Category Archives: الوہیت رب تعالی – Divine attributes

رد عقیدہ عرض درود

سن ٢٠١٧ میں اس کتاب عقیدہ عرض اعمال  کو ویب سائٹ پر ڈالا گیا تھا

اس حوالے سے قارئین نے سوالات کیے تھے اور چند مزید روایات پر  بحث کی گئی ہے

لہذا ضرورت محسوس کی  گئی کہ اس کتاب  میں اضافہ کیا جائے

مکمل کتاب لٹریچر/ کتب ابو شہریار میں ملاحظہ کریں

عرض عمل نہیں ہوتا سلف کا قول

 امام أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي (المتوفى: 676هـ) سے طلاق کے حوالے سے سوال کیا گیا جو  ان کے فتووں میں موجود ہے جس کو  فَتَّاوَى الإِمامِ النَّوَوَيِ  یا المَسَائِل المنْثورَةِ  کہا جاتا

مسألة: رجل حلف “بالله” أو بالطلاق، أن ابن صياد هو الدجال، وأن النبي – صلى الله عليه وسلم – يسمع الصلاة عليه، من غير مبلغ هل يحنث

الجواب: لا يحكم بالحنث للشك في ذلك والورع أن يلزم الحنث.

مسئلہ : ایک شخص نے الله کی قسم کھائی یا (بیوی کو) طلاق کی قسم لی کہ ابن صیاد ہی الدجال ہے اور نبی صلی الله علیہ وسلم  اپنے اپ پر درود سنتے ہیں ، (ان کو) پہنچتا نہیں ہے ، تو کیا قسم ٹوٹ گئی؟

جواب: اس قسم کا حکم ٹوٹنے کا نہیں ہے  کیونکہ اس میں شک ہے اور احتیاطا    لازم ہے کہ قسم ٹوٹ جائے گی

قریب ٣٠٠ سال بعد امام شمس محمد بن عبد الرحمن السخاوي (المتوفى: 902 هـ) سے امام النووی کے اس فتوے پر سوال ہوا جس کا ذکر الأجوبة المرضية فيما سئل السخاوي عنه من الأحاديث النبوية  میں ہے

 مسألة ما قولكم في قول صاحب العلم المنشور في فضل الأيام والشهور: أولعت فسقة القصاص بأن رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمع من يصلي عليه، ثم أبطل ما احتجوا به وفي حديث: “ما من أحد يسلم علي … ” إلى آخره وهل تعم الصلاة أم لا؟ وهل هو في الحاضر عند الحرجة الشريفة أو يعم وإن بعدت المسافة أم لا؟ وقول بعض الخطباء في الثانية: فإنه في هذا اليوم يسمع بأذنيه صلاة من يصلي عليه، ومعنى “لتعرض”في حديث أنس “وتبلغني” في غيره، وهل هذا الكتاب مشهور، أو عليه العمل أم لا؟

وفي مسألة في فتاوى النووي، وهي: رجل حلف بالطلاق الثلاث، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمع الصلاة عليه وفي الجواب لا يحكم بالحنث للشك في ذلك والورع أن يلتزم الحنث بينوا لنا ذلك مبسوطًا؟

نعم، قد جاء أنه صلى الله عليه وسلم يسمع الصلاة والسلام ممن يصلي ويسلم عليه عند قبره الشريف خاصة. ومن كان بعيدًا عنه يبلغه، ومما ورد في ذلك ما رواه أبو الشيخ الحافظ في كتاب “الثواب” له بسند جيد كما قال شيخنا …. وإذا تقرر هذا، فما نقله السائل عن صاحب “العلم المنشور في فضل الأيام والشهور” أنه قال: أولعت فسقه القصاص بأن رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمع من يصلي عليه، فيشبه أن يكون إنكارًا منه لمن يقول بسماعه له بلاد واسطة عن بعد، وإذا كان كذلك فهو إنكار صحيح، وأما مطلقًا بحيث يتناول القريب فلا، والعلم المنشور وإن كان مشهورًا ففي مصنفع وهو الإمام أبو الخطاب ابن دحية مع كونه موصوًا بالمعرفة، وسعة العلم مقال وفي وإذا تقرر هذا، فما نقله السائل عن صاحب “العلم المنشور في فضل الأيام والشهور” أنه قال: أولعت فسقه القصاص بأن رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمع من يصلي عليه، فيشبه أن يكون إنكارًا منه لمن يقول بسماعه له بلاد واسطة عن بعد، وإذا كان كذلك فهو إنكار صحيح، وأما مطلقًا بحيث يتناول القريب فلا، والعلم المنشور وإن كان مشهورًا ففي مصنفع وهو الإمام أبو الخطاب ابن دحية مع كونه موصوًا بالمعرفة، وسعة العلم مقال وفي تواليفه أشياء تنقم عليه من تصحيح وتضعيف عفا الله عنا وعنه….. والفرع المنقول عن فتاوي النووي رحمه الله في عدم الحكم باحلنث فيمن حلف بالطلاق الثلاث أنه صلى الله عليه وسلم يسمع الصلاة عليك للشك في ذلك صحيح، ولكن الورع كما قال: أن يلتزم الحنث. وقد صرح النووي في مقدمه شرح مسلم أنه لو حلف في غير أحاديث الصحيحين بالطلاق أنها من قول النبي صلى الله عليه وسلم أنا لا نحنثه، لكن تستحب له الرجعة احتياطًا لاحتمال الحنث وهو احتمال ظاهر، فهذا يوافق ما في الفتاوي بخلاف ما لو حلف في أحاديث الصحيحين، لأن احتمال الحنث فيهما هو في غاية من الضعف، ولذلك لا يستحب له المراجعة، لضعف احتمال موجبها، والهل الموفق.

مسئلہ:  کیا کہنا ہے اپ  کا ایک صاحب کتاب  العلم المنشور في فضل الأيام والشهور  دنوں اور مہینوں کی افضلیت کے حوالے سے قول پر : قصہ گوؤں نے بکواس کی کہ اپ صلی الله علیہ وسلم  سننتے ہیں جب درود ان پر پڑھا جاتا ہے پھر اس  کی دلیل کو رد کیا اور  حدیث میں ہے کوئی نہیں جو مجھ پر  سلام  کہے  (اور الله میری روح کو نہ لوٹا دے ) آخر تک تو کیا اپ نبی علیہ السلام پر (درود) ہمیشہ (پیش) ہوتا ہے یا نہیں ؟ اور کیا وہ اپنے حجرہ شریفہ میں حاضر ہیں وہاں ہوتے ہیں اور اگر (درود پڑھنے والے میں اور  حجرہ شریفہ میں بھی) مسافت   دور ہو  ؟ اور بعض خطیبوں کا  دوسرے قول پر کہنا کہ یہی دن ہے کہ اپ صلی الله علیہ وسلم  درود اپنے  کانوں سے سنتے ہیں جو ان پر درود کہے اور حدیث میں عرض (درود ) کا کیا مطلب ہے اور حدیث انس میں تبلغني (پہنچتا  ہے ) کا کیا مفہوم ہے ؟ اور کیا یہ کتاب مشہور ہے اس پر عمل ہے یا نہیں؟

اسی طرح فتاوی نووی میں ہے ایک شخص نے الله کی قسم کھائی یا (بیوی کو) طلاق کی قسم لی کہ ابن صیاد ہی الدجال ہے اور نبی صلی الله علیہ وسلم  اپنے اپ پر درود سنتے ہیں ، (ان کو) پہنچتا نہیں ہے ، تو کیا قسم ٹوٹ گئی؟ نووی نے کہا  اس قسم کا حکم ٹوٹنے کا نہیں ہے  کیونکہ اس میں شک ہے اور احتیاطا    لازم ہے کہ قسم ٹوٹ جائے گی  تو اس حوالے سے ہمارے لئے تفصیل سے وضاحت کر دیں

 سخاوی نے جواب دیا: ہاں یہ آیا ہے کہ اپ صلى الله عليه وسلم بے شک درود و سلام سنتے ہیں جب کوئی نبی صلى الله عليه وسلم پر درود و سلام قبر شریف پر  خاص کہے  اور جو دور ہے اس کا پہنچتا ہے اور اس حوالے سے کتاب الثواب از ابو الشیخ میں حدیث اتی ہے سند جید کے ساتھ جیسا ہمارے شیخ  (ابن حجر ) کا کہنا ہے ….. تو اس سب کے اقرار کے بعد جو سائل نے کتاب العلم المنشور في فضل الأيام والشهور کے حوالے سے سوال کیا ہے قصہ گوؤں نے بکواس کی کہ  رسول الله صلى الله عليه وسلم اپنے اوپر  پڑھے جانے والا درود  سنتے ہیں  تو اس پر شبہ ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ انکار کر رہے ہیں جو یہ بلا واسطہ سننے کا کہے اور اگر ایسا ہے تو یہ انکار صحیح ہے اور اگر وہ مطلقا انکار کر رہے ہیں کہ قریب کو بھی ملا رہے ہیں تو ایسا نہیں ہے اور یہ کتاب العلم المنشور جو مشہور ہے یہ تصنیف ہے امام أبو الخطاب ابن دحية (أبو الخطاب عمر بن الحسن بن علي   الكلبي المتوفی ٦٣٣ ھ) کی جو موصوف ہیں معرفت و وسعت علم سے اور ان کی توالیف میں چیزیں ہیں جن میں صحیح و ضعیف ہے الله کی مغفرت کرے … اور جو امام نووی سے منقول ہے کہ تین طلاق کی قسم نہ ٹوٹے گی کہ اگر شک ہو کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سنتے ہیں یا نہیں تو یہ صحیح ہے لیکن احتیاط یہ ہے جیسا کہ نووی نے کہا کہ یہ ٹوٹ جائے گی اور نووی نے مقدمہ صحیح مسلم میں صراحت کی ہے کہ کہ اگر صحیین سے باہر کی احادیث پر  قسم لی کہ یہ قول نبی نہیں ہیں تو قسم نہ ٹوٹے گی لیکن مستحب ہے کہ کہ احتیاط ہے کہ یہ ٹوٹ جائے گی جو ظاہر احتمال ہے تو یہ موافق ہے اس فتوی سے کہ اگر صحیحین کی احادیث ہوں تو قسم ٹوٹ جائے گی کیونکہ وہ ضعیف ہو سکتی ہیں

اس بحث سے معلوم ہوا کہ

أبو الخطاب عمر بن الحسن بن علي  الأندلسي السبتي  الكلبي المتوفی ٦٣٣ ھ   نے اپنی کتابوں میں نبی صلی الله علیہ وسلم پر عرض عمل یا درود پیش ہونے کو رد کیا تھا

امام النووی کے نزدیک نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پیش ہونے والی روایات میں شک موجود تھا

لیکن افسوس متاخرین نے ان اقوال کو رد کر دیا اور واپس انہی احادیث کو صحیح کہہ دیا جن میں عرض عمل کا شرکیہ عقیدہ موجود تھا

فرشتوں کو پکارنا

الله تعالی نے قرآن میں حکم دیا ہے کہ صرف اسی کو پکارا جائے- انبیاء کی خبریں دیں کی انہوں نے مصیبت و پریشانی میں صرف الہ واحد کو پکارا

مشرکین مکہ اس کے برعکس فرشتوں کو پکارتے ان کو عورت کی شکل میں رکھتے یعنی لات عزی اور منات

قرآن کہتا ہے

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الأُخْرَى أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى إِنْ هِيَ إِلا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بهَا من سُلْطَان

کیا تم نے اللَّاتَ، َالْعُزَّى اور ایک اور  تیسری  مَنَاةَ کو دیکھا؟ کیا تمہارے لئے تو ہوں لڑکے اور اس کے لئے لڑکیاں؟ یہ تو بڑی غیر منصفانہ تقسیم ہوئی! یہ تو صرف چند نام ہیں، جو تم نے اور تمہارے اباؤ اجداد نے رکھ دیے ہیں، الله کی طرف سے ان پر  کوئی سند نہیں اتری

اللات  طائف میں، العُزَّى مکہ میں اور مَنَاة مدینہ میں عربوں کی خاص دیویاں تھیں

الكلبي (المتوفى: 204هـ) کی کتاب الاصنام میں ہے

عرب طواف میں پکارتے

 وَاللاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الأُخْرَى … فَإِنَّهُنَّ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شفاعتهن لَتُرْتَجَى

اور اللاتِ اور الْعُزَّى اور ایک اور تیسری مَنَاةَ

یہ تو بلند  پرند نما حسین (دیویاں) ہیں اور بے شک ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے

کتاب غریب الحدیث از ابن الجوزی کے مطابق

تِلْكَ الغرانيق الْعلَا قَالَ ابْن الْأَعرَابِي الغرانيق الذُّكُور من الطير
وَاحِدهَا غرنوق وغرنيق وَكَانُوا يدعونَ أَن الْأَصْنَام تشفع لَهُم فشبهت بالطيور الَّتِي ترْتَفع إِلَى السَّمَاء وَيجوز أَن تكون الغرانيق جمع الغرانق وَهُوَ الْحسن

یہ تو بلند غرانیق ہیں – ابن الاعرابی کہتے ہیں غرانیق سے مراد نر پرندے ہیں جن کا واحد  غرنوق ہے اور غرنيق  ہے یہ مشرکین ان ( دیویوں) کو اس نام سے اس لئے پکارتے تھے کیونکہ یہ بت ان کے لئے شفاعت کرتے اور(نر) پرندے بن کر جاتے جو آسمان میں بلند ہوتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد حسن ہو

تاج العروس اور غریب الحدیث از ابن قتیبہ  میں  کہا گیا ہے  کہ غرانیق سے مراد

طيور الماء طويلة العنق

پانی کے پرندے ہیں جن کی طویل گردن ہوتی ہے

 اردو میں ان کو بگلا کہتے ہیں مشرکین نے فرشتوں کو بگلے بنا دیا اور پھر ان کو دیوی کہا

 قرآن میں ایک مقام پر فرمان باری تعالیٰ ہے  

  وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ٭ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ 

(فاطر 13 – 14)

 اور جن لوگوں کو یہ مشرکین اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کھجور کی گٹھلی کے باریک غلاف کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے اور اگر وہ سن بھی لیں تو تمہاری مراد پوری نہیں کر سکتے اور قیامت کے روز یہ لوگ تمہارے شرک سے لاعلمی کا اظہار کریں گے اور آپ کو (اللہ) خبیر کی طرح کوئی خبر نہیں دے سکتا

اس کے برعکس ایک روایت کو امت میں صحیح قرار دے کر فرشتوں کو پکارنے کا جواز پیدا کیا گیا ہے

یہ روایت مسند البزار بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ بِأَرْضٍ فَلاةٍ 3128 میں بیان ہوئی ہے

– حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبَانِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” إِنَّ للَّهِ مَلائِكَةً فِي الأَرْضِ، سِوَى الْحَفَظَةِ، يَكْتُبُونَ مَا يَسْقُطُ مِنْ وَرَقِ الشَّجَرِ، فَإِذَا أَصَابَ أَحَدُكُمْ عَرْجَةً، بِأَرْضٍ فَلاةٍ، فَلْيُنَادِ: أَعِينُوا، عِبَادَ اللَّهِ “.

