ہم ال داود کے حکم پر حکم کرتے ہیں

ابن سبا نے اس امت میں عقیدہ رجعت کو پھیلایا (جس کو فرقوں نے عود روح کے نام پر قبول کیا ہوا ہے ) ساتھ ہی ابن سبا نے اس عقیدہ کا بھی پرچار کیا کہ قرآن  کہتا ہے تمام انبیاء پر ایمان لانا ہے تو پھر ہم کیوں بنی اسرائیلی انبیاء کو نہ مانیں اور ان کی کتب کو قرآن پر ترجیج دیں  مثلا داود علیہ السلام کی نسل میں جو  انبیاء آئے

سورہ الحدید میں ہے

وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ ۖ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ 

اور وہ جو الله پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں پر وہ سچے ہیں 

ابن سبا کے نزدیک صرف زبان کا اقرار نہیں بلکہ  ایمان کامل نہ ہو گا جب تک ان  سابقہ انبیاء کے حکم پر عمل نہ کیا جائے – ابن سبا کے نزدیک قرآن کی بہت سی آیات دو مخالف الوحی کی موجودگی میں نہیں چلے گی مثلا قرآن میں ہے کہ حدود میں گواہ لاو – لیکن ابن سبا کے نزدیک یہ حکم داود علیہ السلام نے نہیں کیا ہے لہذا یہ گواہ طلب کرنا غیر ضروری ہوا – افسوس اس قسم کی سوچ کے چند اقوال اہل تشیع کی کتب میں در کر آئے ہیں

اہل تشیع کی کتاب كلمات الإمام الحسين (ع) الشيخ الشريفي ، مختصر بصائر الدرجات- الحسن بن سليمان الحليي میں ہے
حدثنا إبراهيم بن هاشم، عن محمد بن خالد البرقي، عن ابن سنان أو غيره، عن بشير، عن حمران، عن جعيد الهمداني ممن خرج مع الحسين عليه السلام بكربلا، قال: فقلت للحسين عليه السلام جعلت فداك بأي شئ تحكمون. قال [عليه السلام]: يا جعيد نحكم بحكم آل داود، فإذا عيينا عن شئ تلقانا به روح القدس

جعيد الهمداني جو امام حسین علیہ السلام کے خروج کربلا میں  ساتھ نکلے تھے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام حسین سے پوچھا کہ آپ کس بات کا حکم کرتے ہیں ؟ حسین نے فرمایا ہم ائمہ ال داود کے حکم پر حکم کرتے ہیں- جب ہم کسی چیز کو تلاش کرتے ہیں تو ہم پر روح القدس سے القا کیا جاتا ہے

معلوم ہوا کہ سبائیوں کے  نزدیک حسین رضی اللہ عنہ  قرآن کی سر بلندی کے لئے نہیں بلکہ شریعت داودی کی سر بلندی کے لئے خروج کر رہے تھے – جعيد الهمداني کا تذکرہ  اہل سنت کی کتب میں موجود نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے یہ کوئی مجہول تھا

اہل تشیع کی کتاب الخرائج والجرائح از قطب الدين الراوندي میں امام ابو عبد اللہ کے کشف یا خواب کا ذکر ہے

وعن محمد بن عيسى بن عبيد ، عن صفوان
بن يحيى ، عن أبي علي الخراساني ، عن أبان بن تغلب ، عن أبي عبدالله عليه السلام
قال : كأني بطائر أبيض فوق الحجر ، فيخرج من تحته رجل يحكم بين الناس بحكم آل
داود وسليمان ، ولايبتغي بينة
أبان بن تغلب نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں میں ایک سفید پرندہ پر ہوں چٹان پر اور میرے قدم سے نکلا جو لوگوں پر حکم کرے گا ال داود و سلیمان کی طرح اور شہادت طلب نہیں کرے گا

