ابن صیاد کا دل کا حال جاننا

اسلامی تاریخ میں اتا ہے کہ مدینہ میں دور نبوی میں ایک عورت نے بچے کو جنا جو پیدائشی کانا تھا (مسند احمد) – یہ بچہ مسلمانوں کے بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا اور کسی حدیث میں نہیں کہ مسلمانوں نے اپنے بچوں کو اس سے ملنے سے منع کر دیا ہو- ابن صیاد یا ابْنِ صَائِدٍ کے حوالے سے  مسائل اس وقت پیدا ہوئے جب بچپن میں ہی اس کا امر مشتبہ ہوا اور اس نے اپنے اوپر القا ہونے کا دعوی بھی کر دیا – اس طرح دجال کی جو نشانیاں تھیں ان میں سے چند اس میں جمع ہونا شروع ہوئیں – اس کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں اور عرض کی کہ آ کر اس کے بیٹے کا معائینہ کریں – اس لئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم ابن صیاد کے گھر گئے اور اس سے سوال و جواب کیا – صحیح بخاری و مسلم  میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : تو کیا دیکھتا ہے؟
ابن صیاد : میں سمندر پر عرش دیکھتا ہوں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : وہ ابلیس کا عرش ہے
ابن صیاد : میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا اتا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : تیرا معامله مختلط (مشکوک ) ہو گیا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : میں نے تیرے لئے کچھ چھپایا ہے
ابن صیاد : وہ الدخ، الدخ ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ہٹ – تو اس پر قدرت نہیں رکھتا

نوٹ : صحیح بخاری کی کسی حدیث میں موجود نہیں کہ اس وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ الدخان کا سوچا البتہ یہ بات بعض دیگر کتب حدیث میں ہے

شارحین کا اس الدخ (دھواں) پر جو کہنا ہے اس کی تلخیص صحیح ابن حبان کی تعلیق میں شعيب الأرنؤوط نے پیش کی ہے

قال النووي في شرح مسلم 18/49: الجمهور على أن المراد بالدخ هنا: الدخان، وأنها لغة فيه، وخالفهم الخطابي، فقال: لا معنى للدخان هنا، لأنه ليس مما يخبأ في كف أو كم كما قال، بل الدخ بيت موجود بين النخيل والبساتين، قال: إلا أن يكون معنى “خبأت”: أضمرت لك اسم الدخان وهي قوله تعالى: {فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين} قال القاضي: قال الداودي: وقيا: كانت سورة الدخان مكتوبة في يده صلى الله عليه وسلم، وقيل: كتب الآية في يده.قال القاضي: وأصح الأقوال أنه لم يهتد من الآية التي أضمر النبي صلى الله عليه وسلم إلا لهذا اللفظ الناقص على عادة الكهان

نووی نے شرح مسلم میں کہا جمہور کہتے ہیں کہ ابن صیاد کی دخ سے مراد یہاں ہے الدخان ہے اور یہ لغت ہے لیکن خطابی نے مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ دخان یہاں مطلب نہیں ہے کیونکہ یہ وہ نہیں جس کو مٹھی میں چھپایا جا سکے بلکہ گھر میں دھواں موجود تھا جو کھجور وں اور باغ کے بیچ میں تھا (یعنی دھواں پھیلا ہوا تھا )– نووی نے کہا خبأت (چھپانے ) میں مضمر ہے کہ نام الدخان تھا اور یہ اللہ کا قول ہے {فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين}- قاضی نے کہا الدوادی نے کہا سورہ الدخان اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر لکھی ہوئی تھی اور کہا گیا اپنے ہاتھ سے آیات لکھی تھیں – قاضی نے کہا ان اقوال میں صحیح یہ ہے کہ ابن صیاد کو ہدایت نہ ہوئی کہ اس آیت تک جاتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچی تھی سوائے کاہنوں کی طرح ایک لفظ ناقص کے

