موت و نیند پر التباس

قرآن سورة الزمر آیت 42 میں ارشاد ہے

اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
اللہ قبضے میں لے لیتا ہے نفس کو موت پر اور جو نہیں مرا اس کا نیند میں
پس پکڑ کر رکھتا ہے نفس کو جس پر موت کا حکم کرتا ہے اور دوسرے نفس کو چھوڑ دیتا ہے
اس میں نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں

سورہ الانعام آیت ٦٠ تا ٦١ میں ہے

وَهُوَ الَّـذِىْ يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُـمْ بِالنَّـهَارِ ثُـمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُـقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ۖ ثُـمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُـمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ
اور وہ وہی ہے جو تمہیں رات کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کر چکے ہو وہ جانتا ہے پھر تمہیں دن میں اٹھا دیتا ہے تاکہ وہ وعدہ پورا ہو جو مقرر ہو چکا ہے، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے پھر تمہیں خبر دے گا اس کی جو کچھ تم کرتے تھے۔
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۖ وَيُـرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً ؕ حَتّــٰٓى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّـتْهُ رُسُلُـنَا وَهُـمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ
اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے، اور تم پر نگہبان (فرشتے ) بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے قبضہ میں لے لیتے اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے۔

اس میں نفس یا روح کا ذکر ہے کہ نیند میں بھی قبض ہو رہا ہے اور موت پر بھی قبض ہو رہا ہے – ایک ہی نفس ہے جس کو موت اور نیند پر قبض کیا جا رہا ہے – زمخشری تفسیر کشاف میں اس کا ذکر کرتے ہیں

والصحيح ما ذكرت أوّلا، لأنّ الله عز وعلا علق التوفي والموت والمنام جميعا بالأنفس
أور صحیح وہ ہے جس کا میں نے پہلے ذکر کیا کہ اللہ تعالی نے قبض ، موت، نیند سب کا اطلاق ایک ہی نفس پر کیا ہے

لیکن اشکال یہ ہے کہ قبض نفس نیند میں ہو جانے پر آدمی مردہ نہیں کہا جاتا اس کو زندہ ہی سمجھا جاتا ہے – سورہ الزمر میں ایک نفس کا ذکر ہے دو کا نہیں ہے – البتہ اس آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے دو نفس بیان کیے ہیں – ایک کو نفس زیریں کہا ہے اور ایک کو نفس بالا کہا ہے

مفسر أبو إسحاق أحمد بن إبراهيم الثعلبي (المتوفى: 427 هـ) لکھتے ہیں
قال مفسرون: إن أرواح الأحياء والأموات تلتقي في المنام فيتعارف ما شاء الله منها فإذا أراد جميعها الرجوع إلى أجسادها أمسك الله أرواح الأموات عنده وحبسها، وأرسل أرواح الأحياء حتى ترجع إلى أجسادها
مفسرین کہتے ہیں زندوں اور مردوں کی روحیں نیند میں آپس میں ملاقات کرتی ہیں پس اس میں پہچان جاتی ہیں جو اللہ چاہے پس جب ان کو لوٹا نے ان کے جسموں میں اللہ ارادہ کرتا ہے تو مردوں کی روحوں کو روک لیتا ہے اور قید کر دیتا ہے اور زندہ کی ارواح کو ان کے اجساد میں لوٹا دیتا ہے

