امام بخاری و امام احمد کے اختلافات

 

ڈاکٹر عثمانی رحمہ اللہ علیہ نے تحقیق سے ثابت کیا تھا  کہ امام بخاری و احمد میں آخری دور میں یعنی ٢٢٠ ہجری تک اختلافات پیدا ہو چکے تھے – بخاری نے جامع  الصحیح میں احمد کوشیخ ماننے سے انکار کر دیا اور  صرف چار بار احمد بن حنبل کا نام لیا

مزید براں  تاریخ میں موجود ہے کہ امام احمد نے لفظی بالقران کے قائلین کو بدعتی قرار دیا اور یہ بات معلوم ہے  کہ یہ امام بخاری کا عقیدہ ہے جس کا ذکر خلق الافعال العباد میں ہے

 ابن خلفون کتا ب شیوخ البخاری و المسلم میں لکھتے ہیں

و روی البخاری فی الجامع الصحیح عن احمد بن الحسن الترمذی عنہ عن معتمر بن سلیمان التیمی فی آخر المغازی بعد ذکر وفاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

 قال ابو نصر الکلاباذی و لم یحدث عنہ البخاری نفسہ فی الجامع بشیء و لا اورد من حدیث فیہ شیئا غیر ھذا الواحد الا ما لعلہ استشھد بہ فی بعض المواضع

 قال محمد قال البخاری فی کتاب النکاح و قال لنا احمد بن حنبل ثنا 

اور بخاری نے الجامع الصحیح میں ان  (امام احمد) سے روایت نقل کی ہے  احمد بن الحسن الترمذی سے معتمر بن سلیمان التیمی کے واسطے سے کتاب المغازی کے آخر میں

ابو نصر الکلاباذی کہتے ہیں ان سے بخاری نے فی نفسہ کچھ بھی الجامع صحیح میں روایت نہیں کیا سوائے اسکے اور بعض جگہ استشہاد کیا ہے، ابن خلفون کہتے ہیں  بخاری کتاب النکاح میں کہتے ہیں قال لنا احمد بن حنبل

ابن خلفون یہ بھی کہتے ہیں

و قد روی عنہ فی غیر الجامع غیر شیء

اور امام احمد سے صحیح بخاری کے علاوہ دوسری  کتابوں میں بھی کوئی روایت نہیں لی

معلوم ہوا کہ بخاری نے امام احمد سے براہ راست روایت نقل نہیں کی اور بخاری نے کہیں بھی حدثنی یا حدثنا کہہ کر روایت نہیں لی جو تحدیث کے خاص لفظ ہیں

پہلا حوالہ

بخاری باب كم غزا النبي صلى الله عليه و سلم میں روایت لکھتے ہیں

حدثني أحمد بن الحسن حدثنا أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال حدثنا معتمر بن سليمان عن كهمس عن ابن بريدة عن أبيه قال  : غزا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ست عشرة غزوة

یہاں امام احمداور امام بخاری کے درمیان احمد بن حسن ہیں جو ایک عجیب بات ہے اتنے مشھور امام سے صحیح میں صرف یہ ایک  روایت سندا نقل کی اور اس میں بھی واسطہ رکھا

دوسرا حوالہ

باب مَا يَحِلُّ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا يَحْرُمُ

وَقَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِى حَبِيبٌ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ ، وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ . ثُمَّ قَرَأَ ( حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ ) الآيَةَ .

 ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا .. امام بخاری نے یہاں بھی قال لنا کے الفاظ سے ظاہر کیا ہے امام احمد نے یہ ایک مجمع میں سنائی نہ کہ خاص ان کو لہذا امام بخاری نے اپنے اپ کو امام احمد کے خاص شاگرد کی خصوصیت سے پاک رکھا

 تیسرا حوالہ

حدثني محمد بن عبد الله الأنصاري قال حدثني أبي عن ثمامة عن أنس  : أن أبا بكر رضي الله عنه لما استخلف كتب له وكان نقش الخاتم ثلاثة أسطر محمد سطر ورسول سطر والله سطر

 قال أبو عبد الله وزادني أحمد حدثنا الأنصاري قال حدثني أبي عن ثمامة عن أنس قال كان خاتم النبي صلى الله عليه و سلم في يده وفي يد أبي بكر بعده وفي يد عمر بعد أبي بكر فلما كان عثمان جلس على

بئر أريس قال فأخرج الخاتم فجعل يعبث به فسقط قال فاختلفنا ثلاثة أيام مع عثمان فننزح البئر فلم نجده

اس میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی انگوٹھی کا  ذکر ہے کہ امام بخاری کہتے ہیں  روایت پر وزادني أحمد کہ  احمد نے اضافہ کیا

لیکن یہ امام احمد بن حنبل ہی ہیں واضح نہیں کیا

چوتھا حوالہ

قال أبو عبد الله قال علي بن عبد الله سألني أحمد بن حنبل عن هذا الحديث قال فإنما أردت أن النبي صلى الله عليه و سلم كان أعلى من الناس فلا بأس أن يكون الإمام أعلى من الناس بهذا الحديث . قال فقلت إن سفيان بن عيينة كان يسأل عن هذا كثيرا فلم تسمعه منه ؟ قال لا

صحیح میں  امام بخاری نے روایت بیان کی کہ امام نماز میں کہاں کھڑا ہو گا

اس کے بعد امام علی المدینی اور امام احمد کی گفتگو نقل کی اور امام علی نے امام احمد سے کہا کہ اس روایت کو سفیان نے کئی دفعہ بیان کیا تم نے سنا نہیں امام احمد نے کہا نہیں

  ان چار مقامات  پر امام بخاری نے امام احمد بن حنبل کا ذکر کیا ہے تو ظاہر ہے امام بخاری ان کو اپنا استاد ماننے کے لئے تیار نہیں

امام احمد کی مدح سرائی میں زبیر علی زئی کتاب  تحقیق اصلاحی میں مضمون  امام احمد کا مقام محدثین کی نگاہ میں ، میں لکھتے ہیں

tahqeeqislahi-337

امام احمد صدوق تھے؟ شاید موصوف کو پتا نہیں صدوق تو ثقاہت کا ادنی درجہ ہے. نہیں! موصوف کو پتا ہے کہ امامبخاری نے صحیح میں صرف ایک جگہ سندا روایت لکھی ہے وہ بھی ایک راوی کو بیچ میں ڈالنے کے بعد

احمد-٢ احمد-١

مکتبہ الکوثر سے مندرجہ بالا کتاب شائع ہوئی اس میں مولف ابن مندہ  المتوفی ٣٩٥ ھ کہتے ہیں کہ احمد سے صرف ایک جگہ ہی روایت لی ہے اس پر تعلق میں محقق  ابن حجر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بخاری احمد کو چھوڑ کر امام علی  المدینی سے روایت لیتے اور انہوں نے احمد سے تحدیث کرنا منقطع کر دیا تھا

دامانوی صاحب نے دین الخالص قسط دوم میں لکھا تھا کہ امام بخاری ، امام احمد کو رحمہ الله علیہ لکھتے تھے اور پھر كتاب تاریخ الصغیر  کا ایک نسخہ بھی دکھایا

damnvi-imamahmed-rehma

دامانوی صاحب نے جو حوالہ دیا ہے وہ تاریخ الصغیر کا ہے جبکہ یہ الفاظ  بخاری کی کتاب الضعفاء  میں ہیں نہ کہ تاریخ الصغیر ہیں

 افسوس كتاب الضعفاء   جو  حال ہی میں ٢٠٠٥ میں أبو عبد الله أحمد بن إبراهيم بن أبي العينين کی تحقیق کے ساتھ  مكتبة ابن عباس  سے چھپی ہے اس میں سے یہ الفاظ حذف کر دے گئے

 حفص بن سليمان الأسدي: أبو عمر، عن علقمة بن مرثد، تركوه، قال أحمد بن حنبل وعلي: قال يحيى: أخبرني شعبة، قال: أخذ مني حفص بن سليمان كتابا، فلم يرده، قال: وكان يأخذ كتب الناس، فينسخها.

