بیعت ابو بکر پر علی کا توقف

علی رضی اللہ عنہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی چھ ماہ تک بیعت نہیں کی تھی – صحيح بخاري 4240 میں ہے

، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الأَشْهُر

فاطمہ وفات النبی کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں پھر جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی نے رات میں ان کو دفن کیا اور اس تدفین کی اجازت ابو بکر سے نہیں لی اور فاطمہ پر خود نماز پڑھ لی اور … پھر فاطمہ کی وفات کے بعد ابو بکر کی بیعت کی

فتح الباري ميں ابن حجر نے اس پر کہا

وَأَشَارَ الْبَيْهَقِيُّ إِلَى أَنَّ فِي قَوْلِهِ وَعَاشَتْ إِلَخْ إِدْرَاجًا وَذَلِكَ أَنَّهُ وَقَعَ عِنْدَ مُسْلِمٍ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى عَنْ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ كَمْ عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَهُ قَالَ سِتَّةُ أَشْهُرٍ وَعَزَا هَذِهِ الرِّوَايَةَ لِمُسْلِمٍ وَلَمْ يَقَعْ عِنْدَ مُسْلِمٍ هَكَذَا بَلْ فِيهِ كَمَا عِنْدَ الْبُخَارِيِّ مَوْصُولًا
بیہقی نے اشارہ کیا ہے کہ یہ قول امام الزہری کا ادراج ہے اور صحیح مسلم میں روایت ہے امام الزہری سے مروی ہے جس کے آخر میں ہے راوی نے کہا میں نے زہری سے پوچھا کہ فاطمہ کتنے روز حیات رہیں وفات النبی کے بعد ؟ زہری نے کہا چھ ماہ

وَقد صحّح بن حِبَّانَ وَغَيْرُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَغَيْرِهِ أَنَّ عَلِيًّا بَايَعَ أَبَا بَكْرٍ فِي أَوَّلِ الْأَمْرِ وَأَمَّا مَا وَقَعَ فِي مُسْلِمٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ لَمْ يُبَايِعْ عَلِيٌّ أَبَا بَكْرٍ حَتَّى مَاتَتْ فَاطِمَةُ قَالَ لَا وَلَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبَيْهَقِيُّ بِأَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يُسْنِدْهُ وَأَنَّ الرِّوَايَةَ الْمَوْصُولَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَصَحُّ
اور ابن حبان نے ایک روایت کی تصحیح کی ہے جو ابو سعید سے مروی ہے اور دوسروں سے کہ علی نے ابو بکر کی بیعت بالکل شروع میں ہی کر لی تھی اور وہ روایت جو صحیح مسلم میں زہری سے آئی ہے اس میں ہے کہ ایک شخص نے زہری سے ذکر کیا کہ علی نے ابو بکر کی بیعت نہیں کی یہاں تک کہ فاطمہ کی وفات ہوئی اور کہا اور بنو ہاشم میں بھی کسی نے بیعت نہیں کی اس کی تضعیف کی ہے بیہقی نے کہ زہری نے اس کی سند نہیں دی اور وہ روایت جو موصول ہے ابو سعید سے وہ اصح ہے

راقم نے ابن حجر کے اس کلام کا تعقب کیا اور صحیح ابن حبان میں دیکھا کہ کون سی روایت کو صحیح کہا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ ابن حبان نے امام زہری والی روایت کو ہی صحیح میں درج کیا ہے – صحيح ابن حبان 4823 ميں ابن حجر کي تحقيق کے برعکس صحيح بخاري جيسي روايت ہے جس ميں ہے

وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، فَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا، انْصَرَفَتْ وجُوهُ النَّاسِ عَنْ عَلِيٍّ، حَتَّى أَنْكَرَهُمْ، فَضَرَعَ عَلِيٌّ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى مُصَالَحَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَمُبَايَعَتِهِ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الْأَشْهُرَ،

یعنی ابن حبان نے اس امام زہری والی روایت کو ہی صحیح قرار دیا ہے

اب دیکھتے ہیں کہ ابو سعید سے مروی حدیث کون سی ہے جس کا امام بیہقی نے ذکر کیا ہے – یہ روایت ابو داود طيالسي ميں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ إِذَا بَعَثَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرْنَهُ بِرَجُلٍ مِنَّا» ، فَنَحْنُ نَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنْكُمْ وَرَجُلٌ مِنَّا، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ [ص:496] اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَكُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا يَكُونُ الْإِمَامُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، نَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: جَزَاكُمُ اللَّهُ مِنْ حَيٍّ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ، وَاللَّهِ لَوْ قُلْتُمْ غَيْرَ هَذَا مَا صَالَحْنَاكُمْ

ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار کے خطیب کھڑے ہوئے اور ان میں سے بعض کہہ رہے تھے اے گروہ مہاجرین جب رسول اللہ تم میں سے کسی کو (امیر بنا کر ) بھیجتے تو ایک ہم (انصار میں ) سے ساتھ کرتے تھے پس ہم انصار دیکھتے ہیں کہ یہ امر خلافت دو کو ملے ایک ہم میں سے ایک تم میں سے پس زید بن ثابت کھڑے ہوئے اور کہا بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو خود مہاجرین میں سے تھے اور ہم رسول اللہ کے انصاری تھے ، پس امام تو مہاجرین میں سے ہی ہونا چاہیے اور ہم مدد گار رہیں گے جس طرح ہم رسول اللہ کے مدد گار تھے پس ابو بکر رحمہ اللہ نے فرمایا اللہ تم کو جزا دے اے گروہ انصار اور تم کو بات پر قائم رکھے اللہ کو قسم اگر تم اس کے علاوہ کچھ کہتے تو اگریمنٹ نہ ہوتا

اسی متن پر تاريخ دمشق ميں اضافہ بھی ملتا ہے

وأخبرنا أبو القاسم الشحامي أنا أبو بكر البيهقي أنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي الحافظ الإسفراييني قال (1) نا أبو علي الحسين بن علي الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق بن خزيمة وإبراهيم بن أبي طالب قالا نا بندار بن بشار نا أبو هشام المخزومي نا وهيب نا داود بن أبي هند نا أبو نضرة عن أبي سعيد الخدري قال قبض النبي (صلى الله عليه وسلم) واجتمع الناس في دار سعد بن عبادة وفيهم أبو بكر وعمر قال فقام خطيب الأنصار فقال أتعلمون أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) كان من المهاجرين وخليفته من المهاجرين ونحن كنا أنصار رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فنحن أنصار خليفته كما كنا أنصاره قال فقام عمر بن الخطاب فقال صدق قائلكم أما لو قلتم غير هذا لم نتابعكم (2) وأخذ بيد أبي بكر وقال هذا صاحبكم فبايعوه وبايعه عمر وبايعه المهاجرون والأنصار قال فصعد أبو بكر المنبر فنظر في وجوه القوم فلم ير الزبير قال فدعا بالزبير فجاء فقال (3) قلت أين ابن عمة رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وحواريه أردت أن تشق عصا المسلمين قال لا تثريب يا خليفة رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فقام فبايعه ثم نظر في وجوه القوم فلم ير عليا فدعا بعلي بن أبي طالب فجاء فقال قلت ابن عم رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وختنه على ابنته أردت أن تشق عصا المسلمين قال لا تثريب يا خليفة رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فبايعه

أبي سعيد الخدري نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور لوگ سعد بن عبادہ کے گھر میں جمع ہوئے جن میں ابو بکر اور عمر بھی تھے پس انصار کے خطیب کھڑے ہوئے اور کہا تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین میں سے تھے اور خلیفہ بھی مہاجرین میں سے ہونا چاہیے اور ہم مددگار ہیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے اسی طرح ہونے والے خلیفہ کے ہوں گے پس عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور کہا تم نے سچ کہا اگر کچھ اور کہتے تو ہم تمہاری بیعت نہیں کرتے اور ابو بکر کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا یہ تمہارے صاحب ہیں ان کی بیعت کرو اور عمر نے بیعت کی اور مہاجرین و انصار نے بھی بیعت کی پس ابو بکر لوگوں سے اوپر منبر پر کھڑے ہوئے اور
قوم کی شکلوں کو دیکھا تو ان میں زبیر کو نہیں پایا – کہا پس زبیر کو پکارا گیا اور وہ آئے – ابو سعید نے کہا میں نے زبیر سے پوچھا رسول اللہ کی چچی کا لڑکا (علی ) اور اس کے حواری کدھر ہیں یہ مسلمانوں کی لاٹھی کو توڑنا چاہتے ہیں ؟ زبیر ( فورا ابو بکر کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں ) نے کہا آپ پر کوئی الزام نہیں اے خلیفہ رسول ، اور انہوں نے ابو بکر کی بیعت کر لی پھر ابو بکر نے نظر دوڑائی تو علی کو نہیں پایا پس علی کو پکارا گیا اور وہ آئے -ابو سعید نے کہا میں نے علی سے پوچھا اے رسول اللہ کے کزن اور ( بیہودہ الفاظ بولے ) ….. تم مسلمانوں کی لاٹھی توڑنا چاہتے ہو ؟ علی نے کہا اے خلیفہ رسول ہمارا آپ پر کوئی الزام نہیں اور بیعت کر لی

