کفر دون کفر – طاووس کا قول

اللہ تعالی کہتا ہے کہ وہ شخص کافر ، ظالم ، فاسق ہے جس نے وہ فیصلہ کیا جو اس نے نازل نہیں کیا (سورہ المائدہ )- ان آیات کا ظاہر بہت سخت ہے لہذا اقوال الرجال کی مدد سے ان کے مفہوم میں الٹ پھیر کی جاتی ہے

سوره المائدہ آیت ٥٠ میں ہے
آپ ان کے درمیان اس (فرمان) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور آپ ان سے بچتے رہیں کہیں وہ آپ کو ان بعض (احکام) سے جو اللہ نے آپ کی طرف نازل فرمائے ہیں پھیر (نہ) دیں، پھر اگر وہ (آپ کے فیصلہ سے) روگردانی کریں تو آپ جان لیں کہ بس اﷲ ان کے بعض گناہوں کے باعث انہیں سزا دینا چاہتا ہے، اور لوگوں میں سے اکثر نافرمان (ہوتے) ہیں

یعنی اہل کتاب کی خواہش پر فیصلہ نہ کرو
اگر اپ ان آیات کا سیاق و سباق دیکھیں تو اس میں احکام توریت کا ذکر ہے کہ ان کو یہود و نصرانی نافذ نہیں کر رہے لہذا جو الله نے نازل کیا اس کے خلاف کرے تو کافر ہے فاسق ہے ظلم ہے- اس میں احکام بھی ہیں اور عقائد بھی ہیں

ان آیات کا سیاق و سباق اہل کتاب کے حوالے سے ہے کہ وہ عقیدہ وہ نہیں رکھتے جو توریت و انجیل کا ہے اس کا حکم بیان نہیں کرتے یعنی توحید کے معاملے میں
اور جو کتاب الله کے مطابق حکم نہ کرے یعنی عقیدہ نہ دے وہ کافر ہے
اسی طرح وہ حکم نہیں کرتے جو ان کی کتاب میں ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ وغیرہ

یہ حکم عام ہے – مسلمانوں پر بھی ہے

ابن عباس سے  منسوب  قول    کفر دون  کفر     ثابت  نہیں ہے   

مستدرک الحاکم کی روایت ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِنَّهُ ” لَيْسَ بِالْكُفْرِ الَّذِي يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ إِنَّهُ لَيْسَ كُفْرًا يَنْقِلُ عَنِ الْمِلَّةِ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ
ابن عباس رضی الله عنہ نے کہا : جو اس طرف گئے (اغلبا خوارج مراد ہیں) یہ کفر نہیں- یہ کفر نہیں جس پر ان کو ملت سے نکالا جائے
اور وہ جو الله کے نازل کردہ حکم کے مطابق حکم نہ کریں وہ کافر ہیں
کفر (امیر)، کفر(باللہ) سے الگ ہے

سفیان ثوری کی تفسیر کے مطابق ابن عباس اس آیت پر کہتے
قال: هي كفره، وليس كمن كفر بالله واليوم الآخر
یہ انکار تو ہے لیکن الله اور یوم آخرت کے انکار جیسا نہیں ہے

مستدرک کی روایت میں هشام بن حجير المكي ہے جو ابن جریج کے شیوخ میں سے ہے اس کو ابن معین اور احمد نے  ضعیف کہا  ہے  – اس قول  کی اور سندیں بھی ہیں جو صحیح ہیں مثلا  تفسیر عبد الرزاق والی  روایت ہے جس میں الفاظ ” لیکن الله اور اس کی کتابوں اور فرشتوں کا کفر کرنے جیسا نہیں ہے ” کو ابن طاوو س کا قول کہا گیا ہے نہ کہ ابن عباس رضی الله عنہ کا

تفسیر عبد الرزاق میں ہے
عبد الرزاق في “تفسيره” (1 / 191) عن معمر، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سئل ابن عباس عن قوله: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ الله فأولئك هم الكافرون} ، قال: هي كفر، قال ابن طاوس: وليس كمن كفر بالله وملائكته وكتبه ورسله.
ابن عباس سے اس آیت پر سوال ہوا – ابن عباس نے کہا یہ کفر  ہی ہے- ابن طاووس نے کہا لیکن الله اور اس کی کتابوں اور فرشتوں کا کفر کرنے جیسا نہیں ہے

ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک کوئی قاضی  احکام میں  ایسا حکم کرے جو اللہ نے نہ دیا ہو تو وہ کفر کا مرتکب ہے اور ان کے شاگرد   طاؤس نے اضافہ کیا کہ یہ کفر ، کفر اکبر نہیں ہے

ابن  عباس  سے جو  قول  ثابت  ہو رہا ہے وہ یہ ہے 

سنن  نسائی    بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ}   کی حدیث   ہے  جس کو  ألباني،  صحيح الإسناد موقوف قرار دیتے ہیں

حدیث نمبر: 5402

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  كَانَتْ مُلُوكٌ بَعْدَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بَدَّلُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، ‏‏‏‏‏‏، وَكَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ لِمُلُوكِهِمْ:‏‏‏‏ مَا نَجِدُ شَتْمًا أَشَدَّ مِنْ شَتْمٍ يَشْتِمُونَّا هَؤُلَاءِ،‏‏‏‏ إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ:‏‏‏‏ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44،‏‏‏‏ وَهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مَعَ مَا يَعِيبُونَّا بِهِ فِي أَعْمَالِنَا فِي قِرَاءَتِهِمْ،‏‏‏‏ فَادْعُهُمْ فَلْيَقْرَءُوا كَمَا نَقْرَأُ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيُؤْمِنُوا كَمَا آمَنَّا، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَاهُمْ فَجَمَعَهُمْ وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلَ،‏‏‏‏ أَوْ يَتْرُكُوا قِرَاءَةَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ إِلَّا مَا بَدَّلُوا مِنْهَا،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ مَا تُرِيدُونَ إِلَى ذَلِكَ دَعُونَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ ابْنُوا لَنَا أُسْطُوَانَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ارْفَعُونَا إِلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اعْطُونَا شَيْئًا نَرْفَعُ بِهِ طَعَامَنَا وَشَرَابَنَا فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ دَعُونَا نَسِيحُ فِي الْأَرْضِ وَنَهِيمُ وَنَشْرَبُ كَمَا يَشْرَبُ الْوَحْشُ فَإِنْ قَدَرْتُمْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِكُمْ فَاقْتُلُونَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ ابْنُوا لَنَا دُورًا فِي الْفَيَافِي وَنَحْتَفِرُ الْآبَارَ، ‏‏‏‏‏‏وَنَحْتَرِثُ الْبُقُولَ فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ وَلَا نَمُرُّ بِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَبَائِلِ إِلَّا وَلَهُ حَمِيمٌ فِيهِمْ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَفَعَلُوا ذَلِكَ،‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا سورة الحديد آية 27، ‏‏‏‏‏‏وَالْآخَرُونَ قَالُوا:‏‏‏‏ نَتَعَبَّدُ كَمَا تَعَبَّدَ فُلَانٌ، ‏‏‏‏‏‏وَنَسِيحُ كَمَا سَاحَ فُلَانٌ، ‏‏‏‏‏‏وَنَتَّخِذُ دُورًا كَمَا اتَّخَذَ فُلَانٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُمْ عَلَى شِرْكِهِمْ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِإِيمَانِ الَّذِينَ اقْتَدَوْا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، ‏‏‏‏‏‏انْحَطَّ رَجُلٌ مِنْ صَوْمَعَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَاءَ سَائِحٌ مِنْ سِيَاحَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَاحِبُ الدَّيْرِ مِنْ دَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَآمَنُوا بِهِ،‏‏‏‏ وَصَدَّقُوهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ سورة الحديد آية 28،‏‏‏‏ أَجْرَيْنِ بِإِيمَانِهِمْ بِعِيسَى،‏‏‏‏ وَبِالتَّوْرَاةِ،‏‏‏‏ وَالْإِنْجِيلِ،‏‏‏‏ وَبِإِيمَانِهِمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَتَصْدِيقِهِمْ قَالَ:‏‏‏‏ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ سورة الحديد آية 28 الْقُرْآنَ،‏‏‏‏ وَاتِّبَاعَهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ سورة الحديد آية 29 يَتَشَبَّهُونَ بِكُمْ أَلا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ سورة الحديد آية 29 الْآيَةَ .