امام بخاری نے امام احمد کے ساتھ یہ رویہ کیوں اختیار کیا واضح  نہیں لیکن شاید یہ امام احمد کا امام بخاری کے خلاف فتوی ہو

 فائدہ : ہم ہی نہیں ہمارے سلف بھی فتوی بازی کرتے تھے ملاحظہ ہو

امام احمد کے اپنے بیٹے عبدللہ بن احمد اپنی کتاب السنة  میں لکھتے ہیں

سألت أبي رحمه الله قلت : ما تقول في رجل قال : التلاوة مخلوقة وألفاظنا بالقرآن مخلوقة والقرآن كلام الله عز وجل وليس بمخلوق ؟ وما ترى في مجانبته ؟ وهل يسمى مبتدعا ؟ فقال : » هذا يجانب وهو قول المبتدع ، وهذا كلام الجهمية ليس القرآن بمخلوق

میں نے اپنے باپ احمد سے پوچھا : آپ کیا کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو کہتا ہے کہ قرآن کی تلاوت اور ہمارے الفاظ مخلوق ہیں اور قرآن الله عز وجل کا کلام غیر مخلوق ہے – اس کے قریب جانے پر آپ کیا کہتے ہیں اور کیا اس کو بدعتی کہا جائے گا ؟ امام احمد نے جواب میں کہا اس سے دور رہا جائے اور یہ بد عت والوں کا قول ہے اور الجهمية کا قول ہے- قرآن مخلوق نہیں

یہاں شخص سے مراد امام بخاری میں کیونکہ یہ ان ہی کا موقف تھا کا الفاظ قرآن مخلوق ہیں تلاوت مخلوق ہے  لیکن قرآن الله کا کلام غیر مخلوق ہے

ساکن بغداد ہونے کی وجہ سے مسئلہ خلق قرآن پر عباسی خلفاء کی خاص توجہ امام احمد پر مذکور رہی – امام احمد اپنے موقف پر ڈٹے رہے – اس بنا پر اپنے زمانے میں بہت  مشہور ہوۓ اور  پھر  اسی شہرت کے  سحر کے زیر اثر امام بخاری کو بد عقیده تک قرار دیا

امّت کو امام احمد کی شحصیت پرستی سے نکلنے  کے لئے امام بخاری نے کتاب  خلق أفعال العباد لکھی جس میں  نہ  صرف  معتزلہ  بلکہ  امام  احمد  کے  موقف  سے  ہٹ  کر  وضاحت  کی گئی

بندوں کی تلاوت مخلوق ہے

امام بخاری ، تلاوت جو ہم کرتے ہیں اس کو مخلوق کا فعل کہتے تھے. کتاب کا نام ہی خلق افعال العبآد یعنی بندوں کے افعال کی تخلیق رکھا امام بخاری کتاب میں کہتے ہیں

خلق١

اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ایک قوم نکلے گی جو تمہارے عمل کو اپنے اعمال سے حقیر جانیں گے پس اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا کہ قرآن کی قرات ایک عمل ہے

امام بخاری اور امام احمد دونوں قرآن کو کلام الله غیر مخلوق کہتے تھے لیکن بخاری کہتے  ہیں قرآن اللہ کا کلام ہے اور قرات بندے کا فعل  ہے

عربی زبان مخلوق ہے

بخاری باب باندھتے ہیں

باب قول االله تعالى { فأتوا بالتوراة فاتلوها إن كنتم صادقين } قال ومـن آياتـه خلـق السماوات و الأرض واختلاف ألسنتكم و ألوانكم فمنها العربي ومنها العجمي فـذكراختلاف الألسنة والألوان وهو كلام العباد

باب الله تعالی کا قول  پس جاؤ تورات لے آو اس کی قرات کرو اگر سچے ہو. الله نے کہا اور اس کی نشانیوں میں سے ہے زبانوں کا اختلاف اور رنگوں کا پس کوئی عربی ہے کوئی عجمی ہے پس الله نے زبان اور رنگوں کے اختلاف کا ذکر کیا اور وہ بندوں کا کلام ہے

بخاری کہنا چاہ رہے ہیں کہ قرآن کے علاوہ تورات بھی الله کا کلام ہے جو عربی میں نہیں اور یہ زبانوں کا اختلاف الله نے پیدا یا خلق کیا ہے .عربی زبان  مخلوق ہے

قرآن الله کا علم ہے وہ غیر مخلوق ہے لیکن  عربی زبان مخلوق ہے

یاد رہے کہ حدیث کے مطابق قرآن قریش (مکہ) کی زبان میں نازل ہوا  ہے اور اختلاف قرات کے مسئلہ پر،  جمع قرآن  کے وقت قریش کی زبان کو ترجیح دی گئی تھی

کتاب کے آخر میں بخاری نے نہ صرف قرآن بلکہ تورات اور انجیل کا بھی ذکر کیا جو عربی میں نازل نہیں ہوئیں لیکن  تورات و انجیل بھی الله کا کلام ہیں غیر مخلوق ہیں

اب دوبارہ امام احمد کا نقطہ نظر دیکھئے

امام احمد کے اپنے بیٹے عبدللہ بن احمد اپنی کتاب السنة  میں لکھتے ہیں

سألت أبي رحمه الله قلت : ما تقول في رجل قال : التلاوة مخلوقة وألفاظنا بالقرآن مخلوقة والقرآن كلام الله عز وجل وليس بمخلوق ؟ وما ترى في مجانبته ؟ وهل يسمى مبتدعا ؟ فقال : » هذا يجانب وهو قول المبتدع ، وهذا كلام الجهمية ليس القرآن بمخلوق

میں نے اپنے باپ احمد سے پوچھا : آپ کیا کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو کہتا ہے کہ قرآن کی تلاوت اور ہمارے الفاظ مخلوق ہیں اور قرآن الله عز وجل کا کلام غیر مخلوق ہے؟ – اس کے قریب جانے پر آپ کیا کہتے ہیں اور کیا اس کو بدعتی کہا جائے گا ؟ امام احمد نے جواب میں کہا اس سے دور رہا جائے اور یہ بد عت والوں کا قول ہے اور الجهمية کا قول ہے- قرآن مخلوق نہیں

ابن تیمیہ فتوی ج ٧ ص ٦٦٠ مجموع الفتاوى مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية  میں دعوی کرتے  ہیں سلف میں کس نے نہیں کہا کہ قرآن کے الفاظ مخلوق ہیں

وَلَا قَالَ أَحْمَد بْنُ حَنْبَلٍ وَلَا أَحَدٌ مِنْ السَّلَفِ أَنَّ شَيْئًا مِنْ صِفَاتِ الْعَبْدِ وَأَفْعَالِهِ غَيْرُ مَخْلُوقَةٍ وَلَا صَوْتِهِ بِالْقُرْآنِ وَلَا لَفْظِهِ بِالْقُرْآنِ

اور امام احمد اور سلف میں کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ بندے کی صفات اور افعال غیر مخلوق ہیں اور نہ قرآن کی آواز(قرات) اور اس کے لفظ

امام الْأَشْعَرِيِّ کہتے تھے کہ امام احمد قرآن کے الفاظ کو مخلوق کہنےسے کراہت کرتے تھے. ابن تیمیہ فتوی  ج ٧ ص ٦٥٩ میں لکھتے ہیں

وَصَارَ بَعْضُ النَّاسِ يَظُنُّ أَنَّ الْبُخَارِيَّ وَهَؤُلَاءِ خَالَفُوا أَحْمَد بْنَ حَنْبَلٍ وَغَيْرَهُ مِنْ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ وَجَرَتْ لِلْبُخَارِيِّ مِحْنَةٌ بِسَبَبِ ذَلِكَ حَتَّى زَعَمَ بَعْضُ الْكَذَّابِينَ أَنَّ الْبُخَارِيَّ لَمَّا مَاتَ أَمَرَ أَحْمَد بْنُ حَنْبَلٍ أَلَّا يُصَلَّى عَلَيْهِ وَهَذَا كَذِبٌ ظَاهِرٌ فَإِنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْبُخَارِيَّ – رَحِمَهُ اللَّهُ – مَاتَ بَعْدَ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ بِنَحْوِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَإِنَّ أَحْمَد بْنَ حَنْبَلٍ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – تُوُفِّيَ سَنَةَ إحْدَى وَأَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ وَتُوُفِّيَ الْبُخَارِيُّ سَنَةَ سِتٍّ وَخَمْسِينَ وَمِائَتَيْنِ وَكَانَ أَحْمَد بْنُ حَنْبَلٍ يُحِبُّ الْبُخَارِيَّ وَيُجِلُّهُ وَيُعَظِّمُهُ وَأَمَّا تَعْظِيمُ الْبُخَارِيِّ وَأَمْثَالِهِ لِلْإِمَامِ أَحْمَد فَهُوَ أَمْرٌ مَشْهُورٌ وَلَمَّا صَنَّفَ الْبُخَارِيُّ كِتَابَهُ فِي خَلْقِ أَفْعَالِ الْعِبَادِ وَذَكَرَ فِي آخِرِ الْكِتَابِ أَبْوَابًا فِي هَذَا الْمَعْنَى؛ ذَكَرَ أَنَّ كُلًّا مِنْ الطَّائِفَتَيْنِ الْقَائِلِينَ: بِأَنَّ لَفْظَنَا بِالْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ وَالْقَائِلِينَ بِأَنَّهُ غَيْرُ مَخْلُوقٍ يُنْسَبُونَ إلَى الْإِمَامِ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ

وَيَدَّعُونَ أَنَّهُمْ عَلَى قَوْلِهِ وَكِلَا الطَّائِفَتَيْنِ لَمْ تَفْهَمْ دِقَّةَ كَلَامِ أَحْمَد – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. وَطَائِفَةٌ أُخْرَى: كَأَبِي الْحَسَنِ الْأَشْعَرِيِّ وَالْقَاضِي أَبِي بَكْرِ بْنِ الطَّيِّبِ وَالْقَاضِي أَبِي يَعْلَى وَغَيْرِهِمْ مِمَّنْ يَقُولُونَ إنَّهُمْ عَلَى اعْتِقَادِ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ وَأَئِمَّةِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْحَدِيثِ قَالُوا: أَحْمَد وَغَيْرُهُ كَرِهُوا أَنْ يُقَالَ: لَفْظِي بِالْقُرْآنِ؛ فَإِنَّ اللَّفْظَ هُوَ الطَّرْحُ وَالنَّبْذُ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى كَأَبِي مُحَمَّدِ بْنِ حَزْمٍ وَغَيْرِهِ مِمَّنْ يَقُولُ أَيْضًا: إنَّهُ مُتَّبِعٌ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَغَيْرِهِ مِنْ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ إلَى غَيْرِ هَؤُلَاءِ مِمَّنْ يَنْتَسِبُ إلَى السُّنَّةِ وَمَذْهَبُ الْحَدِيثِ يَقُولُونَ إنَّهُمْ عَلَى اعْتِقَادِ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ وَنَحْوِهِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَهُمْ لَمْ يَعْرِفُوا حَقِيقَةَ مَا كَانَ يَقُولُهُ أَئِمَّةُ السُّنَّةِ؛ كَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَأَمْثَالِهِ وَقَدْ بَسَطْنَا أَقْوَالَ السَّلَفِ وَالْأَئِمَّةِ: أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ وَغَيْرِهِ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ. وَأَمَّا الْبُخَارِيُّ وَأَمْثَالُهُ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ مِنْ أَعْرَفِ النَّاسِ بِقَوْلِ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ وَغَيْرِهِ مِنْ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ

بعض لوگوں نے گمان کیا کہ امام بخاری اور انھوں نے آئمہ السنہ احمد بن حنبل وغیرہ کی مخالفت کی – اسکی وجہ سے امام بخاری آزمائش میں مبتلا ہوۓ – یہاں تک کہ بعض جھوٹے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ امام بخاری کی جب وفات ہوئی تو احمد بن حنبل نے انکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا حکم دیا – ظاہر ہے کہ یہ جھوٹ ہے کیوں کہ ابو عبدالله بخاری رحم الله نے احمد بن حنبل کے ١٥ سال بعد وفات پائی – احمد بن حنبل رضی الله عنہ کی ٢٤١ ھ میں اور امام بخاری کی ٢٥٧ میں وفات ہوئی ہے – احمد بن حنبل امام بخاری سے محبت کرتے اور انکی تعظیم اور تکریم کرتے تھے جبکہ امام بخاری اور انکی طرح دوسرے لوگوں کی امام احمد کی تعظیم کرنا مشہور معاملہ ہے – جب امام بخاری نے اپنی کتاب خلق افعال العباد تصنیف کی تو کتاب کے آخری ابواب میں اس معاملہ کا ذکر کیا – اس میں انھوں نے دونوں گروہوں کا موقف پیش کیا ہے جو اس کے قائل ہیں کہ ہمارے وہ الفاظ جو ہم قرآن کی قرات کرتے ہیں وہ مخلوق ہیں اور انکا بھی جو ان کے غیر مخلوق ہونے کے قائل ہیں – اسکی نسبت امام احمد بن حنبل کی طرف کیا کرتے ہیں – اور اس گروہ کا دعویٰ ہے کہ وہ احمد بن حنبل کے قول پر ہیں – دونوں گروہ احمد رضی الله عنہ کی بات کی گہرائی کو نہ سمجھ سکے – ایک اور دوسرا گروہ ہے جس میں ابو الحسن اشعری ، قاضی ابو بکر الطیب اور قاضی ابو یعلی وغیرہ شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ احمد بن حنبل اور آئمہ السنہ و الحدیث کے عقیدے پر ہیں انکا کہنا ہے کہ احمد وغیرہ لفظی بالقران کہے جانے سے کراہت کرتے تھے کیونکہ لفظ تو منہ سے نکال پھینکنے والی چیز ہے – ایک اور دوسرا گروہ جیسا کہ ابو محمد بن حزم وغیرہ ہیں جن کا کہنا بھی یہ ہے کہ وہ آئمہ السنہ احمد بن حنبل وغیرہ کے پیروکار ہیں اور وہ بھی جو اہل سنت اور مذھب اہل حدیث کی طرف نسبت نہیں کرتے – اس گروہ کا کہنا ہے وہ احمد بن حنبل اور اسی طرح دوسرے اہل سنت کے اعتقاد پر ہیں وہ لوگ آئمہ السنہ جیسے احمد بن حنبل اور ان کی طرح دوسرے اہل سنت کی بات کی حقیقت نہ جان سکے –
اور ہم نے تفصیل سے سلف اور آئمہ ، احمد بن حنبل وغیرہ کے اقوال دوسری جگہ پیش کیے ہیں اور رہے امام بخاری اور انکی طرح دوسرے لوگ تو بےشک وہ اہل سنت میں سے احمد بن حنبل وغیرہ کے قول کو لوگوں میں سے زیادہ جاننے والے تھے

ابن تیمیہ کی نقص بھری تحقیق دیکھئے ایک طرف تو اتنے سارے لوگ  کہہ رہے ہیں کہ امام احمد قرآن کے الفاظ کو بھی غیر مخلوق کہتے تھے اور پھر بخاری کی کتاب خلق افعال سب شاہد ہیں ان کے عقائد پر لیکن

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

بخاری تو واضح طور پر قرآن کی تلاوت کو مخلوق کہتے ہیں  لیکن احمد تلاوت کو مخلوق کہنے والے کو جہمیہ کے مذھب پر بتاتے ہیں

امام بخاری اور امام احمد کے اس مناقشہ کو چھپانا علماء کا طریقہ نہیں . لیکن بعض کے نزدیک یہی خطا ڈاکٹر عثمانی سے ہوئی اور پھر فتوی کی توپیں داغی گئیں

مسئلہ لفظ میں امام احمد کوئی رائے نہیں رکھتے تھے بلکہ اس مسئلہ میں رائے کے سخت خلاف تھے – امام بخاری اس کے برعکس رائے رکھتے تھے اور اس کی تبلیغ کرتے تھے  ان کے نزدیک منہ سے تلاوت کے دوران ادا ہونے والے قرآن کے الفاظ اور اس کی آواز مخلوق تھے – امام احمد اس پر کوئی بھی رائے رکھنے والے کو جہمی کہتے تھے

یہ مسئلہ بعد  والوں نے چھپانے کی کوشش کی مثلا کتاب شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة  از أبو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور الطبري الرازي اللالكائي (المتوفى: 418هـ) کی روایت ہے

وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: ثنا أَبُو صَالِحٍ خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو أَحْمَدَ بْنِ نَصْرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّيْسَابُورِيَّ الْمَعْرُوفَ بِالْخَفَّافِ بِبُخَارَى يَقُولُ: كُنَّا يَوْمًا عِنْدَ أَبِي إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ وَمَعَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ , فَجَرَى ذِكْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ , فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ زَعَمَ أَنِّي قُلْتُ: لَفْظِي بِالْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ , فَهُوَ كَذَّابٌ , فَإِنَّى لَمْ أَقُلْهُ. فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ فَقَدْ خَاضَ النَّاسُ فِي هَذَا وَأَكْثَرُوا فِيهِ. فَقَالَ: لَيْسَ إِلَّا مَا أَقُولُ وَأَحْكِي لَكَ عَنْهُ. قَالَ أَبُو عَمْرٍو الْخَفَّافُ: فَأَتَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ فَنَاظَرْتُهُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْحَدِيثِ حَتَّى طَابَتْ نَفْسُهُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ هَاهُنَا رَجُلٌ يَحْكِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ هَذِهِ الْمَقَالَةِ. فَقَالَ لِي: يَا أَبَا عَمْرٍو احْفَظْ مَا أَقُولُ: مَنْ زَعَمَ مِنْ أَهْلِ نَيْسَابُورَ وَقُومَسَ وَالرَّيِّ وَهَمَذَانَ وَحُلْوَانَ وَبَغْدَادَ وَالْكُوفَةِ وَالْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ وَالْبَصْرَةِ أَنِّي قُلْتُ: لَفْظِي بِالْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ , فَهُوَ كَذَّابٌ , فَإِنَّى لَمْ أَقُلْ هَذِهِ   الْمَقَالَةَ , إِلَّا أَنِّي قُلْتُ: أَفْعَالُ الْعِبَادِ مَخْلُوقَةٌ

ہم کو أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ  نے خبر دی کہا ہم سے بیان کیا  مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَلَمَةَ نے کہا ہم سے بیان کیا  أَبُو صَالِحٍ  خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ انہوں نے أحمد بن نصر بن إبراهيم، أبو عمرو النَّيْسَابوريُّ الخفّاف المتوفی ٣٠٠ ھ  سے سنا کہتے ہیں ایک دن ہم  أَبِي إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ کے پاس تھے اور ہمارے ساتھ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ  بھی تھے کہ امام بخاری کا ذکر ہوا پس مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ نے کہا میں نے سنا یہ کہتے تھے کہ جو یہ دعوی کرے کہ میں کہتا ہوں کہ قرآن کے الفاظ مخلوق ہیں وہ جھوٹا ہے کیونکہ میں ایسا نہیں کہتا . پس میں نے ان سے کہا اے ابو عبد الله امام بخاری اس پر تو لوگ بہت لڑتے ہیں پس کہا جو میں نے کہا اس کے سوا کچھ اور نہیں ہے- أَبُو عَمْرٍو الْخَفَّافُ کہتے ہیں پس میں امام بخاری سے ملا اور ان سے ایک حدیث پر کلام کیا یہاں تک کہ دل بھر گیا میں نے ان سے کہا اے ابو عبد الله وہاں ایک شخص ہے جو حکایت کرتا ہے آپ کے لئے کہ آپ اس میں یہ اور  یہ کہتے ہیں – امام بخاری نے مجھ سے کہا اے ابو عمرو یاد رکھو جو میں کہوں جو یہ دعوی کرے نیشاپور یا قومس یا رے یا ہمدان یا حلوان یا بغداد یا کوفہ یا مدینہ یا مکہ یا بصرہ میں سے کہ میں کہتا ہوں قرآن کے الفاظ مخلوق ہیں وہ کذاب ہے پس میں ایسا نہیں کہتا ہوں  بلاشبہ میں کہتا ہوں کہ بندوں کے افعال مخلوق ہیں

اس کی سند میں أَبُو صَالِحٍ خَلَفُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ إِسْمَاعِيْلَ ہیں جن کے لئے الذھبی سیر الاعلام النبلاء میں لکھتے ہیں

قَالَ الخَلِيلِيُّ: كَانَ لَهُ حفظٌ وَمَعْرِفَةٌ، وَهُوَ ضَعِيْفٌ جِدّاً، رَوَى مُتوناً لاَ تُعرفُ

خلیلی کہتے ہیں ان کے لئے حافظہ و معرفت ہے اور یہ بہت ضعیف ہیں اور وہ متن روایت کرتے ہیں جو کوئی نہیں جنتا

کتاب الرّوض الباسم في تراجم شيوخ الحاكم میں  أبو الطيب نايف بن صلاح بن علي المنصوري  راوی   أَبُو صَالِحٍ خَلَفُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ إِسْمَاعِيْلَ کے لئے کہتے ہیں

ضعيف جدًا مع كثرة حديثه

بہت ضعیف ہیں کثرت حدیث کے ساتھ

ایک طرف تو سندا کمزور دوسری طرف اس کے راوی

أَبُو عَمْرٍو الْخَفَّافُ  کے امام الذھبی کتاب تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں

سَمِعَ بنَيْسابور: إسحاق بن راهَوَيْه، وعَمْرو بن زُرَارة، والحسين بن حُرَيْث، ومحمد بن عبد العزيز بن أبي رزمة، وأقرانهم.

وببغداد: إبراهيم بن المستمرّ، وأحمد بن منيع، وأبا همّام السكوني، وأقرانهم. وبالكوفة: أبا كُرَيْب، وعَبّاد بن يعقوب، وجماعة.

 وبالحجاز: أبا مُصْعَب، ويعقوب بن حُمَيْد بن كاسب، وعبد الله بن عمران العابديّ، وغيرهم.

 سوال کے  ان کا سماع بخاری سے کب ہوا؟

ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں

أَخْرَجَ ذَلِكَ غُنْجَارٌ فِي تَرْجَمَةِ الْبُخَارِيِّ من تَارِيخ بخارا بِسَنَدٍ صَحِيحٍ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيِّ الْإِمَامِ الْمَشْهُورِ أَنَّهُ سَمِعَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ ذَلِكَ وَمِنْ طَرِيقِ أَبِي عُمَرَ وَأَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيِّ الْخَفَّافِ أَنَّهُ سَمِعَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ ذَلِكَ

اس (اوپر والی روایت) کو غنجار نے بخاری کے ترجمہ میں تاریخ بخاری میں صحیح سند کے ساتھ محمّد بن نثر المروزی امام مشھور سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے امام بخاری سے سنا کہ انہوں نے ایسا کہا جو ابی عمر اور احمدبن نصر کے طرق سے ہے کہ انہوں نے بخاری سے سنا

اسی قول کو ابن حجر نے تهذيب التهذيب میں بھی نقل کیا ہے

عجیب بات ہے انہی   خَلَفُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ إِسْمَاعِيْلَ کی لسان المیزان میں ابن حجر عزت افزائی کرتے ہیں

وسمعت الحاكم، وَابن أبي زرعة   وإنما كتبنا عنه للاعتبار وقد ضعفه أبو سعيد الإدريسي

حاکم اور  ابن أبي زرعة کہتے ہیں ان کا قول اعتبار کے لئے لکھا جاتا ہے اور  ابو سعید نے ان کو ضعیف کہا ہے

اس روایت کا سارا دار و مدار جس شخص پر ہے وہ توضعیف نکلا لہذا دلیل کیسے ہیں

اس راوی کی روایت اہل حدیث اور وہابی بھی رد کرتے ہیں کیونکہ یہ روایت کرتا ہے کہ امام بخاری اندھے تھے

ابو بكر الخطيب البغدادي (المتوفى: 463 ھ) تاریخ بغداد میں لکھتے ہیں :
حَدَّثَنِي أبو القاسم عبد الله بن أحمد بن علي السوذرجاني بأصبهان من لفظه، قَالَ: حدثنا علي بن محمد بن الحسين الفقيه، قَالَ: حدثنا خلف بن محمد الخيام، قَالَ: سمعت أبا محمد المؤذن عبد الله بن محمد بن إسحاق السمسار، يقول: سمعت شيخي يقول: ذهبت عينا محمد بن إسماعيل في صغره فرأت والدته في المنام إبراهيم الخليل عليه السلام، فقال لها: يا هذه قد رد الله على ابنك بصره لكثرة بكائك، أو لكثرة دعائك. قَالَ: فأصبح وقد رد الله عليه بصره ‘‘ (تاریخ بغداد 2- 322 )
:
محمد بن اسحاق نے کہا  : میں نے اپنے شیخ سے سنا کہ : امام بخاریؒ کی بچپن میں نظر چلی گئی تھی ، (اور ان کی والدہ اس پر اکثر دعاء کرتیں ، اور روتی رہتی تھیں ) تو ایک روز انہیں خواب میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نظر آئے ، وہ فرمارہے تھے تیری گریہ و زاری اور دعاء کے سبب اللہ تعالی نے تیرے بیٹے کی نظر لوٹا دی ہے ‘‘