راقم کہتا ہے اس تفسیر کی وجوہات وہ روایات ہیں جن میں مردوں اور زندہ کی روحوں کے ملاقات کے قصے ہیں جو تمام ضعیف اسناد سے ہیں -تفصیل راقم کی کتاب الرویا میں ہے جو اس ویب سائٹ پر موجود ہے – ڈاکٹر عثمانی کے مخالف غیر مقلد عالم عبد الرحمان کیلانی نے کتاب روح عذاب قبر اور سماع الموتی میں انہی روایت منکرہ و ضعیفہ کے تحت بیان کیا ہے کہ انسانی جسم میں دو روحیں یا نفس ہیں – ایک موت پر نکلتا ہے اور ایک نیند میں نکلتا ہے – یعنی ان علماء کے نزدیک قبض کا مطلب اخراج روح ہے جبکہ عربی میں قبض کا مطلب اخراج نہیں ہے اور نہ ہی آیات قرانی میں نیند میں اخراج روح کا ذکر ہے – قرآن میں قبض روح کا ذکر ہے کہ روح کو پکڑ لیا جاتا ہے – یہاں ہم کو معلوم ہے کہ روح کو نیند میں پکڑنے کے بعد بھی انسان خواب دیکھتا ہے – انسان کی بے ہوشی بھی گہری نیند ہے جس میں ڈاکٹر اس کا جسم کاٹ بھی دیتا ہے تو انسان کو احساس نہیں ہوتا – بسا اوقات انسان نیند میں ہوتا ہے لیکن اس کی نیند کچی ہوتی ہے اس کو اس پاس جو ایا یا بات ہو اس کی آواز بھی آ جاتی ہے – یہ سب ہمارے مشاہدہ میں ہے جس کا انکار کوئی نہیں کر سکتا
ان آیات میں انسان کے فہم، شعور، ادراک اور اختیار کا کوئی ذکر نہیں ہے – بلکہ یہ سب مشاہدات سے علم میں آتا  ہے – جو کفار روح کے وجود کے قائل نہیں ان تک کو معلوم ہے کہ نیند اور بے ہوشی انسان کا شعور کس طرح محدود کرتے ہیں – قرآن میں نیند کے عمل کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ قبض روح یا
seize
ہو جانے کی وجہ سے نیند میں تعقل کم ہو جاتا ہے اور موت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نہ صرف قبض ہوتا ہے بلکہ فرشتے بھی استعمال ہوتے ہیں جو روح کو مکمل جسم سے الگ کر دیتے ہیں
وہ علماء جو عود روح کے قائل ہیں انہوں نے سورہ الزمر کی آیت میں تفسیر میں التباس پیدا کر دیا اور نیند میں قبض کو اخراج روح بنا دیا اور پھر کہا کہ موت کے بعد اگر روح واپس جسم میں آ بھی جائے تو یہ   میت  ہی  ہے – ابن رجب تفسیر میں کہتے ہیں
فلا ينافي ذلكَ أن يكونَ النائمُ حيًّا، وكذلك اتصالُ روح الميتِ ببدنه وانفصالها عنه لا يوجبُ أن يصيرَ للميتِ حياةً مطلقةً.
اس آیت سورہ الزمر سے نفی نہیں ہوتی کہ سونے والا زندہ ہے ، اسی طرح روح میت کے بدن سے جڑ جائے الگ ہو جائے تو یہ واجب نہیں ہو گا کہ مطلق زندگی ، میت کی ہو گئی

یعنی جس طرح نیند میں قبض نفس ہونے پر مردہ نہیں کہا جاتا اسی طرح قبر میں عود روح ہو جانے کے بعد زندہ نہیں کہا جا سکتا – گویا کہ نہ زندگی واضح ہے نہ موت واضح ہے – جو ان لوگوں کے نزدیک واضح ہے وہ صرف یہ کہ قبض نفس ہو رہا ہے

راقم کہتا ہے ان لوگوں نے آیات پر غور نہیں کیا ہے – قبض کا مطلب اخراج نہیں ہے اور سورہ الزمر میں صرف قبض کرنا بیان ہوا ہے اخراج کا ذکر نہیں ہے اور سورہ انعام میں موت پر اضافی اخراج کا ذکر بھی ہے جو فرشتوں سے کر وایا جا رہا ہے

قرآن میں موت کا لفظ اس دور پر بھی بولا گیا ہے جب جسم و روح اپس میں ملے بھی نہیں تھے
سورہ البقرہ آیت ٢٨ میں ہے

كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّـٰهِ وَكُنْتُـمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۖ ثُـمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُـمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُـمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ
تم اللہ کا کیونکر انکار کرسکتے ہو حالانکہ تم (اموات) بے جان تھے پھر تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر تم اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔

یہ تخلیق آدم کے اس دور کا ذکر ہے جب آدم علیہ السلام مٹی میں خمیر میں خلق ہو رہے تھے- ان کی روح بن چکی تھی لیکن ان کے جسم میں نہیں تھی – جسم اور روح جب الگ ہوں تو ان پر موت کا اطلاق کیا گیا ہے

