قاب قوسین

سورہ النجم میں ہے

غالی بریلوی  ترجمہ

https://www.minhajsisters.com/urdu/tid/37060/واقعہ-معراج-النبی-صلیٰ-اللہ-علیہ-وآلہ-وسلم-قرآن-و-حدیث-اور-سیرت-کی-روشنی-میں/

 

ترجمہ صحیح آیت آیت نمبر
یہ تو وحی ہے جو اس پر آتی ہے۔ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوحٰى ٤
بڑے طاقتور   نے اسے سکھایا ہے عَلَّمَهٝ شَدِيْدُ الْقُوٰى ٥
پھر اُس (جلوہِ حُسن) نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایا۔ جو بڑا زور آور ہے پس وہ قائم ہوا ذُوْ مِرَّةٍ فَاسْتَوٰى ٦
اور وہ (محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے (یعنی عالَمِ خلق کی انتہاء پر تھے) اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے پر تھا وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ٧
پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ پھر نزدیک ہوا پھر معلق ہوا۔ ثُـمَّ دَنَا فَتَدَلّـٰى ٨
پھر (جلوۂِ حق اور حبیبِ مکرّم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میںصِرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہوگیا) پھر فاصلہ دو کمان کے برابر تھا یا اس سے بھی کم۔ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ٩
پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی پھر اس نے اللہ کے بندے کے دل میں القا کیا جو کچھ القا کیا دل نے۔ فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى ١٠
 جو دیکھا تھا اس کو  جھوٹ دل نے نہ کیا ۔ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى ١١
پھر جو کچھ اس نے دیکھا تم اس میں جھگڑتے ہو۔ اَفَتُمَارُوْنَهٝ عَلٰى مَا يَرٰى ١٢
اور اس نے اس کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے۔ وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَـةً اُخْرٰى ١٣
سدرۃ المنتہٰی کے پاس۔ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْـتَهٰى ١٤
جس کے پاس جنت الماوٰی ہے۔ عِنْدَهَا جَنَّـةُ الْمَاْوٰى ١٥

سورہ تکویر میں ہے

اِنَّهٝ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ (19)
بے شک یہ قرآن ایک معزز رسول کا لایا ہوا ہے۔
ذِىْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِى الْعَرْشِ مَكِيْنٍ (20)
جو بڑا طاقتور ہے عرش کے مالک کے نزدیک بڑے رتبہ والا ہے۔
مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ (21)
وہاں کا سردار امانت دار ہے۔
وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُـوْنٍ (22)
اور تمہارا رفیق (رسول) کوئی دیوانہ نہیں ہے۔
وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ (23)
اور اس نے اس (فرشتہ) کو (آسمان کے) کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے۔

معلوم ہوا کہ جبریل کو دو بار دیکھا ایک افق مبین پر پھر دوسری بار سِدْرَةِ الْمُنْـتَهٰى پر جس کا ذکر سورہ نجم میں کیا گیا کہ اس نے اسی ذات کو دو بار دیکھا ہے

امام بخاری کا موقف

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ الأَشْوَعِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَأَيْنَ قَوْلُهُ {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: 9] قَالَتْ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ [ص:116] الرَّجُلِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ المَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الأُفُقَ

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الكُبْرَى} [النجم: 18] قَالَ: «رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ قَدْ سَدَّ الأُفُقَ»

امام بخاری نے ابن مسعود اور عائشہ رضی اللہ عنہما کا قول بیان کیا کہ  قاب قوسین میں ذکر جبریل علیہ السلام  کا ہے  لیکن صحیح بخاری  کے آخر میں کتاب التوحید میں امام بخاری نے شریک بن عبد الله کی سند سے روایت لا کر اپنا ایک اور  موقف بتایا ہے کہ  سورہ نجم کی آیات میں قاب قوسین  میں  قریب آنے سے مراد الله تعالی کا ذکر ہے

، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَلَا بِهِ فَوْقَ ذَلِكَ بِمَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى جَاءَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى، ‏‏‏‏‏‏وَدَنَا لِلْجَبَّارِ رَبِّ الْعِزَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَدَلَّى، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى كَانَ مِنْهُ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى، ‏‏‏‏‏‏فَأَوْحَى اللَّهُ فِيمَا أَوْحَى إِلَيْهِ خَمْسِينَ صَلَاةً عَلَى أُمَّتِكَ

۔ پھر جبرائیل علیہ السلام انہیں لے کر اس سے بھی اوپر گئے جس کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں یہاں تک کہ آپ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے کر آئے اور رب العزت اللہ تبارک وتعالیٰ سے قریب ہوئے اور اتنے قریب جیسے کمان کے دونوں کنارے یا اس سے بھی قریب۔ پھر اللہ نے اور دوسری باتوں کے ساتھ آپ کی امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کی وحی کی

البانی کا قول  ہے

لكن هذه الجملة من جملة ما أُنكر على شريك هذا مما تفرد به عن جماهير الثقات الذين رووا حديث المعراج، ولم ينسبوا الدنو والتدلي لله تبارك وتعالى

لیکن یہ وہ جملہ ہے جس کی وجہ سے شریک کی حدیث کا انکار کیا جاتا ہے کہ جمہور ثقات کے مقابلے میں شریک کا اس حدیث معراج میں  تفرد ہے اور دنو (نیچے انے )  اور تدلی (معلق ہونے ) کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی جاتی

اغلبا امام  بخاری کا مقصد ہے کہ اللہ تعالی خواب میں  قریب آئے اور جبریل حقیقت میں  قریب آئے پھر  الوحی کی اگرچہ اللہ کو دیکھا نہیں  کیونکہ الصحیح  میں دوسرے مقام پر عائشہ رضی اللہ عنہا  سے مروی حدیث نقل کی ہے کہ  اللہ تعالی کو نہیں دیکھا بلکہ جبریل کو دیکھا – و اللہ اعلم

راقم کے نزدیک یہ امام بخاری کی غلطی ہے شریک کی روایت صحیح نہیں منکر و منفرد  ہے

امام مسلم کا موقف

امام مسلم کا موقف  ہے کہ قاب قوسین سے مراد  جبریل کا اصلی شکل میں  قریب آنا ہے زمین میں افق پر اور پھر سدرہ المنتہی کے پاس

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ؟ {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى} [النجم: 9] قَالَتْ: ” إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرِّجَالِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ فِي هَذِهِ الْمَرَّةِ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ

اہل تشیع کی شروحات

اہل تشیع کے قدماء کے  مطابق قاب قوسین سے مراد حجاب عظمت کے نور کا قریب آنا ہے – الکافی از کلینی میں ہے

عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن الحسين بن سعيد، عن القاسم بن محمد الجوهري، عن علي بن أبي حمزة قال: سأل أبوبصير أبا عبدالله عليه السلام وأنا حاضر فقال: جعلت فداك كم عرج برسول الله صلى الله عليه وآله؟ فقال: مرتين فأوقفه جبرئيل موقفا فقال له: مكانك يا محمد فلقد وقفت موقفا ما وقفه ملك قط ولا نبي، إن ربك يصلي فقال: يا جبرئيل وكيف يصلي؟ قال: يقول: سبوح قدوس أنا رب الملائكة و الروح، سبقت رحمتي غضبي، فقال: اللهم عفوك عفوك، قال: وكان كما قال الله ” قاب قوسين أو أدنى “، فقال له أبوبصير: جعلت فداك ما قاب قوسين أو أدنى؟ قال: ما بين سيتها(1) إلى رأسها فقال: كان بينهما حجاب يتلالا يخفق(2) ولا أعلمه إلا وقد قال: زبرجد، فنظر في مثل سم الابرة(3) إلى ما شاء الله من نور العظمة، فقال الله تبارك وتعالى: يا محمد، قال: لبيك ربي قال: من لامتك من بعدك؟ قال: الله أعلم قال: علي بن أبي طالب أمير المؤمنين وسيد المسلمين وقائد الغر المحجلين(4) قال ثم قال أبوعبدالله لابي بصير: يا أبا محمد والله ما جاء ت ولاية علي عليه السلام من الارض ولكن جاء ت من السماء مشافهة.

