مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ

سنن ترمذی میں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ  صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ [ص:139] مِنْ ثَلَاثٍ: الكَنْزِ، وَالغُلُولِ، وَالدَّيْنِ دَخَلَ الجَنَّةَ ” هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ: الكَنْزُ، وَقَالَ أَبُو
عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ: الكِبْرُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَعْدَانَ وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ

ثَوْبَانَ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جس کی روح جسم سے الگ ہوئی اور وہ تین چیزوں سے  بَرِيءٌ تھا خزانہ ، غنیمت میں خیانت، اور قرض سے تو وہ جنت میں داخل ہوا – ترمذی نے کہا سعید نے روایت میں خزانہ بولا ہے اور … سعید  کی سند سے روایت اصح ہے

الدر المنثور از السیوطی میں ہے

وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيّ إِنَّمَا هُوَ الْكَنْز بالنُّون وَالزَّاي

دارقطنی کہتے ہیں یہ حدیث کنز (خزانہ ) کے لفظ سے ہے

فارق سے ہی اردو میں فراق کا لفظ نکلا ہے یعنی جدائی ہونا- اس کو اردو شاعری میں بہت استعمال کیا جاتا ہے

یہ روایت محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک صحیح ہے البتہ فرقوں کی جانب سے موت کے مفہوم پر اشکالات آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ روح کی جسم سے مکمل فراق کے قائل نہیں ہیں – بعض کے نزدکک روح کا جسم سے تعلق باقی رہتا ہے جس کی تشریح ان کے نزدیک یہ ہے کہ روح جسم میں آتی جاتی رہتی ہے – بعض کہتے ہیں روح دفنانے کے بعد آ جاتی ہے – بعض اس کے قائل ہیں کہ روح چالیس دن میت کے پاس آتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے غسل و تکفین تک کا مشاہدہ کرتی ہے – بعض اس کے قائل ہیں کہ روح جنازہ قبرستان لے جائے جانے کے وقت جسم میں آ جاتی ہے – یہاں تک کہ امام ابن عبد البر کا قول ہے کہ ارواح قبرستان میں ہی رہتی ہیں

قرآن اس کے خلاف ہے جس میں صریحا امساک روح کا ذکر ہے یعنی روح کو روک لیا جاتا ہے – قرآن میں موجود ہے کہ جس پر موت کا حکم لگتا ہے اس کا امساک کیا جاتا ہے

الوسيط في تفسير القرآن المجيد از الواحدی میں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْفَضْلِ، أنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَلَفٍ، أنا أُبَيُّ بْنُ خَلَفِ بْنِ طُفَيْلٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي طُفَيْلُ بْنُ زَيْدٍ، نا أَبُو عُمَيْرٍ، نا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَعَّابُ، نا نُعَيْمُ بْنُ عَمْرٍو، نا سُلَيْمَانُ بْنُ رَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ الرُّوحَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الإِنْسَانِ؛ مَاتَ الْجَسَدُ، وَصَارَ الرُّوحُ صُورَةً أُخْرَى، فَلا يُطِيقُ الْكَلامَ؛ لأَنَّ الْجَسَدَ جِرْمٌ، وَالرُّوحُ يُصَوِّتُ مِنْ جَوْفِهِ وَيَتَكَلَّمُ، فَإِذَا فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ؛ صَارَ الْجَسَدُ صُفْرًا، وَصَارَ الرُّوحُ صُورَةً أُخْرَى، يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ، يَبْكُونَهُ، وَيُغَسِّلُونَهُ وَيَدْفِنُونَهُ، وَلا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَكَلَّمَ، كَمَا أَنَّ الرِّيحَ إِذَا دَخَلَ فِي مَكَانٍ ضَيِّقٍ سَمِعْتَ لَهُ دَوِيًّا، فَإِذَا خَرَجَ مِنْهُ لَمْ تَسْمَعْ لَهُ صَوْتًا، وَكَذَلِكَ الْمَزَامِيرُ، فَأَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ يَنْظُرُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَجِدُونَ

ابن عباس نے کہا جب روح جسم سے نکلتی ہے تو جسد مر جاتا ہے اور روح ایک دوسری صورت لے لیتی ہے پس یہ کلام نہیں کرتی کیونکہ جسم تو ایک مرکب سفینہ ہے اور روح اس کے پیٹ میں آواز پیدا کرتی ہے اور کلام کرتی ہے – پس جب یہ جسم سے الگ ہوتی ہے تو جسد پیلا پڑ جاتا ہے اور روح ایک دوسری صورت لے لیتی ہے ، لوگوں کو دیکھتی ہے کہ اس پر رو رہے ہیں ، اس کو غسل دے رہے ہیں ، اس کو دفن کر رہے ہیں ، روح سب دیکھ کر بول نہیں پاتی جیسے ہوا ہو کہ جب تنگ مکان میں جاتی ہے تو اس کی آواز آتی ہے لیکن جب نکل جاتی ہے تو آواز بھی ختم ہو جاتی ہے – اسی طرح بانسری ہے – پس ارواح مومنین جنت کو دیکھتی ہیں

اس کی سند میں مجھول راوی ہیں

مشرب تصوف والے قصے بیان کرتے ہیں کہ ان کے ہاں مردہ غسل دینے والے کی انگلی پکڑ لیتا ہے

آج بھی تصوف کے مخالفین اس قسم کے قصوں کو مقلدوں کی گھڑنت کہتے ہیں اور ان قصوں کو مریدان کا اضافہ کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے

چند سال پہلے قندوز میں ایک بمباری میں مسلمان بچے شہید ہوئے – دوران تدفین ایک مقتول نے اپنے باپ کی انکلی پکڑ لی – یہ ویڈیو یو ٹیوب پر وائرل ہو گئی

ملاحظہ کریں

راقم کہتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن بھی ہے – اس کو مغرب والے بھی جانتے ہیں اور انہوں نے اس کو لذارس ایفیکٹ
Lazarus effect
کا نام دیا ہے – انجیل کے مطابق لذارس ایک بنی اسرائیلی تھا جس کو قم باذللہ کہہ کر عیسیٰ علیہ السلام نے معجزہ دکھانے میں زندہ کیا تھا بعد میں جب مردوں میں حرکت کو سائنسدانوں نے نوٹ کیا تو اس کو لذارس ایفیکٹ کا نام دیا اور اس کی وجہ سے  پٹھوں میں حرکت ہے جو انسانی  جسم میں عناصر کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے – مثلا ذبح کردہ جانور کا جسم آدھے گھنٹے تک گرم ہوتا ہے اور بعض اوقات جسم میں معمولی جنبش  بھی پیدا ہو جاتی ہے – اسی نوع کی یہ چیز ہے

وہ مسلمان علماء جو سائنس سے نابلد ہیں ، وہ جب لذارس ایفیکٹ کو مردوں میں دیکھتے ہیں تو اس کی کوئی علمی توجیہ ان کے پاس نہیں ہوتی  سوائے اس کے کہ اس کو من جانب اللہ آیا کوئی معجزہ قراردیں – دوسری طرف  انکار کرنے والے اس کو سفید جھوٹ کہتے آئے ہیں

غیر نبی کے جسد کی خبریں

  ہم تک خبریں پہنچی ہیں کہ اللہ تعالی نے بعض اصحاب رسول کے اجسام کو باقی رکھا- ولید بن عبد الملک نے حجرہ عائشہ پر قابض خبیب بن عبد اللہ   بن زبیر کو بے دخل کیا اور اپنے گورنر  عمر بن عبد العزیز کو حکم دیا کہ  خبیب کو بے دخل کرو  – اس کے بعد تعمیراتی  پروجیکٹ کا آغاز کیا کہ حجرہ کی چار دیواروں کو گرا کر پانچ کیا جائے – اس تعمیر  میں ایک    دیوار گر گئی جس کا ذکر صحیح بخاری میں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏”أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  مُسَنَّمًا”. حَدَّثَنَا فَرْوَةُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ “لَمَّا سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْحَائِطُ فِي زَمَانِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَذُوا فِي بِنَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ  فَفَزِعُوا،‏‏‏‏ وَظَنُّوا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِكَ،‏‏‏‏ حَتَّى قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ”

ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں ابوبکر بن عیاش نے خبر دی اور ان سے سفیان تمار نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک دیکھی ہے جو کوہان نما ہے۔ ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ ولید بن عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کی) دیوار گری اور لوگ اسے (زیادہ اونچی) اٹھانے لگے تو وہاں ایک قدم ظاہر ہوا۔ لوگ یہ سمجھ کر گھبرا گئے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو قدم کو پہچان سکتا۔ آخر عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم نہیں ہے بلکہ یہ تو عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے

 شیعہ روایات میں ہے کہ ایک مزدور نے امام  جعفر سے اس کام پر اجازت طلب کی – عثمانی صاحب نے ایمان خالص قسط دوم  میں الکافی کی  روایت ذکر کی

راقم  کہتا ہے ایسا  کبھی نہیں ہوا کہ  حجرہ عائشہ کی چھت گر گئی ہو

الکافی کے شیعہ  محقق نے خود  تعلیق میں اس روایت پر اقرار کیا ہے

هذا الحديث مجهول وكأن في السند سقطا او ارسالا فان جعفر بن المثنى من اصحاب الرضا عليه السلام ولم يدرك زمان الصادق عليه السلام

یہ حدیث مجہول کی سند سے ہے اور سند گری ہوئی ہے اور اس میں ارسال ہے کیونکہ جعفر بن المثنی یہ اصحاب امام رضا میں سے ہے اس نے امام جعفر کا دور نہیں پایا ہے 

معلوم ہوا کہ یہ روایت متاخرین کی ایجاد ہے

ایک روایت میں بیان ہوا ہے وہاں قبر النبی پر بھی سجدے بھی  ہو رہے تھے

الشريعة از أبو بكر محمد بن الحسين بن عبد الله الآجُرِّيُّ البغدادي (المتوفى: 360هـ) میں ہے
وَحَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ بْنِ زَكَرِيَّا أَبُو حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ إِلَى الْقَبْرِ , فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ فَرُفِعَ حَتَّى لَا يُصَلِّيَ فِيهِ النَّاسُ , فَلَمَّا هُدِمَ بَدَتْ قَدَمٌ بِسَاقٍ وَرَقَبَةٍ؛ قَالَ: فَفَزِعَ مِنْ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَتَاهُ عُرْوَةُ فَقَالَ: هَذَا سَاقُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرُكْبَتُهُ , فَسُرِّيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ نے هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ سے روایت کیا کہ میرے باپ عُرْوَةَ المتوفی ٩٤ ھ  نے بیان کیا کہ لوگ قبر کی طرف نماز پڑھتے تھے – پس عمر بن عبد العزیز  المتوفی ١٠١ ھ  نے اس کو بلند کیا کہ لوگ اس میں نماز نہ پڑھیں پس جب اس کو منہدم کیا تو ایک قدم پنڈلی … کے ساتھ دیکھا- کہا پس عمر بن عبد العزیز اس پر گھبرا گئے اور عروه آئے اور کہا یہ عمر کی پنڈلی ہے اور گھٹنا ہے -پس اس سے عمر بن عبد العزیز خوش ہوئے

نوٹ : عُروة بن الزُبير  کی وفات عمر بن عبد العزيز بن مروان بن الحكم الأموي  کی وفات  سے سات سال پہلے ہوئی ہے

