واقعہ حرہ کا فساد

تاریخ ابو زرعہ دمشقی میں ہے

وَكَانَتِ الْحَرَّةُ يَوْمَ الْأَرْبَعَاءِ لِلَيْلَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.

حرہ کا واقعہ بدھ ،  سن ٦٣ ہجری میں  ذو الحجہ کی آخری چند راتوں میں  ہوا

الحره  نام کا مدینہ کا ایک محلہ تھا جہاں یزید بن معاویہ کے دور میں بلووں کا آغاز ہوا – بلوائی مدینہ  کا امن خراب کر رہے تھے اور لوگوں کو منفی تقاریر سے تشدد و خروج پر اکسا رہے تھے – اس میں امیر المومنین یزید کے بارے میں بتایا جا رہا تھا کہ وہ ان لونڈیوں کو نکاح میں لے رہے ہیں جو معاویہ رضی اللہ عنہ کی لونڈیاں تھیں – باپ کی لونڈی اولاد پر حرام ہو جاتی ہے لیکن یزید ان کو حلال کر رہا ہے – دوسرے الزامات میں کہا جا رہا تھا کہ یزید شراب بھی پیتا ہے اور بندروں سے کھیلتا ہے –  اس طرح ایک لسٹ تھی جو شام سے دور مدینہ کے  عوام میں پھیلائی جا رہی تھی –

الذھبی تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں ابن الزبیر نے حکم دیا کہ مدینہ و حجاز سے بنو امیہ کو نکال دیا جائے

 وكان ابن الزبير أمر بإخراج بني أمية ومواليهم من مكة والمدينة إلى الشام،

اس پر  چار ہزار مسلمانوں کو مدینہ سے نکال دیا گیا جب یہ لوگ وادی القری پر پہنچے تو مسلم بن عقبہ سے ملے جس نے حکم دیا کہ نہیں واپس جاؤ

فخرج منهم أربعة آلاف فيما يزعمون، فلما صاروا بوادي القرى أمرهم مسلم بالرجوع معه 

ابن زبیر  اس سے پہلے مروان بن حکم کو بھی مدنیہ سے بیماری کی حالت میں نکلوا چکے تھے اور انہوں نے یہ وطیرہ بنا لیا تھا کہ خاندان کی بنیاد پر مسلمانوں کو الگ کیا  جائے

ابن حجر نے مروان بن الحكم کے ترجمہ میں لکھا ہے

ولم يزل بالمدينة حتى أخرجهم ابن الزبير منها، وكان ذلك من أسباب وقعة الحرة
یہ مدینہ سے نہ نکلے حتی کہ ابن زبیر نے ان کو نکالا اور یہ واقعہ حرہ کا سبب بنا

 

حرہ کے مقتولین

المعارف از ابن قتیبہ میں ذکر ہے کہ  عثمان بن محمد بن أبى سفيان مدینہ پر یزید کی جانب سے  گورنر تھے اور مقتولین و مفروروں میں تھے

المسور بن عبد الرحمن – یہ عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں

 محمد بن عبد الله بن سعيد  یہ سعيد بن زيد رضی اللہ عنہ کے پڑ پوتے ہیں

معقل بن سنان رضى الله عنه کا کہا جاتا ہے اسی واقعہ میں قتل ہوا

عبد الله بن مطيع بن الأسود یہ مقرر تھے یزید کے خلاف تقریر کرتے تھے پھر ابن زبیر سے مکہ میں ملے

فخریہ شعر سناتے تھے

أنا الّذي فررت يوم الحرّة … فاليوم أجزى كرة بفرّه

میں وہ ہوں جو حرہ میں فرارہوا

عبد الله بن مطيع بن الأسود کو بعد میں  ابن زبیر نے کوفہ پر گورنر مقرر کیا

 يعقوب بن طلحة – یہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں

تاریخ ابو زرعہ دمشقی میں ہے

معاذ القارىء کا قتل حرہ میں ہوا

عبد الله بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ رضی اللہ عنہ  کا قتل حرہ میں ہوا – یہ مُسَيْلِمَةَ کذاب کو جہنم واصل کرنے والے تھے

تاريخ خليفة بن خياط از  أبو عمرو خليفة بن خياط بن خليفة الشيباني العصفري البصري (المتوفى: 240هـ) میں ہے

مقتولین قبیلہ
أَبُو بَكْر عَبْد اللَّهِ بْن جَعْفَر بْن أَبِي طَالب وَالْفضل ابْن الْعَبَّاس بْن ربيعَة بْن الْحَارِث بْن عَبْد الْمطلب وَعبد اللَّه بْن نَوْفَل بْن الْحَارِث بْن عَبْد الْمطلب وعباس بْن عتبَة بْن أَبِي لَهب

