کیا ایمان میں کمی و زیادتی ہوتی ہے؟

64 Downloads

ایمان میں کمی و زیادتی کا قول

گناہ کبیرہ کرنے والا فاسق ہے یا کافر ہے ؟ اس سوال پر محدثین و فقہاء کا اختلاف چلا آ رہا ہے – راقم کے نزدیک گناہ کا تعلق ایمان سے نہیں ہے – یہ بحث بہت اہم ہے کیونکہ القاعدہ و داعش لٹریچر میں بعض محدثین کے اقوال سے دلیل لی جاتی ہے

اس  کتاب میں مزید مباحث  ہیں مثلا  تارک نماز کی تکفیر اور  منگول مسلمانوں  کی تکفیر   غلط کی گئی   تھی

 

یہ سوال اس امت میں سن ١٥٠ ہجری کے  بعد پیدا ہوا –  يه بحث اس طرح شروع ہوتی ہے کہ خوارج کے نزدیک بعض صحابہ گناہ کبیرہ کے مرتکب تھے لہذا ان میں ایمان ختم تھا  – اس پر امام ابو حنیفہ کی رائے لوگوں سے منقول ہے کہ ایمان زبان سے اقرار کا نام ہے  گناہ سے ایمان کم نہیں ہوتا – الإرجاء کا مذھب اسی سے نکلتا ہے کہ صحابہ میں ایمان کم نہیں ہوا وہ جہنمی نہیں ہیں بلکہ گناہ کبیرہ والے بھی ایمان والے ہی ہیں ایمان زیادہ تو ہو سکتا ہے کم نہیں ہوتا – اس پر بھی بہت سی احادیث ہیں مثلا ایک فاحشہ جو مومن تھی کتے کو پانی پلاتی ہے جنت میں جاتی ہے – ایک سو لوگوں کا قاتل جنت میں جاتا ہے وغیرہ وغیرہ

سوره توبه میں ہے
{فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا} [التوبة: 124]  پس ان کے ایمان میں اضافہ ہوا
فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا – پس جو ایمان لائے ان کے ایمان میں اضافہ ہوا
وزدناهم هدى  [١٨:١٣]  اور انکی ہدایت میں اضافہ ہوا
بعض فرقوں نے ایمان میں کمی و زیادتی کا نظریہ ان ہی آیات سے استنباط کر کے نکالا اور بعض احادیث سے اس پر دلیل لی
راقم کے نزدیک ایمان پڑھنے سے مراد قلبی اطمننان ہے یا ہدایت ہے جیسے لوگ ایمان لے اتے ہیں لیکن ہدایت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اسی طرح قرآن میں ہدایت بڑھنے اور ایمان و اطمننان بڑھنے کو ساتھ بیان کیا گیا ہے –  ابراہیم علیہ السلام الله پر ایمان لائے لیکن قلبی اطمننان میں اضافہ کے لئے الله سے سوال کیا کہ میت کو زندہ کیسے کرے گا

قرآن میں ہے  وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [محمد: 17] انکی  ہدایت  میں اضافہ ہوا

اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کے دور میں اس بحث کا ذکر نہیں ملتا نہ ہی ایمان میں کمی پر کوئی صریح حدیث ہے – خوارج کی رائے تھی کہ  ایمان میں عمل داخل ہے لہذا جو گناہ کبیرہ کرتے ہیں وہ جہنمی ہیں – خوارج کا فرقہ الأزارقة  تكفير أصحاب الذنوب تمام گناہ والوں کی تکفیر کا قائل تھا   –  الصفرية  فرقہ کفریہ اعمال والوں کے قتل کا قائل تھا –   خوارج  کے فرقے اباضیہ میں بعض کی رائے میں ایمان کم اور زیادہ ہو جاتا ہے  اور بعض اباضیہ  کے نزدیک گناہ کبیرہ والے فاسق ہیں جو کافر ہیں – خوارج کے نزدیک علی اور عثمان رضی الله عنہ گناہ کبیرہ کی وجہ سے ہی واجب القتل بنتے ہیں –

سن ١٥٠ ہجری کے بعد معتزلہ نے منزل بین المنزلتیں کی بحث چھیڑی کہ گناہ کبیرہ والے نہ ایمان والے ہیں نہ کفر والے  وہ بیچ میں ہیں– اس سے اس پر بحث کا باب کھل گیا

مُعَاذٌ بن جبل رضی الله عنہ  کی وفات عثمان رضی الله عنہ سے بھی پہلے ہوئی لیکن ان سے بھی اس مسئلہ پر بحث منسوب کر دی گئی ہے  کتاب السنة از أبو بكر  الخَلَّال البغدادي الحنبلي (المتوفى: 311هـ) کی روایت ہے

وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمِسْعَرٍ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ مُعَاذٌ:  اجْلِسُوا بِنَا نُؤْمِنْ سَاعَةً

مُعَاذٌ بن جبل رضی الله عنہ نے الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ سے کہا ہمارے پاس بیٹھو تاکہ ہم کچھ ساعت ایمان لے آئیں

بیہقی کی شعب ایمان میں اس روایت میں اضافہ ہے کہ  قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِأَصْحَابِهِ – مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ نے اپنے اصحاب سے کہا – اس   میں صحابی ایک تابعی سے کہہ رہے ہیں گویا تابعی ، صحابی سے بڑھ کر ہے – سندا اس میں مِسْعَر بن کدام ہیں جو خود مرجیہ ہیں

 شعب ایمان البیہقی میں اس طرح کا قول عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ سے منسوب کیا گیا ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، حدثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ قَالَ: ” اجْلِسُوا بِنَا نَزْدَدْ إِيمَانًا

ابن مسعود رضی الله عنہ نے علقمہ سے کہا ہمارے ساتھ بیٹھو تاکہ ایمان میں اضافہ ہو

اس کی سند مظبوط نہیں سند میں  شباك الضبي ہے  جو مدلس ہے عن سے روایت کرتا ہے

 مصنف ابن ابی شیبہ میں عمر رضی الله عنہ کا قول ہے

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ مِمَّا يَأْخُذُ بِيَدِ الرَّجُلِ وَالرَّجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَيَقُولُ: «قُمْ بِنَا نَزْدَدْ إِيمَانًا»

 عمر بن الخطاب رضی الله عنہ  نے اپنے اصحاب سے کہا آ جاؤ ہم ایمان بڑھائیں پس الله عز و جل کا ذکر کریں

سند میں زُبَيْدُ بنُ الحَارِثِ اليَامِيُّ الكُوْفِيُّ ہیں جو زر بن حبیش سے روایت کر رہے ہیں  اس کی سند حسن ہے

بعض محدثین ایمان میں کمی ہے قائل نہیں ہیں اور بعض ہیں جو ایمان میں کمی و زیادتی کے قائل ہیں – ان گروہوں میں اس پر مختلف ارا ہیں جن میں بعض متشدد ہیں

پہلا گروہ کہتا ہے  : ایمان  نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا  ہے

اول ایمان بنیادی ایمانیات کے قبول کا نام ہے جیسے
الله واحد احد ہے
محمد بن عبد الله رسول الله – صلی الله علیہ وسلم –  ہیں
فرشتے، جنات، جنت، جہنم موجود ہیں
قرآن، توریت، زبو،ر انجیل کتب سماوی ہیں

اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں اتی جب تک آدمی ان کا انکار نہ کرے لہذا ایمان تصديق ہے
اگر وہ انکار کرے تو مسلمان ہی نہیں رہے گا لہذا ایمان نہ گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے کیونکہ یہ قلبی کیفیت ہے

امام ابو حنیفہ کے لئے  اس  رائے کو بیان کیا جاتا ہے (العقيدة الطحاوية) – امت میں امام ابو حنیفہ نے فقہ پر بہت محنت کی ہے لہذا اس رائے کو جہمیہ سے منسوب کرنا اور کہنا کہ امام ابو حنیفہ عمل کے خلاف تھے ، مسلکی تعصب ہے – تفسیر فتح الرحمن في تفسير القرآن از  مجير الدين بن محمد العليمي المقدسي الحنبلي (المتوفى: 927 هـ) کے مطابق

فقال أبو حنيفة: لا يزيد ولا ينقص، ولا استثناء فيه

ابو حنیفہ کہتے ہیں ایمان نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے اور اس میں کوئی نہیں الاستثناء ہے

كتاب أصول الدين از  جمال الدين أحمد بن محمد بن سعيد الغزنوي الحنفي (المتوفى: 593هـ) کے مطابق

الْإِيمَان لَا يزِيد وَلَا ينقص بانضمام الطَّاعَات إِلَيْهِ وَلَا ينتقص بارتكاب الْمعاصِي لِأَن الْإِيمَان عبارَة عَن التَّصْدِيق وَالْإِقْرَار

 ایمان نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا ہے طَّاعَات کو اس سے ملانے سے نہ کم ہوتا ہے گناہ کا ارتکاب کرنے سے کیونکہ ایمان عبارت ہے تصدیق و اقرار سے

اس رائے کہ تحت ایمان میں کوئی استثنا نہیں ہے یا تو شخص کافر ہے یا مومن – یعنی امام ابو حنیفہ کے نزدیک یا تو شخص مومن ہے یا کافر ہے بیچ میں کوئی چیز نہیں جیسا کہ المعتزلہ کا دعوی تھا  – الْأَشَاعِرَةِ کے علماء مثلا أبو المعالي الجويني  المتوفی ٤٧٨ ھ  جن کو امام الحرمین  کہا جاتا ہے ان کی رائے میں بھی ایمان نہ کم ہوتا ہے نہ بڑھتا ہے  یہی علامة الآلوسي کہتے ہیں – بعض متعصب اہل سنت نے  ان علماء کے موقف کو  خوارج کا موقف قرار دے دیا ہے مثلا السفاريني   الحنبلي نے العقيدة میں یہ دعوی کیا ہے  جو کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے بلکہ خوارج تو  گناہ کبیرہ والے کو کافر کہتے ہیں

دوسرا گروہ کہتا ہے  : ایمان میں اضافہ اور کمی ہوتی ہے   

محدثین کا ایک دوسرا  گروہ کہتا ہے  ایمان میں اضافہ ہوتا ہے گناہ کرتے وقت ایمان کم ہوتا ہے مثلا امام احمد،   ابن حبان وغیرہ-  محدثین کا یہ گروہ کہتا  ہے الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ، يَزِيدُ وَيَنْقُصُ –  ایمان میں  قول اور عمل بھی شامل ہے  جو زیادہ وکم ہوتا ہے – ان محدثین کے بقول اگر کوئی عمل نہ کرے تو اس میں ایمان کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ معدوم ہو جاتا ہے –    امام احمد اور ان کے ہمنوا ایمان میں گھٹنے کے قائل تھے جو قرآن سے ثابت نہیں ہے  بلکہ صرف بعض روایات سے ان کو استنباط کیا گیا ہے –

اس موقف پر صحیح مسلم سے روایت پیش کی جاتی ہے

 مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
اگر کوئی برائی دیکھے تو اس کو ہاتھ سے روکے نہیں تو زبان سے نہیں تو دل میں برآ ہی سمجھے اور یہ ایمان میں سب سے کمزور ہے

یہ روایت امر و بالمعروف کے لئے مشھور ہے لیکن اس میں واضح نہیں ہے اگر کوئی برائی کو دیکھے اور خلیفہ اس کو نہ سنے تو وہ کیا کرے ؟ صبر کرے یا پھر خلیفہ کا ہی قتل کرے   جیسا خوارج نے کیا-  راقم کے نزدیک یہ روایت حاکم سے متعلق ہے عام افراد کے لئے نہیں ہے- بطور عام آدمی ہم تعاون فی البر کریں گے،  نیکی کا حکم کریں گے،  برائی سے منع کریں گے لیکن اس کو بطور فرد روک نہیں سکتےمثلا آج ہر گلی نکڑ پر شرک ہورہا ہے جو سب سے بری چیز ہے لیکن اس کو بزور بازو حاکم ہی روک سکتا ہے عام آدمی نہیں

ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے کہ خیبر والے دن ایک شخص جان باری سے لڑ رہا تھا لوگوں نے اس کے مرنے پر کہا یہ جنتی ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اس پر غنیمت میں چادر چوری کرنے کی وجہ سے اگ چھائی ہوئی ہے
ابن حبان اس پر کہتے ہیں
فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْإِيمَانَ يَزِيدُ بِالطَّاعَةَ وَيَنْقُصُ بِالْمَعْصِيَةِ
اس خبر میں دلیل ہے کہ ایمان اطاعت سے بڑھتا اور گناہ سے کم ہوتا جاتا ہے

لیکن اس پر بھی بحث ہے کہ کیا یہ شخص واقعی ایمان والا تھا یا یہ غنیمت کے لالچ میں دکھاوے کے لئے لڑ رہا تھا کیونکہ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منادی کرائی  کہ جنت میں صرف مومن جائے گآ

لیکن اسی گروہ میں ایک متشدد رائے بھی ہے – ان میں سے بعض محدثین کہتے تھے کہ گناہ کرتے کرتے ایمان نام کی چیز ہی نہیں رہتی – اس بحث کا آغاز ایک روایت سے ہوتا ہے

 ابو ہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہمآ کی روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ الخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ
زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں نہ شرابی شراب پیتے وقت اور نہ چور چوری کرتے وقت
اس روایت میں اضافہ ہے وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ اس کے توبہ ظاہر کرنی ہو گی
سنن نسائی میں اس میں اضافہ ہے فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ کہ ایسا شخص کے گلے سے اسلام کا حلقہ نکل جاتا ہے البتہ البانی نے اس کو منکر کہا ہے
مصنف عبد الرزاق میں ہے قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ زَالَ مِنْهُ الْإِيمَانُ قَالَ: يَقُولُ: الْإِيمَانُ كَالظِّلِّ
معمر نے کہا کہ ابن طاوس نے کہا ان کے باپ نے کہا کہ اگر وہ یہ افعال کرے تو ایمان زائل ہو جاتا ہے اور کہا وہ کہتے ایمان سائے کی طرح ہے

الشریعہ لاآجری کے مطابق  امام سفیان ابن عیینہ سے پوچھا گیا  الإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ؟ قَالَ ” أَلَيْسَ تَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ؟ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ ، قِيلَ : يَنْقُصُ ؟ قَالَ : لَيْسَ شَيْءٌ يَزِيدُ إِلا وَهُوَ يَنْقُصُ
کیا ایمان میں کمی اور بیشی ہوتی ہے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟   فَزادَهُم إيمـنًا  اس نے ان کے ایمان میں اِضافہ کردیا  پھر ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایمان کم بھی ہوتا ہے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ جس چیز میں زیادتی واقع ہوتی ہے، اس میں کمی بھی واقع ہوتی ہے

لیکن یہ آخری قول  جس چیز میں زیادتی واقع ہوتی ہے، اس میں کمی بھی واقع ہوتی ہے  خالصتا قیاس ہے جس کے خلاف خود قرآن ہے کہ اس میں کمی کا ذکر ہی نہیں ہے

غیر مقلد محب الله شاہ راشدی فتوی میں یہی بات کہتے ہیں ملاحظه ہو

Rasidia-234

یعنی  خالص قیاس کیا گیا  جبکہ نص صرف بڑھنے پر ہے – قرآن میں ایمان کو قول طیب کہا گیا ہے اس کو ایک درخت کہا گیا اور حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم میں اس کی مثال کھجور کے درخت سے دی گئی جس میں یہ خوبی ہے کہ صرف بڑھتا ہی ہے اس کا سائز چھوٹا نہیں ہوتا تو پھر ایمان کم کیسے ہو سکتا ہے قرآن کی مثال بھی سچی   ہوتی ہے – لہذا یہ قیاس باطل ہے

البیہقی شعب الایمان میں اس روایت پر  لکھتے ہیں
وَإِنَّمَا أَرَادَ – وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ – وَهُوَ مُؤْمِنٌ مُطْلَقُ الْإِيمَانِ لَكِنَّهُ نَاقِصُ الْإِيمَانِ بِمَا ارْتَكَبَ مِنَ الْكَبِيرَةِ وَتَرَكَ الِانْزِجَارَ عَنْهَا، وَلَا يُوجِبُ ذَلِكَ تَكْفِيرًا بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ
اور والله أَعْلَمُ ان کا ارادہ ہے کہ اس مومن میں مطلق ایمان تو ہے لیکن ایمان میں نقص ہے اس گنآہ کے ارتکاب سے اور اس پر جو ڈراوا ہے اس کو ترک کرنے سے اور اس پر الله عزوجل کی تکفیر واجب نہیں ہوتی

یہ محدثین ہی کے اسی گروہ کا اپس میں اختلاف ہے-

بعض محدثین مثلا إِسْحَاقَ بْنَ رَاهَوَيْهِ نے اس میں متشدد رویہ اختیار کیا اور کہنا شروع کیا يَنْقُصُ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْهُ شَيْءٌ کہ ایمان گھٹتا جاتا ہے حتی کہ اس میں کوئی چیز نہیں رہتی- کتاب السنة از ابو بکر الخلال کے مطابق امام ابن مبارک اور إِسْحَاقَ بْنَ رَاهَوَيْهِ  کا قول تھا ایمان معدوم  ہو جاتا ہے – معجم ابن الأعرابي  اور الإبانة الكبرى لابن بطة  اور شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة از ابو قاسم اللالكائي     کے مطابق   یہی موقف سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ کا تھا – یہ موقف نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث سے-

راقم اس کے خلاف ہے اگر ایسا ہو  تو گناہ کبیرہ والوں پر صرف ارتاد کی حد لگے گی  اور اس سے  خوارج کا موقف صحیح ثابت ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض سلفی جہادی تنظیموں نے زمانہ حال میں اس موقف کو پسند کیا ہے اور ان میں اور خوارج میں کوئی تفریق ممکن نہیں رہی ہے

 أبو الحسن علي بن محمد بن علي بن محمد بن الحسن البسيوي الأزدي ایک خارجی عالم  تھے کتاب جامع أبي الحسن البسيوي ، وزارة التراث القومي والثقافة، تحقيق سليمان بابزيز میں  کہتے ہیں

فقد بيَّنا ما قلنا من آيات القرآن ما يَدُلّ عَلَى ما روينا أنَّ الفاسق كافر، وأن ما قالت المعتزلة: “إن الفاسق لا مؤمن ولا كافر”، وما قالت الحشوية والمرجئة هو من الخطإ، والحقُّ ما أيَّده القرآن، وهو الدليل والبرهان.

