تاریخ

ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ کے جوابات

  جواب :  آپ کا پہلا نکاح جو خدیجہ رضی الله عنھا کے ساتھ ہوا اس کے بارے میں تاریخ میں آتا ہے کہ اس زمانے کے رواج کے مطابق ابو طالب نے وہ نکاح پڑھایا تھا.لیکن احادیث میں یہ معاملہ واضح نہیں ہے.

باقی اس کے بعد الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کے جو نکاح ہوۓ اس میں نہ کسی نے نکاح پڑھاۓ ہیں اور نہ ایجاب و قبول کرایا.یہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیت کا معاملہ ہے.خیبر کی فتح کے بعد جب صفیہ رضی الله عنھا قید ہو کر آئیں ہیں تو صحابہ کرام رضی الله عنہ نے کہا اب دیکھنا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم انکو ملک یمین،لونڈی بناتے ہیں یا بیوی.اگر آپ پردہ کراتے ہیں تو سمجھ لیجئے کے یہ آپ کی بیوی ہیں اور اگر پردہ نہیں کراتے تو یہ لونڈی ہیں . اورآخر جب آپ نے انکو پردہ کرایا تو تب صحابہ کرام رضی الله عنہ جان گئے کہ صفیہ رضی الله عنھا کو آپ نے لونڈی نہیں بنایا بلکہ وہ آپ کی بیوی ہیں.اس سے معلوم ہوا کہ نکاح کا نہ پڑھایا جانا اور ایجاب و قبول کا نہ کرانا نبی علیہ السلام کی خصوصیت تھی .عائشہ اور سودہ رضی الله عنھما کے ساتھ آپکے نکاح جو مکے میں ہوۓ اور اسکے بعد جو آپ کے نکاح ہوۓ ہیں اس میں بھی اسکا کوئی ذکر نہیں ہے

 

Questions answered by Abu Shahiryar

متعہ نکاح کی ایک قسم تھا جو عربوں میں رائج تھا اس کی اسلام میں اجازت صرف غزوات وغیرہ میں حالتِ سفر میں دی گئی  اور   اسی میں ان پر پابندی بھی لگائی گئی

 سنن سعید بن منصور کی روایت ہے

سنن سعید بن المنصور کی روایت ہے سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ  کہتے ہیں

حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ

بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے فتح مکہ کے سال منع فرمایا

فتح مكه رمضان ٨ هجري میں ہوئی  خیبر ٧ ہجری میں ہوئی

عبدللہ ابن عبّاس کی ولادت  ہجرت سے تین سال پہلے  ہوئی اور سن ٨ ہجری میں آپ  عبّاس رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ مدینہ پھنچے یعنی آپ ١١ سال کے  تھے  چونکہ اپ بہت چھوٹے تھے لہذا بالغوں کے مسائل سے اگاہ نہیں تھے  اور  نکاح المتعہ جو عربوں میں رائج تھا اس کی ممانعت آپ تک نہیں پہنچی اور  آپ اس کے قائل رہے

 ان کے برعکس دیگر اصحاب اور اہل بیت اس کی ممانعت سے اگاہ تھے لہذا علی رضی الله عنہ نے اس سے ان کو اگاہ کیا

صحیح مسلم اور سنن سعید بن المنصور کے مطابق

حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ عَبْدَ الله، وَالْحَسَنَ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ يُحَدِّثَانِ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ الله عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى زَمَنَ خَيْبَرَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ

علی رضی الله عنہ نے ابن عباس رضی  الله عنہ سے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خیبر کے دنوں میں اس سے منع کیا اور پالتو گدھے کے گوشت سے بھی

لیکن شاید وہ پھر بھی قائل نہیں ہو سکے کیونکہ بعض روایات میں اس کی ممانعت فتح مکہ کے سال کہی گئی ہے یہاں تک کہ اس حوالے سے ان کا ابن زبیر رضی الله عنہ سے اختلاف بھی ہوا

عامہ اصحاب اور تابعین اس کے قائل نہیں تھے سنن سعید بن المنصور کے مطابق حسن بصری کہتے تھے

 حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ مِنَ النِّسَاءِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَمْ يَكُنْ قَبْلَ ذَلِكَ وَلَا بَعْدَهُ

حسن بصری کہتے ہیں متعہ صرف تین دن تھا نہ اس سے پہلے نہ بعد میں

اس تناظر میں ظاہر ہے ابن عباس کسی کا متعہ کرنا سنتے تو اس کو غلط نہیں گردنتے اب  مصنف عبد الرزاق کی روایت دیکھینے

عبد الرزاق عن ابن جريج عن عطاء قال : لاول من سمعت منه المتعة صفوان بن يعلى ، قال : أخبرني عن يعلى أن معاوية استمتع بامرأة بالطائف ، فأنكرت ذلك عليه ، فدخلنا على ابن عباس ، فذكر له بعضنا ، فقال له : نعم ، فلم يقر في نفسي ، حتى قدم جابر ابن عبد الله ، فجئناه في منزله ، فسأله القوم عن أشياء ، ثم ذكروا له المتعة ، فقال : نعم ، استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وأبي بكر ، وعمر ، حتى إذا كان في آخر خلافة عمر استمتع عمرو بن حريث بامرأة – سماها جابر فنسيتها – فحملت المرأة ، فبلغ ذلك عمر ، فدعاها فسألها ، فقالت : نعم ، قال : من أشهد ؟ قال عطاء : لا أدري قالت : أمي ، أم وليها ، قال : فهلا غيرهما ، قال : خشي أن يكون دغلا الاخر ، قال عطاء : وسمعت ابن عباس يقول : يرحم الله عمر ، ما كانت المتعة إلا رخصة من الله عزوجل ، رحم بها أمة محمد صلى الله عليه وسلم ، فلو لا نهيه عنها ما احتاج إلى الزنا إلا شقي

ابن جریج عطا سے روایت کرتے ہیں کہ پہلا شخص کے جس سے میں نے متعہ کے بارے میں سنا، وہ صفوان بن یعلی تھا۔ اس نے کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ معاویہ نے طائف میں متعہ کیا؛ مگر میں نے اس کی تردید کی۔ سو ہم ابن عباس سے ملے، اور اس کا کچھ تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ مگر میں نے نہ مانا۔ یہ رہا یہاں تک کہ ہم جابر بن عبداللہ سے ملے، ہم ان کے گھر آئے، اور لوگوں نے ان سے سوال پوچھے۔ پھر متعہ کی بات چھڑی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی پاک کی زندگی میں متعہ کیا، پھر ابو بکر کی زندگی میں، اور پھر عمر کے زمانے میں یہاں تک کہ ان کی خلافت کے آخری عرصے میں عمر ابن حریث نے متعہ کیا ایک عورت کے ساتھ، جابر نے اس کا نام لیا تاہم میں بھول گیا۔ وہ حاملہ ہو گئی، اور یہ بات عمر تک پہنچی، عمر نے اسے بلایا اور اس بارے میں پوچھا عطا نے پھر کہا کہ میں نے ابن عباس سے سنا کہ اللہ عمر پر رحم کرے، متعہ اللہ کی جانب سے ایک رخصت تھی امت محمدیہ کے لیے۔ اگر اسے منع نہ کیا جاتا، تو سوائے شقی کے، کوئی زنا نہ کرتا

یہ روایت ان وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں

اول  ابن جريج مدلس ہیں عن سے روایت کر رہے ہیں یہ جلیل القدرتبہ  تابعین  میں سے ہیں – عَطاء بن أبي رَبَاح  المتوفی ١١٥ھ  ہیں الذھبی سیر الاعلام النبلاء میں  کہتے ہیں وُلِدَ: فِي أَثْنَاءِ خِلاَفَةِ عُثْمَانِ یہ عثمان رضی الله عنہ کے دور میں پیدا ہوئے-

دوم اس میں کہا گیا ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے اس سے منع کیا جو تاریخی طور پر صحیح نہیں ہے ابو بکر رضی الله عنہ کے دور میں تو یہ ثابت ہی نہیں ہے

سوم  صفوان بن يعلى بْنِ أُمَيَّةَ التَّمِيمِيُّ کو ان کے باپ نے خبر دی کہ معاویہ نے متعہ کیا یہ بھی عجیب ہے جس کو سن کر ابن عباس  کو کہنا چاہیے تھا اس میں کیا برائی ہے کیونکہ   ایک طرف تو روایات ہیں کہ ابن عباس خود اس کے قائل تھے دوسری طرف کوئی تو وہ اپنا موقف واضح نہیں کرتے

بعض روایات میں ہے کہ ابن عباس نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھے- ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ، كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ البَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ، وَتُصْلِحُ لَهُ شَيْئَهُ، حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الآيَةُ: {إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ}، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَى هَذَيْنِ فَهُوَ حَرَامٌ.

متعہ اوّل اسلام میں جائز تھا یہاں تک کہ آیت (الّا علیٰ ازواجھم اوماملکت ایمانھم)نازل ہوئی تو وہ منسوخ ہو گیا اس کے بعد ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ زوجہ اور مملوکہ کے علاوہ ہر طرح کی شرمگاہ سے استمتاع حرام ہے۔” (ترمذی۱/۱۳۳)

ابو بکر جصاص ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے رجوع کے متعلق  لکھتے  ہیں

تمام صحابہ رضی اللہ عنہ میں سوائے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے کوئی بھی حلت متعہ کا قائل نہیں اور انہوں نے بھی متعہ کے جواز سے اس وقت رجوع کر لیا تھا جب تمام صحابہ رضی اللہ عنہم سے متعہ کی حرمت ان کے ہاں تواتر کے ساتھ ثابت ہو گئی۔” (احکام القرآن۲/۱۵۶)

البانی کتاب إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل میں لکھتے ہیں

أن ابن عباس رضى الله عنه روى عنه فى المتعة ثلاثة أقوال:

الأول: الإباحة مطلقا.

الثانى: الإباحة عند الضرورة.

والآخر: التحريم مطلقا , وهذا مما لم يثبت عنه صراحة , بخلاف القولين الأولين , فهما ثابتان عنه.

ابن عباس رضی الله عنہ کے سے متعلق تین اقوال ہیں

اول مطلق مباح ہے

دوم ضرورتا مباح ہے

سوم مطلق حرام ہے اور یہ وہ قول ہے جو صراحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے

الغرض ابن عباس رضی الله عنہ اس کے قائل تھے پھر انہوں نے اس سے رجوع کیا  ابو بکر الجصاص کی رائے میں اور البانی کی رائے ہے انہوں نے رجوع نہیں کیا –

الغرض معاویہ رضی الله عنہ کا متعہ کرنا  ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس روایت کا متن دیگر روایات سے متصادم اور سند غیر مظبوط ہے

عبدالرزاق ابن ہمام، جو کہ بخاری کے شیوخ میں ہیں؛ اپنی کتاب المصنف، جلد ۷، صفحہ ۴۹٦-۴۹۷؛ لکھتے ہیں

ابن جریج عطا سے روایت کرتے ہیں کہ پہلا شخص کے جس سے میں نے متعہ کے بارے میں سنا، وہ صفوان بن یعلی تھا۔ اس نے کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ معاویہ نے طائف میں متعہ کیا؛ مگر میں نے اس کی تردید کی۔ سو ہم ابن عباس سے ملے، اور اس کا کچھ تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ مگر میں نے نہ مانا۔ یہ رہا یہاں تک کہ ہم جابر بن عبداللہ سے ملے، ہم ان کے گھر آئے، اور لوگوں نے ان سے سوال پوچھے۔ پھر متعہ کی بات چھڑی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی پاک کی زندگی میں متعہ کیا، پھر ابو بکر کی زندگی میں، اور پھر عمر کے زمانے میں یہاں تک کہ ان کی خلافت کے آخری عرصے میں عمر ابن حریث نے متعہ کیا ایک عورت کے ساتھ، جابر نے اس کا نام لیا تاہم میں بھول گیا۔ وہ حاملہ ہو گئی، اور یہ بات عمر تک پہنچی، عمر نے اسے بلایا اور اس بارے میں پوچھا
عطا نے پھر کہا کہ میں نے ابن عباس سے سنا کہ اللہ عمر پر رحم کرے، متعہ اللہ کی جانب سے ایک رخصت تھی امت محمدیہ کے لیے۔ اگر اسے منع نہ کیا جاتا، تو سوائے شقی کے، کوئی زنا نہ کرتا
عربی متن یوں ہے

عبد الرزاق عن ابن جريج عن عطاء قال : لاول من سمعت منه المتعة صفوان بن يعلى ، قال : أخبرني عن يعلى أن معاوية
استمتع بامرأة بالطائف ، فأنكرت ذلك عليه ، فدخلنا على ابن عباس ، فذكر له بعضنا ، فقال له : نعم ، فلم يقر في نفسي ، حتى قدم جابر ابن عبد الله ، فجئناه في منزله ، فسأله القوم عن أشياء ، ثم ذكروا له المتعة ، فقال : نعم ، استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وأبي بكر ، وعمر ، حتى إذا كان في آخر خلافة عمر استمتع عمرو بن حريث بامرأة – سماها جابر فنسيتها – فحملت المرأة ، فبلغ ذلك عمر ، فدعاها فسألها ، فقالت : نعم ، قال : من أشهد ؟ قال عطاء : لا أدري قالت : أمي ، أم وليها ، قال : فهلا غيرهما ، قال : خشي أن يكون دغلا الاخر ، قال عطاء : وسمعت ابن عباس يقول : يرحم الله عمر ، ما كانت المتعة إلا رخصة من الله عزوجل ، رحم بها أمة محمد صلى الله عليه وسلم ، فلو لا نهيه عنها ما احتاج إلى الزنا إلا شقي

Link : http://islamport.com/d/1/mtn/1/115/4335.html

جواب

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: لَأَوَّلُ مَنْ سَمِعْتُ مِنْهُ الْمُتْعَةَ صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى قَالَ: أَخْبَرَنِي، عَنْ يَعْلَى، أَنَّ مُعَاوِيَةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ بِالطَّائِفِ فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِ

اسکی سند میں ابن جریج مدلس ہیں اور عن سے روایت ہے لھذا بن باز کا اس کو صحیح کہنا درست نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر یہ جائز سمجھا جاتا تو معاویہ رضی الله عنہ کو کوئی نہیں روک سکتا تھا کہ وہ اس کے جواز کا بھی فتوی دیتے اور اپنی خلافت میں اس کی اجازت دیتے لیکن ٢٠ سال کے دور میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا

موطا کی حدیث ہے
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ دَخَلَتْ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ: إِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ فَحَمَلَتْ مِنْهُ، فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَزِعًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: «هَذِهِ الْمُتْعَةُ. وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهَا، لَرَجَمْتُ»
خولہ بنت حکیم ، عمر رضی الله عنہ کے پاس آئیں اور کہا کہ ربیعیہ بن امیہ نے ایک عورت سے متعہ کیا جس سے وہ حاملہ ہوئی پس عمر نکلے جلدی سے اپنی چادر کو گھسیٹے ہوئے اور کہا یہ تو متعہ ہے

تاریخ دمشق کی روایت ہے کہ
حتى صعد المنبر فقال: إنه بلغني أن ربيعة بن أمية بن خلف، تزوج مولدةً من مولدات المدينة بشهادة امرأتين؛ وإني لو كنت قدمت في مثل هذا لرجمته.
عمر منبر پر چڑھے اور کہا مجھ تک دو عورتوں کی گواہی پہنچی ہے کہ ربيعة بن أمية بن خلف نے ایک دائی سے نکاح کیا اگر یہ پیش ہوا ہوتا تو میں اس میں رجم کرتا

ربيعة بن أمية بن خلف بن وهب بن حذافة ایک صحابی ہیں یہ شراب بھی پی لیتے تھے یہاں تک کہ عمر رضی الله عنہ کے دور میں یہ کوڑووں کے خوف سے شام چلے گئے
تاریخ دمشق کے مطابق
ربيعة بن أمية بن خلف بن وهب بن حذافة ابن جمح الجمحي القرشي (2) أدرك النبي (صلى الله عليه وسلم) وأسلم ثم شرب الخمر في خلافة عمر فهرب خوفا من إقامة الحد إلى الشام

ظاہر ہے اگر ایک صحابی نے کوئی غلط کام کیا شراب پی لی یا متعہ کیا تو اس پر اس کو آج جائز نہیں کہا جائے گا لگتا ہے یہ واقعہ شراب پینے کی وجہ سے ہوا
———

موطا امام محمد میں ہے
قَالَ مُحَمَّدٌ: الْمُتْعَةُ مَكْرُوهَةٌ، فَلا يَنْبَغِي، فَقَدْ نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَاءَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ، وَلا اثْنَيْنِ، وَقَوْلُ عُمَرَ: لَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهَا لَرَجَمْتُ، إِنَّمَا نَضَعُهُ مِنْ عُمَرَ عَلَى التَّهْدِيدِ، وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
امام محمد نے کہا متعہ مکروہ ہے پس یہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے منع کیا … اور عمر کا قول کہ اگر مجھ پر پہلے پیش ہوتا تو میں رجم کر دیتا یہ عمر کا اس کے خطرہ سے ڈرانا تھا اور یہی قول ابو حنیفہ جا ہے اور عام فقہاء کا ہے

أبو الحسنات (المتوفى: 1304هـ) التعليق الممجد على موطأ محمد میں لکھتے ہیں

وأخرج الطبراني في الأوسط عن سالم بن عبد الله قال: قيل لعبد الله بن عمر: إنَّ ابن عباس يأمر بنكاح المتعة، فقال: سبحان الله؟ ما أظنه يفعل هذا، قالوا: إنه يأمر به، قال: وهل كان ابن عباس إلاَّ غلاماً صغيراً في عهد رسول الله صلّى الله عليه وسلّم، نهانا رسول الله صلّى الله عليه وسلّم عن المتعة وما كنا مسافحين. وعن عمر أنه خطب حين استُخلف فقال: إن رسول الله أذن لنا في المتعة ثلاثاً ثم نهى عنه، أخرجه ابن المنذر والبيهقي.
طبرانی نے الاوسط میں روایت کیا ہے کہ سالم بن عبد الله نے عبد اللہ بن عمر سے کہا کہ ابن عباس متعہ کے نکاح کا حکم کرتے ہیں تو ابن عمر نے کہا سبحان اللہ میں نہیں گمان کرتا وہ یہ کرتے ہیں کہا وہ کرتے ہیں ابن عمر نے کہا ابن عباس تو ایک چھوٹے بچے تھے دور نبوی میں اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے متعہ سے منع کیا اور ہم فحاشی کرنے والے نہیں تھے اور جب عمر خلیفہ ہوئے انہوں نے کہا کہ رسول الله نے اس کی اجازت دی تین پھر منع کر دیا اس کی تخریج ابن منذر اور بیہقی نے کی ہے

ابو الحسنات لکھتے ہیں
والمشهور عن ابن عباس هو الحلُّ، لكن ثبت أنه رجع عنه،
اور مشھورہے کہ ابن عباس اس کو حلال کرتے تھے لیکن جو ثابت ہے کہ انہوں نے اس سے رجوع کیا

صحیح بخاری کی حدیث ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا [ص:13] شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ «فَرَخَّصَ»، فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ: إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الحَالِ الشَّدِيدِ، وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ؟ أَوْ نَحْوَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «نَعَمْ»

أَبِي جَمْرَةَ نے کہا میں نے ابن عباس کو کہتے سنا ان سے متعہ عورتوں سے کرنے پر سوال ہوا پس انہوں نے اس کی اجازت دی ان سے ایک آزاد کردہ غلام نے کہا یہ اس وقت ہے جب حالت شدید ہو عورتیں کم ہوں ابن عباس نے کہا ہاں

جمہور اصحاب رسول کی رائے اس کے خلاف تھی
——–

متعہ جمہور کے مطابق ایک وقت تھا جب جائز تھا اس کو کچھ اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نے کیا اس کے بعد اس سے منع کر دیا گیا اس میں کچھ شرطیں تھیں کہ ایام جنگ میں جائز کیا گیا جس میں اضطراری کیفیت تھی اور اس کو مقیم کے شہر میں نہیں کیا گیا اس میں نبی صلی الله علیہ وسلم سے پیشگی اجازت لی گئی

متعه کی ممانعت کب ہوئی اس میں بہت سی روایات ہیں کہا گیا ہے یہ جنگ خیبر سن ٧ میں منع ہوا لیکن بعض کے مطابق فتح مکہ کے سال سن ٨ ہجری میں منع ہوا

صحیح بخاری کی حدیث ہے
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ المُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، زَمَنَ خَيْبَرَ»
محمد بن علی سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے باپ علی رضی الله عنہ نے ابن عباس رضی الله عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع کیا اور پالتو گدھوں کے گوشت سے خیبر کے زمانے میں

صحیح بخاری کی حدیث ہے
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو، عَنِ الحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ: كُنَّا فِي جَيْشٍ، فَأَتَانَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا»
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ کہتے ہیں ہم ایک جنگ میں تھے پس رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا گیا بے شک انہوں نے اجازت دی متعہ پس کر لو

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «وَبَيَّنَهُ عَلِيٌّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ»
امام بخاری نے کہا پس علی نے وضاحت کر دی کہ یہ منسوخ ہے

——-

چونکہ ابن عبّاس نے اس کو جائز سمجھا ہے اس لیے امت میں اس پر ابہام آ گیا اور اہل تشیع نے ابن عباس کا فتوی لیا اور اہل سنت نے جمہور کا

صحیح مسلم میں ہے

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَامَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: «إِنَّ نَاسًا أَعْمَى اللهُ قُلُوبَهُمْ، كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ، يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ»، يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ، فَنَادَاهُ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَجِلْفٌ جَافٍ، فَلَعَمْرِي، لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ – يُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ: «فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ، فَوَاللهِ، لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ
عروه نے نے خبر دی کہ ابن زبیر نے مکہ میں خطبہ دیا انہوں نے کہا وہ جن کے دل الله نے اندھے کر دے جس طرح ان کی آنکھیں وہ متعہ کا کہتے ہیں اس پر ایک شخص نے اعتراض کیا اور پکارا اور کہا (اے ابن زبیر) تیری (آنکھ کی) پتلی تنگ ہے لعمری بے شک متعہ ہوا امام المتقین کے دور میں ان کا مقصد رسول الله صلی الله علیہ وسلم تھے پس ابن زبیر نے کہا تو اپنے اپ کو دیکھ- الله کی قسم اگر ایسا کیا تو میں تیرے پتھر سے تجھ کو رجم کروں گا
———–

جمہور اصحاب رسول نے اس کو منسوخ کہا ہے اور اس طرح یہ حرام بھی کہا گیا ہے

ابن عباس بھی اس کو عموم نہیں مانتے تھے بلکہ ایک اضطراری کیفیت میں جائز کہتے جب عورتیں کم ہوں اور عمل جنسی کرنے کی شدید خواہش ہو ظاہر ہے عورتیں کم کب ہوں گی جب اپ اپنے علاقے میں نہ ہوں اور دوران سفر ہوں

و الله اعلم

جواب

ربيعة بن أمية بن خلف الجمحي نے شراب پی ، عمر رضی الله عنہ نے ان کو جلاوطن کیا جب یہ چلے گئے تو بھید کھلا کہ یہ دائی سے متعہ بھی کر چکے ہیں اس کی خبر جب عمر رضی الله عنہ کو ہوئی انہوں نے کہا کہ پہلے پتا چلتا تو اس کو رجم کرتا

موطا امام مالک میں ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ دَخَلَتْ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ – رضي الله عنه – , فَقَالَتْ: إِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ مُوَلَّدَةٍ , فَحَمَلَتْ مِنْهُ، فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَزِعًا، وقَالَ: هَذِهِ الْمُتْعَةُ، وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهَا، لَرَجَمْتُ.

