منہج اصحاب رسول کا زوال

  بنو عباس کے بعد عالم اسلام کے  علاقوں پر چوتھی صدی ہجری میں رافضی اور باطنی ظلمت چھا چکی تھی – مراکش سے لے کر مصر تک  باطنی شیعہ  فاطمی ( عبیدی) خلافت (٢٦٩  ۔ ٥٦٦  ھ   = ٩٠٩  سے ١١٧١ ع ) قائم  ہو گئی تھی  جو ٢٦٢  سال رہی  ، یہاں تک کہ ملتان و سندھ  میں فاطمی خلیفہ المعز لدین اللہ معد بن اسماعیل (٣٤١  ۔ ٣٦٥ ھ) کا باقاعدہ خطبہ  پڑھا  جاتا تھا یعنی یہ علاقہ باطنی شیعوں کے کنٹرول  میں آ گیا تھا –  ملتان کے بہت سے مزار  اسی دور کے تعمیر کردہ  ہیں-  جزیرہ العرب کے مشرق  میں قرامطہ باطنی شیعوں  کا دوسرا گروہ پیدا ہوا  جن کا دور اقتدار  (۲۸۳ ۔ ۳۷۸ ھ) تک رہا  – عراق سے لے کر فارس، اصفہان، طبرستان اور جرجان تک رافضی ال بویہ  کی  امارت ٣٢٢ ھ  سے  ٤٥٤  ھ تک  قائم رہی-

یہاں تک کہ ملتان و سندھ میں فاطمی خلیفہ المعزلدین اللہ معد بن اسماعیل (٣٤١ ۔ ٣٦٥ ھ) کا باقاعدہ خطبہ پڑھا جاتا تھا یعنی یہ علاقہ باطنی شیعوں کے کنٹرول میں آ گیا تھا – ملتان کے بہت سے مزار اسی دور کے تعمیر کردہ ہیں
اس دوران اہل سنت جو عراق میں تھے ان میں حنابلہ میں پھوٹ پڑی رہتی تھی اور مسئلہ ایقاد النبی علی عرش پر قتل و غارت ہوتی – اس سے مراد ہے کہ روز محشر نبی کو عرش پر بٹھایا جائے گا یا نہیں اس میں حنابلہ  میں بحث چل رہی تھی
شمالی عراق اور جنوبِ شام پر بنو حمدان ٣٣٠ سے٤٠٤  ھ تک قابض رہے جو شیعی رجحان رکھتے تھے – اب چونکہ شیعہ یا رافضی ہونا فیشن کا حصہ بن چکا تھا ، امام حاکم نے محسوس کیا کہ صحیح بخاری و مسلم میں شیعی روایات درج نہیں کی گئیں – انہوں نے اپنے استدراک
Retractation

  A formal statement of disavowal: abjuration, palinode, recantation, retraction, withdrawal.

کو امت پر مستدرک الحاکم کے نام سے پیش کیا یعنی اپنا اجتجاج ریکارڈ کرایا کہ صحیح بخاری و مسلم میں جان بوجھ پر شیعہ منہج کی صحیح روایات درج نہیں کی گئیں
اس دوران اندلس میں حق کی آواز بلند ہوئی – امام ابن حزم نے ان عقائد پر سخت نکیر کی جو حنابلہ بغداد اور نیشاپوری امام حاکم پھیلا رہے تھے – ابن حزم نے حدیث عود روح کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا اور صحیح ڈالا

چوتھی صدی کے اواخر میں سلطان محمود غزنوی کو جہانگیریت کا شوق ہوا اور تاریخ فرشتہ میں ذکر ہے ان کو بہت سی فتوحات ملیں لیکن ان کا لشکر بھی مشرف تصوف کے سحر سے آلودہ تھا
راہ میں انے والے مزارت و صوفیاء کی تعظیم کرتے کرتے چلا اب چاہے وہ باطنی شیعہ ہوں جو صوفی بن گئے ہوں یا خاص سنی ہوں

