ابو ہریرہ رض کی چند احادیث

قرآن کہتا ہے
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِنْدَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ
بلا شبہ ہم جانتے ہیں جو زمین ان کے جسموں میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس محفوظ کتاب ہے

سنن ابن ماجہ میں ہے

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ،‏‏‏‏ حدثنا ابو معاوية ،‏‏‏‏ عن الاعمش ،‏‏‏‏ عن ابي صالح ،‏‏‏‏ عن ابي هريرة ،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ “ليس شيء من الإنسان إلا يبلى،‏‏‏‏ إلا عظما واحدا،‏‏‏‏ وهو عجب الذنب،‏‏‏‏ ومنه يركب الخلق يوم القيامة”.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے جسم کی ہر چیز سڑ گل جاتی ہے، سوائے ایک ہڈی کے اور وہ عجب الذنب (ریڑھ کی آخری  ہڈی) ہے، اور اسی سے قیامت کے دن انسان کی پیدائش ہو گی“۔

 

حدیث میں ہے کہ انسان کا جسم زمین کھا جاتی ہے سوائے عجب الذنب کے-
اس میں کوئی دلیل نہیں کہ یہ عجب الذنب زندہ ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالی قرآن میں خاص طور پر ذکر کرتے ہیں کہ وہ ہڈی کو زندہ کریں گے

رسول الله صلي الله عليہ وسلم کے قول کہ جو مرا فقد قَامَت قِيَامَته اس پر اسکي قيامت قائم ہوئي پر بحث کرتے ہوئے ابن حزم (المتوفى: 456هـ) کتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل ميں لکھتے ہيں

قَالَ أَبُو مُحَمَّد وَإِنَّمَا عَنى رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بِهَذَا الْقيام الْمَوْت فَقَط بعد ذَلِك إِلَى يَوْم الْبَعْث كَمَا قَالَ عز وَجل {ثمَّ إِنَّكُم يَوْم الْقِيَامَة تبعثون} فنص تَعَالَى على أَن الْبَعْث يَوْم الْقِيَامَة بعد الْمَوْت بِلَفْظَة ثمَّ الَّتِي هِيَ للمهلة وَهَكَذَا أخبر عز وَجل عَن قَوْلهم يَوْم الْقِيَامَة {يا ويلنا من بعثنَا من مرقدنا هَذَا} وَأَنه يَوْم مِقْدَاره خَمْسُونَ ألف سنة وَأَنه يحيي الْعِظَام وَيبْعَث من فِي الْقُبُور فِي مَوَاضِع كَثِيرَة من الْقُرْآن وبرهان ضَرُورِيّ وَهُوَ أَن الْجنَّة وَالنَّار موضعان ومكانان وكل مَوضِع وَمَكَان ومساحة متناهية بِحُدُودِهِ وبالبرهان الَّذِي قدمْنَاهُ على وجوب تناهي الإجسام وتناهى كل مَا لَهُ عدد وَيَقُول الله تَعَالَى {وجنة عرضهَا السَّمَاوَات وَالْأَرْض} فَلَو لم يكن لتولد الْخلق نِهَايَة لكانوا أبدا يحدثُونَ بِلَا آخر وَقد علمنَا أَن مصيرهم الْجنَّة أَو النَّار ومحال مُمْتَنع غير مُمكن أَن يسع مَا لَا نِهَايَة لَهُ فيماله نِهَايَة من الماكن فَوَجَبَ ضَرُورَة أَن لِلْخلقِ نِهَايَة فَإِذا ذَلِك وَاجِب فقد وَجب تناهى عَالم الذَّر والتناسل ضَرُورَة وَإِنَّمَا كلامنا هَذَا مَعَ من يُؤمن بِالْقُرْآنِ وبنبوة مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَادّعى الْإِسْلَام وَأما من أنكر الْإِسْلَام فكلامنا مَعَه على مَا رتبناه فِي ديواننا هَذَا من النَّقْض على أهل الْإِلْحَاد حَتَّى تثبت نبوة مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَصِحَّة مَا جَاءَ بِهِ فنرجع إِلَيْهِ بعد التَّنَازُع وَبِاللَّهِ تَعَالَى التَّوْفِيق وَقد نَص الله تَعَالَى على أَن الْعِظَام يُعِيدهَا ويحيها كَمَا كَانَت أول مرّة وَأما اللَّحْم فَإِنَّمَا هُوَ كسْوَة كَمَا قَالَ {وَلَقَد خلقنَا الْإِنْسَان من سلالة من طين ثمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَة فِي قَرَار مكين}

