حَتَّى إِذَا فُتِّحَتْ يَاجُوجُ وَمَاجُوجُ

روایات

خروج یاجوج و ماجوج

تاریخ اور جرح و تعدیل کے میزان پر

اس    مختصر کتاب کا موضوع    یاجوج و ماجوج  ہیں –  الله تعالی نے خبر دی کہ جب  خروج یاجوج و ماجوج ہو گا تو وہ ہر بلندی سے نکل رہے ہوں گے اور منظر ایسا ہو گا جیسے سمندر کی  موجیں گتھم گتھا ہو رہی ہوں یعنی یاجوج ماجوج تعداد میں  بہت ہوں گے –    یاجوج ماجوج کے حوالے سے   علماء  کے مضطرب اقوال ہیں  بعض کے نزدیک   منگول   یا ترک    یاجوج و ماجوج  ہیں –  بعض  اہل  چین کو یاجوج ماجوج قرار دیتے ہیں – یہاں تک کہ بعض عالموں کے نزدیک دجال اور یاجوج ماجوج ایک ہیں

اہل کتاب کے مطابق  جوج نام کا ایک لیڈر ہے اور اس کی قوم ماجوج ہے – ان کے پاس یاجوج کا کوئی تصور نہیں ہے – لیکن مسلمان علماء  اس پر غور کیے بغیر  اہل کتاب سے دلائل دینے لگ جاتے ہیں –      یاجوج و ماجوج اہل کتاب کے نزدیک ایک غلط  نام ہے   لہذا  اہل کتاب  کی کتابوں سے دلائل دینا بے کار ہے –  اہل کتاب میں بھی   ماجوج پر اختلافات ہیں مثلا    پروٹسٹنٹ  نصرانی  آج کل    ایسٹرن آرتھوڈوکس  نصرانییوں  میں  روسیوں کو ماجوج  قرار دیتے ہیں-

اس کے علاوہ مسلمانوں کا اس پر بھی اختلاف رہتا ہے کہ   کیا دیوار چین     اور   سد سکندری،  وہی دیوار   ہے  جو ذو القرنین نے بنائی  یا نہیں ؟  ذوالقرنین   کون تھے ؟ سکندر یا کورش یا سائرس ؟

 اس کتاب میں   یاجوج ماجوج  سے متعلق   روایات کا جائزہ   لیا گیا ہے – کتاب میں  اس پر بھی غور کیا گیا  ہے کہ  قیامت کی نشانیاں کس ترتیب میں ہو سکتی ہیں جن کا علم صرف اور صرف الله تعالی کو ہے

ابو شہر یار

٢٠١٧


فہرست

یاجوج و ماجوج کون  ہیں؟

قیامت کی نشانیوں میں  اختلاف

اہل کتاب کے اشکالات

ملحدین کے اشکالات

عرب جغرافیہ دانوں کے اشکالات

عصر حاضر کے  علماء

روایات  یاجوج و ماجوج

اختتام

Download

روایات یاجوج ماجوج

کتاب پڑھنے سے پہلے سوره کہف ضرور پڑھ لیں اس کو کتاب میں شامل نہیں کیا گیا ہے – مباحث کو سمجھنے کے لئے قرانی حقائق  و آیات کو جاننا ضروری امر ہے 

 

This entry was posted in Aqaid, history, ilm ul hadith. Bookmark the permalink.