پس  ہم نے واضح  کیا  جو ہم نے  قرانی آیات کہا کہ یہ  دلالت کرتی ہیں   اس پر جو ہم نے روایت کیا کہ فاسق کافر ہے اور وہ نہیں جو المعتزلة نے کہا کہ فاسق نہ مومن ہے نہ کافر اور نہ وہ جو الحشوية اور المرجئة نے کہا کہ وہ خطا کار ہے اور حق کی تائید قرآن سے ہے جو دلیل و برہان ہے

الخلال کے مطابق   امام إِسْحَاقَ بْنَ رَاهَوَيْهِ کہتے گناہ کبیرہ والے میں ایمان نام کی چیز ہی نہیں رہتی  اور البیہقی کے بقول اس کے ایمان میں نقص ہے یا کمی ہے  – خوارج کی رائے میں بھی گناہ کبیرہ والوں میں ایمان معدوم ہو جاتا ہے

بلکہ مسند اسحاق بن راھویہ میں اس کا الٹا قول ہے

 وَقَالَ شَيْبَانُ لِابْنِ الْمُبَارَكِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا تَقُولُ فِيمَنْ يَزْنِي وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ وَنَحْوَ هَذَا، أَمُؤْمِنٌ هُوَ؟ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: لَا أُخْرِجُهُ مِنَ الْإِيمَانِ

شیبان نے ابن مبارک سے کہا اے ابو عبد الرحمان اپ کیا کہتے ہیں جو شراب  پیے اور زنا کرے اور اسی طرح کے کام کیا وہ مومن ہے ؟ ابن مبارک نے کہا یہ اس کو ایمان سے خارج نہیں کرتے

 

تیسرا گروہ کہتا ہے :  ایمان کم نہیں ہوتا صرف بڑھتا ہے

اس میں محدثین ہیں جن کو الْإِرْجَاءِ کی رائے والے یا  الْمُرْجِئَةِ کہا جاتا ہے

 إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ عَنْ مَنْ قَالَ: الْإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ؟ قَالَ:  هَذَا بَرِيءٌ مِنَ الْإِرْجَاءِ
امام احمد سے سوال ہوا اس کے بارے میں جو کہے کہ ایمان بڑھتا ہے، کم ہوتا ہے  – انہوں نے کہا یہ الْإِرْجَاءِ سے بَرِيءٌ (پاک) ہیں

یعنی مرجىء  اس قول کے مخالف تھے ان سے منسوب مشھور قول ہے يزِيد وَلَا ينقص ایمان بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا

بہت سے مشھور محدثین مرجىء   تھے یعنی ان کے نزدیک ایمان کم نہیں ہوتا صرف بڑھتا ہے مثلا امام احمد نے الْمُرْجِئَةِ میں قيس بن مُسلم المتوفی ١٢٠ ھ ،علقمة بن مرْثَد الکوفی المتوفی ١٢٠ ھ ،عَمْرو بن مرّة المتوفی 116 ھ اور مسعربن کدام الکوفی ١٥٥ ھ کو شمار کیا – عراق میں اہل حران میں سے عبد الكريم الجزري، خصيف بن عبد الرحمن الجزري المتوفی ١٤٠ ھ ، سالم بن عجلان الأفطس المتوفی 132 ھ ، علي بن بذيمة المتوفی ١٣٦ ھ (ان میں شیعیت تھی) کو امام احمد نے الْمُرْجِئَةِ میں شمار کیا – اس کے علاوہ کوفہ کے محمد بن أبان الجعفي المتوفی ١٧٠ ھ کو ان میں شمار کیا – المَدَائِنِ کے  محدث  شَبَابَةُ بنُ سَوَّارٍ کو الْمُرْجِئَةُ میں شمار کیا  – امام ابو حنیفہ کے لئے بھی کی رائے کو بیان کیا جاتا ہے –  ابو بکر الخلال کے مطابق امام احمد  الْمُرْجِئَةُ  کی رائے کو قَوْلٌ خَبِيثٌ کہتے تھے-

چوتھا گروہ ایمان بڑھتا ہے اور کم پر توقف ہے یعنی کوئی رائے نہیں  ہے

عمدہ القاری ج ١ ص ١٠٧ میں عینی نے قول پیش کیا ہے

قَالَ الدَّاودِيّ سُئِلَ مَالك عَن نقص الْإِيمَان وَقَالَ قد ذكر الله تَعَالَى زِيَادَته فِي الْقُرْآن وَتوقف عَن نَقصه وَقَالَ لَو نقص لذهب كُله

الدَّاودِيّ نے  کہا :  امام مالک سے سوال ہوا کہ ایمان کم ہوتا ہے ؟ فرمایا الله تعالی نے اضافہ کا ذکر کیا ہے قرآن میں اور کمی پر توقف کیا ہے اور کہا اگر یہ جائے تو سب جائے گا

ترتیب المدارک کے مطابق

وقال القاضي عياض:  قال ابن القاسم: كان مالك يقول: الإيمان يزيد، وتوقف عن النقصان

القاضي عياض کہتے ہیں ابن قاسم نے کہا امام مالک کہا کرتے کہ ایمان بڑھ جاتا ہے اور کم ہونے پر توقف ہے

کتاب حاشية العدوي على شرح كفاية الطالب الرباني از : أبو الحسن الصعيدي العدوي   (المتوفى: 1189هـ) کے مطابق قسطلانی کہتے ہیں

وَأَمَّا تَوَقُّفُ مَالِكٍ عَنْ الْقَوْلِ بِنُقْصَانِهِ فَخَشْيَةَ أَنْ يُتَأَوَّلَ عَلَيْهِ مُوَافَقَةُ الْخَوَارِجِ

اور امام مالک نے جو ایمان کم ہونے پر توقف کا قول کہا ہے تو ان کو ڈر تھا کہ کہیں ان کی بات خوارج سے موافقت اختیار نہ کر جائے

ابن تیمیہ  الفتاوی ج ٧ ص ٥٠٦ کہتے ہیں

وكان بعض الفقهاء من أتابع التابعين لم يوافقوا في إطلاق النقصان عليه. لأنهم وجدوا ذكر الزيادة في القرآن، ولم يجدوا ذكر النقص، وهذا إحدى الروايتين عن مالك

اور تبع التابعين میں سے بعض فقہا ایمان پر کمی کا اطلاق نہیں کرتے کیونکہ وہ قرآن میں بڑھنے کا ذکر پاتے ہیں اور اس میں کمی کا ذکر نہیں ہے اور اسی طرح کی ایک روایت امام مالک سے بھی ہے

یعنی کم ہونے کا قرآن میں ذکر ہی نہیں ہے –

کتاب المقدمات الممهدات از  أبو الوليد محمد بن أحمد بن رشد القرطبي (المتوفى: 520هـ) کے مطابق مرنے سے قبل امام مالک نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا  جس کو  عبد الله بن نافع الصائغ سے منسوب کیا جاتا ہے کتاب ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق از    الذهبي (المتوفى: 748هـ) کے مطابق     صاحب مالك قال أحمد لم يكن في الحديث بذاك امام احمد کہتے ہیں اس کی حدیث ایسی مناسب نہیں – الاجری کہتے ہیں ابو داود نے کہا  احمد نے کہا : ثم دخله بأخره شك ابن نافع آخری عمر میں امام مالک کے اقوال کے حوالے سے شک کا شکار تھے

    عبد الرزاق سے منسوب ایک قول  ہے

قال عبدالرزاق:  سمعت معمراً وسفيان الثوري ومالك بن أنس، وابن جريج وسفيان بن عيينة يقولون: الإيمان قول وعمل، يزيد وينقص

عبدالرزاق آخری عمر میں اختلاط کا شکار تھے – أبو حاتم الرازي کہتے ہیں انکی حدیث يكتب حديثه ولا يحتج به لکھ لو دلیل نہ لو –  کتاب المختلطين از  العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق سن ٢٠٠ کے بعد عبدالرزاق   کی روایت صحیح نہیں ہے

البیہقی سنن میں روایت  لکھتے ہیں

سمعت مالك بن أنس وحماد بن زيد.. وجميع من حملت عنهم العلم يقولون: الإيمان قول وعمل ويزيد وينقص

اسکی سند میں  سويد بن سعيد الحدثاني ہیں جو اختلاط کا شکار تھے اور مدلس بھی ہیں

الخلال السنہ میں أبي عثمان سعيد بن داود بن أبي زنبر الزنبري کی سند سے امام مالک کا قول پیش کرتے ہیں
قال كان مالك يقول: “الإيمان قول وعمل، يزيد وينقص

امام مالک کہا کرتے کہ ایمان قول و عمل ہے بڑھتا کم ہوتا ہے

دارقطنی  کہتے ہیں سعيد بن داود الزنبري ضعيف ہے اور امام مالک کے حوالے سے منفرد اقوال کہتا ہے

الخلال کتاب السنہ میں ابن نافع کے حوالے سے امام مالک کا قول پیش کرتے ہیں کہ وہ کہتے ایمان کم ہوتا ہے اس کی سند میں  زَكَرِيَّا بْنُ الْفَرَجِ ہے جو مجھول ہے

کتاب  شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة از أبو القاسم هبة الله اللالكائي (المتوفى: 418هـ)  میں امام مالک سے إسحاق بن محمد الفروي کی  سند سے قول منسوب کیا گیا  ہے –  إسحاق بن محمد الفروي   کو امام نسائی ضعیف کہتے ہیں اور الدارقطني متروک کہتے ہیں

الغرض امام مالک سے منسوب دو آراء ہیں جن میں مالکی فقہا نے اس رائے کو ترجیح دی ہے کہ وہ ایمان میں کمی کے قائل نہیں تھے اور حنابلہ نے ان سے کمی والی روایات منسوب کی ہیں جن کی اسناد میں ضعف ہے

امام بخاری  بھی ایمان میں کمی کے قائل نہیں لگتے –  انہوں نے صحیح میں روایت پیش کی
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ الخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، حُرِمَهَا فِي الآخِرَةِ
ابن عمر رضی الله عنہ کی روایت جو کہ بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو شراب پینے دنیا میں اور توبہ نہ کرے اس پر یہ آخرت میں حرام ہو گی

اس روایت میں اضافہ بھی ہے

مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا وَلَمْ يَتُبْ، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ , وَإِنْ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ

وہ جنت میں بھی داخل ہو جائے تو شراب اس پر حرام ہو گی

البانی الصَّحِيحَة: 2634  میں اس کو صحیح کہتے ہیں اور ذیادت کو زيادة جيدة کہتے ہیں

یعنی ابو ہریرہ اور ابن عباس کی روایت میں تھا شرابی مومن نہیں اس سے توبہ کرائی جائے اور اس ابن عمر کی روایت سے ثابت ہوا وہ مومن ہی تھا  اس پر آخرت میں شراب حرام ہو گی
اِبْن الْعَرَبِيّ کہتے ہیں  کہ شراب اور ریشم حرام والی حدیثوں سے ظاہر ہے کہ وہ اس کو جنت میں نہیں ملیں گی

ظَاهِرُ الْحَدِيثَيْنِ أَنَّهُ لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ فِي الْجَنَّة

  مسند الموطأ للجوهري از  أَبُو القَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ عَبْدِ اللهِ بنِ مُحَمَّدٍ الغَافِقِيُّ، الجَوْهَرِيُّ المالكي (المتوفى: 381هـ) کہتے ہیں

قِيلِ: وَإِنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَنْسَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا حَتَّى لا يَشْتَهِيهَا

اور کہا جاتا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو گا لیکن اس کو بھلا دیا جائے گا اور اس کو خواہش نہ ہو گی

لیکن جو لوگ گناہ کبیرہ  کرنے والے میں ایمان کی کمی کے قائل ہیں انہوں نے اس سے اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی ہے مثلا البغوي (المتوفى: 516هـ)  کتاب شرح السنة میں کہتے ہیں وعيدٌ بِأَنَّهُ لَا يدْخل الْجنّة  یہ شخص جنت میں نہیں جائے گا

ابو قاسم اللالكائي المتوفی ٤١٨ ھ  کی کتاب السنه میں امام بخاری سے ایک قول منسوب کیا ہے جس کو ابن حجر نے فتح الباری میں نقل کر کے دعوی کیا ہے کہ اس کی سند ان کے مطابق صحیح ہے کہ امام بخاری نے کہا

لَقِيتُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفِ رَجُلٍ مِنْ الْعُلَمَاءِ بِالْأَمْصَارِ , فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ يَخْتَلِفُ فِي أَنَّ الْإِيمَانَ قَوْلٌ وَعَمَلٌ، وَيَزِيدُ وَيَنْقُص

میں نے (مختلف) شہروں میں ایک ہزار سے زائد علماے زمانہ سے ملاقات کی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی ایمان کے قول و عمل ہونے اور اس کے کم و زیادہ ہونے میں اختلاف نہیں کرتا تھا

کتاب  شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة از أبو القاسم هبة الله اللالكائي (المتوفى: 418هـ) کی سند ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ الْهَرَوِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا  مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى الْجُرْجَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبُخَارِيَّ بِالشَّاشِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: ” لَقِيتُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ

اسکی سند میں أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى الْجُرْجَانِيُّ مجھول الحال ہے –  سند میں أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبُخَارِيَّ  بھی ہیں جو کتاب محاسن الإسلام وشرائع الإسلام   کے مصنف ہیں  لیکن وہ اپنی کتاب میں ایمان کی کمی زیادتی پر ایک لفظ نہیں کہتے – اس کے علاوہ  جو بات  امام بخاری نے اپنی سب سے اہم کتاب جامع الصحیح میں نہیں لکھی وہ ان کے کان میں پھونک دی ہوئی عجیب بات ہے – لہذا یہ قول جو امام بخاری سے منسوب ہے ثابت نہیں ہے

امام بخاری نے صحیح كتاب الحيض، باب 6: ترك الحائض الصوم میں روایت پیش کی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے عورتوں کے لئے فرمایا

مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ

باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا

بعض علماء مثلا ابن العثيمين  (کتاب تفسير الفاتحة والبقرة) نے اس سے ایمان میں کمی ہونے کا قول لیا ہے جبکہ یہ بات عورتوں کے لئے عام ہے کہ ان کو  حيض اتا ہے جو ایمان میں کمی نہیں ہے بلکہ دین میں ان پر کمی ہے کہ وہ روزہ اور نماز اس حالت میں  پڑھیں

روایت زانی، زنا کرتے وقت مومن نہیں وغیرہ کے حوالے سے یہ بات موجود ہے کہ خود محدثین کو اس روایت کی تفسیر نہیں پہنچی  – العلل دارقطنی میں ہے کہ زانی والی روایت پر
قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ فَنَفَرَ.

امام الْأَوْزَاعِيُّ نے کہا : میں نے امام الزہری سے اس کی تفسیر پوچھ تو وہ بھاگ لئے
اسی میں ہے کہ الْأَوْزَاعِيُّ نے پوچھا
فَقُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُؤْمِنًا فَمَهْ؟ قَالَ: فَنَفَرَ عَنْ ذَلِكَ
میں نے الزہری سے پوچھا اگر مومن نہیں رہا تو پھر کیا تھا ؟ پس الزہری چلے گئے

یعنی امام الزہری نے امام مالک کی طرح توقف کا موقف اختیار کیا  اور گمان غالب ہے یہی امام الْأَوْزَاعِيُّ  کا بھی موقف ہو گا

الغرض یہ محدثین کا اختلاف ہے

بعض کہتے ہیں (مثلا البیہقی، ابن حبان ) کم ہو جاتا ہے ختم نہیں ہوتا
بعض کہتے ہیں (مثلا سفیان ابن عیینہ ) ایمان کم ہوتے ہوتے معدوم ہو جاتا ہے
بعض کہتے ہیں (مثلا امام الزہری) گناہ کے وقت پتا نہیں مومن تھا یا نہیں اس سوال سے فرار کرتے ہیں

بعض کے نزدیک (مثلا امام مالک)  قرآن میں اس پر صریحا کمی کا ذکر نہیں ہے -امام بخاری روایات لاتے ہیں جن میں گناہ کبیرہ والے بغیر توبہ کیے جنت میں جاتے ہیں

33 thoughts on “کیا ایمان میں کمی و زیادتی ہوتی ہے؟”

  1. وجاہت says:

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ بَيَانِ كَوْنِ النَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَأَنَّ الْإِيمَانَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَأَنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاجِبَانِ) صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان (باب: برائی سے روکنا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان گھٹتا بڑھتا ہے ، نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض ہے)

    179 . حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ، وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍقَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَحَدَّثْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فَأَنْكَرَهُ عَلَيَّ، فَقَدِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَنَزَلَ بِقَنَاةَ فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُهُ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثْتُهُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ صَالِحٌ: وَقَدْ تُحُدِّثَ بِنَحْوِ ذَلِكَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ،

    حکم : صحیح

    179 . صالح بن کیسان نے حارث ( بن فضیل) سے ، انہوں نے جعفر بن عبد اللہ بن حکم سے ، انہوں نے عبد الرحمٰن بن مسور سے ، انہوں نے ( رسول اللہ ﷺکے آزاد کردہ غلام ) ابو رافع سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ﷜ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے مجھ پر پہلے کسی امت میں جتنے بھی نبی بھیجے ، ان کی امت میں سے ان کے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے جوان کی سنت پر چلتے اور ان کے حکم کی اتباع کرتے تھے ، پھر ایسا ہوتا تھا کہ ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشیں بن جاتے تھے ۔ وہ (زبان سے ) ایسی باتیں کہتے جن پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور ایسے کا م کرتے تھے جن کا ان کو حکم نہ دیا گیا تھا ، چنانچہ جس نے ان (جیسے لوگوں ) کے خلاف اپنے دست و بازو سے جہاد کیا ، وہ مومن ہے اور جس نے ان کے خلاف اپنی زبان سے جہاد کیا ، وہ مومن ہے اور جس نے اپنے دل سے ان کے خلاف جہاد کیا وہ بھی مومن ہے ( لیکن ) اس سے پیچھے رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں ۔ ‘‘ ابو رافع نے کہا : میں نے یہ حدیث عبد اللہ بن عمر ﷜ کو سنائی تو وہ اس کو نہ مانے ۔ اتفاق سے عبد اللہ بن مسعود﷜ بھی (مدینہ ) آ گئے اور وادی قتاۃ ( مدینہ کی وادی ہے ) میں ٹھہرے ۔ عبد اللہ بن عمر ﷜ نے مجھے بھی ان کی عیادت کے لیے اپنے ساتھ چلنے کو کہا ۔ میں ان کے ساتھ چلا گیا ہم جب جاکر بیٹھ گیا تو میں نےعبداللہ بن مسعود﷜ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث اسی طرح سنائی جس طرح میں عبداللہ بن عمر ﷜ کوسنائی تھی ۔ صالح بن کیسان نےکہا : یہ حدیث ابو رافع سے ( براہ راست بھی) اسی طرح روایت کی گئی ہے ۔

    ======

    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله اس حدیث کو کیوں نہ مانے

    =========================
    ابو رافع نے کہا : میں نے یہ حدیث عبد اللہ بن عمر ﷜ کو سنائی تو وہ اس کو نہ مانے ۔

    1. Islamic-Belief says:

      یہ روایت معلول ہے

      اس کا ذکر کتاب السنہ میں ابو بکر الخلال نے امام احمد کے حوالے سے کیا ہے

      أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ذَكَرَ حَدِيثَ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «يَكُونُ أُمَرَاءٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ» . قَالَ أَحْمَدُ: جَعْفَرٌ هَذَا هُوَ أَبُو عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ لَيْسَ بِمَحْمُودِ الْحَدِيثِ، وَهَذَا الْكَلَامُ لَا يُشْبِهُهُ كَلَامُ ابْنُ مَسْعُودٍ. ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي»
      احمد نے کہا : جعفر یہ أَبُو عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ہے اور الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ حدیث میں پسندیدہ نہیں ہے اور یہ کلام ابن مسعود کے کلام سے مشابہت نہیں رکھتا اور ابن مسعود کا تو کہنا تھا صبر کرو یہاں تک کہ مجھ سے ملو