الولید بن عبد الملک کے حکم پر گورنر  عمر بن عبد العزیز المتوفی ١٠١ ھ  نے حجرہ عائشہ کی چار دیواروں کو پانچ کیوں کیا ؟ اس کی  تاویلات لوگوں نے کی ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے ایسا اس وجہ سے کیا کہ کعبہ سے مطابقت نہ رہے – جبکہ یہ نہایت عجیب قول ہے کیونکہ دیگر انبیاء سے منسوب قبروں کو بھی اسی طرح ٹیڑھی دیواروں کا بنا دیا جانا چاہیے تھا – تاریخ سے معلوم ہے کہ ایسا صرف اس لئے کیا گیا کہ حجرہ میں خبیب بن عبد اللہ بن زبیر نے قیام اختیار کیا ہوا تھا اور الولید کا مقصد حجرات کو مسمار کرنا تھا تاکہ ان میں کوئی رہائش نہ کرے- حجرہ عائشہ کو مسمار نہیں کیا جا سکتا تھا لہذا اس میں دیوار کواس انداز پر بنایا گیا کوئی پیر پھیلا کر لیٹ نہ سکے کہ وہاں سو سکے یا رہائش کرے

البداية والنهاية از ابن کثیر (المتوفى: 774هـ) میں ہے

قُلْتُ: كَانَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حِينَ وَلِيَ الْإِمَارَةَ فِي سَنَةِ سِتٍّ وَثَمَانِينَ قَدْ شَرَعَ فِي بِنَاءِ جَامِعِ دِمَشْقَ وَكَتَبَ إِلَى نَائِبِهِ بِالْمَدِينَةِ ابْنِ عَمِّهِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ يُوَسِّعَ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَوَسَّعَهُ حَتَّى مِنْ نَاحِيَةِ الشَّرْقِ [1] فَدَخَلَتِ الْحُجْرَةُ النَّبَوِيَّةُ فِيهِ. وَقَدْ رَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ بِسَنَدِهِ عَنْ زَاذَانَ مَوْلَى الْفُرَافِصَةِ، وَهُوَ الَّذِي بَنَى الْمَسْجِدَ النَّبَوِيَّ أَيَّامَ [وِلَايَةِ] عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَ مَا ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ، وَحَكَى صِفَةَ الْقُبُورِ كَمَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

میں ابن کثیر کہتا ہوں : جب سن ٨٦ ہجری میں الولید کو امارت ملی اس نے جامع دمشق بنانے کا آغاز کیا اور اپنے نائب مدینہ اپنے چچا زاد عمر بن عبد العزیز کو حکم لکھ بھیجا کہ مسجد المدینہ کی توسیع کرے پس حجرہ شریفہ کو اس میں داخل کیا گیا اور حافظ ابن عَسَاكِرَ نے اپنی سند سے زَاذَانَ مَوْلَى الْفُرَافِصَةِ سے روایات کیا ہے جنہوں نے مسجد النبی کی عمر بن عبد العزیز کے دور گورنری میں تعمیر کی – پس سالم سے روایت کیا جیسا امام بخاری نے روایت کیا ہے اور جیسا ابو داود میں ایسا صفت قبور پر بیان کیا

تاریخ مكة المشرفة والمسجد الحرام والمدينة الشريفة والقبر الشريف از محمد بن أحمد بن الضياء محمد القرشي العمري المكي الحنفي، بهاء الدين أبو البقاء، المعروف بابن الضياء (المتوفى: 854هـ) میں ہے

وَأدْخل عمر بن عبد الْعَزِيز …. فَصَارَ لَهَا ركن خَامِس، لِئَلَّا تكون الْحُجْرَة الشَّرِيفَة مربعة كالكعبة، فتتصور جهال الْعَامَّة أَن الصَّلَاة إِلَيْهَا كَالصَّلَاةِ إِلَى الْكَعْبَة

عمر بن عبد العزیز نے اس میں پانچویں دیوار بنا دی کہ حجرہ شریفہ کعبه کی طرف مربع نہ ہو پس بعض عام جاہلوں کا تصور ہے کہ اس کی طرف نماز ایسی ہی ہے جیسی کعبہ کی طرف ہے

 