قَالَ الْبَزَّارُ: لا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إن لله ملائكة في الأرض سوی الحفظة، يكتبون ا سقط من ورق الشجر، فإذا أصاب أحدكم عرجة بأرض فلاة، فليناد : أعينوا عبادالله.
زمین میں حفاظت والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہوتے ہیں جو درختوں کے گرنے والے پتوں کو لکھتے ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو ویرانے میں چلتے ہوئے پاؤں میں موچ آ جائے تو وہ کہے : اللہ کے بندو ! میری مدد کرو۔

الْبَزَّارُ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ اس کو نبی علیہ السلام سے کسی نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہو سوائے اس سند سے

راقم کہتا ہے یہ سند ضعیف ہے

أبان بن صالح بن عمير القرشي نے مجاہد سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے – سند میں حاتم بن إسماعيل   المدني بھی ہے جس کو  ثقة مشهور صدوق بھی کہا گیا ہے اور نسائی کی جانب سے ليس بالقوى  قوی نہیں بھی کہا گیا ہے – إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از  مغلطاي میں ہے

ذكره ابن خلفون في «الثقات» قال: قال أبو جعفر البغدادي: سألت أبا عبد الله عن حاتم بن إسماعيل فقال: ضعيف.

ابن خلفؤن نے اس کا ذکر ثقات میں کیا ہے اور أبو جعفر البغدادي نے کہا میں نے امام ابو عبد الله (یعنی امام احمد)  سے اس کے بارے میں پوچھا تو کہا ضعیف ہے

سوال ہے کہ کیا فرشتوں کو مدد کے لئے پکارا جا سکتا ہے ؟ یہ تو مشرکین مکہ کا عمل تھا وہ دیویوں کو فرشتے

سمجھ کر ان کو پکارتے تھے

فرشتوں سے مدد مانگنا کیا الله سے مدد مانگنے کے مترادف ہے ؟ میرے علم میں یہ تو  شرک ہے

افسوس ایک اہل حدیث عالم غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری اس کے برعکس اس حدیث سے فرشتوں کی پکار کو ثابت کرتے ہیں

http://www.tohed.com/وسیلے-کی-ممنوع-اقسام-کےدلائل-کا-تحقیقی-2/

البتہ اگر ان میں مذکور ’’عباداللہ“ سے مراد فرشتے لیے جائیں تو صحیح حدیث سے ان کی تائید ہو جائے گی، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
إن لله ملائكة في الأرض سوی الحفظة، يكتبون ا سقط من ورق الشجر، فإذا أصاب أحدكم عرجة بأرض فلاة، فليناد : أعينوا عبادالله. 
’’زمین میں حفاظت والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہوتے ہیں جو درختوں کے گرنے والے پتوں کو لکھتے ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو ویرانے میں چلتے ہوئے پاؤں میں موچ آ جائے تو وہ کہے : اللہ کے بندو ! میری مدد کرو۔“ (كشف الأستار عن زوائد البزار:3128/1، وسنده حسن) 

 حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
رجاله ثقات. ’’اس کے سارے راوی ثقہ ہیں۔“ (مجمع الزوائد:32/10) 

 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
ھذا حديث حسن الإسناد، غريب جدا . 
’’اس کی سند حسن ہے لیکن یہ انوکھی روایت ہے۔“ (مختصر زوائد البزار:120/2، شرح ابن علان علي الأذكار:15/5) 

علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
إنما هم الملائكة، فلا يجوز أن يلحق بهم المسلمون من الجن أو الإنس ممن يسمونهم برجال الغيب من الأولياء والصالحين، سواء كانوا أحياء أو أمواتا، فإن الاستغاثة بهم وطلب العون منهم شرك بين لأنهم لا يسمعون الدعاء، ولوسمعوا لما استطاعوا الاستجابة وتحقيق الرغبة، وهذا صريح في آيات كثيرة، منها قوله تبارك وتعالى : ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ٭ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ.﴾ (فاطر 13 – 14) 
’’اس حدیث میں اللہ کے بندوں سے مراد صرف فرشتے ہیں۔ ان کے ساتھ مسلمان جنوں اور ان اولیاء اور صالحین کو ملانا جنہیں غیبی لوگ کہا جاتا ہے، جائز نہیں، خواہ وہ زندہ ہوں یا فوت ہو گئے ہوں۔ ان جنوں اور انسانوں سے مدد طلب کرنا واضح شرک ہے کیونکہ وہ پکارنے والے کی پکار کو سن نہیں سکتے۔ اگر وہ سن بھی لیں تو اس کا جواب دینے یا حاجت روائی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں۔ ایک مقام پر فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ٭ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ﴾ (فاطر 13 – 14) ”اور جن لوگوں کو یہ مشرکین اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کھجور کی گٹھلی کے باریک غلاف کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے اور اگر وہ سن بھی لیں تو تمہاری مراد پوری نہیں کر سکتے اور قیامت کے روز یہ لوگ تمہارے شرک سے لاعلمی کا اظہار کریں گے اور آپ کو (اللہ) خبیر کی طرح کوئی خبر نہیں دے سکتا۔“ (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرھا السيء في الأمة:111/2، ح:655) 

http://shamela.ws/browse.php/book-12762/page-986

 یعنی اس حدیث میں ماتحت الاسباب مدد مانگنے کا بیان ہے، کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے وہاں ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نیک بندوں کی اعانت پر مامور کر رکھا ہے۔

راقم کہتا ہے البانی کا قول کہ اس سے مراد فرشتے ہیں اس کی حماقت ہے – یہ حدیث ضعیف و منکر ہے

اپنی اس غلط بات کو کہ فرشتوں سے مدد لی جا سکتی ہے غلام مصطفی  نے امام احمد سے بھی دلیل لی ہے

کتاب مسائل الإمام أحمد لابنه عبدالله میں ہے امام احمد کے بیٹے عبد الله نے بیان کیا کہ ان کے باپ احمد بن حنبل نے کہا

حَدثنَا قَالَ سَمِعت ابي يَقُول حججْت خمس حجج مِنْهَا ثِنْتَيْنِ رَاكِبًا وَثَلَاثَة مَاشِيا اَوْ ثِنْتَيْنِ مَاشِيا وَثَلَاثَة رَاكِبًا فضللت الطَّرِيق فِي حجَّة وَكنت مَاشِيا فَجعلت اقول يَا عباد الله دلونا على الطَّرِيق فَلم ازل اقول ذَلِك حَتَّى وَقعت الطَّرِيق اَوْ كَمَا قَالَ ابي

میرے باپ نے کہا میں نے پانچ حج کیے جن میں دو سواری پر اور تین چل کر کیے  یا کہا تین سواری پر  اور دو پیدل – تو مجھ پر حج کا  راستہ کھو گیا اور میں پیدل چل رہا تھا تو میں نے کہنا شروع کر دیا

اللہ کے بندو ! مجھے راستہ بتاؤ۔ میں مسلسل کہتا رہا حتی کہ صحیح راستے پر آ گیا – ایسا میرے باپ نے کہا

اس کو البانی نے بھی بیان کیا

أن حديث ابن عباس الذي حسنه الحافظ كان الإمام أحمد يقويه، لأنه قد عمل به 

حدیث ابن عباس جس کو حافظ ابن حجر نے حسن قرار دیا ہے اس کو امام احمد نے قوی کیا ہے کیونکہ وہ اس پر عمل کرتے تھے

مزید براں البانی نے بھی اس کو منکر نہیں بلکہ حسن کہا

قلت: وهذا إسناد حسن كما قالوا

میں البانی کہتا ہیں یہ اسناد حسن ہیں جیسا انہوں نے کہا 

http://shamela.ws/browse.php/book-12762/page-986

راقم کہتا ہے مدد و پکار صرف الله کا حق ہے – مصیبت میں الله ہی کو پکارا جائے  

افسوس امام احمد کے نزدیک راوی  حاتم بن إسماعيل ضعیف تھا لیکن وہ اس ضعیف حدیث پر عمل کرتے تھے کیونکہ ان کا خود کا قول تھا کہ ضعیف سے دلیل لو

عبد اللہ بن احمد اپنے باپ  احمد سے  کتاب السنہ میں  نقل کرتے  ہیں

http://shamela.ws/browse.php/book-323/page-199

سَأَلْتُ أَبِي رَحِمَهُ الله عَنِ الرَّجُلِ، يُرِيدُ أَنْ يَسْأَلَ، عَنِ الشَّيْءِ، مِنْ أَمْرِ دِينِهِ مَا يُبْتَلَى بِهِ مِنَ الْأَيْمَانِ فِي الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ فِي حَضْرَةِ قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِ الرَّأْي وَمِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ لَا يَحْفَظُونَ وَلَا يَعْرِفُونَ الْحَدِيثَ الضَّعِيفَ الْإِسْنَادِ وَالْقَوِيَّ الْإِسْنَادِ فَلِمَنْ يَسْأَلُ، أَصْحَابَ الرَّأْي أَوْ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ عَلَى مَا كَانَ مِنْ قِلَّةَ مَعْرِفَتِهِمْ؟ [ص:181] قَالَ: يَسْأَلُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ وَلَا يَسْأَلُ أَصْحَابَ الرَّأْي، الضَّعِيفُ الْحَدِيثِ خَيْرٌ مِنْ رَأْي أَبِي حَنِيفَةَ

میں نے اپنے باپ سے اس آدمی کے بارے میں  پوچھا جو دین کے کسی کام پر جس سے ایمان برباد نہ ہو جسے طلاق یا دیگر پر اصحاب رائے کے پاس جائے یا ان اصحاب حدیث کے پاس جائے جو حدیث کو صحیح طرح یاد نہیں رکھتے اور قوی الاسناد کو ضعیف الاسناد سے جدا نہیں کر پاتے  تو ان دونوں میں سے کس سے سوال کرے اصحاب رائے سے یا قلت معرفت والے اصحاب حدیث سے   امام احمد نے کہا  اصحاب حدیث سے سوال کرے اور اصحاب رائے سے نہیں ایک ضعیف حدیث ابو حنیفہ کی رائے سے بہتر ہے

اس قسم کی ایک روایت  عتبَة بن غَزوَان  سے بھی مروی ہے جو المعجم الكبير از طبرانی میں ہے

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِذَا أَضَلَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا أَوْ أَرَادَ أَحَدُكُمْ عَوْنًا وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ، فَلْيَقُلْ: يَا عِبَادَ اللهِ أَغِيثُونِي، يَا عِبَادَ اللهِ أَغِيثُونِي، فَإِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا نَرَاهُمْ ” وَقَدْ جُرِّبَ ذَلِكَ

زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ نے کہا عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ نے نبی علیہ السلام سے روایت کیا کہ فرمایا جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز کھو جائے یا کوئی مدد طلب کرے جو ایسی زمین میں ہے جہاں کوئی دوست نہ ہو تو پس کہے اے الله کے بندوں مدد کرو اے عباد الله مدد کرو کیونکہ عباد الله نظر نہیں آتے- اورمیں (طبرانی) نے بھی اس کو آزمایا  ہے

افسوس امام  سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (المتوفى: 360هـ) نے بھی اس بد عقیدگی کو پھیلایا

اس کا ذکر الشوکانی نے  تحفة الذاكرين بعدة الحصن الحصين من كلام سيد المرسلين  میں کیا ہے

حَدِيث عتبَة بن غَزوَان عَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ إِذا ضل على أحدكُم شَيْء وَأَرَادَ أحدكُم عونا وَهُوَ بِأَرْض فلاة لَيْسَ بهَا أحد فَلْيقل يَا عباد الله أعينوا يَا عباد الله أعينوا يَا عباد الله أعينوا فَإِن لله عباد لَا يراهم قَالَ فِي مجمع الزَّوَائِد وَرِجَاله وثقوا على ضعف فِي بَعضهم إِلَّا أَن زيد بن عَليّ لم يدْرك عتبَة

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد أز  أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (المتوفى: 807هـ) میں لکھتے ہیں

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ، إِلَّا أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَلِيٍّ لَمْ يُدْرِكْ عُتْبَةَ.

اس کو طبرانی نے روایت کیا ہے اس کے رجال ثقہ ہیں جن میں بعض میں کمزوری ہے الا یہ کہ زید بن علی  نے

عُتْبَة کو نہیں پایا

افسوس شوکانی نے اس کے باوجود لکھا

وَفِي الحَدِيث دَلِيل على جَوَاز الِاسْتِعَانَة بِمن لَا يراهم الْإِنْسَان من عباد الله من الْمَلَائِكَة وصالحي الْجِنّ وَلَيْسَ فِي ذَلِك بَأْس كَمَا يجوز للْإنْسَان أَن يَسْتَعِين ببني آدم إِذا عثرت دَابَّته أَو انفلتت

اس حدیث سے دلیل ہے ان سے مدد کے جواز کی جو الله کے بندے نظر نہ آتے ہوں  فرشتوں میں سے یا صالح جنوں میں سے اس میں کوئی برائی نہیں ہے جیسا یہ جائز ہے کہ انسان بنی آدم سے مدد لے جب اس کا جانور مر جائے یا کھو جائے

غیر مقلد شوکانی نے قریب  ٢٠٠ سال پہلے  یہ بھی لکھا

قلت وَحكى لي بعض شُيُوخنَا الْكِبَار فِي الْعلم أَنَّهَا انفلتت دَابَّته أظنها بغلة وَكَانَ يعرف هَذَا الحَدِيث فقاله فحبسها الله عَلَيْهِ فِي الْحَال وَكنت أَنا مرّة مَعَ جمَاعَة فانفلتت مَعنا بَهِيمَة فعجزوا عَنْهَا فقلته فوقفت فِي الْحَال بِغَيْر سَبَب

میں کہتا ہوں مجھ سے حکایت کیا ہمارے علم کے اکابر شیوخ نے کہ اگر جانور کھو جائےیہ حدیث معلوم ہو تو ان (الفاظ کو) کہے پس الله کافی ہو گا  اور ایک بار میں ایک جماعت میں تھے ہمارا جانور کھو گیا ہم عاجز ہو گئے پس ہم نے یہ کہا تو مل گیا بلا سبب کے

اصل میں یہ الفاظ امام النووی  (المتوفى: 676هـ) کے ہیں جو انہوں نے الاذکار میں لکھے ہیں

روينا في كتاب ابن السني، عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “إذَا انْفَلَتَتْ دابَّةُ أحَدِكُمْ بأرْضِ فَلاةٍ فَلْيُنادِ: يا عِبادَ الله! احْبِسُوا، يا عِبادَ اللَّهِ! احْبِسُوا، فإنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ في الأرْضِ حاصِرًا سَيَحْبِسُهُ”. قلت: حكى لي بعض شيوخنا الكبار في العلم أنه افلتت له دابّة أظنُّها بغلة، وكان يَعرفُ هذا الحديث، فقاله؛ فحبسَها الله عليهم في الحال. وكنتُ أنا مرّةً مع جماعة، فانفلتت منها بهيمةٌ وعجزوا عنها، فقلته، فوقفت في الحال بغيرِ سببٍ سوى هذا الكلام.