  2. وجاہت says:

    صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ حدود اور حدود سے بچنے کا بیان

    حدیث 1718

    شراب پینے والے پر لعنت کرنا مکروہ ہے۔ اور یہ کہ دین سے خارج نہیں ہے

    راوی: یحیی بن بکیر , لیث , خالد بن یزید , سعید بن ابی ہلال , زید بن اسلم اپنے والد سے وہ عمر بن الخطاب

    حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَجُلًا عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ وَکَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا وَکَانَ يُضْحِکُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَکْثَرَ مَا يُؤْتَی بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْعَنُوهُ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

    یحیی بن بکیر، لیث، خالد بن یزید، سعید بن ابی ہلال، زید بن اسلم اپنے والد سے وہ حضرت عمر بن الخطاب سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جس کا نام عبداللہ اور لقب حمار تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنسایا کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو شراب پینے کے سبب کوڑے لگوائے تھے ایک دن پھر نشہ کی حالت میں لایا گیا آپ نے اس کو کوڑے مارے جانے کا حکم دیا تو اس کو کوڑے لگائے گئے، قوم میں سے ایک شخص نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، کسی قدر یہ (نشہ کی حالت میں) لایا جاتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔

    http://www.hadithurdu.com/01/1-3-1718/

    کیا ایک صحابی الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت کے باوجود شرابی ہو سکت اہے – اور کسی کا لقب حمار کیسے ہو سکتا ہے

    الله قرآن میں کہتا ہے کہ ایک دوسرے کو برے القاب سے مت پکارو

    یہاں بھی کچھ معلومات دی گئی ہیں

    http://kingoflinks.net/Mkhalfoon/32Hmar/1.htm

    1. Islamic-Belief says:

      جیسا کہ اس بلاگ میں بحث ہے کہ ائمہ حدیث میں یہ بحث چل رہی تھی کہ کیا گناہ کبیرہ والے جہنمی ہیں یا نہیں
      تو بخاری نے اس حدیث کو لا کر یہ ثابت کیا کہ ان کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ گناہ کبیرہ والے جہنمی نہیں ہیں

      اس کی مثال اس حدیث سے دی

      ————
      حدیث کی سند صحیح ہے
      الله اور اس کے رسول سے محبت کا معاملہ وہ ہے جو منافق جیسا نہ ہو لیکن وہ گناہ کر سکتا ہے اور معافی بھی مانگ سکتا ہے
      جہاد سے جی چرانے والے تین اصحاب رسول جن کا ذکر سورہ توبہ میں ہے الله سے محبت کرتے تھے لیکن اس کے اذن پر بروقت عمل نہ کر سکے
      لہذا مومن شرابی ہو سکتا ہے معافی مانگ سکتا ہے گناہ کرنے کے باوجود مومن سمجھا جائے گا

  3. anum shoukat says:

    موجودہ دور کے جتنے بھی فرقے ہیں انکے فرقوں کے نام کے ساتھ انکا عقیدہ ایمان زیادہ ہوتا ہے اور کم بھی کے ساتھ بتا دیں شکریہ

    1. Islamic-Belief says:

      اہل حدیث سلفی وہابی اور جہادی تنظیموں کے نزدیک گناہ سے ایمان ختم ہو جاتا ہے
      احناف کا قول ابو حنیفہ والا ہے جن میں دیو بندی بریلوی ہیں ان کے نزدیک ایمان میں کمی نہیں ہوتی کیونکہ یہ اقرار ہے میرا بھی یہی قول ہے

  4. Gunahar maafi mangny pr dozakh mn na jae ga??
    Iman mn kami hoti hai ik hadith hai k jab insan gunnah krta hai toh dil pr siyyah dot lagta hai… Phir gunnah krta rehta hai to bil akhir uska dil siyah ho jata
    Kya yeh hadith iman ki kami or kaam hoty hoty khatm hony pr mamol nai
    Wazahat kr dein

    1. Islamic-Belief says:

      یہ روایت مسند احمد ابن ماجہ میں ہے
      – حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ، صُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ زَادَ زَادَتْ، حَتَّى يَعْلُوَ قَلْبَهُ ذَاكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ [ص:334] عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ: {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} [المطففين: 14] ”
      اس کی سند حسن درجے کی ہے اور ابن عجلان پر امام مالک کا کہنا ہے اس کو احادیث کا اتا پتا نہیں ہوتا
      ابن ابی حاتم کے مطابق یہ مدلس بھی ہے
      قال الحاكم وغيره سيء الحفظ حاکم اور دوسروں کا کہنا ہے اس کا حافظہ خراب ہے
      ابن ابی حاتم کا کہنا ہے کہ اس نے روایت ربيعة بن عثمان منکر الحدیث سے روایت لی ہوتی ہے اور دوسروں سے منسوب کرتا ہے

      ذكر أبي محمد بن أبي حاتم حديثه عن الاعرج عن أبي هريرة حديث المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف فقال إنما سمعه من ربيعة بن عثمان عن الاعرج

      لہذا یہ سند میرے نزدیک قوی نہیں ہے

  5. bint e hawa says:

    ایمان کے بیان میں… باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے
    اور ایمان کا تعلق قول اور فعل ہر دو سے ہے اور وہ بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ایمان میں اور زیادتی ہو۔“

    یہ الفاظ امام بخاری کے ہیں کہ وھو قول و فعل۔و یزید و ینقص؟؟
    آپکے نزدیک امام بخاری ایمان میں کمی و زیادتی کے قائل نہ تھے لیکن یہ الفاظ موجود ہیں بخاری میں ویزید و ینقص۔

    1. Islamic-Belief says:

      وَهُوَ قَوْلٌ وَفِعْلٌ، وَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ،

      یہ الفاظ لکھے تو ہیں لیکن بخاری روایات بیان کرتے ہیں جن میں شرابی جنت میں جا رہا ہے
      اپ تفصیل وہاں دیکھ سکتی ہیں

      ابواب کے بارے میں میری رائے کہ ہے اس میں کون کون سا امام بخاری کا قائم کردہ ہے معلوم نہیں ہے
      ابواب لوگوں نے صحیح میں بڑھا دیے تھے جب دیکھا کہ حدیث ہے باب نہیں ہے

      کتاب التعديل والتجريح , لمن خرج له البخاري في الجامع الصحيح از أبو الوليد سليمان بن خلف بن سعد بن أيوب بن وارث التجيبي القرطبي الباجي الأندلسي (المتوفى: 474هـ) کے مطابق
      وَقد أخبرنَا أَبُو ذَر عبد بن أَحْمد الْهَرَوِيّ الْحَافِظ رَحمَه الله ثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْمُسْتَمْلِي إِبْرَاهِيم بن أَحْمد قَالَ انتسخت كتاب البُخَارِيّ من أَصله كَانَ عِنْد مُحَمَّد بن يُوسُف الْفربرِي فرأيته لم يتم بعد وَقد بقيت عَلَيْهِ مَوَاضِع مبيضة كَثِيرَة مِنْهَا تراجم لم يثبت بعْدهَا شَيْئا وَمِنْهَا أَحَادِيث لم يترجم عَلَيْهَا فأضفنا بعض ذَلِك إِلَى بعض وَمِمَّا يدل على صِحَة هَذَا القَوْل أَن رِوَايَة أبي إِسْحَاق الْمُسْتَمْلِي وَرِوَايَة أبي مُحَمَّد السَّرخسِيّ وَرِوَايَة أبي الْهَيْثَم الْكشميهني وَرِوَايَة أبي زيد الْمروزِي وَقد نسخوا من أصل وَاحِد فِيهَا التَّقْدِيم وَالتَّأْخِير وَإِنَّمَا ذَلِك بِحَسب مَا قدر كل وَاحِد مِنْهُم فِي مَا كَانَ فِي طرة أَو رقْعَة مُضَافَة أَنه من مَوضِع مَا فأضافه إِلَيْهِ وَيبين ذَلِك أَنَّك تَجِد ترجمتين وَأكْثر من ذَلِك مُتَّصِلَة لَيْسَ بَينهمَا أَحَادِيث وَإِنَّمَا أوردت هَذَا لما عني بِهِ أهل بلدنا من طلب معنى يجمع بَين التَّرْجَمَة والْحَدِيث الَّذِي يَليهَا وتكلفهم فِي تعسف التَّأْوِيل مَا لَا يسوغ وَمُحَمّد بن إِسْمَاعِيل البُخَارِيّ رَحمَه الله وَإِن كَانَ من أعلم النَّاس بِصَحِيح الحَدِيث وسقيمه فَلَيْسَ ذَلِك من علم الْمعَانِي وَتَحْقِيق الْأَلْفَاظ وتمييزها بسبيل فَكيف وَقد روى أَبُو إِسْحَاق الْمُسْتَمْلِي الْعلَّة فِي ذَلِك وَبَينهَا إِن الحَدِيث الَّذِي يَلِي التَّرْجَمَة لَيْسَ بموضوع لَهَا ليَأْتِي قبل ذَلِك بترجمته وَيَأْتِي بالترجمة الَّتِي قبله من الحَدِيث بِمَا يَلِيق بهَا

      أَبُو ذَر عبد بن أَحْمد الْهَرَوِيّ نے خبر دی الْمُسْتَمْلِي نے کہا میں نے وہ نسخہ نقل کیا جو الْفربرِي کے پاس تھا پس میں نے دیکھا یہ ختم نہیں ہوا تھا اور اس میں بہت سے مقامات پر ترجمہ یا باب قائم کیے ہوئے تھے جس میں وہ چیزیں تھیں جو اس باب کے تحت ثابت نہیں تھیں اور احادیث تھیں جن کے تراجم (یا ابواب) نہ تھے پس ہم نے ان میں اضافہ کیا بعض کا بعض میں اور اس قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے کہ الْمُسْتَمْلِي اور السَّرخسِيّ اور الْكشميهني اور أبي زيد الْمروزِي نے سب نے ایک ہی نسخہ سے نقل کیا ہے جس میں تقدیم و تاخیر تھی اور یہ اس وجہ سے تھا کہ ان سب کی حسب مقدار جو طرة میں تھا یہ اضافی رقْعَة پر موجود تھا جو اس مقام پر لگا تھا اس کا اضافہ کیا گیا اور اس کی تبین ہوتی ہے کہ دو ابواب ایک سے زیادہ مقام پر ہیں اور ابواب ملے ہیں حدیث نہیں ہے اور ایسا ہی مجھ کو ملا جب اہل شہر نے مدد کی کہ ابواب کو حدیث سے ملا دیں اور تاویل کی مشکل جھیلی جو امام بخاری کے نزدیک تھی اور اگرچہ وہ لوگوں میں حدیث کے صحیح و سقم کو سب سے زیادہ جانتے تھے لیکن علم معنی اور تحقیق الفاظ اور تمیز میں ایسے عالم نہیں تھے تو کیسے (ابواب کی تطبیق حدیث سے ) کرتے – اور الْمُسْتَمْلِي نے اس کی علت بیان کی کہ ایک حدیث اور اس سے ملحق باب میں حدیث ہوتی ہے جو موضوع سے مناسبت نہیں رکھتی

  6. Shakeel Ahmed says:

    اسلام علیکم

    بھائی جماعت اسلامی کی طرف
    سے یہ چیلنج کیا گیا ھے اس کا
    وضاحت کے ساتھ جواب دیںاور ڈاکٹر مسعود الدین رح کے اخلاف ایسی باتیں تحریر کر دی گئی ھے جو کہ نا ہی میں نے ڈاکٹر کی کسی کتب میں پڑھی ہیں اور نا ہی کسی تقایر میں ایسے الفاظ سنے ہیں_مخالفین کو جواب دینے سے پہلے میں آپ سے وضاحت جاننا چاھتا ہو
    _____

    ١۔ پورے قرآن میں لفظ “عقیدہ“ پایا ہی نہیں جاتا ۔۔
    ٢۔ مسلمانوں کے جو بھی گروہ لفظ “عقیدہ“ کا مچھلی کنڈا نگل چکے ہیں ۔۔ انکے لئے لازم ہے کہ جب تک دوسرے تمام گروہوں کے عقائد بالکل انکی طرح نہ ہو جائیں ۔۔ انہیں گمراہ سمجھیں ۔۔ اور واحد سو فیصد درست خود کو قرار دیں ۔۔ کیونکہ سو فیصد درست اور قرآن و سنت کے مطابق عقائد صرف انکے نزدیک انہی کے گروہ کے ہوں گے ۔۔ ایسے گروہوں کی سب سے بڑی پہچان یہی ہو گی کہ ۔۔
    ۔۔ عملی جہاد کا انکی دعوت اور اب تک کی پیش رفت میں آنے کا کوئی منطقی راستہ اور ضرورت ہی نہیں ہو سکتی ۔۔ اس لئے زبردستی کی خانہ پری کیلئے اپنے لٹریچر میں جہاد کو اگلا مرحلہ قرار دے کر خود کو ایک ایسے منہج پر عملی طور سے چلائے رکھیں گے کہ جس میں جہاد کا امکان اگلی دس صدیوں میں بھی ممکن ہی نہ ہو سکے ۔۔
    ٣۔ جوگروہ عقیدے کے بجائے “ایمان“ اور ایمان کے لازمی عملی تقاضوں (عملوا الصالحات) پر نگاہ رکھتے ہیں تو پورا قرآن اسی حقیقت سے بھرا ہوا ہے ۔۔ جب آپ نے گواہی دے دی کہ ۔۔
    ۔۔ ہاں واقعی اس کائنات کا ایک ہی خالق ، مالک اور حکمران ہے ۔۔ جس نے ہمیں تخلیق کیا ہے ۔۔ ہمارے امتحان کیلئے خود اور سارا نظام ربوبیت بڑی ھد تک غیب کے پردے کے پیچھے چھپا دیا ہے ۔۔ لیکن ہماری ہدایت کیلئے اس نے اپنا حکم اور قانون اپنے خاص اور منتخب بندوں (نبی اور رسولوں) پر فرشتوں کے ذرعہ بذریعہ وحی فراہم کیا ہے ۔۔ ہماری زندگی کا واحد مقصد یہی بتلا دیا ہے کہ الہ اور رب صرف اللہ کو بنا کر صرف اس کی ہی عبادت و اطاعت کرنی ہے ۔۔ غیب کے پردے کے پیہچھے سوائے اللہ کے نہ کوئی ہماری سن سکتا ہے اور نہ مدد کر سکتا ہے ۔۔ اس لئے میں دعا ، پوجا ، پرستش غیب کے پردے کے پیہچھے صرف اللہ ککو ہی الہ سمجھ کر اس کیلئے اور اس سے ہی کروں گا ۔۔
    اپنے عام معاملات میں بھی صرف اللہ کی شریعت اور اللہ کا حکم ہی اس قابل ہے کہ میں صرف اس کی ہی اطاعت کروں ۔۔ اللہ کے باغی حکم کی خواہ وہ کسی کا بھی کیون نہ ہو میں ہرگز اطاعت نہیں کروں گا ۔۔ کیونکہ مجھے اجتماعی طور سے بھی صرف اور صرف اللہ کی ہی عبادت (ایاک نعبد) کرنی ہے ۔۔ اس لئے میں اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنا حکم مسلط کرنے والے طاگوت حکمرانوں کی حکمرانی کا انکار اپنے عمل سے کروں گا ۔۔ میں ان لوگوں کے ساتھ جو اللہ کے حکم کو گالب بنانے کیلئے کوشش (جہاد) کر رہے ہوں گے ان کے ساتھ جتھہ بن کر اپنی جنت کے عوض بیچی ہوئی جان اور مال اسی مقصد کیلئے صرف کر دوں گا ۔۔۔

    اب ظاہر ہے جو لفظ “عقیدہ“ کا مچھلی کنڈا نگل گیا وہ ایک ہی گروہ ہو سکتا ہے ۔۔ اس کے علاوہ جو بھی گروہ ہے اس کے سارے عقائد ہی درست نہیں تو اس سے اشتراک کیسے ہو سکتا ہے ؟
    جبکہ ایمان کے سب سے بڑے لازمی عملی تقاضے جہاد کو زندگی کا مقصد قرار دینے والے زیادہ سے زیادہ گروہوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے ۔۔ ان میں سے بہت ہی خوش نصیب تو قتال کر رہے ہوں گے ۔۔ جبکہ جو قتال نہیں کر رہے ہوں گے وہ رشک بھری نظروں سے اپنے ان جان کی بازی کھیلتے ساتھیوں پر نظر رکھیں گے ۔۔ اور ہر ممکن تعاون اور اشتراک کی کوشش کریں گے ۔۔

    اس طرح فرقہ اور مسلک ممیز ہو کر سامنے آ جاتے ہیں ۔۔ “عقیدہ‘ کا مچھلی کنڈا نگل کر صرگ ایک واحد گروہ کو حق پر سمجھنے والے ۔۔ فرقہ ہیں ۔۔

    جبکہ اصل جماعت المسلمین کو اور اصل امت مسلمہ کو بہت سارے گروہون کا مجوعیہ سمجھنے والے ایک ہی اصل امت مسلمہ کے اور ایک ہی اصل جماعت المسلمین کے مختلف گروہ ہیں ۔۔

    نبٰ س نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ ھق کی خاطر قیامت تک قتال کرتا رہے گا ۔۔ جماعت اسلامی ، جماعت الدعوہ ، جیش محمد اور کئی تنظیمیں خراسان میں اور کشمیر میں مسلسل جہاد کرتی چلی آ رہی ہیں ۔۔

    جبکہ “عقیدہ“ کا شیطانی مچھلی کنڈا نگلنے والے فرقوں جیسے ڈاکٹر عثمانی صاحب کے گروہ کے نزدیک خراسان میں لڑنے والے سارے گروہ کے ععقائد میں کفر و شرک پایا جاتا ہے ۔۔ ان کا ایمان خالص نہیں ہے ۔۔ یہ سب کافر ، مشرک اور طاغوت ہیں ۔۔ اس وقت کہیں قتال نہیں ہو رہا ہے ۔۔ خانئہ کعبہ اور مسجد نبوی میں موذن اذانیں نہیں دے رہے بلکہ وہاں کافر اور مشرک چلا رہے ہیں ۔۔