امام ابن حزم نے کہا کہ بے شک رسول الله صلي الله عليہ وسلم نے خبر دي قيام سے مراد فقط موت ہے کيونکہ اب اس کو يوم بعث پر اٹھايا جائے گا جيسا الله تعالي نے کہا {ثمَّ إِنَّكُم يَوْم الْقِيَامَة تبعثون} پھر تم کو قيامت کے دن اٹھايا جائے گا پس نص کي الله تعالي نے ان الفاظ سے کہ زندہ ہونا ہو گا قيامت کے دن موت کے بعد يعني يہ ايک ڈيڈ لائن ہے اور اسي طرح الله نے خبر دي قيامت پر اپنے قول سے {يَا ويلنا من بعثنَا من مرقدنا هَذَا} ہائے بربادي کس نے ہميں اس نيند کي جگہ سے اٹھايا اور اس دن کي مقدار پچاس ہزار سال کي ہے اور بے شک اس نے خبر دي قرآن ميں اور برہان ضروري سے کثير مقامات پر کہ وہ ہڈيوں کو زندہ کرے گا اور جو قبروں ميں ہيں انکو جي بخشے گا – جنت و جہنم دو جگہيں ہيں اور مکان ہيں اور ہر مکان کي ايک حدود اور انتھي ہوتي ہے اور وہ برہان جس کا ہم نے ذکر کيا واجب کرتا ہے کہ اس ميں اجسام لا متناہي نہ ہوں اور گنے جا سکتے ہوں اور الله کا قول ہے {وجنة عرضهَا السَّمَاوَات وَالْأَرْض} وہ جنت جس کي چوڑائي آسمانوں اور زمين کے برابر ہے اور …. پس ضروري ہے کہ مخلوق کي انتھي ہو … اور بے شک اللہ تعالي نے نص دي کہ ہڈيوں کو واپس شروع کيا جائے گا اور انکو زندہ کيا جائے گا جيسا پہلي دفعہ تھا اور جو گوشت ہے تو وہ تو اس ہڈي پر غلاف ہے جيسا الله نے کہا {وَلَقَد خلقنَا الْإِنْسَان من سلالة من طين ثمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَة فِي قَرَار مكين} اور بے شک ہم نے انسان کو خلق کيا مٹي سے پھر اس کا نطفہ ايک ٹہرنے والي جگہ کيا

ابن حزم بار بار الله تعالي کے قول کي ياد دہاني کرا رہے ہيں کہ موت کے بعد اجسام ہڈيوں ميں بدل جائيں گے اور زندہ بھي ہڈي کو کيا جائے گا پھر اس پر گوشت کا غلاف آئے گا لہذا يہ ظاہر ہے کان يا آلات سماعت تو گوشت کے ھوتے ہيں جب وہ ہي معدوم ہو جائيں تو انسان کيسے سنے گا-    عجب الذنب ایک ہڈی ہے جو باقی رہے گی لیکن بے جان و بے روح رہے گی جس طرح ایک بیج بے جان ہوتا ہے-    یہ الله کا فعل ہے جو بے جان میں سے زندہ کو نکآلتا ہے-

دوسری حدیث

 صحیح مسلم کی روایت ہے جو ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا» – قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ – قَالَ: ” وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ، صَلَّى الله عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ، فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ “، قَالَ: ” وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ – قَالَ حَمَّادٌ وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا، وَذَكَرَ لَعْنًا – وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ: خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ. قَالَ فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ “، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ، عَلَى أَنْفِهِ، هَكَذَا
: عبیداللہ بن عمر قواریری حماد بن زید بدیل عبداللہ بن شقیق ، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں کہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اور اس جسم پر کہ جسے تو آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے کہ تم اسے آخری وقت کے لئے لے چلو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ تم اسے آخری وقت کے لئے لے چلو – ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر اس طرح لگالی تھی

اس روایت کے مطابق کافر کی روح بھی آسمان میں جاتی ہے اور اس کو واپس جسد میں لوٹانے کا ذکر نہیں اس کی سند بھی صحیح ہے –

تیسری حدیث

مسند احمد کی سند ہے

حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: لَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا، وَلَا تَتْبَعُونِي بِمِجْمَرٍ، وَأَسْرِعُوا بِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السُّوءُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: يَا وَيْلَهُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي؟ “