کتاب ذم الكلام وأهله از  أبو إسماعيل عبد الله بن محمد بن علي الأنصاري الهروي (المتوفى: 481هـ) میں ہے کہ عبد الله بن مبارک  نے اس روایت کی سند سفر میں دیکھی

وَضَلَّ ابْنُ الْمُبَارَكِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي طَرِيقٍ وَكَانَ قَدْ بَلَغَهُ أَنَّ مَنِ اضْطُرَّ فِي مَفَازَةٍ فَنَادَى عِبَادَ اللَّهِ أَعِينُونِي أُعِينَ قَالَ

فَجَعَلْتُ أَطْلُبُ الْجُزْءَ أَنْظُرُ إِسْنَادَهُ

. قال الهروي: فلم يستجز أن يدعو بدعاء لا يرى إسناده

اور ابن مبارک پر رستہ کھو گیا ان کے سفروں میں سے ایک میں اور ان کو پہنچا ہوا تھا کہ جو مصیبت میں ہو وہ پکارے اے الله کے بندوں میری مدد کرو اس کی مدد ہو گی کہا انہوں نے جز طلب کیا کہ اس کی سند دیکھیں 

   الهروي نے کہا : پس انہوں نے دعا نہ کی جس کی سند انہوں نے نہ دیکھی ہو  

وہابی عالم محمد صالح المنجد کہتے ہیں

 لأنهما صريحان بأن المقصود بـ ” عباد الله ” فيهما خلقٌ من غير البشر بدليل قوله في الحديث الأول : (فإن لله في الأرض حاضراً سيحبسه عليهم) ، و قوله في هذا الحديث : (فإن لله عبادا لا نراهم) . وهذا الوصف إنما ينطبق على الملائكة أو الجن ؛ لأنهم الذين لا نراهم عادة … فلا يجوز أن يُلحَق بهم المسلمون من الجن أو الإنس ممن يسمونهم برجال الغيب من الأولياء والصالحين ، سواء كانوا أحياء أو أمواتا ، فإن الاستغاثة بهم وطلب العون منهم شرك بيِّن ؛ لأنهم لا يسمعون الدعاء ، ولو سمعوا لما استطاعوا الاستجابة وتحقيق الرغبة .

https://islamqa.info/ar/132642

اس میں صریحا ہے کہ عباد الله سے مقصود اس میں وہ مخلوق ہے جو غیر بشری ہے قول حدیث اول ہے کہ الله کے لئے زمین میں  حاضر رہتے ہیں جو حساب کرتے ہیں اور قول حدیث میں ہے کہ عباد الله کو نہیں دیکھا جا سکتا اور یہ وصف صرف فرشتوں اور جنات پر ہی  منطبق کیا جا سکتا ہے کہ ان کو عادت (جاری) میں نہیں دیکھا جا سکتا … پس یہ جائز نہیں کہ اس میں جن و انس کے  مسلمانوں ، اولیاء و الصالحین میں سے ، برابر ہے کہ زندہ ہوں یا مردہ کو بھی فرشتوں سے  ملا دیا جائے  جن کو رجال الغیب کا نام دیا گیا ہے  ، کیونکہ اس سے مدد طلب کرنا  واضح شرک ہے کیونکہ یہ پکار نہیں سنتے اگر سن لیں تو جواب نہیں دے سکتے 

دور جدید کے غیر مقلد   البانی سلسلة الأحاديث الضعيفة : 108/2، 109، ح655 میں کہتے ہیں

العبادات لا تؤخذ من التجارب، سيما ما كان منھا في أر غيي كھذا الحديث، فلا يجوز الميل الي تصحيحه، كيف وقد تمسك به بعضھم في جواز الاستغاثه بالموتي عند الشدائد، وھو شرك خالص، والله المستعان ! 
 عبادات تجربوں سے اخذ نہیں کی جا سکتیں، خصوصاً ایسی عبادات جو کسی غیبی  امر کے بارے میں ہوں، جیسا کہ یہ حدیث ہے، لہٰذا تجربے کی بنیاد پر  اس کو صحیح قرار دینے کی طرف میلان  کرنا جائز نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے، جب کہ بعض لوگوں نے اس سے مصیبتوں پر مرنے والوں سے مدد مانگنے پر بھی استدلال کیا ہے۔ یہ خالص شرک ہے، اللہ محفوظ فرمائے   

راقم کہتا ہے البانی کی یہ بات صحیح ہے البتہ اہل حدیث کا دین میں عقائد میں ارتقاء جاری ہے

کتاب رد عقیدہ عرض اعمال

مکمل کتاب لٹریچر/ کتب ابو شہریار میں ملاحظہ کریں

فہرست

عقیدہ عرض اعمال  قرآن میں

عقیدہ عرض اعمال اہل تشیع  کے مطابق

عقیدہ عرض اعمال اہل سنت کے مطابق

حرف آخر


سلام اسلامی معاشرت کا شعار ہے. مسلم کی حدیث ہے کہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرةَ  رَضِی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حتّٰی تُوٴْمِنُوْا وَلَا تُوٴْمِنُوْا حتّٰی تَحَابُّوا، اَولَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی شيءٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْہُ تَحَابَبْتُمْ؟ اَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ․ (روا ہ مسلم

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں  کہ جب تک تم ایمان نہ لاؤ جنت میں داخل نہیں ہو سکتے اور تم ایمان نہیں لاؤ گے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرو‘کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتلاؤں کہ جب تم وہ کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ فرمایا کہ تم اپنے درمیان سلام کو پھیلاؤ

معلوم ہوا کہ سلام کا تعلق ادب سے ہے اور ایک دوسرے کے لئے دعائیہ کلمات ہیں.  ہم براہ راست الله سے دوسرے شخص کے لئے دعا کر سکتے ہیں لیکن اس صورت میں دوسرے شخص کو ہمارے خلوص کا پتا نہیں چلے گا لہذا معاشرت میں خلوص کی وجہ سے  اس کی تلقین کی گئی  ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے لئے دعا کریں . ہم خط لکھ کر دوسرے شخص کو بھیجتے ہیں اس میں بھی یہی خلوص مقصد ہوتا ہے . لیکن جب کوئی شخص انتقال کر جائے تو اس کی نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے اور دعائیہ کلمات میت کو سنانا مقصد نہیں ہوتا، نہ ہی اس میت سے واپس جواب کی امید کی جاتی ہے. میت کو تو پتا بھی نہیں ہوتا کہ کس نے اس کی تعریف کی اور کس نے برائی ، کس نے نماز جنازہ پڑھی اور کس نے نہیں، کس نے غسل دیا اور کس نے کفن دیا-  اسلامی معاشرت کے تحت نبی صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کو سلام کیا اور صحابہ نے آپ کو. پھر نبی کے لئے درود یعنی رحمت کی دعا کرنے کا الله نے حکم دیا

اِنَّ اللّـٰهَ وَمَلَآئِكَـتَه يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (56)

بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی اس پر رحمت اور سلام بھیجو۔

جب ہم الله کے نبی پر درود پڑھتے ہیں تو ہمارا مقصد نبی صلی الله علیہ وسلم کو سنانا نہیں ہوتا بلکہ الله  کی بارگاہ میں نبی کے لئے دعائے رحمت مقصود ہوتی ہے. نبی صلی الله علیہ وسلم نے نماز میں درود جھر (بلند آواز) سے پڑھنے کا حکم نہیں دیا ورنہ کسی کا خیال ہو سکتا تھا کہ صحابہ ، نبی صلی الله علیہ وسلم کو درود سناتے تھے-    اگر درود پیش ہونا ہی حقیقت ہوتا تو نماز کا درود جھر سے پڑھا جاتا تاکہ نبی صلی الله علیہ وسلم سن سکیں کہ کون امتی درود پڑھ رہا ہے اور کون منافق ہے-  صحیح مسلم کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے کہ اس دن اعمال الله کے پاس پیش ہوتے ہیں

عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فَوَجَدْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوِي أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ، لَا تُدْفَنُ

ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت کے اچھے اور برے تمام اعمال میرے سامنے لائے گئے تو راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا میں نے اچھے اعمال میں پایا اور برے اعمال میں میں نے وہ تھوک اور بلغم دیکھا جو مسجد سے صاف نہ کیا گیا ہو

نبی صلی الله علیہ وسلم کو امت کے ان اعمال کی خبر زندگی میں ہی دی گئی تاکہ نیک اور برے اعمال سے امت کو باخبر کر سکیں لیکن وفات کے بعد اعمال پیش ہونے کا فائدہ کیا ہے کسی صحیح حدیث میں بیان نہیں ہوا-   بئر معونہ کا واقعہ ہمارے سامنے ہے کفّار نے اصحاب رسول کو گھیر لیا اور قتل کرنا شروع کیا صحابہ نے اللہ سے دعا کی کہ ہمارے قتل کی خبر نبی کو دے دے اگر درود پیش ہونے کا عقیدہ ہوتا تو اس کی ضرورت ہی نہیں تھی. ایک ہی روز میں نبی صلی الله علیہ وسلم کو پتا چل جاتا کہ درود پیش نہیں ہو رہا. اسی طرح عثمان رضی الله تعالی عنہ کی شہادت کی خبر پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے بیعت رضوان لے لی -اب تو امت میں درود تاج، درود تنجینا جسے درود بھی ہیں یہ بھی نبی صلی الله علیہ وسلم پر پیش ہوتے ہونگے تو پھرقیامت کے دن الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم  سے ان کی  امت کے گمراہ لوگوں کے  لئے کیسے کہا جائے گا

مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ

آپ کونہیں پتا کہ انہوں نے آپ کےبعد کیا باتیں نکالیں

درود سلام الله تک جاتا ہے نبی صلی الله علیہ وسلم تک اس کو پہنچانا اصل میں علم غیب کا دعوی کرنا ہے اپ صلی الله علیہ وسلم کو ان کی زندگی ہی میں معلوم تھا کہ کون مومن ہے اور کون منافق ہے جبکہ قرآن میں ہے  تم ان کو نہیں جانتے ہم جانتے ہیں-

ایک اہل حدیث عالم اسی تفریق کو نہ سمجھتے ہوئے نبی صلی الله علیہ وسلم پر امت کے درود و سلام کا عقیدہ اختیار کئی ہوئے ہیں اور اس کا دفاع اس انداز میں کرتے ہیں

میت کے لیے ہم دعائیں کرتے ہیں نمازِ جنازہ میں بھی اور نمازِ جنازہ کے علاوہ بھی وقتا فوقتا فوت شدہ مسلمانوں کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں تو یہ دعائیں اللہ کے فضل و کرم سے ان کو پہنچتی ہیں۔ پھر ہم بذریعہ خط و کتابت یا بذریعہ دوست و احباب دوسروں کو سلام دعاء پہنچاتے رہتے ہیں تو یہ سلام دعاء بھی ان تک پہنچ جاتے ہیں۔ دیکھئے آپ اپنا یہ مکتوب جس میں آپ کا میری طرف سلام بھی درج ہے، مجھ پر پیش کیا تو وہ مجھ پر پیش ہوگیا ہے تو آپ غور فرمائیں اگر کوئی فرمائے: ’’ بقول آپ کے کسی بھائی یا دوست کو بھیجے ہوئے سلام دعاء اس پر پیش کیے جاتے ہیں تو اس کو پہنچ جاتے ہیں۔ دعاء و سلام ایک عبادت ، دعائیہ عمل ہے سورۂ الشوریٰ آیت نمبر: ۵۳ کے تحت تمام امور اللہ کے حضور پیش ہوتے ہیں۔ دعاو سلام کسی کو بھیجتے وقت بھی ہم دعاء اللہ کے حضور کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہمارے فلاں بھائی یا دوست پر سلامتی نازل فرما تو سننے والے اس دعاء کو اللہ کی بارگاہ کی بجائے ہمارے فلاں دوست یا بھائی کے حضور پیش کردیتے ہیں۔ کیا یہ ہمارے دعائیہ کلمات سلام ودعاء سننے والے ہمارے بھائی دعاء سلام دوسروں تک پہنچانے والے عربی، اُردو، انگریزی وغیرہ سے ناواقف ہیں یا آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ کچھ اعمال ہمارے دوستوں اور بھائیوں کے حضور پیش ہوتے ہیں اور کچھ اللہ کے حضور یا آپ اپنے دوستوں اور بھائیوں کو معبود سمجھ کر ان کے حضور اعمال پیش ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔‘‘ تو آپ کا کیا جواب ہوگا؟

 ان عالم کا قول سراسر غلط ہے –  میت کے لئے ہم دعا کرتے ہیں تو اگر دعا قبول ہوئی تو ان کے نتیجے میں الله تعالی میت پر رحمت کرتے ہیں – یہ عقیدہ کہ میت کو خبر دی جاتی ہے کہ کس رشتہ دار نے اس کے لئے دعا کی گمراہی ہے-  سلام کا مقصد  سنانا نہیں  ایک دوسرے  کے حق میں الله سے رحمت  طلب کرنا ہے  اب چاہے یہ خط میں لکھا جائے یا نہ لکھا جائے –  دنیا میں ایک دوسرے کو خط و کتابت سے یا پھر ای میل سے جو دعا بھیجی جائے ان سب کا مقصد الله سے  دعا  کرنا ہے

ہمارے تمام اعمال  کی تفصیل فرشتے لکھتے ہیں اور الله تک پہنچاتے ہیں اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن دنیا میں جو بھی کام ہوتے ہیں کیا وہ الله تک نہیں جاتے اس میں تعمق فرماتے ہوئے عالم لکھتے ہیں