 

بني هَاشم مِنْ قُرَيْشٍ
يحيى بْن نَافِع بْن عجير بْن عَبْد يَزِيد بْن هَاشم من بَنِي الْمطلب وَعبد اللَّه بْن نَافِع بْن عجير بني الْمطلب وَمن بَنِي الْمطلب بْن عَبْد منَاف
دَاوُد بْن الْوَلِيد بْن قرظة بْن عَبْد عَمْرو بْن نَوْفَل وَابْنه الْوَلِيد بْن دَاوُد وَعبيد اللَّه بْن عتبَة بْن غَزوَان حَلِيف لَهُم من بَنِي مَازِن بن مَنْصُور

 

بني نَوْفَل
إِسْمَاعِيل بْن خَالِد بْن عقبَة بْن أَبِي معيط وَأَبُو علْبَاء مولى مَرْوَان بْن الحكم وَسليمَان وَعَمْرو والوليد بَنو يَزِيد ابْن أُخْت النمر

 

بني أُميَّة
وهب بْن عَبْد اللَّهِ بْن زَمعَة بْن الْأسود بْن الْمطلب بْن أَسد بْن عَبْد الْعُزَّى وَيزِيد بْن عَبْد اللَّهِ بْن زَمعَة قتل صبرا وَأَبُو سَلمَة بْن عَبْد اللَّهِ بْن زَمعَة والمقداد بْن وهب بْن زَمعَة وَيزِيد بْن عَبْد اللَّهِ بْن وهب بْن زَمعَة وخَالِد بْن عَبْد اللَّهِ بْن زَمعَة وَابْن لعبد اللَّه بْن زَمعَة لَا يعرف اسْمه والمغيرة بْن عَبْد اللَّهِ بْن السَّائِب بْن أَبِي حُبَيْش بْن الْمطلب بْن أَسد وَعبد اللَّه وَعَمْرو ابْنا نَوْفَل بْن عدي ابْن نَوْفَل بْن أَسد وَابْن لعبد الرَّحْمَن بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْب بْن عدي بْن نَوْفَل بْن أَسد وعدي بْن تويت بن حبيب بن أَسد

 

بَنِي أَسد
عَبْد اللَّهِ بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن مسافع بْن طَلْحَة بْن أَبِي طَلْحَة اسْم أَبِي طَلْحَة عَبْد اللَّهِ بْن عَبْد الْعُزَّى بْن عُثْمَان بْن عَبْد الدَّار وَمُحَمّد بْن أَيُّوب بْن ثَابت بْن عَبْد الْمُنْذر بْن عَلْقَمَة بْن كلدة وَمصْعَب بْن أَبِي عُمَيْر بْن أَبِي عَزِيز وَيزِيد وَزيد ابْنا مسافع وَعبد الرَّحْمَن بْن عَمْرو بْن الْأسود

 

بني عبد الدَّار
ة زيد بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن عَوْف وَأَبَان بْن عَبْد اللَّهِ بْن عَوْف وعياض بْن حسن بْن عَوْف مَاتَ حسن فِي فتْنَة ابْن الزبير وَمُحَمّد بْن الْأسود بْن عَوْف والصلت بْن مخرمَة بْن نَوْفَل بْن وهيب بْن عَبْد منَاف بْن زهرَة وَمُحَمّد بْن المصور بْن الْمسور بْن مخرمَة وَعبد الله بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن الْأسود بْن عَبْد يَغُوث وَإِسْمَاعِيل بْن وهيب ابْن الْأسود بْن عَبْد يَغُوث وَعُمَيْر وَعَمْرو ابْنا سعد بْن أَبِي وَقاص وَإِسْحَاق ابْن هَاشم بْن عتبَة بْن أَبِي وَقاص وَعمْرَان بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن نَافِع بْن عتبَة بْن أَبِي وَقاص وَمُحَمّد بْن نَافِع بْن عتبَة بْن أَبِي وَقاص

 

من بني زهرَة
يَعْقُوب بْن طَلْحَة بْن عبيد اللَّه وَعبيد اللَّه بْن عُثْمَان بن لاعبيد اللَّه بْن عُثْمَان بْن عَمْرو بن كَعْب وَعبد الله ب بْن مُحَمَّد بْن أَبِي بَكْر الصّديق ومعبد بْن الْحَارِث بْن خَالِد بْن صَخْر بْن عَامر بن عَمْرو بن كَعْب

 