راقم کہتا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے اور متن منکر ہے اول تو ابو بکر کی بیعت سعد بن عبادہ کے گھر میں نہیں باغ سقیفہ بنی ساعدہ میں ہوئی تھی دوم اس میں اہل بیت النبی کو زبردستی بلوا بلوا کر بیعت لینے کا ذکر ہے جبکہ وہ سب ابھی تدفین النبی کی تیّاریوں میں مصروف ہوں گے

سند میں وھیب بن خالد ثقہ ہے لیکن اس کو وہم بھی ہوتا ہے – اس کی سند میں أبُو نَضْرَةَ العَبْدِيُّ المُنْذِرُ بنُ مَالِكِ بنِ قُطَعَةَ بھی ہے الذھبی سیر الاعلام میں لکھتے ہیں
وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ فِي (الثِّقَاتِ) : كَانَ مِمَّنْ يُخْطِئُ
ابن حبان ثقات میں لکھتے ہیں یہ وہ ہیں جو غلطی کرتے ہیں
وَقَالَ ابْنُ سَعْدٍ : ثِقَةٌ، كَثِيْرُ الحَدِيْثِ، وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ يُحْتَجُّ بِهِ.
ابن سعد کہتے ہیں ثقہ ہیں کثیر الحدیث ہیں اور ہر ایک سے دلیل نہیں لی جا سکتی

اسی طرح کا متن ایک دوسرے طرق سے ہے

أخبرنا أبو القاسم إسماعيل بن أحمد أنا أحمد بن علي بن الحسن (2) بن أبي عثمان وأحمد بن محمد بن إبراهيم القصاري ح وأخبرنا أبو عبد الله بن القصاري أنا أبي أبو طاهر قالا أنا أبو القاسم إسماعيل بن الحسن (3) بن عبد الله الصرصري نا أبو عبد الله المحاملي نا القاسم بن سعيد بن المسيب نا علي بن عاصم نا الجريري عن أبي نضرة (4) عن أبي سعيد قال لما بويع أبو بكر قال أين علي لا أراه قالوا لم يحضر قال فأين الزبير قالوا لم يحضر قال ما كنت أحسب أن هذه البيعة إلا عن رضا جميع المسلمين إن هذه البيعة ليس كبيع الثوب ذي الخلق إن هذه البيعة لا مردود لها قال فلما جاء علي قال يا علي ما بطأ بك عن هذه البيعة قلت إني ابن عم رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وختنه على ابنته لقد علمت أني كنت في هذا الأمر قبلك قال لا تزري بي يا خليفة رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فمد يده فبايعه فلما جاء الزبير قال ما بطأ بك عن هذه البيعة قلت (1) إني ابن عمة رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وحواري رسول الله ( صلى الله عليه وسلم) أما علمت أني كنت في هذا الأمر قبلك قال لا تزري بي يا خليفة رسول الله (صلى الله عليه وسلم) ومد يده فبايعه

یہاں علي بن عاصم بن صهيب الواسطي ہے جو کثرت سے غلطی کرنے پر مشہور ہے امام علي بن المديني کا قول ہے
كان على بن عاصم كثير الغلط

اس طرح اس روایت کی سند و متن منکر ہے – بیعت ابو بکر کے حوالے سے ایک روایت تاريخ طبري ميں ملی ہے

حدثنا عبيد الله بن سعيد الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَيْفُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ظَبْيَةَ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: قال عمرو بن حريث لسعيد ابن زيد: اشهدت وفاه رسول الله ص؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:فَمَتَى بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ؟ قال: يوم مات رسول الله ص كَرِهُوا أَنْ يَبْقَوْا بَعْضَ يَوْمٍ وَلَيْسُوا فِي جَمَاعَةٍ قَالَ: فَخَالَفَ عَلَيْهِ أَحَدٌ؟ قَالَ:
لا إِلا مُرْتَدٌّ أَوْ مَنْ قَدْ كَادَ أَنْ يَرْتَدَّ، لَوْلا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْقِذُهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ: فَهَلْ قَعَدَ أَحَدٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ؟ قَالَ: لا، تَتَابَعَ الْمُهَاجِرُونَ عَلَى بَيْعَتِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَدْعُوَهُمْ.