پھر سورۂ الشوریٰ کی محولہ بالا آیت کریمہ کے الفاظ: ﴿أَلَا إِلَى اللَّـهِ تَصِيرُ‌ الْأُمُورُ‌ (٥٣)﴾اس کا ترجمہ و مطلب آپ نے لکھا ہے: ’’ تمام امور اللہ کے حضور پیش ہوتے ہیں۔‘‘ جبکہ قرآنِ مجید کی اس آیت کریمہ کی ہم معنی و مطلب دیگر آیات کے الفاظ ہیں: ﴿وَإِلَى اللَّـهِ تُرْ‌جَعُ الْأُمُورُ‌ (١٠٩)﴾’’ اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَإِلَيْهِ يُرْ‌جَعُ الْأَمْرُ‌ كُلُّهُ ﴾آپ ذرا مزید غور فرمالیں- پھر ان آیات کریمہ میں اعمال کی کوئی تخصیص نہیں۔ آخرت کی بھی کوئی تخصیص نہیں تو اگر کوئی صاحب ان آیات کریمہ کے عموم کو سامنے رکھتے ہوئے فرمادیں کہ جج صاحبان کے ہاں جو کاغذات پیش کیے جاتے ہیں یا دوسرے محکموں میں کاغذات وغیرہ کی جو پیشیاں ہوتی ہیں یہ سب سورۂ الشوریٰ کی آیت نمبر ۵۳ کہ: ’’ تمام امور اللہ کے حضور پیش ہوتے ہیں۔‘‘ کے منافی و مخالف ہیں تو کیا خیال ہے آپ کی تحقیق کی رو سے ان کی یہ بات درست ہوگی؟

آیت اپنے مفہوم  میں بالکل واضح ہے. دینا کیا چیز ہے، اس کے جج، حاکم، شہنشاہ سب کے اعمال الله کے حضور پیش ہو رہے ہیں- موصوف کہنا  چاہتے ہیں کہ    جس طرح جج و  احکام  کے سامنے کاغذات پیش ہو سکتے  ہیں اسی طرح  الله تعالی کے حضور بھی پیش ہوتے ہیں –     دنیا میں جب    دستاویزات  پیش کی جاتی ہیں تو ان کا مقصد   عرض اعمال نہیں بلکہ   متعدد  وجوہات ہو سکتی ہیں-   دستاویزات جعلی بھی ہوتے ہیں  انسان ان کو بھی قبول کر لیتے ہیں لیکن مالک الملک کے سامنے جب عمل اتا ہے تو وہ اس کو جانتا ہے کہ کون خلوص سے کر رہا ہے اس بظاہر  انسان کے عمل کے پیچھے کیا کارفرما ہے اس کو سب خبر ہے

اس کتاب میں    اسی عرض اعمال کے گمراہ کن عقیدہ یعنی  نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پیش ہونے والی روایات   اور رشتہ داروں پر عمل پیش ہونے والی روایات  کا جائزہ پیش کیا گیا  ہے  تاکہ اپ اس عقیدہ  سے متعلق روایات میں ضعیف راویوں کی حثیت کو جان سکیں – یاد رہے کہ جو الله کا حق ہے وہ اسی کا ہے جو اس کو چھیننے کی کوشش کرے گا وہ جواب دہ ہو گا

ابو شہر یار

٢٠١٧

عقیدہ عرض اعمال کا ارتقاء

قرآن الله تعالی کی طرف سے ہے اور ان تمام عقائد کی وضاحت کرتا جو ایک انسان کی اخروی فلاح کے لئے ہوں

افسوس !

عقائد میں اضافے کیے جاتے رہے صوفیا ہوں یا محدثین دونوں نے روایات کی بنیاد پر اضافے کیے ہیں

قرآن کہتا ہے

أَفَمَنۡ هُوَ قَآٮِٕمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡ‌ۗ وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ۔
تو کیا جو (اللہ) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہباں) ہے (وہ تمہارے معبودوں کی طرح بےعلم وبےخبر ہوسکتا ہے) اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ سورة الرعد ۳۳

يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ۬‌ۗ۔
ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ سورة الرعد٤۲

وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرَۢا بَصِيرً۬ا
اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے کیلئے کافی ہے۔ سورة بنی اسرائیل۱۷

وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
اور سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔ سورة البقرہ۲۱۰

وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُ ۥ
اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔ سورة ھود ۱۲۳

وَلِلَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ
اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے ۔ سورة الحج ٤۱

وَإِلَى ٱللَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ
اور (سب)کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے ۔ سورة لقمان۲۲

أَلَآ إِلَى ٱللَّهِ تَصِيرُ ٱلۡأُمُورُ
دیکھو سب کام اللہ کی طرف رجوع ہوں گے ۔ سورة الشوریٰ۵۳

اس کے برعکس رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے منسوب ایک روایت پیش کی جاتی ہے
إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي قال فقالوا يا رسول اللهِ وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت قال يقولون بليت قال إن الله تبًارك وتعالى حرم على الأرض أجساد الأنبياء صلى الله عليهم
بے شک تمہارے دنوں میں جمعہ سب سے افضل ہے پس اس میں کثرت سے درود پڑھو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے – صحابہ نے پوچھا یا رسول الله یہ کیسے جبکہ اپ تو مٹی ہوں گے … رسول الله نے فرمایا بے شک الله تبارک و تعالی نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ انبیاء کے جسموں کو کھائے

اس روایت کو اگر درست تسلیم کیا جائے تواس سے یہ نکلتا ہے

اول عرض اعمال قبر میں انبیاء پر ہوتا ہے

دوم رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر جمعہ کے دن قبر میں عمل پیش ہوتا ہے

سوم انبیاء کے اجسام محفوظ رہیں گے

چہارم درود رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر  زندگی میں بھی پیش ہو رہا تھا صحابہ کو اشکال وفات کےبعد والے دور پر ہوا

بعض علماء ایسی روایات کو سنتے ہی وجد میں آ گئے اور تصحیح کر بیٹھے مثلا

البانی کتاب صحیح ابی داود میں  ابن ابی حاتم کا قول پیش کرتے ہیں

وقد أعِل الحديث بعلة غريبة، ذكرها ابن أبي حاتم في “العلل ” (1/197) ،  وخلاصة كلامه: أن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر- وهو شامي- لم يحدتْ عنه  أحد من أهل العراق- كالجعفي-، وأن الذي يروي عنه أبو أسامة وحسين الجعفي واحد، وهو عبد الرحمن بن يزيد بن تميم، وهو ضعيف؛ وعبد الرحمن بن يزيد بن  جابر ثقة، وهذا الحديث منكر، لا أعلم أحداً رواه غير حسين الجعفي!  قلت: ويعني: أنه أخطأ في قوله: عبد الرحمن بن يزيد بن جابر؛ وإنما هو:  عبد الرحمن بن يزيد بن تميم؛ الضعيف! وهذه علة واهية كما ترى؛ لأن الجعفي ثقة اتفاقاً؛ فكيف يجوز تخطئته لمجرد عدم العلم بأن أحداً من العراقيين لم يحدِّث عن ابن جابر؟! وما المانع من أن يكون الجعفي العرافي قد سمع من ابن جابر حين لزل هذا البصرة قبل أن يتحول إلى دمشق، كما جاء في ترجمته؟! وتفرد الثقه بالحديث لا يقدح؛ إلا أدْ يثبت خَطَأهُ كماهو معلوم.

اور بے شک اس پر ایک انوکھی علت بیان کی جاتی ہے جس کا ذکر ابن ابی حاتم نے العلل 1/ ١٩٧ میں کیا اور خلاصہ کلام ہے کہ عبد الرحمن بن یزید بن جابر جو شامی ہے اس سے کسی عراقی نے روایت نہیں کی جیسے یہ الجعفی  – اور وہ جس سے  ابو اسامہ اور  حسين الجعفي روایت کرتے ہیں وہ اصل میں عبد الرحمن بن يزيد بن تميم  ہے جو ضعیف ہے جبکہ عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ثقہ ہے اور یہ حدیث منکر ہے جس کو سوائے حسین کے کوئی روایت نہیں کرتا

البانی کہتے ہیں میں کہتا ہوں اور اس کا مطلب ہوا کہ اس حسين الجعفي    نے عبد الرحمن بن يزيد بن جابر بولنے میں غلطی کی اور وہ عبد الرحمن بن يزيد بن تميم تھا جو ضعیف ہے (حد ہو گئی) اور ابی حاتم کی پیش کردہ علت واہیات ہے جیسے کہ دیکھا کیونکہ یہ الجعفي  ثقہ بالاتفاق ہے اور یہ کیسے جائز ہے کہ ایک لا علمی پر مجرد غلطی کہا جائے کہ کسی عراقی نے ابن جابر سے روایت نہیں کیا ہے؟ اور اس میں کچھ مانع نہیں کہ عراقی الجعفي  نے ابن جابر سے سنا ہو جب بصرہ گئے دمشق سے پہلے جیسا کہ ان کے ترجمہ میں ہے اور ثقہ کا تفرد حدیث میں مقدوح نہیں

البانی کا مقصد ہے کہ حسين الجعفي  جو کوفی تھا ممکن ہے کبھی بصرہ میں اس کی ملاقات عبد الرحمان بن یزید بن جابر سے ہوئی ہو- ایسے ممکنات کو دلیل بناتے ہوئے البانی اس کی تصحیح کے لئے بے چین ہیں اور حد ہے کہ ائمہ حدیث ابی حاتم تک پر جرح کر رہے ہیں اور ان کے قول کو واھی کہہ رہے ہیں- باقی امام بخاری کی رائے بھی ابی حاتم والی ہی ہے اس کو خوبصورتی سے گول کر گئے

البانی کے عقائد پر کتاب موسوعة العلامة الإمام مجدد العصر محمد ناصر الدين الألباني  کے مطابق البانی  اس روایت کی دلیل پر ایک دوسری روایت بھی پیش کرتے ہیں

ولعل مما يشير إلى ذلك قوله صلى الله عليه وسلم: “ما من أحد يسلم علي إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام”   وعلى كل حال فإن حقيقتها لا يدريها إلا الله سبحانه وتعالى، ولذلك فلا يجوز قياس الحياة البرزخية أو الحياة الأخروية على الحياة الدنيوية

اور ہو سکتا ہے کہ اسی بات پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم  کے  قول  میں اشارہ دیا گیا کہ   تم میں کوئی ایسا نہیں جو مجھ پر سلام پڑھے اور الله میری روح کو نہ لوٹا دے اور ہر حال میں حقیقت الله ہی جانتا ہے اور اس لئے یہ جائز نہیں کہ حیات برزخی یا اخروی کو دنیاوی پر قیاس کیا جائے

سلام بولنے پر روح لوٹانے والی روایت کو اہل حدیث علماء خواجہ محمّد قاسم اور زبیر علی زئی رد کرتے ہیں جبکہ البانی اسی کو دلیل میں پیش کر رہے ہیں –  ابن کثیر تفسیر میں سورہ الاحزاب  میں اس سلام پر روح لوٹائے جانے والی روایت کو صحیح کہتے ہیں اور دلیل بناتے ہوئے لکھتے ہیں

وَمِنْ ذَلِكَ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ الصَّلَاةُ والسلام عليه عند زيارة قبره صلى الله عليه وسلم

اور اس لئے یہ مستحب ہے کہ  زيارة قبر نبی صلى الله عليه وسلم  کے وقت  الصَّلَاةُ والسلام کہے

عرض اعمال والی روایت کو صحیح کہنے والے ابو داود کا بھی حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے اس پر سکوت کیا ہے اور ان سے منسوب ایک خط میں انہوں نے کہا کہ قد قال في رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح  جس پر بھی میں سکوت کروں وہ صحیح سمجھی جائے –اس کے برعکس البانی اس قول کو خاطر میں نہیں لاتے اور پوری ایک کتاب ضیف ابو داود تالیف کر بیٹھے جس میں اکثر وہ روایات ہیں جن پر ابو داود کا سکوت ہے

سوال یہ ہے کہ یہ تضاد کیوں ہے عقیدے کی ضعیف سے ضعیف روایت پر ابو داود کے سکوت کا حوالہ دینا اور قبول کرنا اور  عمل میں انہی کو رد کرنا

عرض اعمال والی درود پیش ہونے والی روایت پر ابن حبان کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس کو صحیح میں لکھا ہے – ابن حبان چوتھی صدی ہجری کے محدث ہیں ان سے ایک   صدی قبل بخاری اور ابی حاتم اس روایت کو معلول قرار دے چکے تھے لیکن وہ اس کی تصحیح کر بیٹھے – اس کی وجہ ابن حبان کا اپنا عقیدہ ہے کہ قبروں کے پاس دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ابن حبان سماع الموتی کے قائل تھے

 ابن حبان المتوفی  ٣٥٤ ھ   اپنی صحیح میں روایت کرتے  ہیں

 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا مَرَرْتُمْ بِقُبُورِنَا وَقُبُورِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي النَّارِ

ابو هُرَيْرَةَ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا  جب تم ہماری (اہل اسلام) اور اہل الْجَاهِلِيَّةِ کی قبروں پر سے گزرتے ہو تو پس ان کو خبر دو کہ وہ اگ والے ہیں

البانی کتاب التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان وتمييز سقيمه من صحيحه، وشاذه من محفوظه میں  کہتے ہیں صحيح اور اسی طرح – «الصحيحة» (18)، «أحكام الجنائز» (252) میں اس کو صحیح قرار دیتے ہیں

ابن حبان اس حدیث پر صحیح ابن حبان میں حاشیہ لکھتے ہیں

قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرَّ بِقَبْرِ غَيْرِ الْمُسْلِمِ، أَنْ يَحْمَدَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا عَلَى هِدَايَتِهِ إِيَّاهُ الْإِسْلَامَ، بِلَفْظِ الْأَمْرِ بِالْإِخْبَارِ إِيَّاهُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُخَاطَبَ مَنْ قَدْ بَلِيَ بِمَا لَا يَقْبَلُ عَنِ الْمُخَاطِبِ بِمَا يُخَاطِبُهُ بِهِ

  نبی صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا اس حدیث میں کہ جب کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کی قبر پر سے گزرے تو الله کی تعریف کرے اس ہدایت پر جو اس نے اسلام سے دی اور حکم کے الفاظ جو اس حدیث میں ہیں کہ وہ اگ میں سے ہیں سے یہ محال ہے کہ ان  کو مخاطب کیا جائے جو بے شک (اتنے) گل سڑ گئے ہوں کہ  خطاب کرنے والے (کی اس بات ) کو قبول نہ کر سکتے ہوں جس پر ان کو مخاطب کیا گیا ہے

ابن حبان کے حساب سے ایسا خطاب نبی صلی الله علیہ وسلم نے سکھایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مردے سمجھنے اور سننے کے قابل  ہیں اس ضعیف روایت کو اپنی صحیح  میں بھی لکھتے ہیں اس سے بھی عجیب بات ہے کہ مردوں کے نہ سننے کے قائل البانی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں جبکہ سندا یہ روایت کمزور ہے

ابن حبان مردوں کے سننے کے قائل  تھے اور نیک و صالحین کی قبور پر جا کر دعا کرتے اور وہ ان کے مطابق قبول بھی ہوتی