    ____

    کمنٹ

    پورے قرآن میں لفظ عقیدہ پایہ ہی نہیں جاتا

    مجھے قرآن سے یا حدیث سے کہیں بھی دکھا دیں کہ جب ایمان رکھا جائے گا تو وہ عقیدہ بن جائے گا ۔۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو مجھے بتائیے کہ کیا عقیدہ کم یا زیادہ ہو سکتا ہے ؟ ایمان تو کم یا زیادہ ہونے والی چیز ہے ۔۔ اور قرآن میں ایمان ہی ملتا ہے ۔۔ ایک آفر اللہ کی طرف سے ہے کہ اپنی جان اور مال جنت کے بدلے بیچتے ہو یا نہیں ؟ اگر بیچ دی یعنی مان لیا تو ایمان لے آیا گیا ۔۔ اگر انکار کر دیا تو کفر کیا ۔۔ پس سارا قرآن ایمان اور کفر کو ایک دوسرے کی ضد کے طور پر بیان کرتا صاف دیکھا جا سکتا ہے ۔۔ آمنوا ۔۔ کفروا ۔۔
    جب ایمان لے آیا گیا تو جنت حاصل کرنے کیلئے ایمان کے لازمی عملی تقاضے پورے کرنے کا کام شروع ہو جاتا ہے ۔۔ ایمان معتبر ہی اسی وقت ہو سکتا ہے جب لازمی عملی تقاضے (آمنوا و عملواالصالحات) پورے کئے جائیں ۔۔ اگر عملی تقاضے پورے نہ کئے تو ایمان نہیں ہے ۔۔ ایمان کا سب سے بڑا اور لازمی عملی تقاضا مجتمع ہو کر اللہ کے باغی دین کے خلاف جنت کے عوض بیچی ہوئی جان اور مال سے اجتماعی کوشش (جھاد) کرنا تاکہ حکم ، ربوبیت ، قانون اور دین صرف اور صرف اللہ کا ہو سکے ۔۔ اگر یہ کام یعنی جھاد نہ کیا اور اس کے بجائے باطل نظام زندگی میں مزے سے بے فکر روٹیاں توڑتے رہے تو آخرت میں صفر ایمان لئے کھڑے ہوں گے ۔۔ سارے عقیدے تیل لینے چلے جائیں گے ۔۔
    میری ایک ایک بات کی تائید میں قرآن کی کتنئی ہی آیتیں آپ کو مل جائیں گی ۔۔ آپ لفظ عقیدہ ہی قرآن میں نہیں دکھا سکتے ۔۔ پھر کبھی ایمان رکھنے کو عقیدہ قرار دے رہے ہیں ۔۔ تو کبھی عقیدہ کو صراحی یا ٹنکی میں سے ذڈالنے اور نکالنے والی چیز بیان کر رہے ہیں ؟ کوئی ریفرنس بھی تو دیں قرآن سے اپنے موقف کا ۔۔
    اب ظاہر ہے جو لفظ “عقیدہ“ کا مچھلی کنڈا نگل گیا وہ ایک ہی گروہ ہو سکتا ہے ۔۔ اس کے علاوہ جو بھی گروہ ہے اس کے سارے عقائد ہی درست نہیں تو اس سے اشتراک کیسے ہو سکتا ہے ؟
    جبکہ “عقیدہ“ کا شیطانی مچھلی کنڈا نگلنے والے فرقوں جیسے ڈاکٹر عثمانی صاحب کے گروہ کے نزدیک خراسان میں لڑنے والے سارے گروہ کے ععقائد میں کفر و شرک پایا جاتا ہے ۔۔ ان کا ایمان خالص نہیں ہے ۔۔ یہ سب کافر ، مشرک اور طاغوت ہیں ۔۔ اس وقت کہیں قتال نہیں ہو رہا ہے ۔۔ خانئہ کعبہ اور مسجد نبوی میں موذن اذانیں نہیں دے رہے بلکہ وہاں کافر اور مشرک چلا رہے ہیں ۔۔

    1. Islamic-Belief says:

      سلام علیکم

      یہ اقتباسات ہمارے نزدیک پریشان خیالی سے زیادہ نہیں ہیں

      بات کا آغاز اس اصرار سے کیا گیا ہے کہ لفظ عقیدہ پورے قرآن میں نہیں ہے – ظاہر ہے جو الفاظ بعد میں وجود میں آئے ہوں وہ قرآن و حدیث میں کہاں ہوں گے – لیکن تمام مسلک والے ان الفاظ کو استمعال کرتے ہیں کیونکہ یہ آسانی کے لئے یا سمجھنے کے لئے بولے جاتے ہیں جیسے کیا ذات کا لفظ قرآن و حدیث میں ہے؟ ذات باری تعالی کا لفظ نہیں ہے
      صفات کا لفظ نہیں ہے – جرح و تعدیل کے الفاظ نہیں ہیں – لیکن ان سب کا مقصد بات کو واضح کرنا ہے

      عقیدہ لفظ سے ہم جان جاتے ہیں کہ ایمان کے کیا بنیادی اجزاء ہیں – – یہ لفظ کون کہنا ہے کہ استمعال نہ کیا جائے ؟ کوئی جاہل ہی کہہ سکتا ہے جس کو اپنے علم کا غرور ہو لیکن جاہل ہونے کی خبر نہ ہو
      اس شخص کا کہنا ہے

      /////
      اللہ کے باغی حکم کی خواہ وہ کسی کا بھی کیون نہ ہو میں ہرگز اطاعت نہیں کروں گا
      ////////
      تو پھر تمام فرقوں کو مسلم کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ ان فرقوں میں قبروں کو سجدہ کرنے والے – غیر الله کو پکارنے والے – ان کا وسیلہ لینے والے بھی ہیں
      اور ان بہت سے مسائل ایمان کا مودودی نے خود تفہیم القرآن میں ذکر کیا ہے
      حالی کے اشعار مودودی نے نقل کیے ہیں
      کرے غیر گر ۔ ۔ ۔ ۔

      کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر
      جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
      کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
      جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر
      مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
      پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
      اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
      نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں
      مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں
      شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
      نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
      نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

      ایسا کیوں ہے کہ یہ تمام کام اب کرنا ایمان میں شامل ہے ؟ ان کو کرنے سے اب ٢٠١٨ میں ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ١٩٦٠ اور َ١٩٧٠ میں پڑتا تھا ؟
      ———-

      بھانت بھانت کے عقائد رکھنے والوں کا ہجوم جو آجکل جہاد کر رہا ہے وہ فساد فی الارض سے کم نہیں

      اس شخص نے لکھا ہے
      ////

      جبکہ ایمان کے سب سے بڑے لازمی عملی تقاضے جہاد کو زندگی کا مقصد قرار دینے والے زیادہ سے زیادہ گروہوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے ۔۔
      جماعت اسلامی ، جماعت الدعوہ ، جیش محمد اور کئی تنظیمیں خراسان میں اور کشمیر میں مسلسل جہاد کرتی چلی آ رہی ہیں ۔۔
      //////

      کیا یہ تنظیمیں ایک ہی عقائد رکھتی ہیں ؟ ایک ہی ایمان رکھتی ہیں ؟ یہ تو وہابی اور دیو بندی اور مکسچر جماعت اسلامی کے ریوڑ ہیں جن کو چند لوگ ہانک رہے ہیں
      یہ شیطان پرست ہیں جو فساد فی الارض میں مشغول ہیں

      مسجد النبی اور مسجد الحرام والے کیا ایمان رکھتے ہیں ؟ اس کو خود معلوم نہیں – ان کا مولوی بن باز کہتا ہے کہ گنبد خضری بنانے والے جاہل تھے لیکن اس کے سائے کے نیچے خطبہ دینے والے وہابی مولوی کے ماتھے پر جو بھی نہیں رینگتی جب اس گنبد کو پینٹ کیا جاتا ہے
      اگر ان میں اس قدر ایمان ہے تو ان کی دعا رد کیوں ہو رہی ہے
      کعبہ کے سامنے کھڑا ان کا مولوی ٧٠ سال سے اسرائیل کی تباہی کی دعا کر رہا ہے بلکہ ہر مسجد میں ہو رہی ہے
      یہ دعا قبول کیوں نہیں ہوتی
      ان کا یہ جہاد ضائع جا رہا ہے

      افسوس ان کو بنیاد کی خبر نہیں ہے اور تلوار ہاتھ میں ہے

      ——–

      اس شخص کو متن حدیث کی بھی معرفت نہیں ہے
      الفاظ نقل کیے ہیں
      میری امت کا ایک گروہ ھق کی خاطر قیامت تک قتال کرتا رہے گا ۔
      —–
      کوئی ایک روایت بھی نہیں جس میں اس حدیث کے الفاظ میں قیامت کے الفاظ ہوں – یہ مولویوں کا اضافہ ہے
      اصل الفاظ میں امر الله
      ایک گروہ حق کی خاطر قتال کرے گا یہاں تک کہ الله کا امر آ جائے گا

      اور وہ امر آ چکا – یہ دور گذر چکا
      یہ روایت بارہ خلفاء سے متعلق ہے جن کا دور گزر چکا اور ان میں بیشتر بنو امیہ کے خلفاء هونے

  7. Shakeel Ahmed says:

    محترم ۔۔ ہم میں عقیدہ لفظ کے حوالے سے جو جوہری اختلاف ہے وہ ۔۔
    ١۔ آپ کہتے ہیں کیونکہ شرک عقیدے کی خرابی کا نام ہے ۔۔ اس لئے غلط عقائد کے حاملین گروہ مشرک قرار پا کر ہی رہتے ہیں ۔۔ لہذا ایک ہی درست گروہ ممکن ہے جس کے عقائد سو فیصد درست ہوں ۔۔ اس گروہ سے اختلاف کرنے والے ہر گروہ کے عقائد میں یقینا کمی بیشی ہو گی ۔۔ لہذا وہ سارے گروہ کسی نہ کسی درجے میں ایمان کے ساتھ شرک کی آمیزش کئے ہوں گے ۔۔ لہذا وہ واحد گروہ جس کے عقائد سو فیصد درست ہوں وہی شرک سے پاک خالص ایمان والوں کا گروہ قرار پاترا ہے ۔۔ وہی گروہ اصل الجماعت ہے ۔۔ وہی گروہ ال جماعت المسلمین ہے ۔۔ اور اس کے علاوہ سب فرقے ہیں ۔۔
    ٢۔ میرا کہنا یہ ہے کہ عقیدے کی خرابی کفر ہے ۔۔ جس نے بھی لا الہ الا اللہ ، محمد الرسول اللہ کی گواہی دے دی اس نے ایمان لانے کی شرط پوری کر دی ۔۔ اب اسے امت مسلمہ سے اگر کوئی خارج کر سکتا ہے تو وہ عالمی امت مسلمہ کے مقتدر ادارے ہی خارج کر سکتے ہیں ۔۔ شرک میرے نزدیک “عبادت لغیر اللہ اور اطاعت لغیر اللہ “ کے عمل کا نام ہے ۔۔ عالمی امت مسلمہ یا اصل الجماعت یا اصل جماعت المسلمین میرے نزدیک ان تمام کلمہ گو لوگوں پر مشتمل ہے جنہیں حرم کعبہ کی حدود میں داخلے کی اجازت ہے ۔۔ جبکہ فرقے وہ بد نصیب گروہ ہیں جو اس امت مسلمہ کو اصل امت مسلمہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں جو میں نے بیان کی ۔۔ فرقے کہتے ہیں کہ اصل جماعت المسلمین صرف ہمارا گروہ ہے ۔۔ جو ہمارے گروہ سے باہر ہے وہ فرقہ ہے ۔۔
    اس طرح آپکے نزدیک اسلام کے سالانہ عالمی اجتماع جو کہ حج کی صورت میں ہوتا ہے ۔۔ میرے نزدیک یہ سب حرم کی حدود کے اندر حج کر رہے ہوتے ہیں اس لئے یہ سارے اصل بڑی امت مسلمہ میں شام ہیں ۔۔ یہ ایک لباس ، ایک زبان میں ایک جیسے کلمات پڑھتے ، دنیا کے ہر ملک اور ہر علاقے سے پہنچے لوگ ۔۔ اصل جماعت المسلمین ، اصل الجماعت کے لوگ ہیں ۔۔
    آپ کہتے ہیں کہ ان سب کے عقائد وہ ہیں ہی نہیں جو ہونے چاہئیں لہذا یہ سب فرقے ہیں ۔۔ خانئہ کعبہ اور مسجد نبوی میں موذن اذان نہیں دے رہے بلکہ کافر اور مشرک چلا رہے ہیں ۔۔

    1. Islamic-Belief says:

      یہ کس نے کہا کہ شرک عقیدے کی خرابی کا نام ہے – شرک تو اللہ کے اختیارات ،میں مخلوق کو شریک کرنے کا نام ہے- شرک سے عقیدے کی خرابی یقینا لازم اتی ہے لیکن یہ شرک کی تعریف نہیں ہے شرک کرنے کا نتیجہ ہے
      آپ نے یہ سمجھا نہیں کہ نتیجہ تعریف نہیں ہو سکتا – بہر حال ڈاکٹر عثمانی نے کتاب دعوت الی اللہ میں صراحت کے ساتھ شرک کی اقسام کو بیان کیا ہے وہاں آپ دیکھ سکتے ہیں

      آپ نے کہا
      /////
      شرک میرے نزدیک “عبادت لغیر اللہ اور اطاعت لغیر اللہ “ کے عمل کا نام ہے
      /////
      تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تعریف ہے لیکن اس میں عبادت ، اطاعت اور اختیار سب شامل ہے
      ———-

      جو الله کا حق ہے وہ اسی کا ہے اس میں کسی اور مخلوق کو شریک نہیں کیا جا سکتا
      غیر الله کی عبادت کے رسوم تقرب الی الله کے لئے کیے جائیں تو یہ بھی شرک ہے مثلا
      مشرک کہتے ہم عبادت کرتے ہیں کہ یہ فرشتے لات عزی اور منات – اللہ کے قریب کر دیتے ہیں
      آج مسلمان بھی یہی کر رہے ہیں قبروں پر جو رسوم ادا کی جاتی ہیں وہ رسوم عبادت اور پوجا سے ہی مماثل ہیں
      یہاں تک کہ سجدہ بھی لوگ کر رہے ہیں

      ———

      امت مسلمہ میں متکلمین نے ان تمام فرقوں کو شامل کیا ہے جو شیعہ ہوں رافضی ہوں خوارج ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان فرقوں کے اعتقاد سے بھی وہ راضی ہیں – امداد زمانہ کے ساتھ امت کے شرک کرنے میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہاں تک کہ اہل سنت کے فرقوں میں بھی یہ در کر آیا ہے
      کیا آپ کو حدیث نہیں پہنچی کہ یہ امت یہود و نصاری کے نقش قدم پر چلے گی اور اس کے ٧٢ گروہ جہنمی ہوں گے
      اس کا ایمان دو مسجدوں کے درمیان سمٹ جائے گا

      جب ہم کو یہ معلوم ہو گیا تو پھر تمام امت کے ایمان کی گواہی پر اصرار بے کار ہے

      ==========

      اجتماع حج ضرور ہوتا ہے لیکن اس میں کیا رافضی و خارجی یا باطنی عقیدہ والے قبروں کو سجدہ کرنے والے نہیں ہوتے؟
      یہ امت مسلمہ کے ضرور ہیں لیکن بھٹکی ہوئی بھیڑیں ہیں

      ———

      لکھا گیا ہے
      /////
      عالمی امت مسلمہ یا اصل الجماعت یا اصل جماعت المسلمین میرے نزدیک ان تمام کلمہ گو لوگوں پر مشتمل ہے جنہیں حرم کعبہ کی حدود میں داخلے کی اجازت ہے
      //////

      حدود حرم میں داخلہ تو نصرانی کا بھی منع نہیں ہے -نجران کے نصرانیوں کا وفد حدود حرم سے گزر کر ہی مدینہ آیا تھا جب بات مباہلہ تک جا پہنچی اور یہ سورہ توبہ کے نزول کے بعد کا واقعہ ہے
      اور یہ واقعہ ذوالحجه سن ١٠ ہجری کا کہا جاتا ہے

      اس بنا پر مسلمان فرقوں کا حدود میں داخلہ ممکن ہے

      ———-

      یہ سوال جس بلاگ میں کیا گیا ہے اس کے عنوان پر ہی غور کریں جن فرقوں کا آپ دفاع کر رہے ہیں وہ خود مسلمان کو نماز چھوڑنے پر کافر کہتے ہیں
      مثلا

      امام احمد سستی کرتے ہوئے نماز چھوڑنے والے کو کافر کہتے ہیں، یہی موقف راجح ہے،
      https://islamqa.info/ur/5208

      یہ وہابی علماء کا فتوی ہے
      ہمارے نزدیک تو گناہ کبیرہ کرنے پر بھی مسلمان – مسلمان ہی رہے گا لیکن وہابییوں اور سلفیوں کے نزدیک نہیں رہتا
      اسی بنا پر گناہ کبیرہ کے مرتکب مسلمان حکمران بھی جہادی گروہوں کے نزدیک واجب القتل ہیں

      پہلے ان فرقوں کو پڑھیں پھر بات کریں

  8. Shakeel Ahmed says:

    اسلام علیکم

    بھائی آپ نے لکھا کہ

    ///
    یہ کس نے کہا کہ شرک عقیدے کی خرابی کا نام ہے – شرک تو اللہ کے اختیارات ،میں مخلوق کو شریک کرنے کا نام ہے- شرک سے عقیدے کی خرابی یقینا لازم اتی ہے لیکن یہ شرک کی تعریف نہیں ہے شرک کرنے کا نتیجہ ہے
    آپ نے یہ سمجھا نہیں کہ نتیجہ تعریف نہیں ہو سکتا – ///

    یہ جواب ھم نے کمنٹ میں نہیں لکھا کہ “شرک عقیدے کی خرابی کا نام ھے_” ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی رحمتہ اللہ علیہ کے کتابچہ “فلاح کا راستہ” سے یہ بات نکالی جا رھی ھے فلاح کا راستہ کتابچے میں ص نمبر دو پر ڈاکٹر صاحب نے لکھا ھے_

    “یاد رکھو! عقیدے کے اندر معمولی سی معمولی خرابی بھی نا قابل معافی جرم ھے اس کے علاوہ اعمال کی ساری خرابیاں معاف ہوجائے گی انشاء اللہ…”

    ڈاکٹر صاحب نے جو لکھا بلکل درست لکھا ھے لیکن جماعت اسلامی کی طرف سے اس بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رھا ھے جو اوپر کمنٹ میں آپ دیکھ چکے ہو_
    اور یہ کمنٹ آپ کو صرف اس لیئے دیکھایا گیا ھے کہ جو آپ نے پہلا کمنٹ کیا اس میں کچھ آپ نے سوال کئے ان سوالوں میں سے ایک سوال کا جواب بھی نہیں دیا جماعت اسلامی نے اور اصل موضوع سے ہٹ کر جواب دیا گیا اور بغیر دلیل صرف ڈاکٹر صاحب پر الظام تراشی کر رھے ہیں ان کے پاس کوئی معقول جواب ہے ہی نہیں میں ان سے بات کرنا فضول سمجھتا ہوں پہلے تو وہ چیلنچ کر رھے تھے لیکن آپ نے جو سوال کیئے پہلے کمنٹ میں ان میں سے کسی ایک کا بھی معقول جواب نہیں ملا قتال والی حدیث کا عربی متن بھی پیش نہیں کر پائے

    1. Islamic-Belief says:

      وعلیکم السلام
      بعض لوگ جنھوں نے ڈاکٹر عثمانی کی ایک کتاب بھی نھیں پڑھی آجکل وہ لوگ بھی تبصرہ کرنے کو تیار ھین
      وجہ صرف یہ ھے کہ مسلک کے مولوی کی پٹی پڑھ کر آ جاتے ھیں اور آئیں بائیں شاہیں کرتے ھیں
      اس قسم کے لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش آئیں
      اور شدت سے رد کریں کیونکہ مخالفت میں طاق ھین