اشاعرہ علماء ایک دور میں موت کی تعریف یوں ہی  کرتے تھے – راغب الأصفهانى (المتوفى: 502هـ) اپنی کتاب المفردات في غريب القرآن میں لکھتے ہیں کہ
وقوله: كُلُّ نَفْسٍ ذائِقَةُ الْمَوْتِ [آل عمران/ 185] فعبارة عن زوال القوّة الحيوانيَّة وإبانة الرُّوح عن الجسد
اور (الله تعالیٰ کا ) قول : : كُلُّ نَفْسٍ ذائِقَةُ الْمَوْتِ [آل عمران/ 185] پس یہ عبارت ہے قوت حیوانی کے زوال اور روح کی جسد سے علیحدگی سے

روح کا جسم سے الگ ہونا ایک دور تھا جب موت سمجھا جاتا تھا لیکن بعد میں لوگوں نے اس تعریف کو بدلا اور آیات کو ایسے پیش کیا کہ گویا ان آیات میں ابہام ہے جسم میں روح انے جانے کا نام موت نہیں ہے – ان لوگوں کو یہ اشکال بعض روایات سے پیدا ہوا ہے مثلا صحیح بخاری کتاب الدعوات حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
الحمد للّٰہ الذی احیانا بعد ما اماتنا و الیہ النشور
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جس نے ہمیں مرنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔

یہاں نیند کو مجازا موت کہا گیا ہے – البتہ فرقوں نے اس کو حقیقت سمجھ لیا کیونکہ وہ عود روح کی روایت قبول کر چکے تھے – نیند میں بھی ان کے نزدیک روح جسم سے نکل جاتی ہے اور اگر مرنے کے بعد واپس آ بھی جائے تو اس کو زندگی نہیں کہا جائے گا- راقم کہتا ہے یہاں حدیث میں مجازا نیند کو موت بولا گیا ہے اور اس طرح بولنا زبان و ادب میں عام ہے لیکن اس کو حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ قرآن میں نیند کو موت نہیں کہا گیا

صحیح البخاری بَابُ الأَذَانِ بَعْدَ ذَهَابِ الوَقْتِ میں أَبِي قَتَادَةَ رضی الله عنہ سے مروی ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نیند کے حوالے سے فرمایا
إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ
بے شک الله تعالی تمہاری روحوں کو قبض کرتا ہے جب چاہتا ہے اور لوٹاتا ہے جب چاہتا ہے

اس حدیث میں قبض روح سے مراد روح کا جسم سے نکلنا نہیں ہے بلکہ روح کا جسم میں ہی قبض مراد ہے – لیکن فرقوں نے اس قبض کو جسم سے اخراج نفس سمجھا اور اس سے یہ مطلب کشید کیا کہ سونے والے کو بھی مردہ کہا جاتا ہے

سنن ترمذی میں ہے
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ عَنْ فِرَاشِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ [ص:473] إِزَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ بَعْدُ، فَإِذَا اضْطَجَعَ فَلْيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَلْيَقُلْ: الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي، وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ ” وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَعَائِشَةَ،: ” وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الحَدِيثَ وَقَالَ: فَلْيَنْفُضْهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی تم میں سے اپنے بستر پر سے اٹھ جائے پھر لوٹ کر اس پر (لیٹنے، بیٹھنے) آئے تو اسے چاہیئے کہ اپنے ازار (تہبند، لنگی) کے (پلو) کونے اور کنارے سے تین بار بستر کو جھاڑ دے، اس لیے کہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد وہاں کون سی چیز آ کر بیٹھی یا چھپی ہے، پھر جب لیٹے تو کہے باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين اے میرے رب میں تیرا نام لے کر (اپنے بستر پر) اپنے پہلو کو ڈال رہا ہوں
یعنی سونے جا رہا ہوں، اور تیرا ہی نام لے کر میں اسے اٹھاؤں گا بھی، پھر اگر تو میری جان کو (سونے ہی کی حالت میں) روک لیتا ہے (یعنی مجھے موت دے دیتا ہے) تو میری جان پر رحم فرما، اور اگر تو سونے دیتا ہے تو اس کی ویسی ہی حفاظت فرما جیسی کہ تو اپنے نیک و صالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے پھر نیند سے بیدار ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ کہے الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد علي روحي وأذن لي بذكره تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے بدن کو صحت مند رکھا، اور میری روح مجھ پر لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت (اور توفیق) دی

اس کی سند میں ضعف ہے – سند میں محمد بن عجلان ہے جو مدلس ہے اور اس روایات کی تمام اسناد میں اس کا عنعنہ ہے

صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث ہے لیکن الفاظ رد روحی اس میں نہیں ہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فِرَاشَهُ فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَقُلْ: «بِاسْمِكَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ»

وہ علماء جو موت اور نیند کو ملاتے ہیں وہ صعق یا بے ہوشی کو بھول جاتے ہیں کہ بے ہوش شخص مردہ نہیں ہوتا اور نہ نیند میں ہوتا ہے  بلکہ  بے ہوشی میں فہم احساس شعور و ادراک  معطل ہونا ہے جبکہ کچی نیند میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اس پاس کیا ہو رہا ہے یعنی شعور موجود ہوتا ہے

 

2 thoughts on “موت و نیند پر التباس”

  1. “اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ”(سورة الزمر آیت42)

    سر کیا اس آیت میں موت اور نیند میں قبضِ نفس سے مُراد انسان کے فہم، شعور، ادراک اور اختیار کی صلاحیت کا معطل کردینا ہے؟

    1. Islamic-Belief says:

      اس کا ذکر میں نے بلاگ میں کیا ہے کہ یہاں نیند میں ان کی معطلی کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ یہ استخراج ہے دیگر مشاہدات سے اور دیگر نصوص سے

      کچی نیند کیا ہے ؟ اس میں انسان نیم سونے جیسی کیفیت میں ہے اور اس کوباہر کا ادارک بھی ہو رہا ہوتا ہے لیکن نیند کا غلبہ بھی ہوتا ہے
      موت پر جسم کا ادرک و شعور ختم ہوتا ہے روح کا نہیں
      قرآن میں ہے جب کافر کو موت آتی ہے تو کہتا ہے رب مجھ کو لوٹا دے یعنی روح کہتی ہے لوٹا دے

      یہ شعور ہے جو روح کو حاصل ہے روح کا کلام کرنا فرقے بھی تسلیم کرتے ہیں کیونکہ معراج میں آسمان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات جن انبیاء سے ہوئی وہ ان کے بزدیک حالت روح میں تھے اور کلام کر رہے تھے
      ہم اس کو برزخی جسم کہتے ہیں

      لہذا روح کا شعور برقرار ہے جسم کا موت پر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ آدم جب مٹی میں تھے تو ان میں زندگی نہیں تھی
      اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب میں آدم روح پھونکوں اس وقت سجدہ میں گر جانا
      یعنی اس لمحہ پر روح جسد آدم میں گئی ان کو زندہ سمجھا گیا ہے اس سے قبل مٹی کو نہیں
      اسی طرح جب روح نکال لی جسم سے الگ ہوئی تو اب آدم علیہ السلام کے جسم کا شعور ختم ہوا روح کا نہیں

      ———–

      نیند میں روح جسم میں ہی ہے اس سے نکلی نہیں ہے قرآن میں اس پر اخراج نہیں بولا گیا لہذا انسان نے خواب دیکھا جو شعور و لا شعور کے بیچ میں تھا
      جب اس کو گہری نیند آئی یعنی بے ہوشی طاری تو یاداشت بھی ختم ہو گئی نہ ماں باپ یاد رہے نہ کوئی اور- بے ہوشی میں کوئی خواب بھی نہیں اتا یعنی لا شعور بھی بند ہوا
      جو شخص بے ہوش ہوا ہو اس سے معلوم کریں کہ کیا اس نے بے ہوشی میں کسی شخص کو دیکھ جس کو وہ جانتا ہو ؟
      جواب نفی میں ہو گا
      ————-
      انبیاء پر نیند طاری ہوئی تو ان کا لاشعور بیدار رہا ان کو الوحی بھی ملی ان کا قلب جاگتا رہا یعنی ان کا لا شعور
      بیدار رہا
      اس کے برعکس عام آدمی کا خواب لا شعور سے اتا ہے
      ——–

      Hypnosis
      ایک علاج کا طریقہ ہے جب ڈاکٹر مریض کو سلا دیتا ہے اور اس سے سوال کرتا ہے – مریض اپنے بارے میں جواب دیتا ہے
      اس میں مقصد ہوتا ہے کہ جو لا شعور میں ہے اس کو نکالا جائے
      بندہ سو رہا ہے لیکن جواب حقیقت والے دے رہا ہے
      یہ سب سادہ باتیں نہیں ہیں جن کو محض سرسری تبصرے سے ختم کر دیا جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

2 × 3 =