وما حلت بي شدة في وقت مقامي بطوس, فزرت قبر علي بن موسى الرضا صلوات الله على جده وعليه ودعوت الله إزالتها عني إلا أستجيب لي, وزالت عني تلك الشدة, وهذا شيء جربته مرارا, فوجدته كذلك
طوس میں قیام کے وقت جب بھی مجھے کوئی پریشانی لاحق ہوئی ،میں نے (امام) علی بن موسی الرضا صلوات الله على جده وعليه کی قبرکی زیارت کی، اور اللہ سے اس پریشانی کے ازالہ کے لئے دعاء کی ۔تو میری دعاقبول کی گئی،اورمجھ سے وہ پریشانی دورہوگئی۔اوریہ ایسی چیز ہے جس کامیں نے بارہا تجربہ کیا تو اسی طرح پایا

[الثقات لابن حبان، ط دار الفكر: 8/ 456]

 قبروں سے فیض حاصل کرنے اور مردوں کے سننے کے ابن حبان قائل تھے

شیعہ اماموں کی قبروں سے اہلسنت کے محدثین کا فیض حاصل کرنا کسی شیعہ نے لکھا ہوتا تو سب رافضی کہہ کر رد کر دیتے لیکن یہ ابن حبان خود لکھ رہے ہیں – اس ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے وہ صحیح ابن حبان میں عرض اعمال کی روایت کی تصحیح کر گئے

عرض اعمال والی  روایت کو پانچویں صدی کے  امام حاکم نے بھی صحیح قرار دیا اور شیخین کی شرط پر کہا جبکہ بخاری تاریخ الکبیر اور الصغیر میں اس روایت کے راوی حسین الجعفی پر بات کر چکے ہیں – امام حاکم خود شیعیت کی طرف مائل ہوئے اور حدیث طیر کو صحیح کہتے تھے کہ علی سب صحابہ سے افضل ہیں

چوتھی صدی کے امام دارقطنی (المتوفى: 385هـ) بھی حرم علی الازض والی روایت کی تصحیح کر گئے حالانکہ اپنی کتاب العلل میں ایک روایت پر لکھتے ہیں

وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ وَوَهِمَ فِي نَسَبِهِ، وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ

اور اس کو ابو اسامہ نے روایت کیا ہے اور کہا ہے عبد الرحمان بن یزید بن جابر اور اس کے نسب میں وہم کیا اور یہ تو بے شک عبد الرحمان بن یزید بن تمیم ہے

یعنی دارقطنی یہ مان رہے ہیں کوفی ابو اسامہ نے عبد الرحمن بن یزید  کے نسب میں غلطی کی لیکن اس کو حسین الجعفی کے لئے نہیں کہتے جو بالکل یہی غلطی کر رہا ہے

آٹھویں صدی کے ابن تیمیہ اور ابن قیم نے ایسی روایات کی بھرپور تائید کی

حسين بن علي الجعفي صحيح بخاري کے راوی ہیں لیکن امام بخاری کے نزدیک ان کی تمام روایات صحیح نہیں ہیں اور یہ غلطی نسب میں کر گئے ہیں اور عبد الرحمان بن یزید بن تمیم کو ابن جابر کہہ گئے

حسین بن علی الجعفي کے لئے ابن سعد طبقات میں لکھتے ہیں

وَكَانَ مَأْلَفًا لِأَهْلِ الْقُرْآنِ وَأَهْلِ الْخَيْرِ

اور یہ اہل قرآن اور اہل خیر کی طرف مائل تھے

الذھبی سیر الاعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ مُحَمَّدُ بنُ رَافِعٍ کہتے ہیں

وَكَانَ رَاهِبَ أَهْلِ الكُوْفَةِ.

اور یہ اہل کوفہ کے راھب تھے

اور يَحْيَى بنُ يَحْيَى التَّمِيْمِيُّ  کے مطابق

إِنْ كَانَ بَقِيَ مِنَ الأَبْدَالِ أَحَدٌ، فَحُسَيْنٌ الجُعْفِيُّ

اگر ابدال میں سے کوئی رہ گیا ہے تو وہ  حُسَيْنٌ الجُعْفِيُّ ہیں

صحیح مسلم کے مقدمے میں امام مسلم  لکھتے ہیں کہ اہل خیر کے بارے میں ائمہ محدثین کی رائے اچھی نہیں تھی

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَفَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَمْ نَرَ الصَّالِحِينَ فِي شَيْءٍ أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ»   قَالَ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ: فَلَقِيتُ أَنَا مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، «لَمْ تَرَ أَهْلَ الْخَيْرِ فِي شَيْءٍ أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ». قَالَ مُسْلِمٌ: ” يَقُولُ: يَجْرِي الْكَذِبُ عَلَى لِسَانِهِمْ، وَلَا يَتَعَمَّدُونَ الْكَذِبَ

حسین بن علی  الجعفی کا روایت میں غلطی کرنا ان کا اہل خیر کی طرف مائل ہونا اور لوگوں کا ان کو ابدال کہنا اور راہب کوفہ کہنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ زہد کی طرف مائل تھے اور روایت جب عبد الرحمان بن یزید بن تمیم سے سنی تو اس قدر پسند آئی کہ اس کے متن اور عبد الرحمان سے اس کا پورا نسب تک نہ جانا اور بیان کر دی

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات محدثین نے صرف ان کے لئے کی ہے نہیں ائمہ محدثین تو نسب میں غلطیاں بہت سے راویوں سے منسوب کرتے ہیں جس کے لئے کتب تک موجود ہیں لہذا بخاری  اور ابی حاتم جیسے پائے کے محدثین کی رائے کو لفاظی کر کے رد نہیں کیا جا سکتا

Presentation of Deeds

Are our deeds presented to Allah or  to his  Prophet?

بسم الله الرحمن الرحيم

Almighty Allah has informed us in his glorious book that all records goes back to Allah.  Allah says in Quran:

[note color=”#BEF781″]

وَإِلَى ٱللَّهِ تُرجَعُ ٱلأُمُور

And to Allah return all matters (for decision). [Al- Baqara 2:210]

وَإِلَيهِ يُرجَعُ ٱلأَمرُ كُلُّهُ

and to Him return all affairs (for decision). [Hud 11:123]

وَلِلَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلأُمُورِ

And with Allah rests the end of (all) matters (of creatures). [Al-Hajj 22:41]

وَإِلَى ٱللَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلأُمُورِ

And to Allah return all matters for decision. [Luqman 31:22]

أَلَآ إِلَى ٱللَّهِ تَصِيرُ ٱلأُمُورُ

Verily, all matters at the end go to Allah (for decision). [Ash-Shura 42:53] 

[/note] 

It is reported in Sahih Muslim

[note color=”#CEECF5″]

Abu Huraim reported Allah’s Messenger (may peace be upon him) as saying, “The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancour against his brother and it would he said: Leave them and put them off until they are turned to reconciliation.”  (Sahih Muslim, Book #032, Hadith #6224)

[/note]

This shows that from Quran and Sahih ahadith our deeds are presented to Allah and none else. However there are narrations which speak otherwise and it is important to investigate the authenticity of these narrations.

 

This is most quoted narration and attributed to Abdullah ibn Masood may Allah be pleased with him, one of the companions of Prophet peace be upon him.

 

It is reported in Nisai, chapter بَاب السَّلَامِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

[note color=”#CEECF5″]

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ح و أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ

Zazzan reported that Abdullah ibn Masood said: Messenger of Allah peace be upon him said Indeed there are roaming angles of Allah on Earth, they transmit the Salam of my Ummah to me.

[/note]

Also it is reported in Musnand Bazzaz:

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا يوسف بن موسى قال : نا عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد عن سفيان عن عبد الله بن السائب عن زاذان عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( إن لله ملائكة سياحين يبلغوني عن أمتي السلام ) قال : وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( حياتي خير لكم تحدثون ونحدث لكم ووفاتي خير لكم تعرض علي أعمالكم فما رأيت من خير حمدت الله عليه وما رأيت من شراستغفرت الله لكم )

Zazzan reported that Abdullah ibn Masood reported that Messenger of Allah peace be upon him said  My life is good for you that you report (ask) and I would tell you and my death is good for you , your deeds would be presented on me and I would praise Allah when I see good and I would ask Allah’s forgiveness if I notice evil.

[/note]

Both of these narrations are  reported by Zazzan,  who is a Shiite narrator, and among thousands of students of Abdullah ibn Masood he is the only narrator of this so-called ahadith.

Imam Dolabi has informed us in his work titled Al-Kuna-wal-Asma  (juz 4- pg 404) that the Zazzan was among the Shiites.

أخبرني محمد بن إبراهيم بن هاشم ، عن أبيه ، عن محمد بن عمر قال : « زاذان أبو عمر الفارسي مولى لكندة ، أدرك عمر ، وكان من أصحاب عبد الله ، وكان من شيعة علي ، هلك في سلطان عبد الملك

Muhammad bin Umer (Al-Waqidi) said that Zazzan Abu Umer Al-Farisi Maula Kindah found (the era of) Umer and was among the people of Abdullah (ibn Masood) and was from Shiites of Ali, died in the regime of Sultan Abdul-Malik

The statement of Al-Waqidi  is a historical record. Further,  Ibn- Hajar said in Taqreeb al-Tahzeeb (juz 1, pg 307)

زاذان أبو عمر الكندي البزاز ويكنى أبا عبد الله أيضا صدوق يرسل وفيه شيعية من الثانية مات سنة اثنتين وثمانين

Zazzan Abu Umer al-Kindi Al-Bazzaz and nicknamed Aba Abdullah also is Sudooq some times commit Irsal and has Shiite inclination died in year eighty two.

Ibn-Hajar and Dolabi both informed about the Shiite connection of Zazzan. The group of scholars, which support the believe of presented of deeds on Prophet, claim that Ibn-Hajar was influenced by Al- Waqidi. However there are evidences which support the inclination of Zazzan towards Shia’ism. Further it would be interesting to know that Ibn-Hajar has quoted Muhammad bin Umer Al-Waqidi  more than 200 times in Tahzeeb al-Tahzeeb only. This basically reflects the acceptance of Waqidi in keeping the record of history.

Now here  are the narrations reported by Zazzan which reflect his Shitte tendencies:

1.  It is reported  in  Fazail Sahabah compiled by Imam Ahmed (juz 2 pg 472) that:

حدثنا عبد الله ، قثنا أبي ، قثنا ابن نمير ، نا عبد الملك ، عن أبي عبد الرحيم الكندي ، عن زاذان أبي عمر قال : سمعت عليا في الرحبة  وهو ينشد الناس : من شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم غدير خم وهو يقول ما قال ؟ فقام ثلاثة عشر رجلا فشهدوا أنهم سمعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول : « من كنت مولاه فعلي مولاه ، اللهم وال من والاه ، وعاد من عاداه »

Zazzan said: I heard Ali  in Al-Rahbah and he was preaching: Who saw the Messenger of Allah peace be upon him on the Ghadeer Khum?  He (Prophet) said what he said? Stood thirteen men and bear witness that  they heard the Messenger of Allah, peace be upon him, he said: «If I  am the friend of someone Ali is his friend O  Allah,  take as friend one who take him as friend and take as enemy one who takes him as enemy»

2. Also reported in Fazail Sahabah by Imam Ahmed (juz 3 pg 3) that:

حدثنا عبد الله قال : وجدت في كتاب أبي بخط يده وأظنني قد سمعته منه ، نا وكيع ، عن شريك ، عن عثمان أبي اليقظان ، عن زاذان ، عن علي قال : مثلي في هذه الأمة كمثل عيسى ابن مريم ، أحبته طائفة  وأفرطت في حبه فهلكت ، وأبغضته  طائفة ، وأفرطت في بغضه فهلكت ، وأحبته طائفة فاقتصدت في حبه فنجت

Narrated Zazzan from Ali that he (Ali) said: I am in this nation, like a  Jesus, son of Mary, A part of it  loved him ,and deviated in excessive  love and angered a party and exhibited excess in abhorrence (against me) ..

 3.  It is reported in Hadith Abi Fazl Azzuhri ( juz 1 pg 107) that:

أخبركم أبو الفضل الزهري ، نا إبراهيم ، نا صالح بن مالك ، نا أبو الصباح عبد الغفور ، نا أبو هاشم الرماني ، عن زاذان ، قال : حدثتنا عائشة أم المؤمنين ، قالت : أهدت إلي امرأة مسكينة هدية ، فلم أقبلها منها رحمة لها ، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال : « ألا قبلتيها منها وكافأتيها فلا ترى أنك حقرتيها ، تواضعي يا عائشة ، فإن الله يحب المتواضعين ، ويبغض المتكبرين »

Narrated zazzan that Aisha, Mother of Believers narrated to them; She said: A poor woman had donated a gift (to me); I had not accepted it as a token of mercy, I informed about this to the Messenger of Allah peace be upon him and he said: «  Why you have not accepted that and it would have been enough to show that you  do not see her as inferior , Oh Aisha,  Be humble, God loves humble  and hates the proud!

 

The above narrations are the examples of Shiite tendencies of Zazzan. Not only that he is considered as an authentic narrator in Shiite literature like Usool-al-Kafi etc. Dr. Bashshar Awwad Al-Maroof have indicated that narrations form  Zazzan is quoted in Shiite literature like  الكافي في القضاء والاحكام: 6، باب: النوادر 19 حديث رقم 12،  and also in another book titled

 والتهذيب: باب من الزيادات في القضايا والاحكام، حديث رقم 804).

It is reported in Al- Kafi H 1003, Ch. 93, h 2

Muhammad ibn Yahya has narrated from  ibn al-Husayn from Musa ibn Sa‘dan from Abdallah ibn al-Qasim from al-Hassan ibn Rashid who has said the following. “I Heard abu ‘Abdallah (a.s.) say, ‘When Allah, the Most Holy, the Most High, would love to create the Imam He would command an angel to take a drink of water from under the Throne and his father to drink it and from this He creates the Imam. for the first forty days and nights in his mothers womb he would hear anything. After that he would hear the words. When he is born that angel comes and writes between his eyes, “. . .in all truth and justice, your Lord’s Word has been completed. No one can change His Words. He is All-hearing and All knowing.”  (6:115) When the preceding Imam passes away a light house made from light is prepared for him and this light house he examines the deeds of the creatures. By this means Allah establishes His authority over the creatures.”

The presentation of deeds of creation on Imams is a basic shitte belief, as indicated in the narration of Al-Kafi. Zazzan being a Shitte has spread the word to make this belief acceptable in non-Shitte circles of his era. Unfortunately the narration got acceptance in our books. Imam Bukhari and Muslim has not reported this narration in any of their books.

 

Also the narration of Zazzan is Munkar as it is against a Sahih narration reported in Bukhari  which cleared the role of roaming angels.