تاریخ مدینہ ابن شبہ میں ہے عمر نے کہا
بَلَغَنِي أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً سِرًّا فَحَمَلَتْ مِنْهُ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْ تُقُدِّمْتُ فِي هَذَا لَرَجَمْتُ فِيهِ
رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ نے ایک عورت سے خفیہ روجیت کی

اسی کتاب میں سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ کا قول ہے
أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَرَّبَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ فِي الْخَمْرِ، أُرَاهُ قَالَ: إِلَى خَيْبَرَ، فَلَحِقَ بِهِرَقْلَ فَتَنَصَّرَ , فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَا أُغَرِّبُ أَحَدًا بَعْدَهُ

عمر رضی الله عنہ نے رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ کو شراب پینے کی بنا پر خیبر جلا وطن کیا یہ وہاں سے نکل کر ھرقل سے مل گئے عمر نے کہا آئندہ کسی کو مغرب کی طرف نہیں بھیجوں گا

اسی کتاب کی روایت ہے
كَانَ قَدْ أَدْمَنَ الشَّرَابَ، فَشَرِبَ فِي رَمَضَانَ، فَضَرَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَغَرَّبَهُ إِلَى ذِي الرِّدَّةِ، فَلَمْ يَزَلْ بِهَا حَتَّى تُوُفِّيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ شراب کے عادی تھے پس عمر نے کوڑے لگوائے اور ذی الردہ کی طرف جلاوطن کیا یہاں تک کہ عمر رضی الله عنہ فوت ہوئے

الموطأ پر محمد مصطفى الأعظمي کی تعلیق میں یہ موجود ہے
یہ روم میں رہے یہاں تک کہ عثمان رضی الله عنہ نے ابو الأعور السلمي عَمْرو بْن سُفْيَانَ بْن قائف کو ان کے پاس بھیجا کہ واپس آئیں اور یہ واپس مدینہ ا گئے

معرفة الصحابة از أبو نعيم أحمد بن عبد الله بن أحمد بن إسحاق بن موسى بن مهران الأصبهاني (المتوفى: 430هـ)

معرفة الصحابة لابن منده از أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن محمد بن يحيى بن مَنْدَه العبدي (المتوفى: 395هـ)

معجم الصحابة از أبو القاسم عبد الله بن محمد بن عبد العزيز بن المَرْزُبان بن سابور بن شاهنشاه البغوي (المتوفى: 317هـ)

میں ان کا شمار اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا گیا ہے

تاریخ الطبری کی روایت ہے حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: لما قبض النبي ص كَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا، فَجَاءَ بَعْدَ ثَلاثٍ، وَلَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ أَنْ يَكْشِفَ عَنْ وَجْهِهِ، حَتَّى أُرْبِدَ بَطْنُهُ

کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا پیٹ پھول گیا اور ابو بکر صدیق رضی الله عنہ تین دن بعد آئے

اس کی سند منقطع ہے ابراہیم النخعی کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہوئی کتاب جامع التحصیل کے مطابق وقال علي بن المديني إبراهيم النخعي لم يلق أحدا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم

علی بن المدینی کہتے ہیں کہ ابراہیم کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہوئی دوم ان سے سننے والے ابی ایوب بھی  مجھول ہیں

کتاب المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري از  أكرم بن محمد زيادة الفالوجي الأثري کے مطابق . أبو أيوب – غير مسمى، ولا منسوب – من الخامسة، عن إبراهيم. وعنه: أبو معشر، زياد بن كليب، التميمي، الحنظلي، الكوفي (3219) لم أعرفه، ولم أجد له ترجمة

یہ ابو ایوب مجھول ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم  کے جنازہ پڑھنے سے متعلق تمام  روایات ضعیف ہیں

فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذَا أَنْتَ قُبِضْتَ فَمَنْ يُغَسِّلُكَ؟ وَفِيمَ نُكَفِّنُكَ؟ وَمَنْ يُصَلَّى عَلَيْكَ؟ وَمَنْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَمَّا الْغُسْلُ فاغْسِلْنِي أَنْتَ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْكَ الْمَاءَ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثَالِثُكُمَا، فَإِذَا أَنْتُمْ فَرَغْتُمْ مِنْ غُسْلِي فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَأْتِينِي بِحَنُوطٍ مِنَ الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنْتُمْ وَضَعْتُمُونِي عَلَى السَّرِيرِ فَضَعُونِي فِي الْمَسْجِدِ وَاخْرُجُوا عَنِّي، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ، ثُمَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا، ثُمَّ ادْخُلُوا، فَقُومُوا صُفُوفًا لَا يَتَقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ»

عبد المنعم بن إدريس بن سنان اليماني اپنے باپ سے وہ وھب بن منبہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا یا سول اللہ! جب آپ کی روح قبض ہو گی تو آپ کو غسل کون دے گا؟ ہم آپ کو کفن کس طرح دیں گے، آپ کی نماز جنازہ کون پڑھائے گا اور آپ کو قبر میں کون اُتارے گا؟ اس پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا غسل مجھے تم دینا، فضل بن عباس مجھ پر پانی بہائیں گے اور جبرئیل علیہ السلام تمہارے تیسرے ساتھی ہوں گے۔ سو جب تم میرے غسل سے فارغ ہوجاؤ تو مجھے تین نئے کپڑوں میں کفنانا اور جبرئیل علیہ السلام میرے لئے جنت سے حنوط (خوشبو) لائیں گے اور تم مجھے چارپائی میں رکھو تو مجھے مسجد میں رکھ کر مجھ سے پرے ہٹ جانا۔ چنانچہ سب سے پہلے جو میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے، وہ ربّ تعالیٰ عرش کے اوپر سے پڑھیں گے۔ پھر جبرئیل بعد ازاں میکائیل، اس کے بعد اسرافیل پھر تمام فرشتے جماعت در جماعت میری نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔ پھر تم حجرہ میں داخل ہونا اور صفوں میں کھڑے ہونا، کوئی بھی میرا پیش امام نہ بنے

طبرانی الکبیر میں اس کی سند ہے حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ

اس کی سند میں عبد المنعم بن إدريس بن سنان اليماني ہے دارقطنی کتاب الضعفاء والمتروكين کہتے ہیں اپنے باپ سے روایت کرنے میں متروک ہیں

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا بَهْزٌ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ، عَنْ أَبِي عَسِيبٍ، أَوْ أَبِي عَسِيمٍ، قَالَ بَهْزٌ: إِنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: «ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا» ، قَالَ: «فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ» ، قَالَ: ” فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ، قَالُوا: فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ، فَدَخَلَ، وَأَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَّ قَدَمَيْهِ، فَقَالَ: أَهِيلُوا عَلَيَّ التُّرَابَ، فَأَهَالُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ، حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَكَانَ يَقُولُ أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو عسیب ابو عسیم بیان کرتے ہیں وہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی نماز ِجنازہ میں حاضر ہوئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ آپ کی نمازِ جنازہ کیسے پڑھیں؟ اس پر صحابہ کرام نے کہا: ٹولیوں کی شکل میں شامل ہو جاؤ۔ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ایک دروازے سے داخل ہوتے اور آپ نماز ِجنازہ پڑھتے، پھر دوسرے دروازے سےنکل جاتے تھے پس جب آپ کو لحد میں رکھ دیا گیا مغیرہ نے کہا نبی صلی الله علیہ وسلم کے قدموں میں سے کوئی صحیح نہیں ہے پس کہا داخل ہو اور صحیح کرو پس ہاتھ ڈال کر قدم کو مس کیا کہا مٹی ڈالو پس مٹی ڈالی گئی یہاں تک کہ نصف پنڈلیوں کے پس اس کے بعد (دفنانے والے) باہر نکلے

یہ وہ واحد روایت کے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا جنازہ پڑھا گیا لیکن اس میں کچھ مشکلات ہیں

اول حجرہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا میں دو دروازے تھے کسی حدیث میں بیان نہیں ہوا

دوم قدم مبارک دفنانے میں صحیح انداز میں نہیں رکھا جا سکا اور پھر بعد میں اس کو ہاتھ ڈال کر درست کرنا پڑا بھی عجیب بات ہے جبکہ علی رضی الله تعالی عنہ وہاں موجود ہیں اور اہل بیت میں ہونے کی وجہ سے ان کی ذمہ داری ہے کہ تدفین کا انتظام کریں لیکن مغیرہ بن شعبہ رضی الله تعالی عنہ بتاتے ہیں کہ قدم درست نہیں رکھا گیا

دوسری روایت ہے کہ

مستدرک الحاکم کی روایت ہے حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا سَلَامُ بْنُ سُلَيْمٍ الطَّوِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ طَلِيقٍ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ عَبْدِ الله بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: مَنْ يُصَلِّي عَلَيْكَ يَا رَسُولَ الله فَبَكَى وَبَكَيْنَا وَقَالَ: «مَهْلًا، غَفَرَ الله لَكُمْ، وَجَزَاكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ خَيْرًا، إِذَا غَسَّلْتُمُونِي وَحَنَّطْتُمُونِي وَكَفَّنْتُمُونِي فَضَعُونِي عَلَى شَفِيرِ قَبْرِي، ثُمَّ اخْرِجُوا عَنِّي سَاعَةً، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ خَلِيلِي وَجَلِيسِي جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ، ثُمَّ مَلَكُ الْمَوْتِ مَعَ جُنُودٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، ثُمَّ لِيَبْدَأْ بِالصَّلَاةِ عَلَيَّ رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِي، ثُمَّ نِسَاؤُهُمْ، ثُمَّ ادْخُلُوا أَفْوَاجًا أَفْوَاجًا وَفُرَادَى وَلَا تُؤْذُونِي بِبَاكِيةٍ، وَلَا بِرَنَّةٍ وَلَا بِصَيْحَةٍ، وَمَنْ كَانَ غَائِبًا مِنْ أَصْحَابِي فَأَبْلِغُوهُ مِنِّي السَّلَامَ، فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ عَلَى أَنِّي قَدْ سَلَّمْتُ عَلَى مَنْ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَابَعَنِي عَلَى دِينِي هَذَا مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

جب رسو ل اللہ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو ہم نے پوچھا : یارسول اللہ! آپ کی نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا؟ اس پر آپ رو دیئے او رہم بھی اشک بار ہوگئے۔ پھر کچھ دیر بعد آپ نے فرمایا: اللہ تعالی تمہاری مغفرت فرمائے اور تمہارے نبی کی طرف سے تمہیں جزائے خیر دے۔ جب تم مجھے غسل دے لو ، مجھے کافور لگا لو اور مجھے کفن دے دو تو مجھے میری قبر کے کنارے رکھ دینا، پھر کچھ دیر کے لئے مجھ سے دور ہوجانا، چنانچہ سب سے پہلے میری نمازِ جنازہ میرے جبرئیل و میکائیل پڑھیں گے، پھر اسرافیل، ازاں بعد ملک الموت فرشتوں کے لشکروں سمیت میری نماز جنازہ پڑھیں گے۔پھر میری نمازِ جنازہ کا آغاز میرے اہل بیت کے فرد، ان کے بعد اہل بیت کی عورتیں کریں۔پھر تم گروہ در گروہ اور تنہا تنہا داخل ہونا(اور نماز ادا کرنا) الحاکم کہتے ہیں عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مَجْهُولٌ، لَا نَعْرِفُهُ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ وَالْبَاقُونَ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ ”

اس کی سند میں عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہے جو مجھول ہے

ابن ماجہ ، الشريعة از ابو بكر الآجُرِّيُّ البغدادي (المتوفى: 360هـ) میں روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ [ص:2362]: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: وَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الله , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَذَكَرَ وَفَاةَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ , وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ فِي بَيْتِهِ , وَقَدْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ , فَقَالَ قَائِلٌ: نَدْفِنُهُ فِي مَسْجِدِهِ , وَقَالَ قَائِلٌ: يُدْفَنُ مَعَ أَصْحَابِهِ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الله عَنْهُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا قُبِضَ نَبِيُّ إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ» فَرُفِعَ فِرَاشُ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ عَلَيْهِ فَحُفِرَ لَهُ تَحْتَهُ ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَالًا , الرِّجَالُ حَتَّى إِذَا فَرَغُوا دَخَلَ النِّسَاءُ , حَتَّى إِذَا فَرَغْنَ دَخَلَ الصِّبْيَانُ , وَلَمْ يَؤُمَّ النَّاسَ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ ثُمَّ دُفِنَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَسَطِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ عبدللہ ابن عبّاس رضی الله تعالی عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات منگل کو ہوئی … ابوبکر نے کہا کہ نبی جہاں وفات پائیں وہیں دفن ہوتے ہیں بدھ کی رات تدفین ہوئی

ابن ماجہ میں یہ بھی ہے کہ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، َقُثَمُ ُ، وَشُقْرَانُ مَوْلَى رَسُولِ الله  صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے آپ کو قبر میں اتارا

اس کی سند میں راوی حسين بن عبد الله ابن عبيد الله بن عباس بن عبد المطلب المدني ہے جو ضعیف ہے اس کے علاوہ محمّد بن اسحاق بن یسار ہے جو مختلف فیہ ہے

یہ روایت صحیح روایت کے بھی خلاف ہے جس کے مطابق آپ کی وفات پیر کو ہوئی

الموطأ میں امام مالک کہتے ہیں ان کو یہ بات پہنچی ہے

وَصَلَّى النَّاسُ عَلَيْهِ أَفْذَاذاً اور لوگوں نے الگ الگ نماز کی

صلی کا لفظ نماز کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور دعا کے لئے بھی لہذا اس میں واضح نہیں کہ باقاعدہ نماز جنازہ ہوئی

قرین قیاس بات یہ ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی نماز جنازہ نہیں ہوئی بلکہ اگر غور کریں تو اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ دعا تو عام لوگوں کے لئے کی جاتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو ہےکہ ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہیں جیسا قرآن میں ہے لہذا کسی نماز جنازہ کی ضرورت نہیں تھی

نبی صلی الله علیہ وسلم کو

كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا

یہ صحیح مسلم کی روایت ہے

الشمائل للترمذی ، مسند عبد بن حمید ، ،  المعجم الکبیر للطبرائی  دلائل النبوۃ للبیھقی السنن الکبری   للنسائی کی روایت ہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الله بْنُ دَاوُدَ قَالَ [ص:337]: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَأَفَاقَ، فَقَالَ: «حَضَرَتِ الصَّلَاةُ» ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: «مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ للنَّاسِ» – أَوْ قَالَ: بِالنَّاسِ – قَالَ: ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: «حَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: «مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، إِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمَقَامَ بَكَى فَلَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ قَالَ: ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ: «مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ أَوْ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ» قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، وَأُمِرَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً، فَقَالَ: «انْظُرُوا لِي مَنْ أَتَّكِئِ عَلَيْهِ» ، فَجَاءَتْ بَرِيرَةُ [ص:338] وَرَجُلٌ آخَرُ، فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِينْكُصَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَثْبُتَ مَكَانَهُ، حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلَاتَهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالله لَا أَسْمَعُ أَحَدًا يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ إِلَا ضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي هَذَا قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ أُمِّيِّينَ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ نَبِيٌّ قَبْلَهُ، فَأَمْسَكَ النَّاسُ، فَقَالُوا: يَا سَالِمُ، انْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادْعُهُ، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَيْتُهُ أَبْكِي دَهِشًا، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: أَقُبِضَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: إِنَّ عُمَرَ يَقُولُ: لَا أَسْمَعُ أَحَدًا يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ إِلَا ضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي هَذَا، فَقَالَ لِي: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَجَاءَ هُوَ وَالنَّاسُ قَدْ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْرِجُوا لِي، فَأَفْرَجُوا لَهُ فَجَاءَ حَتَّى أَكَبَّ عَلَيْهِ وَمَسَّهُ، فَقَالَ: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} [الزمر: 30] ثُمَّ قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقُبِضَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَعَلِمُوا أَنْ قَدْ صَدَقَ، قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُصَلَّى عَلَى رَسُولِ الله؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالُوا: وَكَيْفَ؟ قَالَ: يَدْخُلُ قَوْمٌ فَيُكَبِّرُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَدْعُونَ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ، ثُمَّ يَدْخُلُ قَوْمٌ فَيُكَبِّرُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَدْعُونَ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ، حَتَّى يَدْخُلَ النَّاسُ، قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُدْفَنُ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالُوا: أَينَ؟ قَالَ: فِي الْمكَانِ الَّذِي قَبَضَ الله فِيهِ رُوحَهُ، فَإِنَّ الله لَمْ يَقْبِضْ رُوحَهُ إِلَا فِي مَكَانٍ طَيِّبٍ. فَعَلِمُوا أَنْ قَدْ صَدَقَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَغْسِلَهُ بَنُو أَبِيهِ وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ يَتَشَاوَرُونَ، فَقَالُوا: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ نُدْخِلُهُمْ مَعَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ لَهُ مِثْلُ هَذِهِ الثَّلَاثِ {ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ الله مَعَنَا} [التوبة: 40] مَنْ هُمَا؟ قَالَ: ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ بَيْعَةً حَسَنَةً جَمِيلَةً

سالم عبید الاشجعیؓ بیان کرتے ہیں

رسول اللہ کے مرض میں آپ  پر غشی طاری ہوئی، پھر افاقہ ہو گیا۔ آپ  نے دریافت فرمایا کہ کیا نماز کا وقت ہوگیا ہے؟ عرض کی گئی، جی ہاں! آپ  نے فرمایا، بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائیں۔ سیدہ عائشہؓ نے عرض کی، میرے والد تو نہایت نرم دل آدمی ہیں۔ جب وہ اس جگہ (مصلی رسول) پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور نماز نہ پڑھا سکیں گے، اگر آپ کسی اور کو حکم دیں تو اچھا ہو گا۔ آپ  غشی طاری ہوئی، پھر افاقہ ہوا تو فرمایا، بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف والیاں ہو۔ پھر سیدنا بلالؓ کو حکم دیا گیا، انہوں نے اذان کہی اور سیدنا ابوبکرؓ کو حکم دیا گیا، انہوں نے نماز پڑھائی۔ پھر رسول اللہ  نے کچھ سکون محسوس کیا تو فرمایا، میرے سہارا لینے (اور مسجد جانے) کے لیے کسی کو دیکھو۔ بریرہ اور ایک آدمی آئے۔ آپ  نے ان دونوں کا سہارا لیا(اور مسجد میں آگئے)، جب سیدنا ابوبکرؓ نے آپ  کو دیکھا تو (مصلی امانت سے) پیچھے ہٹنے لگے، آپ  نے ان کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ اپنی جگہ میں رہیں، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکرؓ نے نمازپوری کر لی۔ پھر رسول اللہ  فوت ہوگئے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا، اللہ کی قسم! میں کسی کو یہ کہتے نہیں سنوں گا کہ رسول اللہ  فوت ہوگئے۔ مگر اپنی تلوار سے قتل کر دوں گا اور کہا، لوگ ان پڑھ تھے، ان میں آپ  سے پہلے کوئی نبی نہیں تھا (جہالت ابھی باقی ہے، پھر رسول اللہ  کیسے فوت ہو سکتے ہیں؟)۔ لوگ سہم گئے اور انہوں نے کہا، اے سالم! تم رسول اللہ  کے ساتھی (سیدنا ابوبکرؓ) کے پاس جاؤ اور ان کو بلاؤ۔ میں سیدنا ابوبکرؓ کے پاس گیا، آپؓ اپنی مسجد میں تھے، میں آپؓ کے پاس روتے ہوئے اور دہشت زوہ گیا۔ جب آپؓ نے مجھے دیکھا تو پوچھنے لگے، کیا رسول اللہ  وفات پا گئے ہیں؟ میں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ میں کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنوں گا، مگر اپنی اس تلوار سے اسے قتل کردوں گا۔ آپؓ نے مجھے فرمایا، چلو۔ میں آپؓ کے ساتھ چلا۔ آپؓ تشریف لائے تولوگ رسول اللہ  کے گھر میں داخل چکے تھے۔ آپؓ نے فرمایا، لوگو! مجھے راستہ دو! لوگوں نے آپؓ کو راستہ دے دیا۔ آپؓ آ کر رسول اللہ  پر جھک گئے اور آپ  کو بوسہ دیا، پھر قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:

(اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ)(الزمر:۳۰/۳۹)

(اے نبی! یقیناً آپ فوت ہونے والے ہیں اور وہ کافر بھی فوت ہونے والے ہیں)، پھر لوگوں نے کہا، اے اللہ کے رسول کے ساتھی! کیا رسول اللہ  فوت ہو گئے ہیں؟ آپؓ نے فرمایا، ہاں! لوگوں نے یقین کر لیا کہ آپؓ سچ کہہ رہے ہیں۔ لوگوں نےکہا، اے رسول اللہ  کے ساتھی! کیا رسول اللہ  کا جنازہ پڑھا جائے گا؟ آپؓ نے فرمایا، ہاں! انہوں نے کہا، کیسے؟ فرمایا، کچھ لوگ (حجرۂ عائشہ میں) داخل ہوں گے اور اللہ اکبر کہیں گے، درود و سلام پڑھیں گے اور دعا کریں گے، پھر وہ نکل آئیں گے، پھر کچھ لوگ داخل ہوں گے اور اللہ اکبر کہیں، درود و سلام پڑھیں گے اور دعا کرکے نکل آئیں گے، یہاں تک کہ(تمام) داخل ہو جائیں گے۔ لوگوں نے کہا، اے اللہ کے رسول  کے ساتھی؟ کیا رسول اللہ  کو دفن کیا جائے گا؟ فرمایا، ہاں! انہوں نے کہا، کہاں؟ فرمایا، اسی جگہ میں، جہاں اللہ تعالی نے ان کی روح قبض کی ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے ان کی روح عمدہ جگہ میں قبض فرمائی ہے۔ انہوں نے جان لیا کہ آپ نے سچ فرمایا ہے۔ پھر آپؓ نے حکم دیا کہ آپ  کو آپ کے خاندان والے غسل دیں۔ مہاجرین مشورہ کے لیے جمع ہوئے، انہوں نے کہا، آپ ہمارے ساتھ ہمارے انصاری بھائیوں کی طرف چلیں تاکہ ہم ان کو بھی اس معاملے میں اپنے ساتھ شامل کرلیں۔ انصار نے کہا، ایک امیر ہم میں سے ایک تم میں سے ہو گا۔ اس پر سیدنا عمربن خطابؓ نے فرمایا، کس کے لیے ان تین فضائل جیسی کوئی فضیلت ہے؟ اس جیسی منقبت کس کے لیے ہے؟

(ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ الله مَعَنَا) (التوبہ: ۴۰/۹)

 آپ  دو میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب آپ  اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے کہ گھبراؤ نہیں، اللہ ہمارے ساتھ ہے

 وہ دونوں کون ہیں؟ پھر آپ نے ہاتھ بڑھایا اوربیعت کی اور سب لوگوں نے اچھی اور خوبصورت بیعت کی۔

اس کی سند اتنی مظبوط نہیں

کتاب  الاغتباط بمن رمي من الرواة بالاختلاط از سبط ابن العجمي (المتوفى: 841هـ)  کے مطابق

سلمة بن نبيط بن شريط الأشجعي

قال البخاري يقال اختلط بآخره

بخاری کہتے ہیں آخری  عمر میں اختلاط کا شکار تھے

کتاب  إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از   مغلطاي    (المتوفى: 762هـ)کے مطابق

وذكره العقيلي في  جملة الضعفا

                                                                                                                                                عقیلی نے ان کا ذکر ضعیف راویوں میں کیا ہے

روایت کا متن بھی صحیح احادیث کے خلاف ہے اس میں ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے ابو بکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا انہوں نے نماز مکمل کی اور نبی صلی الله علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی

حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلَاتَهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ،

حالانکہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی کی وفات کے وقت ابو بکر مقام السنح میں تھے

اس روایت میں ہے کہ ابو بکر کی بیعت مسجد النبی میں ہوئی یہ بھی صحیح احادیث کے خلاف ہے

اسی طرح عمر رضی الله عنہ پر کوئی غم کی کیفیت نہیں ہے جبکہ صحیح احادیث میں ہے کہ انہوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ جس نے کہا رسول الله کی وفات ہوئی اس کی گردن اڑا دوں گا

لہذا یہ  منکر روایت ہے

شیعہ کہتے ہیں کہ  ابن سعد نے لکھا ہے

جب حضور کی وفات ہوئی اور حضرت عمر کو اس کی اطلاع ملی تو وہ مسجد نبوی میں آئے اور اتنے جوش سے تقریر فرمائی کہ ان کی دونوں باچھوں سے جھاگ نکلنے لگی. حضرت عمر نے کہا کہ حضور نے وفات نہیں پائی بلکہ ان کی روح معراج پر گئی ہے اور جلد واپس لوٹے گی. جس کسی نے بھی کہا کہ حضور فوت ہو گئے ہیں اس کے ہاتھ اور پاؤں تلوار سے کاٹ دئیے جائیں گے. اتنے میں حضرت عبّاس رضی اللہ عنہہ آئے اور حضرت عمر کو بتایا کہ حضور کے جسم سے بو آنے لگی ہے اور وہ واقعی وفات پا گئے ہیں. ان کو اب دفنا دیا جائے. تب جا کر کہیں حضرت عمر خاموش ہوۓ. (طبقات ابن سعد، جلد اول، حصّہ دوئم، صفحہ نمبر ٢٢٥)

یہ درست نہیں عمر رضی الله عنہ کو تو اسی روز یہ خیال آیا جس دن وفات ہوئی اور جس روز وفات ہوئی اس وقت تک جسد مطہر سڑتا کیسے؟ افسوس ان کی عقل پر اہل بیت جن کو یہ معصوم و طاہر کہتے ہیں ان سے بلند شخصیت نبی صلی الله علیہ وسلم کا جسد کیسے ناپاک ہو سکتا ہے

طبقات ابن سعد کی روایات میں واقدی اور ابن لہیہ وغیرہ ہیں جو قابل قبول نہیں دوم ان میں جسد میں سے بو انے منہ سے جھاگ نکلنے کا کوئی تذکرہ نہیں

آپ ان شیعہ کی عقلوں پر ماتم کریں ایک طرف تو کہتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا جسد تدفین سے پہلے ہی سڑ گیا اور دوسری طرف غلو میں انبیاء اور اماموں کو قبروں میں زندہ مانتے ہیں اور ان کے جسد کی بقا کے قائل ہیں- نبی کا جسد سڑ گیا؟ لیکن حسین کا کٹا ہوا سر مہینوں تلاوت کرتا رہا وہ نہیں سڑا سب بکواس ان کے مولویوں نے انکو سکھا دی ہے

اس کی دلیل ان کے مطابق  واقعہ قرطاس کی حدیث ہے جس میں الفاظ ہیں

قَالَ النَّبِى (صلى الله عليه وسلم) هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لا تَضِلُّوا بَعْدَهُ

نبی نے کہا جاؤ میں کچھ تمھارے لئے تحریرلکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو.