راقم کہتا ہے کہ یہ بات صحیح بخاری میں موجود نہیں کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ الدخان سوچی تھی – یہ راقم کے نزدیک امام معمر بن راشد کا ادراج ہے کیونکہ یہ روایت اعمش کی سند سے اور امام الزہری کے دیگر شاگردوں کی سند سے معلوم ہے – انہوں نے سورہ الدخان کا ذکر نہیں کیا ہے – اس لئے خطابی کا قول صحیح ہے ابن صیاد نے صرف اٹکل سے کام لیا دیکھا اس وقت دھواں پھیلا ہوا ہے تو فورا وہی بول دیا کہ شاید اسی چیز کا خیال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہوں – و اللہ اعلم

مسند البزار اور معجم کبیر از طبرانی میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ الْأَنْطَاكِيُّ، قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ، قَالَ: نا زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ [ص:169] حَارِثَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ: «انْطَلِقْ» فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلُوا بَيْنَ حَائِطَيْنِ فِي زُقَاقٍ طَوِيلٍ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى الدَّارِ إِذَا امْرَأَةٌ قَاعِدَةٌ، وَإِذَا قِرْبَةٌ عَظِيمَةٌ مَلْأَى مَاءً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَى قِرْبَةً وَلَا أَرَى حَامِلَهَا» فَأَشَارَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى قَطِيفَةٍ فِي ناحِيَةِ الدَّارِ، فَقَامُوا إِلَى الْقَطِيفَةِ، فَكَشَفُوهَا فَإِذَا تَحْتَهَا إِنْسَانٌ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَاهَ الْوَجْهُ» ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لِمَ تَفْحَشُ عَلَيَّ؟، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْئًا، فَأَخْبِرْنِي مَا هُوَ» ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَبَأَ لَهُ سُورَةَ الدُّخَانِ، فَقَالَ: «الدُّخُّ» ، فَقَالَ: اخْسَهْ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ “، ثُمَّ انْصَرَفَ وَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ رَوَى بَعْضَهُ أَبُو الطُّفَيْلِ نَفْسُهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ
اس سند میں معمر نہیں ہے لیکن متن میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ الدخان سوچی
یہ سند ضعیف ہے – سند میں زياد بن الحسن بن فرات القزاز التميمى الكوفى منکر الحدیث ہے –

معجم الاوسط از طبرانی میں اسی سند سے ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ قَالَ: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِيسَى التَّنُوخِيُّ قَالَ: نا زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ الْفُرَاتِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: «انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى إِنْسَانٍ قَدْ رَأَيْنَا شَأْنَهُ» قَالَ: فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمْشِي وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلُوا حَائِطَيْنِ فِي زُقَاقٍ طَوِيلٍ، وَانْتَهَوْا إِلَى بَابٍ صَغِيرٍ، فِي أَقْصَى الزُّقَاقِ، فَدَخَلُوا إِلَى دَارٍ، فَلَمْ يَرَوْا فِي الدَّارِ أَحَدًا غَيْرَ امْرَأَةٍ قَاعِدَةٍ، وَإِذَا قِرْبَةٌ عَظِيمَةٌ مَلْأَى مَاءً، فَقَالُوا: نَرَى قِرْبَةً وَلَا نَرَى حَامِلَهَا، فَكَلَّمُوا الْمَرْأَةَ، فَأَشَارَتْ إِلَى قَطِيفَةٍ فِي نَاحِيَةِ الدَّارِ، فَقَالَتْ: انْظُرُوا مَا تَحْتَ الْقَطِيفَةِ فَكَشَفُوهَا، فَإِذَا تَحْتَهَا إِنْسَانٌ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَاهَ الْوَجْهُ» فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لِمَ تَفْحَشُ عَلَيَّ؟ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْأً، فَأَخْبِرْنِي مَا هُوَ» وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَهُ سُورَةَ الدُّخَانِ» فَقَالَ: سُورَةُ الدُّخَانِ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْسَأْ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ، ثُمَّ انْصَرَفَ»
اس متن میں ہے کہ ابن صیاد نے سورہ الدخان تک بولا – سند وہی مسند البزار والی ہے

