: ”(تمیمہ) تعویذ اسے کہتے ہیں جسے کسی مصیبت کے لاحق ہونے سے پہلے لٹکایا جائے، نہ کہ اس کے بعد“ (البیہقی: 9/351)۔

تبصرہ

اس کے متن میں اضطراب ہے
بیہقی سنن الکبریٰ میں عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ , ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:

لَيْسَتْ التَّمِيمَةُ مَا يُعَلَّقُ قَبْلَ الْبَلَاءِ إنَّمَا التَّمِيمَةُ مَا يُعَلَّقُ بَعْدَ الْبَلَاءِ لِتَدْفَعَ بِهِ الْمَقَادِيرَ
تعویذ وہ نہیں جو آفت سے پہلے لٹکایا جائے بلکہ تعویذ تو وہ ہے جو آفت کے بعد دفع کے لئے لٹکایا جائے

اس کے برعکس حاکم مستدرک میں روایت بیان کرتے ہیں

وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «لَيْسَتِ التَّمِيمَةُ مَا تَعَلَّقَ بِهِ بَعْدَ الْبَلَاءِ، إِنَّمَا التَّمِيمةُ مَا تَعَلَّقَ بِهِ قَبْلَ الْبَلَاءِ
عائشہ رضی الله روایت کرتی ہیں کہ تعویذ نہیں جو آفت کے بعد لٹکایا جائے بلکہ تعویذ تو وہ ہے جو آفت سے پہلے لٹکایا جائے

مضطرب المتن روایت بھی قابل رد ہوتی ہے کیونکہ یہ واضح نہیں رہا کہ کیا کہا گیا تھا

فرقوں کی دلیل مجاہد کا تعویذ کرنا

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ قرآنی آیات کو لکھ کر ڈرنے والے مریض کو پلائی جائیں۔
مصنف ابن ابی شیبہ ج12 ص 74 پر
تبصرہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، قَالَ: «كَانَ مُجَاهِدٌ يَكْتُبُ لِلنَّاسِ التَّعْوِيذَ فَيُعَلِّقُهُ عَلَيْهِمْ»

ثوير بن أبى فاختة نے کہا مجاہد لوگوں کے لئے تعویذ لکھتے اور ان پر لٹکاتے

تبصرہ: سند میں ثوير بن أبى فاختة سخت ضعیف ہے

فرقوں کی دلیل سعید بن المسیب کا تعویذ کرنا
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِصْمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ التَّعْوِيذِ، فَقَالَ: «لَا بَأْسَ إِذَا كَانَ فِي أَدِيمٍ»
أَبِي عِصْمَةَ کہتے ہیں میں نے ابن المسیب سے سوال کیا تعویذ پر – کہا اگر چمڑے میں ہو تو کوئی برائی نہیں ہے

سنن الکبری البیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ عَنِ الرُّقَى وَتَعْلِيقِ الْكُتُبِ، فَقَالَ: كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَأْمُرُ بِتَعْلِيقِ الْقُرْآنِ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا كُلُّهُ يَرْجِعُ إِلَى مَا قُلْنَا مِنْ أَنَّهُ إِنْ رَقَى بِمَا لَا يُعْرَفُ أَوْ عَلَى مَا كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ إِضَافَةِ الْعَافِيَةِ إِلَى الرُّقَى لَمْ يَجُزْ , وَإِنْ رَقَى بِكِتَابِ اللهِ أَوْ بِمَا يَعْرِفُ مِنْ ذِكْرِ اللهِ مُتَبَرِّكًا بِهِ وَهُوَ يَرَى نُزُولَ الشِّفَاءِ مِنَ اللهِ تَعَالَى فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ

نافع بن یزید ( الكلاعي أبو يزيد المصري المتوفی ١٦٨ ھ یا کوئی مجھول) نے یحیی بن سعید المتوفی ١٩٨ ھ سے دم اور تعویذ پر سوال کیا انہوں نے کہا کہ سعید بن المسیب قرآن لٹکانے کا حکم کرتے تھے –