ان کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم لکھنا جانتے تھے لیکن ان کو سازش کے تحت لکھنے نہیں دیا گیا

لیکن یہ الفاظ مرض وفات میں وفات سے چار دن پہلے کہے اور طبعیت سنبھلنے پر واپس قلم و قرطاس کا حکم نہیں دیا لہذا

یہ الفاظ شدت مرض میں ادا ہوئے اور یہ حقیقت حال  اور قرآن کے خلاف ہیں نبی صلی الله علیہ وسلم لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے

صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ بیعت رضوان کے وقت آپ صلی الله علیہ وسلم نے کہا مجھے دکھاؤ کہاں محمد رسول الله لکھا ہے پھر آپ نے اس کو اپنے باتھ سے مٹا دیا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي البَرَاءُ رَضِيَ الله عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَرْسَلَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَسْتَأْذِنُهُمْ لِيَدْخُلَ مَكَّةَ، فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يُقِيمَ بِهَا إِلَّا ثَلاَثَ لَيَالٍ، وَلاَ يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ، وَلاَ يَدْعُوَ مِنْهُمْ أَحَدًا، قَالَ: فَأَخَذَ يَكْتُبُ الشَّرْطَ  بَيْنهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله، فَقَالُوا: لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ الله لَمْ نَمْنَعْكَ وَلَبَايَعْنَاكَ، وَلكِنِ اكْتُبْ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الله، فَقَالَ: «أَنَا وَالله مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَا وَالله رَسُولُ الله» قَالَ: وَكَانَ لاَ يَكْتُبُ، قَالَ: فَقَالَ لِعَلِيٍّ: «امْحَ رَسُولَ الله» فَقَالَ عَلِيٌّ: وَالله لاَ أَمْحَاهُ أَبَدًا، قَالَ: «فَأَرِنِيهِ»، قَالَ: فَأَرَاهُ إِيَّاهُ فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ،

بعض منکرین حدیث اور نام نہاد اہل حدیث بھی اس کے قائل ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم امی نہیں تھے ان کی دلیل یہ آیت ہے

وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ تم اس سے قبل کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے

سوره العنکبوت جو مکہ میں اتری ہے اس کی آیات میں یہ ہے ہی نہیں کہ آپ لکھنا پڑھنا سیکھ گئے تھے بلکہ یہ ہے کہ تم اس  سے قبل لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے

مدنی آیات میں بھی نبی کو امی کہا گیا ہے تفسیر طبری میں ہے حدثنا بشر قال : ثنا يزيد قال : ثنا سعيد ، عن قتادة قوله : ( وما كنت تتلو من قبله من كتاب ولا تخطه بيمينك ) قال : كان نبي الله لا يقرأ كتابا قبله ، ولا يخطه بيمينه ، قال : كان أميا ، والأمي : الذي لا يكتب

قتادہ کہتے ہیں نبی امی تھے اور امی وہ ہوتا ہے جو لکھنا نہ جانتا ہو

اور صحیح بخاری کی اوپر والی حدیث سے واضح ہے کہ آپ پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے

اس قرانی تناظر میں حق یہی ہے کہ قلم و قرطاس والی حدیث میں نبی کے الفاظ مرض کی شدت میں ادا ہوئے

جب  پہلی وحي آئی تو جبریل نے کہا کہ اقرا پڑھ  آپ نے فرمایا

ما انا بقارئ

میں نہیں  پڑھ سکتا

جواب  اس کی تفصیل قرآن و حدیث میں نہیں البتہ عیسائیوں کی کتب میں ہے کہ ان کی عمر ١٢ سال تھی

دیکھئے Protoevangelium of James

 یہودیوں میں ١٣ سال کے لڑکے اور ١٢ سال کی لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے

جواب

تاریخ الطبری کے مطابق زیاد بن کلیب، مغیرہ سے نقل کرتے ہیں کہ عمر بن الخطاب ، علی کے گھر کی طرف گئے ان کے گھر میں طلحہ زبیر اور مہاجرین تھے عمر نے کہا الله کی قسم میں تم سب کو آج اگ میں جلاؤں گا یا پھر بیعت کرنے نکلو

تاریخ الطبری میں سند ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: أَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَنْزِلَ عَلِيٍّ وَفِيهِ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَرِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ: وَالله لأَحْرِقَنَّ عَلَيْكُمْ أَوْ لَتَخْرُجُنَّ إِلَى الْبَيْعَةِ

أبو معشر الكوفى  زياد بن كليب التميمى الحنظلى المتوفی ١٢٠ ھ   نے عمر رضی الله عنہ  کا دور نہیں دیکھا  ان کو ثقہ کہا جاتا ہے لیکن میزان الاعتدال کے مطابق

قال أبو حاتم: ليس بالمتين في حفظه.

ابو حاتم کہتے ہیں ان کا حافظہ مظبوط نہیں

کتاب جمل من أنساب الأشراف از أحمد بن يحيى بن جابر بن داود البَلَاذُري (المتوفى: 279هـ) کے مطابق شیعوں کا ثقہ راوی الْمَدَائِنِيُّ کہتا ہے کہ

الْمَدَائِنِيُّ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مُحَارِبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التيمى، وعى ابْنِ عَوْنٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ يُرِيدُ الْبَيْعَةَ، فَلَمْ يُبَايِعْ. فَجَاءَ عُمَرُ، ومعه فتيلة   .

فتلقته فاطمة على الباب، فقالت فاطمة:  يا ابن الْخَطَّابِ، أَتُرَاكَ مُحَرِّقًا عَلَيَّ بَابِي؟ قَالَ: نَعَمْ، وَذَلِكَ أَقْوَى فِيمَا جَاءَ بِهِ أَبُوكِ. وَجَاءَ عَلِيٌّ، فَبَايَعَ وَقَالَ:

كُنْتُ عَزَمْتُ أَنْ لا أَخْرُجَ مِنْ مَنْزِلِي حَتَّى أَجْمَعَ الْقُرْآنَ

 فاطمہ نے عمر سے کہا اے ابن الخطاب کیا تم چاھتے ہو کہ میرے سامنے میرا دروازہ جلا دو ؟ عمر نے کہا ہاں … (اتنے میں ) علی آئے اور بیعت کر لی اور کہا میں  نے ارادہ کیا کہ  قرآن جمع  کر لو پھر اتا ہوں

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , نا عُبَيْدُ الله بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ أَنَّهُ حِينَ بُويِعَ لِأَبِي بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ يَدْخُلَانِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُشَاوِرُونَهَا وَيَرْتَجِعُونَ فِي أَمْرِهِمْ , فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ: «يَا بِنْتَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالله مَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ أَبِيكِ , وَمَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا بَعْدَ أَبِيكِ مِنْكِ , وَايْمُ الله مَا ذَاكَ بِمَانِعِي إِنِ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ عِنْدَكِ ; أَنْ أَمَرْتُهُمْ أَنْ يُحَرَّقَ عَلَيْهِمِ الْبَيْتُ» , قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ عُمَرُ جَاءُوهَا فَقَالَتْ: تَعْلَمُونَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ جَاءَنِي وَقَدْ حَلَفَ بِاللَّهِ لَئِنْ عُدْتُمْ لَيُحَرِّقَنَّ عَلَيْكُمُ الْبَيْتَ وَايْمُ الله لَيَمْضِيَنَّ لِمَا حَلَفَ عَلَيْهِ , فَانْصَرِفُوا رَاشِدِينَ , فَرَوْا رَأْيَكُمْ وَلَا تَرْجِعُوا إِلَيَّ , فَانْصَرَفُوا عَنْهَا فَلَمْ يَرْجِعُوا إِلَيْهَا حَتَّى بَايَعُوا لِأَبِي بَكْرٍ

زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابو بکر کی بیعت ہوئی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد تو علی اور زبیر، فاطمہ کے پاس آئے اور ان سے مشورہ کرنے لگے اور … پس جب اس کی خبر عمر کو ہوئی تو وہ فاطمہ کے پاس آئے اور کہا اے رسول اللہ کی بیٹی الله کی قسم ہم کو آپ کے باپ سے زیادہ کوئی محبوب نہ تھا اور ان کے بعد آپ سے زیادہ لیکن الله کے لئے یہ مجھے مانع نہ ہو گا کہ میں ایک جتھا اپ کے لئے لے آوں کہ وہ اس گھر کو جلا دے، پس جب عمر چلے گئے تو  فاطمہ نے  علی سے کہا  کیا اپ کو پتا ہے عمر آئے تھے اور الله کی قسم لے کر گئے ہیں کہ اگر دیر کی تو وہ گھر جلا ڈالیں گے اور الله کی قسم وہ یہ کر دیں گے جس کی قسم لی ہے پس سید ھے سیدھے جاؤ …. اور واپس نہ آنا حتی کہ ابو بکر کی بیعت کر لو

معلوم ہوا یہ سب متضاد قصے ہیں

ایک میں  ہے کہ عمر نے گھر جلانے کی دھمکی دی اور علی کو فاطمہ نے بھیجا کہ فورا بیعت کرو – عمر اور علی میں کوئی مکالمہ نہ ہوا

 دوسری میں ہے عمر اور  علی میں مکالمہ ہوا، علی نے بہانہ کیا کہ قرآن جمع کر رہا تھا

کچھ نے  اور ڈرامائی قصہ سنایا کہ فاطمہ کا حمل بھی ضائع ہوا

أبو الفتح محمد بن عبد الكريم بن أبى بكر أحمد الشهرستاني (المتوفى: 548هـ) نے کتاب الملل و النحل میں لکھا ہے کہ روافض یہ الزام لگاتے ہیں کہ

وزاد في الفرية فقال: إن عمر ضرب بطن فاطمة يوم البيعة حتى ألقت الجنين من بطنها

اور انہوں نے جھوٹ میں اضافہ کیا کہ عمر نے فاطمہ کو ضرب لگائی بیعت کے دن یہاں تک کہ حمل ضائع ہو گیا

اس کو شیعہ ویب سائٹ پر ایسے پیش کیا گیا ہے جیسے کہ الشهرستاني اس قول کے حق میں ہوں

یہی دھوکہ کتاب الوافی الوفیات از صلاح الدين خليل بن أيبك بن عبد الله الصفدي (المتوفى: 764هـ)

 کے حوالے سے پھیلایا  جا رہا ہے جس میں ہے

وَمِنْهَا ميله إِلَى الرَّفْض ووقوعه فِي أكَابِر الصَّحَابَة رَضِي الله عَنْهُم وَقَالَ نَص النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم على أَن الإِمَام عَليّ وعينه وَعرفت الصَّحَابَة ذَلِك وَلَكِن كتمه عمر لأجل أبي بكر رَضِي الله عَنْهُمَا وَقَالَ إِن عمر ضرب بطن فَاطِمَة يَوْم لبيعة حَتَّى أَلْقَت المحسن من بَطنهَا

اور ان (گمراہوں) میں سے کچھ رفض کی طرف مائل ہوئے اور اکابر صحابہ کو برا کہا اور کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے علی کی خلافت پر نص دی تھی لیکن اس کو عمر نے  چھپا دیا ابو بکر کے لئے اور کہا کہ عمر نے فاطمہ کو ضرب لگائی بیعت کے لئے بیعت  کےدن ، جس سے محسن پیٹ سے نکل آئے

الله کے شیر،  علی رضی الله کو ایسے پیش کرنا کہ وہ بیوی کا حمل ضائع ہونے پر بھی خاموش رہے کیا علی رضی الله عنہ کے شایان شان ہے ؟  اور جب گھر جلا ہی نہیں تو  اس قدر واویلا کیوں ؟  ایسا جھوٹ بولنے والے الله سے توبہ کریں

جواب

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہےمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , نا عُبَيْدُ الله بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ أَنَّهُ حِينَ بُويِعَ لِأَبِي بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ يَدْخُلَانِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُشَاوِرُونَهَا وَيَرْتَجِعُونَ فِي أَمْرِهِمْ , فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ: «يَا بِنْتَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالله مَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ أَبِيكِ , وَمَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا بَعْدَ أَبِيكِ مِنْكِ , وَايْمُ الله مَا ذَاكَ بِمَانِعِي إِنِ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ عِنْدَكِ ; أَنْ أَمَرْتُهُمْ أَنْ يُحَرَّقَ عَلَيْهِمِ الْبَيْتُ» , قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ عُمَرُ جَاءُوهَا فَقَالَتْ: تَعْلَمُونَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ جَاءَنِي وَقَدْ حَلَفَ بِاللَّهِ لَئِنْ عُدْتُمْ لَيُحَرِّقَنَّ عَلَيْكُمُ الْبَيْتَ وَايْمُ الله لَيَمْضِيَنَّ لِمَا حَلَفَ عَلَيْهِ , فَانْصَرِفُوا رَاشِدِينَ , فَرَوْا رَأْيَكُمْ وَلَا تَرْجِعُوا إِلَيَّ , فَانْصَرَفُوا عَنْهَا فَلَمْ يَرْجِعُوا إِلَيْهَا حَتَّى بَايَعُوا لِأَبِي بَكْرٍ

زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابو بکر کی بیعت ہوئی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد تو علی اور زبیر، فاطمہ کے پاس آئے اور ان سے مشورہ کرنے لگے اور … پس جب اس کی خبر عمر کو ہوئی تو وہ فاطمہ کے پاس آئے اور کہا اے رسول اللہ کی بیٹی الله کی قسم ہم کو آپ کے باپ سے زیادہ کوئی محبوب نہ تھا اور ان کے بعد آپ سے زیادہ لیکن الله کے لئے یہ مجھے مانع نہ ہو گا کہ میں ایک جتھا اپ کے لئے لے آوں کہ وہ اس گھر کو جلا دے، پس جب عمر چلے گئے تو فاطمہ نے علی سے کہا کیا اپ کو پتا ہے عمر آئے تھے اور الله کی قسم لے کر گئے ہیں کہ اگر دیر کی تو وہ گھر جلا ڈالیں گے اور الله کی قسم وہ یہ کر دیں گے جس کی قسم لی ہے پس سید ھے سیدھے جاؤ …. اور واپس نہ آنا حتی کہ ابو بکر کی بیعت کر لو

یہ روایت متن میں غیر واضح اور تنقیص علی رضی الله عنہ پر مبنی ہے – علی رضی الله عنہ ناراض تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ان کو اس سے مطلع کیا جاتا اور روایات سے معلوم ہے کہ ابو بکر اور عمر رضی الله عنہما سعد بن عبادہ کو روکنے گئے تھے جو انصار میں سے خلیفہ کا ارادہ رکھتے تھے- عبادہ کو یہ حدیث نہیں پہنچی تھی کہ خلفاء قریش میں سے ہوں گے اس کی وضاحت کے لئے ابو بکر و عمر نے عجلت کی اگر انصار میں سے کوئی خلیفہ ہو جاتا تو مسلمان دو حصوں میں بٹ جاتے ایک طرف انصار ہوتے اور دوسری طرف مہاجرین

اہل بیت اور زبیر رسول الله کے خاندان کے لوگ تھے یہ تدفین اور رشتہ داروں کے ساتھ تھے ان سب کو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سب ہو گیا ہے – الفرض اگر جانے سے پہلے شیخین مسجد النبی میں اعلان کرا دیتے کہ اس باغ میں یہ ہو رہا ہے ہم وہاں جا رہے ہیں تو یہ اشتعال پر مبنی ہوتی کیونکہ قریش اور مہاجرین بدک جاتے اور ان کے انصار سے تعلقات کشیدہ ہو جاتے

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ نے ابو بکر رضی الله عنہ کی بیعت نہیں کی کیونکہ ان کو لگا کہ اسلام میں اب انصار کا رول ختم ہو گیا ہے اب تو صرف قریشی خلفاء ہوں گے

علی رضی الله عنہ کسی سے ڈرنے والے نہ تھے ان کا اپنا مزاج تھا اور صحیح بخاری کے مطابق ٦ ماہ بعد انہوں نے ابو بکر کی بیعت کی

راقم مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت کو پہلے أَسْلَمُ العَدَوِيُّ العُمَرِيُّ مَوْلَى عُمَرَ بنِ الخَطَّابِ کی بڑھ کہا تھا لیکن تحقیق سے معلوم ہوا اس سند میں یہ  نہیں ہیں

یہ روایت فضائل صحابہ از احمد میں بھی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا أَبُو مَسْعُودٍ قَالَ: نا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا بُويِعَ لِأَبِي بَكْرٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ يَدْخُلَانِ عَلَى فَاطِمَةَ فَيُشَاوِرَانِهَا، فَبَلَغَ عُمَرَ فَدَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ: يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، مَا أَحَدٌ مِنَ الْخَلْقِ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ أَبِيكِ، وَمَا أَحَدٌ مِنَ الْخَلْقِ بَعْدَ أَبِيكِ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْكِ، وَكَلَّمَهَا، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ عَلَى فَاطِمَةَ فَقَالَتِ: انْصَرِفَا رَاشِدَيْنِ، فَمَا رَجَعَا إِلَيْهَا حَتَّى بَايَعَا.
——

مستدرک الحاکم میں ہے
حَدَّثَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفُ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَلِيٍّ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ، وَاللَّهِ مَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ أَبِيكِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْكِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ”
[التعليق – من تلخيص الذهبي] 4736 – غريب عجيب

اس کو عجیب و غریب الذھبی نے کہا ہے
سند میں زيد بن أسلم العَدَوِي العمري المدني المتوفی ١٣٦ ھ ہے جس کا ذکر ابن عدی نے الکامل میں کیا ہے لیکن ثقہ کہا ہے

دوسرے عبيد الله بن عمربن ميسرة القواريري المتوفی ٢٤٠ ھ ہیں جو حماد بن زید بصری کے ہم عصر ہیں یہ ثقہ ہیں

امکان ہے کہ یہ محمد بْن بِشْر بْن الفَرَافِصَة بْن المختار ، أبو عَبْد اللَّه الكُوفيُّ المتوفی ٢٣٠ ھ نے مرسل بیان کیا ہے کیونکہ دیگر اسناد میں واقعہ بیان نہیں ہوا جو محمد بن بشر العبدي نے بیان کیا ہے
محمد بن بشر العبدي ارسال بھی کرتا ہے – ممکن ہے یھاں ارسال ہو اور اصل نام نہیں لیا گیا جس نے اس واقعہ کو بیان کیا

لگتا ہے زيد بن أسلم اور عبيد الله بن عمربن ميسرة القواريري کے درمیان انقطاع ہے
البتہ الکامل از ابن عدی میں ہے
حماد بن زيد قال قدمت المدينة وأهل المدينة يتكلمون في زيد بْن أسلم فقلت لعبد اللَّه ما تقول في مولاكم هذا قَال: مَا نعلم به بأسا إلا أنه يفسر القرآن برأيه.
حماد بن زید نے کہا میں مدینہ پہنچا اور اہل مدینہ زید بن اسلم پر کلام کرتے پس میں نے عبد الله سے پوچھا کہ یہ اس پر کیا کہتے ہیں انہوں نے کہا یہ قرآن کی تفسیر رائے سے کرتا ہے

بعض کتابوں میں ہے کہ حماد سے اس کو عبيد الله بن عمربن ميسرة نے بیان کیا گویا عبيد الله بن عمربن ميسرة اتنے بڑے تھے کہ وہ زید پر تبصرہ کر سکتے تھے جبکہ ان دونوں کی وفات میں سو سال سے اوپر کا فرق ہے – اس قول سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ زید اور عبید الله کا سماع بھی ہوا ہے – کتب حدیث میں یہ واحد روایت ہے جو عبید الله نے زید کی سند سے بیان کی ہے

راقم  کو  مسند احمد میں سند ملی

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ الْأَنْصَارِيُّ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ

یھاں حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ اور زید کے درمیان دو راوی ہیں

مسند ابویعلی میں سند ہے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ»

یہاں عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ اور زید کے درمیان ایک راوی ہے

اسی کتاب میں بعض دفعہ ان کے درمیان دو راوی اتے ہیں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ

لہذا صحیح بات ہے کہ ُعبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ کا سماع زید بن اسلم سے نہیں ہے

اگر ایسا ہے تو پھر سند میں حدثنا کیوں ہے ؟ یہ اغلبا محمد بن بشر کی غلطی ہے

جواب

البانی صاحب کتاب سلسلہ احادیث الصحیحہ میں ایک روایت کے شاہد پر دلیل دیتے ہیں

كما في “تفسير ابن كثير” (4/159) – عن عبد الله البهي قال:
إني لفي المسجد حين خطب مروان فقال: إن الله تعالى قد أرى أمير المؤمنين
في (يزيد) رأياً حسناً وأن يستخلفه، فقد استخلف أبو بكر عمر- رضي الله عنهما-. فقال عبد الرحمن بن أبي بكر- رضي الله عنهما-: أهرقلية؟! إن أبا بكر- رضي
الله عنه- ما جعلها في أحد من ولده، وأحد من أهل بيته، ولا جعلها معاوية
إلا رحمة وكرامة لولده! فقال مروان: ألست الذي قال لوالديه: (أفٍّ لكما) ؟ فقال

عبد الرحمن: ألست يا مروان! ابن اللعين الذي لعن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أباك؟! قال: وسمعتهما عائشة- رضي الله عنها-، فقالت: يا مروان! أنت القائل لعبد الرحمنكذا وكذا؟! كذبت! ما فيه نزلت، ولكن نزلت في فلان بن فلان. ثم انتحب
مروان (!) ثم نزل عن المنبر حتى أتى باب حجرتها، فجعل يكلمها حتى انصرف. قلت: سكت عنه ابن كثير، وهو إسناد صحيح.

 جیسا کہ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ

عبداللہ بہی نے کہا کہ ہم مسجد میں تھے جب مروان نے خطبہ دیا کہ اللہ نے معاویہ کو یزید کے بارے میں اچھی رائے دی ہے، کہ وہ انہیں اپنا خلیفہ بنائے جیسے ابو بکر نے عمر کو خلیفہ بنایا۔ عبدالرحمن بن ابو بکر نے کہا کہ کیا ہرقل  کے مطابق؟ ابوبکر نے اپنی اولاد میں کسی کو نہیں بنایا نہ اپنے گھر والوں میں، معاویہ اپنی اولاد پر رحمت و کرامت کر رہا ہے۔ مروان نے کہا کہ تہمارے لیے یہ آیت آئی ہے۔ اس پر عبدالرحمن نے کہا یہ اے مروان! کیا تم لعنتی کے بیٹے نہیں جس کے باپ پر اللہ کے رسول نے لعنت کی؟ یہ عائشہ رضی الله عنہا نے سنا تو انہوں نے کہا کہ اے مروان! تم عبدالرحمن کے لیے فلان فلان چیز کے قائل ہو؟ تم نے جھوٹ بولا، یہ فلان فلان کے لیے نازل ہوئی۔ مروان نیچے اترا جلدی سے، اور آپ کے حجرے پر آیا، کچھ بولا اور پھر چلا گیا۔ 

میں البانی یہ کہتا ہوں کہ ابن کثیر اس پر چپ رہے ہیں، مگر یہ سند صحیح ہے

عبد الله البھی کا عائشہ رضی الله عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے کتاب جامع التحصیل کے مطابق امام احمد کے نزدیک ان کا سماع نہیں ہے

عبد الله البهي سئل أحمد بن حنبل هل سمع من عائشة رضي الله عنها قال ما أرى في هذا شيئا إنما يروي عن عروة

اہم سوال ہے کہ کیا علی رضی الله عنہ نے ہرقل کی سنت پر عمل نہ کیا؟

جواب ایک روایت کتاب الاحاد و المثانی از ابن ابی عاصم کی ہے

 أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ فَأَذِنَتْ لَهُ وَحْدَهُ، وَلَمْ يَدْخُلْ مَعَهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا دَخَلَ قَالَتْ عَائِشَةُ: «أَكُنْتَ تَأْمَنُ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ كَمَا قَتَلْتَ أَخِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ؟» قَالَ: مَا كُنْتِ تَفْعَلِينَ ذَلِكَ. قَالَتْ: «لِمَ؟» قَالَ: إِنِّي فِي بَيْتِ أَمْنٍ. قَالَتْ: «أَجَلْ»

 معاویہ رضی الله عنہ  مدینہ آئے  تو عائشہ رضی الله عنہا  سے ملنے گئے۔ ان کے ساتھ کوئی اندر نہ گیا۔  عائشہ  رضی الله عنہا نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کونسی چیز اس بات سے امن میں رکھے گی کہ میں ایک شخص کو لا کر نہ بیٹھاؤں جو تمہارا قتل کر دے جیسا کہ تم نے میرے بھائی محمد بن ابو بکر کا کیا۔ اس پر معاویہ نے کہا کہ آپ ایسا نہیں کریں گی۔ عائشہ رضی الله عنہا نے پوچھا کیوں؟ معاویہ نے کہا کہ میں امن والے گھر میں داخل ہو چکا ہوں- عائشہ رضی الله عنہا  نے کہا ٹھیک ہے

 کتاب جامع التحصیل از  صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق امام ابن معین کہتے ہیں کہ راوی معمر بن راشد نے امام الزہری سے نہیں سنا

يقول فيه معمر أخبرت عن الزهري يعني لم يسمعه منه

وہ معمر کے لئے کہتے کہ یہ الزہری کی خبر بھی دیتا ہے یعنی معمر نے ان سے نہیں سنا

معمر مدلس تھے اور یہ روایت بھی عن سے ہے لہذا قابل رد ہے

مستدرک حاکم کی روایت ہے

 أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ، عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: يَا مُعَاوِيَةُ، قَتَلْتَ حُجْرًا وَأَصْحَابَهُ وَفَعَلْتَ الَّذِي فَعَلْتَ أَمَا تَخْشَى أَنْ أَخْبَأَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ؟ قَالَ: لَا إِنِّي فِي بَيْتِ أَمَانٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ»

مروان بن حکم کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ  کے ساتھ  عائشہ رضی الله عنہا کے  پاس گیا۔ انہوں نے کہا کہ اے معاویہ تم نے حجر اور اس کے ساتھیوں کو مار ڈالا، اور وہ کیا جو کیا۔ کیا تم اس سے خوفزدہ نہیں کہ میں کسی کو بلا لوں تا کہ تم کو قتل کر دے۔ معاویہ نے کہا نہیں میں امن والے گھر میں ہوں۔ اور میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم  سے سنا کہ ایمان بربادی کو قید کر لیتی ہے۔ مومن بربادی یا تباہی نہیں کرتا

سند میں علی بن زید بن جدعان ہے جس کو دارقطنی ضعیف کہتے  ہیں المعلمي  فوائد میں ضعیف کہتے ہیں

ابن معین اور احمد ليس بشي کہتے ہیں

الغرض یہ روایات ضعیف ہیں

کونڈے ایک قسم کی نیاز ہے جو اہل تشیع کے ائمہ میں کسی کے لئے کی جاتی ہے- غیر الله کی نذر حرام ہے
لیکن چونکہ شیعوں کا امام عالم الغیب ہوتا ہے تو ان کے مطابق وہ سب جانتا ہے اور سفارش بھی کرتا ہے

بعض اہل سنت نے اس کو امیر معاویہ کی وفات کا دن کہا ہے جبکہ یہ تسلیم شدہ امر نہیں ہے انکی تاریخ وفات میں اختلاف ہے مثلا

کتاب المحبر میں محمد بن حبيب بن أمية بن عمرو الهاشمي، بالولاء، أبو جعفر البغدادي (المتوفى: 245هـ) لکھتے ہیں
مات معاوية لهلال رجب من سنة ستين
معاویہ کی موت ہوئی رجب کے ہلال پر سن ٦٠ ہجری میں
ہلال یعنی مہینے کے شروع میں

————-
تاريخ خليفة بن خياط کے مطابق
مَاتَ مُعَاوِيَة بِدِمَشْق يَوْم الْخَمِيس لثمان بَقينَ من رَجَب
معاویہ دمشق میں مرے جمرات کے دن جب رجب میں آٹھ دن رہ گئے
————-
تاریخ ابن خلدون میں ہے معاویہ
وتوفي في منتصف رجب
رجب کے بیچ میں مرے
——————-

