آغاز الوحی کی ایک روایت

قصہ مختصر
غامدی صاحب نے ذکر کیا کہ ان کے نزدیک سورہ علق و سورہ مدثر پہلی سورتیں نہیں – پھر آغاز الوحی والی صحیح بخاری کی امام الزہری والی روایت پر جرح کی اور بتایا کہ وہ ان کو پسند نہیں- پھر اپنی پسندیدہ روایت سیرت ابن اسحاق (جو امام مالک فرماتے ہیں دجال ہے ) سے پیش کی جس میں ذکر کیا کہ آغاز الوحی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سارے کٹم و خاندان کو لے کر غار حرا میں جاتے ، نیچے مسکین ہوتے ان کو انفاق کرتے وغیرہ – راقم کہتا ہے اس سے ظاہر ہوا کہ نہ تو ابن اسحاق نے غاز حرا دیکھا نہ غامدی صاحب نے کہ اس میں چار جوان سال لڑکیوں اور بیوی خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نہیں رہا جا سکتا کیونکہ وہ نہایت مختصر غار ہے بمشکل صرف ایک مرد وہاں بیٹھ سکتا ہے – ابھی غور ہی کر رہے تھے کہ غامدی صاحب نے انکشاف کیا کہ یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ اس میں سورہ علق کو پہلی الوحی کہہ دیا گیا ہے – پھر بتایا کہ سورہ مدثر کے مضامین تند و تیز ہیں وہ بھی پہلی الوحی نہیں
راقم نے بھی کچھ  تھوڑا بہت غور کیا جو پیش خدمت ہے

قرآن میں ہے
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (52)
أور إس طرح روح (امر الوحی ) ہم نے تمہاری طرف الوحی کی ، تم نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے ایمان کیا ہے

اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول بننے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلق کتاب اللہ کا کوئی علم نہ تھا

اس کے بر خلاف سیرت ابن اسحاق میں ہے
قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ [1] ، مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ. قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ يَقُولُ لِعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ قَتَادَةَ اللَّيْثَيَّ: حَدِّثْنَا يَا عُبَيْدُ، كَيْفَ كَانَ بَدْءُ مَا اُبْتُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ النُّبُوَّةِ، حِينَ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ قَالَ: فَقَالَ: عُبَيْدٌ- وَأَنَا حَاضِرٌ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ ابْن الزُّبَيْرِ وَمَنْ عِنْدَهُ مِنْ النَّاسِ-: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ [2] فِي حِرَاءٍ مِنْ كُلِّ سَنَةٍ شَهْرًا، وَكَانَ ذَلِكَ مِمَّا تَحَنَّثَ بِهِ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّة. والتحنث التبرّر.
قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَقَالَ أَبُو طَالِبٍ:
وَثَوْرٍ وَمَنْ أَرْسَى ثَبِيرًا مَكَانَهُ … وَرَاقٍ لِيَرْقَى فِي حِرَاءٍ وَنَازِلِ

ابن اسحاق نے کہا مجھ سے وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْر نے بیان کیا کہ انہوں نے عبد اللہ بن زبیر سے سنا جو کہتے تھے کہ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ قَتَادَةَ اللَّيْثَيَّ سے پوچھا
اے عبید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر الوحی کا آغاز کس طرح ہوا جب ان پر جبریل آئے ؟
عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ قَتَادَةَ اللَّيْثَيَّ نے کہا میں حاضر تھا اور عبد اللہ بن زبیر نے بیان کیا جب لوگ بھی تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال میں ایک ماہ کے لئے حرا میں رہتے تھے اور وہاں جیسا قریش جاہلیت میں کرتے وہی تَحَنَّثَ کرتے

نوٹ : اس روایت میں اعتکاف کا کوئی ذکر نہیں ہے – یجآور کا مطلب کسی جگہ رکنا ہے اسی سے مجاورت کا لفظ نکلا ہے

قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ: قَالَ عُبَيْدٌ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ ذَلِكَ الشَّهْرَ مِنْ كُلِّ سَنَةٍ، يُطْعِمُ مَنْ جَاءَهُ مِنْ الْمَسَاكِينِ، فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِوَارَهُ مِنْ شَهْرِهِ ذَلِكَ، كَانَ أَوَّلُ مَا يَبْدَأُ بِهِ، إذَا انْصَرَفَ مِنْ جِوَارِهِ، الْكَعْبَةَ، قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ، فَيَطُوفُ بِهَا سَبْعًا أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إلَى بَيْتِهِ، حَتَّى إذَا كَانَ الشَّهْرُ الَّذِي أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ فِيهِ مَا أَرَادَ مِنْ كَرَامَتِهِ، مِنْ السّنة الَّتِي بَعثه اللَّهُ تَعَالَى فِيهَا، وَذَلِكَ الشَّهْرُ (شَهْرُ) [2] رَمَضَانَ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إلَى حِرَاءٍ، كَمَا كَانَ يَخْرُجُ لِجِوَارِهِ وَمَعَهُ أَهْلُهُ، حَتَّى إذَا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَكْرَمَهُ اللَّهُ فِيهَا بِرِسَالَتِهِ، وَرَحِمَ الْعِبَادَ بِهَا، جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَمْرِ اللَّهِ تَعَالَى. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ، وَأَنَا نَائِمٌ، بِنَمَطٍ [3] مِنْ دِيبَاجٍ فِيهِ كِتَابٌ [4] ، فَقَالَ اقْرَأْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَقْرَأُ [5] ؟ قَالَ: فَغَتَّنِي [6] بِهِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ الْمَوْتُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَقْرَأُ؟ قَالَ: فَغَتَّنِي بِهِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ الْمَوْتُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: قُلْتُ: مَاذَا أَقْرَأُ؟ قَالَ: فَغَتَّنِي بِهِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ الْمَوْتُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي [1] ، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَاذَا أَقْرَأُ؟ مَا أَقُولُ ذَلِكَ إلَّا افْتِدَاءً مِنْهُ أَنْ يَعُودَ لِي بِمِثْلِ مَا صَنَعَ بِي، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنْسانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ 96: 1- 5. قَالَ: فَقَرَأْتهَا ثُمَّ انْتَهَى فَانْصَرَفَ عَنِّي وَهَبَبْتُ مِنْ [2] نَوْمِي، فَكَأَنَّمَا كَتَبْتُ فِي قَلْبِي كِتَابًا. قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى إذَا كُنْتُ فِي وَسَطٍ مِنْ الْجَبَلِ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَاءِ يَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا جِبْرِيلُ، قَالَ: فَرَفَعْتُ رَأْسِي إلَى السَّمَاءِ أَنْظُرُ، فَإِذَا جِبْرِيلُ فِي صُورَةِ رَجُلٍ صَافٍّ قَدَمَيْهِ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ يَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا جِبْرِيلُ. قَالَ: فَوَقَفْتُ أَنْظُرُ إلَيْهِ فَمَا أَتَقَدَّمُ وَمَا أَتَأَخَّرُ، وَجَعَلْتُ أَصْرِفُ وَجْهِي عَنْهُ فِي آفَاقِ السَّمَاءِ، قَالَ: فَلَا أَنْظُرُ فِي نَاحِيَةٍ مِنْهَا إلَّا رَأَيْتُهُ كَذَلِكَ، فَمَا زِلْتُ وَاقِفًا مَا أَتَقَدَّمُ أَمَامِي وَمَا أَرْجِعُ وَرَائِي حَتَّى بَعَثَتْ خَدِيجَةُ رُسُلَهَا فِي طَلَبِي، فَبَلَغُوا أَعْلَى مَكَّةَ وَرَجَعُوا إلَيْهَا وَأَنَا وَاقِفٌ فِي مَكَانِي ذَلِكَ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَنِّي

ابن اسحاق نے کہا کہ وھب بن کیسان نے بیان کیا کہ عبید نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ رکتے ایک ماہ تک ہر سال اور جو مسکین اتا اس کو کھانا دیتے جب یہ مکمل ہو جاتا تو سب سے پہلے واپس کعبہ جاتے ، گھر میں جانے سے پہلے طواف کرتے سات بار یا جو اللہ چاہتا پھر گھر جاتے حتی کہ جب وہ ماہ آیا جس میں اللہ نے چاہا کہ آپ کی کرامت ہو اس سال اور ماہ میں جو رمضان کا تھا تو رسول اللہ غار حرا کے لئے گئے اور آپ کے گھر والے آپ کے ساتھ تھے … پس جبریل آئے اللہ کا حکم لے کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سو رہا تھا تو جبریل دیباج میں ایک جز دان تھا جس میں کتاب تھی اور کہا پڑھو – میں نے کہا : میں نہیں پڑھ سکتا ؟ پس مجھے بھینچا حتی کہ مجھے گمان ہوا کہ یہ موت ہے پھر چھوڑ دیا
کہا پڑھو – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پڑھوں ؟ …. جبریل چلے گئے اور میری آنکھ کھل گئی اور  تحریر دل پر نقش ہو گئیں

اس کی سند منقطع ہے
عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ قَتَادَةَ اللَّيْثَيَّ سے لے کر آگے تک سند نہیں ہے

جامع التحصيل في أحكام المراسيل از صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ) میں ہے
عبيد بن عمير ذكر البخاري أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم وذكره مسلم فيمن ولد على عهده يعني ولا رؤية له وهو معدود من التابعين فحديثه مرسل
عبيد بن عمير کے لئے امام بخاری نے کہا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور امام مسلم نے ذکر کیا کہ یہ دور نبوی میں پیدا ہوا یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا

واضح رہے کہ عبید بن عمیر نے رسول اللہ سے نہیں سنا

یہ روایت حقائق پر نہیں اترتی کیونکہ اس میں ہے کہ غار حرا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو لے کر جاتے تھے
جبکہ غار حرا نہایت مختصر سی جگہ ہے جس میں بمشکل ایک وقت میں ایک ہی شخص آ سکتا ہے
دوم غار مکہ سے باہر بیابان میں ہے اور یہ ممکن نہیں کہ گھر والوں کو وہاں لے کر ایک ماہ تک رکا جائے

غامدی صاحب کے بقول غار حرا میں عبد المطلب بھی تحنث کرتے تھے جبکہ یہ سیرت ابن اسحاق میں نہیں اور اس روایت سے غامدی صاحب نے طے کیا کہ قرآن کی آیات ، پیغمبری کا منصب ملنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھوائی گئیں – یہ سب تمثیلی واقعہ تھا

ابن اسحق کی روایت میں ہے کہ خواب سے آنکھ کھل گئی اور رسول اللہ غار حرا سے اتر کر نیچے جا رہے تھے یہاں تک کہ پہاڑ کے بیچ میں تھے
تو جبریل نے کہا تم رسول اللہ ہو

صحیح بخاری کے مطابق غار حرا کے واقعہ کے بعد ایک عرصہ تک الوحی نہ آئی اور دور فترت رہا

ابن اسحق کی روایت کے تحت قرانی الوحی ، ایک غیر نبی پر خواب میں پہلے آ رہی ہے
یہ اس روایت کی منکرات میں سے ہے
قرآن یا کتاب اللہ کی بھی کوئی آیت خواب میں نہیں آ سکتی کیونکہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی نہیں تھے

علم حدیث میں  ابن اسحاق دجال کے  طور پر بھی یاد کیے جاتے ہیں اور  یہ لقب امام مالک نے ان کو  دیا ہے