المقبری نے عبد الرحمان مولی ابو ہریرہ سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے کہ بے شک ابو ہریرہ جب ان کی وفات کا وقت آیا کہا نہ میرے اوپر خیمہ لگانا نہ اگ ساتھ لے کر چلنا اور میرا جنازہ تیزی سے لے جانا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے انہوں نے کہا جب صالح بندے کو جنازہ پر رکھا جاتا ہے یا مومن بندے کو تو کہتا ہے مجھے لے چلو اور کافر کو جنازہ پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے بربادی کہاں جا رہے ہو

حَدَّثَنَا يُونُسُ، وَحَجَّاجٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً [ص:466] قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصُعِقَ ” قَالَ حَجَّاجٌ: لَصُعِقَ

سعید المقبری نے اپنے باپ سے روایت کیا انہوں نے ابو سعید الخدری سے سنا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب جنازہ کورکھتے  ہیں اور مرد  اس کو گردنوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر یہ نیک ہے تو کہتا ہے مجھے لے چلو اور اگر بد ہے تو کہتا ہے بربادی کہاں جا رہے ہو اس آواز کو ہر چیز سنتی ہے اور انسان سنے تو بے ہوش ہو جائے

المزی تہذیب الکمال میں  عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرة  کے ترجمہ میں یہ روایت لکھ کر کہتے ہیں

هكذا رواه ابن أَبي ذئب، وخالفه الليث بْن سعد (س)  فرواه عَنْ سَعِيد الْمَقْبُرِيِّ، عَن أَبِيهِ، عَن أَبِي سَعِيد الخُدْرِيّ

ایسا ابن أَبي ذئب نے روایت کیا ہے (یعنی  ابن أَبي ذئب عَن سَعِيد الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرة ) اور ان کی مخالفت کی ہے الليث بْن سعد نے انہوں نے اس کو  سَعِيد الْمَقْبُرِيِّ، عَن أَبِيهِ، عَن أَبِي سَعِيد الخُدْرِيّ کی سند سے روایت کیا ہے

راقم کے خیال میں یہ روایت دور اختلاط کی ہے جس کی بنا پر اسناد میں یہ گھپلا پیدا ہو رہا ہے اور چونکہ لیث کا حجاز پہنچنا بھی اسی دور کے پاس کا ہے جس میں المقبری کو مختلط کہا گیا ہے گمان غالب ہے کہ اسناد میں  یہ تضاد اس کیفیت کی بنا پر پیدا ہوا ہے

عض لوگوں کا عقیدہ بن رہا ہے کہ  مرنے پر انسانی روح کو جسم میں عجب الذنب میں قید کر دیا جاتا ہے جبکہ یہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ کا عقیدہ نہیں وہ تو حدیث بیان کر رہے ہیں کہ روح نکال کر فرشتے آسمان پر لے جاتے ہیں ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے منسوب تیسری روایت جس میں میت کے کھاٹ پر بولنے کا ذکر ہے اس کی  تاویل ہر وقت الگ کی جاتی رہی ہے اور معمہ رہی ہے

اس روایت پر ایک دور تک کہا   جاتا تھا کہ یہ زبان مقال ہے

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح کے مطابق یہ بِلِسَانِ الْحَالِ أَوْ بِلِسَانِ الْمَقَالِ زبان حال یا مقال ہے

اگرچہ امام بخاری نے   بَابُ كَلاَمِ المَيِّتِ عَلَى الجَنَازَةِ یعنی میت کا جنازہ پر کلام میں اس کو بیان کیا ہے لیکن محدثین کے مطابق اس دور کی المقبری کی روایات صحیح نہیں ہیں

قال الْبُخَارِيّ : مات بعد نَافِع.
نافع کی موت ١١٩ یا ١٢٠ میں ہوئی ہے بحوالہ سیر الاعلام النبلاء
امام بخاری نے تاريخ الصغير یا التاريخ الأوسط میں صرف یہ لکھا ہے کہ سعید المقبری کی وفات نافع کے بعد ہوئی کوئی سال بیان نہیں کیا جبکہ اختلاط کا علم ہونا ضروری ہے- امام بخاری نے یھاں سعید المقبری کے حوالے سے اللیث پر اعتماد کرتے ہوئے اس روایت کو صحیح سمجھا ہے
الذھبی میزان میں لکھتے ہیں کہ سفیان بن عُيَيْنَة، سعید المقبری کے پاس پہنچے لیکن