6 Responses to حَتَّى إِذَا فُتِّحَتْ يَاجُوجُ وَمَاجُوجُ

  1. وجاہت says:

    آپ کی تحقیق بہت اچھی ہے – الله آپ کو جزایۓ خیر دے – امین

    آپ نے اس کتاب کے صفحہ ١٧ پر کہا ہے کہ صحیح مسلم میں قیامت کی دس نشانیوں کا ذکر ہے لیکن ان کی ترتیب نہیں جیسا کہ امام مسلم نے عبدالله بن عمرو رضی الله سے ثابت کیا

    یہ بات تو آپ نے ثابت کی

    لیکن آگے آپ نے جو لکھا ہے کہ صحابی حذیفہ رضی الله کی روایت ٢٩٤٧ میں دس نشانیاں ہیں

    جب میں نے اس حدیث کا حوالہ چیک کیا تو اس میں چھ نشانیوں کا ذکر ہے اور یہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله سے روایت ہے

    حدیث نمبر ٢٩٤٧

    فواد عبدالباقی حدیث نمبر: 2947

    حدثنا يحيى بن ايوب ، وقتيبة بن سعيد ، وابن حجر ، قالوا:‏‏‏‏ حدثنا إسماعيل يعنون بن جعفر ، عن العلاء ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ” بادروا بالاعمال ستا طلوع الشمس من مغربها، ‏‏‏‏‏‏او الدخان، ‏‏‏‏‏‏او الدجال، ‏‏‏‏‏‏او الدابة، ‏‏‏‏‏‏او خاصة احدكم، ‏‏‏‏‏‏او امر العامة “.

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلدی کرو نیک اعمال کرنے کی چھ چیزوں سے پہلے، ایک دجال کے نکلنے سے، دوسرے دھواں، تیسرے زمین کا جانور، چوتھے آفتاب کا پچھم سے نکلنا، پانچویں قیامت، چھٹے موت۔“ (یعنی جب یہ باتیں آ جائیں گی تو نیک اعمال کا قابو جاتا رہے گا)۔

    ——-

    آپ کس حدیث کا حوالہ اپنی کتاب میں لکھ رہے ہیں

    پلیز چیک کر لیں

    • Islamic-Belief says:

      صحیح مسلم کی روایت ہے
      (2901) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَاطَّلَعَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَا تَذْكُرُونَ؟ ” قُلْنَا: السَّاعَةَ، قَالَ: ” إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَكُونُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ، وَدَابَّةُ الْأَرْضِ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قُعْرَةِ عَدَنٍ تَرْحَلُ النَّاسَ ” قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، مِثْلَ ذَلِكَ، لَا يَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ أَحَدُهُمَا فِي الْعَاشِرَةِ: نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ الْآخَرُ: وَرِيحٌ تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْرِ،

      یہ روایت اہل تشیع کی بھی ہے
      الخصال – از الصدوق – ص 431 – 432 کی روایت ہے

      عن أبي الطفيل ( 2 ) ، عن حذيفة بن أسيد قال : اطلع علينا رسول الله صلى الله عليه وآله من غرفة له ونحن نتذاكر الساعة ، قال رسول الله صلى الله عليه وآله : لا تقوم الساعة حتى تكون عشر آيات : الدجال ، والدخان ، وطلوع الشمس من مغربها ، ودابة الأرض ، و يأجوع ومأجوج ، وثلاث خسوف : خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة ‹ صفحة 432 › العرب ، ونار تخرج من قعر عدن تسوق الناس إلى المحشر ، تنزل معهم إذا نزلوا وتقيل معهم إذا قالوا . عشر خصال جمعها الله عز وجل لنبيه وأهل بيته صلوات الله عليهم

      حذيفة بن أسيد کہتے ہیں ان کو رسول الله صلى الله عليه وآله نے خبر دی اپنے غرفة میں اور ہم وہاں قیامت کا ذکر کر رہے تھے رسول الله صلى الله عليه وآله نے فرمایا قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ دس نشانیاں ہوں دجال دھواں سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دابه الارض یاجوج اور ماجوج تین خسوف مغرب مشرق اور عرب میں اور اگ جو عدن کی تہہ سے نکلے گی اور لوگوں کو محشر کی طرف جمع کرے گی

  2. وجاہت says:

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ (بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ)