      ==========
      ڈاکٹر عثمانی نے یہ سب شرک کی اقسام کو واضح کرنے کے بعد لکھا ہے
      لہذا متن کو سیاق و سباق میں دیکھا جاتا ہے
      جب شرک معلوم ہوا کیا ہے تو نتجہ کے طور پر اس سے عقیدے کی خرابی لازم اتی ہے

  9. Shakeel Ahmed says:

    مخالف کا جواب
    ________

    محترم عقیدہ یا موقف یا نظریہ روز روز نہیں بدلتا ۔۔ نہ کم ہوتا ہے نہ زیادہ ۔۔ اگر ایر
    ک شخص ایمان لے آیا کہ لا الہ الا اللہ ، محمد الرسول اللہ ۔۔ اس نے بنیادی موقف اور عقیدہ درست کر لیا ۔۔ اس کا باپ اس کو کسی ایسے غلط کام کا حکم دیتا ہے جو اللہ کے حکم کے خلاف ہے ۔۔ اور وہ اس حکم کی تعمیل بھی کر بیٹھتا ہے تو اس کا یہ عمل شرک ہی ہے لیکن اس عمل سے اس کا بنیادی عقیدہ تبدیل نہیں ہوا ۔۔ اس شرک کی بنا پر ہم اسے مشرک قرار نہیں دے سکتے ۔۔ پس شرک کرنے سے لازمی نہیں کہ عقیدے کی خرابی یقینا لازم آئے جو کہ آپ کا کہنا ہے ۔۔ اس زمین پر چلنے والے سارے انسانوں کو اس دنیا میں برتائو کے لحاظ سے اللہ نے تین بنیادی ملتوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔۔
    ١۔ وہ سارے انسان جو وحی ، رسالت اور آخرت کا انکار کر کے ۔۔ کسی الہی قانون کی اور اللہ کے آگے جوابدہی کے ہی منکر ہو جاتے ہیں ۔۔ وہ پھر انسانی حکم کی ہی اطاعت یا اپنے جیسے انسانوں کو ہی رب بنا کر انکی عبادت کو ہی اپنا دین قرار دے بیٹھتے ہیں ۔۔ ان سب کا دین ہی “دین شرک“ بن جاتا ہے ۔۔ اسی لئے قرآن نے ان سب انسانوں کی ملت کیلئے اصطلاح ہی “المشرکین“ کی استعمال کی ہے ۔۔ کیونکہ یہ آخرت کے ہی منکر ہوتے ہیں اس لئے ان سے ایک بھی ایسے عمل کا ذصدور ممکن ہی نہیں رہ پاتا جس کا اجر انہیں آخرت میں مل سکے ۔۔ اس لئے ان کے کتنے ہی اچھے اخلاق اور اعمال کیوں نہ ہوں ۔۔ یہ سب آخرت میں اجر پانے کے لحاظ سے حبط ہو جانے والے ہیں ۔۔
    ٢۔ دوسری ملت اہل کتاب کی ہے ۔۔ جو وحی ، رسالت اور آخرت کو ماننے والی ہے ۔۔ جو اپنے جیسے انسانوں کو ہئی رب بنا کر انکے حکم اور قانون کے بجائے الہی قانون اور کتاب کو ال سمجھتی ہے ۔۔ اور اس کا اجر دوسری زندگی میں پانے پر یقین رکھتی ہے ۔۔ اس لئے اہل کتاب ملت المشرکین سے بہت دور ہے اور ایمان والوں سے بہت نزدیک ہے ۔۔ ان میں اور الذین آمنوا میں بہت بڑی قدر مشترک ہے بقول قرآن ۔۔۔ تعالوا الی کلمت سوائ بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ و لا نشرک بہ شئیا و لا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ ۔۔ اسی لئے ایمان والوں کیلئے دنیا میں برتائو کے لحاظ سے المشرکین کی ملت اور اہل کتاب کی ملت میں بہت فرق رکھا گیا ہے ۔۔ اہل کتاب کا کھانا ہمارے لئے حلال ہے اور ہمارا کھانا انکے لئے حلال ہے ۔۔ ہم انکی عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں لیکن المشرکین کی عورت سے نکاح نہیں کر سکتے ۔۔
    غور کیجئے اگر کوئی بھی شرک ایک انسان کو ایک جیسا مشرک بنا دیتا ہے ۔۔ تو مسیح کو اللہ کا بیٹا کہنے والے عیسائی اور بتوں کی پرستش کرنے والے ہندو ، برتائو کے لحاظ سے دونوں کو ہی ایک کیٹیگری میں ہونا چاہئے ۔۔ دونوں مشرک ہیں ۔۔ بلکہ شرک کا جو معیار آپ نے اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا ہے ، اس کو درست مان کر دیکھا جائے تو عیسائی کہیں زیادہ بڑا مشرک قرار پاتا ہے کہ اس کے پاس تو اللہ کی کتاب بھی ہے ، وہ کتاب کو بغل میں دبا کر شرک کرتا ہے ؟ پھر اللہ کیوں دونوں کے ساتھ برتائو میں فرق رکھ رہا ہے ؟ میں بتاتا ہوں ۔۔ آخرت میں جوابدہی کے احساس کے ساتھ ایک سلیم الفطرت عیسائی ہو سکتا ہے ساری عمر کسی انسان کا حق نہ مارے ۔۔ اللہ کے آگے جوابدہی کے خوف کے ساتھ ، جہنم سے خود کو بچانے کی تڑپ رکھتے ہوئے ، اور جنت میں جانے کی آرزو رکھتے ہوئے وہ ساری زندگی ایک ایماندار اور پاکدامن شخص کے طور پر گزار سکتا ہے ۔۔ لیکن آخرت کے منکر سے ایک بھی ایسے عمل کی توقع ہی نہیں کی جا سکتئی جو وہ اللہ کے آگے آخرت میں جوابدہی کی وجہ سے کرے ۔۔
    ٣۔ تیسری ملت ۔۔ الذین آمنوا کی ملت ہے ، جو نہ صرف وحی ، رسالت اور آخرت کو مانتی ہے بلکہ قرآن اور محمد ص کو بھی مانتی ہے ۔۔ اس لحاظ سے یہ ملت تو ہر لحاظ سے ایہل کتاب سے بھی بہتر قرار پا کر ہی رہتی ہے جو قرآن اور محمد ص کا انکار کرتی ہے ۔۔
    میں ایک چیز کی وضاحت کر دوں کہ ملتوں کی یہ تقسیم صرف اس دنیا میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ برتائو کیلئے اللہ نے قرآن میں واضح طور سے کر کے دی ہے ۔۔ آپ قرآن شروع سے آخر تک پڑھ لیجئے اللہ نے ان ملتوں میں امتیاز برتا ہے ۔۔ کہیں خلط ملط نہیں کیا ہے ۔۔ جہاں تک آخرت کی بات ہے تو وہاں المشرکین کی تو ساری ملت مکمل حبط اعمال کے ساتھ “المشرکین“ کے طور پر ہی اٹھے گی ۔۔ جبکہ آخرت میں اہل کتاب کی ملت میں سے بھی اکثر اور الذین آمنوا کی ملت میں سے بھی اکثر مشرک کے طور پر ہی اٹھیں گے ۔۔ لیکن آخرت کی آخرت میں دیکھی جائے گی ۔۔ اس دنیا میں ہم اللہ کی طے کردہ ملتوں کی تقسیم کے لحاظ سے ایک دوسرے سے برتائو کے پابند ہیں ۔۔ ہمیں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑا کر اللہ کی ملتوں کی سرحدوں کو نہیں چھیڑنا ۔۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کہتا ہے کہ عیسائی عورت تو مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتی ہے ۔۔ جو کہ صریح شرک ہے ۔۔ جو عورت شرک کرے وہ مشرکہ ہے اور اللہ کہتا ہے کہ ۔۔ لا تنکحواالمشرکات ۔۔ مشرکات سے نکاح مت کرو ۔۔ لہذا میں اہل کتاب عیسائی عورت سے نکاح کو حرام سمجھتا ہوں ۔۔ اس شخص نے اللہ کی طے کردہ حد اور سرحد کو اپنے عقل کی تلوار سے کاٹ دیا ۔۔ اب اس کی نیت دیکھتے ہوئے اللہ ہی اس کا فیصلہ کرے گا ۔۔ لیکن بہر حال اس نے دنیا میں برتائو کیلئے اللہ نے جو حد مقرر کی تھی اس کا انکار کیا ۔۔ عثمان بن عفان رض نے نائلہ بنت فرافصہ کلبیہ سے نکاح کیا جو کہ اہل کتاب تھیں ۔۔ انہوں نے اپنی عقل نہیں لڑائی بلکہ اللہ کی مقرر کردہ حد کو دیکھا ۔۔
    اسی لئے میرے نزدیک کوئی بھی انسان ہو ۔۔ مجھے اسے کیا سمجکھ کر برتائو کرنا ہے ؟ میں پتہ لگاتا ہوں کہ وہ کلمہ گو ہے ؟ یا اہل کتاب ہے ؟ یا وحی ، رسالت اور آخرت کا ہی منکر ہے ؟ میرا برتائو پھر اسی لحاظ سے اس کے ساتھ ہو گا ۔۔ بریلوی میرے نزدیک الذین آمنوا کی کلمہ گو ملت سے تعلق رکھتا ہے ۔۔ میں اسے مشرک سمجھ کر برتائو نہیں کر سکتا ۔۔ ہاں اسے یہ ضرور سمجھائوں گا کہ اس دنیا میں کلمہ کی وجہ سے تم ایمان والوں کی امت میں رہ کر مشے کر لو لیکن آخرت میں تمہاری قبر پرستی تمہیں مشرک کے طور پر اٹھا سکتی ہے ۔۔

    1. Islamic-Belief says:

      آپ کے خیالات میں تضاد ہے

      ایک طرف تو آپ کا کہنا ہے
      ///
      شرک کرنے سے لازمی نہیں کہ عقیدے کی خرابی یقینا لازم آئے

      //
      اور دوسری طرف آپ کا بریلوی کو کہنا ہے
      ////

      آخرت میں تمہاری قبر پرستی تمہیں مشرک کے طور پر اٹھا سکتی ہے

      ///

      جب قبر پرستی کرنے سے شرک ہوا تو کیا عقیدہ صحیح رہا ؟ معلوم نہیں آپ کس چیز کو عقیدہ کہتے ہیں
      توحید میں ہی جب خلل واقع ہو تو یہ صحیح عقیدہ نہیں ہے
      اور یہ تعریف تمام لوگ قبول کرنے ہیں لہذا آپ کے شاذ خیال کی بنا پر نہ ہی شرک کی تعریف بدل سکتی ہے نہ توحید کی نہ شرک کی

      شرک الله کی عبادت میں شریک کرنے کا نام ہے قبر پرستی بریلوی کو مشرک بنا دے گی لیکن کیا وہ جنتی ہو جائے گا؟
      ———-
      دوم آپ کو ناسخ و منسوخ کا علم نہیں ہے

      الله تعالی نے مشرکات سے نکاح کو حرام کیا اس میں اہل کتاب شامل تھے پھر اس حکم کو اہل کتاب پر منسوخ کیا گیا اور مشرک بت پرست پر باقی رکھا گیا
      یہاں عقل دوڑانے کی کوئی بحث ہی نہیں
      قرآن میں تدریجا احکام بدلے بھی گئے ہیں یہ نہیں کہ اس میں کوئی منسوخ حکم لکھا ہی نہیں گیا
      لہذا یہ مثال خارج عن بحث ہے
      ———

      آپ کے بقول امت میں شرک ہو رہا ہے لیکن عقیدہ صحیح ہے – یہ محض التباس ذہنی ہے کیونکہ اس طرح تو ایک یہودی و نصرانی تک کا عقیدہ صحیح ہو جاتا ہے
      آخرت میں زندہ ہونے کا ان دونوں کو یقین ہے
      آپ نے عقیدہ سے مراد صرف آخرت کو لیا ہوا ہے
      جبکہ عقیدہ ایک مجموعہ کا نام ہے جس میں توحید رسالت آخرت فرشتے و جنات و جنت جہنم کا تصور سب شامل ہے
      آپ خود عقیدہ لفظ کو غیر قرانی و حدیث قرار دے کر اس پر بحث کر رہے تھے اب اسی لفظ پر مزید بحث کرنے کی کیا ضرورت ہے
      عقیدہ خراب و یا صحیح – آپ کے نزدیک یہ لفظ بے کار تھا

      ———

      باقی رہا ملتوں کی بحث تو ملت یا امت میں شرک کرنے والے ہیں – الله ایک نصرانی جو موحد ہو اور ایک یہودی جو موحد ہو اور آخرت کا یقین رکھتا ہو اس کا فیصلہ خود کرے گا لیکن ہم کو اس نے یہی حکم دیا ہے کہ مشرک کو مشرک کہو اور صحیح بات کہو
      اگر ہم شرک کو شرک نہ کہیں تو کیا کہیں ؟ جب ہم فرقوں کو مشرک کہیں گے تو اس کا مطلب ہی یہی ہے کہ عقیدہ خراب ہے

      آپ کے بقول اس امت کی اکثریت مشرک کے طور پر اٹھے گی اور
      ////
      آخرت میں اہل کتاب کی ملت میں سے بھی اکثر اور الذین آمنوا کی ملت میں سے بھی اکثر مشرک کے طور پر ہی اٹھیں گے ۔۔ لیکن آخرت کی آخرت میں دیکھی جائے گی ۔
      آخرت کی آخرت میں دیکھی جائے گی

      ///

      تو معلوم ہوا کہ آپ انسانیت کے دوست نہیں ان کے دشمن ہیں – جب انسانوں کی اکثریت مشرک کے طور پر اٹھے گی تو کیا مشرك پر جہنم کا حکم نہ لگے گا؟
      وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ

      جب مشرک پر جہنم کا حکم لگے گا تو آپ کا کہنا ہے آخرت کی آخرت میں دکھی جائے گی
      لیکن ہم کہتے ہیں ابھی بھی وقت ہیں جو شرک ہے اس کو واضح بیان کیا جائے

      لگی لپٹی انداز میں نہیں کہ بریلوی کو کہیں تم مشرک ہو سکتے ہو قبر پرستی کر کے
      افسوس یا تو آپ کم ہمت ہیں یا دنیا پرست ہیں یا رشتہ دار پرست
      ایک موحد تو حق کو حق کہے گا

      لہذا آپ قرآن میں سورہ البینہ پڑھیں
      https://www.holyquran.net/cgi-bin/prepare.pl?ch=98

  10. Shakeel Ahmed says:

    مخالف کا جواب
    ______

    محترم آپ نے مجھ پر پہلا اعتراض کچھ اس طرح اٹھایا ہے کہ ۔۔۔
    آپ کے خیالات میں تضاد ہے_ایک طرف تو آپ کا کہنا ہے///شرک کرنے سے لازمی نہیں کہ عقیدے کی خرابی یقینا لازم آئے//اور دوسری طرف آپ کا بریلوی کو کہنا ہے////آخرت میں تمہاری قبر پرستی تمہیں مشرک کے طور پر اٹھا سکتی ہے///جب قبر پرستی کرنے سے شرک ہوا تو کیا عقیدہ صحیح رہا_ ؟
    معلوم نہیں آپ کس چیز کو عقیدہ کہتے ہیں_!

    میرا کہنا آپ نے بھی بالکل درست نقل کیا ہے کہ ۔۔ شرک کرنے سے لازمی نہیں کہ عقیدے کی خرابی یقینا لازم آئے ۔۔ قبر کے آگے جھکنے والا اگر قبر میں موجود ہستی کو اللہ جیسے اختیار و قدرت کا حامل سمجھ کر اس سے مانگتا ہے ۔۔ تو اس میں اعتقاد کی خرابی بھی ہے جو کہ شرک کا سبب یقینا بن رہی ہے ۔۔ لیکن اگر $$$ کسی کارکن کو کسی بےگناہ کو قتل کرنے کاحکم دیتا ہے ۔۔ اور کارکن اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے حالانہ $$$ کا حکم اللہ کے حکم سے ٹکراتا حکم تھا ۔۔ تب بھی کارکن نے اس کی اطاعت کی ۔۔ و ان اطعتموھم انکم لمشرکون ۔۔ اس نے اطاعت کر کے سو فیصد شرک کیا ۔۔ حالانکہ وہ $$$ کو اپنے جیسا انسان مانتا ہے ۔۔ یہاں عقیدے یا اعتقاد کی خرابی لازم نہیں آئی اور یہی میرے کہنے کا مقصد ہے کہ ۔۔ شرک کرنے سے لازمی نہیں کہ عقیدے کی خرابی یقینا لازم آئے ۔۔
    آپ خود انصاف سئ فیصلہ کیجئے ۔۔ اطاعت کرنے پر اللہ پکا مشرک ہونے کا فتوی صادر کر رہا ہے ۔۔ اطاعت تو زندہ انسان کی ہی ہو سکتی ہے ؟ اور ضروری نہیں کہ زندہ انسان کو اللہ جیسی غیبی اور فوق الطبعی صفات کا حامل سمجھ کر ہی اس کی اطاعت کی جائے تو شرک کا صدور ممکن ہو سکے ۔۔ بلکہ اگر اپنے جیسے ہاتھ ، کان ، ناک پیر رکھنے والے مذہبی پیشوائوں کے بتائے گئے حلال کو حلال سمجھ کر کھایا جائے حالنکہ اللہ کی کتاب اس حلال کو حرام قرار دیتی ہو تو کیا یہ مولویوں کو رب بنا کر انکی عبادت کرنا نہیں ہے ؟ یہاں کونسے عقیدے کی خرابی موجود ہے ؟
    پس آپ کو اپنے اعتراض کی علمی کمزوری کا اندازہ ہو جانا چاہئے اور میری بات کی سمجھ آ جانی چاہئے کہ ۔۔ شرک کرنے سے لازمی نہیں کہ عقیدے کی خرابی یقینا لازم آئے


    آپ مزید ارشاد کرتے ہیں کہ ۔۔
    توحید میں ہی جب خلل واقع ہو تو یہ صحیح عقیدہ نہیں ہےاور یہ تعریف تمام لوگ قبول کرتے ہیں، لہذا آپ کے شاذ خیال کی بنا پر نہ ہی شرک کی تعریف بدل سکتی ہے، نہ توحید کی نہ شرک کی_