یہ روایت ہی منقطع ہے کیونکہ یحیی بن سعید سے ابن مسیب تک کی سند نہیں ہے اس کے علاوہ نافع بن یزید خود یحیی سے کافی بڑے ہیں ان کا سوال کرنا بھی عجیب لگ رہا ہے

تبصرہ:
احمد العلل میں کہتے ہیں
أبو عصمة صاحب نعيم بن حماد، وقد روى شعبة، عن أبي عصمة، عن رجل، عن ابن المسيب، في التعويذ. «العلل» (1460)
معلوم ہوا کہ اس روایت میں مجھول راوی ہے

فرقوں کی دلیل امام ابو جعفر الباقر کا تعویذ کرنا
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ حَسَنٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَكْتُبَ الْقُرْآنَ فِي أَدِيمٍ ثُمَّ يُعَلِّقُهُ»
امام جعفر نے کہا میرے باپ نے کہا اس میں کوئی برائی نہیں اگر قرآن کو چمڑے پر لکھا جائے پھر لٹکایا جائے

تبصرہ: اس روایت کے راوی کون سے حسن ہیں؟ کیونکہ حسن نام کے سات راوی ہیں جو جعفر الصادق سے روایات بیان کرتے ہیں اور یہ سب ثقہ نہیں بلکہ بعض مجھول بھی ہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ ثَعْلَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنِ التَّعْوِيذِ يُعَلَّقُ عَلَى الصِّبْيَانِ، «فَرَخَّصَ فِيهِ»

يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ نے کہا میں نے ابو جعفر سے بچوں پر تعویذ کا پوچھا تو انہوں نے اجازت دی

تبصرہ : سند میں يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ضعیف ہے

فرقوں کی دلیل عطا کا تعویذ کرنا

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي الْحَائِضِ يَكُونُ عَلَيْهَا التَّعْوِيذُ، قَالَ: «إِنْ كَانَ فِي أَدِيمٍ فَلْتَنْزِعْهُ، وَإِنْ كَانَ فِي قَصَبَةِ فِضَّةٍ فَإِنْ شَاءَتْ وَضَعَتْهُ وَإِنْ شَاءَتْ لَمْ تَضَعْهُ»

عطا سے پوچھا گیا کہ ایک حائضہ ہے جس پر تعویذ ہے – انہوں نے کہا اگر وہ چمڑے میں ہے تو اتار دے اگر چاندی میں ہے تو چاہے تو اتار رکھے اور چاہے تو نہ اتارے

تبصرہ : اگر اس سند میں عَبْدِ الْمَلِك سے مراد عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ہے تو اغلبا یہ عطاء بن السائب ہے نہ کہ عطا بن ابی رباح – و الله اعلم

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: ….. قَالَ حَجَّاجٌ: وَسَأَلْتُ عَطَاءً، فَقَالَ: «مَا سَمِعْنَا بِكَرَاهِيَةٍ إِلَّا مِنْ قِبَلِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ»

حجاج نے کہا میں نے عطا بن ابی رباح سے تعویذ کے بارے میں پوچھا کہا ہم نے اس کی کراہت کے بارے میں اہل عراق سے قبل کسی کو نہیں سنا
تبصرہ : هُشيم ابن بشير، السلمي الواسطي نے جس حجاج سے روایت کیا وہ اصل میں حجاج بن أرطأة ہے جو مختلف فیہ اور مدلس بھی ہے -امام ابن معین کہتے ہیں یہ ضعیف ہے اور نسائی کہتے ہیں قوی نہیں ہے- لہذا سند ضعیف ہے

فرقوں کی دلیل ابن سیرین کا تعویذ کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ: «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالشَّيْءِ مِنَ الْقُرْآنِ»
ابن سیرین سے مروی ہے کہ وہ قرآن میں سے کسی چیز(کو بھی لٹکانے ) میں برائی نہیں دیکھتے تھے