    صحیح مسلم: کتاب: فتنے اور علامات ِقیامت

    (باب: مسیح دجال کابیان)​

    7373

    حکم : صحیح

    ابو خیثمہ زہیر بن حراب اور محمد بن مہران رازی نے مجھے حدیث بیان کی۔الفاظ رازی کے ہیں۔کہا: ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: ہمیں عبد الرحمٰن بن یزید بن جابر نے یحییٰ بن جابرقاضی حمص سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر ہے۔ انھوں نےاپنے والد جبیر بن نفیرسے اور انھوں نے حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا:کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا۔ آپ نے اس (کے ذکر کے دوران) میں کبھی آواز دھیمی کی کبھی اونچی کی۔ یہاں تک کہ ہمیں ایسے لگا جیسے وہ کھجوروں کے جھنڈمیں موجود ہے۔جب شام کو ہم آپ کے پاس (دوبارہ) آئے تو آپ نے ہم میں اس (شدید تاثر)کو بھانپ لیا۔ آپ نے ہم سے پوچھا “تم لوگوں کو کیا ہواہے؟”ہم نے عرض کی اللہ کے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !صبح کے وقت آپ نے دجال کا ذکر فرمایاتو آپ کی آوازمیں (ایسا)اتارچڑھاؤتھا کہ ہم نے سمجھاکہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”مجھے تم لوگوں (حاضرین )پر دجال کے علاوہ دیگر(جہنم کی طرف بلانے والوں)کا زیادہ خوف ہےاگر وہ نکلتا ہے اور میں تمھارے درمیان موجود ہوں تو تمھاری طرف سے اس کے خلاف (اس کی تکذیب کے لیے)دلائل دینے والا میں ہوں گااور اگر وہ نکلا اور میں موجودنہ ہوا تو ہر آدمی اپنی طرف سے حجت قائم کرنے والاخود ہو گا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (خود نگہبان )ہوگا ۔وہ گچھے دار بالوں والاایک جوان شخص ہے اس کی ایک آنکھ بے نور ہے۔ میں ایک طرح سے اس کو عبد العزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں تم میں سے جو اسے پائے تو اس کے سامنے سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے وہ عراق اور شام کے درمیان ایک رستے سے نکل کر آئے گا ۔وہ دائیں طرف بھی تباہی مچانے والا ہو گا اور بائیں طرف بھی۔ اے اللہ کے بندو!تم ثابت قدم رہنا ۔”ہم نے عرض ۔اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !زمین میں اس کی سرعت رفتار کیا ہو گی؟آپ نے فرمایا:”بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہو۔وہ ایک قوم کے پاس آئے گا انھیں دعوت دے گا وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی باتیں مانیں گے۔ تو وہ آسمان (کے بادل )کو حکم دے گا۔وہ بارش برسائے گا اور وہ زمین کو حکم دے گا تو وہ فصلیں اگائےگی۔شام کے اوقات میں ان کے جانور (چراگاہوں سے) واپس آئیں گے تو ان کے کوہان سب سے زیادہ اونچےاور تھن انتہائی زیادہ بھرے ہوئے اور کوکھیں پھیلی ہوئی ہوں گی۔پھر ایک (اور) قوم کے پاس آئے گا اور انھیں (بھی) دعوت دے گا۔وہ اس کی بات ٹھکرادیں گے۔ وہ انھیں چھوڑ کر چلا جائے گا تووہ قحط کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کے مال مویشی میں سے کوئی چیز ان کےہاتھ میں نہیں ہوگی۔وہ (دجال)بنجر زمین میں سے گزرے گا تو اس سے کہےگا اپنے خزانے نکال تو اس (بنجر زمین )کے خزانے اس طرح (نکل کر) اس کے پیچھےلگ جائیں گے۔جس طرح شہد کی مکھیوں کی رانیاں ہیں پھر وہ ایک بھر پور جوان کو بلائے گا اور اسے تلوار ۔مار کر( یکبارگی)دوحصوں میں تقسیم کردے گا جیسے نشانہ بنایا جانے والا ہدف (یکدم ٹکڑے ہوگیا)ہو۔ پھر وہ اسے بلائے گا تو وہ (زندہ ہوکر دیکھتےہوئے چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے گا۔ وہ (دجال )اسی عالم میں ہو گا جب اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو معبوث فرمادے گا۔ وہ دمشق کے حصے میں ایک سفید مینار کے قریب دوکیسری کپڑوں میں دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔جب وہ اپنا سر جھکا ئیں گے تو قطرے گریں گے۔اور سر اٹھائیں گے تو اس سے چمکتے موتیوں کی طرح پانی کی بوندیں گریں گی۔ کسی کافر کے لیے جو آپ کی سانس کی خوشبو پائے گا مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔اس کی سانس (کی خوشبو)وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔آپ علیہ السلام اسے ڈھونڈیں گے تو اسے لُد (Lyudia)کےدروازے پر پائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس وہ لوگ آئیں گے جنھیں اللہ نے اس (دجال کےدام میں آنے)سے محفوظ رکھا ہو گاتووہ اپنے ہاتھ ان کے چہروں پر پھیریں گے۔اور انھیں جنت میں ان کے درجات کی خبردیں گے۔وہ اسی عالم میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائےگا میں نے اپنے (پیدا کیے ہوئے )بندوں کو باہر نکال دیا ہے ان سے جنگ کرنے کی طاقت کسی میں نہیں۔آپ میری بندگی کرنے والوں کو اکٹھا کر کے طور کی طرف لے جائیں اور اللہ یاجوج ماجوج کو بھیج دے گا،وہ ہر اونچی جگہ سے امڈتے ہوئے آئیں گے۔ان کے پہلے لوگ (میٹھے پانی کی بہت بڑی جھیل )بحیرہ طبریہ سے گزریں گے اور اس میں جو(پانی)ہوگا اسے پی جائیں گے پھر آخری لوگ گزریں گے تو کہیں گے۔”کبھی اس (بحیرہ )میں (بھی)پانی ہوگا۔ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی محصورہوکر رہ جائیں گے۔حتیٰ کہ ان میں سے کسی ایک کے لیے بیل کا سراس سے بہتر (قیمتی)ہوگا جتنےآج تمھارے لیے سودینارہیں۔ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی گڑ گڑاکر دعائیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج )پر ان کی گردنوں میں کپڑوں کا عذاب نازل کر دے گا تو وہ ایک انسان کے مرنے کی طرح (یکبارگی)اس کا شکار ہوجائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اترکر (میدانی)زمین پر آئیں گے تو انھیں زمین میں بالشت بھر بھی جگہ نہیں ملے گی۔جوان کی گندگی اور بد بو سے بھری ہوئی نہ ہو۔اس پرحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کے سامنے گڑگڑائیں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کے جیسی لمبی گردنوں کی طرح (کی گردنوں والے )پرندے بھیجے گا جو انھیں اٹھائیں گے اور جہاں اللہ چاہے گا جاپھینکیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش بھیجے گا جس سے کو ئی گھر اینٹوں کا ہو یا اون کا (خیمہ )اوٹ مہیا نہیں کر سکے گا۔وہ زمین کو دھوکر شیشےکی طرح (صاف) کر چھوڑےگی۔پھر زمین سے کہاجائے گا۔اپنے پھل اگاؤاوراپنی برکت لوٹالاؤ تو اس وقت ایک انار کو پوری جماعت کھائےگی اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں (اتنی )برکت ڈالی جائے گی کہ اونٹنی کا ایک دفعہ کا دودھ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہو گا اور گائے کاایک دفعہ کا دودھ لوگوں کے قبیلےکو کافی ہو گا اور بکری کا ایک دفعہ کا دودھ قبیلے کی ایک شاخ کو کافی ہوگا۔وہ اسی عالم میں رہ رہے ہوں گے۔کہ اللہ تعالیٰ ایک عمدہ ہوا بھیجے گا وہ لوگوں کو ان کی بغلوں کے نیچے سے پکڑے گی۔اور ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے وہ وہ گدھوں کی طرح (برسرعام)آپس میں اختلاط کریں گےتو انھی پر قیامت قائم ہوگی۔”
    =============