ا بويعلى الخليلي، (المتوفى: 446 ھ)۔۔ الإرشاد في معرفة علماء الحديث ۔۔(جلد 3 صفحه 972 ) میں لکھتے ہیں :
” أبو صالح خلف بن محمد بن إسماعيل البخاري كان له حفظ ومعرفة وهو ضعيف جدا روى في الأبواب تراجم لا يتابع عليها وكذلك متونا لا تعرف سمعت ابن ابي زرعة والحاكم ابا عبد الله الحافظين يقولان كتبنا عنه الكثير ونبرأ من عهدته وإنما كتبنا عنه للاعتبار ‘‘
اور یہی بات امام ذہبی نے میزان الااعتدال میں لکھی ہے

معلوم ہوا کہ یہ راوی امام بخاری کے حوالے سے فرضی قصے پھیلاتا رہا ہے

امام بخاری کی کتاب خلق افعال العباد  کے آخری ابواب کو دیکھا جائے تو یہ مسئلہ واضح ہو جاتا ہے

اہل دانش دیکھ سکتے ہیں کہ اہل علم کیا گل کھلا رہے ہیں

کتاب سیر الاعلام النبلاء میں هِشَامَ بنَ عَمَّارٍ کے ترجمہ میں الذھبی وہی بات کہتے ہیں جو امام بخاری کہتے
وَلاَ رَيْبَ أَنَّ تَلَفُّظَنَا بِالقُرْآنِ مِنْ كَسْبِنَا، وَالقُرْآنُ المَلْفُوْظُ المَتْلُوُّ كَلاَمُ اللهِ -تَعَالَى- غَيْرُ مَخْلُوْقٍ، وَالتِّلاَوَةُ وَالتَّلَفُّظُ وَالكِتَابَةُ وَالصَّوتُ بِهِ مِنْ أَفْعَالِنَا، وَهِيَ مَخْلُوْقَةٌ – وَاللهُ أَعْلَمُ
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کا ہمارا تلفظ ہمارا کسب (کام) ہے اور قرآن الفاظ والا پڑھا جانے والا کلام الله ہے غیر مخلوق ہے اوراس کی تلاوت اور تلفظ اور کتابت اور آواز ہمارے افعال ہیں اور یہ مخلوق ہیں واللہ اعلم

الذھبی کے مطابق لفظی بالقرآن کا مسئلہ الکرابیسی نے پیش کیا الذھبی ، الكَرَابِيْسِيُّ أَبُو عَلِيٍّ الحُسَيْنُ بنُ عَلِيِّ بنِ يَزِيْدَ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں
وَلاَ رَيْبَ أَنَّ مَا ابْتَدَعَهُ الكَرَابِيْسِيُّ، وَحَرَّرَهُ فِي مَسْأَلَةِ التَّلَفُّظِ، وَأَنَّهُ مَخْلُوْقٌ هُوَ حَقٌّ
اور اس میں شک نہیں کہ الکرابیسی نے جو بات شروع کی اور مسئلہ تلفظ کی تدوین کی کہ یہ مخلوق ہے یہ حق تھا
الذھبی سیر الاعلام النبلا میں احمد بن صالح کے ترجمہ میں لکھتے ہیں
وَإِنْ قَالَ: لَفْظِي، وَقَصَدَ بِهِ تَلَفُّظِي وَصَوتِي وَفِعْلِي أَنَّهُ مَخْلُوْقٌ، فَهَذَا مُصِيبٌ، فَاللهُ -تَعَالَى- خَالِقُنَا وَخَالِقُ أَفْعَالِنَا وَأَدَوَاتِنَا، وَلَكِنَّ الكَفَّ عَنْ هَذَا هُوَ السُّنَّةُ، وَيَكفِي المَرْءَ أَنْ يُؤمِنَ بِأَنَّ القُرْآنَ العَظِيْمَ كَلاَمُ اللهِ وَوَحْيُهُ وَتَنْزِيْلُهُ عَلَى قَلْبِ نَبِيِّهِ، وَأَنَّهُ غَيْرُ مَخْلُوْقٍ
اور اگر یہ کہے کہ لفظی ہے اور مقصد قرآن کا تلفظ اسکی آواز اور اس پر فعل ہو کہ یہ مخلوق ہے – تو یہ بات ٹھیک ہے – پس کیونکہ الله تعالی ہمارا خالق ہے اور ہمارے افعال کا بھی اور لکھنے کے ادوات کا بھی لیکن اس سے روکنا سنت ہے اور آدمی کے لئے کافی ہے قرآن عظیم پر ایمان لائے کلام اللہ کے طور پر اس کی الوحی پر اور قلب نبی پر نازل ہونے پر اور یہ بے شک غیر مخلوق ہے
کتاب تذکرہ الحفاظ میں ابن الأخرم الحافظ الإمام أبو جعفر محمد بن العباس بن أيوب الأصبهاني کے ترجمہ میں الذھبی لکھتے ہیں ابن آخرم کہا کرتے
من زعم أن لفظه بالقرآن مخلوق فهو كافر فالظاهر أنه أراد بلفظ الملفوظ وهو القرآن المجيد المتلو المقروء المكتوب المسموع المحفوظ في الصدور ولم يرد اللفظ الذي هو تلفظ القارئ؛ فإن التلفظ بالقرآن من كسب التالي والتلفظ والتلاوة والكتابة والحفظ أمور من صفات العبد وفعله وأفعال العباد مخلوقة
جس نے یہ دعوی کیا کہ قرآن کے الفاظ مخلوق ہیں وہ کافر ہے پس ظاہر ہے ان کا مقصد ہے کہ جو ملفوظ الفاظ قرآن کے ہیں جس کو پڑھا جاتا ہے جو کتاب سنی جاتی ہے اور محفوظ ہے سینوں میں — اور ان کا مقصد تلفظ نہیں ہے جو قاری کرتا ہے کیونکہ قرآن کا تلفظ کرنا کام ہے اور اس کا تلفظ اور کتابت اور حفظ اور امور یہ بندے کی صفات ہیں اس کے افعال ہیں اور بندوں کے افعال مخلوق ہیں
امام احمد لفظی بالقرآن کا مسئلہ سنتے ہی جھمی جھمی کہنا شروع کر دیتے
الكَرَابِيْسِيُّ أَبُو عَلِيٍّ الحُسَيْنُ بنُ عَلِيِّ بنِ يَزِيْدَ کے ترجمہ میں کتاب سیر الاعلام البنلا از الذھبی کے مطابق امام یحیی بن معین کو امام احمد کی الکرابیسی کے بارے میں رائے پہنچی
وَلَمَّا بَلَغَ يَحْيَى بنَ مَعِيْنٍ أَنَّهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَحْمَدَ، قَالَ: مَا أَحْوَجَهُ إِلَى أَنْ يُضْرَبَ، وَشَتَمَهُ
اور جب امام ابن معین تک پہنچا کہ امام احمد الکرابیسی کے بارے میں کلام کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں کہ میں اس کو ماروں یا گالی دوں
امام الذھبی بھی کہہ رہے ہیں امام الکرابیسی صحیح کہتے تھے –
امام بخاری کے لئے الذھبی کتاب سیر الاعلام النبلاء میں علی بن حجر بن آیاس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں
وَأَمَّا البُخَارِيُّ، فَكَانَ مِنْ كِبَارِ الأَئِمَّةِ الأَذْكِيَاءِ، فَقَالَ: مَا قُلْتُ: أَلفَاظُنَا بِالقُرْآنِ مَخْلُوْقَةٌ، وَإِنَّمَا حَرَكَاتُهُم، وَأَصْوَاتُهُم وَأَفْعَالُهُم مَخْلُوْقَةٌ، وَالقُرْآنُ المَسْمُوْعُ المَتْلُوُّ المَلْفُوْظُ المَكْتُوْبُ فِي المَصَاحِفِ كَلاَمُ اللهِ، غَيْرُ مَخْلُوْقٍ
اور جہاں تک امام بخاری کا تعلق ہے تو وہ تو کبار ائمہ میں دانشمند تھے پس انہوں نے کہا میں نہیں کہتا ہے قرآن میں ہمارے الفاظ مخلوق ہیں بلکہ ان الفاظ کی حرکات اور آواز اور افعال مخلوق ہیں اور قرآن جو سنا جاتا پڑھا جاتا الفاظ والا لکھا ہوا ہے مصاحف میں وہ کلام الله ہے غیر مخلوق ہے
ایک متعصب غیر مقلد عالم ابو جابر دامانوی نے کتاب دعوت قرآن کے نام پر قرآن و حدیث سے انحراف میں لکھا

