َاُولِى الْاَمْرِ مِنْكُمْ

َاُولِى الْاَمْرِ مِنْكُمْ سے مراد
قرآن  میں  َاُولِى الْاَمْرِ  سے  مراد  عمال  (حکام و گورنر) ہیں 

قرآن  میں  َاُولِى الْاَمْرِ  سے  مراد  عمال  (حکام و گورنر) ہیں لیکن  علماء   نے  عوام  کو یہ باور  کرایا ہے کہ  َاُولِى الْاَمْرِ  سے مراد  علماء ہیں- راقم  کہتا ہے یہ اقوال درست سمت میں   نہیں  ہیں

مدینہ پہنچنے کے بعد نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنے آپ کو حاکم یا منتظم اعلی قرار نہیں دیا بلکہ رسول الله کا درجہ کسی بھی دنیا کے درجہ سے بلند تھا – اسلام یمن تک پہنچنا پھر خیبر پھر  نجد پھر بحرین پھر عمان تک  آ گیا – اس طرح مسلمانوں کی ایک حکومت قائم ہوئی اور اس کے استحکام کے لئے سمع و اطاعت ضروری تھی – سورہ نساء میں حکم دیا گیا

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِى الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۖ فَاِنْ تَنَازَعْتُـمْ فِىْ شَىْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّـٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُـمْ تُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيْـرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا

اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو، اُس کے رسول کی اطاعت کرو، اور اپنوں میں سے اپنے صاحب حکم  کی اطاعت کرو۔ پھر اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان اختلافِ رائے ہو، تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو، اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اچھا طریقہ ہے، اور انجام کے لحاظ سے بھی یہی بہتر ہے

آیت میں  اُولِى الْاَمْرِ کے الفاظ ہیں یعنی وہ جس کے پاس حکم کرنے کا اختیار ہو یعنی لشکر کے امیر یا امیر  عسکر یا امیر سریہ یا کسی مقام پر گورنر-اس آیت کا تعلق اس تربیت سے تھا جس سے مستقبل میں   عظیم اسلامی خلافت قائم ہونے جا رہی تھی –  حکم نبوی تھا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، عَنِ الجَعْدِ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً

جسے اپنے امیر کی کوئی بات ناگوار گزرے، اُس شخص کو صبر کرنا چاہیے، کیونکہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی حکومت کی اطاعت سے نکلا، اور اسی حالت میں مر گیا، اُس کی موت جاہلیت پر ہوئی‘‘۔ (صحیح بخاری،حدیث نمبر7053)

اس حدیث کا تعلق اصحاب رسول کی جماعت سے ہے – مسلمانوں کی جماعت اس دور میں چند نفوس پر مشتمل نہیں تھی بلکہ اسلام مسلسل پھیل رہا تھا اور وفات النبی تک تمام عرب میں اسلام غالب آ چکا تھا- اس حدیث کا تعلق مستقبل کی کسی تنظیم  کے امیر یا پیر سے نہیں ہے

اسلام میں رابطہ و مدد کرنے کا حکم قیامت تک کے لئے ہے لیکن اپنے فرقے کو الناجیہ قرار دینے کے بعد اس کے امیر کی اطاعت کو فرض قرار دینا جہالت ہے – کیونکہ ان احکام کا تعلق حکومت سے ہے    دعوتی  و  تبلیغی   گروہوں سے نہیں ہے

  سور النساء ميں ہے

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ

إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (59)

اور آيت 83 ميں ہے

وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ  لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا

تفسير طبري اور تفسير ابن ابي حاتم   ميں اُولِي الاَمرِ  پر اقوال ہيں-  مجاہد اور  ابن ابي نُجَيح سے منسوب شرح ہے

 قال، وأخبرنا عبد الرزاق، عن الثوري، عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد قوله “وأولي الأمر  منكم”، قال  هم أهل الفقه والعلم.

