عقيدة الرازيين

امام ابو زرعہ الرازی اور امام ابو حاتم الرازی  نیشاپور  فارس کے  دو ممتاز محدثین تھے جن کے نزدیک ان کے دور کے  دیگر محدثین نے بھی علم حدیث اور علم جرح و تعدیل میں غلطیاں کی تھیں –  ان ائمہ نے باقاعدہ امام بخاری کی علم جرح و تعدیل میں غلطیوں پر کتاب لکھی اور ان کے نزدیک کتاب صحیح مسلم نہیں لکھی جانی چاہیے تھی کیونکہ اس میں غیر صحیح روایات آ گئی ہیں

 حنبلییوں  یا سلفیوں  نے ان  ائمہ کو   اپنا ہم عقیدہ قرار دینے کے لئے ان کے حوالے سے ایک اقتباس گھڑا ہے جس کا ذکر پانچویں صدی ہجری سے ہونا شروع ہوا

اس اقتباس کی تین اسناد  ملی ہیں

پہلی سند

کتاب  قمع الدجاجلة الطاعنين في معتقد أئمة الإسلام الحنابلة از عبد العزيز بن فيصل الراجحي میں دعوی کیا گیا ہے کہ الحافظ أبو العلاء الهمذاني  نے اپنی کتاب اپنی کتاب میں امام ابی حاتم کا عقیدہ پیش کیا ہے

قال الحافظ أبو العلاء الهمذاني (ت 569 هـ) قي ” فتواه في ذكر الاعتقاد وذم الاختلاف ” (ص 90 – 91) : (فصل في ذكر الاعتقاد الذي أجمع عليه علماء البلاد) .ثم روى بسنده الصحيح إلى الإمام الحافظ أبي محمد عبد الرحمن بن أبي حاتم (ت 327 هـ) قال: (سألت أبي وأبا زرعة – رضي الله عنهما -: عن مذاهب أهل السنة، وما أدركا عليه العلماء في جميع الأمصار: حجازا، وعراقا، ومصر، وشاما، ويمنا؟ فكان من مذهبهم:

* أن الإيمان قول، وعمل، يزيد، وينقص.

* والقرآن كلام الله غير مخلوق بجميع جهاته) .

ثم ذكر بقية معتقدهما، إلى أن قالا (ص 93) :

* (وأن الجهمية كفار.

* والرافضة رفضوا الإسلام.

* والخوارج مراق.

* ومن زعم أن القرآن مخلوق: فهو كافر كفرا ينقل عن الملة.

* ومن شك في كفره ممن يفهم: فهو كافر.

* ومن شك في كلام الله، فوقف فيه شاكا يقول: لا أدري مخلون أو غير مخلوق: فهو جهمي.

* ومن وقف في القرآن جاهلا: علم، وبدع، ولم يكفر

ومن قال: لفظي بالقرآن مخلوق، أو القرآن بلفظي مخلوق: فهو جهمي) اهـ.

وممن كفر القائلين بخلق القرآن، جماعات – ذكر كثيرا منهم:

عبد العزيز بن فيصل الراجحي نے دعوی کیا کہ اس کی سند صحیح ہے-

أخبرنا الشيخ الجليل الزاهد الثقة أبو الحسين المبارك بن عبد الجبار بن أحمد بن القاسم قال: أخبرنا الشيخ أبو إسحاق إبراهيم بن عمر بن أحمد البرمكي، وأبو بكر محمد بن عبد الملك بن بشران، قالا: حدثنا أبو الحسن علي بن عبد العزيز بن مردك بن أحمد البرذعي قال: أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن أبي حاتم – أسعده الله ورضي عنه – قال:

یہ سند نامکمل ہے –

دوسری سند

کتاب شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة از  أبو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور الطبري الرازي اللالكائي (المتوفى: 418هـ) میں ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْمُقْرِئُ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ  مُحَمَّدِ بْنِ حَبَشٍ الْمُقْرِئُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ , قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْ مَذَاهِبِ أَهْلِ السُّنَّةِ فِي أُصُولِ الدِّينِ , وَمَا أَدْرَكَا عَلَيْهِ الْعُلَمَاءَ فِي جَمِيعِ الْأَمْصَارِ , وَمَا يَعْتَقِدَانِ مِنْ ذَلِكَ , فَقَالَا