جبکہ محدثین میں ایسا الذھبی نے واضح کیا امام بخاری کے نزدیک جو قرآن کے الفاظ ہم ادا کرتے ہیں وہ مخلوق کا عمل ہے

یہ سب جھوٹی  کہانیاں ہیں جو لوگوں نے اپنے اماموں  کے غلو میں گھڑی ہیں

اس کی مثال ہے  صحيح بخاري کی روایت ہے

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُهْلِكُ النَّاسَ هَذَا الحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ» قَالَ: مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ

مجھ سے محمد بن عبدالرحيم نے بيان کيا ، کہاہم سے ابومعمر اسماعيل بن ابراہيم نے بيان کيا ، کہاہم سے ابواسامہ نے بيان کيا ، کہا ہم سے شعبہ نے بيان کيا ، ان سے ابوالتياح نے ، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہريرہ رضي اللہ عنہ نے بيان کيا کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا : اس قريش کا یہ محلہ لوگوں کو ہلاک وبرباد کردے گا ? صحابہ نے عرض کيا : اس وقت کے ليے آپ ہميں کيا حکم کرتے ہيں ؟ نبی صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا : کاش لوگ ان سے الگ رہتے ? محمود بن غيلان نے بيان کيا کہ ہم سے ابوداود طيالسي نے بيان کيا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبردي ، انہيں ابوالتياح نے ، انہوں نے ابوزرعہ سے سنا

مسند احمد میں امام احمد اس کو منکر کہتے ہیں

حدثنا محمَّد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح، قال: سمعت أبا زُرعة، يحدث عن أبي هريرة، عن النبي – صلى الله عليه وسلم -، قال: “يُهلكُ أمتي هذا الحيُّ من قريبٌ”، قالوا: في تأمُرُنا يا رسول الله؟، قال: “لو أن الناس اعتزلوهم”. [قال عبد الله بن أحمد]: وقال  أبي- في مرضه الذي  مات فيه: اضرب على هذا الحديث، فإنه خلافُ الأحاديث عن النبي – صلى الله عليه وسلم -، يعني قوله: “اسمعوا وأطيعوا واصبروا”.

ابو ہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ محلہ جلد ہی ہلاک کرے گا ہم نے پوچھا آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں اے رسول الله ! فرمایا کاش کہ لوگ ان سے الگ رہتے عبد الله بن احمد کہتے ہیں  میں نے اپنے باپ سے اس حالت مرض میں (اس روایت کے بارے میں) پوچھا جس میں ان کی وفات ہوئی احمد نے کہا اس حدیث کو مارو کیونکہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی احادیث کے خلاف ہے یعنی سمع و اطاعت کرو اور صبر کرو

امام احمد کا  اضرب على هذا الحديث کہنا روایت کی شدید تضعیف ہے اور یہ الفاظ جرح کے لئے امام احمد اور امام أبو زرعة  نے کئی راویوں کے لئے بھی استمعال کیے ہیں دیکھینے کتاب الجرح و التعدیل از ابن ابی حاتم

حدثنا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن الحسين بن عبد الله بن ضميرة فقال: ليس بشئ ضعيف الحديث، اضرب على حديثه
ابو زرعة نے ایک ضعیف راوی پر کہا اضرب على حديثه

امام احمد نے کہا أني أضرب على حديث سعيد بن سلام
أبو جعفر المدائني کی احادیث پر امام احمد نے کہا اضرب على حديثه، أحاديثه موضوعة
اس کی حدیث موضوعات ہے

عبد العزيز بن عبد الرحمن المدينى پر امام احمد نے کہا اضرب على احاديثه هي كذب أو قال موضوعة
اس کی حدیث کو مارو یہ کذب ہے

يوسف بن خالد پر امام ابو زرعہ نے کہا
ذاهب الحديث، ضعيف الحديث، اضرب على حديثه

الغرض اضرب على هذا الحديث کہنا روایت کی شدید تضعیف ہے

ظاہر ہے ایک صحیح حدیث کو پھینکنے کا حکم امام احمد کیوں کریں گے

دوسری دلیل ہے کہ امام بخاری نے ایک روایت صحیح میں نقل کی ہے کہ عمار کو باغی قتل کریں گے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لَهُ وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ، فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ، فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ، فَاحْتَبَى وَجَلَسَ، فَقَالَ: كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ المَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الغُبَارَ، وَقَالَ: «وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الفِئَةُ البَاغِيَةُ، عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ»

امام احمد بھی اسی طرق کو مسند میں نقل کرتے ہیں

حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ: انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ [ص:368] لَهُ، فَلَمَّا رَآنَا أَخَذَ رِدَاءَهُ فَجَاءَنَا فَقَعَدَ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، حَتَّى أَتَى عَلَى ذِكْرِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً وَعَمَّارُ بْنُ يَاسرٍ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، قَالَ: فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ، وَيَقُولُ: «يَا عَمَّارُ أَلَا تَحْمِلُ لَبِنَةً كَمَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ؟» ، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ، وَيَقُولُ: «وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ» قَالَ: فَجَعَلَ عَمَّارٌ يَقُولُ أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنَ الْفِتَنِ

لیکن ابو بکر الخلال کتاب السنہ میں لکھتے ہیں کہ امام احمد اس روایت پر کہتے تھے

سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: رُوِيَ فِي: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» ثَمَانِيَةٌ وَعِشْرُونَ حَدِيثًا، لَيْسَ فِيهَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ

میں نے محمّد بن عبد الله بن ابراہیم سے سنا کہا میں نے اپنے باپ سے سنا کہتے تھے میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا

عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا کو ٢٨ طرقوں سے روایت کیا ایک بھی صحیح نہیں

الخلال کہتے ہیں امام احمد کہتے اس پر بات تک نہ کرو

 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَازِمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّيَالِسِيُّ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمَّارٍ: «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» . قَالَ: «لَا أَتَكَلَّمُ فِيهِ»

الخلال کے مطابق بغداد کے دیگر محدثین کہتے

أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَيَّةَ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ فِي حَلْقَةٍ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنَ مَعِينٍ وَأَبَا خَيْثَمَةَ وَالْمُعَيْطِيَّ ذَكَرُوا: «يَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» فَقَالُوا: مَا فِيهِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ

اس سلسلے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے

امام احمد یہ بھی کہتے

قَالَ ابْنُ الْفَرَّاءِ: وَذَكَرَ يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ فِي الْجُزْءِ الْأَوَّلِ مِنْ مُسْنَدِ عَمَّارٍ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَمَّارٍ: «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» . فَقَالَ أَحْمَدُ: كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَتَلَتْهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ. وَقَالَ: فِي هَذَا غَيْرُ حَدِيثٍ [ص:464] صَحِيحٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَرِهَ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا “، فَهَذَا الْكِتَابُ يَرْوِيهِ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ الْأَزَجِيُّ عَنِ ابْنِ حَمَّةَ الْخَلَّالِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ جَدِّهِ يَعْقُوبَ

اس سلسلے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے مروی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے اور احمد اس پر کلام کرنے پر کراہت کرتے

کہا جاتا ہے کہ امام احمد اس روایت کو صحیح سمجھتے تھے اس لئے مسند میں نقل کیا جبکہ مسند میں یہی روایت لکھ کر  امام احمد اس کو منقطع قرار دیتے ہیںاور کہتے ہیں اس میں گڑبڑ جسن کی والدہ نے کی ہے

علم رجال کے ماہر ابن الجوزی کتاب العلل المتناهية في الأحاديث الواهية میں لکھتے ہیں

وأما قوله عليه السلام لعمار تقتلك الفيئة الباغية وقد أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيّ من حديث أَبِي قَتَادَة وأم سلمة إلا أن أَبَا بَكْر الخلال ذكر أن أَحْمَد بْن حنبل ويحيى بْن معين وأبا خيثمة والمعيطي ذكروا هَذَا الحديث تقتل عمارًا الفيئة الباغية فقال فِيهِ ما فِيهِ حديث صحيح وأن أَحْمَد قال قد روى فِي عمار تقتله الفيئة الباغية ثمانية وعشرون حديثًا ليس فيها حديث صحيح”.