سند ميں عبد الله بن أبي نجيح يسار المكي  ہے جس کا سماع مجاہد سے ثابت نہيں ہے

وقال إبراهيم بن الجنيد قلت ليحيى بن معين أن يحيى بن سعيد يعني القطان يزعم أن بن أبي نجيح لم يسمع التفسير من مجاهد

امام يحيي القطان نے دعوي کيا کہ ابن ابي نجيح نے مجاہد سے تفسير نہيں سني

يہ مدلس بھي ہے سند ميں عنعنہ بھي ہے

ابن عباس  سے منسوب ہے اُولِي الاَمرِ يعني  اھل الفقہ و الدين مراد ہے – سند ہے

حَدَّثَنَا أَبِي، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

قَوْلَهُ: وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ يَعْنِي: أَهْلَ الْفِقْهِ وَالدِّينِ،

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ کا سماع  ابن عباس سے نہيں ہے

أكرم بن محمد زيادة الفالوجي الأثري کتاب  المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري      ميں کہتے ہيں

أرسل عن ابن عباس ولم يره

يہ ابن عبّاس سے ارسال کرتا ہے ان کو ديکھا بھي نہيں ہے

عطاء بن ابي رباح سے منسوب قول ہے  اُولِي الاَمرِ يعني  فقہاء و علماء – سند ہے

حدثني المثنى قال، حدثنا عمرو بن عون قال، حدثنا هشيم، عن عبد الملك، عن عطاء “وأولي الأمر منكم”، قال  الفقهاء والعلماء.

يہاں  هشيم بن بشير بن القاسم مدلس کا عنعنہ ہے

حسن بصري سے منسوب قول ہے اُولِي الاَمرِ يعني  علماء – سند ہے

حدثنا الحسن بن يحيى قال، أخبرنا عبد الرزاق قال، أخبرنا معمر، عن الحسن في قوله “

وأولي الأمر منكم”، قال  هم العلماء.

اس ميں معمر مدلس کا عنعنہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْحَضْرَمِيُّ بِحَضْرَمَوْتَ، ثنا الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ

فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ قَالَ: أُولِي الْعِلْمِ وَالْفِقْهِ وَالْعَقْلِ

وَالرَّأْيِ.

مبارک  مختلف فيہ ہے – جرح بھي ہے

ابو العالي سے منسوب قول ہے اُولِي الاَمرِ يعني  اھل العلم

حدثني المثنى قال، حدثنا إسحاق قال، حدثنا ابن أبي جعفر، عن أبيه، عن الربيع، عن أبي العالية في قوله “وأولي الأمر منكم”، قال  هم أهل العلم

ابو العاليہ  پر امام شافعي کي جرح ہے کہ  اس روایت مثل ریح (کا اخراج )  ہے

قتادہ سے منسوب ہے

 حدثنا بشر بن معاذ قال، حدثنا يزيد قال، حدثنا سعيد، عن قتادة:”ولو ردوه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم”، يقول: إلى علمائهم

ابن جريج سے منسوب ہے

حدثنا القاسم قال، حدثنا الحسين قال، حدثني حجاج، عن ابن جريج:”ولو ردوه إلى الرسول  حتى يكون هو الذي يخبرهم =”وإلى أولي الأمر منهم”، الفقه في الدين والعقل.

قابل غور ہے کہ اصحاب رسول کي تعداد بہت  ہے ليکن ان ميں چند ہي رسول اللہ صلي  اللہ عليہ وسلم  اور خلفاء راشدين کے نزديک اس قابل تھے کہ ان کو امور   سلطانی      و  حکام         پر نافذ کيا جائے – اس طرح  فقيہ اصحاب رسول  چند   ہيں جن ميں ابن مسعود ، علي ،  اور ابن عباس   رضی اللہ عنہم   ہيں  -ان   میں    ابن مسعود  رضی اللہ عنہ    کو کسي بھي جگہ  اولي الامر  مقرر نہيں کيا گيا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

9 + eight =