It is reported in Bukhari chapter باب فَضْلِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

[note color=”#CEECF5″]

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صلى الله عليه وسلم – « إِنَّ لِلَّهِ مَلاَئِكَةً يَطُوفُونَ فِى الطُّرُقِ ، يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ . قَالَ فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا . قَالَ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهْوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا يَقُولُ عِبَادِى قَالُوا يَقُولُونَ يُسَبِّحُونَكَ ، وَيُكَبِّرُونَكَ ، وَيَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ .قَالَ فَيَقُولُ هَلْ رَأَوْنِى قَالَ فَيَقُولُونَ لاَ وَاللَّهِ مَا رَأَوْكَ . قَالَ فَيَقُولُ وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِى قَالَ يَقُولُونَ لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً ، وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا ، وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا . قَالَ يَقُولُ فَمَا يَسْأَلُونِى قَالَ يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ . قَالَ يَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا . قَالَ يَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا ، وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا ، وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً . قَالَ فَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ قَالَ يَقُولُونَ مِنَ النَّارِ . قَالَ يَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لاَ وَاللَّهِ مَا رَأَوْهَا . قَالَ يَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا ، وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً . قَالَ فَيَقُولُ فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّى قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ . قَالَ يَقُولُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ فِيهِمْ فُلاَنٌ لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ . قَالَ هُمُ الْجُلَسَاءُ لاَ يَشْقى بِهِمْ جَلِيسُه ُمْ »

Narrated Abu Huraira:

Allah ‘s Apostle said, “Allah has some angels who look for those who celebrate the Praises of Allah on the roads and paths. And when they find some people celebrating the Praises of Allah, they call each other, saying, “Come to the object of your pursuit.’ ” He added, “Then the angels encircle them with their wings up to the sky of the world.” He added. “(after those people celebrated the Praises of Allah, and the angels go back), their Lord, asks them (those angels) though He knows better than them ‘What do My slaves say?’ The angels reply, ‘They say: Subhan Allah, Allahu Akbar, and Alham-du-lillah, Allah then says ‘Did they see Me?’ The angels reply, ‘No! By Allah, they didn’t see You.’ Allah says, How it would have been if they saw Me?’ The angels reply, ‘If they saw You, they would worship You more devoutly and celebrate Your Glory more deeply, and declare Your freedom from any resemblance to anything more often.’ Allah says (to the angels), ‘What do they ask Me for?’ The angels reply, ‘They ask You for Paradise.’ Allah says (to the angels), ‘Did they see it?’ The angels say, ‘No! By Allah, O Lord! They did not see it.’ Allah says, How it would have been if they saw it?’ The angels say, ‘If they saw it, they would have greater covetousness for it and would seek It with greater zeal and would have greater desire for it.’ Allah says, ‘From what do they seek refuge?’ The angels reply, ‘They seek refuge from the (Hell) Fire.’ Allah says, ‘Did they see it?’ The angels say, ‘No By Allah, O Lord! They did not see it.’ Allah says, How it would have been if they saw it?’ The angels say, ‘If they saw it they would flee from it with the extreme fleeing and would have extreme fear from it.’ Then Allah says, ‘I make you witnesses that I have forgiven them.”‘ Allah’s Apostle added, “One of the angels would say, ‘There was so-and-so amongst them, and he was not one of them, but he had just come for some need.’ Allah would say, ‘These are those people whose companions will not be reduced to misery.’

 

[/note]

A similar kind of hadith is reported by Muslim  in chapter  باب فضل مجالس الذكر and in  Tirmidhi reported in chapter  باب مَا جَاءَ أَنَّ لِلَّهِ مَلاَئِكَةً سَيَّاحِينَ فِى الأَرْضِ

This shows that there are roaming angels but they look for people praising Allah. They are not roaming to send blessing prayers to Prophet peace be upon him.

It is reported in Musnad Ahmed, juz  4, pg 8, Sunan Abi Dawood juz 3, pg 404, Sunnan Nisai juz 1, pg 101,  sunnan Ibn- Maja juz 3, pg 447 that:

[note color=”#CEECF5″]

 حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا حسين بن على الجعفي عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن أبي الأشعث الصنعاني عن أوس بن أبي أوس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه قبض وفيه النفخة وفيه الصعقة فاكثروا على من الصلاة فيه فان صلاتكم معروضة على فقالوا يا رسول الله وكيف تعرض عليك صلاتنا وقد أرمت يعنى وقد بليت قال إن الله عز و جل حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء صلوات الله عليهم 

Narrated Aus bin Abi Aus that Messenger of Allah peace be upon him said  Best of your days is Friday, on this day Adam is created and on this (day) he died and on this (day) there will  be Blowing (for day of Judgement)  and on this (day) their will be Shocks (due to day of Judgement)    so increase your prays of blessing on me on this day, as it is presented on me. We said O Messenger of Allah but how it will be presented on you when you would become dust  means you disintegrate, said: Indeed Allah has forbidden Earth to eat the bodies of prophets peace be upon them.

[/note]

The sanad (chain of narrators) is.

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا حسين بن على الجعفي عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر

The two important narrators are Hussain bin Ali Al-Jofi and Abdur Rehman bin Yazeed bin Tammem.

Imam Bukhari has tracked this narration and state that this narration is not authentic. He said is in his work Tahreekh al-Saghir, juz 2 , pg 109

قال الوليد كان لعبد الرحمن كتاب سمعه وكتاب آخر لم يسمعه وأما أهل الكوفة فرووا عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر وهو بن يزيد بن تميم ليس بابن جابر وابن تميم منكر الحديث

 Al-Waleed said that Adbur-Rehaman had a book which he heard and a book which which he had not heard and people of Kufa have narrated from Abdur-Rehamn bin Yazeed bin Jabir but he is (actually Abur Rehaman)  bin Yazeed bin Tameem and not the Ibn-Jabir and (Abdur Rehman bin Yazeed ) Ibn Tameem is Munkar-ul-hadith.

Imam Bukhari also said is in his work Tahreekh al-Kabeer juz 5 pg 365

قال الوليد: كان عند عبد الرحمن كتاب سمعه (1) وكتاب آخر لم يسمعه

Al-Waleed said: Abdur Rehaman (bin Yazeed bin Tammem) had a book which he heard and another book which he had not heard

 

Imam Ibn-Abi Hatim said in his work Illal al-hadith juz 1, pg 19

وأمّا حُسينٌ الجُعفِيُّ : فإِنّهُ روى عن عَبدِ الرّحمنِ بنِ يزِيد بنِ جابِرٍ ، عن أبِي الأشعثِ ، عن أوسِ بنِ أوسٍ ، عنِ النّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي يومِ الجُمُعةِ ، أنّهُ قال : أفضلُ الأيّامِ : يومُ الجُمُعةِ ، فِيهِ الصّعقةُ ، وفِيهِ النّفخةُ وفِيهِ كذا وهُو حدِيثٌ مُنكرٌ ، لا أعلمُ أحدًا رواهُ غير حُسينٍ الجُعفِيِّ وأمّا عبدُ الرّحمنِ بنُ يزِيد بنِ تمِيمٍ فهُو ضعِيفُ الحدِيثِ ، وعبدُ الرّحمن بنُ يزِيد بنِ جابِرٍ ثِقةٌ.

And Hussain Al-Jofai: he narrated from Abdur Rehman bin Yazeed bin Jabir, from Abi Al-Ashath from Aus bin Aus from Messanger of Allah peace be upon him about the Friday and   repoted that  best of days is Friday, in it will be Shocks and Blowing and that and that is hadith Munkar, I know no one report it except Hussain Al-Jofai and as far as Abdur Rehman bin Yazeed bin Tameem is concerned, he is Daif-ul-hadith whereas Abdur Rehman bin Yazeed bin Jabir is trustworthy narrator.

The conclusion is that the narrator Hussain bin Ali al-Jofai has intentionally changed the name of narrator to Abdur Rehman bin Yazeed bin Jair. This slight twist in the name of narrator is done to misguide people. In fact the narrator is different and both Hussain al-Jofai and Ibn-Tameem are weak narrators. Imam Ibn Abi Hatim had even called it Munkar narration i.e. one which is against Sahih ahadith.

There are some other weak narrations reported on this issue and attributed to different companions. There analysis is as follows.

Narration of Abi Hurraira (may Allah be pleased with him)

It is reported in Musnad Ahmed juz 2, pg 367

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا سريج قال ثنا عبد الله بن نافع عن بن أبي ذئب عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تتخذوا قبري عيدا ولا تجعلوا بيوتكم قبورا وحيثما كنتم فصلوا علي فإن صلاتكم تبلغني

Narrated Abi Hurraira that

Messenger of Allah peace be upon him said: Do not take my grave as a place of fair and do not make your houses, graves and pray for blessings on me, from wherever you are.

[/note]

It is reported in Muajam Al-Awsat by Tabarani, juz 17 pg 339

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا موسى بن هارون ، نا مسلم بن عمرو الحذاء المديني ، نا عبد الله بن نافع ، عن ابن أبي ذئب ، عن سعيد بن أبي سعيد المقبري ، عن أبي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : « لا تجعلوا بيوتكم قبورا ، ولا تجعلوا قبري عيدا ، وصلوا علي ، فإن صلاتكم تبلغني حيث ما كنتم » «

Narrated Abu Hurraira Messanger of Allah said:

Do not make your houses graves, and do not take my grave as a fair, and pray for blessings on me, as your prayers would reach me from wherever you are.

[/note]

Also Tabarabi said after the narration

لم يصل هذا الحديث عن ابن أبي ذئب إلا عبد الله بن نافع ، تفرد به : مسلم بن عمرو »

.. this narration does not connect with Ibn Abi Zaib but only via Abdullah bin Nafay, taffarad (only reported by) by Muslim bin Amr.

Haithami said  (Majma-e-Zawaid, juz 2, pg 292):  رواه أبو يعلى وفيه عبد الله بن نافع وهو ضعيف

… narrated by Abi Yala and it has Abdullah bin Nafay and he is a weak narrator

Narration of Ali bin Abi Talib (may Allah be pleased with him)

It is reported in Masnad Abi Yala, juz 14 pg 2

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا موسى بن محمد بن حيان ، حدثنا أبو بكر الحنفي ، حدثنا عبد الله بن نافع ، أخبرني العلاء بن عبد الرحمن قال : سمعت الحسن بن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « صلوا في بيوتكم ، لا تتخذوها قبورا ، ولا تتخذوا بيتي عيدا ، صلوا علي وسلموا ، فإن صلاتكم وسلامكم يبلغني أينما كنتم »

Hassan bin Ali bin Abi Talib said that Messeneger of Allah peace be upon him said  Pray at your homes and do not take them as graves and do not take my grave as a fair, pray for blessings on me and your prayers for blessings and safety reach me wherever you are

[/note]

Also reported in Masnad Abi Yala , juz 1  pg 452; Musanif Ibn Abi Sheeba, juz 2 pg 150;

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ، حدثنا زيد بن الحباب ، حدثنا جعفر بن إبراهيم ، من ولد ذي الجناحين ، قال : حدثنا علي بن عمر ، عن أبيه ، عن علي بن حسين ، أنه رأى رجلا يجيء إلى فرجة كانت عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم ، فيدخل فيها فيدعو ، فنهاه ، فقال : ألا أحدثكم حديثا سمعته من أبي ، عن جدي ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال : « لا تتخذوا قبري عيدا ، ولا بيوتكم قبورا ، فإن تسليمكم يبلغني أينما كنتم »

Ali bin Hussain saw one person who reaches to the cavity near the grave of Messenger of Allah peace be upon him and entered it and called , (Hussain) forbade him and said I narrate to you what I heard from my father from grandfather from Messenger of Allah peace be upon him said Do not take your houses as grave as your prayer of blessings reach me wherever you are

[/note]

Haithami said Majam-e- Zawaid, juz 4, pg 7

رواه أبو يعلى وفيه جعفر بن إبراهيم الجعفري ذكره ابن أبي حاتم ولم يذكر فيه جرحاً وبقية رجاله ثقات

… narrated by Abi Yala and it has Jafar bin Ibrahim Al-Jafari, Ibn Abi Hatim has talked about him and has not reported any Jirah and rest of the narrators are authentic

However Ibn-Hajar  quoted this narration and said in Lisan al-Mezan, juz 1,pg 249

 فلعل إبراهيم نسبه إلى جده الأعلى جعفر إن كان الخبر لجعفر

.. probably Ibrahim  has attributed this narration to his grandfather Jafar, if this report is from Jafar.

Hence Ibn-Hajar showed his disfavour for this narration in Lisan al-Mezan. Further it mentions about فرجة كانت عند قبر  cavity in grave of Messenger of Allah peace be upon him , which is against the historical record available to us. There had never been a cavity in the grave of Prophet.

Narration of Hasan bin Ali (may Allah be pleased with him)

It is reported in Muajam Al-Kabeer by Tabarani, juz 3 pg 82

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا أحمد بن رشدين المصري ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن جعفر أخبرني حميد بن أبي زينب : عن حسن بن حسن بن علي بن أبي طالب عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : حيث ما كنتم فصلوا علي فإن صلاتكم تبلغني

Narrated Hasan bin Hasan bin Ali bin Abi Talib from his father that Messenger of Allah peace be upon him said wherever you are pray for blessings on me  as your blessings would reach me.

[/note]

In Muajam Al-Awsat juz 1 pg 371

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا أحمد بن رشدين قال : نا سعيد بن أبي مريم قال : نا محمد بن جعفر قال : أخبرني حميد بن أبي زينب ، عن حسين بن حسن بن علي بن أبي طالب ، . عن أبيه ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : « حيثما كنتم فصلوا علي ، فإن صلاتكم تبلغني » لا يروى هذا الحديث عن الحسن بن علي إلا بهذا الإسناد ، تفرد به : ابن أبي مريم

Narrated Hasan bin Hasan bin Ali bin Abi Talib from his father that Messenger of Allah peace be upon him said wherever you are pray for blessings on me as your prayers would reach me. No body reports this narration from Hasan bin Ali except with this chain and it is only reorted by Ibn Abi Mariam.

[/note]

 

Haithami said in Majma-e-Zawaid, juz 11, pg 29

رواه الطبراني في الكبير والأوسط وفيه حميد بن أبي زينب ولم أعرفه، وبقية رجاله رجال الصحيح.

Narrated Tabarani in Al-Awsat and it has Hameed bin Abi Zainab and I do not know him, and rest of the narrators are from Al-Sahih.

Therefore the narrations are reported by an unknown narrator and thus weak.

Narration Abi Masood Al-Ansari (may Allah be pleased with him)

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه ، أنبأ أحمد بن علي الأبار ، ثنا أحمد بن عبد الرحمن بن بكار الدمشقي ، ثنا الوليد بن مسلم ، حدثني أبو رافع ، عن سعيد المقبري ، عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : « أكثروا علي الصلاة في يوم الجمعة ، فإنه ليس أحد يصلي علي يوم الجمعة إلا عرضت علي صلاته »

Abi Masood Al-Ansari said that Messenger of Allah peace be upon him said  Increase your prayer of blessings on me on Friday, in fact there is no one who would pray for blessings  on me and it would not be presented to be.