أبوبصير نے امام جعفر سے سوال کیا اور میں علی بن ابی حمزہ سن رہا تھا کہ رسول الله  صلى الله عليه وآله کو کتنی بار معراج ہوئی؟ فرمایا دو بار[1] جن میں جبریل نے ان کو روکا اور کہا یہ مکان ہے اے محمد اس مقام پر رکیں یہاں اس سے قبل کوئی نبی اور فرشتہ نہیں رکا ہے اپ کا رب نماز پڑھ رہا ہے تو  رسول الله  صلى الله عليه وآله نے جبریل سے پوچھا کیسے نماز پڑھ رہا ہے ؟ جبریل نے کہا وہ کہتا ہے میں پاک ہوں قدوس ہوں میں فرشتوں اور الروح کا رب ہوں میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی – پس رسول الله  صلى الله عليه وآله نے کہا اے الله  میں اپ کی مغفرت چاہتا ہوں – (امام جعفر  نے) کہا : پھر جیسا الله نے ذکر کیا ہے دو کمانوں جتنا یا اس سے بھی کم- ابو بصیر نے کہا : میں اپنے اپ کو اپ پر قربان کروں! یہ دو کمانوں جتنا یا اس سے بھی کم کیا ہے ؟ فرمایا یہ ان کے “سيت” اور سر کے درمیان تھا اور کہا ایک حجاب تھا جو ہل رہا تھا اور میں اس سے زیادہ نہیں جانتا یہ  زبرجد کا تھا پس انہوں (رسول الله  صلى الله عليه وآله) نے سوئی کی نوک جتنا سے لے کر جو الله نے چاہا اتنا نور عظمت دیکھا  – پس الله تبارک و تعالی نے فرمایا : اے محمد – رسول الله  صلى الله عليه وآله نے کہا لبیک میرے رب – اللہ تعالی نے کہا تیرے بعد تیری  امت میں کون ہے ؟ رسول الله  صلى الله عليه وآله نے کہا علي بن أبي طالب أمير المؤمنين وسيد المسلمين وقائد الغر المحجلين – پھر امام جعفر نے کہا علی کی ولایت زمین میں نہیں بلکہ آسمان میں صاف الفاظ میں آئی 

لسان العرب از ابن منظور میں ہے  وطاقُ الْقَوْسِ: سِيَتُها    کمان کی محراب کو سیت کہتے ہیں  –

كتاب العين از أبو عبد الرحمن الخليل بن أحمد بن عمرو بن تميم الفراهيدي البصري (المتوفى: 170هـ) میں ہے

 ويَدُ القَوْسِ: سِيَتُها کمان پکڑنے کا دستہ

یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر کمان اس کی “سیت”   پکڑے ہوتے اور اس کو آسمان یا عالم بالا کی طرف کیا ہوتا تو حجاب  “سیت” سے بھی نیچے آ گیا تھا اور اس میں سے نور عظمت دیکھا

بحار الأنوار از  ملا باقر مجلسی میں ہے

محمد بن العباس، عن أحمد بن محمد النوفلي، عن أحمد بن هلال، عن ابن محبوب، عن ابن بكير، عن حمران قال: سألت أبا جعفر (عليه السلام) عن قول الله عزوجل في كتابه: ” ثم دنافتدلى * فكان قاب قوسين أو أدنى ” فقال: أدنى الله محمدا منه، فلم يكن بينه وبينه إلا قنص لؤلؤ فيه فراش (3)، يتلالا فاري صورة، فقيل له: يا محمد أتعرف هذه  الصورة ؟ فقال: نعم هذه صورة علي بن أبي طالب، فأوحى الله إليه أن زوجة فاطمة واتخذه وصيا