    توحیید میں خلل ضروری نہیں کہ صرف عقیدے کی خرابی کی وجہ سے ہی آئے ۔۔ کیا اپنے جیسے ہاتھ پیر رکھنے والے مولویوں کو اپنے ہی جیسا انسان سمجھ کر ان کے بتائے ہوئے حلال کو حلال سمجھ کر کھا لینا ، حالانکہ ان کا حلال اللہ نے حرام قرار دیا ہو ۔۔ اس سے بھی توحید میں خلل آیا ۔۔ مولوی رب بنا اور اس کے اللہ کی کتاب سے ٹکراتے حلال کو حلال سمجھ کر کھانے سے آپ نے اس مولوی کو رب بنایا ۔۔ اس کی عبادت کی اس کے حکم کی اطاعت ۔۔ و ان اطعتموھم انکم لمشرکون ۔۔ اور اگر تم نے انکی اطاعت کی تو پھر تو تم پکے مشرک ہو ۔۔ یہاں ضروری نہیں کہ اطاعت انہیں اللہ کا شریک سمجھ کر ہی کی جائے ۔۔ بلکہ اللہ کے حکم سے ٹکراترے حکم کی اطاعت بھی ، اللہ کے حرام کئے ہوئے کو انکے کہنے پر حلال سمجھ کر کھانا بھی انکی عبادت ہے ،، اور انکو رب بنانا ہے ۔۔

    امید ہے آپکو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہو گا ۔۔ بات وہیں پہنچتی ہے کہ ضروری نہیں کہ شرک کرنے سے عقیدے کی خرابی بھی لازمی ٹھہرے ۔۔
    آپ مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ کو ناسخ و منسوخ کا علم نہیں ہے_!الله تعالی نے مشرکات سے نکاح کو حرام کیا اس میں اہل کتاب شامل تھے، پھر اس حکم کو اہل کتاب پر منسوخ کیا گیا اور مشرک بت پرست پر باقی رکھا گیا_یہاں عقل دوڑانے کی کوئی بحث ہی نہیں_قرآن میں تدریجا احکام بدلے بھی گئے ہیں، یہ نہیں کہ اس میں کوئی منسوخ حکم لکھا ہی نہیں گیا_لہذا یہ مثال خارج عن بحث ہے

    محترم اگر بقول آپکے ۔۔ لا تنکحوا المشرکات کی آیت منسوخ ہو گئی تو پھر ہندو عورت سے نکاح کے حرام ہونے کی کیا دلیل ہے آپ کے پاس ؟ کیا اس آیت کے منسوخ ہونے سے مشرکہ سے نکاح جائز نہیں ہو جاتا ؟ اور اگر بدستور مشرکہ سے نکاح حرام ہی رہتا ہے تو آیت منسوخ کس طرح ہوئی ؟ آیت کا حکم تو بدستور قائم رہا ؟ اگر تمام مشرکات میں سے صرف پاکدامن اہل کتاب عورتوں سے نکاح حلال قرار دیا گیا ہے تب بھی آیت تو منسوخ قرار نہیں ہوتی بلکہ دیگر تمام مشرکات پر آیت کا اطلاق رہے گا صرف اہل کتاب عورتوں کو استثنا ملے گا ۔۔
    چلئے آپکی بات مان لیتے ہیں کہ آیت منسوخ ہو گئی ۔۔ تو اب جو آیت جس پر عمل کرنا ہے اس آیت نے پہلے کے مشرکوں کے بارے میں سخت قانون کو نرم کر دیا ۔۔ اب جو وحی ، رسالت اور آخرت کو ماننے والی عورتیں ہیں ان سے نکاح حلال قرار دے دیا گیا ۔۔ وحی ، رسالت اور آخرت کو ماننے والوں کا کھانا ہمارے لئے حلال قرار دے دیا گیا اور ہمارا کھانا انکے لئے حلال قرار دے دیا گیا ۔۔ حالانکہ وہ مسیح کو اللہ کا بیٹا ماننے والے ہیں ؟ تو بریلوی بھی نہ صرف وحی ، رسالت اور آخرت کو مانتا ہے بلکہ ۔۔ لا الہ الا اللہ ، محمد الرسول اللہ کی گواہی بھی دیتا ہے ۔۔ قرآن کو بھی مانتا ہے ۔۔ اگر ایک ہندو ، عیسائی اور بریلوی کی درجہ بندی کرنی ہو ۔۔ تو سب سے گندا ہندو ، پھر عیسائی اور بریلوی تو اس سے کہیں بہتر قرار پاتا ہے ؟ کتنی ہی آیتیں منسوخ کیوں نہ ہو گئی ہوں ۔۔ کیا آج “المشرکات“ (وحی ، رسالت اور آخرت کے منکرین) سے نکاح حلال قرار دیا جا سکتا ہے ؟ کیا آج عیسی ع کو اللہ کا بیٹا ماننے والی عیسائی عورت سے نکاح کو حرم قرار دیا جا سکتا ہے ؟ کیا دنیا میں برتائو کے لحاظ سے یہ دونوں دو الگ الگ ملتیں ، یعنی ایک المشرکین کی ملت اور دوسری اہل کتاب کی ملت قرار نہیں پاتیں ؟ کیا آیت کے منسوخ ہونے سے المشرکین کی ملت ہی منسوخ ہو گئی ؟
    امید ہے کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کریں گے تو اپنی مضحکہ خیز بچکانہ غلطیوں کا احساس ہو جائے گا ۔۔
    آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ ۔۔
    باقی رہا ملتوں کی بحث تو ملت یا امت میں شرک کرنے والے ہیں – الله ایک نصرانی جو موحد ہو اور ایک یہودی جو موحد ہو اور آخرت کا یقین رکھتا ہو اس کا فیصلہ خود کرے گا لیکن ہم کو اس نے یہی حکم دیا ہے کہ مشرک کو مشرک کہو اور صحیح بات کہو_
    اگر ہم شرک کو شرک نہ کہیں تو کیا کہیں_ ؟؟
    محترم نبی ص کی پیدائش سے تین صدیاں قبل شہر نیقیہ میں عیسائیوں کا زبردست اجتماع ہوا تھا اور ساری اناجیل تلف کر کے صرف چار نسخے باقی رکھے گئے تھے اور ان چاروں نسخوں میں مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دیا گیا تھا ۔۔ اللہ تعالی بغیر کسی استثنا کے قرآن میں عیسائیوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ۔۔ یہ عیسی ع کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں ۔۔ کوئی ایک بھی ایسا عیسائی نہ اس وقت اور نہ آج ایسا ممکن ہے جو مسیح کو اللہ کا بیٹا نہ مانتا ہو ۔۔ اور کیوں نہ مانے جب اس کی کتاب مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتی ہے ۔۔ تو اگر شرک عقیدے کی خرابی ہے تو ایک نصرانی کس طرح موحد ہو سکتا ہے ؟ اس لئے آپکے نظریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ۔۔ خود آپ کا یہ ارشاد فرمانا کہ ۔۔۔ الله ایک نصرانی جو موحد ہو اور ایک یہودی جو موحد ہو اور آخرت کا یقین رکھتا ہو اس کا فیصلہ خود کرے گا ۔۔۔ سرے سے ایک متناقض بات بن جاتی ہے ۔۔

    پھر آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ ۔۔۔ ہم کو اس نے یہی حکم دیا ہے کہ مشرک کو مشرک کہو اور صحیح بات کہو_
    مجھے پورے قرآن میں اللہ کا یہ حکم کسی ایک جگہ دکھا دیں جہاں اللہ نے مشرک کو مشرک کہنے کا حکم دیا ہو ؟؟

    1. Islamic-Belief says:

      آپ نے کہا
      قبر کے آگے جھکنے والا اگر قبر میں موجود ہستی کو اللہ جیسے اختیار و قدرت کا حامل سمجھ کر اس سے مانگتا ہے ۔۔ تو اس میں اعتقاد کی خرابی بھی ہے جو کہ شرک کا سبب یقینا بن رہی ہے

      مزید کہا
      ۔۔ بلکہ اگر اپنے جیسے ہاتھ ، کان ، ناک پیر رکھنے والے مذہبی پیشوائوں کے بتائے گئے حلال کو حلال سمجھ کر کھایا جائے حالنکہ اللہ کی کتاب اس حلال کو حرام قرار دیتی ہو تو کیا یہ مولویوں کو رب بنا کر انکی عبادت کرنا نہیں ہے ؟

      پہلے آپ نے کہا تھا
      ///

      اس کا باپ اس کو کسی ایسے غلط کام کا حکم دیتا ہے جو اللہ کے حکم کے خلاف ہے ۔۔ اور وہ اس حکم کی تعمیل بھی کر بیٹھتا ہے تو اس کا یہ عمل شرک ہی ہے لیکن اس عمل سے اس کا بنیادی عقیدہ تبدیل نہیں ہوا ۔۔ اس شرک کی بنا پر ہم اسے مشرک قرار نہیں دے سکتے
      ///
      آپ نے کہا
      ////
      لیکن اگر $$$ کسی کارکن اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے حالانہ $$$ کا حکم اللہ کے حکم سے ٹکراتا حکم تھا ۔۔ تب بھی کارکن نے اس کی اطاعت کی ۔۔ و ان اطعتموھم انکم لمشرکون ۔۔ اس نے اطاعت کر کے سو فیصد شرک کیا ۔۔ حالانکہ وہ $$$ کو اپنے جیسا انسان مانتا ہے ۔۔
      ///
      جواب

      آپ نے یہاں اب بات کو واضح کیا ہے – لیکن آپ اپنے لکھے تو دیکھیں اس میں کس قدر تضاد ہے
      باپ کی الله کے حکم کے خلاف اطاعت کرنے پر مشرک نہیں لیکن کسی سیاسی لیڈر کی کرنے پر مشرک – یہ عجیب بات ہے

      قرآن میں سورہ توبہ میں ہے کہ احبار و رہبان کو رب بنا لیا گیا ہے اور اس سے مراد وہی ہے جو آپ نے لکھا ہے
      لیکن یہ بات الگ ہے
      نہ تو اہل کتاب صحیح عقیدے پر تھے اور نہ ان کے احبار و رہبان صحیح عقیدے پر تھے
      یہاں مومن اہل کتاب کا ذکر نہیں ہے کیونکہ وہ اس درجہ پر نہیں گئے کہ الله کے ساتھ کسی مولوی کو رب بنا رہے ہوں

      الله تعالی نے اس کے حکم کو نافذ نہ کرنے پر ظالم کافر اور فاسق کہا ہے

      اگر صحیح عقیدہ شخص ہو تو بھی الله کے حکم کو نافذ نہ کر کے مشرک /کافر بنے گا

      کیا الله کا حکم صرف قانون و عدل انصاف میں چلے گا ؟آپ کے نزدیک کوئی حدود میں وہ حکم کرے جو الله کا نہ ہو تو ہی مشرک ہو گا ورنہ عقیدہ میں جو چاہے رکھے ؟ – یہ بات سمجھ سے بالا ہے
      توحید سے متعلق عقائد میں خرابی سے تو پہلے مشرک ہو گا

      شرک کرنے سے یقینا عقیدے کی خرابی یقینا لازم آئے اسی وجہ سے مشرک پر جنت حرام ہے – لیکن وہ جو صحیح عقیدہ ہو اور احکام میں کسی اور کو رب بنا لے وہ کافر کہلائے گا

      بہر صورت اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ امت میں شرک ہو رہا ہے تو پھر نزاع ختم

      ——————————–

      آپ نے سوال کیے

      کیا آج “المشرکات“ (وحی ، رسالت اور آخرت کے منکرین) سے نکاح حلال قرار دیا جا سکتا ہے ؟ کیا آج عیسی ع کو اللہ کا بیٹا ماننے والی عیسائی عورت سے نکاح کو حرم قرار دیا جا سکتا ہے ؟ کیا دنیا میں برتائو کے لحاظ سے یہ دونوں دو الگ الگ ملتیں ، یعنی ایک المشرکین کی ملت اور دوسری اہل کتاب کی ملت قرار نہیں پاتیں ؟ کیا آیت کے منسوخ ہونے سے المشرکین کی ملت ہی منسوخ ہو گئی ؟

      جواب
      اس میں ہمارا اپ سے کوئی اختلاف نہیں
      مشرک بت پرست سے نکاح نہیں
      اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح ہے
      ان کا ذبیحہ حلال ہے

      آیات میں جب ناسخ و منسوخ کی بحث ہوتی ہے تو اصل حکم میں استثناء دیکھا جاتا ہے
      اصل حکم مشرک عرب کے لئے ہے لیکن شرک کرنے والی کتابی عورت پر دوسرے حکم سے استثناء آ گیا ہے

      —–

      آپ نے کہا

      محترم نبی ص کی پیدائش سے تین صدیاں قبل شہر نیقیہ میں عیسائیوں کا زبردست اجتماع ہوا تھا اور ساری اناجیل تلف کر کے صرف چار نسخے باقی رکھے گئے تھے اور ان چاروں نسخوں میں مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دیا گیا تھا ۔۔ اللہ تعالی بغیر کسی استثنا کے قرآن میں عیسائیوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ۔۔ یہ عیسی ع کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں ۔۔ کوئی ایک بھی ایسا عیسائی نہ اس وقت اور نہ آج ایسا ممکن ہے جو مسیح کو اللہ کا بیٹا نہ مانتا ہو ۔۔ اور کیوں نہ مانے جب اس کی کتاب مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتی ہے ۔۔ تو اگر شرک عقیدے کی خرابی ہے تو ایک نصرانی کس طرح موحد ہو سکتا ہے ؟ اس لئے آپکے نظریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ۔۔ خود آپ کا یہ ارشاد فرمانا کہ ۔۔۔ الله ایک نصرانی جو موحد ہو اور ایک یہودی جو موحد ہو اور آخرت کا یقین رکھتا ہو اس کا فیصلہ خود کرے گا ۔۔۔ سرے سے ایک متناقض بات بن جاتی ہے ۔۔

      جواب
      میری مراد ورقه بن نوفل اور ان کے جیسے اہل کتاب ہیں – جو نصرانی تھے لیکن موحد تھے
      اسی طرح یہود میں بھی بعثت نبی صلی الله علیہ وسلم سے پہلے لوگ تھے جو موحد تھے اور بعض صحابی بنے مثلا عبد اللہ بن سلام
      ان لوگوں کا ذکر قرآن میں سورہ ال عمران کے آخر میں موجود ہے

      ———-

      آپ کی بحث پڑھ کر جو میں آپ کا موقف جو سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ المشرکین ایک الگ ملت ہیں اور اہل کتاب الگ ہیں اور امت مسلمہ الگ ہے – اب چاہے امت مسلملہ میں شرک ہو یا اہل کتاب میں وہ المشرکون میں سے نہیں ہیں

      آپ کی بات صحیح ہے لیکن سمجھنے کا فرق ہے

      قرآن میں اکثر مشرک ، عرب بت پرست کو کہا گیا ہے – اہل کتاب، یہود و نصرانی کو کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ بھی شرک کرتے ہیں

      الله تعالی نے اہل کتاب کو کافر کہا ہے کہ نہیں؟

      لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا إِلَٰهٌ وَاحِدٌ

      لیکن ان کو اہل کفار سے الگ رکھا ہے – الگ احکام دیے ہیں

      لیکن یہ الله کا فیصلہ ہے کہ شرک کرنے کے باوجود اس نے انسانوں کی اس طرح تقسیم کی ہے کہ انبیاء کی قائل امتوں کو رسالت کی انکاری امتوں سے بہتر درجہ دیا ہے

      اس لئے ہم امت عیسیٰ و موسی میں باوجود اس کے کہ شرک ہو رہا ہے لیکن ہم ان کو مشرک بت پرست نہیں کہتے – اسی طرح امت مسلمہ میں بھی اگر فرقے شرک کریں تو اس کو امت محمد کا مشرک ہی کہا جائے گا ان پر مشرک مکہ کا حکم نہیں لگے گا

      ڈ اکٹر عثمانی نے ایسا ہی لکھا ہے – آپ ان کی کتاب دیکھیں کتاب دین الخالص قسط دوم

      الله کا لاکھ شکر ہے کہ اج اس ملت کے اندر عقیدہ کا مسئلہ علماء کے دو گروہوں کے درمیان ….. تو اس طرح قبر پرستی کو سند جواز دینے والے علماء کو ڈاکٹر عثمانی نے امت اور ملت اسلامی میں ہی شمار کیا ہے

      یعنی شرک کرنے والے یا بد عقیدہ علماء کو انہوں نے امت مسلمہ میں لیا ہے

      جب فرقوں کا شرک معلوم ہوا گیا ہے تو نتجہ کے طور پر اس سے عقیدے کی خرابی لازم اتی ہے لیکن ان کو امت محمد میں ہی شرک کرنے والا کہا جائے گا نہ کہ مشرکین مکہ قرار دیا جائے گا

      ——–
      پہلے آپ خود ان فرقوں سے منسلک جہادیوں کے لئے رطب اللسان تھے
      ///

      جبکہ ایمان کے سب سے بڑے لازمی عملی تقاضے جہاد کو زندگی کا مقصد قرار دینے والے زیادہ سے زیادہ گروہوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے ۔۔
      جماعت اسلامی ، جماعت الدعوہ ، جیش محمد اور کئی تنظیمیں خراسان میں اور کشمیر میں مسلسل جہاد کرتی چلی آ رہی ہیں ۔۔
      ///

      تو یہ کیا تضاد نہیں کہ ان گروہوں میں شرک ہو رہا ہے یہ جہاد بھی کر رہے ہیں

      ———-

      آپ واضح کریں کہ کیا
      آپ کے نزدیک عرض عمل رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ماننا شرک نہیں ہے ؟
      انبیاء کو قبوز میں مسلسل زندہ ماننا شرک نہیں ہے ؟
      تعویذ شرک نہیں ہے ؟
      وسیلہ شرک نہیں ہے ؟

      مزید یہ کہ بہتر فرقوں والی حدیث پر کیا موقف ہے- واضح کریں

      ———
      کیا اپ کو معلوم ہے کہ اپ کی جہادی تنظیموں کے نزدیک ان کے جیسا عقیدہ رکھنے والے لیکن
      سستی پر نماز چھوڑنے والا کافر ہے اور گناہ کبیرہ یعنی زانی اور قاتل کا مرتکب کافر ہے
      اور اس بلاگ میں اسی پر بحث ہے
      ———