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بعد بادشاہ ہوئے جنہوں نے تورات اور انجیل کو بدل ڈالا، ان میں کچھ مومن تھے جو توراۃ پڑھتے تھے-  ان کے بادشاہوں سے (مصاحبین دربار کی جانب سے ) عرض کیا گیا: ہمیں اس سے زیادہ سخت گالی نہیں ملتی جو یہ (مومن ) ہمیں دیتے ہیں، یہ (مومن ) لوگ پڑھتے ہیں  جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں  یہ لوگ اس قسم کی آیات پڑھتے ہیں ور ساتھ ہی وہ چیزیں پڑھتے ہیں جس میں ہمارا عیب نکلتا ہے تو انہیں بلا کر کہو کہ وہ بھی ویسے ہی پڑھیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور اسی طرح کا ایمان لائیں جیسا ہم لائے ہیں، چنانچہ اس (بادشاہ) نے انہیں بلایا اور اکٹھا کیا اور کہا: قتل منظور کرو یا پھر توراۃ اور انجیل کو پڑھنا چھوڑ دو، البتہ وہ پڑھو جو بدل دیا گیا ہے۔

ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہمیں چھوڑ دو: ہمارے لیے ایک مینار بنا دو اور ہمیں اس پر چڑھا دو پھر ہمیں کھانے پینے کی کچھ چیزیں دے دو، تو ہم تمہارے پاس کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے۔

ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمیں چھوڑ دو، ہم زمین میں گھومیں اور بھٹکتے پھریں اور جنگلی جانوروں کی طرح پئیں، پھر اگر تم ہمیں اپنی زمین میں دیکھ لو تو مار ڈالنا

 ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: ہمارے لیے صحراء و بیابان میں گھر بنا دو، ہم خود کنویں کھود لیں گے اور سبزیاں بو  لیں گے، پھر پلٹ کر تمہارے پاس نہ آئیں گے اور نہ تمہارے پاس سے گزریں گے، اور کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کا دوست یا رشتہ دار اس میں نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آیت

 «ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم إلا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوها حق رعايتها (الحدید: ۲۷)

  اور جو درویشی انہوں نے خود نکالی تھی ہم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے، پھر انہوں نے اس کی بھی پوری رعایت نہیں کی

 نازل فرمائی

کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ہم بھی فلاں کی طرح عبادت کریں گے اور فلاں کی طرح گھومیں گے اور فلاں کی طرح گھر بنائیں گے حالانکہ وہ شرک میں مبتلا تھے، یہ ان لوگوں کے ایمان سے باخبر نہ تھے جن کی پیروی کا یہ دم بھر رہے تھے

 جب اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو ان میں سے بہت تھوڑے سے لوگ بچے تھے- کوئی  شخص اپنے عبادت خانے سے اترا تو کوئی   اور جنگل میں گھومنے والا گھوم کر لوٹا اور کوئی   گرجا گھر میں رہنے والا گرجا گھر سے لوٹا اور یہ سب کے سب آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا

 «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وآمنوا برسوله يؤتكم كفلين من رحمته»

اے لوگو! جو ایمان رکھتے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کا دوگنا حصہ دے گا  (الحدید: ۲۹)

دوہرا اجر ان کے عیسیٰ، تورات اور انجیل پر ایمان کے بدلے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور تصدیق کے بدلے – پھر فرمایا:  وہ تمہارے چلنے کے لیے ایک روشنی دے گا  یعنی قرآن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی  تاکہ اہل کتاب  یعنی وہ اہل کتاب جو تمہاری مشابہت کرتے ہیں  جان لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

18 − one =