اس سند میں  الْحُسَيْنُ بْنُ  مُحَمَّدِ بْنِ حَبَشٍ الْمُقْرِئُ  مجہول الحال ہے

تیسری سند

كتاب أصل السنة واعتقاد الدين از أبو إسحاق إبراهيم بن عمر بن أحمد البرمكي المتوفي: 445 هـ میں ہے

 سند ہے

قال أخبرنا أبو زيد … (1) قراءة عليه، قال: أخبرنا الشيخ أبو طالب عبد القادر بن محمد بن عبد القادر بن محمد بن يوسف، قراءة عليه وهو يسمع وأنا أسمع، فأقر به، قال: أخبرنا الشيخ أبو إسحاق إبراهيم بن عمر بن أحمد البرمكي، رحمه الله، قال: حدثنا أبو الحسن علي بن عبد العزيز بن مردك بن أحمد البرذعي، قال: أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن أبي حاتم، أسعده الله ورضي عنه، قال

 سألت أبی   و أبا زرعۃ   رضی اللّٰہ عنہما عن مذاھب أھل[السنۃ] فی أصول الدین ، وما أدر کا علیہ العلماء فی جمیع الأمصار ، وما یعتقدان من ذلک ، فقالا : أدرکنا العلماء فی جمیع الأ مصار حجازًا وعراقًا ومصرًا وشامًا ویمنًا ، فکان من مذھبھم :

  أبو زید   مجہول ہے جس    کا نام تک معلوم نہیں اور نہ حفظ کا پتا ہے نہ ضبط کا

متن

البتہ متن ہے

امام ابو محمد عبدالرحمٰن ابی حاتم الرازی رحمہ اللہ نے فرمایا : میں نے اپنے والد(ابو حاتم الرازی) اور ابوزرعہ (الرازی) رحمہما اللہ سے اصول دین میں مذاہبِ اہل سنت کے بارے میں پوچھا اور (یہ کہ )انھوں نے تمام شہروں کے علماء کو کس(عقیدے) پر پایا ہے اور آپ دونوں کا کیا عقیدہ ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا : ہم نے حجاز، عراق، مصر، شام اور یمن کے تمام شہروں میں علماء کو اس (درج ذیل) مذہب پر پایا:

(۱)۔ إن الإيمان قول وعمل، يزيد وينقص۔

بے شک ایمان قول و عمل(کا نام) ہے (اور یہ) زیادہ ہوتا ہے اور کم ہوتا ہے۔

(۲)۔ والقرآن كلام الله غير مخلوق بجميع جهاته۔

قرآن الکریم ہر لحاظ سے اللہ سبحانہ وتعالٰی کا کلام ہے، مخلوق نہیں ہے۔

(۳)۔ والقدر خيره وشره من الله [عز وجل]۔

اچھی اور بری تقدیر، اللہ سبحانہ وتعالٰی کی طرف سے ہے۔

(۴)۔ وخير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر الصديق، ثم عمر بن الخطاب، ثم عثمان بن عفان، ثم علي بن ابی طالب رضي الله عنهم

وهم الخلفاء الراشدون المهديون۔

نبی اکرم ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے بہتر ابو بکر صدیق ہیں پھر عمر بن الخطاب، پھر عثمان بن عفان، پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنھم اور یہی خلفاء راشدین مہدیین ہیں۔

(۵)۔ وأن العشرة الذين سماهم رسول الله ﷺ وشهد لهم بالجنة على ما شهد بہ، وقوله الحق۔

عشرہ (مبشرہ) جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جنتی ہونے کی گواہی دی ہے (ہمارے نزدیک) وہ جنتی ہیں اور آپ ﷺ کی بات حق ہے۔