بني تيم بن مرّة
عَبْد اللَّهِ بْن أَبِي عَمْرو بْن حَفْص بْن الْمُغيرَة وَأَبُو سعد بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن الْحَارِث بْن هِشَام أمه من بَنِي الْحَارِث بْن كَعْب وَعبد اللَّه بْن الْحَارِث بْن عَبْد اللَّهِ بْن أَبِي ربيعَة وَمُسلم وَيُقَال مسلمة بْن أَبِي برد بْن معبد ابْن وهب بن عَائِذ بني مَخْزُوم
أَبُو بَكْر بْن عبيد اللَّه بْن عُمَر بْن الْخطاب وَعبد اللَّه وَسليمَان ابْنا عَاصِم بْن عُمَر بْن الْخطاب وَعمر أَو عَمْرو بْن سعيد بْن زيد بْن عَمْرو ابْن نفَيْل وَأَبُو بَكْر بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن سعيد بْن زيد بْن عَمْرو بْن نفَيْل وَمُحَمّد بْن سُلَيْمَان بْن مُطِيع بْن الْأسود بْن حَارِثَة بْن نَضْلَة بْن عَوْف بْن عبيد بْن عويج وَعبد الْملك بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن مُطِيع وَعبد اللَّه بْن نَافِع بْن عَبْد عَمْرو بْن عَبْد اللَّهِ بْن نَضْلَة وَإِبْرَاهِيم بْن نعيم بْن عَبْد اللَّهِ بْن النحام وَيُقَال إِبْرَاهِيم بْن نعيم بْن عَبْد اللَّهِ وَمُحَمّد بْن أَبِي الجهم بْن حُذَيْفَة بْن غَانِم قتلا صبرا وخديج أَو حديج بْن أَبِي حثْمَة بْن حذافة ابْن غَانِم

 

بني عدي
عَبْد الرَّحْمَن بْن حويطب بْن عَبْد الْعُزَّى وَعبد الْملك بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن حويطب وَرَبِيعَة بْن سهم أَو سهل بْن عَبْد اللَّهِ بْن زَمعَة وَعبد الرَّحْمَن ابْن زَمعَة بْن قيس وَعَمْرو بْن عَبْد اللَّهِ بْن زَمعَة وَعبد اللَّه بْن عَبْد اللَّهِ بْن زَمعَة وَعبد اللَّه بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن عَمْرو بْن حَاطِب وسليط بْن عَبْد اللَّهِ بْن عَمْرو بْن هَاشم بَنِي عَامر بْن لؤَي

 

فضَالة بْن خَالِد بْن نائلة بْن رَوَاحَة وعياض بْن خَالِد بْن نائلة بْن هُرْمُز أَو هرم بْن رَوَاحَة والْحَارث وَمُسلم ابْنا خَالِد وَمُحَمّد بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن الطُّفَيْل وعياض بْن أَبِي سَلام بْن يَزِيد بْن عَبْد اللَّهِ بْن مَالك ابْن ربيعَة بْن وهب وَزيد أَو يَزِيد بْن عَبْد اللَّهِ بْن مسافع بْن أنس بْن عَبْد بْن وهيب ابْن ضباب بني حُجَيْر

یہ لسٹ مکمل نقل نہیں کی گئی کیونکہ یہ طویل تھی لیکن مقتولین میں بنو امیہ کے افراد بھی ہیں – تاریخ خليفة بن خياط کے مطابق کل ملا کر قریش اور ان کے حلیفوں میں  ٩٧ افراد قتل ہوئے

فَجَمِيع من أُصِيب من قُرَيْش من أنفسهم سَبْعَة وَتسْعُونَ رجلا

اور

فَجَمِيع من أُصِيب من الْأَنْصَار مائَة رجل وَثَلَاثَة وَسَبْعُونَ رجلا وَجَمِيع من أُصِيب من قُرَيْش وَالْأَنْصَار ثَلَاث مائَة رجل وَسِتَّة رجال

انصار کے ١٧٣ مرد قتل ہوئے اور دونوں کو ملا کر قریب ٣٠٠ مرد قتل ہوئے اور (غیر مہاجرین و انصار ) ٦ مرد قتل ہوئے

قتل ہونے والے تمام بلوائی نہیں تھے بعض معصوم بھی تھے جو  بلا  تمیز  شہید  ہو گئے – باغی کون تھے ؟  یہ باغی وہ لوگ تھے جو وفات شدہ اصحاب رسول کی اولاد میں سے تھے اور ان کا درجہ تابعین کا تھا لیکن افسوس ایک دوسرے تابعی یزید بن معاویہ کو غاصب قرار دے رہے تھے –

اصحاب رسول بغاوت کے خلاف تھے –   بخاری  روایت  کرتے ہیں کہ   باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ

 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ

نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان  والوں کو جمع کیا اور  کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ  ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس  آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع  پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے

یزید نے اہل مدینہ کو بیعت پر مجبور کرنے کے لیے مسلم بن عقبہ کو دس ہزار فوجیوں کے ساتھ حجاز روانہ کیا۔ اہل مدینہ نے شامی افواج کا  مقابلہ کیا مگر تین دن کی جنگ کے بعد شکست کھائی۔   اس بغاوت کو  سختی سے کچل دیا گیا –   سن ٦٤  ھ میں  یزید بن معاویہ کی وفات ہوئی ان کے بیٹے خلیفہ ہوئے لیکن انہوں نے اس کار کی عظیم   ذمہ داری کو اٹھانے  سے معذرت کی اور    مروان بن الحکم کے حق میں خلافت دستبردار ہو گئے-     اس  کے خلاف ابن زبیر رضی الله عنہ نے خروج کیا

    عمرو بن العاص المتوفی ٦٣ ھ   کی یزید بن معاویہ کے دور میں وفات ہوئی

باغی تقاریر کا متن

أبو مخنف، لوط بن يحيى بن سعيد بن مخنف الكوفي  جو  متروک راوی ہے اس نے خبر دی – تاریخ الطبری دار التراث – بيروت ج ٥ ص ٤٨٠  کے مطابق

 قَالَ لوط: وَحَدَّثَنِي أَيْضًا مُحَمَّد بن عَبْدِ الْعَزِيزِ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عوف ورجع المنذر من عِنْدَ يَزِيد بن مُعَاوِيَة، فقدم عَلَى عُبَيْد اللَّهِ بن زياد الْبَصْرَة… فأتى أهل الْمَدِينَة، فكان فيمن يحرض الناس عَلَى يَزِيد، وَكَانَ من قوله يَوْمَئِذٍ: إن يَزِيد وَاللَّهِ لقد أجازني بمائة ألف درهم، وإنه لا يمنعني مَا صنع إلي أن أخبركم خبره، وأصدقكم عنه، وَاللَّهِ إنه ليشرب الخمر، وإنه ليسكر حَتَّى يدع الصَّلاة

منذربن الزبیر اہل مدینہ کے پاس آئے تو یہ ان لوگوں میں سے تھے جو لوگوں کو یزید بن معاویہ کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ اور یہ اس دن کہتے تھے : اللہ کی قسم ! یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم دئے، لیکن اس نے مجھ پر جو نوازش کی ہے وہ مجھے اس چیز سے نہیں روک سکتی کہ میں تمہیں اس کی خبر بتلاؤں اور اس کے متعلق سچ بیان کردوں ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یزید شرابی ہے اور شراب کے نشے میں نماز بھی چھوڑ دیتا ہے

 مورخ واقدی نے خبر دی – الطبقات الكبرى ، دار الكتب العلمية – بيروت، ج ٥ ص ٤٩ میں ہے

اخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيم عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَعَنْ غَيْرِهِمْ أَيْضًا. كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي. قَالُوا: لَمَّا وَثَبَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيَالِيَ الحرة فأخرجوا بَنِي أُمَيَّةَ عَنِ الْمَدِينَةِ وَأَظْهَرُوا عَيْبَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَخِلافَهُ أَجْمَعُوا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ فَأَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَيْهِ فَبَايَعَهُمْ عَلَى الْمَوْتِ وَقَالَ: يَا قَوْمُ اتَّقُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لا شريك له. فو الله مَا خَرَجْنَا عَلَى يَزِيدَ حَتَّى خِفْنَا أَنْ نُرْمَى بِالْحِجَارَةِ مِنَ السَّمَاءِ. إِنَّ رَجُلا يَنْكِحُ الأُمَّهَاتِ وَالْبَنَاتَ وَالأَخَوَاتِ وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ وَيَدَعُ الصَّلاةَ

جب اہل مدینہ نے حرہ کے موقع پر فساد کیا، بنوامیہ کو مدینہ سے نکال دیا گیا ، یزید کے عیوب کا پرچار  اس کی مخالفت کی تو لوگوں نے عبداللہ بن حنظلہ کے پاس آکر اپنے معاملات انہیں سونپ دئے ۔ عبداللہ بن حنظلہ نے ان سے موت پر بیعت کی اور کہا: اے لوگو ! اللہ وحدہ لاشریک سے ڈرو ! اللہ کی قسم ہم نے یزید کے خلاف تبھی خروج کیا ہے جب ہمیں یہ خوف لاحق ہوا کہ ہم پر کہیں آسمان سے پتھروں کی بارش نہ ہوجائے کہ ایک آدمی ماؤں ، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح کرتا ہے ، شراب پیتا ہے اور نماز چھوڑتا ہے

  شام و مدینہ  اور بلاد امصار میں  یزید  رحمہ اللہ علیہ کی بیعت لی جا  چکی تھی اور  اب اس بغاوت کی سرکوبی کا وقت تھا کیونکہ بلوائی شر و فساد پر اتر آئے تھے  –  باغی  یہاں حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہیں تھے بلکہ ان کا میلان و رجحان  ابن زبیر کی طرف زیادہ تھا اور جب حرہ میں حکومت نے کاروائی کی تو باغی بھاگ  گئے  اور مکہ میں روپوش ہوئے- بعد میں خلافت ابن زبیر میں یہ باغی پیش پیش رہے-

ابن زبیر کی عصبیت  کے حق میں روایت سازی

ابو داود کی روایت ہے جو اس دور سے مطابقت رکھتی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِى الْخَلِيلِ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَكُونُ اخْتِلاَفٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِنَ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِى النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ -صلى الله عليه وسلم- وَيُلْقِى الإِسْلاَمُ بِجِرَانِهِ إِلَى الأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّى عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ ». قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ « تِسْعَ سِنِينَ ». وَقَالَ بَعْضُهُمْ « سَبْعَ سِنِينَ

ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ایک خلیفہ کی موت پر  اختلاف ہوگا، تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص بھاگ کر مکہ مکرمہ آجائے گا  مگر لوگ ان کے انکار کے باوجود ان کو خلافت کے لئے منتخب کریں گے، چنانچہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان  ان کے ہاتھ پر لوگ بیعت کریں گے۔ پھر ملک شام سے ایک لشکر ان کے مقابلے میں بھیجا جائے گا، لیکن یہ لشکر  بیداء  نامی جگہ میں جو کہ مکہ و مدینہ کے درمیان ہے، زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پس جب لوگ یہ دیکھیں گے تو  ملک شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے بیعت کریں گی۔  پھرقریش کا ایک آدمی جس کی ننھیال قبیلہ بنوکلب میں ہوگی آپ کے مقابلہ میں کھڑا ہوگا۔ آپ بنوکلب کے مقابلے میں ایک لشکر بھیجیں گے وہ ان پر غالب آئے گا اور بڑی محرومی ہے اس شخص کے لئے جو بنوکلب کے مالِ غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حاضر نہ ہو-  

یہ روایت امام مہدی کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے  -اس کی سند میں اضطراب کی وجہ سے متعدد  محققین  نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے – راقم کی رائے میں یہ روایت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں گھڑی  گئی ہے – کیونکہ وہ مدینہ کے تھے پھر وہاں سے مکہ گئے اور ان کو لوگوں نے خلیفہ بنا دیا –  ان  کی سر کوبی کے لئے لشکر بھیجا گیا – بنو كلب  أصل یزید بن معاویہ کی والدہ کا حوالہ ہے جو بنو کلب کی تھیں – اگرچہ ایسا نہیں ہوا کہ

یزید کا لشکر مکہ پہنچا ہو لیکن یہ روایت گھڑی گئی اور پیش بندی کے لئے بلوائیوں کے  تھیلے میں موجود تھی

ابن زبیر  کا توسیع  کعبہ کا منصوبہ بھی ان لوگوں کا روایت کردہ ہے جو واقعہ حرہ میں قتل ہوئے ہیں مثلا عبداللہ بن محمد بن ابی بکر –   ابن زبیر  نے توسیع شدہ کعبہ میں پناہ لی اور عوام کو باہر  شامی لشکر کے رحم و کرم چھوڑ دیا جو منجنق سے پتھر پھینک رہا تھا –  لیکن کوئی زمین کا دھنسنا نہ ہوا

2 thoughts on “واقعہ حرہ کا فساد”

  1. السلام علیکم
    کیا واقعہ حرہ میں مسجد نبوی میں تین دن نماز نہیں ہوئی ؟ اور کیا شامی فوج کی جانب سے مدینہ کی عورتوں کی عصمت پر حملہ کیا گیا؟
    یہ بات مشہور ہے اس میں کتنی صداقت ہے؟

    1. Islamic-Belief says:

      صحیح سند سے یہ معلوم نہیں
      کتاب خروج حسین میں اس پر کلام ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

five × 5 =