تبصرہ : کتاب المتفق والمفترق کے مطابق
أخبرنا البرقاني قال قال لي أبو الحسن الدارقطني إسماعيل بن مسلم المكي وأصله بصري يروي عن الحسن وابن سيرين وقتادة متروك
امام دارقطنی کہتے ہیں إسماعيل بن مسلم المكي اور اصلا بصري ہیں الحسن سے ابن سيرين سے اور قتادہ سے روایت کرتے ہیں متروک ہیں

تعویذ پر تساہل علماء

تعویذ کو عبد الوہاب النجدی نے اپنی کتاب التوحید میں شرک قرار دیا لیکن اسی دور میں بر صغیر کے اہل حدیث علماء اس کے جواز کے فتوے دیتے تھے-خود غیر مقلد علماء میں سے داؤد غزنوی، سید ابو بکر غزنوی ، نواب صدیق حسن خان ، مفتی ابوالبرکات احمد ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، عبدالرحمان مبارکپوری، حکیم صادق سیالکوٹی، ، میاں نذیر حسین دہلوی سمیت غزنوی ، لکھوی ، گیلانی ، قلعوی اور روپڑی خاندان کے نامی گرامی حضرات تعویزات و عملیات کے نہ صرف جواز کے قائل تھے بلکہ خود بھی بڑے عامل تھے۔ چنانچہ سید نذیر حسین دہلوی سے سوال ہوا کہ گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب میں لکھا :تعویذ نوشتہ در گلو انداختن مضائقہ ندارد۔ مگر اشہر و اصح جواز است۔
فتاویٰ نذیریہ ج3 ص 298 پر

لکھے ہوئے تعویذ کو گلے میں لٹکانا درست ہے کوئی حرج کی بات نہیں زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ جائز ہے۔

اس فتویٰ کی تائید غیر مقلدین کے محدث عبدالرحمان مبارکپوی نے بھی کی اور لکھا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بالغ لڑکوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے کلمات یاد کراتے تھے اور نابالغ لڑکوں کے لیے ان کلمات کو ایک کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے۔ )ابوداود ترمذی(مزید لکھتے ہیں کہ شراح حدیث اس روایت کے تحت لکھتے ہیں کہ جس تعویذ میں اللہ کا نام لکھا ہوا ہو یا قرآن کی کوئی آیت یا کوئی دعا ماثورہ لکھی ہوئی ہو ایسے تعویذ کا کا بالغ لڑکوں کے گلے میں لٹکانا درست ہے۔
فتاویٰ نذیریہ ج 3 ص 299 پر

زاد المعاد میں ابن قیم نے اپنے شیخ ابن تیمیہ کا ذکر کیا
كِتَابٌ للرّعاف: كَانَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ ابْنُ تَيْمِيَّةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يكتب على جبهته:
وَقِيلَ يا أَرْضُ ابْلَعِي ماءَكِ، وَيا سَماءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْماءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ «2» .
وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَتَبْتُهَا لِغَيْرِ وَاحِدٍ فَبَرَأَ،

نکسیر پھوٹنے پر لکھنا- شیخ اسلام ابن تیمیہ … پیشانی پر لکھا کرتے
وَقِيلَ يا أَرْضُ ابْلَعِي ماءَكِ، وَيا سَماءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْماءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ
اور میں نے ان کو کہتے سنا کہ ایک سے زائد کے لئے لکھا وہ اس سے صحت یاب ہوئے۔

آیات کو جسم پر ٹیٹو کی طرح لکھنا، آیات کو زعفران سے لکھ کر دھون پینا، یا آیات کپڑے پر لکھ کر حاملہ پر لٹکانا یا اس کو کھلانا کس سنت سے معلوم ہے؟

ابن تیمیہ و ابن قیم سے سلفیوں کو دلیل ملی کہ جسم پر قرانی آیات کو ٹیٹو  بنا سکتے ہیں اور عرب نوجوان ایسا کر بھی رہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

9 + 13 =