معجم الاوسط میں ہے
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: نا عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الزِّمَّانِيُّ قَالَ: نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ: نا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ قَالَ: ثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: لَأَنْ أَحْلِفُ عَشْرَةَ أَيْمَانٍ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ هُوَ الدَّجَّالُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ مَرَّةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِي إِلَى أُمِّهِ، فَقَالَ: «سَلْهَا، كَمْ حَمَلَتْ؟» فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، فَقَالَ: «سَلْهَا، كَيْفَ كَانَتْ صَيْحَتُهُ حِينَ وَقَعَ؟» قَالَتْ: صَيْحَةَ الصَّبِيِّ ابْنِ شَهْرٍ، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبَأً، فَمَا هُوَ؟» فَقَالَ: عَظْمُ شَاةٍ عَفْرَاءَ، فَجَعَلَ يُرِيدُ يَقُولُ: الدُّخَانُ فَجَعَلَ يَقُولُ: الدُّخَ الدُّخَ، فَقَالَ: «اخْسَأْ، فَإِنَّكَ لَنْ تَسْبِقَ الْقَدَرَ»
لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَارِثِ إِلَّا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے ایک چیز چھپائی ہے – ابن صیاد بولا بھیڑ کی سب سے بڑی ہڈی
پس وہ کہنا چاہ رہا تھا الدخان لیکن منہ سے نکلا الدخ – پس نبی نے فرمایا ہٹ پرے تو اس پر قادر نہیں ہے –
سندا اس میں عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ اور الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ بہت مضبوط نہیں ہیں

لب لباب ہے کہ ابن صیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں موجود سورہ الدخان کے الفاظ میں سے الدخ تک پہنچ گیا منکر روایت ہے – یہ بات صرف معمر بن راشد  کے تفرد کے ساتھ معلوم ہے – دل کے حال کا علم صرف اللہ کو ہے

واللہ علیم بذات الصدور

ابن صیاد کی شادی بھی ہوئی اور اولاد بھی کسی روایت میں نہیں کہ اس کو دجال سمجھتے ہوئے مسلمانوں نے اس کو بیٹی دینے سے انکار کیا بلکہ اس کی اولاد موطا امام مالک میں راوی ہے – عمارة ابن عبد الله ابن صياد اس کے بیٹے ہیں اور مدینہ کے فقہا میں سے ہیں – الإصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر کے مطابق وكان من خيار المسلمين من أصحاب سعيد بن المسيّب
ابن صیاد کے بیٹے اچھے مسلمانوں میں سے تھے سعید بن المسیب کے ساتھیوں میں سے – تاریخ زبیر بن بکار کے مطابق عمارة ابن عبد الله ابن صياد خلیفہ الولید بن عبد الملک کے دور تک زندہ تھے یعنی ابن صیاد پر جو بھی شک ہو وہ صرف اس تک محدود تھا
طبقات ابن سعد کے مطابق وغزا مع المسلمين ابن صیاد نے مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں حصہ بھی لیا اگر تمام اصحاب رسول اس کو دجال ہی سمجھتے تو بنو امیہ اس کو جہاد میں شامل ہی نہ کرتے

4 thoughts on “ابن صیاد کا دل کا حال جاننا”

  1. السلام علیکم

    ابن صیاد یا کاہنوں میں سے کوئی انبیاء کے دل تک پہنچ سکتا ہے ؟

    1. Islamic-Belief says:

      و عیلکم السلام

      انبیاء کے دل تک سوائے اللہ کے کوئی نہیں پہنچ سکتا

  2. السلام علیکم

    إِنَّ اللَّهَ عَالِمُ غَيْبِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

    بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم رکھتا ہے۔ بیشک وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے

    اس آیت کے مقابلے پر ہے کہ ابن صیاد الدخان میں دخ تک کو جان گیا جبکہ یہ بات نبی علیہ السلام کے دل میں تھی

    درست فرمایا آپ نے ایسی بات قرآن کے خلاف ہے

    1. Islamic-Belief says:

      و علیکم السلام

      کاہن کے لئے ممکن نہیں ہے کہ انسان کے دل کا حال جان لے
      اسی کا ذکر اس بلاگ میں ہے کہ روایت منکر ہے اور اس پر عقیدہ نہ لیا جاۓ کہ ابن صیاد دل کا حال جان سکتا تھا
      یہاں تک کہ الفاظ میں چند حروف تک پہنچ گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

four − 1 =