[/note]

It contains إسماعيل بن رافع who is a weak narrator.  (From Tahzibul-Kamal, juz 3 pg 85 )

Yahyah bin moin called him ضعيف Weak also called him ليس بشيء i.e. He is nothing

Ahmed bin Hanbal  and Abu Hatim said: منكر الحديث Munkar-ul-Hadith

Nisai called him siqah once but also متروك الحديث   i.e one whose narrations are rejected.

Narration of Annas (may Allah be pleased with him)

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا أحمد قال : نا إسحاق قال : نا محمد بن سليمان بن أبي داود قال : نا أبو جعفر الرازي ، عن الربيع بن أنس ، عن أنس بن مالك ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : « من ذكر الله ففاضت عيناه من خشية الله حتى تصيب الأرض دموعه لم يعذبه الله يوم القيامة » وقال النبي صلى الله عليه وسلم : « من صلى علي بلغتني صلاته ، وصليت عليه ، وكتبت له سوى ذلك عشر حسنات » « لم يرو هذين الحديثين عن أبي جعفر إلا محمد بن سليمان

Anas narrated that Messenger of Allah peace be upon him said: One who talks about Allah until his tears go to ground due to fear of Allah, Allah would not torment him on day of Judgement and Prophet said whoever prays on me, his prays of blessing would reach me, I pray for him  and ten good deeds would be written for him

[/note]

It contains a narrator أبو جعفر الرازي, who is a weak narrator. His name is عيسى بن ماهان and in Doafa Al-Uqaili, Uqaili said (juz 3 pg 388)

Ahmed said ليس بالقوي في الحديث Not a strong narrator

Also Ahmed  called him مضطرب الحديث (Majroheen by Ibn-Habban juz 2, pg 120)

As the severity of Sheerk increases. Reports are quoted  that our deeds are presented even on our dead relatives!

1. It is reported in Mustadrak Al-Hakim juz 6 pg 331

[note color=”#CEECF5″]

أخبرنا أبو النضر الفقيه و إبراهيم بن إسماعيل القاري قالا : ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا يحيى بن صالح الوحاظي ثنا أبو إسماعيل السكوني قال : سمعت مالك بن أدى يقول : سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما يقول و هو على المنبر : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ألا أنه لم يبق من الدنيا إلا مثل الذباب تمور في جوها فالله الله في إخوانكم من أهل القبور فإن أعمالكم تعرض عليهم

Noman bin Bashir said and he was on the pulpit that he heard Messenger of Allah peace be upon him said there remains in world but like flies on dates in Joo By Allah, your deeds are presented on your  brothers from the people of graves

[/note]

For this narration Dahabi says in Talkhis that

تعليق الذهبي قي التلخيص : فيه مجهولان

It has unknown narrators

 

2. It is reported in Musnad Abi Dawood Al-Tiyalisi juz 5 pg 250

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا أبو داود قال حدثنا الصلت بن دينار عن الحسن عن جابر بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ان أعمالكم تعرض على عشائركم واقربائكم في قبورهم فان كان خير استبشروا بذلك وان كان غير ذلك قالوا اللهم ان يعملوا بطاعتك

Jabir bin Abdullah narrated that Messenger of Allah peace be upon him said Indeed your deeds are presented on your family memebers and relative in graves, so on your good deeds they rejoice and on contrary (i.e. on evil deeds) they say O Allah they would (inshallah)  act in obedience.

[/note]

This narration has الصلت بن دينار  who is a very weak narrator. His real name is

الصلت بن دينار الأزدي الهنائي أبو شعيب المجنون

Ibn-Habban writes in Majroheen, juz 1 pg 376

ان أبو شعيب ممن يشتم أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ويبغض علي بن أبي طالب وينال منه ومن أهل بيته على كثرة المناكير في روايته

Abu Shu’aib used to insult the companions of the Messenger of Allah PBUH and he hates Ali bin Abi Talib and attributed from him and his family many Munkar narrations

3. Ibn-Katheer has quoted statements of peoples from book of Ibn-Abi Dunyah in Tafseer juz 6 pg 327 and then said

وهذا باب فيه آثار كثيرة عن الصحابة. وكان بعض الأنصار من أقارب عبد الله بن رواحة يقول: اللهم إني أعوذ بك من عمل أخزى به عند عبد الله بن رواحة، كان يقول ذلك بعد أن استشهد عبد الله.

And in this chapter there are many narrations from Companions (of Prophet) and some Ansar which belong to the relatives of Abdullah bin Rawaha said: O Allah I seek your refuge  from the act which would degrade me in front of Abdullah bin Rawaha- said after death of Abdullah!

It is quoted from the book of Ibn-Abi Dunyah المنامات لابن أبي الدنيا pg 7

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا أبو بكر ، ثني محمد بن الحسين ، ثنا علي بن الحسن بن شقيق ، ثنا عبد الله بن المبارك ، عن صفوان بن عمرو ، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير ، أن أبا الدرداء ، كان يقول : « إن أعمالكم تعرض على موتاكم فيسرون ويساءون » وكان أبو الدرداء ، يقول عند ذلك : « اللهم إني أعوذ بك أن أعمل عملا يخزى به عبد الله بن رواحة »

Abdullah bin Jubair bin Nufair said that Abu Dardah said Indeed your deeds are presented on your deads so (either) they are happy (or) sad and Abu Dardah used to say:  O Allah I seek your refuge  from the act which would degrade me in front of Abdullah bin Rawaha

[/note]

Both Abdullah bin Rawahah (d 8 AH)  and Abi Darda is عويمر بن مالك (d. 32 AH) are  the companions of Prophet peace be upon him.  It is stated by Dahabi  in العبر في خبر من غبر that Ibn Abi Dunyah (d 281 AH) has heard narrations from

أبو جعفر محمد بن الحسين البرجلاني. مصنف الزهديات وشيخ ابن أبي الدنيا

Abu Jafar Muhammad bin Hussain Al-Barjalani, author of Al-Zuhudiyyat- and Sheikh of Ibn-Abi Dunyah

Muhammad bin Hussain (d. 238 AH) and his student Ibn Abi Dunyah (d 281 AH) are famous for collecting reports which are much inclined towards spiritualism.

It is a broken narration, as explained following

Dahabi said in  العبر في خبر من غبر pg 27

عبد الرحمن بن جبيْر بن نفَير الحضرمِي الحمصي. وهو مُكْثرٌ عن أبيه وغيره. ولا أعلمه روى عن الصحابة. وقد رأى جماعة من الصحابة

Abdur Rehman bin Jubair bin Nafeer Al-Hadrami narrated much from his father and others and I do not know his reports from companions of Prophet and he saw some of them.

It is stated in  الإكمال  by  ابن ماكولا  that his father is Tabayee

جبير بن نفير من قدماء التابعين، روى عن أبيه وغيره. وابنه عبد الرحمن بن جبير بن نفير.

Jubair bin Nufeer from the elder of Tabayeen narrated from his father and his son is Abdur Rehman bin Jubair bin Nafeer

AburRehman bin Jubair  (d. 118 AH) has heard not from companions and his narration  with companions of prophet are Mursil (i.e. narrator is missing in between). Therefore one cannot establish faith on this.

 

The narrations of presentation of our deeds on Prophet and on our dead relatives are weak.  The prayer for blessings on Prophet starts with words O Allah .  How would angels detour and take the prayers to Prophet or dead Muslims?

 

1. Is it not the case that Prophet took the oath in Hubabiyah from Muslims over the news of Uthman’s death. Uthman was not actually killed but imprisoned by pagans. Uthman could say prayer of blessings on Prophet and Roaming angels could have taken this to Prophet!

 

2. In Quran it is informed that there are Munafique in Medinah which no one knows except Allah and not even Prophet knows about them.

 

And among the bedouins round about you, some are hypocrites, and so are some among the people of Al-Madinah, they exaggerate and persist in hypocrisy, you (O Muhammad ) know them not, We know them. We shall punish them twice, and thereafter they shall be brought back to a great (horrible) torment. (9:101)

 

But if the Roaming angels bring the prayer of blessings to Prophet, he could have known about the hidden hypocrites.

 

3. In Prophet’s life time he sent 70 scholars of Quran to some community for preaching where they all were murdered deceitfully. When they were massacred they prayed to Allah OAllah inform you Prophet.  They do not need to say this had they have the belief of presentation of deeds on Prophet.

 

To get rid of these arguments the scholars who believe in presentation of deeds say that it is possible the presentation is started after the death of Prophet. But this reply doesn’t help as in the narration  it is reported that companions asked how the deeds are presented after death when body is disintegrated. Also the role of roaming angels is described without the condition that this would happened after death.

 

 

 

In this treatise it is exhibited that how the weak narrations  of presentation of Ummah deeds on Prophets and dead relatives have been taken as an article of faith by some scholars. The presentation of deeds is not a simple issue. It is basically an intrusion in the Divine attribute of Omniscience (Ilm-ul-Ghayb) i.e. Knowledge of every thing.  May Allah save us from all kinds of Sheerk  (associating others the Divine Attributes).

 

As a Muslim it is important that we bring our believes in accordance with Holy Quran. May Allah send his blessings on our last Prophet Muhammad peace be upon him and guide us towards His Mercy and Heavens and save us from Azab al-Qabr and Hell  Fire. Amen

 

Light upon Light

anam-1

Light upon Light

بسم الله الرحمن الرحيم

Some deviated sects among Muslims, claim with no evidence that Allah is based on  Noor (light). He is energy who is moving this static Universe[1]. On the contrary Allah said in Quran, surah Shura 11:

[note color=”#BEF781″]

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

There is nothing like unto Him, and He is the All-Hearer, the All-Seer.

[/note]

Allah has created the Light and Darkness. In surah Al-Anam, verse 1, Allah said:

 

[note color=”#BEF781″]

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ 

All praises and thanks be to Allah, Who (Alone) created the heavens and the earth, and originated the darkness and the light, yet those who disbelieve hold others as equal with their Lord.

[/note]

Allah is the Creator of all seen and unseen including the darkness and light. In hadith it is further explained in

Sahih Muslim, chapter باب في قوله عليه السلام نور أني أراه وفي قوله رأيت نورا

[note color=”#CEECF5″]

 حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن قتادة عن عبدالله بن شقيق عن أبي ذر قال: سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم هل رأيت ربك ؟ قال نور أنى أراه

Abdullah bin Shaqeeq narrated from Abi Dharr that he said: I asked Messenger of Allah peace be upon him, whether he has seen his Lord? He said: Light, I saw!

 حدثنا محمد بن بشار حدثنا معاذ بن هشام حدثنا أبي ح وحدثني حجاج بن الشاعر حدثنا عفان بن مسلم حدثنا همام كلاهما عن قتادة عن عبدالله بن شقيق قال قلت لأبي ذر : لو رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم لسألته فقال عن أي شيء كنت تسأله ؟ قال كنت أسأله هل رأيت ربك ؟ قال أبو ذر د سألت فقال رأيت نورا

Abdullah bin Shaqeeq said to Abi Dharr, Have  I seen Messenger of Allah peace be upon him I would have asked something? He said: What you would like to inquire about?  Said. I would have asked whether he has seen his Lord? Abu Dharr said I asked this and he (Prophet) said  I saw light.

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة وأبو كريب قالا حدثنا أبو معاوية حدثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن أبي موسى قال  : قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم بخمس كلمات فقال إن الله عز و جل لا ينام ولا ينبغي له أن ينام يخفض القسط ويرفعه يرفع إليه عمل الليل قبل عمل النهار وعمل النهار قبل عمل الليل حجابه النور ( وفي رواية أبي بكر النار ) لو كشفه لأحرقت سبحات وجهه ما انتهى إليه بصره من خلقه

Abi Musa said:  (On one occasion) Stood among us Messenger of Allah peace be upon him (i.e. addressed us) and said five things. He said: Indeed Allah does not sleep and it is not for him to sleep, (He) lowers and elevate the Balance; ascend towards him the deeds of nights before the deeds of  afternoon, and deeds of afternoon before the deeds of night, His veil is Light (and in narration of Abi Bakr bin Abi Sheeba) if it (veil) is removed, Splendor from His Countenance would scorch His Creation till His eyesight! (i.e. all His Creation)

[/note]

From these narrations it is clear that Messenger of Allah peace be upon him saw the veil which lies between Allah and His Creation and it is made up of light.

Deviated people also twist the meaning of following verse of  surah An-Noor, verse 35.

[note color=”#BEF781″]

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

Allah is the Light of the heavens and the earth. The parable of His Light is as (if there were) a niche and within it a lamp, the lamp is in glass, the glass as it were a brilliant star, lit from a blessed tree, an olive, neither of the east (i.e. neither it gets sun-rays only in the morning) nor of the west (i.e. nor it gets sun-rays only in the afternoon, but it is exposed to the sun all day long), whose oil would almost glow forth (of itself), though no fire touched it. Light upon Light! Allah guides to His Light whom He wills. And Allah sets forth parables for mankind, and Allah is All-Knower of everything.

[/note]

In this verse of surah An-Noor it is informed allegorically that it Allah who is guiding the Humanity. His Guidance is self illuminating and His Guidance does not require any other source for its elaboration. We know that His Guidance is Quran. All the earliest statements from Sahabah and Tabaeen on this verse said similar to what is stated here[2].

It is further explained in the very next verse that this Noor (light) is present in many houses, in which His Guidance is followed.

[note color=”#BEF781″]

فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآَصَالِ (36) رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ (37) لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (38

In houses (mosques), which Allah has ordered to be raised (to be cleaned, and to be honoured), in them His Name is glorified in the mornings and in the afternoons or the evenings, Men whom neither trade nor sale diverts them from the Remembrance of Allah (with heart and tongue), nor from performing As-Salat (Iqamat-as-Salat), nor from giving the Zakat. They fear a Day when hearts and eyes will be overturned (from the horror of the torment of the Day of Resurrection). That Allah may reward them according to the best of their deeds, and add even more for them out of His Grace. And Allah provides without measure to whom He wills.

[/note]

So the Noor is Quran, as Allah said that O prophet, We sent you like a lamp for people. Prophet said his companions are like stars. So all such allegories are made to compare Truth (light) with Falsehood (Darkness). Allah said in surah al-Ahzab 41-43:

[note color=”#BEF781″]

 O you who believe! Remember Allah with much remembrance. And glorify His Praises morning and afternoon. He it is Who sends Salat (His blessings) on you, and His angels too (ask Allah to bless and forgive you), that He may bring you out from darkness into light. And He is Ever Most Merciful to the believers.