(۶)۔ والترحم على جميع أصحاب محمد ﷺ ، والكف عما شجر بينهم۔

محمد ﷺ کے تمام صحابہ کے بارے میں رحمت(اور رضی اللہ عنھم) کی دعا مانگنی چاہئے اور ان کے درمیان جو اختلافات تھے ان کے بارے میں سکوت کرنا چاہئے۔

(۷)۔ وأن الله عزوجل علٰى عرشه بائن من خلقه، كما وصف نفسه في كتابه على لسان رسوله [ﷺ] ، بلا كيف ، أحاط بكل شيء علما.

ليس كمثله شيء وهو السميع البصير۔

اللہ سبحانہ وتعالٰی اپنے عرش پر بغیر(سوال) کیفیت(مستوی) ہے، اپنی مخلوق سے(بلحاظِ ذات) جدا ہے جیسا کہ اس نے اپنی کتاب(قرآن الکریم) میں اور رسول اللہ ﷺ کی زبان(مبارک پر) بیان فرمایا ہے۔ اس نے ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔

(۸)۔ والله تبارك وتعالى يُرى في الآخرة، ويراه أهل الجنة بأبصارهم ويسمعون كلامه كيف شاء وكما شاء۔

اللہ سبحانہ وتعالٰی آخرت میں نظر ائے گا، جنتی لوگ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے(اسی کا) کام ہے جیسے چاہے اور جب چاہے۔

(۹)۔ والجنة[ حق]، والنار حق، وهما مخلوقتان [لا يفنيان أبدًا] : فالجنة ثواب لأوليائه، والنار عقاب لأهل معصيته، إلا من رحم۔

جنت حق ہے، جہنم حق ہے، اور یہ دونوں مخلوق ہیں کبھی فنانہ ہوں گی، اللہ سبحانہ وتعالٰی کے دوستوں کے لئے جنت کا بدلہ ہے، اور ان کے نافرمانوں کے لئے جہنم کا عذاب ہے سوائے ان کے جن پر وہ(اللہ سبحانہ وتعالٰی) رحم رفرمائے۔

(۱۰)۔ والصراط حق۔

(پل) صراط حق ہے۔

(۱۱)۔ والميزان [الذي] له كفتان يوزن فيه أعمال العباد حسنها وسيئها حق ۔

میزان(ترازو) کے دو پلڑے ہیں جن میں بندوں کے اچھے اور بُرے اعمال تولے چائیں گے۔

(۱۲)۔ والحوض المكرم به نبينا ﷺحق والشفاعة حق۔

نبی اکرمﷺ کا حوض کوثر حق ہے، اور شفاعت حق ہے۔

(۱۳)۔ وأن ناسًا من أهل التوحيد يخرجون من النار بالشفاعة حق۔

اہل توحید(مسلمانوں) میں سے (بعض) لوگوں کا (آپﷺ کی) شفاعت کے زریعے سے (جہنم کی) آگ سے نکلنا حق ہے۔

(۱۴)۔وعذاب القبر حق ۔

عذابِ قبر حق ہے۔

(۱۵)۔ ومنكر ونكير [حق]۔

منکر و نکیر (قبر میں سوال و جواب والے فرشتے) حق ہیں۔

(۱۶)۔ والكرام الكاتبون حق۔

کرامًا کاتبین (اعمال لکھنے والے فرشتے) حق ہے۔

(۱۷)۔ والبعث بعد الموت حق۔

موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا حق ہے۔

(۱۸)۔ وأهل الكبائر في مشيئة الله عز وجل ، لا نكَّفر أهل القبلة بذنوبهم ، ونكل سرائرهم إلى الله عز وجل۔

کبیرہ گناہ کرنے والوں کا معاملہ اللہ سبحانہ وتعالٰی کی مشیت(اور ارادے) پر ہے (چاہے تو عذاب دے، چاہے تو بخش دے) ہم اہل قبلہ (مسلمانوں) کے گناہوں کی وجہ سے ان کی تکفیر نہیں کرتے، ہم ان کا معاملہ اللہ سبحانہ وتعالٰی کے سپرد کرتے ہیں۔