کتاب المنتظم از ابن الجوزی میں ہے
توفي معاوية فِي رجب لأربع ليال خلت من سنة ستين
معاویہ کی وفات رجب میں چار رات گزرنے پر ہوئی سن ٦٠ ھ میں

————-

کتاب الكامل في التاريخ از ابن الأثير (المتوفى: 630هـ
کے مطابق
ثُمَّ مَاتَ بِدِمَشْقَ لِهِلَالِ رَجَبٍ، وَقِيلَ لِلنِّصْفِ مِنْهُ، وَقِيلَ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْهُ،
پھر دمشق میں معاویہ کی رجب کے ہلال پر وفات ہوئی اور کہا جاتا ہے رجب کے بیچ میں ہوئی اور کہا جاتا ہے جب اس میں آٹھ راتیں رہیں

لہذا اس کو معاویہ رضی الله عنہ کی وفات سے ملآنا صحیح نہیں ہے زبردستی کا جھگڑا ہے

کونڈوں کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ امام جعفر کی نیاز ہے جن کی وفات شوال میں ہوئی ہے اس پر اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ اصل میں معاویہ سے دشمنی ہے
راقم کی رائے : امام موسى الكاظم بن جعفر الصادق کی وفات رجب کی ہے اور اغلبا غلطی سے لوگوں کو امام موسی کے والد کا نام یاد رہ گیا اور عوام میں مشھور ہوا کہ یہ نیاز رجب میں امام جعفر کی ہے جبکہ یہ ان کے بیٹے موسى الكاظم بن جعفر الصادق کی تھی

غیر الله کی نذر ہر صورت حرام ہے چاہے کسی کی بھی ہو لیکن اس مسئلہ کو صحابہ دشمنی کہنا بھی صحیح نہیں ہے
مثلا اہل سنت ١٢ ربیع اول کو میلاد النبی بناتے ہیں لیکن اس کووفات کا دن بھی کہا جاتا ہے اور یہی دن بارہ وفات سے مشھور تھا
عوام میں مشھور باتوں کو تختہ مشق بنانا صحیح نہیں

شاید یہ کسی شیعہ عالم نے لکھا بھی نہیں ہو گا کہ ہم ایسا معاویہ دشمنی میں کرتے ہیں

عَنِ ‏‏ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما ‏‏قَالَ ‏ :قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ‏‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (‏ ‏لَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي ‏‏أُسْرِيَ ‏‏بِي فِيهَا ، أَتَتْ عَلَيَّ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ ، فَقُلْتُ : يَا ‏جِبْرِيلُ ‏،‏ مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ ؟ فَقَالَ : هَذِهِ رَائِحَةُ ‏‏مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ ‏‏وَأَوْلادِهَا ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا شَأْنُهَا ؟ قَالَ : بَيْنَا هِيَ تُمَشِّطُ ابْنَةَ ‏‏فِرْعَوْنَ ‏‏ذَاتَ يَوْمٍ ، إِذْ سَقَطَتْ ‏‏الْمِدْرَى ‏‏مِنْ يَدَيْهَا ، فَقَالَتْ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَقَالَتْ لَهَا ابْنَةُ ‏ ‏فِرْعَوْنَ :‏ ‏أَبِي ؟ قَالَتْ : لا ، وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّ أَبِيكِ اللَّهُ ، قَالَتْ : أُخْبِرُهُ ‏‏بِذَلِكَ ! قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخْبَرَتْهُ ، فَدَعَاهَا فَقَالَ : يَا فُلانَةُ ؛ وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرِي ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ؛ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ ، فَأَمَرَ بِبَقَرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا أَنْ‏ ‏تُلْقَى هِيَ وَأَوْلادُهَا فِيهَا ، قَالَتْ لَهُ : إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، قَالَ : وَمَا حَاجَتُكِ ؟ قَالَتْ : أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ وَلَدِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَتَدْفِنَنَا ، قَالَ : ذَلِكَ لَكِ عَلَيْنَا مِنْ الْحَقِّ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِأَوْلادِهَا فَأُلْقُوا بَيْنَ يَدَيْهَا وَاحِدًا وَاحِدًا إِلَى أَنْ انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى صَبِيٍّ لَهَا مُرْضَعٍ ، وَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجْلِهِ ، قَالَ : يَا ‏‏أُمَّهْ ؛‏ ‏اقْتَحِمِي فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ، فَاقْتَحَمَتْ ) . ‏‏قَالَ ‏‏ابْنُ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما : ‏تَكَلَّمَ أَرْبَعَةُ صِغَارٍ : ‏‏عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ‏‏عَلَيْهِ السَّلام ،‏ ‏وَصَاحِبُ ‏جُرَيْجٍ ،‏ ‏وَشَاهِدُ ‏‏يُوسُفَ ‏، ‏وَابْنُ ‏مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ .
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ اسراء کی رات ایک مقام سے مجھے نہایت ہی اعلیٰ خوشبو کی مہک آنے لگی۔ میں نے کہا اے جبریل ! یہ کیسی اچھی خوشبو ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی (خادمہ) اور اُس کی اَولاد کی ہے‘ اس کی شان پوچھی گئی توعرض کیا‘فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتے ہوئے اس مومنہ خاتون کے ہاتھ سے اتفاقاً کنگھی گر پڑی تو اس کی زبان سے بے ساختہ بسم اللہ نکل گیا۔ فرعون کی بیٹی نے کہا اللہ تو میرا باپ ہے۔ اُس (خادمہ) نے جواب دیا کہ نہیں، میرا اور تیرے باپ کا پروردگار اللہ ہے۔ فرعون کی بیٹی نے کہا کہ میں اس کی خبر اپنے باپ کو دے دوں گی تو اس نے کہی کوئی حرج نہیں۔پس اُس نے اپنے باپ کو ساری بات سُنائی۔ فرعون نے اُس (خادمہ) کو بلوایا اور کہا کیا تم میرے سوا کسی اور کو ربّ مانتی ہو۔ کہا ہاں میرا اور تیرا پروردگار اللہ ہے۔ فرعون نے اُسی وقت حکم دیا کہ تانبے کی گائے کو آگ میں تپایا جائے‘ جب وہ بالکل آگ جیسی ہو جائے تو پھر اِسے اور اِس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اُس میں ڈال دیا جائے۔ اُس مومنہ عورت نے فرعون سے کہا میری ایک درخواست ہے اُس نے کہا کیا ہے؟ اُس نے کہا میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کرکے دفن کردینا ۔ فرعون نے کہا اَچھا تیرے کچھ حقوق ہمارے ذمہ ہیں اِس لئے یہ منظور ہے۔
بعد ازیں فرعون نے حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اِس کے بچوں کو آگ کی طرح تپتی ہوئی آگ میں ڈال دو۔ جب دُودھ پیتے بچے کی باری آئی (فرعون کے سپاہیوں نے جب اُس بچے کو چھینا) تو وہ گھبرائی( تو اللہ تعالیٰ نے دُودھ پیتے بچے کو گویائی عطا فرمائی)۔ اُس نے (اپنی ماں سے) کہا امی جان اَفسوس نہ کریں بلکہ (آگ میں) ڈال دیں کیونکہ دنیا کا عذاب ،آخرت کےعذاب سے بہت ہلکا ہے، تب (ماں نے بچے کوآگ میں) ڈال دی ۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چارچھوٹے بچوں نے بات کی وہ یہ ہیں۔
(1)عیسی بن مریم علیہ السلام(2)صاحب جریج(3)یوسف کی گواہی دینے والا(4)فرعون کی بیٹی کی مشاطہ کا بیٹا

جواب

یہ مسند ابو یعلی موصلی، مسند البزار ، الرد على الجهمية ، مسند الإمام أحمد بن حنبل صحیح ابن حبان ، حاکم میں ہے
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

البانی نے «الضعيفة» (880) میں اس کو ضعیف کہا ہے کہ اس کے متن میں نکارت ہے – شعيب الأرنؤوط صحیح ابن حبان کی تعلیق میں سندہ قوی کہتے ہیں اور مسند احمد میں حسن کہتے ہیں – احمد شاکر مسند احمد پر تعلیق میں اس کو صحیح کہتے ہیں – امام حاکم اور الذھبی اس کو صحیح کہتے ہیں

جو صحیح کہتے ہیں وہ کہتے ہیں حماد بن سلمة سمع من عطاء قبل اختلاطه. حماد کا سماع عطا سے اختلاط سے قبل ہے
لیکن امام عقیلی کہتے ہیں
قال أبو سعيد العلائي: ” وذكر العقيلي أن حماد بن سلمة ممن سمع منه بعد الاختلاط.
حماد بن سلمہ نے عطا سے الاختلاط کے بعد سنا ہے

لہذا یہ روایت ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے

جواب

عبدالرحمن بن ابی بکر سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے زید بن حارثہ کو وادی القریٰ بھیجا، وہاں بنو فزارا سے ان کی مٹھ بھیڑ ہوئی۔ ان کے بہت سے ساتھی شہید ہوئے اور خود زید بھی مقتولین کے درمیان سے سخت مجروح اٹھائے گئے۔ اس واقعہ میں بنو بدر کے ایک شخص کے ہاتھ سے بنو سعد بن ہذیم کے ورد بن عمر مارے گئے۔ مدینہ آ کر زید نے عہد کیا کہ تا وقتیکہ وہ بنو فزارا پر چڑھائی نہ کر لیں، غسل جنابت بھی نہیں کریں گے۔ جب وہ اپنے زخموں سے صحت یاب ہوئے، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک فوج کے ساتھ بنو فزارہ کے ساتھ لڑنے کیلئے بھیجا۔ وادی القریٰ میں حریفوں کا مقابلہ ہوا، زیدؓ نے ان کے بہت سے آدمی قتل کر دیئے۔ قیس بن المسحر الیعمری نے معدہ بن حکمہ بن مالک بن بدر کو قتل کر دیا، اور ام قرفہ فاطمہ بن ربیعہ بن بدر کو جو مالک بن حذیفہ بن بدر کی بیوی تھی گرفتار کر لیا۔ یہ ایک بہت سن رسیدہ عورت تھی، اس کے ہمراہ اس کی ایک بیٹی اور عبداللہ بن معدہ بھی گرفتار ہوا۔ زید کے حکم سے ام قرفہ کو نہایت بے دردی سے اس طرح قتل کیا گیا کہ اس کے دونوں پیروں میں رسیاں باندھی گئیں اور پھر اسے دو اونٹوں کے درمیان لٹکا کر ان اونٹوں کو ہانکا گیا، جس سے اس کے دو ٹکڑے ہو گئے “۔

طبری:تاریخ الاامم و الملوک

حدثني ابن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر، قال بعث رسول الله ص زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَى وَادِي الْقُرَى، فَلَقِيَ بِهِ بَنِي فَزَارَةَ، فَأُصِيبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَارْتَثَّ زَيْدٌ مِنَ بَيْنِ الْقَتْلَى، وَأُصِيبَ فيها ورد ابن عَمْرٍو أَحَدُ بَنِي سَعْدٍ بَنِي هُذَيْمٍ، أَصَابَهُ أَحَدُ بَنِي بَدْرٍ، فَلَمَّا قَدِمَ زَيْدٌ نَذَرَ الا يَمَسَّ رَأْسَهُ غُسْلٌ مِنْ جَنَابَةٍ حَتَّى يَغْزُوَ فَزَارَةَ، فَلَمَّا اسْتَبَلَّ مِنْ جِرَاحِهِ بَعَثَهُ رَسُولُ الله ص فِي جَيْشٍ إِلَى بَنِي فَزَارَةَ، فَلَقِيَهُمْ بِوَادِي الْقُرَى، فَأَصَابَ فِيهِمْ، وَقَتَلَ قَيْسُ بْنُ الْمُسَحِّرِ الْيَعْمُرِيُّ مَسْعدَةَ بْنَ حِكْمَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ بَدْرٍ، وَأَسَرَ أُمَّ قِرْفَةَ- وَهِيَ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَبِيعَةَ بْنِ بَدْرٍ، وَكَانَتْ عِنْدَ مَالِكِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ، عَجُوزًا كَبِيرَةً- وَبِنْتًا لَهَا، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعَدَةَ فَأَمَرَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ أَنْ يَقْتُلَ أُمَّ قِرْفَةَ، فَقَتَلَهَا قَتْلا عَنِيفًا، رَبَطَ بِرِجْلَيْهَا حَبْلَيْنِ ثُمَّ رَبَطَهُمَا إِلَى بَعِيرَيْنِ حَتَّى شَقَّاهَا.

اس کی سند میں عبد الله بن أبي بكر، هو المقدمي، البصري ہے جو ضعیف ہے اور اس کی سند بھی منقطع ہے کیونکہ اس سے لے کر زید تک کی سند نہیں ہے

٢.

فاطمہ بنت ربیعہ

فاطمہ بنت ربیعہ المعروف ام قرفہ کا تعلق بنو فزارا نام کے بت پرست قبیلے سے تھا۔ وہ بارہ بیٹوں اور ایک انتہائی خوبصورت بیٹی کی ماں تھی۔ ام قرفہ وادی القریٰ کے ارد گرد کے تقریبا سو دیہات کی مشترکہ سردارنی/ رئیسہ تھی۔ اس کے سماجی مرتبے کے اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کے گھر میں پچاس سے زیادہ تلواریں لٹکی ہوئی تھیں ، جو مختلف قبائل کے سرداروں نے اسے عزت کے طور پر نذر کی تھیں۔ ایک روایت کے مطابق اگر کہیں دو قبیلے آپس میں لڑ پڑتے تھے تو انہیں لڑائی سے روکنے کیلئے ام قرفہ کا دوپٹہ بھیجا جاتا تھا جسے نیزے پر نصب کر کے میدان جنگ میں گاڑ دیا جاتا تھا اور لڑائی فوراََ بند ہو جایا کرتی تھی۔
۔” راوی کہتا ہے کہ ام قرفہ اپنی قوم میں ایسی بلند مرتبہ سمجھی جاتی تھی۔ کہ لوگ تمنا کیا کرتے تھے کہ ہم کو ام قرفہ کی سی عزت نصیب ہو”۔

ابن اسحاق، سیرۃ رسول اللہ

جواب
یہ ایک قصہ میں کردار ہے اس سے زیادہ نہیں اور اس قصہ کی سند نہیں

٣.

ہم (جابرؓ بن عبداللہ) نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ بھی بکریاں چراتے تھے۔ فرمایا، ہاں، اور کوئی ایسا پیغمبر نہیں جس نے نہ چرائی ہوں۔
طبقات ابن سعد، جلد اول، صفحہ 139

جواب
یہ اگر کسی نے تنقید کے لئے پیش کی ہے تو جاہل ہے اصل میں بکری چرانا یعنی گلہ بانی کا کہا گیا ہے نہ کہ سرقه کرنا
عربی متن میں گلہ بانی ہے

٤.

قتیلہ بنت نوفل

سیرۃ کی تمام کتابوں میں ایک عورت کا ذکر ہے، جس کا نام قتیلہ بنت نوفل بتایا جاتا ہے، وہ عورت کعبہ کے نزدیک رہتی تھی۔ ایک دن جب عبداللہ بن عبدالمطلب اپنے باپ کے ساتھ جا رہے تھے اور اس عورت کے پاس سے گذرے تو اس نے کہا:

۔” اے عبداللہ، کہاں جاتے ہو؟، فرمایا، اپنے والد کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اس نے کہا جتنے اونٹ تمہاری طرف سے ذبح کئے گئے ہیں، اسی قدر میں تمہاری نذر کرتی ہوں، مجھ سے شادی کر لو۔ عبداللہ نے فرمایا، میں اپنے باپ کا مطیع فرمان ہوں، ان کی منشا کے خلاف نہیں کر سکتا“۔

سیرۃ رسول اللہ، ابن اسحاق

جواب
کعبه کسی کا گھر نہیں تھا کہ کوئی عورت اس میں رہ جائے اس کو کھولنے اور بعد کرنے اور اس کو چوکیداری کا مکمل انتظام تھا جو ایام جاہلیت سے چلا آ رہا تھا اور اسلام میں اس کو باقی رکھا گیا
عن محمد بن إسحاق قال: لما فدي عبد الله بن عبد المطلب من الذبح بمائة من الإبل ونحرت عنه انصرف عبد المطلب آخذا بيد ابنه عبد الله فمر به على امرأة من بني أسد وهي عند الكعبة فقالت له حين نظرت إلى وجهه: أين تذهب يا عبد الله؟ قال: مع أبي، قالت: لك مثل الإبل قوله: «عن محمد بن إسحاق» :
هو في سيرته [/ 42] ، ومن طريقه ابن هشام [1/ 155] ، والبيهقي في الدلائل [1/ 102]

إس مين ایک قصہ ہے کہ عبد الله کے اندر نور تھا جو انکی پشانی سے جھلکتا تھا اور یہ نور ان سے آمنہ کے رحم میں منتقل ہوا جو ولادت نبوی کے وقت نکلا جس سے شام تک کے محل روشن ہو گئے اور فارس کا اتش کدہ بجھ گیا اور بت گر گئے وغیرہ
ان کی اسناد میں رآویوں پر جھوٹ تک کا حکم محدثین نے لگایا ہے

٥.

۔”حضرت طلق بن علیؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو صحبت کیلئے بلائے تو وہ ہر حال میں اس کے پاس جائے، خواہ وہ تندور پر ( روٹیاں پکا رہی ) ہی کیوں نہ ہو”۔

جامع ترمذی، ابواب الرضاع، حدیث نمبر 1031

جواب

اس کی سند میں قیس بن علی ہے جس پر محدثین کہتے ہیں

قيس بن طلق [عو] بن علي الحنفي.
عن أبيه.
ضعفه أحمد، ويحيى في إحدى الروايتين عنه.
وقال ابن أبي حاتم: سألت أبي وأبا زرعة عنه، فقالا: ليس ممن تقوم به حجة.
قال ابن القطان: يقتضى أن يكون خبره حسنا لا صحيحا.
امام احمد اور یحیی نے اس کو تضعیف کی ہے
ابن ابی حاتم کہتے ہیں اس سے حجت قائم نہیں ہوتی
ابن القطان کہتے ہیں اس کی خبر صحیح نہیں حسن ہے

لہذا یہ ایک روایت ہے جو مظبوط نہیں ہے

اسلام سے قبل عرب معاشرہ میں عورتوں کی دو حصوں میں تقسیم تھی ایک وہ تھیں جو خاندان میں دولت کی وجہسے ایک مقام رکھتی تھیں اور تجارت کرتی تھیں اور مردوں کو ملازم رکھتی تھیں اس میں خدیجہ رضی الله عنہا ایک ایسی ہی مال دار عورت تھیں
بعض عورتیں شاعری بھی کرتی تھیں اور سرداروں کو بیویاں جنگوں میں ان سے ساتھ بھی ہوتی تھیں
بعض جنگ میں آگے آگے جزر پڑھتی اور لوگوں کو جنگ کے لئے ابھرتی تھیں

اس کے علاوہ جو لوگ مکہ میں اتے قریش مکہ باہر والوں کے لباس اترواتے تھے اور اس کو بے حیائی نہیں سمجھا جاتا تھا
عرب کے علاوہ پوری دنیا میں لونڈیاں رکھی جاتی تھیں جو معاشرہ کا کمزور طبقہ تھا
اسلام نے اس طبقہ کو ختم نہیں کیا لیکن ان کو آزاد کرنا نیکی کر یا اور ان کو رکھنا ایک کنٹریکٹ بنا دیا
لہذا مسلمان لونڈیاں عموما جنگوں میں ملنے والی غیر عرب عورتیں ہوتی گئیں جو نو مسلم تھیں یا اہل کتاب میں سے تھیں

تمام عرب لڑکیوں کو دفن نہیں کرتے تھے بلکہ یہ چند قبائل کا عمل تھا لیکن عوام میں اولاد نرینہ کو مادہ پر فوقیت دی جاتی تھی

جواب

اس کے بارے میں مشھور قول ہے کہ انکی عمر ٤٠ سال تھی

دیکھئے طبقات  ابن سعد 1/ 132 و 8/ 17 عن الواقدي ،  والطبري 2/ 280 عن الكلبي، وقال البلاذري 1/ 98: وذلك الثبت عند العلماء. وانظر السبل 2/ 225.

سیرت نگاروں نے ان کو قبول کیا ہے

یہ سب شیعہ مورخین مثلا واقدی ،کلبی،  بلاذری  کے اقوال ہیں اور اس عمر پر عورتیں بچے جننے کے قابل نہیں رہتیں لہذا صرف تیسری  بیٹی فاطمہ رضی الله عنہا کی پیدائش ثابت کرنے کے لئے اس کو بیان کیا گیا کیونکہ شیعوں کے نزدیک رسول الله کی باقی تین بیٹیاں خدیجہ رضی الله عنہا کے پہلے شوہر سے تھیں

بیہقی نے دلائل النبوه میں أبو عبد الله الحاكم اور مصعب بن عبد الله الزبيري کے مطابق عمر ٤٠ کے قریب تھی
ابن عساکر کے مطابق حكيم بن حزام کے مطابق عمر چالیس تھی

غیر مقلد علماء کے مطابق بھی چالیس سال تھی  الرحيق المختوم از  صفي الرحمن المباركفوري

بعض اہل سنت کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم کی  بیٹی ام کلثوم  کی پیدائش ١٩ قبل نبوت میں ہوئی (یعنی جب رسول الله ٢١ سال کے تھے) اور فاطمہ کی بعثت نبوی سے پانچ سال پہلے

انساب کے ماہر امام ابن حزم کتاب جمهرة أنساب العرب میں کہتے ہیں

زينب، أكبرهنّ؛ وتاليتها رقيّة؛ وتاليتها فاطمة؛ وتاليتها أم كلثوم. أم جميع ولده صلى الله عليه وسلم

زینب سب سے بڑی تھیں پھر رقیہ پھر فاطمہ اور پھر ام کلثوم اور یہ تمام رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اولاد ہیں

راقم کے نزدیک یہ قول صحیح ہے

شیعوں کی کتاب  تاريخ أهل البيت (ع) – رواية كبار المحدثين والمؤرخين – ص 90 – 92  از آلسيد محمد رضا الحسيني کے مطابق
ولد النبي صلى الله عليه وآله قال الفريابي : حدثني أخي عبد الله بن محمد – وكان عالما بأمر أهل البيت : حدثني أبي : حدثني ابن سنان ، عن أبي بصير : ( 2 ) . عن أبي عبد الله عليه السلام ، قال : ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله ، من خديجة : القاسم وعبد الله و ( هو ) الطاهر ( 3 ) . ‹ صفحة 92 › وزينب ورقية وأم كلثوم وفاطمة عليها السلام ومن مارية القبطية – أهداها إلى النبي صلى الله عليه وآله ، ملك الإسكندرية المقوقس – : إبراهيم .

ابی عبد الله علیہ السلام کہتے ہیں خدیجہ سے رسول الله صلی الله علیہ و الہ کی اولاد ہوئی قاسم اور عبد الله اور طاہر اور زینب اور رقیہ اور ام کلثوم اور فاطمہ

یعنی شیعہ  کتب میں سچ بھی بولا گیا ہے جس کی یہ مثال ہے

انساب الاشراف از بلاذری میں ہے پہلے قاسم کی ولادت ہوئی
الْقَاسِم بْن رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وبه كَانَ يكنى. ومات وقد مشى، وهو ابن سنتين.
قاسم دو سال کی عمر میں فوت ہوئے

پھر
زينب بنت رسول الله. وهي أكبر بنات رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
زینب پیدا ہوئیں جو سن سے بڑی تھیں

اور رقیہ ام کلثوم اور فاطمہ پیدا ہوئیں
—–
ابن حزم انساب میں لکھتے ہیں
وكان  لرسول الله صلى الله عليه وسلم من الولد سوى إبراهيم: القاسم، وآخر اختلف في اسمه، فقيل: الطاهر، وقيل: الطيّب، وقيل: عبد الله، وقيل: عبد العزى  ، ماتوا صغاراً جدّا.
اور رسول الله کے بیٹے ابراہیم کے علاوہ قاسم پیدا ہوئے اور ایک اور جن کے نام میں اختلاف ہے
کہا جاتا ہے طاہر یا طیب یا عبد الله یا عبد العزی

یعنی نبوت سے قبل قاسم اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں

مصعب الزُّبيريُّ کہتے ہیں دوسرے بیٹے
وُلِدَ بعد الوحي
طیب یا طاہر نبوت کے بعد پیدا ہوئے
اس میں کہیں بھی سال کا ذکر نہیں ہے کہ کب کون پیدا ہوا

اسی طرح ابراہیم مدینہ میں پیدا ہوئے

جواب

یہ بات کہ جویرہ رضی الله عنہا کسی اور کی لونڈی بنیں پھر انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے مدد مانگی اور اپ نے ان سے شادی کی سیرت ابن ھشام میں ہے
أخرجه ابن راهويه في “مسنده” (725) ، وأبو داود (3931) ،وابن الجارود فى “المنتقى” (705) ، وأبو يعلى في “مسنده” (4963) ،والطبرى فى “التاريخ” 2/610، والطحاوي في “شرح مشكل الآثار” (4748) ،وفى “شرح معانى الآثار 3/21،” وابن حبان في “صحيحه” (4054) و (4055) ، والطبرانى فى “الكبير” (159) /24،والحاكم في “المستدرك” 4/26، والبيهقى فى “السنن

أخرجه ابن هشام في ” السيرة ” 2 / 294، 295، عن ابن إسحاق ومن طريقه أحمد 6 / 277 حدثني محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت: لما قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم سبايا بني المصطلق، وقعت جويرية بنت الحارث في السهم لثابت بن قيس بن الشماس أو لابن عم له، فكاتبته على نفسها، وكانت امرأة حلوة ملاحة لا يراها أحد إلا أخذت بنفسه، فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم نستعينه في كتابتها، قالت عائشة: فوالله ما هو إلا أن رأيتها على باب حجرتي، فكرهتها وعرفت أنه سيرى فيها صلى الله عليه وسلم ما رأيت، فدخلت عليه فقالت: يا رسول الله أنا جويرية بنت الحارث بن أبي ضرار سيد قومه، وقد أصابني من البلاء ما لم يخف عليك، فوقعت في السهم لثابت بن قيس بن الشماس أو لابن عم له، فكاتبته على نفسي، فجئتك أستعينك على كتابتي، وأتزوجك، قالت: نعم يا رسول الله.قال: ” قد فعلت “، قالت: وخرج الخبر إلى الناس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد تزوج جويرية ابنة الحارث بن أبي ضرار، فقال الناس: أصهار رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأرسلوا ما بأيديهم، قالت: فلقد أعتق لتزويجه إياها مئة أهل بيت من بني المصطلق، فما أعلم امرأة كانت أعظم على قومها بركة منها.