شیعوں کی معجم أحاديث المهدي میں ہے

سيأتي من مسجدكم هذا يعني مكة ثلثمائة وثلث ( ثلاثة ) عشر رجلا ،
يعلم أهل مكة أنه لم يلدهم آبائهم ولا أجدادهم ، عليهم السيوف مكتوب
على كل سيف كلمة تفتح ألف كلمة ، تبعث الريح فتنادي بكل واد : هذا
المهدي هذا المهدي ، يقضي بقضاء آل داود ولا يسأل عليه بينة

مسجد الحرام پر ٣٣٠ مرد آئیں گے جن کو اہل مکہ جانتے ہوں گے کہ یہ ان کے باپوں و دادا کی اولاد نہیں ان پر تلواریں ہوں گی جن پر ایک کلمہ لکھا ہو گا – اس کلمہ سے ہزار کلمے اور کھلیں گے ایک ہوا آئی گی جس سے وادی گونجے گی کہ یہ المہدی ہے یہ المہدی ہے یہ ال داود کے مطابق فیصلہ کرے گا اور گواہی طلب نہیں کرے گا

محمد بن يحيى ، عن أحمد بن محمد ، عن محمد بن سنان ،
عن أبان قال : سمعت أبا عبدالله عليه السلام يقول : – كما في رواية بصائر الدرجات الاولى .
الارشاد : ص 365 – 366 – مرسلا ، عن عبدالله بن عجلان ، عنه عليه السلام ، إذا قام قائم
آل محمد صلي الله عليه وآله حكم بين الناس بحكم داود عليه السلام لا يحتاج إلى بينة ،
يلهمه الله تعالى فيحكم بعلمه ، ويخبر كل قوم بما استبطنوه ، ويعرف وليه من عدوه
بالتوسم ، قال الله سبحانه : إن في ذلك لآيات للمتوسمين وإنها لبسبيل مقيم ” .

جب ال محمد قائم ہوں گے وہ لوگوں کے درمیان داود کے حکم پر حکم کریں گے ان کو شہادت کی ضرورت نہ ہو گی

مدعا یہ ہے کہ امام المہدی شریعت محمدی کے تحت فیصلہ کرنے کے پابند نہ ہوں گے بلکہ چونکہ قرآن میں تمام انبیاء کو ماننے کا ذکر ہے تو وہ اس میں شریعت داود پر عمل کریں گے

ابن سبا کا یہ تصور اصل میں داودی نسل سے مسیح کا تصور ہے جس کے یہودی منتظر تھے اور ان کے نزدیک اصلی مسیح کا ظہور نہیں ہوا ہے –

صحیح عقیدہ یہ ہے کہ ہم صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و شریعت کی اتباع کریں گے -سابقہ انبیاء کی شریعتون کو ہم مانتے ہیں کہ من جانب الله تھیں لیکن وقتی و محدود علاقوں کے لئے تھیں – شریعت محمدی تمام عالم کے لئے ہے

ڈاکٹر عثمانی رحمہ اللہ علیہ نے شریعت محمدی تمام عالم کے لئے ہے کے موضوع پر  لکھا ہے سابقہ  انبیاء پر ایمان کا مطلب ان کی شریعتوں پر بلا دلیل سنت محمد (ص) عمل نہیں ہے

راقم  کہتا ہے عثمانی صاحب نے اس کا انکار نہیں کیا ہے کہ تمام انبیاء پر ایمان لایا جائے بلکہ مراد انکار اس  سنت انبیاء  کا ہے جس کی تائید سنت محمد میں نہ ہو – جہاں تک انبیاء سابقہ کی کتب کا تعلق ہے تو ان میں تین میں تحریف ہوئی یعنی  توریت زبور اور انجیل  میں ان  کتب میں زبور داود علیہ السلام کی کتاب ہے اور اس کو اہل کتاب نے اشعار کی کتاب بنا دیا ہے  جس میں جا بجا اصف بن برخیاہ نامی شخص کے اضافہ بھی ہیں – اصف ایک   شخص تھا جس کوحشر اول سے قبل  اشوریوں نے غلام بنایا  لیکن شیعہ کہتے ہیں وہ علی رضی اللہ عنہ تھے اس دور میں اصف کے جسم سے جانے  جاتے تھے

 

اصف بن بر خیا کا راز

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

17 − 17 =