(۱۹)۔ ونقيم فرض الجهاد والحج مع أئمة المسلمين في كل دهر وزمان۔

ہر زمانے(اور علاقے) میں ہم مسلمان حکمرانوں کے ساتھ جہاد اور حج کی فرضیت پر عمل پیرا ہیں۔

(۲۰)۔ ولا نرى الخروج على الأئمة ولا القتال في الفتنة۔

ہم  حکمرانوں کے خلاف بغاوت کے قائل نہیں ہیں اور نہ فتنے(کے دور) میں (ایک دوسرے سے) قتال کے قائل ہیں۔

(۲۱)۔ ونسمع ونطيع لمن ولاه [الله أمرنا] ولا ننزع يدًا من طاعة۔

اللہ سبحانہ وتعالٰی نے جسے ہمارا حاکم بنایا ہے، ہم اس کی سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں اور اطاعت سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچتے۔

(۲۲)۔ ونتبع السنة والجماعة ونتجنب الشذوذ والخلاف والفرقة۔

ہم (اہل) سنت والجماعت (کے اجماع) کی پیروی کرتے ہیں اور شزوذ، اختلاف اور فرقہ بازی سے اجتناب کرتے ہیں۔

(۲۳)۔ وأن الجهاد ماضٍ منذ بعث الله [عز وجل] نبيه ﷺ إلى قيام الساعة مع أولي الأمر من أئمة المسلمين، لايبطله شيء۔

جب سے اللہ سبحانہ وتعالٰی نے اپنی نبی اکرمﷺ کو (نبی و رسول بناکر) مبعوث فرمایا ہے، مسلمان حکمرانوں کے ساتھ مل کر(کافروں کے خلاف) جہاد جاری رہے گا۔ اسے کوئی چیز باطل نہیں کرے گی(یعنی جہاد ہمیشہ جاری رہے گا)

(۲۴)۔ والحج كذلك۔

اور یہی معاملہ حج کا(بھی) ہے۔

(۲۵)۔ ودفع الصدقات من السوائم إلى أولي الأمر من [أئمة] المسلمين۔

مسلمان حکمرانوں کے پاس جانوروں(اور دیگر اموال) کے صدقات(زکوۃ، عشر) جمع کرائے جائیں گے۔

(۲۶)۔ والناس مؤمنون في أحكامهم ومواريثهم، ولا يُدرى ما هم عند الله [عز وجل] فمن قال : إنہ مؤمن حقًا فھو مبتدع ومن قال : ھو مؤمن عنداللّٰہ فھو من الکاذبین ومن قال : إنی مؤمن باللّٰہ فھو مصیب۔

لوگ اپنے احکام اور وراثت میں مومن ہیں، اور اللہ سبحانہ وتعالٰی کے ہاں ان کا کیا مقام ہے معلوم نہیں، جو شخص اپنے بارے میں کہتا ہے کہ وہ یقیناً مومن ہے تو وہ شخص بدعتی ہے، اور جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالٰی کے ہاں(بھی) مومن ہے تو ایسا شخص جھوٹوں میں سے ہے۔ اور جو یہ کہتا ہے کہ میں اللہ سبحانہ وتعالٰی کے ساتھ مومن (یعنی اللہ سبحانہ وتعالٰی پر ایمان رکھتا) ہوں تو یہ شخص (صحیح) مصیب ہے۔

(۲۷)۔ والمرجئة مبتدعة ۔

مرجئہ بدعتی گمراہ ہیں۔

(۲۸)۔ والقدرية مبتدعة ضلال، ومن أنكر منهم أن الله [عز وجل] يعلم ما يكون قبل أن يكون فهو كافر۔

قدریہ (تقدیر کا انکار کرنے والے) بدعتی گمراہ ہیں اور ان میں سے جو شخص یہ دعوی کرے کہ اللہ سبحانہ وتعالٰی، کسی کام کے ہونے سے پہلے اس کا علم نہیں رکھتا تو ایسا شخص کافر ہے۔