اس کی تمام اسناد میں ابن اسحاق کا تفرد ہے جو امام مالک کے نزدیک دجالوں سے ایک دجال ہیں- ابن اسحاق کی منفرد روایت قابل رد ہے
احمد کہتے ہیں اس کی روایت حلال و حرام میں نہیں لی جائے گی
غزوہ بنو المصطلق سن ٥ میں ہوا ایسا بعض نے کہا ہے اور ٣ ہجری کا بھی قول ہے
یعنی مدینہ انے کے تیسرے سال یہ جنگ ہوئی جس میں جویرہ رضی الله عنہا ملیں

روایت مظبوط نہیں ہیں طبقات ابن سعد کی سند ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ
اس میں زَيْدِ بْنِ قُسَيْطٍ مجھول ہے یا یہ یزید ہے لیکن یہ بھی مجھول ہے

طبقات ابن سعد میں ہے
وَكَانَتْ مِنْ مِلْكِ يَمِينِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
جویرہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی لونڈی تھیں پھر اپ نے ان سے نکاح کر لیا
سند ہے
أَخْبَرَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ
یہ مرسل تابعی ہے صحابی تک نہیں جاتی

طبقات میں یہ بھی ہے کہ جویرہ کے والد آئے اورگزارش کی کہ ان کی بیٹی کو آزاد کر دیا جائے پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان سے شادی کی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ قَالَ: حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلابَةَ أَنَّ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – سَبَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَجَاءَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ –
فَقَالَ: إِنَّ ابْنَتِي لا يُسْبَى مِثْلُهَا فَأَنَا أَكْرَمُ مِنْ ذَاكَ فَخَلِّ سَبِيلَهَا. قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ خَيَّرْنَاهَا أَلَيْسَ قَدْ أَحْسَنَّا؟ قَالَ: بَلَى وَأَدَّيْتَ مَا عَلَيْكَ. قَالَ: فَأَتَاهَا أَبُوهَا فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ خَيَّرَكِ فَلا تَفْضَحِينَا. فَقَالَتْ: فَإِنِّي قَدِ اخْتَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: قَدْ وَاللَّهِ فَضَحَتْنَا.

یعنی مورخین نے اس میں دو اقوال دیے ہیں ایک وہ ہے جس میں ہے وہ کسی اور کی لونڈی تھیں اور پھر اپنا مقدمہ رسول الله کے سامنے رکھا دوسرا ہے وہ نبی کی ہی لونڈی تھیں لیکن ان کے باپ کی درخواست پر رسول الله نے ان سے نکاح کیا ان کے باب حارث اور چچا زاد مُسَافِعُ بنُ صَفْوَانَ بنِ أَبِي الشُّفَرِ دونوں مسلمان ہوئے
راقم کہتا ہے باپ والی بات زیادہ صحیح ہے کیونکہ ان کا صحابی ہونا پتا ہے

جواب

سوره الفتح میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بشارت دی گئی
لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا
کہ الله اپ کے پچھلے اور اگلے گناہ معاف کر دے اور نعمت تمام کر دے اور سیدھے رستہ پر ہدایت دے

اور سوره النصر میں کہا استغفار کرو وہ توبہ قبول کرے گا

وفات سے چند دن پہلے رسول الله نے خبر دی کہ ایک بندے کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ دینا کو لیں یا آخرت کو
عائشہ رضی الله عنہا نے کہا کہ اپ نے جو الفاظ کہے اس پر میں جان گئی کہ اپ نے آخرت کو چن لیا ہے
اور سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کی آخری دور کی حدیث میں خواب میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ان کا بہشت میں مقام دکھا دیا گیا اور کہا گیا کہ زندگی پوری کر کے ہاں ا جائیں گے

اس طرح رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نماز جنازہ کی ضرورت ختم ہوئی ان کی نماز جنازہ نہیں ہوئی

نماز جنازہ تو اس کی ہوتی ہے جس کے گناہ ہوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے ایسا ہم قبول نہیں کرتے کہ ان کے نامہ اعمال میں وفات کے وقت گناہ تھے لہذا اس بنا پر ان کی نماز جنازہ کا کسی صحیح السند روایت میں ذکر نہیں ہے
موطا میں ہے کہ امام مالک کو پہنچا کہ نبی کی وفات پیر کو ہوئی اور تدفین منگل کو
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تُوُفِّيَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، وَدُفِنَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَصَلَّى النَّاسُ عَلَيْهِ أَفْذَاذًا لَا يَؤُمُّهُمْ أَحَدٌ»
إس میں بَلَغَهُ ہے یعنی پہنچا یہ باقاعدہ روایت نہیں ہوا صرف زبان زد عام کی طرح مدینہ میں مشھور تھا کہ رسول الله پر لوگوں الگ الگ صلی کیا
یہ بات موطا کے تمام نسخوں میں نہیں ہے صرف ایک کاتب کی سند میں ہے امام محمد اس کو روایت نہیں کرتے
صلی راقم کے نزدیک یہاں نماز نہیں درود ہے

مسند احمد میں أبو عسيب مولى رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یا أَبِي عَسِيمٍ نام کے ایک شخص سے ایک روایت ہے جس کا متن عجیب و غریب ہے اس میں ہے نماز ہوئی
حَدَّثَنَا بَهْزٌ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ، عَنْ أَبِي عَسِيبٍ، أَوْ أَبِي عَسِيمٍ، قَالَ بَهْزٌ: إِنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: ” ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا “، قَالَ: ” فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ “، قَالَ: ” فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ، قَالُوا: فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ، فَدَخَلَ، وَأَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَّ قَدَمَيْهِ، فَقَالَ: أَهِيلُوا عَلَيَّ التُّرَابَ، فَأَهَالُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ، حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَكَانَ يَقُولُ أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”

البغوي کہتے ہیں : لا أدري له صحبة أم لا نہیں جانتا کہ یہ صحابی بھی ہے یا نہیں
ابن حجر نے الإصابة في تمييز الصحابة میں أبو عسيب اور أبو عسيم کو دو الگ لوگوں میں شمار کیا ہے

سوال یہ ہے کہ جو اماموں کو معصوم عن الخطاء سمجھتے ہیں وہ اماموں کی نماز جنازہ کیوں پڑھتے ہیں؟

اس پر مزید بحث یہاں ہے

⇓ تاریخ الطبری کی روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا جسم تین دن بعد دفن ہوا کیا یہ بات صحیح ہے؟ کیا نبی صلی الله علیہ وسلم کی نماز جنازہ ہوئی تھی؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/تاریخ/

مختار بن ابی عبید الثقفی ملحد نہیں فتنہ پرداز سیاسی شیعہ تھا یہ ابن عمر رضی الله عنہ کا سالا تھا اس کو ثقیف کا کذاب کہا جاتا ہے
اس کا باپ ایک صحابی ہیں لیکن یہ چراغ تلے اندھیرا تھا

اس نے جھوٹا دعوی کہ عمر بن سعد بن ابی وقاص نے حسین رضی الله عنہ کا قتل کیا پھر اس نے دعوی کیا کہ یہ حسین کے قتل میں اتنے لوگ قتل کرے گا جتنے یحیی علیہ السلام کے قتل کے بدلے قتل کیے گئے یہ بات اس جھوٹے نے بولی جبکہ یحیی علیہ السلام کے بدلے میں کسی کا قتل نہیں ہوا
تاريخ المذاهب الإسلامية محمد أبو زهرة

اس جھوٹے نے دعوی کیا کہ محمد بن علی (ابن حنفيه) جو علی رضی الله عنہ کے بیٹے ہیں وہ امام ہیں
محمد بن علی نے اس کا انکار کیا عجب بات یہ ہے کہ اثنا عشری شیعوں نے مختار کو ایک سچا آدمی قرار دیا جبکہ اس کا فریب ظاہر ہے

اس کا فرقہ الكيسانية کہلاتا ہے
فرقة قالت بإمامة محمد بن الحنفيّة، و إنّما سمّوا بذلك لأنّ المختار بن أبي عُبَيد الثقفي كان رئيسهم و كان يلقّب كيسان، و هو الذي طلب بدم الحسين(ع) و ثأره حتّى قتل من قتله، و ادّعى أنّ محمد بن الحنفيّة أمره بذلك، و أنّه الإمام بعد أبيه.
فِرق الشيعة، ص 41.

مختار نے کوفہ میں ایک کرسی لوگوں کو دکھائی اور دعوی کیا کہ یہ علی کی کرسی ہے جنگ میں ساتھ ہو تو فتح ہو گی لہذا یہ کرسی جنگ میں ساتھ رہتی

اس نے نبوت کا بھی دعوی کیا
مسند ابو داود طیالسی کی روایت ہے
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: كُنْتُ أَبْطَنَ شَيْءٍ بِالْمُخْتَارِ يَعْنِي الْكَذَّابَ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: دَخَلْتَ وَقَدْ قَامَ جِبْرِيلُ قَبْلُ مِنْ هَذَا الْكُرْسِيِّ
مختار نے رفاعہ سے کہا تو داخل ہوا تو جبریل اس کرسی کے پیچھے تھا
رفاعہ نے کہا مَا أَنْتَظِرُ أَنْ أَمْشِيَ بَيْنَ رَأْسِ هَذَا وَجَسَدِهِ
میں انتظار نہیں کروں گا اس تیرے سر اور دھڑ کے بیچ چلوں

مختار کو مصعب بن زبیر نے ابن زبیر رضی الله عنہ کی خلافت میں جہنم رسید کیا اور ابن زبیر کی جانب سے علی رضی الله عنہ کے بیٹے عبید الله جو لیلی بنت ابن مسعود کے بطن سے تھے انہوں نے بھی مختار کذاب سے قتال کیا

———–
کوئی بھی صحابی اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تھا

⇓ صحابہ خوارج کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور کیا تابعین مختار کذاب کے پیچھے نماز پڑھتے تھے؟
http://www.islamic-belief.net/masalik/خوارج/

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ تابعین کذاب مختار کے پیچھے نماز پڑھتے تھے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ الله يُصَلُّونَ مَعَ الْمُخْتَارِ الْجُمُعَةَ، وَيَحْتَسِبُونَ بِهَا

عبد الله ابن مسعود کے اصحاب مختار کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے اور (ایک دوسرے کو) گنتے تھے

سُفْيَانَ الثوری مدلس عن سے روایت کر رہے ہیں لہذا روایت مظبوط نہیں- دوم اصحاب عبد الله تمام اہل سنت میں سے نہ تھے ان سے بعض داعی شیعہ بھی تھے اور ان کا مختار غالی کے پیچھے نماز پڑھنا چندہ بعید نہیں

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُقْبَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، «أَنَّ أَبَا وَائِلٍ جَمَعَ مَعَ الْمُخْتَارِ

يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ کہتے ہیں کہ ابو وَائِلٍ، مختار کے ساتھ (نماز میں؟) جمع ہوئے

سند میں يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ہے جو مجھول ہے

مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ، فَجَعَلَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ عَلَى مَنْ قُتِلَ مِنْ أَزْوَاجِهِنَّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” وَلَكِنْ حَمْزَةُ لَا بَوَاكِيَ لَهُ ” قَالَ: ثُمَّ نَامَ فَاسْتَنْبَهَ وَهُنَّ يَبْكِينَ قَالَ: فَهُنَّ الْيَوْمَ إِذًا يَبْكِينَ يَنْدُبْنَ بِحَمْزَةَ

جب رسول الله نے انصار کے گھروں سے شہداء پر رونے کی صداییں سنیں تو آپ کی انکھیں اشکوں سے بھر گییں اور آپ گریہ کرنے لگے پھر اس کے بعد آپ نے فرمایا: افسوس حمزہ پرکویی گریہ کرنے والا نہیں ہے
عبد الله بن أحمد: سَمِعتُهُ قول (يعني أباه) : روى أسامة بن زيد عن نافع أحاديث مناكير. «العلل» (503)

امام احمد نے کہا اسامہ بن زید ، نافع سے منکر احادیث روایت کرتا ہے

يحيى بن سعيد کے نزدیک یہ راوی متروک ہے
———-

کسی کے مرنے پر رونا منع نہیں ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے بیٹے ابراہیم کی وفات پر روئے
اسلام میں رونے پر شور کرنا منع ہے کہہ چیخ و پکار کی جاۓ جس کو گریہ و زاری یا عزہ داری کہا جاتا ہے یہ منع ہے

تفسیر فیروزآبادی اصل میں مُحَمَّد بن مَرْوَان عَن الْكَلْبِيّ عَن ابي صَالح عَن ابْن عَبَّاس کی سند سے تفسیر ہے جس سے یہ قول لیا گیا ہے
اس میں کلبی پر کذب کا حکم محدثین لگاتے ہیں اور اس کی ابی صالح سے روایت رد کی گئی ہے

اسی طرح کا ایک مرسل قول أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عمرو بن حزم سے بھی منسوب ہے جو طبقات ابن سعد میں ہے لیکن اس کی سند میں واقدی ہے یہ بھی شیعہ تھے اور ان کی بدمذہبی روایت ناقابل قبول ہے

اسی طرح یہ قول مقاتل بن سلیمان سے بھی منسوب ہے
روي أن هذه الآية نزلت في رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: لئن قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم لأنكحن عائشة قال مقاتل بن سليمان: هو طلحة بن عبيد الله فأخبر الله تعالى أن ذلك محرم،
ابن سعد طبقات میں کہتے ہیں
وأصحاب الحديث يتقون حديثه وينكرونه.
اصحاب حدیث اس کی حدیث سے بچتے ہیں اور انکار کرتے ہیں

ابن جوزی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں
وزعم مقاتل أن ذلك الرجل طلحة بن عبيد الله.
اور مقاتل نے دعوی کیا یہ طلحہ تھے
یعنی یہ قول مقاتل کا ہے
الله کا عذاب اس مقاتل کو گھیر لے گا

قرطبی تفسیر میں لکھتے ہیں
قُلْت: وَكَذَا حَكَى النَّحَّاسُ عَنْ مَعْمَرٍ أَنَّهُ طَلْحَةُ، وَلَا يَصِحُّ. .
میں کہتا ہوں اسی طرح حکایت کیا ہے النحاس نے معمر سے کہ یہ طلحہ تھے اور یہ صحیح نہیں ہے

مصنف عبد الرزاق میں ہے
قَالَ مَعْمَرٌ: سَمِعْتُ أَنَّ هَذَا الرَّجُلَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ
معمر نے کہا میں نے سنا یہ طلحہ تھے

معمر نے کس مجھول سے سنا؟

التحرير والتنوير میں محمد الطاهر بن محمد بن محمد الطاهر بن عاشور التونسي (المتوفى : 1393هـ) کہتے ہیں

وَأَقُولُ: لَا شَكَّ أَنَّهُ مِنْ مَوْضُوعَاتِ الَّذِينَ يَطْعَنُونَ فِي طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ. وَهَذِهِ الْأَخْبَارُ وَاهِيَةُ الْأَسَانِيدِ وَدَلَائِلُ الْوَضْعِ وَاضِحَةٌ فَإِنَّ طَلْحَةَ إِنْ كَانَ قَالَ ذَلِكَ بِلِسَانِهِ لَمْ يَكُنْ لِيَخْفَى عَلَى النَّاسِ فَكَيْفَ يَتَفَرَّدُ بِرِوَايَتِهِ مَنِ انْفَرَدَ.
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ گھڑی ہوئی بات ہے طلحہ بن عبید الله کے لئے اور یہ خبریں اور اسناد واہی ہیں

محمد إبن سعد – الطبقات الكبرى – الجزء : ( 8 ) – رقم الصفحة : ( 59 ) 9584 – أخبرنا : عبد الله بن نمير ، عن الأجلح ، عن عبد الله بن أبي ملكية قال : خطب رسول الله (ص) عائشة بنت أبي بكر الصديق ، فقال : إني كنت أعطيتها مطعماً لإبنه جبير فدعني حتى أسلها منهم ، فإستسلها منهم فطلقها فتزوجها رسول الله (ص)

ترجمہ —-رسول اکرم ﷺ نے ابوبکر سے عائشہ سے شادی کرنے کا پوچھا تو ابوبکر نے کہا میں اسے پہلے ھی معطم بن جبیر کو دے چکا ھوں مجھے اس سے پوچھنے دیں اور اس سے پوچھا تو جبیر نے اسے طلاق دے دی اور عائشہ کی شادی رسول اللہ ﷺ سے کروا دی

جواب

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: ” خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم عَائِشَةَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي كُنْتُ أَعْطَيْتُهَا مُطْعِمًا لِابْنِهِ جُبَيْرٍ فَدَعْنِي حَتَّى أَسُلَّهَا مِنْهُمْ. فَاسْتَسَلَّهَا مِنْهُمْ , فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم ”

اس روایت کے راوی الأجلح بْن عَبد اللَّهِ أَبُو حجية الكندي شیعہ ہیں

اس روایت میں ہے کہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی بات مطعم بن جبیر سے کر چکا ہوں
اس میں نکاح کے الفاظ نہیں ہیں اور یہ شیعوں کی اڑائی ہوئی ہی روایت ہے

امام بخاری و مسلم نے اس سے صحیح میں کوئی روایت نہیں لی
محدثین کا اصول ہے کہ بدعتی کی روایت اس کی بد مذھب کے حق میں ناقابل قبول ہے

یہ لسٹ   الإصابة في معرفة الصحابة از ابن حجرسے مرتب کی گئی ہے اس میں وہ  نام شامل کیے گئے ہیں جن کو محدثین و مورخین نے بیان کیا ہے بعض پر ابن حجر اختلاف کرتے ہیں لیکن اس کو یھاں بیان نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اس تحقیق کا حجم ایک کتاب کی صورت بدل جاتا

الإصابة في معرفة الصحابة از ابن حجر کے مطابق  جنگ جمل میں شرکت کرنے والے اصحاب رسول اور قاتلین عثمان میں شریک اصحاب رسول تھے

عائشہ  رضی الله عنہا کے لشکر میں اصحاب رسول

( اہل مکہ اور خاص کر قریش  کے لوگوں کی اکثریت ہے)

 

علي  رضی الله عنہ کے لشکر میں اصحاب رسول

(یمنی قبائل ، بنو اسد  اور دیگر  کی اکثریت ہے)

الزبير بن العوام

طلحة بن عبيد اللَّه القرشيّ التيميّ

عبد الرحمن بن عبد اللَّه بن عثمان

محمد بن طلحة  بن عبيد اللَّه القرشيّ التيميّ

أشرف بن حميري

جون بن قتادة

ربيعة بن أبيّ الضبي

شييم بن عبد العزّى بن خطل

شيمان ابن عكيف بن كيّوم بن عبد

عبد اللَّه بن حكيم بن حزام القرشي الأسدي

عبد اللَّه بن خلف بن أسعد بن عامر

عبد اللَّه بن مسافع بن طلحة بن أبي طلحة القرشي العبدري

عبد الرحمن بن عبد اللَّه القرشي التيمي

عكراش ابن ذؤيب بن حرقوص

عبد اللَّه بن عامر بن كريز القرشي

عبد اللَّه بن معبد بن الحارث   الأسدي القرشي

عبد الرحمن بن حميد  العامري القرشي

الوليد بن يزيد بن ربيعة بن عبد شمس القرشيّ

يعلى بن أمية التميميّ الحنظليّ، حليف قريش

أبو سفيان بن حويطب  بن عبد العزى القرشي العامري

 

 

عبد الرحمن بن عتّاب  الأموي (یہ جويرية بنت أبي جهل کے بیٹے ہیں جن سے علی شادی کرنا چاہتے تھے کہا جاتا ہے ان کا قتل علی کے سامنے کیا گیا اور وہ دیکھ رہے تھے)

 

 

عتبة بن أبي سفيان بن حرب بن أمية الأموي

علي بن عديّ  بن ربيعة

عقيم بن زياد بن ذهل

عمرو بن الأشرف  العتكيّ

كعب بن سور

أبو الجعد الضمريّ

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

محدثین و مورخین کے مطابق  اصحاب رسول میں سے  قاتلین عثمان رضی الله عنہ سے یہ اصحاب رسول تھے

نوٹ  قاتلین میں جو اصحاب رسول ہیں وہ امیر المومنین علی رضی الله عنہ کے خاص اصحاب ہیں ان میں کوئی سبائی نہیں ہے تاریخ ابن خلدون کے مطابق یہ تمام اصحاب رسول حاجی بن کر شوّال  میں نکلے

 

محمد بن أبي حذيفة 

ابن حجر العسقلاني في الإصابة في معرفة الصحابة – (ج 3 / ص 59 کے مطابق

عثمان رضی الله عنہ کا لے پالک فلسطین میں قتل ہوا
اصحاب شجرہ میں سے عبد الرحمن بن عديس البلوي

ابن عبد البر ، الإستيعاب في معرفة الأصحاب – (ج 1 / ص 254) کے مطابق

ان کا فلسطین میں قتل ہوا

 

كنانة بن بشر الليثي

ابن حجر ، الإصابة في معرفة الصحابة – (ج 3 / ص 19)کے مطابق

ان کا فِلِسْطِينَ میں معاویہ بن خدیج نے قتل کیا

 

زيد بن صوحان (جنگ جمل میں قتل ہوا)ہ

الإصابة از ابن حجر کے مطابق

زید اہل کوفہ کے لیڈر تھے

 

زياد بن النضر الحارثي

الإصابة از ابن حجر کے مطابق

کوفی ہیں صفین میں بھی شرکت کی

 

حكيم بن جبلة

ابن عبد البر في الإستيعاب (ج 1 / ص 108) کے مطابق

یہ صحابی فاتح مکران ہیں اور عثمان نے ان کو عامل مقرر کیا لیکن بعد میں باغی ہوئے اور أهل البصرة کے لیڈر تھے

 

حرقوص بن زهير السعدي

مصری ٹولے کے سرغنہ

ابن الأثير ، أسد الغابة – (ج 1 / ص 251)کے مطابق

یہ صحابی خارجی ہوئے یعنی علی کو خلیفہ ماننے سے انکار کیا

 

 

بقیہ اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم

حسن بن علی

حسین بن علی

عبد الله بن عباس

عَمَّارٍ

البراء بن عازب

سهل بن حنيف

عثمان بن حنيف

عمر بن أبي سلمة

عمرو بن فروة بن عوف الأنصاري

شريح بن هانئ

عائذ بن سعيد

مالك بن الحارث

جندب بن زهير

حجر  ابن عدي بن معاوية

حجر بن يزيد بن سلمة

حسان بن خوط

الحارث بن زهير

الخرّيت بن راشد الناجي

خالد بن المعمّر

سيحان بن صوحان  (جنگ جمل میں قتل ہوا)ہ

عبد الرحمن بن حنبل الجمحيّ

عمرو بن المرجوم

فروة بن عمرو بن ودقة

محمد بن إياس بن البكير الليثيّ المدنيّ.