    دوسری حدیث

    سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ فِتْنَةِ الدَّجَالِ، وَخُرُوجِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ، وَمَأْجُوجَ)

    سنن ابن ماجہ: کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

    (باب: دجال کافتنہ‘حضرت عیسی ابن مریم کا نزول اوریاجوج وماجوج کا ظہور)

    4079

    حکم : حسن صحیح

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘‘یاجوج ماجوج کو کھول دیا جائے گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ‘‘وہ ہر ٹیلے سے بھاگتے آئیں گے’’ة تو وہ ساری زمین پر پھیل جائیں گے۔ مسلمان ان سے ایک طرف ہو جائیں گے (ان کی کثرت دیکھ کر مقابلہ نہیں کریں گے) حتی کہ بچے کھچے مسلمان اپنےشہروں اور قلعوں میں چلے جائیں گے اور مویشی بھی اپنے پاس رکھیں گے (چراگوں میں نہیں چھوڑیں گے) یاجوج ماجوج کا یہ حال ہو گا کہ کسی نہر کے پاس سے گزریں گے تو اس کا سارا پانی پی جائیں گے، کچھ نہیں چھوڑیں گے۔ ان کی فوج کا پچھلا حصہ وہاں سے گزرے گا تو ان میں سے کوئی کہنے والا کہے گا: (شاید) اس جگہ کبھی پانی ہوتا تھا۔ وہ زمین والوں پر غالب آ جائیں گے تو ان میں سے ایک آدمی کہے گا: ہم زمین والوں سے فارغ ہو چکے، اب ہم آسمان والوں کا مقابلہ کریں گے۔ ان میں سے جو کوئی آسمان کی طرف اپنا نیزہ پھینکے گا، اس کا نیزہ خون آلود ہو کر واپس آئے گا۔ تب وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو قتل کر دیا ہے۔ اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ ان پر ایسے حشرات ان کی گردنوں پر حملہ آور ہوں گے۔ تو وہ اس طرح مر مر کر ایک دوسرے پر گریں گے جیسے ٹڈی دل یک بارگی مرجاتا ہے۔ صبح کو مسلمانوں کو ان کی حس و حرکت سنائی نہ دے گی تو وہ کہیں گے: کون بہادر آدمی اپنی جان خطرے میں ڈال کر معلوم کرے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ان میں سے ایک آدمی (قلعے سے )اترے گا او وہ (اپنے دل میں) ان کے ہاتھوں قتل ہونے پر تیار ہوگا ، وہ دیکھے گا کہ سب (یاجوج ماجوج) ہلاک ہوچکے ہیں ۔ وہ آواز دے گا:خوش ہوجاؤ ! اللہ نے تمہارے دشمنوں کو تباہ کردیا ہے ۔ تب (مسلمان)لوگ (اپنے حصار سے )نکلیں گے اور اپنے جانوروں کوچھوڑیں گے ۔ جانوروں کوچرنے کے لئے ان (یاجوج ماجوج) کے گوشت کے سوا کوئی خوراک میسر نہ ہوگی ۔ وہ ان کوکھاکھا کر اس طرح موٹے اور بہت دودھ والے ہوجائیں گے جیسے بہترین چارہ کھاکر خوب موٹے تازے او ر دودھ والے ہوجاتےہیں ’’۔

    دونوں احادیث پر صحیح کا حکم لگایا گیا ہے – پوچھنا یہ ہے ہے یہ ایک حدیث میں ہے کہ

    اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کے جیسی لمبی گردنوں کی طرح (کی گردنوں والے )پرندے بھیجے گا جو انھیں اٹھائیں گے اور جہاں اللہ چاہے گا جاپھینکیں گے۔