(۲۹)۔ وأن الجهمية كفار۔

جہمیہ کفار ہیں۔

(۳۰)۔ و[أن] الرافضة رفضوا الإسلام۔

رافضیوں نے اسلام چھوڑ دیا ہے۔

(۳۱)۔ والخوارج مُرّاق۔

خوارج (دین سے) نکلے ہوئے ہیں۔

(۳۲)۔ ومن زعم أن القرآن مخلوق فهو كافر [بالله العظيم] – كفرًا ينقل من الملة ومن شك في كفره ممن يفهم فهو كافر۔

جو شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن الکریم مخلوق ہے تو وہ کافر ہے، ملت (اسلامیہ) سے خارج ہے۔ اور جو شخص سوجھ بوجھ (اور اقامت حجت) کے باوجود اس شخص کے کفر میں شک کرے تو وہ(بھی) کافر ہے۔

(۳۳)۔ ومن شك في كلام الله [عز وجل-] فوقف شاكًا فيه يقول : لا أدري مخلوق أو غير مخلوق فهو جهمي۔

جو شخص اللہ سبحانہ وتعالٰی کے کلام کے بارے میں شک کرتے ہوئے توقف کرے اور کہے کہ مجھے پتا نہیں کہ مخلوق ہے یا غیر مخلوق تو ایسا شخص جہمی ہے۔

(۳۴)۔ ومن وقف في القرآن جاهلا عُلِّمَ وبُدِّع ولم يُكفَّر۔

جو جاہل شخص قرآن الکریم کے بارے میں توقف کرے تو اسے سمجھایا جائے گا، اُسے بدعتی سمجھا جائے گا اور اُس کی تکفیر نہیں کی جائی گی۔

(۳۵)۔ ومن قال لفظي بالقرآن مخلوق ، أو القرآن بلفظي مخلوق فهو جهمي۔

جو شخص لفظی بالقرآن(میرے الفاظ جن سے میں قرآن مجید پڑھتا ہوں) یا القرآن بلفظی مخلوق(قرآن الکریم میرے الفاظ کے

ساتھ مخلوق) کہے تو وہ جہمی(گمراہ) ہے۔

تبصرہ

یقینا یہ تمام متن گھڑا ہوا ہے اس کی متعدد وجوہات  میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رافضی کا جنازہ امام ابو زرعہ پڑھتے تھے

كتاب الضعفاء: لأبي زرعة الرازي یا   أجوبة أبي زرعة على أسئلة البرذعي

وقال لي أبو زرعة: “لما مات عبد المؤمن بن علي حضرت جنازته وكنت أؤدب (8) لعلي ابنه، فكنت (9) لا ألتفت إلا وورائي إما رافضي، أو مبتدع، وإما بلية (10) فما زلت حتى صليت عليه وانصرفت”.

البرذعي کہتے ہیں  أبو زرعة  نے کہا  … میں التفات نہیں کرتا ہوں لیکن پیچھے ان کے (مرنے کے کہ ) اگر رافضی ہو بدعتی ہو یا فتنہ پرداز ہو پس ان پر جنازہ پڑھتا ہوں اور چلا اتا ہوں

یعنی البرذعي نے خود بیان کہ   أبو زرعة کے نزدیک رافضی مسلمان ہے وہ اس کا جنازہ پڑھتے تھے –

اس میں الخلفاء الراشدون المهديون میں صرف چار کو شمار کیا گیا ہے حسن اور معاویہ کو اس سے خارج کر دیا گیا ہے جو بہت بعد کا اہل سنت کا موقف بنا تھا

اس میں لفظي بالقرآن مخلوق ، أو القرآن بلفظي مخلوق کو صریح جہمی لکھا گیا ہے جبکہ یہ امام کرابیسی کا امام بخاری کا اور امام الذھبی کا مذھب ہے