اور جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ عمار کو با غی گروہ قتل کرے گا اس کی تخریج بخاری نے ابی قتادہ اور ام سلمہ  کی حدیث سے کی ہے. بے شک ابو بکر الخلال نے ذکر کیا ہے کہ  أَحْمَد بْن حنبل ويحيى بْن معين وأبا خيثمة والمعيطي نے اس باغی گروہ والی روایت کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے ایک بھی روایت صحیح نہیں. اور احمد نے ٢٨ روایات سے عمار تقتله الفيئة الباغية  کو روایت کیا جن میں ایک بھی صحیح نہیں ہے

بالفرض مان لیتے ہیں کہ امام احمد کے  سامنے صحیح بخاری رکھی گئی تو  ظاہر ہے انہوں نے اس میں سے قابل اعتراض مواد نکلالنے کا کہا ہو گا امام  بخاری نے انکار کیا ہو گا اس پر اختلاف رائے ہوا اور سند تائید نہ مل سکی

راقم کے نزدیک اس قسم کے  تمام اقوال فرضی ہیں سب سے بڑھ کر بات یہ ہے خود امام احمد سے کوئی روایت براہ راست نہیں لی گئی بلکہ  علی المدینی اور امام احمد کا مکالمہ وغیرہ دکھا کر  انکی تنقیص کی گئی ہے

باب الصلوٰۃ فی السطوح والمنبرا (صحیح بخاری جلد او صفحہ۔ ۵۵۔۵۴
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ المِنْبَرُ؟ فَقَالَ: مَا بَقِيَ بِالنَّاسِ أَعْلَمُ مِنِّي، هُوَ مِنْ أَثْلِ الغَابَةِ عَمِلَهُ فُلاَنٌ مَوْلَى فُلاَنَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عُمِلَ وَوُضِعَ، فَاسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ، كَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ وَرَكَعَ وَرَكَعَ النَّاسُ، خَلْفَهُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَجَعَ القَهْقَرَى، فَسَجَدَ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى المِنْبَرِ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ القَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالأَرْضِ»، فَهَذَا شَأْنُهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ المَدِينِيِّ: ” سَأَلَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ هَذَا الحَدِيثِ، قَالَ: فَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَعْلَى مِنَ النَّاسِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَكُونَ الإِمَامُ أَعْلَى مِنَ النَّاسِ بِهَذَا الحَدِيثِ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ كَانَ يُسْأَلُ عَنْ هَذَا كَثِيرًا فَلَمْ تَسْمَعْهُ مِنْهُ قَالَ: لاَ “

 علی بن عبداللہ (المدینی) سفیان سے  اور وہ ابو حازم سے روایت کرتے ہیں کہ سہیل بن سعد سے پوچھا گیا کہ منبر (نبوی) کس چیز کا تھا انہوں نے فرمایا اس بات کا جاننے والا لوگوں میں مجھ سے زیادہ (اب) کوئی باقی نہیں۔ وہ مقام (غابہ) کے جھاؤ کا تھا۔ فلاں عورت کے فلاں غلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنایا تھا۔ جب وہ بنا کر رکھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور قبلہ رو ہو کر تکبیر (تحریمہ) کہی اور لوگ آپﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے پھر آپﷺ نے قرأت کی اوررکوع فرمایا اور لوگوں نے آپﷺ کے پیچھے رکوع کیا پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اس کے بعد پیچھے ہٹے یہاں تک کہ زمین پر سجدہ کیا۔ امام بخاری کہتے ہیں (حالانکہ یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی) علی بن عبداللہ (المدینی) نے کہا کہ احمد بن حنبل نے مجھ سے یہ حدیث پوچھی تو میں نے کہا کہ میرا مقصود یہ ہے کہ نبی ﷺ لوگوں سے اوپر تھے تو یہ حدیث اس کی دلیل ہے کہ کچھ مضائقہ نہیں اگر امام لوگوں سے اوپر ہو۔ علی بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ (میرے اور تمہارے استاد) سفیان بن عیبنہ سے تو اکثریہ حدیث پوچھی جاتی تھی کہ کیا تم نے ان سے اس حدیث کو نہیں سنا احمد بن حنبل نے کہا نہیں۔

امام بخاری نے یہ بات لاکر ثابت کیا ہے کہ احمد بن حنبل ایسے شاگرد تھے کہ ان کے استادایک حدیث بار بار ذکر کرتے ہیں لیکن پھر بھی اسے نہ سُن پاتے تھے۔ امام احمد نے جب یہ متن اپنے حوالے سے پڑھا ہو گآ تو کیا انہوں نے اس کو پسند کیا ہو گا ؟ ظاہر ہے  امام احمد پر صحیح بخاری پیش کیا جانا محض افسانہ ہے

بعض غالیوں نے الفاظ پیش کیے ہیں کہ امام علی المدینی نے امام احمد کو رحمہ الله کہا

جبکہ غور طلب ہے کہ علی المدینی کی وفات امام احمد سے بھی عرصے  پہلے ہوئی اور ایک زندہ شخص پر رحمہ الله کا لاحقہ کوئی نہیں لگاتا

دوسری جگہ امام بخاری باب شھرا عید لاینقصان میں  امام احمد بن حنبل  کا خاص ذکر کیا  حالانکہ یہاں بھی ان کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی مگر محض انکی  کی  علمیت  کو دکھایا گیا

29-ramzan-india

طبع نول کشور لکهنو

ترجمہ:   عید کے دونوں مہینے ناقص نہیں ہوتے۔

عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ اپنے والد ابوبکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دو مہینے ایسے ہیں کہ کم نہیں ہوتے یعنی عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ۔

امام بخاری فرماتے ہیں کہ احمد بن حنبل نے کہا کہ اس کے معنیٰ یہ ہیں یعنی اگر رمضان کم دنوں کا (یعنی ۲۹ کا ہو تو ذی الحجہ پورا (تیس دنوں کا) ہوگا اور اگر ذی الحجہ کم دنوں کا (یعنی ۲۹ دنوں کا) تو رمضان پورا (یعنی ۳۰ دنوں کا) ہوگا۔

یہاں امام بخاری نے یہ ثابت کیا ہے کہ دیکھو امام احمد بن حنبل اس حدیث کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ رمضان اگر ۲۹ کا ہوگا تو ذی الحجہ ضرور تیس ہوگا۔ دونوں مہینے ۲۹ کے نہیں ہوتے حالانکہ بے حساب سال ایسے گزرے ہیں کہ جن میں دونوں مہینے ۲۹ کے ہوئے ہیں اسی لیے امام بخاری آگے (اپنے استاد) اسحاق بن راہویہ کی بات لے آئے کہ ابوالحسن بیان کرتے ہیں کہ اسحاق بن راہویہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ مہینے چاہے ۲۹ کے ہوں یا تیس کے ان کی فضلیت میں کمی نہیں آتی۔

یہ متن اب جو  صحیح بخاری چھپ رہی ہے اس  سے نکال دیا گیا لیکن یہ انڈیا طبع نور کشور لکهنو سے چھپنے والی صحیح  بخاری میں ہے اور  جامع ترمذی میں ابھی تک ہے

قَالَ أَحْمَدُ: ” مَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ: شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ، يَقُولُ: لَا يَنْقُصَانِ مَعًا فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ شَهْرُ رَمَضَانَ، وَذُو الحِجَّةِ، إِنْ نَقَصَ أَحَدُهُمَا تَمَّ الآخَرُ “، وقَالَ إِسْحَاقُ: ” مَعْنَاهُ لَا يَنْقُصَانِ يَقُولُ: وَإِنْ كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَهُوَ تَمَامٌ غَيْرُ نُقْصَانٍ “،” وَعَلَى مَذْهَبِ إِسْحَاقَ يَكُونُ يَنْقُصُ الشَّهْرَانِ مَعًا فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ

اسی طرح فتح الباری میں ابن حجر نے لکھا ہے

29-ramzan-ahmed

ثُمَّ وَجَدْتُ فِي نُسْخَةِ الصَّغَانِيِّ مَا نَصُّهُ عَقِبَ الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِسْحَاقُ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا تَامٌّ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ إِنْ نَقَصَ رَمَضَانُ تَمَّ ذُو الْحِجَّةِ وَإِنَّ نَقَصَ ذُو الْحِجَّةِ تَمَّ رَمَضَانُ وَقَالَ إِسْحَاقُ مَعْنَاهُ وَإِنْ كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَهُوَ تَمَامٌ غَيْرَ نُقْصَانٍ قَالَ وَعَلَى مَذْهَبِ إِسْحَاقَ يَجُوزُ أَنْ يَنْقُصَا مَعًا فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ

پھر میں نے الصَّغَانِيِّ کے نسخے میں اس حدیث کے بعد یہ پایا کہ امام بخاری نے کہا کہ اسحاق نے کہا ٢٩ ہوں تو(بھی) پورا  (ماہ) ہے اور احمد بن حنبل نے کہا اگر رمضان کم ہو تو ذو الحجہ مکمل ہو گا اور اگر ذو الحجہ کم ہو تو رمضان مکمل ہوگا

یعنی الصَّغَانِيِّ  کے مطابق امام بخاری نے یہ بھی صحیح میں لکھا تھا لیکن جب لوگوں نے اس کو پڑھا تو اس کو امام احمد کی وجہ سے حذف کر دیا

ابن حجر سے بھی پہلے کتاب الكوثر الجاري إلى رياض أحاديث البخاري  میں أحمد بن إسماعيل بن عثمان بن محمد الكوراني الشافعي ثم الحنفي المتوفى 893 هـ اسی متن کا صحیح بخاری کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں

 وقال أحمد: إن نقص رمضان تم ذو الحجة، وإن نقص ذو الحجة تم رمضان (وقال أبو الحسن: الظاهر أنه محمد بن مقاتل شيخ البخاري) (كان إسحاق بن راهويه يقول: لا ينقصان في الفضيلة).

القسطلانی ٩٢٣ ھ کتاب  إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري میں اس کا ذکر کرتے ہیں کہ امام بخاری نے امام احمد کا ے قول نقل کیا

(قال أبو عبد الله) البخاري (إسحاق): هو ابن راهويه أو ابن سويد بن هبيرة العدوي (وإن كان) كل واحد من شهري العيد (ناقصًا) في العدد والحساب (فهو تام). في الأجر والثواب. (وقال محمد) هو ابن سيرين أو المؤلّف نفسه (لا يجتمعان كلاهما ناقص) كلاهما مبتدأ وناقص خبره والجملة حال من ضمير الاثنين. قال أحمد بن حنبل: إن نقص رمضان تم ذو الحجة وإن نقص ذو الحجة تم رمضان

اس بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صحیح بخاری امام احمد پر پیش کی گئی محض افسانہ ہے

ابن کثیر کتاب البداية والنهاية میں ایک بے سند قول پیش کرتے ہیں

وَقَدْ أَثْنَى عَلَيْهِ عُلَمَاءُ زَمَانِهِ مِنْ شُيُوخِهِ وَأَقْرَانِهِ. فَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: مَا أَخْرَجَتْ خُرَاسَانُ مِثْلَهُ.

امام احمد نے امام بخاری کے لئے کہا خراسان سے ان کی مثل کوئی نہیں نکلا

یہ ابن کثیر کی غلطی ہے الذھبی تذکرہ الحفاظ میں اس قول کو  يحيى بن يحيى الإمام الحافظ شيخ خراسان کے لئے بتاتے ہیں

 وقال عبد الله بن أحمد: سمعت أبي يثني على يحيى بن يحيى ويقول: ما أخرجت خراسان مثله

عبد الله بن احمد نے کہا میں نے اپنے باپ کو سنا وہ یحیی بن یحیی کی تعریف کرتے تھے اور کہتے کہ خراسان سے ان کی مثل کوئی نہ نکلا

یعنی خراسان سے  يحيى بن يحيى الإمام الحافظ شيخ خراسان کی مثل کوئی نہیں نکلا تو پھر یہ امام بخاری کے لئے کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ یہ خوبی ایک ہی شخص میں ممکن ہے

امام احمد کے اقوال اور جرح و تعدیل میں ان کی رائے  کا اپنا مقام ہے لیکن یہ کہنا کہ امام بخاری یا امام احمد میں اختلاف رائے نہ تھا تاریخ کو مسخ کرنا ہے

کہا جاتا ہے امام بخاری نے احمد کو رحمہ اللہ لکھا

Sahih Bukhari Hadees # 377

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ الْمِنْبَرُ ؟ فَقَالَ : مَا بَقِيَ بِالنَّاسِ أَعْلَمُ مِنِّي ، هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ ، عَمِلَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عُمِلَ وَوُضِعَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ كَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ ، فَقَرَأَ وَرَكَعَ وَرَكَعَ النَّاسُ خَلْفَهُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ عَلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالْأَرْضِ ، فَهَذَا شَأْنُهُ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : سَأَلَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عْلَى مِنَ النَّمسِ ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَكُونَ الْإِمَامُ أَعْلَى مِنَ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ كَانَ يُسْأَلُ عَنْ هَذَا كَثِيرًا فَلَمْ تَسْمَعْهُ مِنْهُ ، قَالَ : لَا .

راقم کہتا ہے اس مقام پر رحمہ اللہ کے الفاظ متن میں تحریف ہیں کیونکہ زندہ کو کوئی مرحوم نہیں کہتا

امام بخاری نے علی المدینی کا قول نقل کیا اور علی المدینی نے زندہ احمد کو رحمہ اللہ کہا

اب سوال ہے
اول امام احمد کا اس وقت انتقال ہو چکا تھا یا حیات تھے ؟ زندہ پر کوئی اس طرح رحمت کی دعا نہیں کرتا اکثر مردوں پر کی جاتی ہے
علی المدینی کا تو احمد سے بھی پہلے انتقال ہو گیا تھا

دوسرا سوال ہے کہ بعض الناس کے بقول امام بخاری نے صحیح مرتب کرنے کے بعد اس کو امام احمد پر پیش کیا
کیا اس میں یہ الفاظ اس وقت لکھے ہوئے تھے؟
زندہ شخص کو اگر آج بھی کوئی مرحوم کہہ دے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے جبکہ مرحوم کا مطلب ہے اس پر رحم ہو، جو دعا ہے

یہ الفاظ ہر متن میں نہیں بلکہ اس اقتباس کا حوالہ ابن اثیر المتوفي ٦٠٦ نے جامع الأصول في أحاديث الرسول مين بھی دیا ہے اور رحمہ اللہ علیہ نہیں لکھا
قال البخاري: قال علي بن عبد الله (2) : سألني أحمد بن حنبل عن هذا الحديث؟ وقال: إنما أردتُ أن النبيَّ – صلى الله عليه وسلم- كان أعلى من الناس، فلا بأس أن يكون الإمام أعلى من الناس بهذا الحديث، قال: فقلت له: إن سفيانَ بن عيينة كان يُسألُ عن هذا كثيراً فلم تسمعه منه؟ قال: لا

حمیدی ٤٨٨ ھ نے الجمع بين الصحيحين البخاري ومسلم میں اس اقتباس کا ذکر کیا ہے
قَالَ أَبُو عبد الله البُخَارِيّ: قَالَ عَليّ بن عبد الله: سَأَلَني أَحْمد بن حَنْبَل عَن هَذَا الحَدِيث، وَقَالَ: إِنَّمَا أردْت أَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم كَانَ أَعلَى من النَّاس، فَلَا بَأْس أَن يكون الإِمَام أَعلَى من النَّاس بِهَذَا الحَدِيث. قَالَ: فَقلت لَهُ: إِن سُفْيَان بن عُيَيْنَة كَانَ يسْأَل عَن هَذَا كثيرا، فَلم تسمعه مِنْهُ؟ قَالَ: لَا

یعنی حمیدی اور ابن اثیر کے دور تک یعنی ٦٠٦ ہجری تک صحیح بخاری کے متن میں یہاں احمد کے نام کے ساتھ رحمہ اللہ نہیں لکھا تھا اس کو بعد میں ڈالا گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

seventeen − 1 =