  11. Shakeel Ahmed says:

    مخالف کا جواب
    _______

    محترم ۔۔ آپکی ہوسٹ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ شاید میں آپکو اپنا شرک اور کفر کے بارے میں مدعا درست طرح سمجھانے میں ناکام رہا ہوں ۔۔ یا پھر آپ درست طرح سمجھ نہیں پائے ۔۔ لہذا میں ممکنہ اختصار کے ساتھ اپنا مکمل موقف آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا ۔۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس کے بعد آپ کو اپنے سارے سوالوں کا جواب اسی میں مل جائے گا ۔۔
    اللہ کا انسان سے بنیا دی مطالبہ ایک ہی ہے ۔۔ یا ایھا الناس اعبدوا ربکم ۔۔ انسان کا مقصد تخلیق بھی یہی ایک ہے ۔۔ و ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ۔۔ ہمارا بنیادی شناختی کارڈ بھی یہی ہے کہ ۔۔ لا الہ الا اللہ ۔۔ عبادت کے لائق صرف اللہ ہے ۔۔ ذرا ساہی غورو فکر اس بات کو سمجھا دیہنے کیلئے کافی ہے کہ صرف اللہ کی عبادت انسان اسی صورت میں کر سکتا ہے جب تک وہ سلسلئہ انبیا ع اور آخرت کی حقیقتوں کو بھی تسلیم نہ کرے ۔۔ عبادت کس طرح کرے ؟ کونسے احکامات کا پابند (عبد) بنے ؟ اور اگر پابندی (عبادت) نہیں کرتا تب بھی خاک میں مل کر فنا ہی ہو جانا ہے اور عبادت کرتا ہے تب بھی خاک میں مل جانا ہے ، کوئی جزا سزا ہے ہی نہیں تو صرف اللہ کی عبادت کا فائدہ ہی کیا ؟
    لہذا “اعبدوا ربکم “ کا مطالبہ دراصل ایک بنیادی پیکج پر ایمان لا کر اس پیکج کے مطابق عملی ذمہ داریوں کو انجام دینے کا مطالبہ ہے ۔۔ بنیادی پیکج کے مطابق ۔۔ ١) اللہ رب العالمین ہے ٢) اس نے اپنے احکامات رسولوں کے ذریعہ ہر دور کے انسانوں تک پہنچائے ہیں تاکہ صرف اللہ کے حکم کی اطاعت و پابندی ہو ٣) جو پیکج کو مان کر ، دستخط کر دیتے ہیں اور اس کے مطابق عملی ذمہ داریاں انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں انکو موت کے بعد اصل زندگی میں اس کی جزا انکے اعمال کے لحاظ سے دی جائے گی ۔۔
    مختصرا بنیادی پیکج یعنی بنیادی مطالبہ کی صرف اللہ کی عبادت کا مطالبہ ۔۔ اللہ ، سلسلئہ انبیا اور آخرت کی حقیقتوں کو دل سے مان کر اس کے مطابق عملی ذمہ داریوں کو انجام دینے کیلئے حامی بھرنے کا نام ہے ۔۔
    یہ ایک مکمل پیکج ہے اس کو ادھورا نہیں مانا جا سکتا اور یہ مطالبہ کیونکہ بلا امتیاز سارے انسانوں سے کیا گیا ہے ۔۔ یا ایھا الناس اعبدوا ربکم ۔۔ لہذا اس پیکج کے مطالبے کے جواب میں انسان کے پاس دو ہی آپشن یا جواب رہ جاتے ہیں ۔۔ ١) نہیں ۔۔۔ ٢) ہاں
    ١۔ نہیں : اس نہیں کی کئی ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں ۔۔ مثلا اللہ ہی نہیں ہے ۔۔ یا اللہ تو ہے لیکن یہ نبیوں ، کتابوں ، وحی وغیرہ سب جھوٹ ہے ۔۔ نہیں کی کوئی بھی وجہ ہو نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کے اختیاری حصے کی اللہ کے احکام و قوانین کے مطابق پابندی (اطاعت و عبادت) کا انکار کر دیتے ہیں ۔۔ جس سے ان کا پورا وجود عبادت میں تقسیم (شرک) کا شکار ہو جاتا ہے ۔۔ ان کا پھیپھڑا ، گردہ ، مثانہ ، دل ، خون تو اللہ کے قانون کی پابندی (تسبیح) کرتا ہے لیکن اپنے اختیار سے وہ رب العالمین کو نظر انداز کر کے اپنی ہی خواہش نفس کی یا اپنے جیسے انسانوں کے احکامات و قوانین کی پابندی (اطاعت و عبادت) کرنے لگتا ہے ۔۔ اس طرح انکے الہ اور رب خود انکی خواہش نفس اور ان کے جیسے ہی انسان بن کر رہ جاتے ہیں ۔۔ انکی پابندی (عبادت) میں شرک کا پیوند لگ جاتا ہے ۔۔ اس طرح یہ نعبد کا انکار کر دیتے ہیں اور نشرک کو قبول کر لیتے ہیں ۔۔ ایسے انسانوں میں سے ہر شخص جوہری اور خالص مشرک ہے ۔۔ ایسے انسانوں میں زندگی کے دیگر امور کے بارے میں لاکھ اختلافات سہی لیکن اعبدوا ربککم کے بنیادی مطالبے کے جواب میں ان سب کا بنیادی جوہر ایک ہی ہے یعنی انکا آدھا وجود تو اللہ کی تسبیح کرتا ہے اور آدھا وجود اللہ کی عبادت کا سرے سے انکار کرتا ہے ۔۔ یہ جوہری مشرک ہیں ۔۔ اسی لئے قرآن اس ملت کے لوگوں کو جو وحی ، رسالت اور آخرت کی ہی منکر ہو “المشرکین“ کی ملت قرار دیتا ہے ۔۔

    امید ہے یہاں تک بات آسانی سے سمجھ میں آ رہی ہو گی ۔۔
    ٢۔ ہاں ) جن انسانوں نے بھی بنیادی پیکج ، اعبدوا ربکم کو مان لیا ۔۔ یعنی رب العالمین ہے ، جس نے اپنا حکم و قانون نبیوں کے ذریعہ بھیجا ہے اور ہمیں آخرت میں اللہ کو جواب دینا ہے ۔۔ وہاں ہمیں جنت یا جھنم ملے گی ۔۔ اس لئے ہمیں اللہ کے ہی حکم و قانون کی اطاعت و عبادت کرنی ہے ۔۔ انہوں نے نشرک کا انکار کر دیا اور نعبد کو مان لیا ۔۔ انہوں نے اپنے وجود کو تقسیم ہونے سے بچا لیا ۔۔ انکا جوہر مشرک نہیں رہا ۔۔ ان پر المشرکین“ کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا ۔۔ ان کو اللہ نے سارے قرآن میں مشرک نہیں کہا ۔۔ ان کو مشرک کہنے والا سخت غلطی کرتا ہے ۔۔ اب ان لوگوں کے اوپر کوشش فرض ہے ۔۔ ان سے کہیں طاقتور دشمن انکو بہکانے کیلئے موجود ہے ۔۔ زندگی ان کاس امتحان لیتی رہتی ہے ۔۔ ان لوگوں سے بڑی بڑی اعتقادی اور عملی غلطیوں کا صدور ممکن ہے ۔۔ لیکن اس کے باوجود ہم انہیں مشرک قرار نہیں دے سکتے ، انکی ملت ہی غیر مشرکین کی ملت ہے جو اعبدوا ربکم کا اقرار کر چکی ہے ۔۔ اس ملت میں الذین آمنوا ، اہل کتاب عیسائی اور اہل کتاب یہودی شامل ہیں ۔۔
    اب اس ملت کے لوگوں سے بھی شرک سرزد ہو سکتا ہے ۔۔ دیگر بڑے بڑے گناہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن ہم انہیں مشرک قرار نہیں دے سکتے ۔۔
    آپ سوال کر سکتے ہیں کہ جو شرک کرے کیا وہ مشرک نہیں ہے ؟ لیکن بات شرک کے درجات پر آ جاتی ہے ۔۔ ان سب نے دین شرک کا انکار کر کے دین توحید یعنی اعبدوا ربکم کا اقرار کر کے اپنے جوہر کو شرک سے بچا لیا ہے ۔۔ یہ “المشرکین“ نہیں بن سکتے ۔۔
    دیکھئے قرآن کہتا ہے کہ “السارق“ کا ہاتھ کاٹ دو ۔۔ جس نے پانچ روپے چرائے اس نے چوری کی ۔۔ جس نے چوری کی وہ یقینا چور ہے ۔۔ تو کیا پانچ روپے چرانے والے پر “السارق“ کی وہ حد لگائی جا سکتی ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ؟ یقینا نہیں ۔۔ چوری کے درجات ہیں ۔۔ جب تک اس نے سرقہ کی وہ حد کراس نہیں کر لی جس سے وہ قرآن کا السارق بن سکے ۔۔ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا حالانکہ کمتر درجے کی چوری وہ کرتا ہے ۔۔
    اسی طرح قرآن “الزانی“ کو سو کوڑے مارنے کا حکم دیتا ہے یا سنگسار کا حکم دیتا ہے ۔۔ لیکن جس نے کسی عورت کا صرف ہاتھ بری نیت سے پکڑا ۔۔ یقینا اس نے بھی زنا ہی کیا ۔۔ جس نے زنا کیا وہ زانی ہے تو کیا اسے بھی سنگسار کر دیا جائے ؟ ہر گز نہیں ۔۔ جب تک وہ قرآن کا “الزانی“ نہیں بن جاتا ہم اس پر زنا کی حد جاری نہیں کر سکتے ۔۔
    بالکل اسی قاعدے کے تحت ۔۔ قرآن نے “المشرکین“ کی حد جاری کر دی ہے اور یہ حد صرف اس ملت کے لوگوں پر لگ چکی ہے جو اعبدوا ربکم کے بنیادی مطالبے کا ہی انکار کر دیتے ہیں ۔۔ جنہوں نے اعبدوا ربکم کے بنیادی مطالبے کو مان لیا ۔۔ انہوں نے ایک روز الکلہ کے آگے جوابدہی کی حقیقت کو مان لیا ۔۔ اب ان للوگوں میں اور آخرت مے منکرین میں زمین آسمان کا فرق پڑگیا ۔۔ ان لوگوں سے شرک ہو سکتا ہے ۔۔ جس سے شرک ہو ویہ مشرک کہلاتا بھی ہے ۔۔ لیکن جس طرح پانچ روپے چرانے والا بھی چور ہے ۔۔ اس نے چوری ہی کی ہے لیکن وہ “السارق“ نہیں ہے جس پر حد لگ سکے ۔۔ ویسے ہی شرک کی حد بی صرف “المشرکین“ پر لگتی ہے ۔۔ میری بات کا ثبوت سارا قرآن ہے ۔۔ جو المشرکین میں اور اہل کتاب اور الذین آمنوا کی ملت میں واضح خط امتیاز برتتا ہے ۔۔ سارے قرآن میں اللہ نے کہیں بھی اہل کتاب کو مشرک نہیں کہا حالانکہ انکے شرک کا ذکر کیا ہے ۔۔۔

    امید ہے بات سمجھ میں آ رہی ہو گی ۔۔ اب بس تیسری اور آخری وضاحت رہتی ہے ۔۔
    میں چاہوں گا کہ عدل و انصاف کے تقاضوں کی روشنی میں بھی ان حقائق کا جائزیہ لے لیں ۔۔
    دیکھئے ایک عیسائی عورت ہے ۔۔ وہ اللہ کے آگفے جوابدہی پر یقین رکھتی ہے ،، جنت کو بھی مانتی ہے ، جھنم کو بھی مانتی ہے ۔۔ عیسی ع کو اللہ کا بیٹا مانتی ہے ۔۔ لیکن ساری عمر لوگوں کے حقوق کا خیال رکھتی ہے ۔۔ بے ایمانی کا تصور تک نہیں کرتی کہ جھنم کی آگ میں ڈالا جائے گا ۔۔ جن چیزوں کو اللہ نے حلال کیا ہے وہی کھاتی ہے ۔۔
    اس کے برعکس ایک ہندو یا فلپائنی عورت ہے ۔۔ کتے ، چھپکلی ، کھاتی ہے ۔۔ جہاں سے اور جس طرح مالی فائدہ حاصل ہو جائے ۔۔ وہ حاصل کر لیتی ہے خواہ کتنا بڑا انسان کا حق ہی کیوں نہ مارا جائے ۔۔ قانون کی نظروں سے بچ کر قتل تک کرنا پڑے تو کر جاتی ہے کہ زندگی بس یہی زندگی ہے ۔۔ تو کیوں کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے دیا جائے ؟
    کیا ان دونوں کا اخروی انجام ایک جیسا ہونا چاہئے ؟ قرآن اور محمد ص کے انکار کی سزا کا حق بےشک عیسائی عورت رکھے گی لیکن کیا اس دنیا میں برتائو کے لحاظ سے بھی جب اللہ نے اس عیسائی عورت سے نکاح کو حلال کیا ہے تو آخرت کی سزا میں بھی اس کی سزا اور ہندو عورت کی سزا میں کوئی فرق نہ ہونا چاہئے ؟ ہندو عورت ایک بھی ایسا عمل کر ہی نہیں سکتی جس کا اجر اسے آخرت میں مطلوب ہو ۔۔ لیکن عیسائی عورت نے ڈرتے ڈرتے ساری عمر گزاری کہ کہیں جھنم میں نہ جانا پڑ جائے ؟
    پھر آگے بڑھئے الذین آمنوا ملت کے ایک شخص پر نظر ڈالتے ہیں ۔۔ یہ دیئوبندی گھرانے میں پیدا ہوا ۔۔ فطرتا نیک ہے ۔۔ جنت کی شدید خواہش رکھتا ہے ۔۔ شرک سے ڈرتا ہے ۔۔ پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے ۔۔ روزے رکھتا ہے ۔۔ لوگوں کے حقوق پورے کرتا ہے ۔۔ بوڑھے والدین کی خدمت اس لئے کرتا ہے کہ اللہ اس کو اجر دے گا ۔۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔ اور عمل بھی کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔ بخاری بھی پڑھتا ہے جس میں اسے حدیث ملتی ہے کہ جنازے پر وفاتر یافتہ شخص کلام کرتا ہے ۔۔ وہ سوچتا ہے کہ جب کلام کر سکتا ہے تو سن بھی سکتا ہو گا ۔۔ پھر احادیث پڑھتا ہے کہ قبر میں عزیزوں کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے ۔۔ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ وفات یافتہ انسان سنتے ہیں ۔۔ لیکن وہ قبر پرستی سے شدید نفرت کرتا اور شرک سمجھتا ہے ۔۔ میرا قیاس اس شخص کے بارے میں یہی ہے کہ یہ شخص ضرور جنت میں جا کر رہے گا ۔۔
    لیکن عثمانی صاحب کہتے ہیں کہ اس نے شرک کی جڑ کو ہی نہیں سمجھا ۔۔ یہ مشرک ہے ۔۔ کافر ہے ۔۔ اس کے سارے اعمال حبط ہو گئے ۔۔ یہ دائمی جھنمی ہے ۔۔
    آپ کا عدلو انصاف کا پیمانہ کیا کہتا ہے ؟

    1. Islamic-Belief says:

      بھائی آپ کو کہہ رہے ہیں اس پر سوال ہے کہ

      اول وہ اہل کتاب جو صالح ہوں لیکن مشرک ہوں کیا جنتی ہیں؟
      دوم شرک کرنے والے کو عربی میں مشرک کہتے ہیں اور مشرک کا عمل حبط ہو جائے گا یہ قرآن میں ہے کہ نہیں کہ انبیاء اگر شرک کرتے تو عمل حبط ہو جاتے
      اس عدل پر آپ کیا کہیں گے ؟ الله تعالی کا مقرر کردہ ہے – ایک نبی صالح ہے متقی ہے – غلطی سے شرک کرے تو تمام عمل حبط
      اس کا عدل یا ہمارا عدل نہیں چلے گا جو الله نے مقرر کر دیا وہی ہو گا
      لہذا اس کو تسلیم کریں
      سوم بریلوی ہوں یا دیو بندی ہوں یا اہل حدیث ہوں یا ہم ہوں – ہم سب کا کہنا ہے کہ اہل کتاب مشرک کے زمرے میں ہیں – قرآن میں مشرکین کا لفظ بعض اوقات عرب کے بت پرستوں کے لئے بولا جاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہل کتاب شرک کرنے پر مشرک نہیں کہلا سکتے
      ان کے عقیدے کی خرابی کے باوجود الله نے ان کا درجہ بت پرستوں سے خود بلند کیا ہے
      ———-
      آپ نے مثال پیش کی کہ
      ////
      ایک عیسائی عورت ہے ۔۔ وہ اللہ کے آگفے جوابدہی پر یقین رکھتی ہے ،، جنت کو بھی مانتی ہے ، جھنم کو بھی مانتی ہے ۔۔ عیسی ع کو اللہ کا بیٹا مانتی ہے ۔۔ لیکن ساری عمر لوگوں کے حقوق کا خیال رکھتی ہے ۔۔ بے ایمانی کا تصور تک نہیں کرتی کہ جھنم کی آگ میں ڈالا جائے گا ۔۔ جن چیزوں کو اللہ نے حلال کیا ہے وہی کھاتی ہے
      ///
      اس پر سورہ البینہ میں الله کا فیصلہ آ چکا ہے کہ یہ لوگ جہنمی ہیں
      أنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُوْلَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ

      ============
      آپ نے مزید لکھا ہے
      ////
      یہ دیئوبندی گھرانے میں پیدا ہوا ۔۔ فطرتا نیک ہے ۔۔ جنت کی شدید خواہش رکھتا ہے ۔۔ شرک سے ڈرتا ہے ۔۔ پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے ۔۔ روزے رکھتا ہے ۔۔ لوگوں کے حقوق پورے کرتا ہے ۔۔ بوڑھے والدین کی خدمت اس لئے کرتا ہے کہ اللہ اس کو اجر دے گا ۔۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔ اور عمل بھی کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔ بخاری بھی پڑھتا ہے جس میں اسے حدیث ملتی ہے کہ جنازے پر وفاتر یافتہ شخص کلام کرتا ہے ۔۔ وہ سوچتا ہے کہ جب کلام کر سکتا ہے تو سن بھی سکتا ہو گا ۔۔ پھر احادیث پڑھتا ہے کہ قبر میں عزیزوں کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے ۔۔ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ وفات یافتہ انسان سنتے ہیں ۔۔ لیکن وہ قبر پرستی سے شدید نفرت کرتا اور شرک سمجھتا ہے ۔۔ میرا قیاس اس شخص کے بارے میں یہی ہے کہ یہ شخص ضرور جنت میں جا کر رہے گا ۔

      ////

      اس کا ہی تو اختلاف ہے – سماع الموتی حیات فی القبر کی جڑ ہے – اس سے قرآن کا رد ہوتا ہے اور حدیث کی وہی تاویل کی جائے گی جو اس کو قرآن کے عقائد سے منطبق کر دے
      ڈاکٹر عثمانی نے اس کو شرک کی جڑ کہا ہے تو آپ خود غور کریں اور جو قبر پرستی کر رہے ہیں ان کا انٹرویو لیں کہ وہ کس بنیاد پر یہ سب کرتے ہیں وہ آپ کو روایات و احادیث ہی بتائیں گے – آپ کے پاس دو راستے ہوں گے یا تو اس کو قبول کریں اور قبر پرستی کرنے لگ جائیں یا تحقیق کریں اور ضعیف کو منکر کو شاذ کو واضح کریں – قرآن کے عقیدے پر آئیں

  12. Shakeel Ahmed says:

    شکریہ بھائی__جزاک اللہ

    ویسے بھائی دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کس قدر الجھن کا شکار بنی ھوئی ھے ایک طرف تو قبر پرستی کو شرک بھی
    سمجھتے ہیں اور جو اس شرک میں مبتلا ھے اس کے لیئے کھتے ہیں کہ شرک کرنے سے اس کے عقیدے پر کوئی زنگ نہیں پڑتی اور نا ہی وہ مشرک ھے عجیب بات ھے عقیدے میں شرک اور عقیدہ درست رھے_ میں تو حیران ہوں جماعت اسلامی کی اس تضاد بیانی پر یا تو یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا پہر سب کچھ جانتے ہوئے اکابر پرستی کا شکار ہیں_