اس کے علاوہ عشرہ مبشرہ کی منکر روایت کو بھی اس متن میں صحیح بنا کر پیش کیا گیا ہے جبکہ یہ روایت صحیح سند سے معلوم نہیں-عشرہ مبشرہ والی روایت کی سند  منقطع ہے – علل دارقطنی میں ہے

وَقَدْ بَيَّنَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ هِلَالٍ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ ابْنِ ظَالِمٍ، وَأَنَّ بَيْنَهُمَا رَجُلًا

اس سے واضح ہے کہ ھلال بن نے اس کو ابن ظالم سے نہیں سنا ان کے درمیان کوئی شخص ہے

کتاب العلل لابن أبي حاتم میں ہے

وسألتُ أَبِي عَنْ حديثٍ رَوَاهُ عبد العزيز الدَّراوَرْدي   ، عن عبد الرحمن بن حُمَيد بن عبد الرحمن بْنِ عَوْف، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ جدِّه (2) عبد الرحمن بن عَوْف، عن النبيِّ (ص) قَالَ: عَشَرَةٌ فِي الجَنَّةِ.  وَرَوَاهُ مُوسَى بْن يعقوب الزَّمْعي   ، عَنِ عمر بن سعيد بن شُرَيح  ، عن عبد الرحمن ابن حُمَيد، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بن زيد، عن النبيِّ (ص) .

قلتُ لأَبِي: أيُّهما أشبهُ؟

قَالَ: حديثُ مُوسَى أشبهُ؛ لأنَّ الحديثَ يُروى عَنْ سَعِيدٍ (2) مِنْ طُرُقٍ شَتَّى، ولا يُعرَف عن عبد الرحمن بن عَوْف، عن النبيِّ (ص) ، في هذا – شيء

میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ حدیث جو عبد العزيز الدَّراوَرْدي نے عن عبد الرحمن بن حُمَيد بن عبد الرحمن بْنِ عَوْف، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ جدِّه  عبد الرحمن بن عَوْف، عن النبيِّ کی سند سے روایت کی ہے کہ فرمایا دس جنت میں ہیں-  اس کو مُوسَى بْن يعقوب الزَّمْعي  نے    عمر بن سعيد بن شُرَيح  ، عن عبد الرحمن ابن حُمَيد، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بن زيد، عن النبيِّ (ص)  کی سند سے بھی روایت  کیا ہے – میں نے پوچھا کون سی اچھی ہے ؟

میرے باپ نے کہا موسی کی حدیث اچھی ہے کیونکہ یہ حدیث سعید سے مختلف طرق سے آئی ہے اور عبد الرحمن بن عَوْف کا نبی سے کچھ روایت کرنا میں نہیں جانتا 

ابی حاتم کے نزدیک اس کی سند عبد الرحمن بن حُمَيد بن عبد الرحمن بْنِ عَوْف، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ سَعِيدِ بن زيد، عن النبيِّ والی اچھی ہے – راقم کہتا ہے اس کی سند  میں عمر بن سعيد بن شُرَيح ہے جس کو  خود ابی حاتم  نے ضعیف کہا  ہے

   مضطرب الحديث، ليس بقوي

یعنی سند کو اچھا کہنا اس بنا پر ہے کہ سعید نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں ضعیف راوی ہے اور یہ روایت صحیح سند سے ابی حاتم کے پاس نہیں ہے

لہذا راقم کو شک ہے کہ جو عقیدہ امام حاتم سے منسوب کیا گیا وہ گھڑا ہوا ہے کیونکہ اس  میں ہے

(۵)۔ وأن العشرة الذين سماهم رسول الله ﷺ وشهد لهم بالجنة على ما شهد بہ، وقوله الحق۔

عشرہ (مبشرہ) جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جنتی ہونے کی گواہی دی ہے (ہمارے نزدیک) وہ جنتی ہیں اور آپ ﷺ کی بات حق ہے۔

جب کہ اس کی کوئی صحیح سند امام ابو حاتم کے پاس نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

three × 4 =