امام جعفر نے کہا جب الله تعالی اور رسول الله کے درمیان دو کمان سے بھی کم رہ گیا تو ان کو صورتیں دکھائی گئیں  اور پوچھا کیا ان کو پہچانتے ہو ؟ فرمایا ہاں یہ علی کی صورت ہے  پھر الوحی کی کہ ان کی بیوی فاطمہ ہوں گی اور علی کی وصیت کرنا

تفسیر فرات میں ہے

فرات قال: حدثنا جعفر بن أحمد معنعنا [ عن عباد بن صهيب عن جعفر بن محمد عن أبيه ] عن علي بن الحسين: عن فاطمة [ بنت محمد.أ، ب.عليهم السلام.ر ] قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: لما عرج بي إلى السماء فصرت إلى سدرة المنتهى (فكان قاب قوسين أو أدنى) فرأيته بقلبي ولم أره بعيني، سمعت الاذان قالوا: شهدنا وأقررنا، قال: واشهدوا يا ملائكتي وسكان سماواتي وأرضي وحملة عرشي بأن عليا وليي وولي رسولي وولي المؤمنين.قالوا: شهدنا وأقررنا

عباد بن صهيب نے روایت کیا …. فاطمہ سے انھوں نے اپنے باپ نبی صلی الله علیہ و الہ سے کہ جب میں آسمان پر بلند ہوا تو سدرہ المنتہی تک گیا پس وہ دو کمانوں سے بھی کم پر قریب آیا میں نے اس کو قلب سے دیکھا آنکھ سے نہ دیکھا اور  کانوں نے سنا ہم نے اقرار کیا گواہ ہوئے اور  الله نے کہا اے فرشتوں گواہ ہو جاؤ اور اے آسمان کے باسیوں اور زمین کے اور عرش کو اٹھانے والے کہ علی میرے ولی ہیں اور رسول اور مومنوں کے – ان سب نے کہا ہم نے اقرار کیا گواہ ہوئے

راقم کہتا ہے سند میں عباد بن صهيب ہے جو اہل سنت میں متروک ہے اور شیعوں میں ثقہ ہے