پانچویں صدی میں سلجوقیوں نے خلافت قائم کی جو ٤٢٩ سے ٧٠٠ ھ تک رہی – اس میں شیعہ و باطنی حکومتوں کو ختم کیا گیا – ساتھ ہی مشرق وسطی میں داخل ہونے والے صلیبی نائٹ ٹیمپلر لشکر سے بھی سلجوقی لشکر نبرد آزما رہا – اس دوران سلطان نور الدین زنگی (٥٢١ – ٥٧٤ ھ ) نے قبر نبوی کے حوالے سے خواب دیکھا ، قبر کے گرد سیسہ پلائی دیوار تعمیر کی – اس کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی  نے  مالکی فقہ کو مملکت میں رائج کر دیا – ان کے رشتہ دار گورنر اربل نے عراق میں عید میلاد النبی کا غاز کیا – صلاح الدین کے حکم پر اذان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاة و سلام کا آغاز کیا گیا – يه بدعات نصرانیوں کے اثر کے خلاف جاری کی گئیں تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار کیا جا سکے
ابن جوزی نے اس دور میں حنابلہ بغداد کے اس گروہ کا سختی سے رد کیا جو تجسیم کی طرف مائل ہو چکا تھا یعنی قاضی ابو یعلی مصنف طبقات حنابلہ اور ابو بکر الخلال- ابن جوزی کا مخالف گروہ جو مجسمیہ ہو گیا تھا وہ متشابھات پر بحث کو عام کر رہا تھا

اس دور کے بعد  حاکموں کو قبر نبی پر گنبد بنانے کا خیال آیا – فصول من تاريخ المدينة المنورة جو علي حافظ کی کتاب ہے اور شركة المدينة للطباعة والنشر نے اس کو سن ١٤١٧ ھ میں چھاپا ہے اسکے مطابق

لم تكن على الحجرة المطهرة قبة، وكان في سطح المسجد على ما يوازي الحجرة حظير من الآجر بمقدار نصف قامة تمييزاً للحجرة عن بقية سطح المسجد. والسلطان قلاوون الصالحي هو أول من أحدث على الحجرة الشريفة قبة، فقد عملها سنَة 678 هـ، مربَّعة من أسفلها، مثمنة من أعلاها بأخشاب، أقيمت على رؤوس السواري المحيطة بالحجرة، وسمَّر عليها ألواحاً من الخشب، وصفَّحها بألواح الرصاص، وجعل محل حظير الآجر حظيراً من خشب. وجددت القبة زمن الناصر حسن بن محمد قلاوون، ثم اختلت ألواح الرصاص عن موضعها، وجددت، وأحكمت أيام الأشرف شعبان بن حسين بن محمد سنة 765 هـ، وحصل بها خلل، وأصلحت زمن السلطان قايتباي سنة 881هـ. وقد احترقت المقصورة والقبة في حريق المسجد النبوي الثاني سنة 886 هـ، وفي عهد السلطان قايتباي سنة 887هـ جددت القبة، وأسست لها دعائم عظيمة في أرض المسجد النبوي، وبنيت بالآجر بارتفاع متناه،….بعد ما تم بناء القبة بالصورة الموضحة: تشققت من أعاليها، ولما لم يُجدِ الترميم فيها: أمر السلطان قايتباي بهدم أعاليها، وأعيدت محكمة البناء بالجبس الأبيض، فتمت محكمةً، متقنةً سنة 892 هـ. وفي سنة 1253هـ صدر أمر السلطان عبد الحميد العثماني بصبغ القبة المذكورة باللون الأخضر، وهو أول من صبغ القبة بالأخضر، ثم لم يزل يجدد صبغها بالأخضر كلما احتاجت لذلك إلى يومنا هذا. وسميت بالقبة الخضراء بعد صبغها بالأخضر، وكانت تعرف بالبيضاء، والفيحاء، والزرقاء” انتهى.