المنذر بن الجارود

معقل بن قيس الرّياحي

هند بن عمرو

القعقاع بن عمرو التمیمی

 

حنظل یا حنظلة  بن ضرار (یہ چیخ و پکار کر کے ام المومننیں کے اونٹ کو مضطرب کرتے رہے)

 

 

الحتات ابن زيد بن علقمة

عائشہ کے لشکر کو چھوڑ کر علی سے مل گئے

 

حنظلة بن الربيع بن صيفي

علی کو جنگ  کے بیچ میں چھوڑ دیا

 

عبد اللَّه بن المعتمّ

علی کو جنگ  کے بیچ میں چھوڑ دیا

 

 ذو الخويصرة حرقوص بن زهير التميمي پر اہل سنت مشتبہ ہیں

کہا جاتا ہے یہ ہی  ذو الخويصرة حرقوص بن زهير التميمي ہے جس کا ذکر حدیث میں ہے

البدء والتاريخ از المقدسی

کہا جاتا ہے یہ اصحاب شجرہ میں سے ہے

وذكر بعض من جمع المعجزات أنّ النبي صلّى اللَّه عليه وسلّم قال: «لا يدخل النّار أحد شهد الحديبيّة إلّا واحد»  فكان هو حرقوص بن زهير

ابن حجر اصابہ اور  فتح الباري 7/ 443  میں کہتے ہیں کہ یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے معجزہ میں سے ہے کہ اپ نے فرمایا کہ جو حدیبیہ میں موجود تھے ان میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے گا سوائے ایک کے اور یہ حرقؤص ان میں سے ہے

جنگ جمل اصلا غیر قریشی اصحاب رسول کی قریشی اصحاب رسول کے خلاف بغاوت ہے  جن میں ان کو اہل بیت کی تائید ملی

غیر قریشی قبائل میں یمن سے منسلک قبائل کی کثرت ہے یعنی بنو اسد ان کو ١٧ ہجری میں عمر نے ان کے علاقے سے کوفہ منتقل ہونے کا حکم کیا  قحطان سے منسلک قبائل جن میں راسب اور المرادی ہیں  یہ مدینہ کے جنوب کے ہیں بنو تمیم کے لوگ یہ مدینہ کے مشرق کے ہیں

تاریخ دمشق کی روایت ہے

 كتب إلي أبو عبد الله محمد بن أحمد بن إبراهيم الرازي أخبرنا (3) أبو محمد عبد الرحمن بن أبي الحسن (1) بن إبراهيم أنبأ سهل بن بشر قالا أنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن محمد بن الطفال أنا القاضي أبو الطاهر محمد بن أحمد بن عبد الله نا محمد بن عبدوس هو ابن كامل نا سليمان بن عمر الرقي نا إسماعيل بن علية عن أبي سفيان بن العلاء أخي أبي عمرو  بن العلاء عن ابن أبي عتيق قال قالت عائشة لابن عمر ما منعك أن تنهاني عن مسيري قال رأيت رجلا قد استولى على أمرك وظننت أنك تخالفيه يعني ابن الزبير قالت أما أنك لو نهيتني ما خرجت قال وكانت تقول إذا مر ابن عمر فأرونيه فإذا مر قيل لها هذا ابن عمر فلا تزال تنظر إليه

ابن أبي عتيق (عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق) عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے  ابن عمر سے کہا  تم کو کس بات نے منع کیا کہ مجھے میرے راستے سے روک دیتے ؟ ابن عمر نے کہا میں نے دیکھا کہ اپ نے اپنے کاموں پر ایک شخص یعنی ابن زبیر کو مقرر کیا ہوا ہے عائشہ نے کہا اگر تم نے مجھ کو منع کیا ہوتا تو میں نہ نکلتی اور کہا وہ کہا کرتیں کہ ابن عمر گزریں تو  مجھے دیکھانا لیکن جب وہ گزرے تو ان کو بتایا گیا کہ یہ ابن عمر ہیں تو جب تک وہ گزرے نہیں ان کو دیکھتی رہیں

کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

یہ روایت صحیح نہیں ہے اس میں ام المومنین پر اتہام ہے کہ وہ جلد بازی میں فیصلہ کریتیں اور غلطی کے بعد نادم ہوئیں

ام المومنین رضی الله عنہا اور ابن عمر کی ملاقات نہیں ہوئی – فتنہ کے وقت وہ مکہ میں تھیں اور وہیں سے بصرہ گئیں ابن عمر مدینہ میں تھے اور انہوں نے علی کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور علی کی افر کو بھی ٹھکرا دیا کہ وہ ان کو شام پر مقرر کر دیں گے

روایت میں سليمان بن عمر الرقي مجھول ہے جو ابن علیہ سے اس کو نقل کر رہا ہے – اسی طرح  أبي سفيان بن العلاء بھی مجھول ہے –  افسوس اس حوالے کو الاستيعاب في معرفة الأصحاب  میں ابن عبد البر نقل کرتے ہیں اور البانی بھی سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها (1/ 854 ) میں پیش کرتے ہیں کہتے ہیں

ولا شك أن عائشة رضي الله عنها المخطئة لأسباب كثيرة وأدلة واضحة

اور اس میں شک نہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا بہت سے اسباب کی بنا پر غلطی پر تھیں جن پر دلائل واضح ہیں

وہ واضح دلائل کیا ہیں؟ وہ جھوٹی حواب کے کتوں والی روایت ہے

جواب

معجم ابن الأعرابي از أبو سعيد بن الأعرابي البصري الصوفي (المتوفى: 340هـ) اور طبرانی الکبیر  کی روایت ہے

نا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّايِغُ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ،  نا الْعَلَاءُ بْنُ الْمِنْهَالِ الْغَنَوِيُّ، نا مُهَنَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتُمُ الْيَوْمَ فِي نُبُوَّةٍ وَرَحْمَةٍ، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ يَكُونُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يَكُونُ كَذَا وَكَذَا مُلُوكًا عَضُوضًا، يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَيَلْبَسُونَ الْحَرِيرَ، وَفِي ذَلِكَ يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ

حُذَيْفَةَ کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا آج تم پر نبوت و رحمت ہے پھر خلافت و رحمت ہو گی پھر ایسا ویسا ہو گا پھر ایسا ایسا ہو گا  بادشاہت بھنبھوڑنے والی ہو گی جو شراب پئیں گے اور ریشم پہنیں گے

اس کی سند میں مهند بن هشام القيسي الكوفي ہے جو مجھول ہے اس کو طبرانی کی سند میں العلاء بن المنهال نے ثقہ کہا ہے جبکہ اس کا حال نا معلوم ہے

خود العلاء بن المنهال کے لئے امام العقيلي کہتے ہیں : لا يتابع عليه اس کی روایات کی متابعت نہیں ہے

امام الذہبی نے ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں العلاء بن المنهال کے لئے کہا ہے فيه جهالة اس میں جہالت ہے یعنی یہ مجھول ہے

جبکہ أبو زرعة الرازي اور عجلی نے اس کو ثقہ کہا ہے

اسطرح العلاء بن المنهال تو مختلف فیہ ہو گیا اور یہ جس مُهَنَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْعَبْسِيُّ کو ثقہ کہتا ہے وہ مجھول ہے

مزید تفصیل کے لئے دیکھیں خلافت تیس سال رہے گی

طبرانی کبیر کی ایک اور روایت ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنِ ابی شِهَابٍ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ هَذَا الْأَمْرِ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ يَكُونُ مُلْكًا وَرَحْمَةً، ثُمَّ يَكُونُ إِمَارَةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ يَتَكادَمُونَ عَلَيْهِ تَكادُمَ الْحُمُرِ فَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ، وَإِنَّ أَفْضَلَ جهادِكُمُ الرِّبَاطُ، وَإِنَّ أَفْضَلَ رباطِكُمْ عَسْقَلَانُ

ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اس کام میں سب سے پہلے نبوت و رحمت ہے پھر خلافت و رحمت ہے پھر بادشاہت و رحمت ہے پھر امارت و رحمت ہے

یہ روایت اوپر والی روایت سے یکسر الگ ہے اگرچہ اس کی سند میں فطر ہے جو کٹر شیعہ ہے لیکن اس کی یہ روایت بنو امیہ مخالف نہیں ہے  فطر کے لئے محدثین کہتے ہیں

قال الجوزجاني زائغ غير ثقة  الجوزجاني کہتے ہیں ٹیڑھا ہے ثقہ نہیں ہے

وقال الدارقطني زائغ لا يحتج به دارقطنی کہتے ہیں ٹیڑھا ہے اس سے دلیل مت لینا

وغمزه ابن المديني اور ابن المدینی نے اس کو کم کیا ہے

لیکن بعض دیگر نے اس کو ثقہ قرار دے دیا ہے

روایت میں چار ادوار ہیں

نبوت و رحمت ہے ظاہر ہے یہ دور نبوی ہے

خلافت و رحمت ہے یہ ابو بکر ، عمر ، عثمان ، علی رضی الله عنہما کا دور ہے

ملوکیت و رحمت ہے یعنی دور معاویہ اوریزید اور بنو امیہ

امارت و رحمت ہے یعنی دور بنو عباس

فطر کا انتقال  خِلَافَةِ أَبِي جَعْفَرٍ  میں سن ١٥٥ ہجری میں ہوا گویا اس روایت میں وہ دور نبوی سے اپنے دور تک اتا ہے سب کو رحمت کہتا ہے – اس روایت کی سند میں راوی سعيد بن حفص النفيلي أبو عمرو الحرّاني ہیں  بقول  المعلمي اليماني کے دیگر راویوں نے اس روایت میں عسقلان کا ذکر نہیں کیا ، قد رواه غيره عن عمر من قوله، بدون ذكر عسقلان

البانی نے الصحیحہ میں رقم 3270 میں فطر کی  اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ابی شہاب اصل میں  موسى بن نافع الخياط ہے

قلت: وهذا إسناد جيد، رجاله كلهم ثقات؛ غير سعيد بن حفص النفيلي، ففيه كلام يسير

میں البانی کہتا ہوں اس کی اسناد جید ہیں تمام راوی ثقہ ہیں سوائے سعيد بن حفص النفيلي  کے جن پر تھوڑا کلام ہے

البانی ایک طرف تو اس روایت کو صحیح کہتے ہیں جس میں کا ذکر ہے دوسری طرف فطر کی روایت کو جید کہہ کر اس کو الله کی رحمت بھی کہتے ہیں یہ مثال ہے کہ علماء کا ضعیف احادیث کو زیادہ دیکھنا صحیح نہیں کیونکہ ان کو خود اپنی تضاد بیانی کا یاد نہیں رہتا

الغرض  بھنبوڑنے والی بادشاہت والی روایت صحیح نہیں ہے

مسلک پرستوں کی ممدوح شخصیت ابن حجر عسقلانی  صحابہ پر زبان درازی کرتے تھے مثلا کتاب فتح الباری ج ٨ ص ٧٧ میں کہتے ہیں

قولہ  فَإِذَا كَانَتْ أَيِ الْإِمَارَةُ بِالسَّيْفِ أَيْ بِالْقَهْرِ وَالْغَلَبَةِ كَانُوا مُلُوكًا أَيِ الْخُلَفَاءُ وَهَذَا دَلِيلٌ عَلَى مَا قَرَرْتُهُ أَنَّ ذَا عَمْرٍو كَانَ لَهُ اطِّلَاعٌ عَلَى الْأَخْبَارِ مِنَ الْكُتُبِ الْقَدِيمَةِ وَإِشَارَتُهُ بِهَذَا الْكَلَامِ تُطَابِقُ الْحَدِيثَ الَّذِي أخرجه أَحْمد وَأَصْحَاب السّنَن وَصَححهُ بن حِبَّانَ وَغَيْرُهُ مِنْ حَدِيثِ سَفِينَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخِلَافَةُ بَعْدِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَصِيرُ مُلْكًا عَضُوضًا

قول کہ پس جب تلوار کی حکومت ہو یعنی قہر و غلبہ ہو تو بادشاہ ہوں گے یعنی خلفاء اور … اس کلام پر اشارہ حدیث میں ہے جس کی تخریج امام احمد اور اصحاب السنن نے کی ہے اس کو ابن حبان نے صحیح قرار دیا  ہے اور دوسروں نے حدیث سفینہ ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد خلافت تیس سال ہے پھر یہ پلٹ جائے گی بھبھوڑنے والی بادشاہت میں

عادل أحمد عبد الموجود اور على محمد معوض جو الاصابہ  از ابن حجر کے محقق ہیں وہ لکھتے ہیں

وهكذا أصبحت الخلافة ملكا عضوضا على يد معاوية الّذي ورثها لابنه اليزيد، وأجبر الناس على بيعته في حياته حتى لا ينازعه في ملكه منازع من بعده. ولسنا نقول بأن الخبر الّذي قاله النّبي صلّى اللَّه عليه وسلم عن الملك العضوض حين يفيد انتقاصا من قدر الملوك فإنه غالبا ما يكون فيهم الحزم والكياسة إلى جانب الشّدة والعنف

اور اسطرح یہ خلافت  معاویہ کے ہاتھ پر ایک بھنبوڑنے والی بادشاہت  میں تبدیل ہوئی جس کا وارث اس نے اپنے بیٹے یزید کو کیا اور لوگوں پر جبر کیا کہ اس کے بیٹے کی بیعت لیں اس کی زندگی ہی میں حتی کہ اس میں کوئی تنازع بعد از مرگ نہ ہو سکے لیکن وہ خبر جو رسول الله سے ملی ہے  کاٹنے والی بادشاہت پر اس پر ہم کہتے ہیں کہ اس کا فائدہ  ہے کہ اکثر بادشاہ (مقام سے) گر کر  تہذیب و نرمی کے ساتھ شدت اور تشدد بھی کرتے ہیں

ابن کثیر کتاب البداية والنهاية  میں لکھتے ہیں

وَقَالَ ابْنُ أَبِي خيثمة: حدثنا هارون بن معروف حدثنا حمزة عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ قَالَ: كَانَ مُعَاوِيَةُ يَقُولُ أَنَا أَوَّلُ الْمُلُوكِ وَآخِرُ خَلِيفَةٍ، قُلْتُ: وَالسُّنَّةُ أَنْ يُقَالَ لِمُعَاوِيَةَ مَلِكٌ، وَلَا يُقَالُ لَهُ خليفة لحديث «سفينة الْخِلَافَةُ بَعْدِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَضُوضًا»

ابن ابی خيثمة کہتے ہیں هارون بن معروف نے  حمزة سے انہوں نے ابْنِ شَوْذَبٍ سے روایت کیا کہ معاویہ کہا کرتے وہ پہلے بادشاہ ہیں اور آخری خلیفہ میں ابن کثیر کہتا ہوں اور سنت یہ ہے معاویہ کو بادشاہ کہا جائے اور خلیفہ نہ کہا جائے کہ حدیث ہے سفینہ کی میرے بعد خلافت تیس برس ہو گی پھر بھنبھوڑنے والی بادشاہت ہو گی

نعوذ باللہ من تلک الخرافات

ابْنِ شَوْذَبٍ نام کے کسی بھی شخص کا معاویہ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے

الله صحابہ کے حوالے سے بغض سے بچائے

جواب

⇑ کیا اج نبی صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں آنا حدیث سے ثابت ہے ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/اہم-مباحث/

یہ واقعہ سن ٥٥٧ ھ کا ہے یہ اصلا نور الدین زنگی المتوفي ٥٦٩ ھ کا خود ساختہ خوف تھا کہ عیسائی جسد اطہر کو چرا لیں گے جبکہ جب وہ سرنگ سے وہاں پہنچتے تو تین اجسام پاتے اس میں سے کون سا نبی کا ہے اور کون سا عمر و ابو بکر کا ہے وہ معلوم نہیں کر سکتے تھے- نور الدین کو سیاسی محاذ پر سلطان ایوبی سے خطرہ تھا – نور الدین اور صلاح الدین میں اختلافات ہو گئے تھے اور ایوبی نے صلیبی جنگوں میں شرکت بھی چھوڑ دی تھی یہاں تک کہ نور الدین کی وفات کے بعد صلاح الدین نے اس کی بیوہ سے شادی کر لی اور نورالدین کے بیٹے کا صلاح الدین نے تختہ الٹ دیا

جواب

واقعہ مباہلہ اور واقعہ تطہیر/حدیث کساء پر کوئی صحیح روایت نہیں ہے

مسند احمد ترمذی مستدرک حاکم اور صحیح مسلم میں ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ وَخَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُخَلِّفُنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ قَالَ: «يَا عَلِيُّ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى. إِلا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» فَتَطَاوَلْنَا لَهَا، فَقَالَ: «ادْعُوا لِي عَلِيًّا» فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ، فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ، وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ. وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ هَؤُلاءِ أَهْلِي»

ان تمام کی سند میں بکیر بن مسمار ہے جو امام بخاری نے نزدیک مجروح ہے اس پر ان کی شدید جرح ہے پتا نہیں امام مسلم نے یہ روایت کیوں لکھی

فضائل صحابہ از امام احمد کی روایت ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا حَسَنٌ هُوَ ابْنُ مُوسَى، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَاءَ رَاهِبَا نَجْرَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمَا تَسْلَمَا» ، فَقَالَا: قَدْ أَسْلَمْنَا قَبْلَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” كَذَبْتُمَا مَنَعَكُمَا مِنَ الْإِسْلَامِ ثَلَاثٌ، سُجُودُكُمَا لِلصَّلِيبِ، وَقَوْلُكُمَا: {اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا} [البقرة: 116] ، وَشُرْبُكُمَا الْخَمْرَ “، فَقَالَا: فَمَا تَقُولُ فِي عِيسَى؟ قَالَ: ” فَسَكَتَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ {ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذَّكَرِ الْحَكِيمِ} [آل عمران: 58] إِلَى قَوْلِهِ: {أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] قَالَ: فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُلَاعَنَةِ قَالَ: وَجَاءَ بِالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَفَاطِمَةَ أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ ” قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَا مِنْ عِنْدَهُ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَقْرِرْ بِالْجِزْيَةِ وَلَا تُلَاعِنْهُ قَالَ: فَرَجَعَا، فَقَالَا: نُقِرُّ بِالْجِزْيَةِ وَلَا نُلَاعِنُكَ قَالَ: فَأَقَرَّا بِالْجِزْيَةِ.
اس میں سند منقطع ہے

دلائل النبوه از البیہقی میں اس کی سند میں سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ يَشُوعَ ایک مجھول ہے

واقعہ مباہلہ ٩ ہجری کا ہے اور السمهودي (خلاصة الوفا بأخبار دار المصطفى) کے مطابق یہ سن ١٠ ہجری کا واقعہ ہے

إم كلثوم بنت محمد رضی الله عنہا کی وفات سن ٩ ہجری شعبان میں ہوئی
رقيه رضی الله عنہا کی سن ٢ ہجری میں ہوئی
زينب رضی الله عنہا کی سن ٨ ہجری میں ہوئی

یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم کی اس وقت صرف ایک بیٹی زندہ تھیں جو فاطمہ رضی الله عنہا تھیں – اہل تشیع میں کہا جاتا ہے یہ واقعہ ٢٤ ذی الحجہ سن ٩ ہجری میں ہوا
المفید، الارشاد، ج1، ص166-171
ابن شهرآشوب، 1376ق، ج 3، ص: 144۔

جبکہ اہل سنت میں المقريزي (المتوفى: 845هـ) کی کتاب إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع کے مطابق یہ رمضان سن ٩ ہجری سے پہلے ہوا السيرة النبوية لابن هشام یا سیرت ابن اسحٰق کے مطابق بھی یہ واقعہ سن ٩ ہجری میں ہوا جس کے بعد بھی بہت سے واقعات ہوئے جو یہ ناممکن بنا دتیے ہیں کہ یہ سال ختم ہونے سے چھ دن پہلے ہوا ہو یعنی ٢٤ ذی الحجہ کو
المقريزي (المتوفى: 845هـ) کے مطابق وفد نجران کے جانے کے بعد علی رضی الله عنہ کو یمن بھیجا گیا یہ بھی سن ٩ میں ہوا
یاد رہے کہ حج پر سوره توبہ کی آیات مجمع میں سنانے کے لئے بھی علی کو بھیجا گیا تھا ان شواہد کی موجودگی میں یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ واقعہ ٢٤ ذو الحجہ کا ہو

لیکن قرآن میں شرط رکھی ہے کہ
فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ
اپنے بیٹوں کو لاو اور اپنی عورتوں کو لاو

تمام روایات میں ہے کہ ٦٠ مرد نجران سے آئے تھے ان میں عورتیں نہ تھیں لہذا مباہلہ اسی صورت ہوتا کہ یہ واپس جا کر اپنے اہل و عیال کو لاتے

جب یہ بات یہاں تک پہنچی تو نصرانی ڈر گئے اور انہوں نے جزیہ دینا قبول کیا

حدیث کساء اور مباہلہ تنقیص عثمان رضی الله عنہ پر گھڑی گئی ہیں جن میں عثمان رضی الله عنہ کی نسل کو اولاد نبی سے نکل دیا گیا اور اولاد علی کو اس طرح پیش کیا کہ گویا یہ اولاد نبی ہوں

مباہلہ کا واقعہ اگر ہوا ہوتا تو کئی طرق سے ثابت ہوتا اور اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کی کثیر جماعت اس کو نقل کرتی لیکن اس کی اسناد میں جن کو صحیح سمجھا گیا ہے ان میں ایک ہی راوی بکیر بن مسمار المتوفی ١٥٣ ھ کا تفرد ہے جو امام بخاری کے نزدیک ضعیف ، ابن حجر کے نزدیک ضعیف، ابن حبان کے نزدیک ضعیف ہے

قرآن میں نسائکم ہے یعنی ایک سے زیادہ عورتوں کو لانا ہو گا یعنی امہات المومنین کو بھی اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اپنے بیٹے ابراہیم کو ہم کیوں بھول جاتے ہیں روایت کے مطابق رسول الله اپنے صلبی بیٹے کی بجائے نواسوں کو لے گئے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب کذب ہے
دوسری طرف نصرانیوں کے وفد میں نہ عورتیں ہیں نہ بچے ہیں لہذا یہ کیسا آدھا پونا مباہلہ ہے جس میں ایک طرف بیٹی داماد اور نواسے ہیں اور دوسری طرف ٦٠ مرد ہیں
یہ سب نا قابل قبول ہے نہ یہ قرآن کے حکم پر مکمل عمل ہے نہ یہ کبھی فریق مخالف کو قبول ہوتا

جواب

اہل سنت جب کہتے ہیں کہ ابو طالب کافر مرے تو اس کے پیچھے ایک روایت ہے اس کی بنیاد پر کہتے ہیں
اہل تشیع جب کہتے ہیں یہ واقعہ صحیح نہیں ہو سکتا تو اس کے پیچھے فلسفہ امامت ہے جس کے مطابق الله کا نور ایک مخصوص نسل انسانی میں سے گذر رہا ہے جو ائمہ ہیں
اس لئے وہ اس قسم کا جواب دیتے ہیں علی کی والدہ اور والد کی اسی لئے اہمیت ہے کہ وہ امام ہیں
لہذا یہ اس منطق پر ہے چونکہ ابو لھب کا ائمہ اہل بیت سے تعلق نہیں ہے لہذا اس کا ذکر نہیں ہوتا

اب فلسفہ کو روایت سے رد نہیں کیا جا سکتا نہ ہی روایت کو قبول کیا جا سکتا ہے اگر اس کے مقابلے پر اس قسم کا فلسفہ ہو

بنیادی بحث یہ ہے کہ عقیدہ امامت پر سوال کیا جائے کہ اس کی کیا دلیل ہے ؟

شیعہ کوئی آج کل کا فرقہ نہیں اس میں اہل بیت رسول شامل ہیں اور امام موسی کاظم کے بعد کے ائمہ کے حوالے سے اہل سنت خاموش ہیں
إمام حسن عسكري المتوفي ٢٦٠ ھ امام احمد اور امام بخاری و مسلم کے ہم عصر ہیں
محدثین ان کا ذکر نہیں کرتے اور تاریخ بغداد میں ہے
وهو أحد من يعتقد فيه الشيعة الإمامة.
یہ ان ایک میں سے ہیں جن پر شیعہ، امام کا عقیدہ رکھتے ہیں

لسان المیزان میں ابن حجر کہتے ہیں
الحسن بن علي بن محمد بن علي الرضا بن موسى الكاظم الهاشمي.
أحد من يعتقد الإمامية إمامته.
ضعفه ابن الجوزي في الموضوعات.
یہ ایک ہیں جن پر امامیہ، امامت کا عقیدہ رکھتے تھے الموضوعات میں ابن جوزی نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے

دسویں امام علي بْن محمد بْن علي بْن مُوسَى بن جعفر بن محمد ابن زين العابدين ہیں

سن ٢٥٤ ھ میں وفات ہوئی
اہل سنت میں ان سے بھی کوئی روایت نہیں ملتی

نویں امام مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيّ بن مُوسَى بْنُ جَعْفَر بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيّ بْنِ الْحُسَيْن ابن علي بن أبي طالب، أبو جعفر بن الرضا ہیں
ان کا مشھور نام محمد بن علی الجواد المتوفی ٢٢٠ ھ ہے

یہ امام احمد ، بخاری و مسلم کے ہم عصر ہیں
ان سے کوئی بھی روایت صحیحین میں نہیں ہے جبکہ یہ محدث ہیں

یعنی غیر محسوس انداز میں اہل تشیع اور اہل سنت الگ ہو رہے ہیں اور امام جعفر تک کے لئے تو اہل سنت کہتے ہیں کہ ان سے جھوٹی روایات منسوب کی گئی ہیں لیکن بعد کے ائمہ کی یا تو روایت ہی نہیں لیتے یا کوئی تبصرہ بھی نہیں کرتے یہاں تک کہ امام حسن عکسری کو ضعیف تک کہا

صحیح بخاری و مسلم کو اہل تشیع نے صحیح نہیں سمجھا اور سو سال بعد محمد بن يعقوب بن إسحاق الكليني الرازي المتوفی ٣٢٩ ھ نے اہل تشیع کی صحیح سمجھی جانے والی روایت جمع کیں

یہ خلیج اس قدر وسیع ہے کہ اس کو اب پاٹ نہیں سکتے اور یہ ناممکنات میں سے ہے
لہذا شیعہ سنی کا اختلاف نماز روزہ کا نہیں رہا یہ عقائد کا اختلاف بن چکا ہے

لہذا بخاری و مسلم کی کسی ایک روایت سے ابو طالب کے جہنمی یا غیر جہنمی کی بحث نہایت سطحی بحث ہے اور راقم کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اہل سنت کے عقیدہ کی بنیاد روایت ہے اور اہل تشیع کے نزدیک فلسفہ امامت ہے

ابن حجر العسقلاني نے اپنی کتاب الإصابة في معرفة الصحابة میں جناب ابو طالب کا ذکر کیا ہے جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب صحابہ کی پہچان اور معرفت حاصل کرنے کے لئے لکھی گئی ہے اور اس کتاب میں امام ابن حجر عسقلانی کا جناب ابو طالب کا عنوان باندھ کر ذکر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی جناب ابو طالب کو صحابہ میں شمار کرتے ہیں

جواب

اصابہ ابن حجر میں ابو طالب کا ترجمہ ہے لیکن اس میں آخر میں ان کو جہنمی لکھا گیا ہے اور اختتام صحیح مسلم کی روایت پر کیا ہے کہ ان کو جوتا پہنایا جائے گا جس سے دماغ گھولے گا

اسی طرح اس کتاب میں بحیرہ راھب کا بھی ترجمہ ہے جبکہ اس سے اگر ملاقات ہوئی بھی تو اس وقت جب اپ صلی الله علیہ وسلم نبی نہیں تھے

=============
أبي جعفر محمد بن الحسن طوسی المتوفی ٤٦٠ ھ تفسیر میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں
وروي عن ابن عباس ومجاهد والحسن وقتادة وغيرهم أنها نزلت في أبي طالب.
وعن ابي عبدالله وابي جعفر إن أبا طالب كان مسلما وعليه اجماع الامامية، لا يختلفون فيه
اور ابن عبّاس سے … مروی ہے کہ یہ ابو طالب کے لئے نازل ہوئی ہے اور ابی عبد الله اور ابی جعفر کہتے ہیں کہ ابو طالب مسلمان تھے اس پر امامیہ کا اجماع ہے

——-

مجمع البیان میں طبرسی المتوفی ٤٦٨ ھ کہتے ہیں
أن أهل البيت (عليهم السلام) قد أجمعوا على أن أبا طالب مات مسلما
اہل بیت کا اجماع ہے کہ ابو طالب مسلمان مرے