شیعہ کتاب بحار الانور از مجلسی (بحار الأنوار / جزء 3 / صفحة ٣١٥ )  میں روایت ہے

ع: أبي، عن سعد، عن ابن عيسى، عن ابن محبوب، عن مالك بن عيينة (2) عن حبيب السجستاني قال: سألت أبا جعفرعليه السلام عن قوله عزوجل: ” ثم دنى فتدلى فكان قاب قوسين أو أدنى فأوحى إلى عبدهاقرأ: ثم دنى فتدانا فكان قاب قوسين أو أدنى، فأوحى الله إلى عبده يعني رسول الله صلى الله عليه وآله ما أوحى، يا حبيب إن رسول الله صلى الله عليه وآله لما فتح مكة أتعب نفسه في عبادة الله عزوجل والشكر لنعمه في الطواف بالبيت وكان علي عليه السلام معه فلما غشيهم الليل انطلقا إلى الصفا والمروة يريدان السعي، قال: فلما هبطا من الصفا إلى المروة وصارا في الوادي دون العلم الذي رأيت غشيهما من السماء نور فأضاءت هما جبال مكة، وخسأت أبصارهما، (1) قال: ففزعا لذلك فزعا شديدا، قال: فمضى رسول الله صلى الله عليه وآله حتى ارتفع من الوادي، وتبعه علي عليه السلام فرفع رسول الله صلى الله عليه وآله رأسه إلى السماء فإذا هو برمانتين على رأسه، قال: فتناولهما رسول الله صلى الله عليه وآله فأوحى الله عزوجل إلى محمد: يا محمد إنها من قطف الجنة فلا يأكل منها إلا أنت ووصيك علي بن أبي طالب عليه السلام، قال: فأكل رسول الله صلى الله عليه وآله إحديهما، وأكل علي عليه السلام الاخرى ثم أوحى الله عزوجل إلى محمد صلى الله عليه وآله ما أوحى. قال أبو جعفر عليه السلام: يا حبيب ” ولقد رآه نزلة اخرى عند سدرة المنتهى عندها جنة المأوى ” يعني عندها وافا به جبرئيل حين صعد إلى السماء، قال: فلما انتهى إلى محل السدرة وقف جبرئيل دونها وقال: يا محمد إن هذا موقفي الذي وضعني الله عزوجل فيه، ولن أقدر على أن أتقدمه، ولكن امض أنت أمامك إلى السدرة، فوقف عندها، قال: فتقدم رسول الله صلى الله عليه وآله إلى السدرة وتخلف جبرئيل عليه السلام، قال أبو جعفر عليه السلام: إنما سميت سدرة  المنتهى لان أعمال أهل الارض تصعد بها الملائكة الحفظة إلى محل السدرة، و الحفظة الكرام البررة دون السدرة يكتبون ما ترفع إليهم الملائكة من أعمال العباد في الارض، قال: فينتهون بها إلى محل السدرة، قال: فنظر رسول الله صلى الله عليه وآله فرأى أغصانها تحت العرش وحوله، قال: فتجلى لمحمد صلى الله عليه وآله نور الجبار عزوجل، فلما غشي محمدا صلى الله عليه وآله النور شخص ببصره، وارتعدت فرائصه، قال: فشد الله عزوجل لمحمد قلبه و قوى له بصره حتى رأى من آيات ربه ما رأى، وذلك قول الله عزوجل: ” ولقد رآه نزلة اخرى عند سدرة المنتهى عندها جنة المأوى ” قال يعني الموافاة، قال: فرأي محمد صلى الله عليه وآله ما رأى ببصره من آيات ربه الكبرى، يعني أكبر الآيات

حبيب السجستاني کہتے ہیں میں نے امام جعفر سے (سورہ النجم)  پر سوال کیا اپ نے فرمایا الله تعالی نے نبی صلی الله علیہ وسلم پر الوحی کی … یعنی سدرہ المنتہی کے پاس جبریل وہاں آسمان پر چڑھے سدرہ کے پاس اور کہا جب سدرہ کے مقام پر پہنچے تو رک گئے اور کہا اے محمد یہ میرے رکنے کا مقام ہے جو الله تعالی نے میرے لئے بنایا ہے اور میں اس پر قدرت نہیں رکھتا کہ آگے جا سکوں لیکن اپ سدرہ سے آگے جائیے اور وہاں رک جائیں- امام جعفر نے کہا پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم آگے بڑھے سدرہ سے اور جبریل کو پیچھے چھوڑ دیا … پس وہاں عرش کے نیچے دیکھا اور اس کے گرد پس وہاں محمد صلی الله علیہ و الہ پر نور جبار تجلی ہوا جس سے اپ پر نیند طاری ہوئی  … پس الله تعالی نے اپ کا دل مضبوط کیا اور بصارت قوی کی یہاں تک کہ اپ نے آیات الله دیکھیں جو دیکھیں

یعنی اہل تشیع کے ہاں یہ بات قبول کی جاتی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سدرہ المنتہی سے آگے گئے اور وہاں خاص الوحی ہوئی جس میں علی  کا ذکر تھا – خیال رہے کہ سند میں مالك بن عيينة  ایک مجھول ہے جس کا ذکر کتب رجال شیعہ میں نہیں ملا

شیعہ  علامہ  جوادی کا  ترجمہ و جدید  شرح

جدید شروحات میں ان اقوال کو رد کیا گیا ہے مثلا علامہ جوادی کا ترجمہ و شرح ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

sixteen − ten =