شہدائے احد کے اجسام کی خبر 

بعض چیزیں من جانب اللہ نشانی تھیں ان سے عموم نہیں لیا جا سکتا مثلا شہدائے بدر احد کا رتبہ سب سے بلند ہے اب کوئی شہید بھی ہو تو بھی ان کے رتبے تک نہیں جا سکتا  اس کو بطور نشانی الله تعالی نے باقی رکھا کہ ان شہداء کے جسم لوگون نے دیکھے کوئی تغیر نہیں آیا تھا

المخلصيات وأجزاء أخرى لأبي طاهر المخلص از المؤلف: محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى 393هـ) میں ہے

حدثنا عبدُاللهِ قالَ: حدثنا أبويحيى / عبدُالأعلى بنُ حمادٍ قالَ: حدثنا عبدُالجبارِ بنُ الوردِ قالَ: سمعتُ أبا الزبيرِ محمدَ بنَ مسلمٍ يقولُ: سمعتُ جابرَ بنَ عبدِاللهِ يقولُ: كتبَ معاويةُ إلى عامِلِه بالمدينةِ أَن يُجريَ عَيناً إلى أُحُدٍ، فكتبَ إليه عامِلُه أنَّها لا تَجري إلا عَلى قبورِ الشهداءِ، قالَ: فكتبَإِليه أَن أَنفِذْها، قالَ: فسمعتُ جابراً يقولُ: فرأيتُهم يُخْرَجُون على رقابِ الرجالِ كأنَّهم رجالٌ نُوَّمٌ، حتى أَصابتْ المِسْحاةُ قدمَ حمزةَ عليه السلامُ فانبعثَتْ دماً

أبا الزبيرِ محمدَ بنَ مسلمٍ نے کہا میں نے جابر بن عبد الله سے سنا بولے معاویہ نے اپنے گورنر مدینہ کو لکھا کہ احد میں سے (سیلاب کی) نہر گذارو تو اس نے جواب دیا کہ ایسا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ احد میں شہداء کی قبور ہیں – معاویہ نے کہا ان کو نکال لو پس میں نے جابر سے سنا کہ میں نے دیکھا وہ (کھودتے ہوئے ) شہداء کی گردنوں تک آ گئے اور ایسا تھا کہ گویا سو رہے ہوں یہاں تک کہ کھدال حمزہ علیہ السلام کے قدم کو لگی تو اس میں سے خون جاری ہو گیا

تاریخ مدینہ ابن شبہ میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، وَقَالَ: لَيْسَ هَذَا مِمَّا فِي الْكِتَابِ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ” صُرِخَ بِنَا إِلَى قَتْلَانَا يَوْمَ أُحُدٍ حِينَ أَجْرَى مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَيْنَ، فَأَتَيْنَاهُمْ فَأَخْرَجْنَاهُمْ رِطَابًا تَتَثَنَّى أَجْسَادُهُمْ. قَالَ سَعِيدٌ: وَبَيْنَ الْوَقْتَيْنِ أَرْبَعُونَ سَنَةً

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ اہل احد کے مقتولین کو نکالا جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے چشمہ جاری کرنا چاہا ہم احد میں گئے ان کے جسموں کو تازہ نکالا گیا – سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ نے کہا اس وقت تک ٤٠ سال گزر چکے تھے

اسی کتاب میں ہے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَأَبُو غَسَّانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ [ص:128] عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ، ثُمَّ السُّلَمِيَّيْنِ، كَانَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، وَكَانَا مِمَّنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَكَانَ قَبْرُهُمَا مِمَّا يَلِي السَّيْلَ، فَحُفِرَ عَنْهُمَا لِيُغَيَّرَا مِنْ مَكَانِهِمَا، فَوُجِدَا لَمْ يَتَغَيَّرَا كَأَنَّمَا مَاتَا بِالْأَمْسِ، وَكَانَ أَحَدُهُمَا قَدْ جُرِحَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جُرْحِهِ، فَدُفِنَ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَأُمِيطَتْ يَدُهُ عَنْ جُرْحِهِ ثُمَّ أُرْسِلَتْ، فَرَجَعَتْ كَمَا كَانَتْ. وَكَانَ بَيْنَ يَوْمِ أُحُدٍ وَيَوْمَ حُفِرَ عَنْهُمَا سِتٌّ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً ”

