روایات عرض عمل اور دیوبندی علماء

عرض عمل کی روایات اس امت میں شیعہ راویوں یا اہل بیت کے غلاموں کی پھیلائی ہوئی ہیں – ان کا اجراء خروج ائمہ کو جواز دینے کے لئے کیا گیا کہ مخالفین اہل بیت، بنو امیہ مسلمان ہی نہیں – ان کا درود نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش نہیں ہوتا

راقم عرض عمل کی روایات کو رد کرتا ہے – عرض عمل کی روایات پر منطقی اعتراض کا ذکر جناب  الیاس گھمن متکلم دیو بند ایک تقریر میں فرماتے ہیں

دیوبندیوں کے متکلم الیاس گھمن ١:٠٠ منٹ پر کہتے ہیں کہ

ایک سآئل نے سوال کیا کہ حدیبیہ میں عثمان مشرکین مکہ کی قید میں تھے
اور نبی پاک نے عثمان کے قتل کا بدلہ لینے پر بیعت لے لی تو کیا عثمان کا درود نبی پر پیش نہ ہوتا تھا ؟
الیاس گھمن جواب دیتے ہیں میں نے اس سائل سے کہا

آج تک کبھی آپ نے ہمارے اکابر کی کتاب میں یہ عقیدہ پڑھا ہو یا ہمارے اکابر سے سنا ہو کہ ہم نے یہ کہا ہو کہ
حضور پاک جب اس دنیا میں زندہ تھے تو حضور پر جو درود دور سے پڑھتا جاتا تھا وہ پیش ہوتا تھا ؟
کہا جی نہیں – میں نے کہا جب یہ ہمارا عقیدہ ہی نہیں ہے تو تم نے اعتراض کیسے کیا

الیاس ٢:٠٠ منٹ پر کہتے ہیں
ہمارا عقیدہ ہے
من صلی علی عند قبری
جب میں دنیا سے چلا جاؤں گا تو میری قبر کے پاس درود پڑھو گے تو میں سن لوں گا

و من صلی علی نائيا بلغته
جو دور سے پڑھا جائے گا پہنچایا جائے گا

یہ اس اس زندگی میں ہے یا بعد کی بات ہے

اعتراض تب تھا جب ہم یہ کہتے کہ اس دنیا میں جو مدینہ سے باہر رہ کر دورد پڑھتا وہ پیش ہوتا تھا – جب یہ ہمارا عقیدہ ہی نہیں تو اعتراض کی حیثیت کیا ہے ؟

اس دنیا میں مدینہ سے باہر رہ کر درود پڑھتا تھا وہ پیش ہوتا تھا اب اس پر دلیل پیش کرتے ہیں کہ عثمان کا پیش کیوں نہیں ہوا ؟
یہ ہمارا عقیدہ ہی نہیں

الیاس 3:16 منٹ پر کہتے ہیں
سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تھے تو یہ مسئلہ نہیں تھا اور جب دنیا سے چلے گئے تو پھر یہ مسئلہ ہے
ایسا کیوں ہے ؟
جب اس دنیا میں تھے تو ہمارا عقیدہ نہیں ہے کہ دور سے پڑھیں تو فرشتے پہنچاتے ہیں
جب دنیا چھوڑ کر قبر میں تشریف لے گئے اب ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر دور سے درود پڑھیں تو فرشتے پہنچاتے ہیں
یہ فرق کیوں ہے ؟
یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اللہ رب العزت کے دین کو
دنیا والوں تک پہنچانے کے لئے … جب ایک مقصد کو لے کر چلنے والا اس کو لے کر چلتا ہے تو لوگ قبول کریں تو اس کو خوشی ہوتی ہے
جب اللہ کے نبی اس دنیا میں ہیں ، صحابہ اکرام مدینہ آ رہے ہیں مدینہ سے جا رہے ہیں
حضور پاک اپنے کام کی کار گزاری دیکھ رہے ہیں – اب دور سے بذریعہ ملائکہ زندگی میں درود پہنچانے کی ضرورت نہیں ہے
جب اللہ کے نبی قبر میں تشریف لے گئے …. اب ضرورت ہے کہ پغمبر پر کار گزاری پہنچے
جب قبر پر جائیں اور درود پڑھیں تو حضور سن لیتے ہیں اور دور سے پڑھیں تو ملائکہ پہنچا دیتے ہیں