صحیح ابن حبان اور صحیح بخاری میں ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ: أَيُّ القُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ؟ فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ} [المدثر: 1]، فَقُلْتُ: أُنْبِئْتُ أَنَّهُ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1]، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَيُّ القُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ؟ فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ} [المدثر: 1] فَقُلْتُ: أُنْبِئْتُ أَنَّهُ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1]، فَقَالَ: لاَ أُخْبِرُكَ إِلَّا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” جَاوَرْتُ فِي حِرَاءٍ، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي هَبَطْتُ، فَاسْتَبْطَنْتُ الوَادِيَ فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي، وَصُبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، وَأُنْزِلَ عَلَيَّ: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ} [المدثر: 2] يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ نے ابو سلمہ سے سوال کیا کہ قرآن میں سب سے پہلے کیا نازل ہو ؟ ابو سلمہ نے کہا {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ} [المدثر: 1]، یحیی نے کہا مجھ کو خبر ملی کہ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1] نازل ہوئی پس ابو سلمہ نے کہا جابر بن عبد اللہ سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا میں وہ کہتا جو میں نے رسول اللہ سے سنا کہ میں حرا میں رکا ہوا تھا جب یہ ختم ہوا تو وہاں سے اترا یہاں تک کہ وادی میں آ گیا کہ آواز سنی ، دائیں بائیں دیکھا کہ فرشتہ ایک کرسی پر ہے زمین و آسمان کے درمیان
پس میں خدیجہ کے پاس پہنچا اور کہا مجھ کو اڑا دو اور ٹھنڈا پانی ڈالو پس نازل ہوا
{يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ

قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي خَبَرِ جَابِرٍ هَذَا: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ} [المدثر: 1]، وَفِي خَبَرِ عَائِشَةَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ} [العلق: 1]، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ، إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ} [العلق: 1] وَهُوَ فِي الْغَارِ بِحِرَاءَ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ دَثَّرَتْهُ خَدِيجَةُ وَصَبَّتْ عَلَيْهِ الْمَاءَ الْبَارِدَ، وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ فِي بَيْتِ خَدِيجَةَ: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ} [المدثر: 1] مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَهَاتُرٌ أَوْ تَضَادٌّ
ابن حبان نے کہا جابر کی حدیث میں ہے سورہ مدثر نازل ہوئی اور عائشہ نے کہا {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ} [العلق: 1] اور دونوں میں تضاد نہیں ہے
پہلے غار میں اقرا نازل ہوئی اور بعد میں سورہ مدثر

مسند احمد میں ہے
جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي، نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي
میں ایک ماہ حرا میں رکا وہاں جب رکنا ختم کیا میں اترا اور بطن وادی میں آ گیا

صحیح مسلم میں ہے
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ
امام زہری نے خبر دی کہ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نے جابر بن عبد اللہ سے روایت کیا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور وہ فترت الوحی کی بات کر رہے تھے

غور طلب ہے کہ یہاں سند میں امام زہری ہیں اور امام زہری کے نزدیک سورہ مدثر پہلی سورت نہیں ہے

غامدی صاحب کے نزدیک  اغازالوحی کی صحیح بخاری والی  روایت ، سیرت ابن اسحاق کی روایت  دونوں صحیح نہیں کیونکہ ان میں سورہ علق یا سورہ مدثر کو پہلی الوحی کہا گیا ہے اور ان کا ذہن کہتا  ہے یہ دونوں سورتیں پہلی الوحی نہیں کیونکہ ان سورتوں کے مضامین تند و تیز ہیں

راقم کہتا ہے کہ جس نے بھی آغاز الوحی کی روایات کا ذکر کیا محض ان دو سورتوں کا ہی کیا ہے

ابن اسحاق کو عادت ہے کہ وہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے رشتہ داروں کے نام سے جھوٹ بولتا ہے
ابن اسحاق کو دجال اغلبا ان وجوہات کی بنا پر کہا گیا ہے کیونکہ اس نے روایت کیا
اول وفات النبی پر عائشہ رضی الله عنہا نے ماتم کیا
دوم قرآن کی آیات بکری کھا گئی
سوم نبی  علیہ السلام کی تدفین بدھ کی رات میں ہوئی
چہارم وفات النبی  کے وقت ام المومنین عائشہ نہیں ، ام المومنین صفیہ رضی الله عنہا پاس تھیں ‏
پنجم ام المومنین عائشہ ، معراج کو خواب کہتی تھیں

معلوم ہے کہ یہ تمام جھوٹ ہیں جو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بولے گئے ہیں  کیونکہ صحیح اسناد سے اس کے خلاف معلوم ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

4 × three =