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ نے کہا کہ ان تک پہنچا کہ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ اور عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ انصاریوں میں سے تھے پھر ساتھ مسلمان ہوئے اور ان کی قبر ایک ہے اور ان دونوں نے احد کا دن دیکھا اور ان کی قبروں میں سیلاب کا پانی آیا تو ان کو الگ مقام پر دفنانے کے لئے نکالا گیا تو ان کے جسموں میں کوئی تغیر نہیں آیا تھا جیسے کہ کل مرے ہوں اور ایک کے ہاتھ پر رخم ہوا پس اسی حال میں دفن کیا گیا اور وہ اسی طرح رہے کہ رخم سے خون رستا رہا پھر (اس نئے مقام سے ) نکال کر واپس وہیں دفن کیا جہاں تھے تو خون پھر جاری ہو گیا جیسا پہلے بہہ رہا تھا اور یوں احد سے اس دن تک جب نکالا ٤٦ برس بیت چکے تھے

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

حَدَّثَنَا 36758 – عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ رِجَالٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ قَالُوا: «لَمَّا صَرَفَ مُعَاوِيَةُ عَيْنَهُ الَّتِي تَمُرُّ عَلَى قُبُورِ الشُّهَدَاءِ جَرَتْ عَلَيْهِمَا فَبَرَزَ قَبْرُهُمَا , فَاسْتُصْرِخَ عَلَيْهِمَا فَأَخْرَجْنَاهُمَا يَتَثَنَّيَانِ تَثَنِّيًا كَأَنَّمَا مَاتَا بِالْأَمْسِ , عَلَيْهِمَا بُرْدَتَانِ قَدْ غُطُّوا بِهِمَا عَلَى وُجُوهِهِمَا وَعَلَى أَرْجُلِهِمَا مِنْ نَبَاتِ الْإِذْخِرِ»

بنی سلمہ کے مردوں نے خبر دی کہ جب معاویہ نے وہ نہر جاری کی جو شہدائے احد کی قبروں پر سے گزری تو ان کی قبریں کھودی گئیں پس کھودا تو .. ایسے تھے کہ کل شہید ہوئے ہوں ان پر برد (ایک قسم کی ) چادریں تھیں جس سے ان کے چہروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور قدموں پر الْإِذْخِرِ کھانس تھی

 یہ الله کی آیت و نشانی تھی  کہ تابعین اور اصحاب رسول میں سے چند نے ٤٦ سال بعد بھی ان جسموں کو اصلی صورت میں دیکھا -کلی اصول ہے کہ ہر چیز کو فنا ہے لہذا یہ اصول سب پر لگے گا کیونکہ حشر میں پہاڑ چلیں گے کیا انبیاء کے جسم اس وقت ختم ہوں گے ؟ بعض اجسام اللہ تعالی نے ایک مدت باقی رکھے ان کو ظاہر کیا تاکہ لوگوں کا ایمان تازہ ہو – شہداء بدر و احد زندہ نہیں مردہ تھے ان کے جسموں سے ان کی روحوں کا کوئی تعلق نہیں تھا صرف ان کے جسد سالم نکلے ان میں خون  جما  ہوا نہیں تھا -اس کوان شہداء کا  خصوص کہا جائے گا – یہ شہداء احد کی خصوصیت تھی جو ممکن ہے کچھ عرصہ رہی ہو

واضح رہے ہر مقتول و شہید  کا جسم باقی نہیں رہتا-  یہ صرف ان شہدائے اصحاب رسول کی خبر ہے جو سچ کے گواہ بن  کر  شہید ہوئے

و الله اعلم

Leave a Reply

Your email address will not be published.

eight + 9 =