    1. Islamic-Belief says:

      اللہ رحم کرے

  13. Shakeel Ahmed says:

    مخالف کا جواب
    _______

    محترم .. جو چوری کرے وە سارق ہے لیکن ہر چور السارق نہیں ہے کہ جس پر چوری کی حد جاری ہو سکے ..
    جو شرک کرے وہ مشرک ەے . لیکن ەر مشرک .. المشرکین میں شامل نہیں ەے جس پر شرک کی حد لگے .. یہ میرے ذہن کے گهڑے ەوئے یا ذاتی قیاسات نہیں ہیں .. یہ قرآن کے فیصلے ہیں ..
    نبی ص جس کو غیب کے مشاہدات کرائے جاتے ہیں .. جس کو انسانیت کیلئے ایک معیار بنایا جاتا ہے .. بفرض محال اگر وە آنکهوں دیکھنے کے بعد بھی شرک کرے تو اس کے سب اعمال حبط ەونے ہی چاہیں .. یہی عدل ہے .. یہی کم از کم میری عقل بھی کہتی ہے اور ہر صاحب عدل و عقل انسان بھی یہی کہے گا ..یہ الگ بات ہے آپ اس کے بالکل خلاف بات کر رہے ہیں
    سارے قرآن میں اللە نے اہل کتاب کو مشرک نہیں کہا .. اہل کتاب اور المشرکین میں امتیاز ہی برتا ہے . لیکن آپ اس امتیاز کو مٹا دینے کے درپے ہیں ..
    اہل کتاب اور المشرکین دونوں .. کافر ہیں .. کیونکہ وە قرآن اور محمد ص کے انکاری ہیں .. کفر کے نقطئہ نظر سے جو بھی ملتیں ، گروە ، انسان قرآن اور محمد ص کا انکار کرتے ہیں وە ایک ہی ملت بن جاتے ہیں جو کہ قرآن کے بقول الکفر ملت واحدہ ملت بنتی ہے .. لیکن شرک کے نقطئہ نظر سے دو ہی بنیادی ملتیں ہیں ایک وحی ، رسالت اور آخرت کا انکار کر کے دین شرک کو ہی اپنا دین بناتی ہیں .. یہ اصل اور خالص المشرکین ہیں اور قرآن انہیں المشرکین کی الگ ملت میں رکھتا ہے .. عیسائی اور ایمان والی ملت کے لوگ دین توحید کو مان کر یعنی صرف اللە کی عبادت کے مطالبے کو مان کر خود کو المشرکین کی میں جانے سے بچا لیتے ہیں .. سارا قرآن المشرکین کی ملت کو الگ اور ممیز رکھتا ہے .. اس لئے کہ اہل کتاب خود کو اللە کے آگے جوابدہ سمجھتے ہیں اور جنت اور جھنم پر یقین رکھتے ہیں ..
    مشرکانہ عقیدە رکھنا کفر ہے . شرک عمل کی خرابی کا نام ہے اور وە عمل کی خرابی غیر اللہ کی عبادت ہے .. دیکھئے جو عیسائی مسیح کو اللە کا بیٹا قرار دیتے ہیں . اللە انکی اس غلطی کو شرک سے تعبیر نہیں کر رہا بلکە کفر قرار دے رہا ہے .. لقد کفر الذین کہہ رہا ہے .. لقد اشرک الذین نہیں کہہ رہا ..
    ایمان والی ملت ہو یا اہل کتاب ملت یہ سب اللە سے آخرت میں اجر پانے کی امید رکھتے ہیں .. ان میں بہت سارے ایسے ەوتے ہیں جنکی ذہنی وسعت ہی بہت تنگ ەوتی ہے .. ان سے انکی وسعت کے مطابق حساب لیا جائے گا .. موزے سے پانی کو کتے کو پلانے جیسے اجر پر بھی اللە بخش دے گا .. لیکن انبیاء کی وسعت بہت زیادە ەوتی ہے . اگر وە جانتے بجھتے شرک کریں تو ان کا سب کیا دھرا غارت ەونا چایئے ..
    میں آپ سے دوبارہ درخواست کروں گا کہ ایک دیئو بندی پانچ وقت کا نمازی ہے .. روزے دار ہے .. بوڑھے والدین کی خدمت اللە سے اجر پانے کی نیت سے کرتا ہے . کسی کا حق نہیں مارتا .. قبر پرستی کے سخت خلاف ہے .. بخاری کا باب پڑھ کر کہتا ہے کہ یقیناً وفات یافتہ انسان جنازے پر کلام کرتا ہے اور بولتا ہے تو یقیناً سنتا بھی ہو گا .. پھر بخاری اور مسلم میں پڑھتا ہے کہ وفات یافتہ انسان عزیزوں کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے .. وە یقین کر لیتا ہے کہ وفات یافتہ انسان سن سکتا ہے ..
    میرا قیاس یہی کہتا ہے کہ یہ شخص یقینی جنتی ہے ..
    لیکن عثمانی صاحب کہتے ہیں کہ یہ کافر اور مشرک ہے .. اس کے سارے اعمال حبط ہو گئے یہ دائمی جہنمی ہے ..
    و ما انا بظلام للعبید کەنے والا اللە .. کیا ایسا کر سکتا ہے .. کوئی اور ایسا غیر منصفانہ قانون مجھے آپ دکھا سکتے ہیں ؟

    1. Islamic-Belief says:

      اس شخص کا کہنا ہے
      ///
      شرک عمل کی خرابی کا نام ہے اور وە عمل کی خرابی غیر اللہ کی عبادت ہے
      ////

      یہ صریح جھل ہے – کیونکہ عقیدہ یا نیت سے عمل بنتا ہے

      اس پر اب مزید بحث ممکن نہیں کیونکہ یہ کسی مجہول شخص کے شاذ تصورات ہیں اور یہ جماعت اسلامی کا متفقہ موقف بھی نہیں ہے

      اس شخص نے کہا
      ////
      . دیکھئے جو عیسائی مسیح کو اللە کا بیٹا قرار دیتے ہیں . اللە انکی اس غلطی کو شرک سے تعبیر نہیں کر رہا بلکە کفر قرار دے رہا ہے .. لقد کفر الذین کہہ رہا ہے

      ///////////

      تو گویا شرک الگ ہے کفر الگ ہے – کفر کا درجہ شرک سے کم ہے ؟ اور گویا اہل کتاب شرک نہیں کر رہے
      سورہ توبہ میں ہے
      يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
      . هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ

      اس طرح کافر اور مشرک کو ایک کیا ہے
      ———–
      وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ . اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لا إِلَهَ إِلا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
      اہل کتاب کو مشرک کہا ہے
      ———
      اللہ نے اس کو کفر کہا ہے کیونکہ اہل کتاب اس کے انکاری ہیں کہ وہ کافر ہیں یا مشرک ہیں – وہ مسیح کو الله تعالی کی ہی ایک شکل قرار دیتے ہیں – اس بنا پر بات کا رخ ان کے تصور رب کے حوالے سے دیا گیا ہے

      قرآن میں اصطلاح کے طور پر بت پرست یا فرشتہ پرست کو المشرک کہا گیا ہے اور اہل کتاب یہود و نصرانی کو کہا گیا ہے
      لیکن دونوں کا اخروی انجام کافر و مشرک کا ہے
      أنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُوْلَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ

      صحیح مسلم میں حدیث ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
      والذي نفس محمد بيده لا يسمع بي أحد من هذه الأمة يهودي ، ولا نصراني ثم يموت ، ولم يؤمن بالذي أرسلت به إلا كان من أصحاب النار
      وہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے امت یہود یا نصرانی کا کوئی بھی میرے بارے میں سن لے مگر ایمان نہ لائے اور مر جائے تو وہ جہمنی ہے
      ————
      جو شخص اہل کتاب پر شرک کا انکار کر رہا ہو ہو لیکن مانتا ہوں کہ وہ کافر ہیں بس ان کو مشرک نہ کہو اس سے بحث بے مقصد ہے کیونکہ اخروی انجام پر وہ واضح موقف نہیں رکھتا اور قرآن کا منکر ہے
      سورہ البینہ میں اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو جہنمی کہا گیا ہے جن وجوہات پر کہا گیا ہے وہ امت مسلمہ میں بعض میں آ جائیں تو کیا ان پر حکم الگ لگے گا؟

      اس شخص کا کہنا ہے کہ سیاست دان کا حکم ماننا شرک ہے اور والدین کا مشرکانہ حکم ماننا شرک نہیں
      یا للعجب
      ——–
      اس شخص کا قیاس ہے
      ///
      ایک دیئو بندی پانچ وقت کا نمازی ہے .. روزے دار ہے .. بوڑھے والدین کی خدمت اللە سے اجر پانے کی نیت سے کرتا ہے . کسی کا حق نہیں مارتا .. قبر پرستی کے سخت خلاف ہے .. بخاری کا باب پڑھ کر کہتا ہے کہ یقیناً وفات یافتہ انسان جنازے پر کلام کرتا ہے اور بولتا ہے تو یقیناً سنتا بھی ہو گا .. پھر بخاری اور مسلم میں پڑھتا ہے کہ وفات یافتہ انسان عزیزوں کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے .. وە یقین کر لیتا ہے کہ وفات یافتہ انسان سن سکتا ہے ..
      میرا قیاس یہی کہتا ہے کہ یہ شخص یقینی جنتی ہے ..
      ///

      قیاس اس وقت کیا جاتا ہے جب نص نہ ہو – نص قرانی میں سماع الموتی کا انکار ہے تو ایسا شخص یہ عقیدہ کیسے رکھ سکتا ہے جو قرآن میں نہیں

      ————-

      اب مزید بے ربط تصورات پر جواب نہیں دیا جا سکتا
      =====================================

      نوٹ
      امت میں تکفیر کی چند امثال
      اول ابو بکر رضی الله عنہ نے نماز پر قائم لیکن زکوات کے منکر کو کافر قرار دیا ہے
      دوم محدثین نے جھمیووں کو کافر کہا ہے جو خلق قرآن کے قائل تھے
      سوم اس کانتات میں ہر جگہ اللہ کو موجود ماننے والے بریلوی اور دیوبندیوں کو بھی بعض وہابی جھمی کہتے ہیں
      چہارم جہادی تنظیمین گناہ کبیرہ کے مرتکب مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں
      پنجم سستی پر نماز چھوڑنے والا مسلم امام احمد اور بعض جنبلیؤن کے نزدیک کافر ہے

  14. Shakeel Ahmed says:

    جی بھائی صحیح فرمایا آپ نے.

    اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ.

    آپ نے میری بھت مدد کی

    اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے_ اللہ تعالیٰ آپ کی دنیا و آخرت سنوار دے آمین.

  15. السلام عليكم

    جب ایمان کم زیادہ نہیں ہوتا تو پھر حدیث رسول میں ایسا کیوں کہا گیا کہ جو کے برابر ایمان ہو گا تو بھی جنت میں جائے گا؟
    یعنی اس حدیث میں ایمان کی کمی کو بیان کیا گیا ہے

    اور نماز ہی ایمان ہے یعنی عمل کرنے کا نام ایمان ہے بخاری۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان عمل کا نام بھی ہے صرف دل سے یقین کا نام نہیں ۔

    خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمر کی لمبی قمیض کو دیکھنا اور اسکی تعبیر زیادہ دین بتانا زیادہ ایمان کو شو نہیں کرتا؟

    ایمان کی ساٹھ شاخیں بیان کرنے کا مطلب ایمان کم و زیادہ ہوتا ہے ؟

    سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی سے کہ آپ فلاں شخص کو مال نہیں دے رہے جب کہ وہ مومن ہے نبی نے فرمایا مومن یا مسلم اس سے کیا مراد تھی نبی کی؟
    اور نبی کا ایمان کم والے کو صدقہ دینا ایمان زیادہ والے کو نہ دینا ایمان کی کمی زیادتی کو بیان کر رہا ہے۔اور بخاری کہ اس حدیث میں یہ بات سمجھ نہیں ارہی کہ کم ایمان والا کسے کہا جا رہا ہے کیونکہ سعد مومن کہتے نبی جواباً مومن یا مسلم کہتے ہیں اگر سعد کا دوست مسلم لغوی معنوں میں تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تو وہ کمزور ایمان ہوا اور اسکو صدقہ دینا چاہیے لیکن نبی اسکو نہیں دیتے یہ بات سمجھ نہیں ا رہی۔

    1. Islamic-Belief says:

      مومن کے ایمان کو کھجور کا درخت کہا گیا ہے اور اگر کھجور کا درخت کاٹ دو تو پھر درخت نہیں رہتا
      مومن کا ایمان آم کا یا پیپل کا درخت نہیں ہے بلکہ کھجور کا درخت کیوں ہے ؟

      لمبی قمیص کا تعلق فقہ کے علم سے ہے ایمان سے نہیں ہے

      ایمان کی شاخ مطلب ایمان کم کیسے ہوا ؟ شاخ کا مطلب کم زیادہ کیسے ہوا محض ایک
      ٹائپ
      یا
      kind
      قرار دینا ہے
      ——
      آپ فلاں شخص کو مال نہیں دے رہے ؟ مال تو بعض اوقات انصار کو بھی نہیں ملا جنگ حنین کے بعد کا واقعہ ہے کہ انصار کو بولا تم مجھ کو لے جاو لوگ مال لے جائیں

      لہذا اس کا تعلق ایمان سے نہیں ہے
      —–
      نماز ہی ایمان ہے کہاں لکھا ہے ؟ نماز تو منافق بھی پڑھ رہا تھا

  16. صحیح البخاری
    کتاب: ایمان کا بیان
    باب: مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنا بھی ایمان سے ہے
    حدیث نمبر: 53

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ کُنْتُ أَقْعُدُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَيَجْلِسُنِي عَلَی سَرِيرِهِ فَقَالَ أَقِمْ عِنْدِي حَتَّی أَجْعَلَ لَکَ سَهْمًا مِنْ مَالِي فَأَقَمْتُ مَعَهُ شَهْرَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ الْقَوْمُ أَوْ مَنْ الْوَفْدُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَی فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيکَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَکَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَائَنَا وَنَدْخُلْ بِهِ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ عَنْ الْأَشْرِبَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَائُ الزَّکَاةِ وَصِيَامُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا مِنْ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنْ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّائِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ وَقَالَ احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَائَکُمْ

    ترجمہ:
    ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہوں نے ابوجمرہ سے نقل کیا کہ میں عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس بیٹھا کرتا تھا وہ مجھ کو خاص اپنے تخت پر بٹھاتے (ایک دفعہ) کہنے لگے کہ تم میرے پاس مستقل طور پر رہ جاؤ میں اپنے مال میں سے تمہارا حصہ مقرر کر دوں گا۔ تو میں دو ماہ تک ان کی خدمت میں رہ گیا۔ پھر کہنے لگے کہ عبدالقیس کا وفد جب نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا کہ یہ کون سی قوم کے لوگ ہیں یا یہ وفد کہاں کا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ خاندان کے لوگ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا مرحبا اس قوم کو یا اس وفد کو نہ ذلیل ہونے والے نہ شرمندہ ہونے والے (یعنی ان کا آنا بہت خوب ہے) وہ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کی خدمت میں صرف ان حرمت والے مہینوں میں آسکتے ہیں کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا قبیلہ آباد ہے۔ پس آپ ہم کو ایک ایسی قطعی بات بتلا دیجئیے جس کی خبر ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی کردیں جو یہاں نہیں آئے اور اس پر عمل درآمد کر کے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور انہوں نے آپ سے اپنے برتنوں کے بارے میں بھی پوچھا۔ آپ ﷺ نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار قسم کے برتنوں کو استعمال میں لانے سے منع فرمایا۔ ان کو حکم دیا کہ ایک اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ جانتے ہو ایک اکیلے اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت سے جو ملے اس کا پانچواں حصہ (مسلمانوں کے بیت المال میں) داخل کرنا اور چار برتنوں کے استعمال سے آپ ﷺ نے ان کو منع فرمایا۔ سبز لاکھی مرتبان سے اور کدو کے بنائے ہوئے برتن سے، لکڑی کے کھودے ہوئے برتن سے، اور روغنی برتن سے اور فرمایا کہ ان باتوں کو حفظ کرلو اور ان لوگوں کو بھی بتلا دینا جو تم سے پیچھے ہیں اور یہاں نہیں آئے ہیں۔

    فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے ایمان کیا ہے کلمہ شہادت کی گواہی دینا اور صلوۃ قائم کرنا۔۔۔
    اس سے معلوم ہوا کہ صلوۃ بھی ایمان میں سے ہے۔

    اور کیا کتاب الایمان کے سارے کے سارے ابواب کسی اور نے قائم کیے ہیں؟

    1. Islamic-Belief says:

      سورہ بقرہ میں ہے
      لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ

      نیکی یہ ہے کہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لاو

      اور حدیث میں ہے ایمان یہ ہے کہ اللہ واحد ہے اور محمد رسول ہیں اس کی گواہی دو

      یہ ملا کر سمجھا جائے گا کہ یہاں ایمان سے مراد حدیث میں نیکی کرنا ہے
      ————
      قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ

      یہ معلوم ہے کہ اگر کلمہ کا اقرار نہ ہو تو پڑھی گئی نماز – ایمان میں سے نہیں ہے

      دو شہادتوں پر زبان و دل کا اقرار لازمی ہوا ، لہذا ان دو کو فقہا نے بحث میں ایمان بولا ہے
      کیونکہ یہ لازمہ ہے

      ——–
      سوال اس بلاگ میں یہ ہے جو فقہاء کے پیش نظر تھا کہ کیا ایمان کم ہو سکتا ہے ؟
      میرے نزدیک کم ہونے پر دلیل نہیں ہے

  17. صحیح البخاری
    کتاب: ایمان کا بیان
    باب: مومن کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں اس کے اعمال مٹ نہ جائیں اور اس کو خبر تک نہ ہو
    حدیث نمبر: 48

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنْ الْمُرْجِئَةِ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ کُفْرٌ

    ترجمہ:
    ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے زبید بن حارث سے، کہا میں نے ابو وائل سے مرجیہ کے بارے میں پوچھا، (وہ کہتے ہیں گناہ سے آدمی فاسق نہیں ہوتا) انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہوجاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔

    صحابہ کے نزدیک مرجیہ کےعقائد صحیح نہیں تھے۔اس حدیث میں مرجیہ کا لفظ آیا ہے؟

    1. Islamic-Belief says:

      الْمُرْجِئَةِ کا سوال تابعی سے کیا گیا ہے صحابی سے نہیں – یہ کوئی فرقہ نہیں تھا اہل سنت میں ایک رحجان تھا
      اصحاب رسول کے دور میں الْمُرْجِئَةِ کے عقائد پر بحث ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ بحث بعد میں پیدا ہوئی
      الْمُرْجِئَةِ کا موقف تھا کہ اصحاب رسول نے بھی اگر گناہ کبیرہ بھی کیا تو کافر نہیں
      بعض محدثین معاویہ رضی اللہ عنہ کو جہنمی کہہ رہے تھے مثلا امام علی بن جعد اور بعض منہ بھر گالیاں دے رہے تھے جو الْمُرْجِئَةِ مخالف تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

eleven − ten =