فإن ابن عُيَيْنَة أتاه فرأى لعابه يسيل فلم يحمل عنه، وحدث عنه مالك والليث
اس کا لعاب اس کے منہ سے بہہ رہا تھا لہذا نہیں لکھا
کتاب سیر الاعلام النبلاء از الذھبی کے مطابق
سمع في سنة تسع عشرة ومائة ، وسنة عشرين ، وبعد ذلك
سفيان بن عيينة نے سن ١١٩ اور ١٢٠ اور اس کے بعد سنا ہے
سفيان بن عيينة کوفہ میں پیدا ہوئے اس کے بعد حجاز کا سفر کیا جہاں ١١٩ کے بعد لوگوں سے سنا اس دور میں انہوں نے سعید المقبری کو دیکھا جن کے منہ سے لعاب بہہ رہا تھا

ان قرائن کی  روشنی میں واضح ہے کہ یہ آخری روایت جس سے کلام المیت ثابت کیا جاتا ہے عالم الاختلاط کی ہے المقبری

نے بعض اوقات اس کو ابو ہریرہ  رضی الله عنہ کی حدیث کہا ہے اور بعض اوقات سعید الخدری رضی الله عنہ کی

شعبہ نے بھی احتیاط کی ہے اور کہا ہے کہ سعید  بوڑھے ہو چکے تھے

وَقَال يَعْقُوب بْن شَيْبَة: قد كَانَ تغير وكبر واختلط قبل موته، يقال: بأربع سنين، حَتَّى استثنى بعض المحدثين عنه ما كتب عنه فِي كبره مما كتب قبله، فَكَانَ شعبة يَقُول: حَدَّثَنَا سَعِيد الْمَقْبُرِيّ بعدما كبر.

يَعْقُوب بْن شَيْبَة نے کہا کہ یہ بدل گئے اور بوڑھے ہوئے اور مرنے سے پہلے مختلط ہو چکے تھے کہا جاتا ہے ٤ سال یہاں تک کہ بعض محدثین نے اس کو الگ کیا ہے جو ان کے بڑھاپے سے پہلے لکھا یہاں تک کہ شعبہ کہتے کہ سعید المقبری نے روایت کیا بوڑھا ہونے کے بعد

البتہ  بعض محدثین نے ان روایات کو لیا بعض نے رد کیا ہے مثلا امام ابن معین کا کہنا ہے

تاریخ الدوری میں ہے

سمعت عليا يقول ابن ابى ذئب اثبت فى سعيد من ابن عجلان

ابن معین نے کہا میں  نے  على بن المدينى کو کہتے سنا کہ سعید المقبری کے حوالے سے  ابن ابى ذئب ،  ابن عجلان کے مقابلے میں بہتر ہے

 العلل لابن أبي حاتم از محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي، الحنظلي، الرازي ابن أبي حاتم (المتوفى: 327هـ)  کے مطابق ایک روایت  کو انہوں نے اپنے باپ ابی حاتم پر پیش کیا اور سوال کیا کہ ابْنِ أَبِي ذئبٍ  روایت کرتے ہیں

عَنِ ابْنِ أَبِي ذئبٍ  ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ  ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قال: قال رسولُ الله (ص)   : إِذَا بَلغَكُمْ عَنِّي حَدِيثًا  يَحْسُنُ بِي أَنْ أَقُولَهُ ، فَأَنَا قُلْتُهُ، وَإِذَا بَلغَكُمْ عَنِّي حَدِيثًا  لاَ يَحْسُنُ بِي أَنْ أَقُولَهُ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَمْ أَقُلْهُ.

قَالَ أَبِي: هَذَا حديثٌ مُنكَرٌ؛ الثقاتُ لا يَرْفَعُونَهُ

ابْنِ أَبِي ذئبٍ روایت کرتے سعید المقبری سے وہ اپنے باپ سے وہ ابو ہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کو کوئی حدیث پہنچے جو اچھی لگے کہ میں نے کہی ہو تو اس کو میں نے ہی کہا ہے اور اگر تم کو حدیث پہنچے جو اچھی نہ لگے کہ میں نے کہی ہو تو وہ مجھ سے نہیں نہ میں نے اس کو کہا ہے

ابی حاتم نے کہا یہ حدیث منکر ہے – ثقات اس کو نہیں پہچانتے

جبکہ  یہ  ابن أبي ذئب کی سعید المقبری سے روایت ہے –  ابن معین نے کہا تھا کہ ابن أبي ذئب کی سعید المقبری سے روایت سب سے مناسب ہے

یعنی محدثین میں سعید المقبری کی روایات پر اپس میں اختلاف ہے بعض قبول کر رہے تھے بعض رد کر رہے تھے

 

1 thought on “ابو ہریرہ رض کی چند احادیث”

  1. Shakeel Ahmed says:

    بھائی زبردست آپ نے زبردست رد کیا ان لوگوں کے باطل عقائد کا – الله آپ کو جزایۓ خیر دے – آمین.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

four × five =