ساتھ دوسری حدیث بھی ذہن میں رکھ لیں عرض اعمال کی اللہ کے نبی نے فرمایا

تمہارے اعمال مجھ پر پیش ہوتے ہیں

جب اس دنیا میں تھے تو دور سے اعمال پیش ہونے کی حاجت نہیں تھی آنکھوں سے آپ کار گزاری دیکھ رہے تھے
لوگ آ بھی رہے تھے اور جا بھی رہے تھے – جب نبی دنیا سے چلے گئے تو امت کی کار گزاری
حضور قبر میں رہ کر ساری دنیا کو دیکھیں یہ ہمارا عقیدہ نہیں ہے لہذا
اللہ ملائکہ کے ذریعہ امت کے اعمال پیش کر کے نبی کو ان کی کار گزاری سناتے رہتے ہیں

انتھی کلامہ

========================

لب لباب ہوا کہ دیو بندیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ زندگی میں درود تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش ہی نہیں ہوتا تھا

اس طرح الیاس گھمن صاحب نے ان احادیث کو رد کر دیا

سنن ابن ماجہ کی روایت ہے
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِي، حَدّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَي عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: “أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ،
وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا” قَالَ: قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: “وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ”، فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ
امام ابن ماجہ فرماتے ہیں کہ ہم سے عمروبن سواد المصری نے بیان کیا ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے عبد اﷲ بن وہب نے بیان کیا اور وہ عمر بن حارث سے اور وہ سید بن ابی ہلال سے۔ وہ یزید بن ایمن سے اور وہ عبادة بن نسی سے اور وہ ابوالدراد
رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ نے ارشاد فر مایا کہ جمعہ کہ دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ وہ دن حاضری کا ہے۔ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ مجھ پر جو کوئی شخص دورد پڑھتا ہے اس
کا ددور مجھ پر پیش کیا جاتا ہے حتی کہ وہ اس سے فارغ ہو۔ میں نے کہا یا رسول اﷲ آپ کی موت کے بعد ؟ آپ نے فرمایا الله نے حرام کر دیا ہے کہ زمین انبیاء کے جسموں کو کھائے پس نبی الله کو رزق دیا جاتا ہے

نوٹ : روایت ضعیف منقطع ہے

سنن ابو داود میں ہے
حدثنا هارون بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏حدثنا حسين بن علي، ‏‏‏‏‏‏عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، ‏‏‏‏‏‏عن ابي الاشعث الصنعاني، ‏‏‏‏‏‏عن اوس بن اوس، ‏‏‏‏‏‏قال ‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي قال
فقالوا يا رسول اللهِ وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت قال يقولون بليت قال إن الله تبًارك وتعالى حرم على الأرض أجساد الأنبياء صلى الله عليهم
اوس بن اوس رضی الله عنہ نے کہا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک تمہارے دنوں میں جمعہ سب سے افضل ہے پس اس میں کثرت سے درود پڑھو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے – صحابہ نے پوچھا یا رسول الله یہ کیسے
جبکہ اپ تو مٹی ہوں گے … رسول الله نے فرمایا بے شک الله تبارک و تعالی نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ انبیاء کے جسموں کو کھائے

اس روایت میں صریحا زندگی میں دورد پیش ہونے کا ذکر ہے – صحابہ کو اشکال ہوا کہ موت کے بعد بھی ہو گا کہ نہیں تو اس کا جواب بھی اثبات میں دیا گیا ہے

نوٹ :  روایت امام ابن ابی حاتم کے نزدیک معلول ہے 

مسند البزار کی روایت ہے
حَدَّثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ حُسَيْنٍ الْخَلْقَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ» ، قَالَ حُسَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ
يُبَلِّغُونَ، عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ» ، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
حُسَيْنٍ الْخَلْقَانِيّ نے روایت کیا کہ عبد الله بن السَّائِبِ نے زاذان سے روایت کیا اس نے عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کیا کہ .. اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھ تک لاتے ہیں

اس روایت کو بھی وفات کے بعد کے دور سے مقید نہیں کیا جا سکتا

نوٹ راقم کے نزدیک سند منقطع ہے – زاذان کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ  سے سماع نہیں ہے

ان روایات پر مزید تفصیل راقم کی کتاب میں ملاحظہ کریں

[wpdm_package id=’8847′]

Leave a Reply

Your email address will not be published.

4 + thirteen =