———

ابي الحسن علي بن ابراهيم القمي المتوفی ٣٢٩ ھ کی تفسیر میں ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے لئے ہے
واما قوله: (انك لا تهدي من أحببت) قال نزلت في ابي طالب عليه السلام فان رسول الله صلى الله عليه وآله كان يقول يا عم قل لا إله إلا الله بالجهر نفعك بها يوم القيامة فيقول: يا بن اخي أنا أعلم بنفسى، (وأقول بنفسى ط) فلما مات شهد العباس بن عبدالمطلب عند رسول الله صلى الله عليه وآله انه تكلم بها عند الموت بأعلى صوته، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله: اما انا فلم اسمعها منه وأرجو ان تنفعه يوم القيامة، وقال صلى الله عليه وآله: لو قمت المقام المحمود لشفعت في ابي وامي وعمي وأخ كان لي مواخيا في الجاهلية

اغلبا سن ٣٢٠ ہجری تک اہل تشیع یہ ہی مانتے تھے کہ ابو طالب کافر مرے جیسا تفسیر قمی میں ہے لیکن بعد والوں نے اس کو بدل دیا اور اس پر منطقی اعتراضات کیے ہیں کہ علی رضی الله عنہ کے نسب میں کفر نہیں ا سکتا وغرہ بعض کہتے ہیں کہ سوره قصص مدنی ہے جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ یہ مکی ہے اور اس کا مضمون مکی سورتوں جیسا ہے

جواب

یہ روایات مضطرب ہیں

مسلمانوں نے بعض لوگوں کو نبی قرار دے دیا ہے جبکہ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے

عزیر ، ابو داود کی حدیث کے مطابق رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بھی معلوم نہ تھا کہ نبی ہے یا نہیں
وما أدري أعزير نبي هو أم لا
مجھے نہیں معلوم عزیر نبی ہے یا نہیں

اسی طرح مسلمانوں نے دانیال کو بھی نبی قرار دے دیا ہے جبکہ یہ شخص خود یہود کے مطابق نبی نہیں ہے
راقم کہتا ہے اس شخص سے منسوب ایک کتاب بائبل میں ہے جس میں تاریخی اور عقائد کی غلطیان ہیں
اور عصر حاضر کے یہود و نصرانی محققین کے مطابق کتاب ایک مجھول شخص کی گھڑی ہوئی ہے
اس میں دانیال جس بادشاہ سے کلام کر رہا ہے وہ تاریخ میں نہیں گزرا

راقم نے کتاب
Conflicts during Second Temple Period
میں لکھا ہے

The book of Daniel addresses the question of period of captivity with numerological dimensions. The book is replete with historical anamolies. The author has no idea of Chronology of Babylonian empire. Belshazzar was neither king nor son of Nebuchadnazzar. The last ruler was
Nebonidus, defeated by Cyrus not by Darius (the Mede?)as Daniel presumed. There has never been a king by name Darius the Mede

الغرض دانیال ایک فرضی کردار ہے

————
http://www.islamic-belief.net/masalik/%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%85%d9%82%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86/
میں بلاگ انبیاء کے اجسام میں اس پر بحث ہے

جواب

اہل سنت کے لقب میں سنت کس کی ہے ؟ کہا جاتا ہے یہ رسول الله کی سنت ہے جبکہ اصلا یہ سنت ابو بکر و عمر رضی الله عنہم بھی ہے مسلمانوں میں یہ اصطلاح امام الاشعری نے استمعال کی ہے جو چوتھی صدی کے ہیں اس وقت تک اہل تشیع اور خوارج ایک مستقل الگ فرقہ بن چکے تھے ان میں اہل تشیع علی اور اہل بیت کی سنت پر تھے اور خوارج اپنے ائمہ کی رائے پر ان دو کے مقابلے پر باقی لوگوں نے اہل سنت کا لقب لیا جس میں سنت خلفاء کا ذکر ہوا
اور روایت پیش کی گئی

فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ
بس تمہارے لئے ہے جو تم جان چکے ہو میری سنت اور ہدایت والے خلفاء کی سنت
مسند احمد

سنن ابن ماجہ میں ہے
فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ

ظاہر ہے شیعہ ہوں یا خوارج ہوں یا اہل سنت ہوں تمام رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اتباع کرنے کا دعوی کریں گے اختلاف ہوا تو اس پر ہوا کہ کیا ابو بکر کی سنت اور عمر کی سنت پر بھی عمل ہوا گا یا نہیں

بحر الحال اس روایت کو کسی نے حسن کہا ہے کسی نے صحیح کہا ہے

روایت میں عبد الرحمن بن عمرو بن عبسة السلمى ، الشامى المتوفی ١١٠ ہجری کا تفرد ہے یعنی یہ قول نبوی اہل شام کو ملا اور ان کی وفات خلافة هشام بن عبد الملك میں ہوئی ان سے اہل حمص اور اہل مصر نے سنا اس راوی پر معلومات کم ہیں لہذا ابن حجر نے اس کو مقبول کہنے پر اکتفا کیا ہے

بہرحال اہل سنت و الجماعت کا یہ لقب مشھور ہو گیا یہ لقب محدثین مثلا امام بخاری و مسلم یا امام احمد نے استمعال نہیں کیا بلکہ متکلمین کی ایجاد ہے حیرت ہے کہ متکلمین پر جرح کرنے والے بھی آج اپنے اپ کو شوق سے اہل سنت و الجماعت کہتے ہیں

————-

نوٹ
ابو بکر اور عمر رضی الله عنہم کی سنت بحث میں اس طرح آئی کہ مسلمانوں میں یہ جھگڑا تھا کہ خلیفہ کا انتخاب کیسے ہو گا اور اس کو کیا معزول کیا جا سکتا ہے یا نہیں ابو بکر رضی الله عنہ نے عمر کو خلافت کی وصیت کی- کیا یا قرآن میں ہے ؟ نہیں کیا یہ کسی حدیث میں ہے ؟ نہیں لہذا اس کو کس بنیاد پر قبول کیا جائے ؟ لھذا اہل سنت میں ابو بکر اور عمر کی سنت کو مان لیا گیا  کیونکہ اس پر اجماع صحابہ ہوا اور خلفاء کے انتخاب کے موقعوں پر سنت ابو بکر و عمر رضی الله عنہم  پر عمل ہو گا کیونکہ سنت نبوی میں اس کی مثال نہیں ملے گی

اہل تشیع نے اس سے اختلاف کیا کیونکہ اہل بیت نے اس سے اختلاف کیا
تاریخ نے مطابق حسین رضی الله عنہ کے پڑ پوتے زید بن علی نے کہا کہ شیخین یعنی ابو بکر و عمر نے ہم سے امر خلافت لیا ہم کو مل سکتا تھا

 حجه الوداع سے چند سال پہلے فتح مکہ ہوا اس میں ابو جھل کی بیٹی سے علی رضی الله عنہ نے شادی کی خواہش کا اظہار اپنی بیوی فاطمہ رضی الله عنہا سے کیا اس پر فاطمه ناراض ہوئیں اور نبی صلی اللّہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا – رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو اس بات پسند نہیں آئی یہاں تک کہ اپ منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دیا کہ الله کے رسول اور اس کے دشمن کی بیٹی جمع نہ ہوں گی اور میرے داماد ابو العاص نے جو وعدہ کیا اس کو پورا کیا
اس طرح اپ صلی الله علیہ وسلم نے بتایا کہ دامادوں میں اپ کو سب سے زیادہ پسند ابو العاص رضی الله عنہ ہیں

یہ بات صحابہ نے بھی سنی اور بعض اغلبا یہ سمجھے کہ جب تک فاطمہ زندہ ہیں علی کوئی لونڈی بھی نہیں رکھ سکتے لہذا سن ١٠ ہجری میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ کو یمن بھیجا کہ وہاں جائیں اور خمس وصول کریں – علی رضی الله عنہ نے وہاں ایک لونڈی حاصل کی اس سے فائدہ اٹھایا أور لوگوں نے علی کو غسل کرتے دیکھا یعنی علی نے خمس میں سے مال خود لے لیا اور دیگر اصحاب رسول کے نزدیک اس کی تقسیم نبی صلی الله علیہ وسلم کرتے اور علی کو صبر کرنا چاہیے تھا – علی اس وفد کے امیر تھے باقی اصحاب نے اس پر علی سے اختلاف کیا یہاں تک کہ واپسی پر ایک صحابی نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو تمام صورت حال بتا دی جس پر اپ صلی الله علیہ وسلم نے تبين كي- یہ واقعہ غدیر خم پر ہوا جب نبی صلی الله علیہ وسلم حج سے واپسی پر مدینہ جا رہے تھے اور علی اپنے وفد کے ساتھ اسی مقام پر نبی صلی الله علیہ وسلم سے ملے

اس میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ
میں جس کا دوست اس کا علی دوست

یعنی ایک طرح علی رضی الله عنہ کی تعریف کی تاکہ جن اصحاب کو شکایات ہیں وہ جان لیں کہ امیر وفد کی حثیت سے اور اہل بیت میں ہونے کی وجہ سے لونڈی لینا علی کے لئے جائز تھا
بریدہ رضی الله عنہ سے رسول الله نے فرمایا کہ تو علی سے بغض نہ رکھ کیونکہ خمس میں اس کا اس سے زیادہ بھی حصہ ہے ! (بخاری

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الخُمُسَ، وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ: أَلاَ تَرَى إِلَى هَذَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «لاَ تُبْغِضْهُ فَإِنَّ لَهُ فِي الخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ»

مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن اسحاق بن ابی اسحاق نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن بھیجا، بیان کیا کہ پھر اس کے بعد ان کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے انہیں ہدایت کی کہ خالد کے ساتھیوں سے کہو کہ جو ان میں سے تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ پھر یمن کو لوٹ جائے اور جو وہاں سے واپس آنا چاہے وہ چلا آئے۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یمن کو لوٹ گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے غنیمت میں کئی اوقیہ چاندی کے ملے تھے۔

/

حدیث نمبر: 4350
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لِخَالِدٍ:‏‏‏‏ أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا ؟ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ “يَا بُرَيْدَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَتُبْغِضُ عَلِيًّا ؟”فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “لَا تُبْغِضْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ”.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن سوید بن منجوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو (یمن) بھیجا تاکہ غنیمت کے خمس (پانچواں حصہ) کو ان سے لے آئیں۔ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے بہت بغض تھا اور میں نے انہیں غسل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا تم دیکھتے ہو علی رضی اللہ عنہ نے کیا کیا (اور ایک لونڈی سے صحبت کی) پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے آپ سے بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا (بریدہ) کیا تمہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بغض ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا علی سے دشمنی نہ رکھنا کیونکہ خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) میں اس سے بھی زیادہ حق ہے۔

جواب

پیداش پر روایت پیش کی جاتی ہے

صحیح مسلم کی روایت ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، – وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى – قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ؟

اس میں اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ: «ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ – أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ
اور پوچھا کہ پیر کا روزہ کیسا ہے ؟ فرمایا اس ہی دن تو میں پیدا ہوا یا فرمایا میری بعثت ہوئی یا قرآن نازل ہوا

کتب حدیث میں تمام کتب میں اس کی سند میں عَبد اللهِ بْن مَعبَد، الزِّمّانِيّ، البَصرِيّ ہے جو ابی قتادہ سے اس کو روایت کرتا ہے
امام بخاری کے نزدیک یہ رویات صحیح نہیں ہیں کیونکہ عبد الله بن معبد الزماني بصری کا سماع ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے
بخاری تاریخ الکبیر میں عَبد اللهِ بْن مَعبَد، الزِّمّانِيّ، البَصرِيّ کے لئے کہتے ہیں
ولا نَعرِفُ سماعه من أَبي قَتادة.
اور ہم (محدثین) نہیں جانتے کہ ابی قتادہ سے اس کا سماع ہو

وفات کی تاریخ  پر کوئی روایت نہیں مورخین کے اقوال ہیں
اپ صلی الله علیہ وسلم کی وفات پیر کو ہوئی ربیع الاول میں
موطا کی روایت ہے اور مہینہ مورخین میں مشھور ہے

ربیع الاول کی دس تاریخ کو ١١  ہجری پیر کا دن بنتا ہے

http://www.islamicity.org/Hijri-Gregorian-Converter/?AspxAutoDetectCookieSupport=1
June 4, 632

—-

http://www.oriold.uzh.ch/static/hegira.html
اس کے مطابق
١٣ ربیع الاول کا دن پیر کا تھا

یعنی علم ہیت کے حساب سے بھی ١٢ ربیع الاول وفات کی تاریخ  اور پیر کا دن نہیں بنتا

لہذا موطا میں مشھور قول ہے کہ پیر کے روز وفات ہوئی اس کو قبول کیا جائے گا لیکن اس روز کیا تاریخ تھی معلوم نہیں

اس حدیث کا کیا مطلب بنتا ہے سمجھے نہیں آیا

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 424 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 43 متفق علیہ 34
احمد زہیر یحییٰ حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو طلب فرمایا تاکہ بحرین میں ان کے لئے جاگیر و معافی لکھ دیں تو انصاریوں نے کہاں اللہ کی قسم ! یہ ہرگز نہیں ہوسکتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے ہمارے قریشی بھائیوں کے لئے بھی اتنا ہی لکھ دیجئے تو حضور نے (مشیت ایزدی کے موافق) جواب دیا انشاء اللہ وہ وقت بھی آئے گا اور انصار اپنی اس بات پر اڑے رہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم عنقریب میرے بعد لوگوں کو غیر معقول ترجیح پاتے ہوئے دیکھو گے اس وقت صبر کرنا تاکہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرسکو۔

جواب

نبی صلی الله علیہ وسلم نے انصاریوں کو مال دینے کا ارادہ کیا
بخاری کی حدیث ہے

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن علی باقر سے سنا، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بحرین سے (جزیہ کا)مال آیا تو میں تمہیں اس طرح دونوں لپ بھربھر کر دوں گا لیکن بحرین سے مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک نہیں آیا پھر جب اس کے بعد وہاں سے مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کرا دیا کہ جس سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ پر کسی کا قرض ہو وہ ہمارے یہاں آ جائے۔ چنانچہ میں حاضر ہوا۔ اور میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ وہ باتیں فرمائی تھیں۔ جسے سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا۔ میں نے اسے شمار کیا تو وہ پانچ سو کی رقم تھی۔ پھر فرمایا کہ اس کے دو گنا اور لے لو۔

——-

اپ نے جو حدیث پیش کی ہے وہ اوپر والی حدیث جو ہم نے لکھی ہے اس سے پہلے کا واقعہ ہے کہ اپ نے چند مخصوص اصحاب رسول کو جو انصاری تھے ان کو مال دینا چاہتے تھے لیکن انہوں نے اس کو نہیں لیا یہاں تک کہ جابر بن عبد الله انصاری نے وفات کے بعد لیا
—–
حدیث کے الفاظ
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم عنقریب میرے بعد لوگوں کو غیر معقول ترجیح پاتے ہوئے دیکھو گے اس وقت صبر کرنا تاکہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرسکو۔
یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے

ایک ترجمہ اور کیا جاتا ہے
میرے بعد (دوسرے لوگوں کو) تم پر ترجیح دی جایا کرے گی تو اس وقت تم صبر کرنا، یہاں تک کہ ہم سے (آخرت میں آ کر) ملاقات کرو
یہ بھی صحیح نہیں ہے

‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي
تم میرے بعد خود غرضی دیکھو گے پس صبر کرنا یہاں تک کہ ملو

اغلبا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو خوف تھا کہ مہاجرین خلیفہ ہونے پر انصار کو حق نہ دیں گے یہ ایک بشری خوف تھا انصار کے لوگوں کو ابو بکر رضی الله عنہ نے مال بحرین دے دیا یہاں تک کہ اعلان بھی کیا کہ کسی سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وعدہ کیا ہو تو لے لے

آخری انصاری اصحاب رسول میں سے جابر بن عبد الله ہی ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ کو مال بحرین مل گیا تھا یعنی باقی انصار سے اس کے بر خلاف کچھ نہیں اتا لہذا اغلبا یہ بات ایک گمان تھی

و الله اعلم

صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ غَزْوَةِ الخَنْدَقِ وَهِيَ الأَحْزَابُ) صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں
(باب: غزوئہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوئہ احزاب ہے ۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ غزوئہ خندق شوال 4 ھ میں ہوا تھا۔)

. حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَسْوَاتُهَا تَنْطُفُ قُلْتُ قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ فَقَالَتْ الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ قَالَ مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَهَلَّا أَجَبْتَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ قَالَ حَبِيبٌ حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ قَالَ مَحْمُودٌ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَنَوْسَاتُهَا

. مجھ سے ابرا ہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ‘ انہیں معمر بن راشد نے ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم بن عبد اللہ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور معمر بن راشد نے بیان کیا کہ مجھے عبد اللہ بن طاؤس نے خبر دی ‘ ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ‘ لوگ تمہارا انتظار کررہے ہیں ۔ کہیں ایسا نہ کہ تمہارا موقع پر نہپہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے ۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبد اللہ رضی اللہ عنہ گئے ۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے ۔ یقینا ہم اس سے ( اشارہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا ) زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی ( جواب دینے کو تیار ہوا ) اور ارادہ کرچکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی ۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے ۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آگئیں جو اللہ تعالیٰ نے ( صبر کر نے والوں کے لیے ) جنتوں میں تیار کر رکھی ہیں ۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھاہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لئے گئے ‘آفت میں نہیں پڑے ۔ محمود نے عبد الرزاق سے ( نسواتھا کے بجائے لفظ ) ونوساتھا بیان کیا ( جس کے معنی چوٹی کے ہیں جو عورتیں سر پر بال گوندھتے وقت نکالتی ہیں )

جواب

ہم کو اس بحث میں پارٹی نہیں بننا چاہیے
دونوں اصحاب رسول ہیں اور ابن عمر رضی الله عنہ نے اپنے اسموقف سے رجوع کیا اور یزید کی بیعت کے بعد ان کی وکالت کی

بخاری بیان کرتے ہیں کہ

– باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ الله وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ الله وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ

نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے

عبد الله ابن عمر رضی الله عنہ کی رائے یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کے لئے کتنی سخت ہے مسلم بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ، زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ، أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»

نافع کہتے ہیں عبد الله ابن عمر عبد الله بن نِ مُطِيعٍ کے پاس گئے جب حرہ میں ہوا جو ہوا یزید بن معاویہ کے دور میں اس نے کہا ابی عبد الرحمان اور ان کے سرداروں کے لئے ہٹاؤ عبد الله ابن عمر نے کہا میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو رسول الله سے سنی کہ جو اطاعت میں سے ایک ہاتھ نکلا اس کی الله سے ایسے ملاقات ہو گی کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جو مرا کہ اس کی گردن پر اطاعت کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کو موت مرا

صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ تَحْرِيمِ سَبِّ الصَّحَابَةِؓ) صحیح مسلم: کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب

(باب: صحابہ کرام ؓ کو برا کہنا حرا م ہے)

6488 . حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ»

جریر نے اعمش سے،انھوں نے ابو صالح سے، انھوں نے حضرت ابو سعید (خدری) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت خالد بن ولید اور عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان کو ئی مناقشہ تھا ،حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو برا کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” میرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کسی کو برا نہ کہو، کیونکہ تم میں سے کسی شخص نے اگر اُحدپہاڑ کے برابرسونا بھی خرچ کیاتو وہ ان میں سے کسی کے دیے ہو ئے ایک مدکے برابر بلکہ اس کے آدھے کے برابر بھی (اجر) نہیں پاسکتا ۔”

جواب

مسند ابو یعلی اور صحیح ابن حبان میں ہے کہ خالد بن ولید اور عبد الرحمان بن عوف رضی الله عنہ میں جھگڑا ہوا جس پر اپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ فرمایا
حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ»

اس کی سند صحیح ہے

اصحاب رسول میں جو مہاجرین اول ہیں ان کا درجہ ان سے بڑھ کر ہے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا
بعد میں اسلام قبول کرنے والوں میں خود رسول الله کے چچا عباس رضی الله عنہ اور ابن عباس رضی الله عنہ بھی ہیں
لیکن ان دونوں سے اچھا وعدہ ہے

صحیح مسلم: کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب

(باب: حضرت ابو سفیان صخر بن حرب ؓ کے فضائل)

6409 . حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلَا يُقَاعِدُونَهُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللهِ ثَلَاثٌ أَعْطِنِيهِنَّ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ، أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أُزَوِّجُكَهَا، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ، تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ، كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: وَلَوْلَا أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ، لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ: «نَعَمْ»

عکرمہ نے کہا: ہمیں ابو زمیل نے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: مسلمان نہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کرتے تھے نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے۔اس پر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے تین چیزیں عطا فر ما دیجیے ۔(تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرما لیجیے ۔)آپ نے جواب دیا :” ہاں ۔”کہا میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ہے میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں۔آپ نے فر مایا :”ہاں ۔”کہا: اور معاویہ (میرابیٹا ) آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کا تب بنا دیجیے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” ہاں۔ “پھر کہا: آپ مجھے کسی دستے کا امیر (بھی ) مقرر فرمائیں تا کہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا اسی طرح کافروں کے خلا ف بھی جنگ کروں ۔آپ نے فرمایا :”ہاں۔”ابو زمیل نے کہا: اگر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہو تا تو آپ (از خود ) انھیں یہ سب کچھ عطا نہ فر ما تے کیونکہ آپ سے کبھی کو ئی چیز نہیں مانگی جا تی تھی مگر آپ (اس کے جواب میں) “ہاں” کہتے تھے۔

جواب

روایت معلول ہے اس پر محمد فؤاد عبد الباقي کہتے ہیں
واعلم أن هذا الحديث من الأحاديث المشهورة بالإشكال ووجه الإشكال أن أبا سفيان إنما أسلم يوم فتح مكة سنة ثمان من الهجرة وهذا مشهور لا خلاف فيه وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد تزوج أم حبيبة قبل ذلك بزمان طويل تزوجها سنة ست وقيل سنة سبع واختلفوا أين تزوجها فقيل بالمدينة بعد قدومها من الحبشة وقال الجمهور بأرض الحبشة
اور جان لو کہ یہ حدیث ان مشھور احادیث میں سے ہے جن پر اشکال ہے اور وجہ یہ ہے کہ ابو سفیان فتح مکہ کے روز ایمان لائے سن ٨ ہجری میں اور یہ مشھور ہے اس کے خلاف کچھ نہیں اور ام حبیبہ رضی الله عنہ سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک زمانے پہلے نکاح کیا کہا جاتا ہے سن ٦ میں اور ٧ میں اور اس میں اختلاف ہے کہ یہ مدینہ میں ہوا یا حبشہ میں اور جمہور کہتے ہیں حبشہ میں

صحيح مسلم: كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ

(بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ ﷺ أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً)

صحیح مسلم: کتاب: حسن سلوک‘صلہ رحمی اور ادب (باب: نبی ﷺ نے کسی شخص پر لعنت کی ہو، برا کہا ہو یا اس کے خلاف بددعا کی ہو اور وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ اس کے لیے تزکیہ (برائی سے پاکیزگی)، اجر اور رحمت کا باعث بن جائے گی)

6628 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِيَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ لَا

. محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ۔۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔۔ دونوں نے کہا: ہمیں امیہ بن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، کہا: آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی (مقصود پیار کا اظہار تھا) اور فرمایا: “جاؤ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ۔” میں نے آپ سے آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا: “جاؤ، معاویہ کو بلا لاؤ۔” میں نے پھر آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: “اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔”

جواب

دوسری روایت لا أشبع الله بطنه الله اسکا پیٹ نہ بھرے، ضعیف ہے اس کی سند میں أَبُو حَمْزَةَ القَصَّابُ عِمْرَانُ بنُ أَبِي عَطَاءٍ الوَاسِطِيُّ کا تفرد ہے الذھبی کہتے ہیں
لَيَّنَهُ: أَبُو زُرْعَةَ، وَالنَّسَائِيُّ.
ابو زرعہ اور نسائی نے اس کو کمزور کیا ہے

میزان میں ہے کہ أبو داود نے کہا أبو حمزة عمران بن أبي عطاء يقال له عمران الجلاب، ليس بذاك، هو ضعيف
یہ ضعیف ہے

دارقطنی کہتے ہیں
ليس بالقوي
قوی نہیں ہے

بعض نے اس کو ثقہ کہا ہے لیکن یہ راوی مختلف فیہ ہے

راقم کہتا ہے جس میں بھی اس کا تفرد ہو اس کو رد کیا جائے گا

خطبہ حجۃ الوداع کئی طریقوں سے کئی صحابہ (ابن عباس، ابو بکر، عمر، عبداللہ ابن عمر، جابر بن عبداللہ انصاری۔۔۔ وغیرہ) سے کئی کتابوں میں نقل ہوا ہے (مثلاً بخاری، مسلم، ابو داؤد، ابن ہشام، طبری وغیرہ) ۔ مگر کسی نے بھی گورے کالے، عربی عجمی کا ذکر نہیں کیا۔​

مسند احمد کی روایت یہ ہے

حدثنا إسماعيل ثنا سعيد الجريري عن أبي نضرة حدثني من سمع : خطبة رسول الله صلى الله عليه و سلم في وسط أيام التشريق فقال يا أيها الناس ألا إن ربكم واحد وإن أباكم واحد إلا لا فضل لعربي على أعجمي ولا لعجمي على عربي ولا لأحمر على أسود ولا أسود على أحمر إلا بالتقوى أبلغت قالوا بلغ رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال أي يوم هذا قالوا يوم حرام ثم قال أي شهر هذا قالوا شهر حرام قال ثم قال أي بلد هذا قالوا بلد حرام قال فإن الله قد حرم بينكم دماءكم وأموالكم قال ولا أدري قال أو أعراضكم أم لا كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا أبلغت قالوا بلغ رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ليبلغ الشاهد الغائب​

ترجمہ: اسماعیل نے سعید الجریری سے، انہوں نے ابو نضرہ سے روایت کی ہے کہ ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک شخص (نام: نامعلوم) نے مجھے بتایا ہے کہ اس نے سنا کہ پیغمبر نے ایام التشریق کے درمیان میں خطبہ میں فرمایا : ” اے لوگو بے شک تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ بے شک عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی عجمی کو عربی پر۔ اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں اور کالے کو گورے پر، سوائے تقویٰ کے ۔۔۔