حجرہ مطهرہ پر کوئی گنبد نہ تھا، اور حجرہ مطهرہ کو باقی مسجد سے علیحدہ کرنے کے لئے سطح مسجد سے آدھے قد کی مقدار تک ایک منڈھیر بنی ہوئی تھی. اور سلطان قلاوون الصالحي وہ پہلا شخص ہے جس نے حجرہ مطهرہ پر سن 678 هـ (بمطابق 1279ء )، میں گنبد بنایا، جو نیچے سے چکور تھا ، اوپر سے آٹھ حصوں میں تھا جو لکڑی کےتھے. … پھر اس کی الناصر حسن بن محمد قلاوون کے زمانے میں تجدید ہوئی. .. پھر سن 765 هـ، میں الأشرف شعبان بن حسين بن محمد کے زمانے میں پھر اس میں خرابی ہوئی اور السلطان قايتباي کے دور میں سن 881هـ میں اس کی اصلاح ہوئی. پھر سن 886 هـ میں اور السلطان قايتباي کے دور میں مسجد النبی میں آگ میں گنبد جل گیا. اور سن 887هـ میں اور السلطان قايتباي ہی کے دور میں اس کو دوبارہ بنایا گیا…. سن 892 ھ میں اس کو سفید رنگ کیا گیا … سن 1253هـ میں السلطان عبد الحميد العثماني نے حکم دیا اور اس کو موجودہ شکل میں سبز رنگ دیا گیا. … اور یہ گنبد البيضاء (سفید)، الفيحاء ، والزرقاء (نیلا) کے ناموں سے بھی مشھور رہا

سعودی عرب کے مفتی عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ) اپنے فتویٰ میں کہتے ہیں جو کتاب فتاوى اللجنة الدائمة – المجموعة الأولى میں چھپاہے اور اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء نے چھاپا ہے

لأن بناء أولئك الناس القبة على قبره صلى الله عليه وسلم حرام يأثم فاعله

ان لوگوں کا قبر نبی صلى الله عليه وسلم پر گنبد بنانا حرام کام تھا اس کا گناہ اس کے بنانے والوں کے سرہے

تعمیر گنبد کے اس زمانے میں امام ابن تیمیہ حیات تھے لیکن انہوں نے اس پر توقف کی راہ لی

اس طرح یہ تمام ادوار خیر القرون سے دور تھے – افسوس ابن تیمیہ وغیرہ نے بہت سی دمشقی عقائد اختیار کر لئے تھے مثلا شیطان و انسان کی اپس میں شادی ان کے نزدیک ممکن تھی – وہ سماع الموتی کا عقیدہ رکھتے اور فتووں میں وہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو ضروری علم سے لا علم بتاتے تھے – وہ قبر پر قرآن پڑھنے کے قائل تھے اور ساتھ ہی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ نبی قبر میں اذان دیتے ہیں اور قبر پر کہا جانے والا درود سنتے ہیں – یہ اس دور کا فیشن تھا جس کو سلف کا مذھب کہہ کر اہل سنت میں پھیلایا جا رہا تھا

قبور سے مسلمانوں کا شغف بڑھ رہا تھا – قبوری کلچر کی جڑوں کی آبیاری وہ کر رہے تھے جو سلف کے متبع بنتے تھے –
امام نووی نے ساتویں صدی میں اور ابن حجر نے دسویں ہجری میں  اشاعرہ کے مھنج پر مسئلہ صفات کو بیان کیا

منہج اہل سنت میں بدعتی افکار داخل ہو چکے تھے – صوفی یا اپنے رب کو ہر مقام پر ماننے والے بھی سنی تھے – تجسیم الہی کے قائل بھی سنی تھے – حنبلیوں میں منہجِ اصحاب رسول کی بجائے منہج سلف مشہور ہو چلا تھا جس سے مراد ابن تیمیہ کا لٹریچر تھا –
اس طرح دو گروہ ہو چکے تھے ایک کشف و عرفان والے ہوئے اور ایک روایت پسند ہوئے – اگر کسی مسئلہ میں صحیح سند روایت نہ ہو تو پھر روایت پسندوں کے ہاں اکتساب علم و عقیدہ میں ضعیف حدیث کا بھی وہی درجہ تھا جو صحیح کا تھا – اس سے صحیح عقیدہ دھندلا گیا تھا اور باقی انسانوں کو شور ڈالنے کی عادت تو شروع سے ہے لہذا انہوں نے اپنے عقیدہ کو خوب منبروں سے پھیلایا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

sixteen + 2 =