[/note]

Allah said in surah Al-Shura:

[note color=”#BEF781″]

And thus We have revealed to you an inspiration of Our command. You did not know what is the Book or [what is] faith, but We have made it a light by which We guide whom We will of Our servants. And indeed, [O Muhammad], you guide to a straight path

[/note]

Hence Allah is Noor in the sense that He is the source of  real Guidance, which  only comes through Him. Allah has sent us His Guidance  in form of Quran.  Allah is not a light energy or any other energy as He is the creator of all physical and metaphysical energies.  If we utter that Allah is energy then this  is Kufr, as we have made Him equivalent to  Creation

Another deviated approach of some Muslims is than to declare origin-wise Prophet as Noor.   When we call Allah and his Prophet coming out of same substance than this is basically the Gnostic[3] faith of Homoousios[4] that Allah and Jesus in substance are same.  In Sahih Muslim a hadith is reported that:

[note color=”#CEECF5″]

 Prophet peace be upon him said that angels are created from Noor (light).

[/note]

Allah commanded the Angels (beings created from Light) to prostrate to  Adam (Being created from dust), which reflects the importance of humans in Allah’s creation. Allah also exhibited to all Angels that Adam knows more names than what Angels know.

[note color=”#BEF781″]

He said, “O Adam, inform them of their names.” And when he had informed them of their names, He said, “Did I not tell you that I know the unseen [aspects] of the heavens and the earth? And I know what you reveal and what you have concealed.”

[/note]

Therefore a Human has more importance over beings created from Noor. Then is it not degradation when one claims Noor as substance of creation for Prophet?

First Council of Nicea 325 AD

Christians had fabricated the belief of Trinity in year 325 AD. It starts with words:

“We believe in one God, the Father Almighty, Maker of all things visible and invisible. And in one Lord Jesus Christ, the Son of God, begotten of the Father, Light of Light, very God of very God, begotten, not made, being of one substance with the Father (Homoousios);  By whom all things were made, Who for us men, and for our salvation, came down and was incarnate and was made man; He suffered, and the third day he rose again, ascended into heaven; From thence he shall come to judge the quick and the dead. And in the Holy Ghost. …”

My dear reader,  Jesus as Light was the Christian concept, crept into Muslims as well.

Strangely those who believe that Allah is Noor also claimed that Prophet and Saints can see Allah in a form like a human. However it is explained in Quran that it is not possible.  Why in their vision or dreams Allah is not in Noor,?

Allah said is surah Al-Anam, verse 103:

[note color=”#BEF781″]

 لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ

No vision can grasp Him, but His Grasp is over all vision. He is the Most Subtle and Courteous, Well-Acquainted with all things.

[/note]

Prophets cannot see Allah

Moses insisted on seeing Allah when he was at Mount Tur. Allah informed us in surah Al-Araf, verse 143:

[note color=”#BEF781″]

وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ

And when Musa (Moses) came at the time and place appointed by Us, and his Lord spoke to him, he said: “O my Lord! Show me (Yourself), that I may look upon You.” Allah said: “You cannot see Me, but look upon the mountain if it stands still in its place then you shall see Me.” So when his Lord appeared to the mountain , He made it collapse to dust, and Musa (Moses) fell down unconscious. Then when he recovered his senses he said: “Glory be to You, I turn to You in repentance and I am the first of the believers.”

[/note]

Therefore Musa was unable to see Allah Almighty.  As the condition of vision was not fulfilled. The mountain becomes dust when Allah did his Tajali on it and Musa fainted before that when he saw the mountain turning into dust.

It is reported in Bukhari that Mother of Believers Aisha, may Allah be pleased with her totally denied the concept that Prophet saw Allah.

[note color=”#CEECF5″]

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ – رضى الله عنها – قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا – صلى الله عليه وسلم – رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ وَهْوَ يَقُولُ ( لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ ) وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ ، وَهْوَ يَقُولُ لاَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلاَّ اللَّهُ

 Narrated Masrooq from Aisha may Allah be pleased with her  that she said who said that Muhammad peace be upon him saw his Lord, has lied. And she said Eyes cannot reach Him and who said that he knew Ilm-ul-Ghyab has also lied and she said No one knows Ghayb except Allah

 حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ – رضى الله عنها – يَا أُمَّتَاهْ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ – صلى الله عليه وسلم – رَبَّهُ فَقَالَتْ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِى مِمَّا قُلْتَ ، أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلاَثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ ، مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا – صلى الله عليه وسلم – رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ . ثُمَّ قَرَأَتْ ( لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ) . ( وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ) وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِى غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ ( وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ) وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ ( يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ) الآيَةَ ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ – عَلَيْهِ السَّلاَمُ – فِى صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ

Masrooq narrated that she said to Aisha may Allah be pleased with her, O Mother:  Has Muhammad peace be upon him, saw his Lord? She said: indeed my hairs are raised on what you said!  One who utters these three things to you is a liar- one who say to you that Muhammad peace be upon him saw his Lord, that one has lied. Then she recited Vision can not grasp Him, but His Grasp is over all vision,  and a Human is not that  worthy that Allah talk to him except through revelation or behind the veil- and one who said to you that he (Prophet) knew what would happen tomorrow that (person) has lied then she recited and No Nafs knows what it would do tomorrow and one who said to you that he (Prophet) hid (something from Truth) that one has lied  then she recited O Prophet  give to others what has been sent down to you from your Lord, He (Prophet) saw (angel) Gabriel may Allah’s blessings be  on him- in his form twice.

[/note]

 

It is reported that

Hadith of Ibn-Abbas:

It is reported in Tirmidhi hadith that:

[note color=”#CEECF5″]

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلاَجِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَتَانِى رَبِّى فِى أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّى وَسَعْدَيْكَ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَى قُلْتُ رَبِّى لاَ أَدْرِى فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَىَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَىَّ فَعَلِمْتُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قَالَ يَا مُحَمَّدُ. فَقُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَى قُلْتُ فِى الدَّرَجَاتِ وَالْكَفَّارَاتِ وَفِى نَقْلِ الأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فِى الْمَكْرُوهَاتِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ وَمَنْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ». قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. قَالَ وَفِى الْبَابِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم

Narrated Ibn Abbas that Messeneger of Allah peace be upon him said: Allah came to me in a beautiful form and said to me O Muhammad, I said  At Thy service, my Lord. He said: What these highest angels contend about? I said: I do not know. He repeated it thrice. He said: Then I saw Him put his palms between my shoulder blades till I felt the coldness of his fingers between the two sides of my chest….. (Tirmidhi said) this hadith is Hasan Gharib with this chain. (Also) Said: there is another narration in this context narrated by Muadh bin Jabal and Abdurrehaman bin Ayyish from Messenger of Allah peace be upon him.


[/note]

Also narrated in Musnad Ahmed with chain:

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن أبي قلابة عن بن عباس ان النبي صلى الله عليه و سلم قال : أتاني ربي عز و جل الليلة في أحسن صورة أحسبه يعني في النوم

 

Ibn Abi Hatim wrote in his book Illal ul hadith (علل الحديث)

 وسألتُ أبِي عَن حدِيثٍ ؛ رواهُ معاذ بن هِشامٍ ، عن أبِيهِ ، عن قتادة ، عن أبِي قِلابة ، عن خالِدِ بنِ اللجلاج ، عنِ ابنِ عبّاس ، عنِ النّبِيِّ صلى الله عليه وسلم : رأيتُ ربِّي عزّ وجلّ وذكر الحدِيث فِي إسباغ الوضوء ونحوه.

قال أبِي : هذا رواهُ الولِيدُ بن مُسلِم وصدقة ، عنِ ابنِ جابِر ، قال : كُنّا مع مكحولٍ فمرّ بِهِ خالِد بن اللجلاج ، فقال مكحول : يا أبا إِبراهِيم ، حدّثنا ، فقال حدّثنِي ابن عائش الحضرمي ، عنِ النّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.

قال أبِي : وهذا أشبهُ ، وقتادة يُقال : لم يسمع من أبِي قِلابة إِلاَّ أحرفًا ، فإنه وقع إِليهِ كتابٌ من كتبِ أبِي قِلابة ، فلم يميزوا بين عَبد الرّحمنِ بن عايش ، وبين ابن عبّاس.

قال أبِي : وروى هذا الحديث جهضمُ بن عَبدِ اللهِ اليمامي ، وموسى بن خلف العمي ، عن يحيى بنِ أبِي كثِيرٍ ، عن زيدِ بنِ سلام ، عن جدِّهِ : ممطور ، عن أبِي عَبدِ الرّحمنِ السكسكي ، عن مالِكِ بنِ يخامر ، عن معاذ بن جبل ، عنِ النّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.

قال أبِي : وهذا أشبهُ من حدِيث ابن جابِر

And I asked my father about the hadith: narrated by Muad bin Hashsham from his father from Qattadah from Abi Qallabah from Khalid bin Al-Lajjaj from Ibn Abbas from Messenger of Allah peace be upon him: I saw my Lord  and talked about the hadith on the Ablution and simililar.

My father said: This is narrated by Al-Waleed bin Muslim and Saddaqah from Ibn Jabir said: We are with Makhool and Khalid bin Al-Lajjaj passed by us, So Makhool said: O Abu-Ibrahim (Khalid bin Al-Lajjaj) narrate to us, so he (Khalid) narrated that  Ibn-Ayish Al-Hadrami  from Messenger of Allah peace be upon him.

May father said: and I liked  and  Qattadah  said:  (Khalid) has not heard a single word from Abi Qallabah, he got a book from books of Abi Qallbah and has not differentiated between Abdurrehman bin Ayish and Ibn-Abbas.

And my father said. And narrated this hadith  Jahdhum bin Abdullah Al-Yamami and Musa bin Khalf Al-Ammi from Yahyah bin Abi Katheer from Zayd bin Salam from his grandfather Mamtoor from Abi Abdurrehman Al-Saksaki from Malik bin Yukhamar from Muadh bin Jabal from Messenger of Allah. My father said  liked this one than hadith of Jabir

 

Thus Imam Ibn Abi Hatim rejected the narration of Tirmidhi narrated by Khalid bin Al-Lajjaj. He preferred hadith of Muadh.

 

Hadith of Abdurrehamn bin Aayish

Narrations from AbdurRehman bin Ayish from Prophet are not correct.

وقال أبو حاتم الرازي هو تابعي وأخطأ من قال له صحبة وقال أبو زرعة الرازي ليس بمعروف

And Abu Hatim Al-Razi said: He is Tabeyee and it’s a mistake to call him companion of Prophet and Abu Zarra Al-Razi d´said he is not well known

 

Both Ibn Abbas’s and Aburrehman bin Aayish’s narrations are weak.

 

Hadith of Muad bin Jabal

The narration from Muadh is reported in Musnad Ahmed as:

[note color=”#CEECF5″]

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا أبو سعيد مولى بنى هاشم ثنا جهضم يعنى اليمامي ثنا يحيى يعنى بن أبي كثير ثنا زيد يعنى بن أبي سلام عن أبي سلام وهو زيد بن سلام بن أبي سلام نسبه إلى جده أنه حدثه عبد الرحمن بن عياش الحضرمي عن مالك بن يخامر أن معاذ بن جبل قال : احتبس علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات غداة عن صلاة الصبح حتى كدنا نتراءى قرن الشمس فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم سريعا فثوب بالصلاة وصلى وتجوز في صلاته فلما سلم قال كما أنتم على مصافكم ثم أقبل إلينا فقال انى سأحدثكم ما حبسني عنكم الغداة انى قمت من الليل فصليت ما قدر لي فنعست في صلاتي حتى استيقظت فإذا انا بربى عز و جل في أحسن صورة فقال يا محمد أتدري فيم يختصم الملأ الأعلى قلت لا أدري يا رب قال يا محمد فيم يختصم الملأ الأعلى قلت لا أدري رب فرأيته وضع كفه بين كتفي حتى وجدت برد أنامله بين صدري فتجلى لي كل شيء وعرفت فقال يا محمد فيم يختصم الملا الأعلى قلت في الكفارات قال وما الكفارات قلت نقل الاقدام إلى الجمعات وجلوس في المساجد بعد الصلاة وإسباغ الوضوء عند الكريهات قال وما الدرجات قلت إطعام الطعام ولين الكلام والصلاة والناس نيام قال سل قلت اللهم انى أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وأن تغفر لي وترحمني وإذا أردت فتنة في قوم فتوفني غير مفتون وأسألك حبك وحب من يحبك وحب عمل يقربنى إلى حبك وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم انها حق فادرسوها وتعلموها

Narrated Mu’adh ibn Jabal: Allah’s Messenger (peace be upon him) was detained one morning from observing the dawn prayer (in congregation) along with us till the sun had almost appeared on the horizon. He then came out hurriedly and Iqamah for prayer was observed and he conducted it (prayer) in brief form. When he had concluded the prayer by saying As-salamu alaykum wa Rahmatullah, he called out to us saying: Remain in your places as you were. Then turning to us he said: I am going to tell you what detained me from you (on account of which I could not join you in the prayer) in the morning. I got up in the night and performed ablution and observed the prayer as had been ordained for me. I dozed in my prayer till I was overcome by (sleep) and lo and lo, I found myself in the presence of my Lord, the Blessed and the Glorious, in the best form. He said: Muhammad! I said: At Thy service, my Lord. He said: What these highest angels contend about? I said: I do not know. He repeated it thrice. He said: Then I saw Him put his palms between my shoulder blades till I felt the coldness of his fingers between the two sides of my chest. Then everything was illuminated for me and I recognized everything. He said: Muhammad! I said: At Thy service, my Lord. He said: What do these high angels contend about? I said: In regard to expiations. He said: What are these? I said: Going on foot to join congregational prayers, sitting in the mosques after the prayers, performing ablution well despite difficulties. He again said: Then what do they contend? I said: In regard to the ranks. He said: What are these? I said: Providing of food, speaking gently, observing the prayer when the people are asleep. He again said to me: Beg (Your Lord) and say: O Allah, I beg of Thee (power) to do good deeds, and abandon abominable deeds, to love the poor, that Thou forgive me and show mercy to me and when Thou intendst to put people to trial Thou causes me to die unblemished and I beg of Thee Thy love and the love of one who loves Thee and the love for the deed which brings me near to Thy love. Allah’s Messenger (peace be upon him) said: It is a truth, so learn it and teach it [Sunnan Tirimdhi Volume 5 Hadis No 3235 and Ahmed as well]

 [/note]

 

Imam Darqutini wrote about hadith of Muadh in his work Illal ul hadith. علل الدارقطني- juz 6,pg54:

وسئل عن حديث مالك بن يخامر عن معاذ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال رأيت ربي في أحسن صورة فقال لي يا محمد فيم يختصم الملا الاعلى الحديث بطوله فقال ……… قال ليس فيها صحيح وكلها مضطربة

And I asked (Imam Darqutini) about the hadith of  Malik bin Yukhamir from Muadh from Messenger of Allah peace be upon him that I saw my Lord … long narration, said   [after a lengthy discussion of different chains of this narration including Muad bin Jabal narration, Daqutini said ]  none of them is Sahih and all are Mudhtarib !

 

 

Thus the narration of seeing Allah in dream is not authentic. All chains are unclear and Mudhtarib.