    جب کہ دوسری میں ہے کہ

    (مسلمان)لوگ (اپنے حصار سے )نکلیں گے اور اپنے جانوروں کوچھوڑیں گے ۔ جانوروں کوچرنے کے لئے ان (یاجوج ماجوج) کے گوشت کے سوا کوئی خوراک میسر نہ ہوگی ۔ وہ ان کوکھاکھا کر اس طرح موٹے اور بہت دودھ والے ہوجائیں گے

    یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں کیسے ہوں گی – کیا یہ دونوں باتیں صحیح ہیں –

    اس بارے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے

    ——–

    دونوں حدیث صحیح ہیں تو دونوں باتیں بھی بالکل صحیح ہیں ۔
    چاہے کسی کو سمجھ آئیں یا نہ آئیں ۔
    البتہ یہ باتیں ویسے بالکل واضح ہیں ، ان میں سرے سے اس طرح کا کوئی اشکال نہیں ۔
    کچھ کو جانور کھا جائیں ، جو باقی بچیں گے ، انہیں پرندے اٹھا کر کہیں پھینک دیں گے ۔ یا ممکن ہے جہاں پرندے جاکر پھینکیں وہاں جانور انہیں جاکر کھالیں ۔
    یا پرندے اکثریت کو اٹھا کر لے جائیں ، لیکن کچھ باقیات بچ جائیں ، اور جانور انہیں کھالیں ۔

    • Islamic-Belief says:

      اس کا جواب کتاب میں موجود ہے

      راقم کے نزدیک یہ متضاد روایات ہیں اپ ان کو پڑھیں اور سمجھیں کہ زمیں پر کوئی ایسا مقام نہیں جہاں یاجوج ماجوج کی لاش نہ ہو اور النواس کی روایت میں مویشی ہیں ہی نہیں کیونکہ ایک بیل کے سر کی قیمت بہت ہو گی

      دوسری میں ہے کہ مویشی لے کر مسلمان محصور ہوں گے

      تیسرا مسئلہ ہے کہ کیا طور سے یاجوج ماجوج نہی نکلیں گے جبکہ قرآن میں ہے ہر بلندی سے نکل رہے ہوں گے
      کیا طور پر امت مسلمہ آ جائے گی جبکہ حدیث میں ہے ان کی تعداد سیلاب کے جھاگ جنتی ہو گی
      سنن ابو داود میں ہے
      حدیث نمبر: 4297
      حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْثَوْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَائِلٌ:‏‏‏‏ وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَائِلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ”.
      ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں” تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں {وہن} ڈال دے گا” تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! {وہن} کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے”۔
      تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۲۰۹۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۵/۲۷۸) (صحیح)

      صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق یاجوج ماجوج کے خروج پر صالح بھی ہلاک ہوں گے جبکہ صحیح مسلم میں سب بچ جاتے ہیں

      جب یاجوج ماجوج نکلیں گے تو کیا درندے ان پر حملہ نہیں کریں گے ؟ یاجوج ماجوج پانی پی جائیں گے تو مویشی اور پرندے کیسے جیتے رہیں گے ؟ اور جب وہ جھیلیں تک پی جائیں گے تو کچھ کھانے کو چھوڑیں گے ؟

  3. وجاہت says:

    یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں دور نبوی صلی الله علیہ وسلم میں سوراخ ہوا یا نہیں ؟

    اب جن احادیث میں سوراخ کا ذکر نہیں آیا ان پر اگر کوئی کہے کہ

    عدم ذکر نفی کو مستلزم نہیں ۔

    • Islamic-Belief says:

      یہاں عدم ذکر کی بات ہی نہیں

      یہ جان چھڑانا ہے

      صحیح بخاری میں ہے سوراخ ہوا
      ترمذی میں ہے سوراخ بھر جاتا ہے جس کو البانی نے صحیح کہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *