نور محمدی کا ذکر

محدثین اور صوفیاء کی کتب میں ایک روایت بیان ہوئی ہے جس کا متن ہے

 يا جابر إن الله تعالى قد خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره ، فجعل ذلك النور يدور بالقدرة حيث شاء الله تعالى ، ولم يكن في ذلك الوقت لوح ولا قلم ولا جنة ولا نار ولا ملك ولا سماء ولا أرض ولا شمس ولا قمر ولا جني ولا إنسي ، فلما أراد الله تعالى أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء فخلق من الجزء الأول القلم ، ومن الثاني اللوح ، ومن الثالث العرش ، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الجزء الأول حملة العرش ومن الثاني الكرسي ومن الثالث باقي الملائكة ، ثم قسم الجزء الرابع إلى أربعة أجزاء فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين ومن الثاني نور قلوبهم وهي المعرفة بالله ومن الثالث نور أنسهم وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله ثم نظر إليه فترشح النور عرقاً  فتقطرت منه مائة ألف قطرة

رسول الله نے فرمایا اے جابر الله نے اشیاء خلق کرنے سے قبل تمہارے نبی کا نور خلق کیا اور یہ الله کی قدرت سے جہاں الله چاہتا جاتا اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم نہ جنت نہ جہنم نہ فرشتے نہ آسمان نہ زمین نہ سورج نہ چاند نہ جن و انس- پس جب الله نے ارادہ کیا خلق  کرنے کا تو اس نور کے چار ٹکرے کیے- ایک جز سے قلم بنا دوسرے سے لوح،  تیسرے سے عرش،  پھر چوتھے کے بھی چار جز اور کیے ان میں سے ایک سے عرش کو اٹھانے والے، دوسرے سے کرسی ، تیسرے سے باقی فرشتے –  پھر چوتھے کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے سے  مومنوں کی آنکھوں کا نور بنا،  دوسرے سے دلوں کا نور جو الله کی   معرفت ہے ،  تیسرے سے ان کے نفسوں کا نور جو توحید ہے لا إله إلا الله محمد رسول الله –  پھر اس (کلمہ) پر نظر کی تو اس  نور سے پسینہ  نکلا  جس سے ایک لاکھ قطرے اور نکلے

یہ مکمل روایت نہیں ہے اس کا متن بہت طویل ہے اور  متن عجیب و غریب ہے – عرش و کرسی  موجود تک نہ تھے جب قلم بنا اور لوح بنی اور فرشتے بنے-  طاہر القادری نے اس وجہ سے اس روایت کامکمل ترجمہ تک اپنی کتاب نور محمدی میں نہیں کیا کیونکہ آگے جو پسینہ کا ذکر ہے وہ کیا ہے اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہو گا

اہل تشیع عالم  ملا باقر مجلسی نے بھی اس کو بحار الأنوار میں بیان کیا ہے – رياض الجنان از فضل الله بن محمود الفارسي میں ہے

في البحار، عن رياض الجنان لفضل الله بن محمود الفارسي: عن جابر بن عبد الله قال: قلت لرسول الله (صلى الله عليه وآله): أول شئ خلق الله تعالى ما هو ؟ فقال: نور نبيك يا جابر، خلقه ثم خلق منه كل خير

فضل الله بن محمود الفارسي نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ میں نے رسول الله (صلى الله عليه وآله) سے پوچھا کہ کیا چیز الله تعالی نے سب سے پہلے خلق کی؟ فرمایا تیرے نبی کا نور اے جابر ! اس نور کو تخلیق کیا اور پھر اس سے ساری اشیاء کو خلق کیا

 اہل سنت میں السيوطيُّ نے الخصائص الكبرى میں  اس طرق کا ذکر کیا ہے –  القسطلاني اور ابن عربي الصوفي نے اپنی کتب میں اس طرق کا ذکر کیا ہے-  برصغیر میں  أحمد رضا بريلوي نے کہا ہے کہ یہ مصنف عبد الرزاق کی روایت تھی –   محدثین میں  العجلوني نے كشف الخفاء  میں بھی ذکر ہے کہ یہ روایت مصنف عبد الرزاق میں تھی لکھا

أول ما خلق اللهُ نورُ نبِيكِ يا جابر – الحديث  رواه عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله بلفظ قال قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، أخبرني عن أول شئ خلقه الله قبل الأشياء

الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة میں المؤلف: محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ) نے ذکر کیا ہے کہ مصنف عبد الرزاق میں ایک روایت جابر رضی الله عنہ سے مروی تھی جس میں ہے کہ سب سے پہلے نور محمدی کو خلق کیا گیا

وَمِنْهَا: مَا يَذْكُرُونَهُ فِي ذِكْرِ الْمَوْلِدِ النَّبَوِيّ أَن نور مُحَمَّد خُلِقَ مِنْ نُورِ اللَّهِ بِمَعْنَى أَنَّ ذَاتَهُ الْمُقَدَّسَةَ صَارَتْ مَادَّةً لِذَاتِهِ الْمُنَوَّرَةِ وَأَنَّهُ تَعَالَى أَخَذَ قَبْضَة من نوره فخلق من نُورَهُ، وَهَذَا سَفْسَطَةٌ مِنَ الْقَوْلِ، فَإِنَّ ذَاتَ رَبِّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ أَنْ تَكُونَ مَادَةً لِغَيْرَةٍ وَأَخْذُ قَبْضَةٍ مِنْ نُورِهِ لَيْسَ مَعْنَاهُ أَنَّهُ قُطِعَ مِنْهُ جُزْءٌ فَجَعَلَهُ نُورَ نَبِيِّهِ فَإِنَّهُ مُسْتَلْزِمٌ لِلْتَجَزِي وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يَتْبَعَهُ فِي ذَاتِهِ تَعَالَى اللَّهُ عَنْهُ.
وَالَّذِي أَوْقَعَهُمْ فِي هَذِهِ الْوَرْطَةِ الظَّلْمَاءِ هُوَ ظَاهِرُ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فِي مُصَنَّفَةٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَخْبِرْنِي عَنْ أَوَلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ اللَّهُ قَبْلَ الأَشْيَاءِ، فَقَالَ: يَا جَابِرُ! إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ قَبْلَ الأَشْيَاءِ نُورُ نَبِيِّكَ مِنْ نُورِهِ ….. وَقَدْ أخطأوا فِي فَهْمِ الْمُرَادِ النَّبَوِيِّ وَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ الإِضَافَةَ فِي قَوْلِهِ مِنْ نُورِهِ كَالإِضَافَةِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فِي قِصَّةِ خَلْقِ آدَمَ ونفخت فِيهِ من روحي وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى مِنْ قِصَّةِ سَيِّدِنَا عِيسَى وَرَوْحٌ مِنْهُ، وَكَقَوْلِهِمْ بَيْتُ اللَّهِ الْكَعْبَةُ وَالْمَسَاجِدُ وَقَوْلِهِمْ رَوْحُ اللَّهِ لِعِيسَى وَغَيْرِ ذَلِكَ.

اور ان میں ہیں جو ولادت نبوی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ نور محمدی کو نور رب تعالی سے خلق کیا گیا ان معنی میں کہ ذات مقدس سے نور نکلا …رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے نور میں سے کچھ نور نکال کر اسے اپنے نبی کا نور بنایا، اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے کوئی جزء کاٹ کر علیحدہ کیا اور اس سے اپنے نبی کا نور بنایا، ورنہ اس سے تو اللہ تعالیٰ کا اجزاء میں جانا لازم ہو گا۔۔۔جن قصاص و مذکرین نے عبدالرزاق کی اس روایت کے ظاہر کو اپنایا ہے وہ ورطہ ظلمات کا شکار ہوئے ہیں (پھر حدیث نقل کرتے ہیں) …. ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سمجھنے میں خطا کی ہے۔ وہ لوگ نہیں جانتے کہ اس حدیث میں  (من نوره)  سے اضافت مراد ہے۔ بالکل اس اضافت کی طرح جیسی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور اس میں اپنی روح پھونکنے کے قصہ میں بیان کی ہے، یا جیسے اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسی علیہ السلام کے قصہ میں  (روح منه)  کہا۔ یا کعبہ و مساجد کو بیت اللہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کو (روح الله)  وغیرہ کہا۔
 

حال ہی میں ایک نئی تحقیق بریلووی علماء کی طرف سے کی گی ہے اور دعوی کیا گیا ہے کہ نور محمدی والی روایت مصنف عبد الرزاق میں تھی لیکن طباعت کے دوران یہ جزمفقود ہو گیا  تھا اس کی وجہ سے یہ روایات مطبوعہ نسخے میں سے غائب ہو گئی
https://archive.org/details/MusanafAbdulRazzaqByAbuBakrAbdulRazzaqBinHammam
یہ جز اب پاکستان سے چھپا ہے

اس روایت کی سند اس کتاب کے ص ٦٢ پر ہے  عبد الرزاق عن معمر عن ابن المنکدر عن جابر

یہ سند بظاہر صحیح ہے- البتہ راقم  کے نزدیک یہ روایت  عبد الرزاق کے دور اختلاط کی معلوم ہوتی ہے

قابل غور ہے کہ القسطلاني شارح صحيح البخاري نے المواهب اللدنية میں اس روایت کا ذکر کیا ہے ، أبن عربي الصوفي نے تلقيح الأذهان ومفتاح معرفة الإنسان میں اس کا ذکر کیا ہے – محدثین میں إسماعيل العجلوني نے كشف الخفا اور الأربعين میں إس روایت  كا ذكر كيا ہے – حسين بن محمد بن الحسن الديار بكري نے تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس میں اس کا ذکر کیا ہے – أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري، شهاب الدين شيخ الإسلام، أبو العباس (المتوفى: 974هـ) نے فتوی میں اس کا ذکر کیا ہے کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں تھی-   محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ)   نے بھی اس کو مصنف عبد الرزاق کی روایت قرار دیا ہے – اس روایت کے مصدر کو بیان کرنے  میں احمد رضا بریلوی  یا ابن عربی یا سیوطی کا تفرد نہیں ہے – اس کو غیر صوفی عجلونی نے بھی ذکر کیا ہے – اب کیا یہ ممکن ہے کہ یہ روایت موجود نہ ہو لیکن اس کا ذکر کیا جاتا ہو وہ بھی متن کے ساتھ ! اگر یہ روایت مصنف عبد الرزاق کی نہیں تھی تو پھر کہاں سے آئی؟ اس کا جواب کون دے گا – کیا ان لوگوں نے اس کو گھڑا ؟ کسی نے اس بنا پر  القسطلاني اور العجلوني کو کذاب قرار نہیں   دیا ہے

نوٹ: احناف بھی اس روایت کو رد کرتے ہیں
إرشاد العاثر لوضع حديث أول ما خلق الله نور نبيك يا جابر از حسن السقاف
مرشد الحائر لبيان وضع حديث جابر از عبد الله بن الصديق الغماري

سیوطی نے اس روایت کا دفاع نہیں کیا ہے بلکہ ان سے سوال ہوا اس روایت پر
وَهَلِ الْوَارِدُ فِي الْحَدِيثِ: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ نُورَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُ أَرْبَعَةَ أَجْزَاءٍ
تو کہا
وَالْحَدِيثُ الْمَذْكُورُ فِي السُّؤَالِ لَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ،
یہ مذکورہ حدیث جس پر سوال ہے اس کی اسناد پر اعتماد نہیں ہے
الحاوي للفتاوي

دور جدید میں لوگ اس جز مفقود کو غیر ثابت کہہ رہے ہیں- لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا کہ اینے سارے لوگ جن میں بعض خود علم حدیث کے جاننے والے ہیں وہ اس روایت کا ذکر مصنف عبد الرزاق کے حوالے سے کر گئے ہیں – بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ “ممکن” ہے ان سب لوگوں نے حوالے کو مواھب الدنیہ از قسطلانی سے نقل کیا ہو یعنی ان سب نے تحقیق نہیں کی بلکہ مکھی پر مکھی ماری اور مصنف عبد الرزاق کا حوالہ دیتے رہے – یہ قول وہابیوں میں مشہور ہے اس روایت کے جواب کے طور پر
سليمان بن سحمان النجدي (المتوفى: 1349هـ) نے کتاب الصواعق المرسلة الشهابية على الشبه الداحضة الشامية میں لکھا
هذا حديث موضوع مكذوب على رسول الله صلى الله عليه وسلم مخالف لصريح الكتاب والسنة، وهذا الحديث لا يوجد في شيء من الكتب المعتمدة
یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے رسول الله پر جھوٹ ہے کتاب و سنت کی مخالف ہے اور کتب معتمد میں نہیں ہے

یعنی ٧٨ سال پہلے اس کو گھڑی ہوئی کہا جاتا تھا – اس وقت کسی نے اس مصنف عبد الرزاق جز مفقود کا ذکر نہیں کیا کہ اس کی سند ثابت نہیں ہے

راقم کا  نقطہ نظر ہے کہ ممکن ہے کہ  یہ روایت عبد الرزاق نے روایت کی لیکن یہ ان کے دور اختلاط کی ہے

تقریب التہذیب از ابن حجر میں ہے

عبد الرزاق ابن همام ابن نافع الحميري مولاهم أبو بكر الصنعاني ثقة حافظ مصنف شهير عمي في آخر عمره فتغير وكان يتشيع من التاسعة مات سنة إحدى عشرة وله خمس وثمانون

عبد الرزاق ابن همام ابن نافع الحميري .. ثقہ حافظ تھے مصنف   ہیں … آخری عمر میں تغیر کا شکار تھے اور ان میں تشیع تھی

محدث  ابن صلاح کا قول ہے عبد الرزاق ابن همام  مختلط تھے – اس پر  حافظ عراقی نے لکھا ہے
لم يذكر المصنف أحدا ممن سمع من عبد الرزاق بعد تغيره إلا إسحق بن إبراهيم الدبرى فقط وممن سمع منه بعد ما عمى أحمد بن محمد بن شبوية قاله أحمد بن حنبل وسمع منه أيضا بعد التغير محمد بن حماد الطهرانى والظاهر أن الذين سمع منهم الطبرانى فى رحلته إلى صنعاء من أصحاب عبد الرزاق كلهم سمع منه بعد التغير وهم أربعة أحدهم الدبرى الذى ذكره المصنف وكان سماعه من عبد الرزاق سنة عشر ومائتين

مصنف ( ابن الصلاح) نے ذکر نہیں کیا کہ عبد الرزاق سے کس نے تغیر کے بعد سنا صرف اسحاق بن ابراہیم کے اور جس نے سنا ان کے نابینا ہونے کے بعد ان میں ہیں احمد بن محمد یہ امام احمد نے کہا اور ان سے اس حالت میں سنا محمد بن حماد نے اور ان سے سنا طبرانی نے جب صنعاء کا سفر کیا – ان سب نے بعد میں سنا اور یہ چار ہوئے جن میں الدبری ایک ہیں ان سب نے ١٢٠  ھ میں سنا

  عالم اختلاط میں   عبد الرزاق  نے معمر عن ابن المنکدر کی سند سے بھی روایات بیان کی ہیں اور غیر عالم اختلاط میں بھی کی ہیں   مثلا

شعب الإيمان از بیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: نَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ” ثَلَاثَةٌ هُنَّ فَوَاقِدُ: جَارُ سَوْءٍ فِي دَارِ مَقَامِهِ، وَزَوْجَةُ سَوْءٍ إِنْ دَخَلْتَ عَلَيْهَا آذَتْكَ، وَإِنْ غِبْتَ عَنْهَا لَمْ تَأْمَنْهَا، وَسُلْطَانٌ إِنْ أَحْسَنْتَ لَمْ يَقْبَلْ مِنْكَ وَإِنْ أَسَأْتَ لَمْ يُقِلْكَ “

سنن الکبری بیہقی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّغَانِيُّ , ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: ” إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ , فَلْيَقُمْ؛ فَإِنَّهُ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ “

سوالات ابن هاني؛ 228/5 کے مطابق احمد نے  عبد الرزاق کے حوالے سے کہا
لا يعبأ بحديث من سمع منه وقد ذهب بصره، كان يلقن أحاديث باطلة
جس نے عبد الرزاق  کے نابینا ہونے کے بعد اس سے احادیث سنی ہیں، ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ وہ باطل حدیثوں کی تلقین قبول کر لیتے  تھے۔

نور محمد کا عقیدہ اہل تشیع کا عقیدہ ہے –  اور  عبد الرزاق کو شیعہ بھی کہا گیا ہے

تقریب التہذیب از ابن حجر میں یہ الفاظ ہیں

عبد الرزاق ابن همام ابن نافع الحميري مولاهم أبو بكر الصنعاني ثقة حافظ مصنف شهير عمي في آخر عمره فتغير وكان يتشيع من التاسعة مات سنة إحدى عشرة وله خمس وثمانون

اس میں عبد الرزاق کو شیعہ لکھا گیا ہے

قال الذهبي: عبد الرزاق بن همام ابن نافع، الحافظ الكبير، عالم اليمن، أبو بكر الحميري الصنعاني الثقة الشيعي
امام الذھبی نے ان کو شیعی کہا ہے

رجال الطوسي جو شیعوں کی کتاب ہے اس میں عبد الرزاق کا شمار شیعوں میں کیا گیا ہے
اور امام جعفر کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے

کتاب نقد الرجال از السيد مصطفى بن الحسين الحسيني التفرشي کے مطابق
عبد الرزاق بن همام اليماني: من أصحاب الباقر والصادق عليهما السلام، رجال الشيخ

امام احمد نے کہا
العلل ومعرفة الرجال: 2 / 59 الرقم 1545
قال عبد الله بن أحمد بن حنبل: سألت أبي، قلت له: عبد الرزاق كان يتشيع ويفرط في التشيع ؟ فقال: أما أنا فلم أسمع منه في هذا شيئا، ولكن كان رجلا تعجبه أخبار الناس – أو الأخبار
عبد الله نے احمد سے سوال کیا : کیا شیعہ تھے اور مفرط تھے ؟ احمد نے کہا جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے ان سے ایسا کچھ نہیں سنا لیکن یہ ایک آدمی تھے جن کی خبروں پر لوگوں کو تعجب ہوتا

ابن عدی نے کہا
وقد روى أحاديث في الفضائل مما لا يوافقه عليها أحد من الثقات
یہ فضائل علی میں وہ روایت کرتے جن کی ثقات موافقت نہیں کرتے

یعنی اہل تشیع کے پاس یہ شیعہ تھے اور امام جعفر سے اور امام صادق سے روایت کرتے تھے

 جامع الترمذي ،  أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (بَابٌ فِي فَضْلِ النَّبِيِّ ﷺ​) جامع ترمذی: كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں  باب: نبی صلی الله علیہ وسلم  کی فضیلت کا بیان حدیث ٣٦٠٩ ہے​

حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ قَالَ وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَفِي الْبَاب عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ
 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول ! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا:’ جب آدم روح اورجسم کے درمیان تھے

 امام ترمذی کہتے ہیں:   ابوہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں  اس باب میں میسرہ فجر سے بھی روایت آئی ہے۔

  مسند احمد میں بھی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا؟ قَالَ: ” وآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ
عبد الله بن أبي الجذعاء مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ رضی الله عنہ  نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا اپ کب نبی ہوئے؟ فرمایا جب آدم جسد و روح کے درمیان تھے

اس کو شعیب نے صحیح کہا ہے- یہ روایت قابل غور ہے اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ آدم علیہ السلام اس وقت نبی نہیں تھے کیونکہ تخیلق سے پہلے تقدیر لکھی گئی اس میں تمام انبیاء جو صلب آدم سے ہیں ان کو نبی مقرر کیا گیا ان کی ارواح کو خلق کیا گیا اور آدم جب جسد و روح کے درمیان تھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا مقدر لکھا گیا کہ یہ آخری نبی ہوں گے

طحاوی مشکل الاثار میں کہتے ہیں
وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” كُنْتُ نَبِيًّا وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ “، فَإِنَّهُ، وَإِنْ كَانَ حِينَئِذٍ نَبِيًّا، فَقَدْ كَانَ اللهُ تَعَالَى كَتَبَهُ فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ نَبِيًّا
اس حدیث میں ہے کہ وہ اس وقت نبی تھے   پس الله نے ان کا نبی ہونا لوح محفوط میں لکھا- یعنی بنی آدم کی تقدیر لکھی گئی جب آدم علیہ السلام  جسد اور روح کے درمیان کی حالت میں تھے

 مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَلْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنِّي عَبْدُ اللهِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمُنْجَدِلٌ   فِي طِينَتِهِ

عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رضی الله عنہ نے کہا کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا : میں الله کا غلام  ، نبیوں پر مہر ہوا اور ہے شک آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں تھے

اس کی سند میں سعيد ابن سويد الكلبي ہے اور امام بخاري کہتے ہیں : لم يصح حديثه اس کی حدیث صحیح نہیں

اور ابن حجر نے کتاب تعجيل المنفعة بزوائد رجال الأئمة الأربعة میں اس کا ذکر کیا

قال البُخَارِيّ لم يَصح حَدِيثه يَعْنِي الَّذِي رَوَاهُ مُعَاوِيَة عَنهُ مَرْفُوعا إِنِّي عبد الله وَخَاتم النَّبِيين فِي أم الْكتاب وآدَم منجدل فِي طينته

امام بخاري کہتے ہیں اس کی حدیث صحیح نہیں یعنی حدیث جو مُعَاوِيَةُ بْنَ صَالِحٍ  نے سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَلْبِيِّ سے  موفوع روایت کیا ہے کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا : میں الله کا غلام  ، نبیوں پر مہر ہوا اور ہے شک آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں تھے

کتاب الموضوعات  از ابن جوزی میں ہے

وَقد رَوَى جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَيَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِيهِ سُفْيَانَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْد عَن الْوَلِيد بن عبد الرحمن عَنْ نُمَيْرٍ الْحَضَرِيِّ عَنْ أَبِي ذَر قَالَ قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” خُلِقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ مِنْ نُورٍ وَكُنَّا عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ اللَّهُ آدَمَ بِأَلْفَيْ عَامٍ ثُمَّ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ فَانْقَلَبْنَا فِي أقلاب الرِّجَالِ ثُمَّ جَلَلْنَا فِي صُلْبِ عبد المطلب، ثُمَّ شَقَّ اسْمَانَا مِنِ اسْمِهِ فَاللَّهُ مَحْمُودٌ وَأَنَا مُحَمَّدٌ، وَاللَّهُ الاعلى وعَلى عليا “.

هَذَا وَضعه جَعْفَر بن أَحْمَدَ وَكَانَ رَافِضِيًّا يضع الحَدِيث.

أَبِي ذَر نے کہا رسول الله نے فرمایا میں اور علی کو نور سے خلق کیا گیا اور ہم تخلیق آدم سے ہزار سال پہلے سے  عرش کے دائیں طرف  تھے  پھر الله تعالی نے آدم کو خلق کیا پھر ہم کو رجال کے دلوں میں سے گزارا پھر صلب عبد المطلب میں رکھا پھر ہمارے ناموں کو الله کے نام کے ساتھ شق کیا گیا کہ میں محمد ہوں  اور الله محمود ہے اور الله الاعلى ہے اور علی علیا ہے

ابن جوزی نے کہا اس کو رافضی جَعْفَر بن أَحْمَدَ (بن علي بن بيان المتوفی ٣٠٤ ھ )  نے گھڑا ہے

فضائل الصحابة از أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل (المتوفى: 241هـ) کی روایت ہے
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ قثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ قثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنَّا أَنَا وَعَلِيٌّ نُورًا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَرْبَعَةَ عَشَرَ أَلْفَ عَامٍ، فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ قَسَمَ ذَلِكَ النُّورَ جُزْءَيْنِ، فَجُزْءٌ أَنَا، وَجُزْءٌ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
سلمان نے روایت کیا کہ میں نے اپنے حبیب رسول الله سے سنا کہ میں اور علی الله تعالی کے سآمنے ١٤٠٠٠ سال تک ایک نور کی طرح تھے قبل اس کے کہ آدم خلق ہوتے پس جب الله نے آدم کو خلق کیا اس نور کو تقسیم کیا ایک جز سے میں بنا ایک سے علی

اس کی سند میں الحسن بن على ہے- تاریخ دمشق میں اس کی سند ہے
أخيرنا أبو غالب بن البنا أنا أبو محمد الجوهري أنا أبو علي محمد بن أحمد بن يحيى العطشي نا أبو سعيد العدوي الحسن بن علي أنا أحمد بن المقدام العجلي أبو الأشعث (2) أنا الفضيل بن عياض عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن زاذان عن سلمان قال سمعت حبي رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول كنت أنا وعلي نورا بين يدي الله مطيعا يسبح الله ذلك النور ويقدسه قبل أن يخلق ادم بأربعة عشر ألف عام فلما خلق الله ادم ركز ذلك النور في صلبه فلم نزل (3) في شئ واحد حتى افترقنا في صلب عبد المطلب فجزء أنا وجزء علي

اس سند سے معلوم ہوتا ہے کہ سند میں أبو سعيد العدوي الحسن بن علي ہے جو اصل میں
أبو سعيد العدوي الحسن بن على بن زكريا بن صالح ، اللؤلؤى، البَصْري، الذئب ہے اور متروک ہے – یہ روایت أبو بكر بن مالك القطيعي کا اضافہ ہے کیونکہ أبو سعيد العدوي الحسن بن على کی پیدائش ٢١٠ ہجری کی ہے اور امام احمد کی وفات  کے وقت یہ بچہ ہو گا

شیعوں کی کتاب الخصال از صدوق أبى جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمى
المتوفى 381 ھ ، منشورات  جماعة المدرسين في الحوزة العلمية قم المقدسة میں روایت ہے

روى الصدوق في الخصال: 481 ـ 482؛ وفي معاني الأخبار: 306 ـ 308، حدثنا أحمد بن محمد بن عبد الرحمن بن عبد الله بن الحسين بن إبراهيم
ابن يحيى بن عجلان المروزي المقرئ قال : حدثنا أبوبكر محمد بن إبراهيم الجرجاني
قال : حدثنا أبوبكر عبد الصمد بن يحيى الواسطي قال : حدثنا الحسن بن علي المدني، عن عبد الله بن المبارك، عن سفيان الثوري، عن جعفر بن محمد الصادق، عن أبيه، عن جدّه، عن عليّ بن أبي طالب(عم) قال: «إنّ الله تبارك وتعالى خلق نور محمد(ص) قبل أن خلق السماوات والأرض والعرش والكرسيّ واللوح والقلم والجنّة والنار، وقبل أن خلق آدم ونوحاً…، ثمّ أظهر عزَّ وجلَّ اسمَه على اللوح، وكان على اللوح منوِّراً أربعة آلاف سنة، ثم أظهره على العرش، فكان على ساق العرش مثبَتاً سبعة آلاف سنة، إلى أن وضعه اللهُ عزَّ وجلَّ في صلب آدم…».

اس کتاب کے محقق على اكبر الغفارى کا کہنا ہے کہ سند میں مجہولین ہیں

 على بن الحسن بن شقيق أبو عبد الرحمن المروزى ، وجميع رجال السند إلى هنا مجهول ولم أظفر بهم

بھر حال شیعہ آجکل اس کا رد کر رہے ہیں کہ نور محمد کو سب سے پہلے خلق کیا گیا

قراءةٌ في العدد المزدوج (40ـ41) من مجلة الاجتهاد والتجديد

64 thoughts on “نور محمدی کا ذکر”

    1. Islamic-Belief says:

      اپ نے کہا غیر صحیح کی حدیث جس میں عن ہو سماع نہ ہو وہ ضعیف ہوتی ہے

      جواب
      یہ کوئی اصول نہیں ہے – یہ متاخرین اہل حدیث کا قول ہے – علم حدیث میں یہ کوئی اصول نہیں -عن سے روایت صحیحین کی بھی ضعیف ہو سکتی ہے
      لیکن جب اس میں مدلس ہو اس نور محمدی کی روایت کی سند میں مدلس کون ہے ؟
      —–

      اپ نے جس ویب سائٹ کا ذکر کیا میں نے وہ سب دیکھ لیا تھا
      میرے نزدیک ان کی تحقیق ممکن ہے اس جز المفقود پر صحیح ہو لیکن اس میں موجود نور محمدی والی روایت کا ذکر بہت سے لوگ پہلے کر چکے ہیں کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں تھا

      اسی وجہ سے میں نے یہ حوالے دیے ہیں
      ——–
      اہل سنت میں السيوطيُّ نے الخصائص الكبرى میں اس طرق کا ذکر کیا ہے – القسطلاني اور ابن عربي الصوفي نے اپنی کتب میں اس طرق کا ذکر کیا ہے- برصغیر میں أحمد رضا بريلوي نے کہا ہے کہ یہ مصنف عبد الرزاق کی روایت تھی – محدثین میں العجلوني نے كشف الخفاء میں بھی ذکر ہے کہ یہ روایت مصنف عبد الرزاق میں تھی لکھا

      أول ما خلق اللهُ نورُ نبِيكِ يا جابر – الحديث رواه عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله بلفظ قال قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، أخبرني عن أول شئ خلقه الله قبل الأشياء

      الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة میں المؤلف: محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ) نے ذکر کیا ہے کہ مصنف عبد الرزاق میں ایک روایت جابر رضی الله عنہ سے مروی تھی جس میں ہے کہ سب سے پہلے نور محمدی کو خلق کیا گیا
      ——

      یہ سب پرانے لوگ ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ مصنف عبد الرزاق میں یہ روایت موجود تھی – لیکن موجود طبع میں یہ روایت نہیں ملتی – اس کا مطلب ہے کہ کسی دور میں اس روایت کو غلط سمجھتے ہوئے اس میں سے نکال دیا گیا یا جس نسخنے کو شائع کیا گیا وہی ناقص تھا

      1. Ajulani ne is ko radd kiya hai kis bunyad pr ap k mutabiq to sanad theak hai.. Unka radd naql kr dei

        1. Islamic-Belief says:

          عجلونی نے اس کا ذکر کیا کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں ہے – لیکن تصحیح کر لیں: عجلونی نے اس کو رد نہیں کیا بلکہ اس کی تاویل کی اور مواھب کے شارح علي بن علي الشبراملسي کا قول نقل کیا کہ الله نور نہیں لہذا اس روایت میں جو بیان ہوا اس میں نور کی اضافت ہے – نور جسم کے لئے ہے وغیرہ

          كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس از إسماعيل بن محمد العجلوني الجراحي (المتوفى: 1162هـ) میں ہے

          (أول ما خلق اللهُ نورُ نبِيكِ يا جابر – الحديث) رواه عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله بلفظ قال قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، أخبرني عن أول شئ خلقه الله قبل الأشياء.
          قال: يا جابر، أن الله تعالى خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره، فجعل ذلك النور يدور بالقُدرة حيث شاء الله، ولم يكن في ذلك الوقت لوح ولا قلم ولا جنة ولا نار ولا ملك ولا سماء ولا أرض ولا شمس ولا قمر ولا جِنِّيٌ ولا إنسي، فلما أراد الله أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول القلم ومن الثاني اللوح ومن الثالث العرش، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الجزء الأول حَمَلَة العرش ومن الثاني الكرسي ومن الثالث باقي الملائكة، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الأول السماوات ومن الثاني الأرضين ومن الثالث الجنة والنار، ثم قسم الرابع أربعة أجزاء فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين ومن الثاني نور قلوبهم وهى المعرفة بالله ومن الثالث نور إنسهم وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله – الحديث، كذا في المواهب، …. تنبيه: قال الشبراملسي ليس المراد بقوله من نوره ظاهره من أن الله تعالى له نور قائم بذاته لاستحالته عليه لأن النور لا يقوم إلا بالأجسام، بل المراد خلق من نور مخلوق له قبل نور محمد وأضافه إليه تعالى لكونه تولى خلقه، ثم قال ويحتمل أن الإضافة بيانية، أي خلق نور نبيه من نور هو ذاته تعالى لكن لا بمعنى أنها مادة خلق نور نبيه منها بل بمعنى أنه تعالى تعلقت إرادته بإيجاد نور بلا توسط شئ في وجوده، قال وهذا أولى الأجوبة نظير ما ذكره البيضاوي في قوله تعالى … (ثم سواه ونفخ فيه من روحه) … حيث قال أضافه إلى نفسه تشريفا وإشعارا بأنه خلقٌ عجيب وأن له مناسبة إلى حضرة الربوبية انتهى ملخصا.

      2. محمد شعیب احمد says:

        تفسیر ابنِ کثیر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نقل کی
        گئی ہے کہ تخلیق میں اول اور بعثت میں آخر۔۔۔امام ابنِ کثیر رحہ نے
        ایک راوی سعید بن بشیر کو ضعیف کہا ہے جبکہ شمس الدین ذہبی رحہ
        اس کے برعکس کہتے ہیں۔۔۔اسی طرح تفسیر ابن ابی حاتم میں دسیوں
        احادیث سے زیادہ احادیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیقی اولیت
        کی شاہد ہیں۔۔۔! تو کن کن احادیث کو ہم ترک کرتے چلے جائیں گے؟
        کیا ہم ان ساری احادیث سے ملنے والے شواہد کو یہ کہہ کر نظر انداز
        کردیں گے کہ یہ میرے مسلک ، مشرب ، ذوق ، مزاج اور فہمِ قُرآن و سنت کے
        خلاف ہے؟ معیار کیا ہے؟ حکم کون ہے؟ فیصل کون ہے؟ کسوٹی کیا ہے؟

        1. Islamic-Belief says:

          ابن کثیر نے سورہ احزاب میں ذکر کیا
          قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: وَإِذْ أَخَذْنا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ الْآيَةَ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كُنْتُ أَوَّلَ النَّبِيِّينَ فِي الْخَلْقِ وآخرهم في البعث فبدأ بِي قَبْلَهُمْ» سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ فِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَهُوَ أَشْبَهُ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ قتادة موقوفا

          سعید بن بشیر نے قتادہ سے انہوں نے حسن بصری سے روایت کیا انہوں نے ابو ھریرہ سے
          کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
          انبیاء میں مجھ کو سب سے پہلے خلق کیا گیا

          ابن کثیر نے کہا سعید بن بشیر میں ضعف ہے اور سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ نے اس کو قتادہ سے مرسل روایت کیا ہے
          يحيى بْن مَعِين: ضعيف
          نسائی نے بھی ضعیف کہا ہے
          امام الذھبی نے ذکر کیا ليس بقوي في الحديث. قاله الدارقطني
          حدیث میں قوی نہیں ایسا امام دارقطنی نے کہا
          قال ابن حبان: فاحش الخطأ.
          ابن حبان نے کہا بڑی خطا کرتا ہے

          ان محدثین کے اقوال سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ اس روایت کو صحیح کہا جائے
          میرے نزدیک صحیح نہیں ہے

          کسوٹی تو صرف قرآن ہے – ہم حدیث کے متن کو بھی اسی سے چیک کرتے ہیں
          اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اول مخلوق ہوتے تو قرآن میں ذکر ہوتا
          لیکن اللہ تعالی نے یہ افضلیت آدم علیہ السلام کو دی ہے
          اور اسی کا ہم کو منزل من اللہ کتاب قرآن میں علم دیا ہے

    2. Ap ne hi ik bar kha tha k jab koi ravi aan se riwayt krta hai to mUtlb wo kisi ka name chuba rha hota hai jo k tadless kehlati hai
      Toh is riwayt k sary ravi aan se riwayt kr rahy hai
      Iska kya mutlb hsi
      Dosri trf jo khty hai yeh riwayt us juz ul.mafqid ki hai kha yeh jata hai k yeh nushka musanaf abdul razzaq ka hissa tha . Actual abdul razzaq mn yeh hadith phle number pr thi… Jab us website k tehkik k mutabik yeh nushkha . Bht bad mn likha gya or likhne wale ne apne se le kr us shaks tak sanad hi nai di jis sr us ne lia..
      Ap ka ik blockhai muddhisor sufi ka ittehad..kis trh 2no chezian mix hui.. Toh suyyuti sahib to kudd 800 saal bad ae or unhin ne ye sanad likhi or ibne arbi b sufi the raza khan brelvi b sufi party se the.. Toh jo sanad juz ul.mufkood ki haibwohi inhon ne naql ki or kga k razzaq se hai… Toh inki bbat ka itbar kesa

      1. Islamic-Belief says:

        راوی اگر مدلس معلوم ہو تو یہ حکم لگتا ہے ہر راوی پر نہیں کہ اس کی عن سے روایت پر تحقیق کی جاتی ہے کہ سماع ہوا ہے یا نہیں

        —–
        suyyuti sahib to kudd 800 saal bad ae or unhin ne ye sanad likhi or ibne arbi b sufi the raza khan brelvi b sufi party se the.. Toh jo sanad juz ul.mufkood ki haibwohi inhon ne naql ki or kga k razzaq se hai… Toh inki bbat ka itbar kesa
        جواب

        القسطلاني شارح صحيح البخاري نے المواهب اللدنية میں ذکر کیا ہے ، أبن عربي الصوفي نے تلقيح الأذهان ومفتاح معرفة الإنسان میں اس کا ذکر کیا ہے – محدثین میں إسماعيل العجلوني نے كشف الخفا اور الأربعين میں إس كا ذكر كيا ہے – اب کیا یہ ممکن ہے کہ یہ روایت موجود نہ ہو لیکن اس کا ذکر کیا جاتا ہو وہ بھی متن کے ساتھ ! اگر یہ روایت مصنف عبد الرزاق کی نہیں تھی تو پھر کہاں سے آئی؟ اس کا جواب کون دے گا – کیا ان لوگوں نے اس کو گھڑا ؟ کسی نے ابن عربی، القسطلاني اور العجلوني کو کذاب نہیں قرار دیا ہے
        محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي الهندي، أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ) کا شمار برصغیر کے سنجیدہ احناف میں ہوتا ہے -انہوں نے بھی اس کو مصنف عبد الرزاق کی روایت قرار دیا ہے – اس میں احمد رضا یا ابن عربی یا سیوطی کا تفرد نہیں ہے – اس کو غیر صوفی عجلونی نے بھی ذکر کیا ہے- حسين بن محمد بن الحسن الديار بكري نے تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس میں اس کا ذکر کیا ہے – أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري، شهاب الدين شيخ الإسلام، أبو العباس (المتوفى: 974هـ) نے فتوی میں اس کا ذکر کیا ہے کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں تھی

        نوٹ: احناف بھی اس روایت کو رد کرتے ہیں
        إرشاد العاثر لوضع حديث أول ما خلق الله نور نبيك يا جابر از حسن السقاف
        مرشد الحائر لبيان وضع حديث جابر از عبد الله بن الصديق الغماري
        ——
        سیوطی نے اس کا دفاع نہیں کیا ہے بلکہ ان سے سوال ہوا اس روایت پر
        وَهَلِ الْوَارِدُ فِي الْحَدِيثِ: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ نُورَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُ أَرْبَعَةَ أَجْزَاءٍ
        تو کہا
        وَالْحَدِيثُ الْمَذْكُورُ فِي السُّؤَالِ لَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ،
        یہ مذکورہ حدیث جس پر سوال ہے اس کی اسناد پر اعتماد نہیں ہے
        الحاوي للفتاوي
        ——
        دور جدید میں لوگ اس جز مفقود کو غیر ثابت کہہ رہے ہیں- لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا کہ اینے سارے لوگ جن میں بعض خود علم حدیث کے جاننے والے ہیں وہ اس روایت کا ذکر مصنف عبد الرزاق کے حوالے سے کر گئے ہیں

        بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ “ممکن” ہے ان سب لوگوں نے حوالے کو مواھب الدنیہ از قسطلانی سے نقل کیا ہو یعنی ان سب نے تحقیق نہیں کی بلکہ مکھی پر مکھی ماری اور مصنف عبد الرزاق کا حوالہ دیتے رہے – یہ قول وہابیوں میں مشہور ہے اس روایت کے جواب کے طور پر
        سليمان بن سحمان النجدي (المتوفى: 1349هـ) نے کتاب الصواعق المرسلة الشهابية على الشبه الداحضة الشامية میں لکھا
        هذا حديث موضوع مكذوب على رسول الله صلى الله عليه وسلم مخالف لصريح الكتاب والسنة، وهذا الحديث لا يوجد في شيء من الكتب المعتمدة
        یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے رسول الله پر جھوٹ ہے کتاب و سنت کی مخالف ہے اور کتب معتمد میں نہیں ہے

        یعنی ٧٨ سال پہلے اس کو گھڑی ہوئی کہا جاتا تھا – اس وقت کسی نے اس مصنف عبد الرزاق جز مفقود کا ذکر نہیں کیا کہ اس کی سند ثابت نہیں ہے

        ——–
        میری تحقیق کا نقطہ نظر الگ ہے – میں کہہ رہا ہوں “ممکن” یہ روایت عبد الرزاق نے روایت کی لیکن یہ ان کے دور اختلاط کی ہے

        ———

        1. Kya siqqa ravi dour e ikhtalat mn mashoor qool ko b riwayt kr jata hai…
          Kya door e ikhtalt k riwayt ravi ki qubool.hoti hai agr wo sahih ul isnad ho or wesa matan kisi dosri hadith mn b na aya ho
          Dosra imam razzaq siqqa tohai lekin muddlis b hai.

          1. Islamic-Belief says:

            اختلاط کا مطلب ہے حدیث کو اپنے یا دوسروں کے قول سے خلط ملط کرنا
            اس کا مطلب سٹھیا جانا بھی ہوتا ہے
            —–
            عبد الرزاق مدلس بھی ہے اور صحیحین میں بھی ان کی بیشتر روایات عن سے ہی ہیں اور یہ نہ تو امام بخاری کے ہم عصر ہیں نہ امام مسلم کے بلکہ ان دونوں کے استادوں نے عبد الرزاق سے سنا ہے -لہذا عبد الرزاق کی روایات میں یہ احتمالات ہیں کہ تدلیس ہو سکتی ہے اور اختلاط بھی اور ان کو شیعہ بھی کہا گیا ہے اور نور محمد اہل تشیع کا بھی عقیدہ ہے

          2. Ikhtalat mn qol ko galt malt kia jata hai.. Jab k aisa qol kisi muddhis ya aima ne toh bayn nai kiya mutaqadeemen mn se na hi is se milta julta koi qol ya hadith kisi or ne bayn ki… To phr razzaq mn se isko kehna galti b to ho sakti hai
            Qk suyyuti ne jis dor mn zikr kiya us waqt to sufiat b raij mazhab bn chuka tha to ho sakta tab garri gai ho..unhon ne to sahih hadith ki b batil taweelat kr k marzi k mutlb nikale…. To phir isko sahih sanad kehna theak kesy hai
            Jinhon ne b yeh hadith likhi razzaq sahib ki sanad se likhi … 800 saal bad log isko razzaq kk kitab se bta rahy hai … Unhon ne 211 hijri mn wafat pai or kha jata unka asl nuskha gum gya or kai dusre nusko se mil gya.. To ho sakta kisi ne sanad garh k yeh hadith phila di ho..m

            Hala k bukhri muslim b isi dour k hai unhon ne yeh hadith nai likhi hala k unhon ne ap k mutabiq abdul razzaq se suna b hai
            ..or mazkoora hadith mn aan hai jo tadless ki nishani hai toh tadless ki wajh se hadith toh zaef hogai.. Phr apka qol k sanad sahih hai galt hogya na…
            Uyeh hadith mutaqadeemeen nai to bayn nai kiiii jab k mutakirren ne isko razzaq ki hadith kha…

          3. Islamic-Belief says:

            اپ نے کہا : کسی محدث نے اس کو روایت نہیں کیا تو ہو سکتا ہے مصنف عبد الرزاق میں سے اس کو کہنا غلطی ہو … سیوطی نے صوفیت کے دور میں اس کا ذکر کیا ہے …. ہو سکتا ہے کسی نے سند گھڑی ہو – کتاب صحیح بخاری و مسلم بھی اسی دور کی ہیں انہوں نے اس کو نہیں لکھا … اس کی سند میں عن ہے تدلیس ہو سکتی ہے تو اپ کا قول سند صحیح ہے غلط ہوا

            ——
            جواب
            عبد الرزاق نے میرے نزدیک اس کو دور اختلاط میں بیان کیا اور اسی حوالے کو لوگوں نے لکھا اس میں صوفی ہی نہیں عجلونی بھی ہیں جو علم الموضوعات کے ماہر تھے انہوں نے اس کا حوالہ مصنف عبد الرزاق ہی دیا ہے – بلاگ کو دوبارہ دیکھیں اس حوالے کو بیان کرنے میں صوفی منفرد نہیں ہیں
            ہو سکتا ہے کسی نے سند گھڑی ہو یہ تو احتمال ہے اس کی دلیل کیا ہے کہ معاملہ یہی ہے ؟ مدلس کی عن سے روایت رد ہوتی ہے لیکن اگر وہ تصریح کر دے کہ اس نے شیخ سے سنا ہے تو یہ بات ختم ہو جاتی ہے –
            مسند احمد 7731 میں ہے
            حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ
            یعنی عبد الرزاق کا سماع معمر سے ہے

            اس بنا پر تدلیس کے حوالے سے یہ نور محمدی کو رد نہیں کیا جا سکتا
            ——–
            اب میرے نزدیک بات یہ ہے کہ عبد الرزاق نے کسی شیعہ سے علی اور رسول الله کے نور ہونے کی خبر سنی تھی وہ ان کے دماغ میں تھی لیکن عالم اختلاط میں وہ حدیث بن گئی -اسی طرح فضائل علی کا معاملہ بھی ہے جو ان کے حوالے سے آ رہا ہے
            یعنی سند “بظاہر” صحیح لگ رہی ہے لیکن اس میں مخفی علت اختلاط کا عالم ہے
            ——
            اپ کا کہنا ہے کہ گویا کہ ایک روایت کو پھیلانے کی خاطر پورا ایک جز گھڑا گیا اس کی اسناد اور متن کو بھی گھڑا گیا – اب اپ نے کیا جز المفقود دیکھا ہے ؟ اس میں کل کتنی روایات ہیں ؟ کیا تمام پر گھڑی سند ہونے کا حکم لگے گا؟
            ہر سند و متن کو پہلے ثابت کرنا ہو گا کہ یہ گھڑی ہوئی ہے صرف ایک روایت کی بات نہیں ہو سکتی – میرے نزدیک یہ غلطی لوگوں نے کی ہے کہ تمام جز پر تحقیق نہیں کی صرف اس روایت پر بات کی ہے

        2. Ap ne kha k yeh in k alim e ikhtalat ki riwaut hai or inko shia b kha gya hai…. Apne hi ik bar kha tha k shia agr apne mazhab ka parchar kry to riwayt nai qubol ki jati chahe sahih sanad ho… Jesy wo zadan wali riwayt hai roh lotane walu…. Islie ap k mutabisanad sahih b ho to riwayt to shia aqida bta rhi hai….
          To phir xahbi me kha k iski sanad pr itbar nai yeh qol liya jae ga

          1. Islamic-Belief says:

            زاذان کا معلوم ہے کہ فارسی نسل کا شیعہ تھا اور علی کے اصحاب میں سے تھا اور پھر عود روح کا بدعتی عقیدہ بیان کیا
            عبد الرزاق کیا اس نوعیت کے شیعہ تھے یا اختلاط میں شیعی روایات بیان کر گئے یہ واضح نہیں ہے – غالب رائے میرے نزدیک یہ ہے کہ ان کی جو فضائل علی کی روایات ہیں وہ بھی میرے نزدیک اختلاط کی ہیں نہ کہ شیعہ بدعتی عقیدے کی وجہ سے

          2. Ok. Lekin agr koi ikhtalat mn shia ki biddati aqide ki riwayt bayn kr jae ..jesy k yeh wali hai phr chahe uski sanad sahi ho to kya woh qubool ki jati hai us se daleel lety hai kya ahlesunnat….

          3. Islamic-Belief says:

            محدث کے اختلاط کی تحقیق میں اختلاف ہوتا ہے اس بنا پر کوئی روایت لیتا ہے کوئی ردکرتا ہے مثلا قرع النعال والی روایت امام بخاری نے صحیح سمجھی ہے میرے نزدیک اس میں راوی کا اختلاط ہے – اس نور محمدی کو میں اختلاط کی روایت کہہ رہا ہوں لیکن جو قبول کر رہے ہیں وہ اس قول کو ظاہر ہے قبول نہیں کرتے

          4. Apnekha is rwayt ko ajlani muddis ne naql kia or wo muzuat k mahir thy yoh unhon ne es hadith pr koi hikm hnai lsgya. K yeh kisi hadith hai

          5. Islamic-Belief says:

            عجلونی نے اس کا ذکر کیا ہے – لیکن حوالہ مصنف عبد الرزاق کا ہی دیا ہے
            یہ دو الگ باتیں ہیں

            عجلونی نے اس کا ذکر کیا کہ یہ مصنف عبد الرزاق میں ہے – عجلونی نے اس کو رد نہیں کیا بلکہ اس کی تاویل کی اور مواھب کے شارح علي بن علي الشبراملسي کا قول نقل کیا کہ الله نور نہیں لہذا اس روایت میں جو بیان ہوا اس میں نور کی اضافت ہے – نور جسم کے لئے ہے وغیرہ

            كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس از إسماعيل بن محمد العجلوني الجراحي (المتوفى: 1162هـ) میں ہے

            (أول ما خلق اللهُ نورُ نبِيكِ يا جابر – الحديث) رواه عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله بلفظ قال قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، أخبرني عن أول شئ خلقه الله قبل الأشياء.
            قال: يا جابر، أن الله تعالى خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره، فجعل ذلك النور يدور بالقُدرة حيث شاء الله، ولم يكن في ذلك الوقت لوح ولا قلم ولا جنة ولا نار ولا ملك ولا سماء ولا أرض ولا شمس ولا قمر ولا جِنِّيٌ ولا إنسي، فلما أراد الله أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول القلم ومن الثاني اللوح ومن الثالث العرش، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الجزء الأول حَمَلَة العرش ومن الثاني الكرسي ومن الثالث باقي الملائكة، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء فخلق من الأول السماوات ومن الثاني الأرضين ومن الثالث الجنة والنار، ثم قسم الرابع أربعة أجزاء فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين ومن الثاني نور قلوبهم وهى المعرفة بالله ومن الثالث نور إنسهم وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله – الحديث، كذا في المواهب، …. تنبيه: قال الشبراملسي ليس المراد بقوله من نوره ظاهره من أن الله تعالى له نور قائم بذاته لاستحالته عليه لأن النور لا يقوم إلا بالأجسام، بل المراد خلق من نور مخلوق له قبل نور محمد وأضافه إليه تعالى لكونه تولى خلقه، ثم قال ويحتمل أن الإضافة بيانية، أي خلق نور نبيه من نور هو ذاته تعالى لكن لا بمعنى أنها مادة خلق نور نبيه منها بل بمعنى أنه تعالى تعلقت إرادته بإيجاد نور بلا توسط شئ في وجوده، قال وهذا أولى الأجوبة نظير ما ذكره البيضاوي في قوله تعالى … (ثم سواه ونفخ فيه من روحه) … حيث قال أضافه إلى نفسه تشريفا وإشعارا بأنه خلقٌ عجيب وأن له مناسبة إلى حضرة الربوبية انتهى ملخصا.

  1. Islamic-Belief says:

    ابن جوزی کی بہت سی کتب ہیں بعض میں زہد ہے بعض میں قصے ہیں بعض میں علم حدیث ہے اور بعض میں تاریخ ہے بعض میں عقائد ہیں

    یزید پر جو کتاب ہے وہ تاریخ کے حوالے سے ہے اس میں علم حدیث کے حوالے سے نہیں مورخ کے حوالے سے انہوں نے لکھا ہے لیکن تبصرہ زیادہ کیا ہے جرح و تعدیل نہیں کی ہے اس بنا پر وہ کتاب اس قدر مشہور نہیں ہے

  2. Yani ap ne apni phli tehkeek se ruju kr liya hai

    ⇑ نور محمدی کو سب سے پہلے خلق کیا گیا؟

    جواب
    متن ہے
    “أول ما خلق الله نور نبيك يا جابر
    اے جابر الله نے سب سے پہلے تمھارے نبی کا نور خلق کیا

    سند دی جاتی
    عبدالرزق عن معمر عن ابن المنکدر عن جابر

    جبکہ یہ روایت مصنف عبد الرزق میں نہیں تھی پھر کسی صوفی دور میں اس کو اس کے کسی نسخہ میں شامل کیا گیا

    1. Islamic-Belief says:

      جی ہاں

      —–
      نشاندہی کا شکریہ – اس جواب کو نئی تحقیق کے مطابق کر دیا ہے

      1. mere nazdeek.apki phli tehkeek sahih hai

        ——
        Sab se phle yeh hadith qastalani jo k kud 8th century k hai unhon abdulrazzaq se mansob ki bila sanad . Kha yeh jata hai qastalni b sufi the. 10 hijzri mn yeh juz likha gya or us mn yeh sanad naql ki gai phir yah se baki sab ne wo hadith naql kr di jinka apne zikr kya hai
        Is nuskhe ka hal ap dekh chuke hai… Ab ap kya khte hai
        Hadith ki tarekh mn b milta hai k bazon ne siqqa ravion sek naam pr sanadein garri or logon mnapne isko aam kia..
        Jab k hadith mn hai sab se phle qalam bna. Phli wahi mn b qalam ka zikr hai k us k zarye ilm shikya or phr qalam ki qasam b toh mujood hai.

        1. Islamic-Belief says:

          قسطلانی کے صوفی ہونے یا نہ ہونے سے اس کا تعلق نہیں کیونکہ صوفی منہج کا مطلب وضاع نہیں ہے – اپ کے نزدیک قسطلانی کذاب ہے ؟ ایسا تو کسی نے نہیں کہا
          جب تک صریح ثبوت نہ ہو جو بھی اپ نے توحید ڈٹ کام سے نقل کیا وہ سب ظن و تخمین ہے
          اس پر بحث برائے بحث بے کار ہے کیونکہ مصنف عبد الرزاق کا حوالہ متعدد لوگوں نے دیا ہے اور اس میں لوگوں نے تاویل روایت کی ہے جیسے عجلونی نے تو کیا یہ آسان نہ تھا کہ کہا جاتا کہ روایت گھڑی ہوئی ہے اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں
          لیکن عجلونی ایسا نہیں کرتے وہ تاویل کرتے ہیں یعنی وہ محدث جو اس فن کو جانتے تھے وہ اس روایت کو رد نہیں کرتے
          اسی وجہ سے میں نے اپنی پچھلی تحقیق سے رجوع کیا اور اس کو عبد الرزاق کا اختلاط قرار دیا ہے

          قسطلانی نے مکمل متن نہیں دیا دو چار جملے اس حدیث کے لکھے ہیں
          وروى عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله الأنصارى قال: قلت يا رسول الله، بأبى أنت وأمى، أخبرنى عن أول شىء خلقه الله تعالى قبل الأشياء. قال: يا جابر، إن الله تعالى قد خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره، فجعل ذلك النور يدور بالقدرة حيث شاء الله تعالى، ولم يكن فى ذلك الوقت لوح ولا قلم، ولا جنة ولا نار، ولا ملك ولا سماء، ولا أرض ولا شمس ولا قمر، ولا جنى ولا أنسى، فلما أراد الله تعالى أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول القلم، ومن الثانى اللوح، ومن الثالث العرش. ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول حملة العرش، ومن الثانى الكرسى، ومن الثالث باقى الملائكة، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الأول السماوات، ومن الثانى الأرضين ومن الثالث الجنة والنار، ثم قسم الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين، ومن الثانى نور قلوبهم- وهى المعرفة بالله- ومن الثالث نور أنسهم، وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله «1»

          بس یہ تمام کلام ہے جو قسطلانی نے کیا لیکن یہ مکمل روایت نہیں ہے – بعد والوں نے اس کو مکمل نقل کیا ہے مثلا
          بلغة السالك لأقرب المسالك المعروف بحاشية الصاوي على الشرح الصغير (الشرح الصغير هو شرح الشيخ الدردير لكتابه المسمى أقرب المسالك لِمَذْهَبِ الْإِمَامِ مَالِكٍ)
          المؤلف: أبو العباس أحمد بن محمد الخلوتي، الشهير بالصاوي المالكي (المتوفى: 1241هـ)
          اس میں اس کا مکمل متن ہے
          —–
          الفتاوى الحديثية
          المؤلف: أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي السعدي الأنصاري، شهاب الدين شيخ الإسلام، أبو العباس (المتوفى: 974هـ)
          میں اس کا مکمل متن ہے

          فقد أخرج عبد الرَّزَّاق بِسَنَدِهِ عَن جَابر بن عبد الله الْأنْصَارِيّ رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ: (قلت: يَا رَسُول الله بِأبي أَنْت وَأمي أَخْبرنِي عَن أوّل شَيْء خلقه الله قبل الْأَشْيَاء؟ قَالَ: يَا جَابر إِن الله خلق قبل الْأَشْيَاء نور نبيك مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم من نوره فَجعل ذَلِك النُّور يَدُور بِالْقُدْرَةِ حَيْثُ شَاءَ الله، وَلم يكن فِي ذَلِك الْوَقْت لوح وَلَا قلم وَلَا جنَّة وَلَا نَار وَلَا ملك وَلَا سَمَاء پھر مکمل متن نقل کیا
          سوال ہے کہاں سے متن آیا ؟
          ——-

          اپ نے کہا
          ///

          اس نسخہ کا ناسخ (لکھنے والا) اسحاق بن عبدالرحمٰن السلیمانی ہے جس کے خط (تاریخ نسخ 933؁ھ) سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص دسویں صدی ہجری میں موجود تھا۔
          ///

          تو یہ ابن حجر الهيتمي (المتوفى: 974هـ) کا ہم عصر ہوا اور ابن حجر نے اس کا متن بھی دیا ہے اور حوالہ بھی – فقد أخرج عبد الرَّزَّاق بِسَنَدِهِ عَن جَابر بن عبد الله الْأنْصَارِيّ رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ:

          یعنی اگر ہم مان لیں کہ جز مفقود گھڑا ہوا ہے تو یہ ماننا بھی پڑے گا کہ ابن حجر الهيتمي (المتوفى: 974هـ) بھی اس کو گھڑنے میں شامل تھے
          ایسا کسی نے نہیں کہا کہ یہ کذاب تھے

          یہ بعید ہے کوئی حدیث کا نسخہ “خفیہ” گھڑا جائے اور علماء کو معلوم نہ ہو سکے یہاں تک کہ اس کے “ہم عصر چوٹی کے علماء” اس نسخے کو نقل کرتے پھریں
          ایسا کرنے میں وقت لگتا ہے ایک نسخہ بنایا اس کو کسی ایک شہر میں چھاپا اس کو پھیلنے میں اور درجہ قبولیت حاصل کرنے میں وقت لگے گا
          اس نسخہ کے نکلنے کے سو دو سو سال بعد ایسا ممکن تھا- لیکن یہ نہیں کہ مکہ میں بیٹھے ابن حجر بھی اس کو نقل کرنے لگ جائیں جو ملزم اسحاق بن عبدالرحمٰن السلیمانی کے ہم عصر ہی ہیں – میرے نزدیک ایسا ممکن نہیں ہے
          —–
          صوفی منہج کے علماء و محدثین میں تاویل کی غلطی ضرور ہوئی کہ سند کو دیکھا نہیں اور متن کو لے کر غلو کیا لیکن باقاعدہ ان محدثین نے متن گھڑا یہ قول غیر مستند اور حد سے متجآور ہے

          کہتے ہیں جتنا چھانو گے اتنا کرکرا ہو گا

          1. Ibne hajr kese isko garrne mn shamil the.
            Unhon ne toh naql kia hoga . Mumkin haiesko kisi na nukmal ya jaali nuskhe se lia gya ho jesy k tohed.com walo ne nuskho k detail di hai un ka dawa k un k pas jo nuska hai wo sahih hai wo mullah umr wala hai jo k complete hai us mn yeh hadith nai bal k book wudhu k mutalik hadith se shru hoti hai
            Baki sanadon mn jin galtion ko zikr hai usko b toh nzr andaz nai kiya ja sakta… Mazeed kattib kud keh raha hai k is kitab pr samaat nai hai jesy k dosri book pr hoti hai
            Mn ne islamqa pr ik blog prha tha us mn likhatha galiban ibne hajr ya koi or muddhis hai wo khty hai
            Har wo hadith jis ne sanad agarche sahih malom ho wo sahih aisi hadith jiska matan sahih na ho usko garea hoa taslim kiya jae ga.. Mn bhool gai ho k yeh qol tha ya usool..
            Suyyati b khty hai k aisi sanad nai jis pr itemad kiya jae

          2. Islamic-Belief says:

            یہ بعید ہے کوئی حدیث کا نسخہ “خفیہ” گھڑا جائے اور علماء کو معلوم نہ ہو سکے یہاں تک کہ اس کے “ہم عصر چوٹی کے علماء” اس نسخے کو نقل کرتے پھریں
            ایسا کرنے میں وقت لگتا ہے ایک نسخہ بنایا اس کو کسی ایک شہر میں چھاپا اس کو پھیلنے میں اور درجہ قبولیت حاصل کرنے میں وقت لگے گا
            اس نسخہ کے نکلنے کے سو دو سو سال بعد ایسا ممکن تھا- لیکن یہ نہیں کہ مکہ میں بیٹھے ابن حجر بھی اس کو نقل کرنے لگ جائیں جو ملزم اسحاق بن عبدالرحمٰن السلیمانی کے ہم عصر ہی ہیں – میرے نزدیک ایسا ممکن نہیں ہے

            ——–
            ابن حجر کو اس کا متن کہاں سے ملا یہ سوال ہے اور اس کا حوالہ انہوں نے مصنف عبد الرزاق دیا ہے اگر مواھب از قسطلانی سے لیا ہوتا تو متن مکمل نہ دے پاتے

            یہ اشکال لا ینحل ہے – اس پر غور کریں

          3. Mutlb sofia is hadith k mutalik gulv ka shikar hain

          4. Islamic-Belief says:

            جی ہاں

          5. Yeh hadith tu gulv se barri hoinhai… Sofua ne tu us ko zahir pr nai lia hoa

  3. Aysha butt says:

    Sir surah rehman ayat 3 k zail mn ibne abbas ka qol nakl kia gya hai k is ayat mn murad Aap s.a.w hai …yeh tafseer e qurtabi mn aya hai

    Kya yeh qol sahi hai

    1. Islamic-Belief says:

      سورہ رحمان کے حوالے سے بہت سے متضاد قول ابن عباس سے منسوب ہیں
      مثلا فتح القدیر شوکانی میں ہے
      ابن عباس کا کہنا ہے یہ سورت مکی ہے
      وَهِيَ مَكِّيَّةٌ. قَالَ الْقُرْطُبِيُّ: كُلُّهَا فِي قَوْلِ الْحَسَنِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعِكْرِمَةَ وَعَطَاءٍ وَجَابِرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِلَّا آيَةً مِنْهَا، وهي قوله: يَسْئَلُهُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ الْآيَةَ. وَقَالَ ابْنُ مسعود ومقاتل:
      هي مدينة كُلُّهَا، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَيَدُلُّ عَلَيْهِ مَا أَخْرَجَهُ النَّحَّاسُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَزَلَتْ سُورَةُ الرَّحْمَنِ بِمَكَّةَ.

      پھر یہ بھی ہے
      أَخْرَجَهُ ابْنُ الضُّرَيْسِ وَابْنُ مَرْدَوَيْهِ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّلَائِلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَزَلَتْ سُورَةُ الرَّحْمَنِ بِالْمَدِينَةِ،
      ابن عباس کا کہنا ہے مدنی ہے
      ========

      اسی طرح دو اقوال اس آیت {خَلَقَ الْإِنْسَانَ} [الرحمن: 3] پر بھی ہیں
      ایک میں ابن عباس کا کہنا ہے یہ آدم علیہ السلام کے بارے میں ہے
      دوسری میں ہے یہاں رسول الله مراد ہیں
      مفسرین نے ان اقوال کو نقل تو کیا ہے سند نہیں دی ہے لہذا صحیح سند کیا ہے معلوم نہیں ہے

  4. محمد شعیب احمد says:

    آپ نے فرمایا کہ صوفیا اس حدیث کے معاملے میں غلو کا شکار ہیں
    لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیسے؟
    میری یہ رائے ہے کہ کسی بھی فن کے کسی
    آدمی پر اعتراض کرنے کا واقعی حق اس شخص
    کو پہنچتا ہے جو اس فن سے واقف ہو اور اس فن
    کے ماہرین کے کلام کو ،اصطلاحات کو اچھی طرح
    سمجھتا ہو۔ میں نے جب بھی کبھی کسی کے اعتراضات
    کو دیکھا ہے تو زیادہ تر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ
    جس شخص کی جس بات پر اعتراض کر رہا ہے
    وہ اس کی بات کو سمجھا ہی نہیں۔
    آپ کی کچھ باتیں بہت اچھی لگی ہیں آپ سے حدیثِ نُور
    کے متعلق کچھ گفتگوکرناچاہتا ہوں میں نے بھی اس کی کچھ
    تحقیق کی ہے۔

    1. Islamic-Belief says:

      میرے نزدیک یہ روایت عبد الرزاق کے عالم اختلاط کی ہے
      اس کے متن میں عجیب باتیں ہیں
      مثلا نور کو پسینہ آنا وغیرہ
      عرش اور کرسی کو اس میں الگ الگ کر دیا گیا ہے جبکہ یہ بھی ایک ہی چیز ہے
      دلوں کا نور اور نفسوں کا نور ادب و زبان میں تو بولا جاتا ہے باقاعده اس کو خلق یا محدث نہیں کہا جا سکتا
      کیونکہ یہ دماغ و ذہن کا میلان ہے نہ کہ باقاعدہ کوئی مخلوق

      ——–
      غلو اس طرح کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو مخلوق اول ثابت کیا جا رہا ہے جبکہ قرآن میں واضح آ چکا ہے انی جاعل فی الارض خلیفہ کی صورت میں آدم کو پیش کیا گیا نہ کہ رسول الله کو
      اپ نے کچھ اس پر لکھا ہے تو ضرور دیں بالمشافہ کلام ممکن نہیں کیونکہ میں پاکستان میں نہیں رہتا

      1. محمد شعیب احمد says:

        یہ بات آپ کی درست مانی جا سکتی ہے کہ اس کے متن میں کچھ عجیب باتیں ہیں
        لیکن کچھ عجیب باتوں کی وجہ سے پورے متن کو رد بھی نہیں کیا جاسکتا۔
        اصولی باتوں میں سے ایک بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی عقائد کا مسئلہ تو ہرگز نہیں ہے۔
        دوسری بات یہ کہ اس حدیث میں بنیادی طور پر دو باتیں ہیں:
        ایک تو حضور صہ کی نُورِیَّت
        دوسرا اَوّلُ الخَلق ہونا۔
        نُورِیّت تو ثابت ہے اور ان معنوں میں ثابت ہے جن معنوں میں نصوص میں وارد ہے
        نہ کہ ان معنوں میں جو کسی کے خود تراشیدہ ہیں۔
        بلکہ نصوص میں جن معنوں میں نوریت ثابت ہے اس کو ان معنوں میں تسلیم نہ کرنا
        اگر گمراہی نہ کہیں تو گستاخی تو ضرور ہےاور اگر کوئی تاویلًا ایسا کرتا ہے نہ کہ
        تعصبًا تو میں اس کو معذور خیال کرتا ہوں۔
        نُور طلبی کی تو خود حضور صہ نے امت کو دعا سکھلائی ہے صحیح بخاری،صحیح مسلم اور بہت سی کُتبِ احادیث میں یہ دعا آئی ہے
        اللھم اجعل فی قلبی نوراوفی بصری نورا۔۔۔الخ
        اس حدیث میں قلب،چشم،گوشت،پٹھے،چمڑے،دائیں،بائیں،آگے پیچھے،اوپر،نیچے بلکہ
        یہاں تک کہ مجھے سراپا نور کردے تک۔
        جب ایک امتی کو بھی نور طلبی سکھلائی گئی تو حضور صہ کی نوریت میں کلام کرنا گستاخی اگر نہیں ہے تو کیا ہے؟اور بھی بہت سی مثالیں نصوص میں آئی ہیں۔
        اب دوسری بات رہ گئی کہ اوّلُ الخلق ہونا ثابت ہے کہ نہیں؟
        تو اس کے متعلق نصوص میں کوئی قطعی بات تو وارد نہیں ہے کہ جس کا انکار کرنے والا گمراہ قرار پاجائے لیکن ایک بات سمجھنے والی یہ ہے کہ حضور صہ کے فضائل میں اگر کوئی ضعیف حدیث بھی آئی ہو تو اس کو ماننے میں آخر کیا چیز مانع ہے؟
        ۔۔۔continued

        1. Islamic-Belief says:

          جب آپ یہ مان رہے ہیں کہ متن میں عجیب باتیں ہیں جو خلاف عقل بھی ہیں اور خلاف نصوص قرانی بھی تو اس کو کس طرح مان لیا جائے؟

          ——-

          نُور طلبی کی تو خود حضور صہ نے امت کو دعا سکھلائی ہے صحیح بخاری،صحیح مسلم اور بہت سی کُتبِ احادیث میں یہ دعا آئی ہے
          اللھم اجعل فی قلبی نوراوفی بصری نورا۔۔۔الخ
          اس حدیث میں قلب،چشم،گوشت،پٹھے،چمڑے،دائیں،بائیں،آگے پیچھے،اوپر،نیچے بلکہ
          یہاں تک کہ مجھے سراپا نور کردے تک۔
          —-
          اس کا مطلب ہے کہ کیا امتی بھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی طرح نوری ہو گیا ؟ ظاہر ہے یہ نور نور ہدایت ہے نہ کہ جسم

          آپ نے کہا اگر کوئی ضعیف حدیث بھی آئی ہو تو اس کو ماننے میں آخر کیا چیز مانع ہے؟

          اگر ہم ضعیف + ضعیف + ضعیف + ضعیف فضائل میں اس طرح جمع کریں تو ہم ہرکس و ناکس کی بات اپنے رسول سے منسوب کرتے چلے جائیں گے اور اس کے بعد جو صورت ہو گی وہ ان کو مقام حقیقت میں رہنے ہی نہیں دے گی
          ہم وہ وہ مان لیں گے جو حقیقت نہیں ہیں مثلا رسول الله کا مردوں کو زندہ کرنا – اس کو بیہقی نے دلائل النبوه میں بیان کیا ہے جبکہ یہ وہ نشانی ہے جو تمام معزات سے بڑھ کر ہے اور ثقات اس کو روایت ہی نہیں کرتے – ایسا کیوں ہے ؟

          آپ نے کہا لیکن کچھ عجیب باتوں کی وجہ سے پورے متن کو رد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا لوگ کر رہے ہیں کہ متن میں اپنی پسند کی بات بیان کر دی لیکن جو پسند نہ آئی اس کو چھپا دیا – آخر ایسا کیوں ؟

  5. محمد شعیب احمد says:

    جبکہ محدثین اور صلحائے امت نے “حدیثِ جابررضہ” کو نقل کیا ہے جن سے حسنِ ظن کا مقتضا یہی تھا کہ اس حدیث کو ان کے نقل کرنے پر ہی اسے مان لیا جاتا ۔
    امام قسطلانی رحہ نے اسے عبدالزاق رحہ کی سند سے نقل کیاہے جس پر زیادہ تر متاخرین نے اعتماد کرتے ہوئے اپنی کتابوں میں نقل کیاہے اور حدیثوں میں اول الخلق بہت سی چیزوں کو کہا گیا مثلاً قلم کو اول خلق کیا گیا یا ایک حدیث سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ پانی کو پہلے خلق کیا گیا یا عرش کو ۔۔۔اس طرح کی کئی چیزیں وارد ہوئی ہیں۔ علما نے پھر ان حدیثوں میں تطبیق پیدا کی۔۔۔آپ نے جو یہ کہا کہ “انی جاعل فی الارض خلیفہ” تو اس کا مطلب اول الخلق ہونا تو بالکل نہیں ہے جیسے ایک آیت میں حق تعالی نے فرمایا کہ میں نے سب چیزوں کو پانی سے پیدا کیا۔۔۔continued

    1. Islamic-Belief says:

      ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا
      وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ
      رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی اس میں شامل ہیں کیونکہ اس میں کوئی استثنی نہیں ہے

      ———-

      صرف حسن ظن کی بنیاد پر روایت کو نہیں لیا جا سکتا
      اس میں معمر بن راشد پر بھی کلام ہے
      عبد الرزاق پر بھی ہے

      عبد الرزاق کا معلوم ہے کہ ان کو اختلاط ہوا ہے اور میرا انداز اس روایت کے متن کی بنا پر یہی ہے کہ یہ اس دور اختلاط کی ہے

      1. محمد شعیب احمد says:

        آپ یہ بتائیں کہ کیا حضور صہ کے مستجاب الدعوات ہونے میں کسی کو شک و شبہ گزر سکتا ہے؟ اگر نہیں تو حضور صہ کی دعا نور بنا دئیے جانے کی یقیناً مقبول ہے تو اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ نور ہیں تو نہیں لیکن نوریت اپنے لئے مانگ رہے ہیں تو یہ بات اس لئے بھی درست نہیں کہ حضورصہ تودعا رب ذدنی علما بھی مانگا کرتے تھے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ علم موجود نہیں تھا بےشک موجود تھا لیکن اس کو بڑھانے کیلیے دعا تھی۔
        سورہ مائدہ کی ایک آیت ہے جس کا آخری ٹکڑا وقد جاء نوراوکتب مبین۔اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضہ نے ،ابن جریر طبری رحہ نے،امام قرطبی رحہ نے ، اور بہت سے مفسرین نے نور سے مراد حضور صہ کو ہی لیا ہے۔ جبکہ بعض نے جیسے امام آلوسی بغدادی رحہ نے تو نور اور کتب دونوں سے مراد حضور صہ کو لیا ہے۔
        اب اگر آپ اس آیت کی تاویل کریں گے کہ ہدایت کے معنوں میں نور ہے جیسے آپ نے فرمایا تو تاویل کرنے کا دوسروں کو بھی حق ہے اور تاویل کونسی درست ہے اور کونسی نادرست یہ تو کسی نص میں آیا نہیں۔ باقی یہ کہ یہ خلاف نصوص یا خلاف عقل ہے جیسے آپ نے فرمایا تو سوال یہ کہ کس کی عقل کے خلاف ہے؟ دوسرا کس کی عقل کے لحاظ سے خلاف نصوص ہے؟ اب یہاں اختلاف ہوگا کیونکہ ایک بات میری عقل کے خلاف ہے لیکن کسی دوسرے کی عقل کے موافق ہے جیسے نص وارد ہے کہ ہر علم والے سے بڑھ کر علم والا ہے گو کہ ہر شخص اپنی عقل و فہم کا مکلف ہے کسی دوسرے کی عقل و فہم کا نہیں۔ یہ تو آپ کی بات کا جواب ہوا اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ جیسے آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے لیکن سنا نہیں جا سکتا،سونگھا نہیں جاسکتا،چکھا نہیں جا سکتا اسی طرح ہر دی گئی فیکلٹی کا اپنا ایک الگ کام ہے ایسے ہی حسَّ قلبی سے جو محسوس ہوگا وہ حسِّ عقلی سے نہیں ہوگا۔ محبت ،نفرت،جذبات،احساسات،رونا ،تڑپنا یہ سب قلبی معاملات ہیں کیونکہ عقل ان کے خلاف حکم بھی لگاتی ہے لیکن قلبی داعیات کبھی غالب آجاتے ہیں۔
        ایک آیت ہے کہ وماارسلنک الا رحمتہ اللعالمین اس آیت میں رحمت اللعالمینی کا کیا مطلب ہے؟ عالمین سے کیا مراد ہے؟ اس رحمت اللعالمینی کے دائرے کا رقبہ و حدود کیا ہیں؟ اس دائرے کا قطر کیا ہےوغیرہ؟ اگر تو سادہ لفظوں میں کہیں تو تمام جہانوں کیلیے رحمت ہیں لیکن اگر اسی بات کی گہرائی میں اترنا شروع کریں تو پھر سوال ہی سوال ہیں۔ جن مفسرین نے اس سے صرف انسانوں کو مراد لیا تو اس میں تخصیص تو ہے ہی نہیں کہ صرف انسانوں کو مراد لیا جائے اور جنہوں نے اس سے مراد تمام مخلوقات کو لیا تو ان کے پاس اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن کریم میں انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اب رحمت اللعالمینی کو تمام مخلوقات کیلیے جنہوں
        نے لیا پھر انہوں نے اس کو سمجھایا بھی ہے کہ حضور صہ کا وجودِ اطہر کس طرح رحمت اللعالمین ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ یہاں تو ارسلنک آیا ہے نہ کہ خلقنک نہیں آیا تو اس کا جواب ترمذی شریف کی وہ حدیث ہے کہ میں اپنے پروردگار کے ہاں خاتم النبیین ہو چکا تھا اور آدم ابھی پانی اور کیچڑ کے درمیان تھے اور اگر کوئی یہ کہے کہ یہ تقدیری امر کے لحاظ سے ہے یا حق تعالی کے علم کے لحاظ سے ہے تو پھر یہ حضور صہ کی کوئی خصوصیت قرار نہیں پاتی کیونکہ تقدیر میں تو ہر چیز ہے اور حق تعالی کے علم میں بھی ہر چیز ہے پھر اس کو بیان کرنے کا مقصد و منشا کیا ہے؟

        1. Islamic-Belief says:

          رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے لئے نور طلب کیا یا علم طلب کیا تو اس حوالے سے آپ کی بات درست ہے کہ یہ بطور اضافہ ہے – لیکن اب کیا یہ خبر نہیں کہ نور مومن بھی مانگ رہا ہے – کیا کوئی مومن مستجاب الدعوات اس امت میں نہیں گذرا جس کی نور والی دعا پوری ہوئی ہو – اگر ہوئی تو پھر رسول الله کی خصوصیت نہیں رہتی امت کے بہت سے لوگوں کا نوری ہونا قبول کرنا ہو گا- ظاہر ہے یہ نور بطور عنصر خلق نہیں ہو سکتا کیونکہ انسان بشر ہے نوری نہیں اب اگر بشر بھی نوری ہو جائے تو عنصر تخلیق ہی بدل جاتا ہے
          یعنی آدم علیہ السلام مٹی کی مخلوق تھے اور باقی انبیاء بھی لیکن آخری نبی اور ان کے امتی خاک سے نہیں عنصر نور کے تھے – یہ عجیب و غریب اور عظیم تبدیلی ہے جس سے باقی انبیاء بے خبر رہے ہیں اور کسی صحیح مستد روایت میں بھی نہیں – اس عظیم الشان تغیر کا ذکر اصحاب کبار – مہاجرین و انصار میں سے کسی نے نہیں کیا یہ کیسے ممکن ہے
          ———–
          اشکال اس میں ہے کہ نور سے کیا مراد ہے کیا یہ نور

          Photons

          مراد ہے یا نور ہدایت؟

          آپ نے کہا
          ======
          حدیث ہے کہ میں اپنے پروردگار کے ہاں خاتم النبیین ہو چکا تھا اور آدم ابھی پانی اور کیچڑ کے درمیان تھے اور اگر کوئی یہ کہے کہ یہ تقدیری امر کے لحاظ سے ہے یا حق تعالی کے علم کے لحاظ سے ہے تو پھر یہ حضور صہ کی کوئی خصوصیت قرار نہیں پاتی کیونکہ تقدیر میں تو ہر چیز ہے اور حق تعالی کے علم میں بھی ہر چیز ہے پھر اس کو بیان کرنے کا مقصد و منشا کیا ہے
          =====

          میں یہ کہتا ہوں یہ تقدیر سے ہی متعلق قول ہے اور اس میں سب ایک ہیں- اس کی وجہ ہے کہ بعض اوقات تکرار کے لئے بھی چیزوں کو بیان کیا جاتا ہے – سب کو معلوم ہے الله نے تقدیر لکھی ہے اور اس میں انبیاء کا کوئی استثنی نہیں ان کی تقدیر بھی لکھی گئی –
          الله تعالی نے ہی سب انسانوں کو خلیفہ مقرر کیا ہے لیکن فرشتوں کے سوال پر پیش صرف آدم علیہ السلام کو کیا تھا تمام انسانوں کو نہیں –

          —————–
          اپ نے کہا
          ///

          سورہ مائدہ کی ایک آیت ہے جس کا آخری ٹکڑا وقد جاء نوراوکتب مبین۔اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضہ نے ،ابن جریر طبری رحہ نے،امام قرطبی رحہ نے ، اور بہت سے مفسرین نے نور سے مراد حضور صہ کو ہی لیا ہے۔ جبکہ بعض نے جیسے امام آلوسی بغدادی رحہ نے تو نور اور کتب دونوں سے مراد حضور صہ کو لیا ہے۔
          ///
          سورہ مائدہ آیت ١٥
          اے اہلِ کتاب! بیشک تمہارے پاس ہمارے (یہ) رسول تشریف لائے ہیں جو تمہارے لئے بہت سی ایسی باتیں (واضح طور پر) ظاہر فرماتے ہیں جو تم کتاب میں سے چھپائے رکھتے تھے اور (تمہاری) بہت سی باتوں سے درگزر (بھی) فرماتے ہیں۔ بیشک تمہارے پاس اﷲ کی طرف سے ایک نور آ گیا ہے اور ایک روشن کتاب

          رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو جن مفسرین نے نور کہا ہے ان کی مراد رسول الله کو الله کی طرف سے ہدایت کا نور کہنا ہے طبری نے لکھا ہے
          يعني بالنور، محمدًا صلى الله عليه وسلم الذي أنار الله به الحقَّ، وأظهر به الإسلام،
          نور یعنی محمد جن سے الله نے حق کو روشن کیا اور اسلام کو غالب

          ان مفسرین نے حدیث جابر کی بنیاد پر ایسا نہیں کہا نہ اس کا ذکر کیا ہے
          ———

  6. محمد شعیب احمد says:

    ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا
    وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ
    رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی اس میں شامل ہیں کیونکہ اس میں کوئی استثنی نہیں ہے۔
    –————–////-////////—————–
    تو پھر اس کے ساتھ ان باتوں کو بھی جوڑئیے صحیح حدیث ہے کہ حق تعالی نے زمین وآسمان اور جو کچھ ہے اس کو بنانے کا فیصلہ کیا اور اس وقت حق تعالی کا عرش پانی پر تھا۔ اب عرش پہلے کہیں یا پانی؟
    ایک حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔ اب ان میں تطبیق کی راہ تو اختیار کرنا پڑے گی۔

    1. Islamic-Belief says:

      ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا
      وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ
      اور پانی سے ہر زندہ چیز کو بنایا

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی اس میں شامل ہیں کیونکہ اس میں کوئی استثنی نہیں ہے۔

      اس آیت میں یہ نہیں ہے کہ عرش جب پانی پر تھا تو زمیں و آسمان نہیں تھے

      میں نے ابھی تک نہیں کہا کہ عرش یا قلم پہلی مخلوق ہیں – میرے نزدیک اس پر کوئی صحیح روایت نہیں ہے

  7. محمد شعیب احمد says:

    میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا“ اور فرمایا: ”لکھو“، قلم نے عرض کیا: کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تقدیر لکھو جو کچھ ہو چکا ہے اور جو ہمیشہ تک ہونے والا ہے“۔
    یہ ترمذی شریف کی حدیث کا آخری ٹکڑا ہے۔
    اس میں قلم کا اول الخلق ہونا تو ہے لیکن ایک باریک بات یہ غور کرنے والی ہے کہ اس میں جو یہ جملہ ہے کہ “تقدیر لکھو جو کچھ ہوچکا ہے۔”اس میں جو ہو چکا ہے اس سے کیا مراد ہے یہ بات ذرا غور طلب ہے!
    اس کے علاوہ یہ روایت سنن ابی داؤد میں، مسند احمد میں اور سلسلہ الصحیحہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔

    1. Islamic-Belief says:

      ترمذی والی گھڑی ہوئی روایت ہے

      اس کی سند میں عبد الواحد بن سليم المالكي، البصري ہے جس کی روایت موضوع کہی گئی ہے
      قال عبد الله بن أحمد: سمعتُ أَبي يقول: عبد الواحد بن سليم حديثه حديث منكر، أحاديثه موضوعة. «العلل» (5433) .
      الذھبی میزان میں تعریف کرتے ہیں
      عبد الواحد بن سليم. بصري.
      عن عطاء – هالك. – عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ سے روایت کرتا ہے ہلاک کرنے والا ہے
      قال أحمد: أحاديثه موضوعة. احمد نے کہا اس کی حدیثین گھڑی ہوئی ہیں
      وضعفه يحيى. یحیی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے
      وقال النسائي: ليس بثقة. نسائی نے کہا ثقہ نہیں ہے
      الذھبی نے مزید کہا
      قلت: … له حديث منكر في القدر، وخلق القلم.
      میں الذھبی کہتا ہوں : اس کی ایک حدیث منکر ہے جو تقدیر پر اور قلم خلق کرنے پر ہے

      =============
      البانی نے اس کو مسند ابو یعلی کے ایک دوسرے طرق کی بنا پر صحیح کہا ہے لیکن اس میں بھی مسائل ہیں جن کا البانی نے ذکر نہیں کیا
      اس سند میں عمر بن حبیب مکی قصہ گو ہے جس سے کوفیوں نے بھی روایت کیا ہے اور الأزدي نے ضعیف قرار دیا ہے اور دیگر نے ثقہ کہا ہے-
      ابو یعلی کے شیخ بھی صدوق کے درجہ پر ہیں – تاریخ بغداد میں ہے
      أَخْبَرَنِي الأَزْهَرِيّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَن بْن عُمَر، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن أَحْمَدَ بْن يَعْقُوب بْن شيبة، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ: أَبُو يوسف أَحْمَد بْن جميل المروزي صدوق، ولم يكن بالضابط.
      يَعْقُوب بْن شيبة نے کہا أَحْمَد بْن جميل المروزي ضبط میں اچھے نہیں ہیں

  8. محمد شعیب احمد says:

    – ظاہر ہے یہ نور بطور عنصر خلق نہیں ہو سکتا کیونکہ انسان بشر ہے نوری نہیں اب اگر بشر بھی نوری ہو جائے تو عنصر تخلیق ہی بدل جاتا ہے
    یعنی آدم علیہ السلام مٹی کی مخلوق تھے اور باقی انبیاء بھی لیکن آخری نبی اور ان کے امتی خاک سے نہیں عنصر نور کے تھے – یہ عجیب و غریب اور عظیم تبدیلی ہے جس سے باقی انبیاء بے خبر رہے ہیں اور کسی صحیح مستد روایت میں بھی نہیں – اس عظیم الشان تغیر کا ذکر اصحاب کبار – مہاجرین و انصار میں سے کسی نے نہیں کیا یہ کیسے ممکن ہے
    ———–
    اشکال اس میں ہے کہ نور سے کیا مراد ہے کیا یہ نور

    Photons

    مراد ہے یا نور ہدایت؟
    ——-_____________\_\\\\\\\\\\\_____________________
    آپ نے نور کی کیفیت دریافت کی ہے جو کہ متشابہات کا مسئلہ ہے، میں اس کے متعلق وہی بات کہتا ہوں جو حضرت امام مالک رحہ نے فرمائی تھی کہ استواء علی العرش معلوم ، کیفیت مجہول، ایمان واجب اور سوال بدعت۔
    استواء علی العرش کی طرح کیفیتِ نور بھی مجہول ہے بہرکیف اتنا تو یقیناً ہے کہ یہ نور سے مراد کوئی مادی روشنی یا بلب کی روشنی یا سورج کی روشنی یا فوٹونز یا انرجی ہرگز نہیں بلکہ اس کی حقیقت غیر مادی ہے
    Metaphysicalیعنی Meta-matter
    ہے۔آپ کا یہ سوال کہ نوری کہنے سے عنصر تخلیق بدل جاتا ہےتو ایسا نہیں ہے سر اس کی کچھ مثالیں پیش کرتا ہوں:
    حق تعالی نے جب حضرت آدم عہ کا پتلا تیار کیا تو فنفخت فیہ من روحی کے عمل سے گزارا اور یہ اپنی روح پھونکنے سے مادی جسم مادی ہی رہا لیکن اسی مٹی میں زندگی ،جذبات اور احساسات پیدا ہوگئے
    تو روح کے جسم سے متعلق ہوجانے سے کوئی عنصر تخلیق تو نہیں بدلتا بلکہ روح کا جسم سے ایک تعلق ہےاور روح ایک غیر مادی چیز ہے اس پر سب کا اتفاق ہے۔
    دوسری مثال یہ کہ حضرت جبرائیل عہ تو بالاتفاق نوری پیکر ہیں تو حضرت جبرائیل عہ کئی مرتبہ مادی ، جسمی قالب میں آئے ہیں جیسے حضرت مریم عہ کے پاس آئے اور حضور صہ کے پاس آئے۔ غزوہ بدر میں فرشتے جسمی قالبوں میں صحابہ کہ درمیان لڑے ہیں اب اس وقت ان کا عنصر تخلیق تو نہیں بدلا۔ معراج کے واقعے میں حضور صہ اپنے جسمی قالب کے ساتھ ہی آسمانوں پر تشریف لے گئے تھے اب وہاں کوئی عنصر تخلیق بدلا تھا جبکہ وہ جگہیں جہاں حضور صہ تشریف لے گئے ہیں وہ تو فرشتوں کی آماجگاہ ہے ان نوریوں کے درمیاں یہ ہستی کیا تھی؟
    کسی بھی پیغمبر کے حصے میں سوائے حضور صہ کے سعادتِ معراج نہیں آئی آخر کیوں؟ اور معراج کی حدیثوں کے سارے ذخیرے کو پڑھ جائیے اور غوروفکر کیجیے تو آپ پر حضور صہ کی نوریت کے در کھلیں گے۔
    کا Time and Space
    مسئلہ تو جسم کیلیے ہے روح کیلیے نہیں اور روح امر ربی ہے اور حق تعالی نے فرمایا کہ میں نے اپنی روح پھونک دی تو حق تعالی نورالسموات والارض ہیں تو روح کی اصل کیا ہوئی پھر؟ اگر نوریت ہوئی تو وہ جو رحمت العالمین ہیں جو ساری مخلوقات کیلیے رحمت ہیں اور سب سے بڑی رحمت وجود ہے تو جس مخلوق کو جو وجود جیسی عظیم نعمت بشکل رحمت ملی وہ بواسطہ حضور صہ ملی۔
    واللہ اعلم بالصواب

    1. Islamic-Belief says:

      اپ نے نکتہ سنجی کی ہے
      ////
      بہرکیف اتنا تو یقیناً ہے کہ یہ نور سے مراد کوئی مادی روشنی یا بلب کی روشنی یا سورج کی روشنی یا فوٹونز یا انرجی ہرگز نہیں بلکہ اس کی حقیقت غیر مادی ہے
      ///
      میرے سمجھ میں یہ نہیں آیا نور چاہے بلب کا ہو یا سورج کا غیر مادی ہی ہوتا ہے اور اگ سے بھی نکلتا ہے
      یہ متشابھات میں سے نہیں ہے – انسان اس کو جانتا ہے اور سمجھتا ہے
      ——-

      اپ نے کہا تھا کہ رسول الله نور ہیں پھر کہا امتی بھی نوری ہو سکتے ہیں جس کے لئے آپ نے دعا کا حوالہ دیا اس تناظر میں میں نے کہا کہ یہ عنصر تبدیل کرنا ہے یا نور ہدایت ہے ؟ اب آپ نے کہا کہ الله تعالی نے آدم میں روح ڈالی تو ان کا جسم مادی ہی رہا – لیکن یہ تو عام ہے – ہر شخص کا جسم روح رکھتا ہے مادی بھی ہے
      بات ہو رہی ہے بشر یعنی ہمارے جسم کی نور میں تبدیلی جو اپ کے نزدیک مادی لگے گا نوری ہو جائے گا
      میرے نزدیک یہ عجیب و غریب فلسفہ ہے لیکن اگر ایسا ہے تو اس کا ذکر کیوں نہیں کوئی کرتا؟ جابر کے سوا کوئی بھی صحابی اس پر کلام کیوں نہیں کرتا کہ ہم اصحاب رسول اب نوری ہو چکے ہیں اگرچہ مادی لگ رہے ہوں
      ——-

      اپ نے کہا معراج صرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ہوئی – میرے نزدیک ایسا نہیں ہے معراج الیاس علیہ السلام کو بھی معراج ہوئی ہے قرآن میں ہے
      ورفعناہ مکانا علیا

      مزید یہ کہ معراج عیسیٰ علیہ السلام کو بھی ہوئی ہے ان کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا جس طرح رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو
      ——–
      روح امر ربی ہے تو یہ تو سب میں موجود ہے
      —–
      الله تعالی نے فرمایا
      الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّور
      الله نے اندھیرے اور نور کو بنایا

      اور یہ بھی فرمایا
      الله نور السموات و الارض
      لیکن اس نور کو واضح کیا کہ یہ نور ہدایت ہے جو ان گھروں میں موجود ہے جہاں الله کا نام لیا جاتا ہے
      مکمل آیت طویل ہے اس کو ایک ٹکڑے کو نہیں لیا جائے گا

  9. محمد شعیب احمد says:

    آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ کو حدیث جابر رضہ کی سند پر کلام ہے تو آپ اس کو ضرور واضح کردیں تاکہ میں اس حدیث کی سند کے متعلق کچھ گفتگو کروں۔
    آپ کے ساتھ اس گفتگو کا مقصد سوائے اظہار خیال کے اور بات کو اور گہرائی سے سمجھنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں۔
    اگر آپ اپنا تعارف بھی کروادیں کچھ تو بڑی خوشی ہوگی۔

    1. Islamic-Belief says:

      میرے نزدیک یہ روایت عبد الرزاق کے عالم اختلاط کی ہے
      اس کے متن میں عجیب باتیں ہیں
      مثلا نور کو پسینہ آنا وغیرہ
      عرش اور کرسی کو اس میں الگ الگ کر دیا گیا ہے جبکہ یہ بھی ایک ہی چیز ہے
      دلوں کا نور اور نفسوں کا نور ادب و زبان میں تو بولا جاتا ہے باقاعده اس کو خلق یا محدث نہیں کہا جا سکتا
      کیونکہ یہ دماغ و ذہن کا میلان ہے نہ کہ باقاعدہ کوئی مخلوق
      —–

  10. محمد شعیب احمد says:

    میرے سمجھ میں یہ نہیں آیا نور چاہے بلب کا ہو یا سورج کا غیر مادی ہی ہوتا ہے اور اگ سے بھی نکلتا ہے
    یہ متشابھات میں سے نہیں ہے – انسان اس کو جانتا ہے اور سمجھتا ہے
    ——-۔۔۔۔۔۔۔۔———————————-
    آپ نور سے مراد صرف ایک ہی قسم کا نور لے رہے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے مثال کے طور پر حق تعالی نے بیعت رضوان کے وقت جو آیات اتریں اس میں فرمایا کہ یداللہ فوق ایدیہم اس آیت میں ہاتھ سے کیا مراد ہے؟ کیا وہی ہاتھ مراد ہے جو ہم سب مراد لیتے ہیں یا اس کی حقیقت کچھ اور ہے؟ لفظ گو ید کا ہی استعمال ہوا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز وہ نہیں لیا جا سکتا جو ہم عام طور پر مراد لیتے ہیں یہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ اسی طرح بہت سی مثالیں ہیں۔حضور صہ نے فرمایا کہ مومن کا قلب رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان میں ہے۔ اس میں دو انگلیوں سے مراد کیا ہے؟ اسی طرح لفظِ نُور کہنے بولنے لکھنے میں تو ایک ہے لیکن اس کی حقیقت ہرگز یہ سورج یا بلب یا ٹیوب لائٹ کا نور یا روشنی نہیں ہےکیونکہ یہ نور مادی ہے غیر مادی ہرگز نہیں۔ کائنات مادی ہےاور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی۔ روح جس کی وجہ سے حیات ہے وہ مادی نہیں کیونکہ اگر وہ مادی ہوتی تو اس عالم ناسوت میں اس کا اظہار ہوتا جبکہ اس کا اظہار مادی جسم کے ذریعے سے ہے۔ روح اس عالم ناسوت میں اپنے اظہار کے لیے مادے کی محتاج ہے ،مادے کے بغیر اس کا اظہار اس عالم میں ممکن نہیں اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ روح مادے سے کمتر ہے بلکہ اس لیے کہ یہ عالم اسفل سافلین ہے جس میں اسکا اظہار بغیر مادے کے ممکن نہیں۔ ہم نور سے مراد وہ ہرگز نہیں لیتے جو آپ نے لیا۔ قرآن کریم میں ہے کہ اللہ نورالسموات والارض ، کیا آپ اس نور کو بھی بلب یا سورج کے نور جیسا ہی مراد لیں گے؟ اور اگر کوئی ایسا سمجھے تو وہ غلط اس لیے ہوگا کہ قدیم کی صفت کو حادث میں یا حادث کی بات کو قدیم میں ماننے سے شرک لازم آئے گا۔ یہ تو آپ کے سوال کا جواب ہوا ، اب حضور صہ کی نوریت کے معنی کیا ہیں وہ میں عرض کرتا ہوں۔
    حق تعالی نے اپنے نور کے فیض سے یا تجلی سے یا تصرف سے یا پرتو سے حضور صہ کے نور کو تخلیق کیا جو کہ حق تعالی کے نور کا جز، حصہ یا ٹکڑا یا کوئی
    Fragment
    یا
    Piece
    نہیں ہے یہ ایک قطعی بات ہے یعنی حضور صہ کا جو نور خلق کیا گیا اس پر لفظ مخلوق کا لگے گا، حادث کا لگے گا، قدیم کا یا ازلی کا نہیں لگے گا ، اگر ایسا نہ کیا گیا تو شرک لازم آ کر رہے گا۔ یہ عقیدے کی بات ہے۔
    پھر حضور صہ کے نور سے ، جو خود مخلوق ہے، عرش و کرسی و لوح و قلم و کائنات و مافیہا تخلیق کی گئی۔
    انا القاسم وھوالمعطی میں بھی یہ اشارہ موجود ہے۔ رحمت اللعالمینی بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔قد جاء نور وکتب مبین سے بھی وہی مراد ہیں۔ آپ صرف اتنا بتائیں اگر کوئی شخص حضور صہ کی نوریت کو ان معنوں میں مانتا ہے جن معنوں میں اوپر بیان کیا گیا اور عبارت النص کے اشارے کو کوئی نہیں مانتا تو اشارت النص ہی سمجھ کر مان لے اور پھر کوئی نصِّ قطعی اس حقیقت کا بطلان بھی ظاہر نہیں کرتی بلکہ احادیث اس حقیقت کی مؤید ہیں اور علی سبیل التنزل (اگرچہ ایسا نہیں ہے) اگر ان احادیث کو ضعیف بھی مان لیا جائے یا ان احادیث کے الفاظ کی غرابت یا رکاکت کا ہی مسئلہ کیوں نہ ہو(روایت بالمعنی غلط نہیں ہے) لیکن اگر وہ کسی واضح اور صریح حکم کے خلاف بھی نہیں اور وہ کوئی عقائد کا مسئلہ بھی نہیں بلکہ فضیلتِ محمدی صہ کی بات ہے جو اس کو مان کر کم یا زیادہ نہیں ہوجائیگی بلکہ جو ہے وہی رہے گی ، تو پھر اس بات کو ماننے میں کیا حرج واقع ہوگا؟
    آپ نے جو حدیث میں عجیب باتوں کا ذکر کیا ہے ان میں جو ایک طے شدہ امر اور مشترک بات ہے وہ یہ کہ حضور صہ کا اول الخلق ہونا اور ان کی نوریت اور ان کا مخلوق اور خالق کے درمیان برزخِ کُبری کی حیثیت سے ہونا۔ اور ان حقائق کی طرف اشارات قرآن اور احادیث میں جو آئے ہیں وہ پوشیدہ نہیں بالکل واضح ہیں۔واللہ اعلم بالصواب

    1. Islamic-Belief says:

      قرآن کریم میں ہے کہ اللہ نورالسموات والارض ، کیا آپ اس نور کو بھی بلب یا سورج کے نور جیسا ہی مراد لیں گے؟ اور اگر کوئی ایسا سمجھے تو وہ غلط اس لیے ہوگا کہ قدیم کی صفت کو حادث میں یا حادث کی بات کو قدیم میں ماننے سے شرک لازم آئے گا

      جواب
      میرے نزدیک جو الله کی صفت ہے وہی اس کا نام ہے اور الله کا نام مخلوق کی صورت نہیں آ سکتا جبکہ الله نے نور کو خود ہی مخلوق کہہ دیا ہے
      الله نور السموات میں یہ الله کی صفت نہیں ہے بلکہ یہ صرف الله کی رحمت کا ذکر ہے – آپ مکمل آیت دیکھیں نہ کہ اس کے جز سے کچھ نکالیں
      اسلام میں تین قرون تک کسی کا نام عبد النور) نہیں ملتا جس سے ظاہر ہے اس کو اسماء الحسنی نہیں سمجھا گیا

      البانی کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس کوئی صحیح حدیث نہیں کہ النور الله کا اسم ہو
      لا أعلم أن (النور) من أسماء الله عز وجل في حديث صحيح
      https://www.youtube.com/watch?v=IPlrzAU1_90&feature=youtu.be
      اب جب الله نور کا ہے ہی نہیں تو پھر یہ مسئلہ نہیں ہے

      =======
      اپ نے کہا
      ////

      حق تعالی نے اپنے نور کے فیض سے یا تجلی سے یا تصرف سے یا پرتو سے حضور صہ کے نور کو تخلیق کیا جو کہ حق تعالی کے نور کا جز، حصہ یا ٹکڑا یا کوئی
      Fragment
      یا
      Piece
      نہیں ہے
      ////

      اپ کے الفاظ میں تضاد ہے تجلی ، تصرف، پرتو لا یعنی الفاظ ہیں ان کا کوئی مطلب نہیں – نور کی تجلی کیا ہے ؟ یا نور کا پرتو یا سایہ کیا ہے ؟
      یہ سب ذاتی لفاظی تو ہے لغوی طور پر ان الفاظ کو نور سے نہیں جوڑا جاتا-

      دوسری طرف اپ کا کہنا ہے برزخِ کُبری بھی ہے

      اگر ہم ایک غیر معتبر روایت کو فضائل کے تحت لے کر نور کو مخلوق قرار دے کر فضلت محمدی مان لیتے ہیں جیسا آپ کا اصرار ہے تو یہ نور خاص ہے جو دیگر انبیاء میں نہیں

      جبکہ قرآن کہتا ہے
      قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ
      کہو میں رسولوں میں کوئی نیا نہیں ہوں

      خود رسول الله کا فرمان ہے
      جس نے کہا میں یونس بن متی سے بہتر ہوں وہ جھوٹا ہے

      کہنے کا مقصد ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو نور سے خلق کیا گیا جو مخلوق تھا اس نور سے اور بھی چیزیں بنی ہیں –
      ——
      الله تعالی نے رسول الله کو رحمت للعالمین کہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم زمین پر آدم علیہ السلام کے ساتھ تھے- رحمت کا مطلب انے والے دور کے بارے میں ہے نہ کہ ماضی کے بارے میں

      مثلا

      قرآن میں ہے ہم نے عیسیٰ اور اس کی ماں کو نشاني بنایا
      وَجَعَلْنَا ٱبْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُۥٓ ءَايَةً
      یعنی بعد والوں کے لئے

      بني اسرائیل کو تمام جہانوں میں فضیلت دی
      وأني فضلتكم على العالمين

  11. محمد شعیب احمد says:

    اپ نے کہا تھا کہ رسول الله نور ہیں پھر کہا امتی بھی نوری ہو سکتے ہیں جس کے لئے آپ نے دعا کا حوالہ دیا اس تناظر میں میں نے کہا کہ یہ عنصر تبدیل کرنا ہے یا نور ہدایت ہے ؟ اب آپ نے کہا کہ الله تعالی نے آدم میں روح ڈالی تو ان کا جسم مادی ہی رہا – لیکن یہ تو عام ہے – ہر شخص کا جسم روح رکھتا ہے مادی بھی ہے
    بات ہو رہی ہے بشر یعنی ہمارے جسم کی نور میں تبدیلی جو اپ کے نزدیک مادی لگے گا نوری ہو جائے گا
    میرے نزدیک یہ عجیب و غریب فلسفہ ہے لیکن اگر ایسا ہے تو اس کا ذکر کیوں نہیں کوئی کرتا؟ جابر کے سوا کوئی بھی صحابی اس پر کلام کیوں نہیں کرتا کہ ہم اصحاب رسول اب نوری ہو چکے ہیں اگرچہ مادی لگ رہے ہوں
    —————-///////////_____________\\\\\\\\\\\\______________
    آپ اس نور طلبی کو اگر ہدایت کا نور کہتے ہیں جیسے آپ نے نور کی تاویل کی ہے تو پھر اس نور ہدایت کا قلب سے تو تعلق سمجھ میں آتا ہے لیکن گوشت پوست اور بالوں، بینائی، شنوائی ان سب سے تعلق کیا ہے یہ سمجھ میں نہیں آتا تو اسے آپ واضح کردیں؟
    آپ نے فرمایا کہ “بشر یعنی ہمارے جسم کی نور میں تبدیلی” بشریت اور نوریت میں کوئی منافات نہیں ہے ، نہ ہی یہ کوئی
    Opposite to each other
    ہیں اور نہ ایک دوسرے کی ضد ہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ ان میں ایک لطیف تعلق ہے۔ جیسے میں نے آپ کو حضرت جبرائیل عہ کی مثال دی تھی۔
    آپ کی ساری گفتگو میں جو ایک بات سمجھا ہوں کہ آپ بشریت اور نوریت کو ایک دوسرے کا
    Opposite
    خیال کر رہے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔
    آپ نے آخر میں یہ لکھا کہ کوئی اور صحابی اس کا ذکر کیوں نہیں کرتا اور یہ اعتراض زیادہ تر کیا جاتا ہے تو میرا جواب یہ ہے کہ خبرِ واحد کی شریعت میں کیا حیثیت ہے اس کو سمجھ لیا جائے گو کہ حدیثِ نور مختلف طرق سے اور الفاظ سے آئی ہے اور اس حدیث کے کئی شواہد دوسری حدیثوں کی شکل میں موجود ہیں لیکن پھر بھی اگر آپ اس کو خبرِ واحد کا درجہ بھی دے دیں تو اس کی بھی شریعت میں اہمیت اپنی جگہ ہے۔

    1. Islamic-Belief says:

      اپ نے حدیث نور کا ذکر کیا جو رات کی نماز کی دعا ہے اس میں ہے کہ میرے جسم میں نور کر دے یعنی ہر کام موجب ہدایت ہو
      مثلا نماز کی دعا میں ہے اغسل خطایای بالما و ثلج و برد
      میرے گناہ پانی سے برف سے سردی سے دھو دے

      جبکہ گناہ معاف کرنا اللہ کا فعل ہے موسموں سے گناہ معاف نہیں ہوتے – اب اس کی تاویل ہی کی جائے گی
      ——
      نور اور بشر ایک دوسرے سے الگ ہی ہوں گے کیونکہ آدم تو بشر ہیں تمام انبیاء بشر ہیں جبکہ روایت میں صرف نبی صلی الله علیہ وسلم کو نور کہا گیا ہے
      اس طرح اگر اپ تہہ میں جائیں تو نتیجہ یہی نکلے گا
      ——
      خبر واحد سے عقیدہ ہر فقہ میں ثابت نہیں ہوتا احناف میں اکثر کا یہی قول ہے

  12. محمد شعیب احمد says:

    میرے نزدیک جو الله کی صفت ہے وہی اس کا نام ہے اور الله کا نام مخلوق کی صورت نہیں آ سکتا جبکہ الله نے نور کو خود ہی مخلوق کہہ دیا ہے
    الله نور السموات میں یہ الله کی صفت نہیں ہے بلکہ یہ صرف الله کی رحمت کا ذکر ہے – آپ مکمل آیت دیکھیں نہ کہ اس کے جز سے کچھ نکالیں
    اسلام میں تین قرون تک کسی کا نام عبد النور) نہیں ملتا جس سے ظاہر ہے اس کو اسماء الحسنی نہیں سمجھا گیا
    ———/////////————–//////—————-
    آپ کی پہلی بات ہی محلِ نظر ہے کہ ” جو اللہ کی صفت ہے وہی اس کا نام ہے” اسماء الحسنی محدود ہیں جو ہمارے علم میں ہیں یا آپ کے علم میں ہیں تو اس سے صفات بھی محدود ہو گئیں اور ایسا ہونے سے خدا ، خدا کیسے رہا؟
    آپ نے کہا کہ “اللہ کا نام مخلوق کی صورت میں نہیں آسکتا” تو اللہ کا اسم رحیم ہے تو حق تعالی نے خود اسے حضور صہ کے لیے استعمال فرمایا ہے روف الرحیم اور ویسے بھی مخلوق میں جو کچھ آئے گا وہ آئے گا کہاں سے جناب؟ آئے گا تو خالق سے ہی گو اس کی حقیقت پرتو یا عکس کی ہی ہوگی۔
    جناب آپ نے یہ کہا کہ “اللہ نورالسموات والارض یہ اللہ کی صفت نہیں ہے بلکہ اللہ کی رحمت کا ذکر ہے” مجھے آپکے اس جملے پہ حیرت ہے کہ رحمت کیا چیز ہے وہ صفت سے کوئی علیحدہ چیز ہے؟ آپ نے صفت کا انکار کرکے اس کی حقیقت جو بیان کی وہ خود صفتِ حق نکلی!!! جناب اس آیت سے جو مراد آپ نے لی تو یہ آپ کا تفرد ہے ورنہ عبارت النص ، اشارت النص ، اقتضاءالنص کسی سے بھی یہ بات نہیں نکلتی جو آپ نے بیان کی اور اگر بالفرض محال ہم مان بھی لیں تو پھر بھی وہ صفتِ حق ہی نکلتی ہے۔ آپ کا دعوی پھر پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا۔

    “اسلام میں تین قرون تک کسی کا نام عبد النور) نہیں ملتا جس سے ظاہر ہے اس کو اسماء الحسنی نہیں سمجھا گیا”
    چاہے ناصرالدین البانی صاحب کی رائے ہو یا آپکی ، اس بات سے تو یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا جو آپ نے کہا اور حیرت اس بات کی ہے کہ صفت کو کس قدر آپکیے جواب نے الجھا دیا ہے جبکہ صفت اصل میں ہوتی کیا ہے؟ سادہ سی بات ہے کہ جو موصوف سے صادر ہوگا وہ اس کی صفت کہلائے گی اور صفت کیا ہوگی؟ حق تعالی فرمارہے ہیں کہ اللہ نور السموات والارض کہ اللہ تعالی آسمانوں اور زمین کا نور ہیں تو آپ ان کی صفت نور کو ہی تسلیم نہیں کررہے جبکہ یہ واضح آیت ہے اور رحمت بھی کہ لیں تو وہ بھی صفت ہی ہے تو میری بات جوں کی توں ہے۔

    1. Islamic-Belief says:

      الله تعالی نے ٩٩ نام ہیں ان کو اسماء الحسنی کہا جاتا ہے اور یہی حدیث میں ہے
      اور قرآن میں بھی اسماء الحسنی سے مانگنے کا ذکر ہے
      لہذا اسماء الحسنی ٩٩ سے اوپر نہیں ہیں

      جو بھی الله کا نام ہے وہ الله کے لئے خاص ہے اور کسی اور کا نہیں ہو سکتا

      وہ تمام صفات جو کسی ذات کو معبود و اله و رب قرار دیتی ہوں وہ ان ننانوے ناموں میں سمٹ کر بیان ہو چکی ہیں – اس سے الله کی تعریف محدود نہیں ہوئی بلکہ ان ناموں کی شرح مزید کی جا سکتی ہے
      میرا مدعا یہ ہے کہ جو الله کا نام ہے وہ کسی اور کا نہیں صرف اسی کے لئے ہے
      صفت سے مراد لغوا تعریف ہے لیکن یہ اصلا فلسفہ کی اصطلاح ہے جس کی مراد ہے کہ وہ چزیں جو اس ذات یا جسم کو دیگر سے ممتاز کر دیں
      جب ہم کسی چیز کو الله کی صفت کہیں گے اور وہ کسی اور میں بھی ہو تو پھر وہ صفت الله کا نام نہیں ہے
      الله تعالی رحم کرتا ہے اس کے جیسا کوئی رحم نہیں کر سکتا اس لئے الرحیم ہے

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تعریف کی گئی کہ وہ رحم کرتے ہیں یہ الله کا حکم ہے جس پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے عمل کیا لہذا مالک نے خوش ہو کر اس کا ذکر کیا – لیکن رحم رسول الله کے علاوہ بھی لوگ کر سکتے ہیں- اس طرح رسول الله بھی رحیم تھے جیسے متعدد اور جنتی ہو سکتے ہیں
      قرآن میں ابرہیم کا ذکر ہے
      إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُّنِيبٌ
      بیشک ابراہیم بردبار، نرم دل والا والا بہت رجوع کرنے والا ہے۔
      یہ تمام خوبیاں ابراہیم کو بھی رحیم بنا دیتی ہیں
      ——-

      الله نور سماوات میں نور ہدایت ہی ہے یہ صفت نہیں ہے کیونکہ نور مخلوق ہے

      صحیح مسلم ، ابن ماجہ، مسند احمد میں ہے
      حِجَابُهُ النُّورُ، لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ
      النور اس کا حجاب ہے اگر وہ اس کو اٹھادے تو اس کے وَجْهِهِ کی عظمت اس سب کو جلا دیں گی جہاں تک الله تعالی کی نگاہ جائے
      یعنی تمام مخلوق بھسم ہو جائے گی-
      معلوم ہوا کہ النور اللہ کا نام نہیں کیونکہ یہ حجاب کا نام ہے

      الله تعالی جو بھی حکم کرے اس کو امر کہا جائے گا- الله رحیم ہے یہ اس کا امر ہے جو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہوا ہے
      چونکہ وہ اس کو بار بار کرتا ہے یا مسلسل کر رہا ہے یہ چیز اس سے الگ نہیں ہے
      اس بنا پر الله الرحیم ہے

      الله مسلسل ہدایت دے رہا ہے اور اسی کو نور کہا گیا ہے کہ مومن کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف لے آتا ہے

  13. محمد شعیب احمد says:

    اپ کے الفاظ میں تضاد ہے تجلی ، تصرف، پرتو لا یعنی الفاظ ہیں ان کا کوئی مطلب نہیں – نور کی تجلی کیا ہے ؟ یا نور کا پرتو یا سایہ کیا ہے ؟
    یہ سب ذاتی لفاظی تو ہے لغوی طور پر ان الفاظ کو نور سے نہیں جوڑا جاتا-
    ———/////////———-/////////————
    “آپکے الفاظ میں تضاد ہے تجلی ، تصرف ، پرتو لایعنی الفاظ ہیں ان کا کوئی مطلب نہیں”
    کاش آپ میری تضاد بیانی کو واضح کر دیتے؟
    تجلی ، تصرف ، پرتو لایعنی الفاظ ہیں””
    صرف لایعنی لکھنے سے کوئی چیز لایعنی ہوجاتی ہے۔ آپ نے میری بات کو سمجھا ہی نہیں یا اگر اس کو سمجھا ہوتا تو تضاد یا لایعنیت کے الفاظ نہ لکھتے ۔ آپ ان اصطلاحا ت سے شاید واقف نہیں اور اگر واقف ہیں تو ان کے لا یعنی ہونے کو واضح فرما دیں۔

    1. Islamic-Belief says:

      تجلی کا مطلب جلوہ کرنا
      تصرف کا مطلب اختیار
      پرتو مطلب سایہ
      یہ تین الگ الگ باتیں ہیں بے ربط ہیں

  14. محمد شعیب احمد says:

    اگر ہم ایک غیر معتبر روایت کو فضائل کے تحت لے کر نور کو مخلوق قرار دے کر فضلت محمدی مان لیتے ہیں جیسا آپ کا اصرار ہے تو یہ نور خاص ہے جو دیگر انبیاء میں نہیں

    جبکہ قرآن کہتا ہے
    قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ
    کہو میں رسولوں میں کوئی نیا نہیں ہوں
    ———-////////————/////////——–
    “تو یہ نور خاص ہے جو دیگر انبیا میں نہیں”
    جب آپ نے اس روایت کو مان لیا تو نوریت تو سب کے لیے ثابت ہوگئی تب تو کوئی جگھڑا رہا ہی نہیں۔
    جیسے صدق سب انبیاء میں تھا لیکن فرق مراتب تو حق تعالی نے بتا دیا کہ تلک الرسل فضلنا بعظکم علی بعض
    تو اسی طرح اس حدیث کو مان لینے سے نوریت تو سب میں ثابت ہوتی ہے باقی اس نوریت میں اول الخلق اور افضل الخلق حضور صہ ہی ہیں۔

    1. Islamic-Belief says:

      میں نے مانا نہیں قرآن کی آیت سے اس حدیث کا متعارض ہونا پیش کیا ہے

      آپ ایک غریب و شاذ المتن روایت سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تمام مخلوق پر افضلیت ثابت کر رہے ہیں
      جبکہ قرآن میں اس عظیم بات کی طرف نفی میں اشارات موجود ہیں
      خود اقوال نبی جو صحیح ہیں وہ بھی خلاف جا رہے ہیں
      ان صورتوں میں جب متن مبہم ہو اور راوی کے اختلاط کا بھی علم ہو میرے نزدیک کسی بھی فضیلت کا اثبات ممکن نہیں ہے

      روایت جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس میں
      کروبیوں

      کا لفظ ہے

      یہ لفظ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اور اصحاب رسول نے نہیں بولا
      نہ مسلمانوں کی کسی حدیث و روایت میں ہے الا اس مصنف عبد الرزاق والی کے

  15. محمد شعیب احمد says:

    الله تعالی نے رسول الله کو رحمت للعالمین کہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم زمین پر آدم علیہ السلام کے ساتھ تھے- رحمت کا مطلب انے والے دور کے بارے میں ہے نہ کہ ماضی کے بارے میں
    ————/////////———–//////////———-
    رحمت اللعالمین کا مطلب سلف و خلف کی نگاہ میں کیا ہے؟
    بےشک حضور صہ حضرت آدم عہ کے ساتھ زمین پر نہیں آئے لیکن وہ جو صحیح حدیث ہے کہ میں اللہ کے ہاں خاتم النبیین ہو چکا تھا اور آدم ابھی روح اور جسد کے درمیان تھے یا ایک روایت میں ہے کہ پانی اور کیچڑ کے درمیان تھے۔ اس حد یث پر آپ نے یہ کہا تھا کہ یہ تقدیری امر کے لحاظ سے ہے اور میں یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ اس حدیث کی آخری بات پر غور کرتے تو کبھی بھی اس کو تقدیری امر نہ کہتے کیونکہ تقدیر میں تو حضرت آدم عہ کی تخلیق اور قیامت تک کے ہونے والے سارے امور و معاملات تھے۔ اور یہاں کہا جارہا ہے کہ میں خاتم النبیین ہو چکا تھا اور آدم ابھی روح اور جسد کے درمیان تھے ۔ الفاظ پر ہی معمولی سا غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے۔
    وما ارسلنک الا رحمت اللعالمین
    کا معنی و مفہوم ہماری نظر میں اوپر کی گئی بات سے بے غبار ہے۔
    جب خاتم النبیینی کا شرف عطا فرمادیا گیا تو رحمت اللعالمینی تو خود بخود ثابت ہوگئی کیونکہ رحمت اللعالمینی کو رسالت کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے تو جب شرطِ رسالت یعنی خاتم النبیینی پائی گئی تو مشروط یعنی رحمت اللعالمینی لازماً پائی گئی اور اس کا تخلف محال ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

    1. Islamic-Belief says:

      یعنی آپ کا مقصد ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے بطن آمنہ سے پیدا ہونے سے قبل سے تمام زمین پر رحمت فرما رہے تھے ؟

      یہ عجیب منفرد قول ہے اس کی کوئی دلیل بھی نہیں صرف خام و خیال ہے

      اللہ تعالی رحمت للعالمین قرار دیا تو اس کا مطلب بعد کا ہے قبل ولادت کا دور کسی صورت ممکن نہیں ہے
      خاتم النبیین اور رحمت للعالمین کا اصل مدعا ہدایت کا پہنچانا ہے
      یعنی آخری نبی نے انے کے بعد سے قیامت تک کا دور مراد ہے

      1. محمد شعیب احمد says:

        وہ تمام صفات جو کسی ذات کو معبود و اله و رب قرار دیتی ہوں وہ ان ننانوے ناموں میں سمٹ کر بیان ہو چکی ہیں
        ———–///////————-
        یہاں آپ اسماء و صفات کو ایک ہی چیز ہونا بیان فرما رہے ہیں جبکہ
        ———-///////————–
        جب ہم کسی چیز کو الله کی صفت کہیں گے اور وہ کسی اور میں بھی ہو تو پھر وہ صفت الله کا نام نہیں ہے
        ———-///////—————
        میرا سوال صرف اتنا ہے کہ اگر اللہ کی صفت کسی اور میں پائی گئی تو آپ نے کہا کہ وہ اللہ کا نام نہیں ہوگا ، اوپر کی سطور میں آپ اسم اور صفت کو ایک ہی چیز ہونا لکھ رہے ہیں اور اب ان کو ایک نہیں بلکہ مختلف ہونا لکھ رہے ہیں۔
        اگر وہ صفت جو اللہ کی صفت ہے کسی اور میں بھی ہو تو وہ اللہ کا اسم نہیں تو پھر کیا ہے؟
        مخلوق میں جو کچھ ہوتا ہے کیا وہ اس کا ذاتی ہوتا ہے؟
        اگر ذاتی ہوتا ہے تو وہ مخلوق کیسے؟
        اور
        اگر ذاتی نہیں ہوتا تو پھر کس کی طرف سے ہوتا ہے؟
        بلا شک وشبہ خالق کی طرف سے ہوتا ہے اور خالق کی طرف سے ہی جب سب کچھ مخلوق میں آئے گا تو وہ خالق کا ہی ہوگا ، مخلوق کا کیا ہوگا ، انتم الفقرا الی اللہ یہی ہے، گو پھر مخلوق میں جو جتنا کمترین اور جو جتنا افضل ہوگا اسی کے درجے کہ اعتبار سے خالق کی صفات اس میں منعکس ہوں گی یعنی جو جتنا کامل ہوگا اتنا ہی اس کی ذات سے صفات الہیہ کا ظہورہوگا۔ کائنات کی سب چیزیں حق تعالی کے اسماء وصفات کامظہر ہیں اور تمام مخلوقات میں سے انسان
        Relatively
        مظہرِ کامل ہے اور انسانوں میں کے مظہرِ کامل و مکمل و اتّم حضور صہ ہیں۔
        آخر خلق آدم علی صورتہ کا کیا مطلب ہے؟

        رحیم اور بھی لوگ ہو سکتے ہیں لیکن رحیمیت کے درجات سب کے مختلف ہوں گے۔

        الله نور سماوات میں نور ہدایت ہی ہے یہ صفت نہیں ہے کیونکہ نور مخلوق ہے

        صحیح مسلم ، ابن ماجہ، مسند احمد میں ہے
        حِجَابُهُ النُّورُ، لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ
        النور اس کا حجاب ہے اگر وہ اس کو اٹھادے تو اس کے وَجْهِهِ کی عظمت اس سب کو جلا دیں گی جہاں تک الله تعالی کی نگاہ جائے
        یعنی تمام مخلوق بھسم ہو جائے گی-
        معلوم ہوا کہ النور اللہ کا نام نہیں کیونکہ یہ حجاب کا نام ہے
        ———–/////////———————–
        اللہ تعالی خود کو اس آیت میں نور کہہ رہے ہیں کہ نہیں ؟ آپ صرف یہ بتادیں۔ اور یقیناً کہہ رہے ہیں تو آپ نور کے صفت ہونے سے ہی انکار کررہے ہیں جبکہ اس پر واضح نص ہے۔ تو پھر اس حدیث کا معنی بھی بیان کر دیں جو صحیح مسلم میں ہی ہے کہ جب حضرت ابوذر غفاری رضہ نے حضور صہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اللہ کو دیکھا تو حضور صہ نے فرمایا کہ میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں وہ تو نور ہے اور اس سے ہی اگلی حدیث میں ہے کہ حضور صہ نے فرمایا کہ میں نے نور دیکھا۔ نص کے معنی بالکل واضح ہیں اور اگر آپ پھر بھی انکار کرتے ہیں تو اس آیت کا ترجمہ یا تفسیر کسی کا بھی سلف وخلف میں سے آپ دکھادیں جو آپ کے دعوے کو
        Support
        کررہا ہو؟

        کیا حضور صہ کی افضلیت تمام مخلوق پر ثابت ہے یا نہیں؟
        مثلاً کون سے اشارات قرآنِ کریم میں اس افضلیت کی نفی میں آئے ہیں ؟
        اقوالِ نبی صہ تو اس افضلیت کو اور زیادہ پختگی سے ثابت کرتے ہیں نہ کہ تردید! مسئلہ تو یہ ہے کہ آپ کیا مطلب سمجھے؟ ساری نصوص کو سامنے رکھ کر آپ ذرا اپنے اس دعوے پر نظرثانی کریں ۔

        جو میرا اصل سوال تھا آپ نے اس کا جواب دینے سے گریز کیا۔ اور حدیث کے متعلق جو میں نے لکھا آپ نے اس کا بھی جواب نہیں دیا۔

        1. Islamic-Belief says:

          میرا سوال صرف اتنا ہے کہ اگر اللہ کی صفت کسی اور میں پائی گئی تو آپ نے کہا کہ وہ اللہ کا نام نہیں ہوگا ، اوپر کی سطور میں آپ اسم اور صفت کو ایک ہی چیز ہونا لکھ رہے ہیں اور اب ان کو ایک نہیں بلکہ مختلف ہونا لکھ رہے ہیں۔ اگر وہ صفت جو اللہ کی صفت ہے کسی اور میں بھی ہو تو وہ اللہ کا اسم نہیں تو پھر کیا ہے؟

          جواب
          سب سے پہلے تو آپ صفت کا سمجھ لیں کہ یہ صرف ایک ذات کو دوسری الگ کرنے پر جو چیزیں یا باتیں پیش ہوتی ہیں اس کا نام ہے -صفت عربی کا لفظ نہیں ہے اس وقت یہ فلسفہ کی اصطلاح ہے
          اپ اس کو لغت کے تحت دیکھ رہے ہیں اور میں اس کو اس کی اصل میں دیکھ رہا ہوں
          یہ فلسفہ یونان کی اصطلاح ہے
          قرآن میں اس لفظ کا استعمال نہیں ہے اور میرے نزدیک اس لفظ پر کوئی صحیح حدیث بھی نہیں ہے

          ایک صفت کئی ذاتوں میں ہو سکتی ہے مثلا
          دیکھنا
          ہم بھی دیکھتے ہیں – ہمارا رب بھی دیکھتا ہے
          کیا ہم دونوں کا دیکھنا ایک سا ہے ؟
          نہیں ہے
          اللہ بصیر نہیں ہے ہم ہیں
          الله البصیر ہے ہم البصیر نہیں ہیں
          یہ قرآن میں بیان ہوا ہے کہ اسماء الحسنی میں الله تعالی نے اسم پر الف لام لگا کر ہم کو سمجھایا ہے

          انسان کو الله نے حواس خمسہ دیے ہیں اور اس کے لئے کہا
          فجعلناه سَمِيعاً بَصِيراً
          ہم نے اس کو سننے والا دیکھنے والا بنا دیا

          لیکن البصیر نہیں کہا بصیر کہا لہذا البصیر الله ہے

          ابن حزم کتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل میں کہتے ہیں
          قَالَ الله تبَارك وَتَعَالَى {لَيْسَ كمثله شَيْء وَهُوَ السَّمِيع الْبَصِير} فَقُلْنَا نعم إِنَّه سميع بَصِير لَا كشيء من البصراء وَلَا السامعين مِمَّا فِي الْعَالم وكل سميع وبصير فِي الْعَالم فَهُوَ ذُو سمع وبصر فَالله تَعَالَى بِخِلَاف ذَلِك بِنَصّ الْقُرْآن فَهُوَ سميع كَمَا قَالَ لَا يسمع كالسامعين وبصير كَمَا قَالَ لَا يبصر كالمبصرين لَا يُسَمِّي رَبنَا تَعَالَى إِلَّا بِمَا سمى بِهِ نَفسه وَلَا يخبر عَنهُ إِلَّا بِمَا أخبر بِهِ عَن نَفسه فَقَط كَمَا قَالَ الله تَعَالَى {هُوَ السَّمِيع الْبَصِير} فَقُلْنَا نعم هُوَ السَّمِيع الْبَصِير وَلم يقل تَعَالَى إِن لَهُ سمعا وبصرا فَلَا يحل لأحد أَن يَقُول إِن لَهُ سمعا وبصراً فَيكون قَائِلا على الله تَعَالَى بِلَا علم وَهَذَا لَا يحل وَبِاللَّهِ تَعَالَى

          الله تعالی کہتا ہے لَيْسَ كمثله شَيْء وَهُوَ السَّمِيع الْبَصِير اس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ السَّمِيع الْبَصِير ہے پس ہم کہتے ہیں ہاں وہ سننے والا دیکھنے والا ہے لیکن کسی بینا کی طرح نہیں اور کسی سننے والے کی طرح نہیں جو اس عالم میں ہیں ، اور ہر سننے والا اور دیکھنے والا جو اس عالم میں ہے تو وہ سمع و بصر والا ہے- لیکن الله تعالی کے لئے اس کے خلاف قرآن میں نص ہے پس وہ سننے والا ہے جیسا اس نے کہا ، نہ کہ وہ سنتا ہے ایسے جسے کوئی (انسان یا جانور) سنّتا ہے، اور دیکھتا ہے جیسا اس نے کہا، مگر ایسے نہیں جسے کوئی دیکھنے والا دیکھتا ہے – ہمارے رب تعالی نے کوئی نام نہ رکھا سوائے وہ جو اس نے خود رکھا اور کسی دوسرے نام کی خبر نہیں دی سوائے ان کے جن کی اس نے خبر دی- الله نے کہا کہ هُوَ السَّمِيع الْبَصِير پس ہم کہتے ہیں ہاں وہ السَّمِيع الْبَصِير ہے اور الله نے اپنے لئے (قوت) سمع اور بصر نہیں کہا سو یہ حلال نہیں کسی کے لئے بھی کہ وہ الله کے لئے سمع و بصر کہے کیونکہ وہ الله پر وہ بات بولے گا جس کا علم نہیں اور یہ حلال نہیں ہے

          =======================================
          مخلوق میں جو کچھ ہوتا ہے کیا وہ اس کا ذاتی ہوتا ہے؟ اگر ذاتی ہوتا ہے تو وہ مخلوق کیسے؟
          اور اگر ذاتی نہیں ہوتا تو پھر کس کی طرف سے ہوتا ہے؟
          بلا شک وشبہ خالق کی طرف سے ہوتا ہے اور خالق کی طرف سے ہی جب سب کچھ مخلوق میں آئے گا تو وہ خالق کا ہی ہوگا ، مخلوق کا کیا ہوگا ، انتم الفقرا الی اللہ یہی ہے، گو پھر مخلوق میں جو جتنا کمترین اور جو جتنا افضل ہوگا اسی کے درجے کہ اعتبار سے خالق کی صفات اس میں منعکس ہوں گی یعنی جو جتنا کامل ہوگا اتنا ہی اس کی ذات سے صفات الہیہ کا ظہورہوگا۔ کائنات کی سب چیزیں حق تعالی کے اسماء وصفات کامظہر ہیں اور تمام مخلوقات میں سے انسان
          Relatively
          مظہرِ کامل ہے اور انسانوں میں کے مظہرِ کامل و مکمل و اتّم حضور صہ ہیں۔
          رحیم اور بھی لوگ ہو سکتے ہیں لیکن رحیمیت کے درجات سب کے مختلف ہوں گے۔

          جواب

          ہمارا رحم کرنا یقینا الله کی طرف سے عطا کردہ ہے
          لیکن اگر کوئی قہر کرے اور کہے کہ یہ میرے رب کی طرف سے ہے وہ القہار ہے مجھ میں اس کی صفت منعکس ہو رہی ہے تو آپ کیا کہیں گے؟
          لہذا ہم اس کو مظہر نہیں کہتے ہم اس کو حکم الله پر عمل کہتے ہیں
          رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بھی الله کے حکم پر عمل کیا
          =======================================================

          آخر خلق آدم علی صورتہ کا کیا مطلب ہے؟
          جواب
          یہ حدیث امام مالک اور میرے نزدیک صحیح نہیں ہے
          اس کی تفصیل آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں
          https://www.islamic-belief.net/4969-2/
          ====================================================

          اللہ تعالی خود کو اس آیت میں نور کہہ رہے ہیں کہ نہیں ؟ آپ صرف یہ بتادیں۔ اور یقیناً کہہ رہے ہیں تو آپ نور کے صفت ہونے سے ہی انکار کررہے ہیں جبکہ اس پر واضح نص ہے
          جواب
          الله تعالی نے اپنے اپ کو نور ہدایت ہی کہا ہے اپ پوری آیت پیش کیوں نہیں کرتے اس کا ایک حصہ لیتے ہیں
          ایسا کیوں ہے ؟
          آیت میں الله نے اپنے نور کی مثال زیتون کے جلتے تیل سے دی ہے
          یہ مثال الله کی ذات کے لئے نہیں ہے کیونکہ اس نے خود فرما دیا
          لیس کمثلہ شی
          اس کی مثال کوئی چیز نہیں
          لہذا زیتون کے جلتا تیل الله نے نور ذات کو بیان نہیں کر رہا اس کے نور ہدایت کو بیان کر رہا ہے
          اس کو تشبیہ دینا کہا جاتا ہے
          ——————–

          ۔ تو پھر اس حدیث کا معنی بھی بیان کر دیں جو صحیح مسلم میں ہی ہے کہ جب حضرت ابوذر غفاری رضہ نے حضور صہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اللہ کو دیکھا تو حضور صہ نے فرمایا کہ میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں وہ تو نور ہے اور اس سے ہی اگلی حدیث میں ہے کہ حضور صہ نے فرمایا کہ میں نے نور دیکھا۔ نص کے معنی بالکل واضح ہیں اور اگر آپ پھر بھی انکار کرتے ہیں تو اس آیت کا ترجمہ یا تفسیر کسی کا بھی سلف وخلف میں سے آپ دکھادیں جو آپ کے دعوے کو
          Support
          کررہا ہو؟
          جواب
          صحیح مسلم میں ہے کہ نور اللہ کا حجاب ہے
          تو ظاہر ہے الله کا نور اور اس کا حجاب ایک نہیں ہیں

          دوم

          حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ»
          ابو ذر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا اپ نے اپنے رب کو دیکھا ؟ رسول الله نے فرمایا میں نے ایک نور دیکھا

          سمجھا جا سکتا ہے کہ صرف حجاب کو دیکھا البتہ

          اس روایت کی دو سندیں ہیں ایک میں عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِيُّ ضعیف الحَدِيث ہے
          ابن عدی الکامل میں روایت پیش کرتے ہیں
          حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنا مُحَمد بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنا عُمَر بن حبيب، حَدَّثَنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ عَنْ عَبد اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَن أَبِي ذَرٍّ، قالَ: قُلتُ يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ قَالَ كَيْفَ أَرَاهُ، وَهو نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ.
          وَهَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنْ خَالِدٍ الحذاء غير محفوظ.
          کہتے ہیں یہ روایت عمر بن حبیب کی سند سے غیر محفوظ ہے
          اس روایت کے دوسرے طرق میں يزِيد بن إِبْرَاهِيم التسترِي ہے اور اس طرق سے امام مسلم نے صحیح میں اس کو نقل کیا ہے
          کتاب ذخيرة الحفاظ از ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) کے مطابق
          حَدِيث: نور أَنى أرَاهُ. رَوَاهُ يزِيد بن إِبْرَاهِيم التسترِي: عَن قَتَادَة، عَن عبد الله بن شَقِيق قَالَ: قلت لأبي ذَر: لَو رَأَيْت رَسُول الله لسألته، قَالَ لي: عَمَّا كنت تسأله؟ قَالَ: كنت أسأله: هَل رأى ربه عز وَجل؟ فَقَالَ: قد سَأَلته، فَقَالَ: نور أريه مرَّتَيْنِ أَو ثَلَاثًا. وَهَذَا لم بروه عَن قَتَادَة غير يزِيد هَذَا، وَلَا عَن يزِيد غير مُعْتَمر بن سُلَيْمَان، وَكِلَاهُمَا ثقتان، وَحكي عَن يحيى بن معِين أَنه قَالَ: يزِيد فِي قَتَادَة لَيْسَ بذلك وَأنكر عَلَيْهِ رِوَايَته: عَن قَتَادَة عَن أنس.
          حدیث میں نے نور دیکھا اس کو يزِيد بن إِبْرَاهِيم التسترِي نے قتادہ سے انہوں نے عبد الله بن شقیق سے روایت کیا ہے کہا ہے میں نے ابو ذر سے پوچھا کہ اگر رسول الله کو دیکھتا تو پوچھتا ؟ انہوں نے کہا کیا پوچھتے ؟ میں نے کہا پوچھتا کہ کیا انہوں نے اپنے رب کو دیکھا ؟ ابو ذر نے کہا میں نے پوچھا تھا پس کہا میں نے دو یا تین بار نور دیکھا اور اس کو روایت نہیں کیا قتادہ سے مگر یزید نے اور یزید سے کسی نے روایت نہیں کیا سوائے معتمر بن سلیمان کے اور یہ دونوں ثقہ ہیں اور یحیی بن معین سے حکایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا یزید قتادہ سے روایت کرنے میں ایسا اچھا نہیں ہے اور اس کی روایات کا انکار کیا جو قتادہ عن انس سے ہوں
          ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق میں الذھبی کہتے ہیں
          قال القطان ليس بذاك
          تاریخ الاسلام میں الذھبی کہتے ہیں
          وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: هُوَ فِي قَتَادَةَ لَيْسَ بِذَاكَ
          ابن معین کہتے ہیں قتادہ سے روایت کرنے میں ایسا (اچھا) نہیں ہے
          ميزان الاعتدال في نقد الرجال میں الذھبی اس نور والی روایت کا يزيد بن إبراهيم کے ترجمہ میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس میں اس کا اور معتمر کا تفرد ہے
          محمد بن وزير الواسطي، حدثنا معتمر بن سليمان، عن يزيد بن إبراهيم، عن قتادة، عن عبد الله بن شقيق، قال: قلت لأبي ذر: لو رأيت النبي صلى الله عليه
          وسلم لسألته: هل رأى ربه؟ فقال: قد سألته فقال لي: نور إني أراه مرتين أو ثلاثا.
          تفرد به عن قتادة.
          وما رواه عنه سوى معتمر.
          الغرض یہ روایت صحیح نہیں ہے

          -نبی صلی الله علیہ وسلم نے صریحا نہیں کہا کہ میں نے جو نور دیکھا وہ الله تعالی تھا اپ کو کوئی صحیح حدیث معلوم ہے جس میں ہو کہ الله تعالی کو کہاں دیکھا؟ کس مقام پر دیکھا ؟
          ==========================================

          کیا حضور صہ کی افضلیت تمام مخلوق پر ثابت ہے یا نہیں؟

          جواب
          رسول الله صلی الله علیہ وسلم آخری نبی و رسول ہیں تو ظاہر ہے ان کی فضیلت ہے- اس وقت جنت میں الوسیلہ میں ہیں اور روز محشر مقام المحمود ملے گا –
          فضائل کے لئے ہم کو ضعیف روایات درکار نہیں ہیں
          ———————————–
          جو میرا اصل سوال تھا آپ نے اس کا جواب دینے سے گریز کیا۔ اور حدیث کے متعلق جو میں نے لکھا آپ نے اس کا بھی جواب نہیں دیا۔
          جواب
          اپ اس کو دوبارہ لکھ دیں
          چونکہ بحث لمبی ہو گئی ہے سمجھ نہیں آیا کس حدیث کی بات اپ نے کی

          اپ نے بھی میرا جواب نہیں دیا

          یعنی آپ کا مقصد ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے بطن آمنہ سے پیدا ہونے سے قبل سے تمام زمین پر رحمت فرما رہے تھے ؟

          ہ قرآن کہتا ہے
          قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ
          کہو میں رسولوں میں کوئی نیا نہیں ہوں

  16. محمد شعیب احمد says:

    خبر واحد سے عقیدہ ہر فقہ میں ثابت نہیں ہوتا احناف میں اکثر کا یہی قول ہے
    ———/////////———–
    ہر فقہ میں اگر عقیدہ ثابت نہیں ہوتا لیکن ہر فقہ میں خبرِ واحد سے فضیلت تو ثابت ہوتی ہے ! کیونکہ حضور صہ کا اول الخلق ہونا اور ان کی نوریت یہ عقیدے کا مسئلہ تو نہیں فضیلت کا مسئلہ ہے ۔

    1. Islamic-Belief says:

      فضائل میں یہ قول لیا گیا ہے کہ خبر واحد ضعیف سے بھی فضیلت نقل کی جاتی ہے
      اس کو ثابت نہیں کہا جاتا صرف لکھا جاتا تھا

      مثلا ضعیف راوی کی روایت لکھو لیکن جب حلال و حرام کی بات ہو تو مت لکھو یہ محدثین کا قول ہے
      =======
      میرا کہنا ہے کہ فضائل کی وجہ سے عقائد میں گڑبڑ ہوئی ہے کیونکہ روایت تو فضائل پر ہوتی ہے لیکن نتائج عجیب نکلتے ہیں

  17. محمد شعیب احمد says:

    حدیثِ نُور کے حوالہ سے اس صفحہ پر جو جوابات
    کے نام سے islamic-belief
    دیے گئے ہیں وہ کیا ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی صاحب نے دیے ہیں یا کوئی
    اور صاحب ہیں؟

    1. Islamic-Belief says:

      ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی رحمہ اللہ علیہ کا انتقال سن ٨٦ میں ہو چکا ہے
      یہ جوابات ابو شہریار کے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

sixteen + thirteen =