عمرو بن حريث کہتے ہيں کہ ميں نے سعيد بن زيد سے دريافت کيا کہ کيا اپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کي وفات کے وقت موجود تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں پھر انہوں نے سوال کيا کہ ابو بکر سے بيعت کب کي گئي ، اس کے جواب ميں فرمايا کہ جس دن نبي صلی اللہ علیہ وسلم کي وفات ہوئي اسي دن، صحابہ اس کو اچھا نہيں جانتے تھے کہ ايک دن بھي اس طرح سے گزاريں کہ جماعت سے منسلک نہ ہوں اس پر عمرو بن حريث نے پھر پوچھا کہ کيا ابو بکر کي کسي نے مخالفت کي تھي؟ سعيد بن زيد نے جواب ديا کہ نہيں البتہ ایک مرتد نے يا انصار ميں سے اس شخص نے مخالفت کي تھي جو قريب تھا کہ مرتد ہوجاتا اگر اللہ اسکو اس سے نہ بچا ليتا عمرو بن حريث نے پھر پوچھا کہ مہاجرين ميں سے کسي
نے پہلو تہي کي تھي سعيد بن زيد نے فرمايا، نہيں بلکہ مہاجرين تو بغير بلائے ہي بيعت کرنے ٹوٹ پڑے تھے )

اس حدیث پر تاریخ طبری کے محققین کتاب صحيح وضعيف تاريخ الطبري از محمد بن طاهر البرزنجي ، إشراف ومراجعة: محمد صبحي حسن حلاق الناشر: دار ابن كثير، دمشق – بيروت میں کہتے ہیں کہ حديث ضعيف وفي متنه نكارة یہ ضعیف ہے اور متن میں نکارت ہے

کتاب المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري از أكرم بن محمد زيادة الفالوجي الأثري ، الناشر: الدار الأثرية، الأردن – دار ابن عفان، القاهرة کے مطابق اس کی سند ميں راوی الوليد بن عبد الله بن أبي ظبية مجہول ہے
لم أعرفه، ولم أعرف أباه، ولم أجد لهما تراجم
محقق کہتے ہیں اس کو نہیں جان سکا نہ اس راوی کا ترجمہ ملا

اس تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ ابن حبان نے امام زہری کے قول والی حدیث کو ہی صحیح کہا ہے اور ابن حجر کو تسامح ہوا کہ ابن حبان نے کسی اور روایت کو صحیح قرار دیا ہے – دوم تاریخ طبری کی روایت مجھول راوی کی وجہ سے ضعیف ہے اور تاریخ دمشق والی روایت کا متن منکر ہے اور سند بھی ایسی مضبوط نہیں ہے

وہابی عالم صالح المنجد نے بھی اپنی ویب سائٹ پر ان روایات کو ضعیف گردانا ہے

غور طلب ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے بھی ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی
اس طرح کے اختلافات موجود تھے لیکن اس میں زبردستی نہیں کی جاتی تھی کہ جبرا بیعت لی جاتی ہو

راقم سمجھتا ہے کہ امام زہری کا جملہ وضاحتی مدرج ہے لیکن حقیقت حال کے خلاف نہیں ہے

1 thought on “بیعت ابو بکر پر علی کا توقف”

  1. ایک دفعہ پھر اگر قرآن کی طرف رجوع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن واقعی فرقان ہے. الله نے پہلے سوره حج کی آیت ٤١ جو کہ ہجرت سے پہلے کی سورت ہے میں فرمایا کہ ” یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰة ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے ”
    اور پھر جب مسلمان ہجرت کے بعد کی آزمائشوں اور مصائب کا جواں مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے کامیاب ہو گئے تو پھر سوره نور کی آیت ٥٥ میں وعدہ فرما دیا کہ
    “جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں ”
    اس آیت میں ٢ باتیں بہت اہم ہیں. پہلی کہ یہ وعدہ صرف الله کی طرف سے ہے تو اس کے پورے ہونے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے. کیونکہ الله اپنے وعدوں کو بغیر کسی اور کے پورا کرنے کا پورا پورا اختیار اور قدرت رکھتا ہے.
    اور دوسری بات یہ کہ الله نے فرمایا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ ان سے پہلے کون سے لوگ تھے
    تو اس کا جواب سوره بقرہ میں مل جائے گا جہاں طالوت، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی خلافت کا ذکر موجود ہے. اب یہ سوچنا کہ حضرت علی نے کسی بھی قسم کی حیل و حجت سے کام لیا ہو گا وہ ایک لغو خیال سے زیادہ کچھ نہیں.
    آخری بات یہ کہ سوره نور، سوره حج میں کی گئی بات کا اتمام ہے چنانچہ سوره نور میں جن لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے وہ سوره حج کے ہی ہیں اور سوره حج میں ہجرت کرنے والے مہاجرین سے خطاب کیا جا رہا ہے تو یہ بات کہ انصار کو اس کا معلوم نہیں ہو گا کہ الله نے مہاجرین کو کیا کہا ہے بھی ایک فضول بات ہے.

    واللہ اعلم

Leave a Reply

Your email address will not be published.

1 × 2 =