اس روایت کی سند فقط ایک تابعی ابو نضرہ تک ہے۔ ابو نضرہ نے آگے اس شخص کا نام نہیں بتلایا جو کہ پیغمبر سے یہ سن کر روایت کر رہا ہے۔​

ایک سوال یہ ہے کہ گورے کالے اور عربی عجمی والی اتنی اہم بات دیگر تمام صحابہ کیسے بھول گئے؟​

جواب

یہ روایت صحیح ہے الجریری آخری عمر میں مختلط تھے لیکن ان سے اس سے قبل اسمعیل کا سماع ہے الکامل از ابن عدی کے مطابق
فمن سمع عنه قبل الاختلاط قَالَ إسماعيل وبشر بن المفضل والثوري.
اسماعیل اور بشر اور ثوری نے اختلاط سے قبل سنا ہے

دوم اس سند میں صحابی کا نام نہیں ہے لیکن چونکہ صحابہ عدول ہیں بہت سے علماء کے نزدیک روایت اس طرح صحیح ہے راقم کہتا ہے کہ یہ بات کہ دین میں نسل سے زیادہ تقوی کو اہمیت حاصل ہے دوسری اسناد سے معلوم ہے لہذا اس روایت کو قبول کیا جائے گا – شعب الإيمان از البیہقی میں صحابی کا نام موجود ہے کہ یہ جابر بن عبد الله رضی الله عنہ ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطَيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْهُذَلِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا شَبِيهٌ أَبُو قِلَابَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ خُطْبَةَ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ” يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى، إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ “، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: ” فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ

الحلية میں بھی یہ جابر رضی الله عنہ کی سند سے ہے
من طريق أبي قلابة القيسي، عن الجريري، عن أبي نضرة، عن جابر قال: خطبنا رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وسط أيام التشريق … فذكره مختصراً.
یہ قول ابو سعید الخدری رضی الله عنہ کی سند سے بھی کتاب المعجم الأوسط میں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ قَالَ: نَا سُهَيْلُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: نَا أَبُو الْمُنْذِرِ الْوَرَّاقُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ، وَلَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى»

مسند احمد میں ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نسلی تفاخر کی کوئی حثیت نہیں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ، لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ فَخْرَهُمْ بِرِجَالٍ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عِنْدَ اللهِ مِنْ عِدَّتِهِمْ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتَنَ

لہذا یہ تمام اعتراضات دور ہوئے
و للہ الحمد

جواب

اس پر ایک روایت ہے جو طبقات ابن سعد میں ہے جس میں فاطمہ رضی الله عنہ کو جو اشیاء دی گئی ان کا ذکر ہے لیکن وہ روایت بہت مظبوط نہیں ہے

سنن اکبری نسائی کی روایت ہے
– أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ خَلَّادٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا زَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ كَانَ فِيمَا أَهْدَى مَعَهَا سَرِيرًا مَشْرُوطًا، وَوِسَادَةً مِنْ أُدْمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَقِرْبَةً» قَالَ: وَجَاءُوا بِبَطْحَاءِ الرَّمْلِ فَبَسَطُوهُ فِي الْبَيْتِ؟ وَقَالَ لِعَلِيٍّ: «إِذَا أَتَيْتَ بِهَا فَلَا تَقْرَبْهَا حَتَّى آتِيَكَ» فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَقَّ الْبَابَ، فَخَرَجَتْ إِلَيْهِ أُمُّ أَيْمَنَ فَقَالَ لَهَا: «ثَمَّ أَخِي؟» فَقَالَتْ: وَكَيْفَ يَكُونُ أَخَاكَ وَقَدْ زَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ؟ قَالَ: «فَإِنَّهُ أَخِي» قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهَا: «جِئْتِ تُكْرِمِينَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» فَدَعَا لَهَا، وَقَالَ لَهَا: «خَيْرًا» قَالَ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَكَانَ الْيَهُودُ يُؤْخِذُونَ الرَّجُلَ عَنِ امْرَأَتِهِ إِذَا دَخَلَ بِهَا» قَالَ: ” فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَفَلَ فِيهِ، وَعَوَّذَ فِيهِ، ثُمَّ دَعَا عَلِيًّا فَرَشَّ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ عَلَى وَجْهِهِ وَصَدْرِهِ، وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ، فَأَقْبَلَتْ تَعْثُرُ فِي ثَوْبِهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَعَلَ بِهَا مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ لَهَا: «إِنِّي وَاللهِ، مَا آلَوْتُ أَنْ أُزَوِّجَكِ خَيْرَ أَهْلِي، ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ»

اس کے مطابق تکیہ بستر دیا

لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں جو ڈیمانڈ ہوتی ہیں وہ اس قدر زیادہ ہیں کہ شادی ایک مصیبت ہوتی ہیں اور شادی کرنا ہی زندگی کا سب سے بڑا خرچہ ہوتا ہے- اس معاشرہ میں تصنع و بناوٹ اتنی ہے کہ شاید ہی اس سے نکل سکے

جواب

خدیجہ رضی الله عنہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سب سے محبوب زوجہ تھیں

کتاب ترتيب المدارك وتقريب المسالك المؤلف: أبو الفضل القاضي عياض بن موسى اليحصبي (المتوفى: 544هـ) جو چھٹی صدی کی کتاب ہے اس میں الکبری کا لقب ملتا ہے

اس سے قبل کسی کتاب میں نہیں ملا یہاں تک کہ انساب کی کتب میں بھی نہیں ملا

الکبری کا مطلب سب سے بڑی – ظاہر ہے عمر میں یہ ام المومنین سب سے بڑی ہیں اور لیکن ہم اس سے زیادہ نہیں بول سکتے سب ہماری مائیں ہیں

بعض القاب جب مشھور ہو جائیں تو ان کو استمعال کرنے میں کوئی حرج نہیں مثلا عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا میں صدیقه کا لقب مشھور ہے

راقم کے خیال میں یہ القاب اب کسی عام عورت کے لئے اب استمعال نہیں کیے جا سکتے

جواب

سنن سعید بن منصور کی روایت ہے

حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدِ اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»

سند میں اعمش مدلس عن سے روایت کر رہا ہے ضعیف ہے
——–

فضائل صحابہ امام احمد کی کتاب ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قثنا عَوْفٌ قثنا أَبُو نَضْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ» .

اس کی سند میں أَبُو نَضْرَةَ العَبْدِيُّ المُنْذِرُ بنُ مَالِكِ بنِ قُطَعَةَ ہیں

الذھبی سیر الاعلام میں لکھتے ہیں

وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ فِي (الثِّقَاتِ) : كَانَ مِمَّنْ يُخْطِئُ،

ابن حبان ثقات میں لکھتے ہیں یہ وہ ہیں جو غلطی کرتے ہیں

وَقَالَ ابْنُ سَعْدٍ : ثِقَةٌ، كَثِيْرُ الحَدِيْثِ، وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ يُحْتَجُّ بِهِ.

ابن سعد کہتے ہیں ثقہ ہیں کثیر الحدیث ہیں اور ہر ایک سے دلیل نہیں لی جا سکتی
——

مسند ابن ابی شیبہ میں ہے
نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدِ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»

مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَتُلُقِّينَا بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَكَانَ غِلْمَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَهْلِيهِمْ، فَلَقُوا أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ، فَنَعَوْا لَهُ امْرَأَتَهُ، فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ يَبْكِي، قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكَ مِنَ السَّابِقَةِ وَالْقِدَمِ، مَا لَكَ تَبْكِي عَلَى امْرَأَةٍ. فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ وَقَالَ: صَدَقْتِ لَعَمْرِي، حَقِّي أَنْ لَا أَبْكِي عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا قَالَ: قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: مَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَقَدْ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ» قَالَتْ: وَهُوَ يَسِيرُ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”

سند میں محمد بن عمرو بن علقمہ ہے جو مظبوط نہیں ہے
قال الجوزجاني ليس بقوي
ولينه يحيى القطان

—————–

مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ قَتَادَةُ، وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَنَازَةُ سَعْدٍ مَوْضُوعَةٌ: «اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ»

اس میں عبد الوہاب کا سماع سعید بن ابی عروبہ سے کب ہوا اختلاف ہے عالم اختلاط میں یا اس سے قبل

الكامل في ضعفاء الرجال
المؤلف: أبو أحمد بن عدي الجرجاني (المتوفى: 365هـ)

وروى الأصناف كلها سَعِيد بْن أبي عَرُوبة عن عَبد الوهاب بْن عطاء الخفاف


وقال أبو عبيد الآجري: سئل أبو داود عن السهمي والخفاف في حديث ابي عروبة: فقال: عبد الوهاب أقدم: فقيل له: عبد الوهاب سمع في الاختلاط. فقال: من قال هذا؟ سمعت أحمد بن حنبل سئل عن عبد الوهاب في سعيد بن أبي عروبة فقال: عبد الوهاب أقدم

امام احمد کہتے تھے عالم اختلاط میں سماع ہے

————

مصنف عبد الرزاق میں ہے
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، 6747 – عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَجِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ: «اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ»

سند میں ابوالزبیر ہے جن کی لیث کے طرق سے روایت لی جاتی ہے اس میں ایسا نہیں ہے لہذا یہ مظبوط نہیں ہے

————

صحیح بخاری میں ہے

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا فَضْلُ بْنُ مُسَاوِرٍ، خَتَنُ أَبِي عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اهْتَزَّ العَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»، وَعَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: لِجَابِرٍ، فَإِنَّ البَرَاءَ يَقُولُ: اهْتَزَّ السَّرِيرُ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ الحَيَّيْنِ ضَغَائِنُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»

یہاں بھی اعمش کی تدلیس ہے

———–

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
حَدَّثَنَا

36800 – مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: ” لَقَدِ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِحُبِّ لِقَاءِ اللَّهِ سَعْدًا , قَالَ: وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ , قَالَ: تَفَسَّخَتْ أَعْوَادُهُ , قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَهُ فَاحْتَبَسَ , فَلَمَّا خَرَجَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا حَبَسَكَ؟ قَالَ: «ضُمَّ سَعْدٌ فِي الْقَبْرِ ضَمَّةً، فَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُ»

======================================

مزید دیکھیں

⇑ بعض علماء کے مطابق سعد بن معاذ رضی الله عنہ کو بھی قبر نے دبوچہ تھا ؟ کیا اس کی اسناد صحیح ہیں؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/حیات-بعد-الموت/

—————–

إس میں عرش کے ڈگمگانے کے الفاظ مجاز پر لئے جائیں گے یہ علماء کہتے ہیں لیکن یہ روایت مضطرب ہے ایک طرف تو عرش رحمان ہے جو خوشی میں جھوم رہا ہے دوسری طرف قبر بھی دبوچ رہی ہے

فقہ مالکیہ کی معتمد کتاب المدخل از ابن الحاج (المتوفى: 737هـ) کے مطابق

وَمِنْ الْعُتْبِيَّةِ سُئِلَ مَالِكٌ – رَحِمَهُ اللَّهُ – عَنْ الْحَدِيثِ فِي جِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي اهْتِزَازِ الْعَرْشِ، وَعَنْ حَدِيثِ «إنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ» ، وَعَنْ الْحَدِيثِ فِي السَّاقِ فَقَالَ – رَحِمَهُ اللَّهُ -: لَا يُتَحَدَّثَنَّ بِهِ، وَمَا يَدْعُو الْإِنْسَانَ أَنْ يَتَحَدَّثَ بِهِ

اور الْعُتْبِيَّةِ میں ہے کہ امام مالک سے سوال ہوا حدیث کہ الله کا عرش معآذ کے لئے ڈگمگا گیا اور حدیث الله نے آدم کو اپنی صورت پر خلق کیا اور حدیث پنڈلی والی – تو امام مالک رحمہ الله نے کہا یہ روایت نہ کرو اور نہ انسان کو اس کو روایت کرنے پر بلاو

صحیح بخاری ، کتاب البیوع حدیث نمبر 2089

أنَّ عليًّا عليه السلامُ قال : كانتْ لي شارفٌ من نَصيبي منَ المَغنَمِ ، وكان النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أعطاني شارفًا منَ الخمُسِ ، فلما أرَدتُ أن أبتَنِيَ بفاطمةَ عليها السلامُ ، بنتِ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم ، واعَدتُ رجلًا صَوَّاغًا من بني قَينُقاعَ أن يَرتَحِلَ معي ، فنأتي بإذخِرٍ أرَدتُ أن أبيعَه من الصوَّاغينَ ، وأستَعينَ به في وَليمَةِ عُرْسي .
الراوي: علي بن أبي طالب المحدث: البخاري – المصدر: صحيح البخاري – الصفحة أو الرقم: 2089

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://www.islamicurdubooks.com

کی ویب سائٹ کی سوفٹ ویئر کا عربی متن

حدثنا عبدان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا عبد الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا يونس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن شهاب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال أخبرني علي بن حسين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن حسين بن علي ـ رضى الله عنهما ـ أخبره أن عليا ـ عليه السلام ـ قال كانت لي شارف من نصيبي من المغنم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكان النبي صلى الله عليه وسلم أعطاني شارفا من الخمس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما أردت أن أبتني بفاطمة ـ عليها السلام ـ بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم واعدت رجلا صواغا من بني قينقاع أن يرتحل معي فنأتي بإذخر أردت أن أبيعه من الصواغين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأستعين به في وليمة عرسي‏.‏
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://hdith.com/hdith.php?s=8s9d

أنَّ عليًّا عليه السلامُ قال : كانتْ لي شارفٌ من نَصيبي منَ المَغنَمِ ، وكان النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أعطاني شارفًا منَ الخمُسِ ، فلما أرَدتُ أن أبتَنِيَ بفاطمةَ عليها السلامُ ، بنتِ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم ، واعَدتُ رجلًا صَوَّاغًا من بني قَينُقاعَ أن يَرتَحِلَ معي ، فنأتي بإذخِرٍ أرَدتُ أن أبيعَه من الصوَّاغينَ ، وأستَعينَ به في وَليمَةِ عُرْسي .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://sunnah.com/bukhari/34

أَنَّ عَلِيًّا ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمْسِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعَدْتُ رَجُلاً صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ، وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرُسِي‏.‏

جواب

شیعہ حضرات صحیح کہہ رہے ہیں اہل بیت کے ساتھ نسخوں میں ایسا ہی ہے لیکن کیا یہ امام بخاری کا عمل ہے یا کاتب کا یہ پتا نہیں ہے کیونکہ پرنٹ پریس نہیں تھے کاتب کو پیسے دے کر کتابیں لکھوائی جاتی تھیں اور اس میں اس کی کوئی شرط نہیں تھی کہ کاتب شیعہ نہ ہو لہذا شیعہ کاتبین نے اس میں یہ اضافے کر دیے ہیں
یہ راقم کی رائے ہے اس وجہ ہے کہ جس دور میں صحیح بخاری لکھی گئی اس وقت تک اصحاب رسول کے نام کے ساتھ رضی الله عنہم کا لاحقہ نہیں لگایا جاتا تھا نہ ہی ال علی کے ساتھ علیہ السلام لکھا جاتا تھا اس کی دلیل جرح و تعدیل کی کتب ہیں جن میں آج تک ایسا ہی ہے

صحیح کی روایت ہے

4947 – حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الجَنَّةِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نَتَّكِلُ؟ قَالَ: «لاَ، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ» ثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى} [الليل: 5] إِلَى قَوْلِهِ {فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: 10] __________

نسخہ سلطانیہ ج ٦ ص ١٧١ جو دار طوق النجاة چھاپا ہے اس کے مطابق عَلَيْهِ السَّلاَمُ کا لاحقہ صحیح بخاری کے تمام نسخوں میں نہیں صرف الینونیی کے نسخہ میں ہے

إس سے ظاہر ہے کہ یہ لاحقہ امام بخاری کا نہیں اغلبا کاتب کا ہے دوسرے صحیح میں صرف دو تین روایات پر علی علیہ السلام ہے جبکہ ہزاروں مرتبہ علی کا نام احادیث میں اتا ہے

سنن أبي داؤد: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِي الْحَوْضِ) سنن ابو داؤد: کتاب: سنتوں کا بیان (باب: حوض کا بیان)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ أَبُو طَالُوتَ قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا بَرْزَةَ، دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَحَدَّثَنِي فُلَانٌ- سَمَّاهُ مُسْلِمٌ، وَكَانَ فِي السِّمَاطِ-، فَلَمَّا رَآهُ عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا الدَّحْدَاحُ!! فَفَهِمَهَا الشَّيْخُ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسَبُ أَنِّي أَبْقَى فِي قَوْمٍ يُعَيِّرُونِي بِصُحْبَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَقَالَ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ: إِنَّ صُحْبَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ زَيْنٌ غَيْرُ شَيْنٍ! قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِأَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِيهِ شَيْئًا؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَرْزَةَ: نَعَمْ, لَا مَرَّةً وَلَا ثِنْتَيْنِ، وَلَا ثَلَاثًا، وَلَا أَرْبَعًا، وَلَا خَمْسًا، فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ مُغْضَبًا.

مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہ ہمیں عبداالسلام بن ابوحازم ابو طالوت نے بیان کیا اور کہا کہ میں نے ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ( یزید بن معاویہ کی جانب سے کوفہ کے امیر ) عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے ۔ عبداالسلام نے کہا : مجھے ایک شخص نے بیان کیا جو اس مجلس میں شریک تھا ۔ ( ابوداود کہتے ہیں ) مسلم بن ابراہیم نے اس کا نام بھی لیا تھا ۔ عبیداللہ نے جب ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو بولا : اپنے اس موٹے ٹھگنے محمدی کو دیکھو ۔ شیخ اس کی بات سمجھ گئے ( کہ اس نے طعنہ دیا ہے ) تو انہوں نے کہا : مجھے یہ امید نہیں تھی کہ میں اس قوم میں باقی رہوں گا جو مجھے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیت پر طعنہ دے گی ۔ تو عبیداللہ نے ان سے کہا : بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تمہارے لیے باعث عزت ہے ۔ اس میں کوئی عیب کی بات نہیں ہے ۔ پھر کہا : میں نے آپ کو اس لیے بلا بھیجا ہے کہ آپ سے حوض کے متعلق دریافت کروں ۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں کچھ کہتے سنا ہے ؟ تو سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ۔ کوئی ایک ، دو ، تین ، چار یا پانچ بار نہیں ( بلکہ بارہا سنا ہے ) تو جو اس کو جھٹلائے اللہ اس کو اس سے نہ پلوائے ‘ پھر غصے سے باہر نکل آئے ۔

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِمَارَةِ (بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ) صحیح مسلم: کتاب: امور حکومت کا بیان (باب: عادل حاکم کی فضیلت ‘ظالم حاکم کی سزا ‘رعایہ طے ساتھ نرمی کی تلقین‘اور ان پر مشقت ڈالنے کی ممانعت)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ»، فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ؟ إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ، وَفِي غَيْرِهِمْ

حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: “بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو۔” اس نے کہا: آپ بیٹھیے: آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چھلنی میں بچ جانے والے آخری حصے کی طرح ہیں۔ (آخر میں چونکہ تنکے، پتھر، بھوسی بچ جاتے ہیں، اس لیے) انہوں نے کہا: کیا ان میں بھوسی، تنکے، پتھر تھے؟ یہ تو ان کے بعد ہوئے اور ان کے علاوہ دوسروں میں ہوئے

کیا یہ حدیث صحیح ہے

جواب

اس کی سند میں مجھول ہے
فحدَّثني فلان -سماه مسلمٌ-
مجھے ایک فلاں نے خبر دی جس کا نام مسلم (بن ابراہیم) نے لیا تھا

یہ شخص مجھول ہے اور یہ سند کمزور ہے البتہ اس کو مختصرا مسند احمد میں بیان کیا گیا ہے جہاں اس کی سند صحیح ہے اس میں صرف یہ ہے کہ عبید الله نے صحابی سے حوض کوثر کا پوچھا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ أَبُو طَالُوتَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْجُرَيْرِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ، قَالَ لِأَبِي بَرْزَةَ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَهُ قَطُّ، يَعْنِي الْحَوْضَ، قَالَ: نَعَمْ. لَا مَرَّةً وَلَا مَرَّتَيْنِ ” فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللهُ مِنْهُ

کتاب الجامع (منشور كملحق بمصنف عبد الرزاق) المؤلف: معمر بن أبي عمرو راشد میں یہ طویل ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ، وَكَانَتْ فِيهِ حَرُورِيَّةٌ، فَقَالَ: أَرَأَيْتُمُ الْحَوْضَ الَّذِي يُذْكَرُ، مَا أُرَاهُ شَيْئًا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ نَاسٌ مِنْ صَحَابَتِهِ: فَإِنَّ عِنْدَكَ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسِلْ إِلَيْهِمْ فَاسْأَلْهُمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَوْضِ، فَحَدَّثَهُ ثُمَّ قَالَ: أَرْسِلْ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَأَتَاهُ وَعَلَيْهِ ثَوْبَا حِبَرٍ، قَدِ ائْتَزَرَ بِوَاحِدٍ، وَارْتَدَى بِالْآخَرِ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا لَحِيمًا إِلَى الْقِصَرِ، فَلَمَّا رَآهُ عُبَيْدُ اللَّهِ ضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا لَدَحْدَاحٌ، قَالَ: فَفَهِمَهَا الشَّيْخُ، فَقَالَ: وَاعَجَبَاهُ، أَلَا أُرَانِي فِي قَوْمِي يَعُدُّونَ صَحَابَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَارًا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ جُلَسَاءُ عُبَيْدِ اللَّهِ: إِنَّمَا أَرْسَلَ إِلَيْكَ الْأَمِيرُ لِيَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ، هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ، فَمَنْ كَذَبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ، قَالَ: ثُمَّ نَفَضَ رِدَاءَهُ وَانْصَرَفَ غَضْبَانَ، قَالَ: فَأَرْسَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى زَيْدِ بْنِ [ص:405] الْأَرْقَمِ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَوْضِ، فَحَدَّثَهُ حَدِيثًا مُوَنَّقًا أَعْجَبَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ أَخِي، قَالَ: فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِي حَدِيثِ أَخِيكَ، فَقَالَ أَبُو سَبْرَةَ، رَجُلٌ مِنْ صَحَابَةِ عُبَيْدِ اللَّهِ: فَإِنَّ أَبَاكَ حِينَ انْطَلَقَ وَافِدًا إِلَى مُعَاوِيَةَ انْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَحَدَّثَنِي مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ حَدِيثًا سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمْلَاهُ عَلَيَّ وَكَتَبْتُهُ، قَالَ: فَإِنِّي أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا أَعْرَقْتَ هَذَا الْبِرْذَوْنَ حَتَّى تَأْتِيَنِي بِالْكِتَابِ، قَالَ: فَرَكِبْتُ الْبِرْذَوْنَ فَرَكَضْتُهُ حَتَّى عَرِقَ، فَأَتَيْتُهُ بِالْكِتَابِ، فَإِذَا فِيهِ هَذَا مَا حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ، وَسُوءُ الْجِوَارِ، وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَامِ، وَحَتَّى يُخَوَّنَ الْأَمِينُ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ أَسْلَمَ الْمُسْلِمِينَ، لَمَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهِجْرَةِ لَمَنْ هَجَرَ مَا نَهَاهُ اللَّهُ عَنْهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ نَفَخَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَتَغَيَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ النَّخْلَةِ أَكَلَتْ طَيِّبًا وَوَضَعَتْ طَيِّبًا، وَوَقَعَتْ فَلَمْ تُكْسَرْ وَلَمْ تَفْسُدْ، أَلَا وَإِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ – أَوْ قَالَ: صَنْعَاءَ إِلَى الْمَدِينَةِ -، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ مَثَلَ الْكَوَاكِبِ، هُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، مَنْ شَرِبَ [ص:406] مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا» قَالَ أَبُو سَبْرَةَ: فَأَخَذَ عُبَيْدُ اللَّهِ الْكِتَابَ، فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَلَقِيَ يَحْيَى بْنَ يَعْمُرَ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأَنَا أَحْفَظُ لَهُ مِنِّي لِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ كَمَا

اس میں تفصیل ہے جس سے معلوم ہوتا کہ اصل میں کیا ہوا

لب لباب ہے کہ عبید الله سے خوارج ملے اور اس سے حوض کوثر پر سوال کیے – عبید الله اس پر شک کا شکار ہوا یہاں تک کہ عبید الله کے افسروں نے عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو رضی الله عنہ کو بلایا کہ حوض کوثر پر معلومات دیں – اس پر عبید الله نے کہا کہ یہ تو محمدیوں میں بھوسی (آخر میں جو رہ جائیں) میں سے ہیں یعنی کسی اور جو شروع میں سے ہو اس کو لاو – لوگوں کو اصحاب رسول أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، زَيْدِ بْنِ الْأَرْقَمِ کے پاس بھیجا کہ پتا کرے کیا صحیح ہے یہاں تک کہ شام میں معاویہ رضی الله عنہ سے بھی پر سوال کیا

لہذا اس میں عبید الله کا مقصد صحابی عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو کی تنقیص نہ تھا بلکہ خوارج کے اشکال کی وجہ سے وہ چاہتا تھا کہ سابقوں اولون میں سے کوئی خبر دے

الدَّحْداح پر کتاب غريب الحديث المؤلف: أبو عُبيد القاسم بن سلاّم بن عبد الله الهروي البغدادي (المتوفى: 224هـ) میں ابو عبید لکھتے ہیں

وَقَالَ أَبُو عبيد: فِي حَدِيث عبيد الله بن زِيَاد حِين قَالَ لأبي بَرزَة الْأَسْلَمِيّ: إِن مُحَمَّدِيَّكُم هَذَا الدَّحْداح قَالَ حَدَّثَنِيهِ دَاوُد بن الزبْرِقَان بِإِسْنَاد لَهُ. قَالَ أَبُو عَمْرو مرّة: إِنَّمَا هُوَ ذَحْذاح بِالذَّالِ ثمَّ رَجَعَ عَنهُ وَقَالَ هُوَ بِالدَّال وَكَذَلِكَ الرِّوَايَة بِالدَّال وَهُوَ الصَّوَاب وَهُوَ
الرجل الْقصير السمين

ابو عبید کہتے ہیں …. الدَّحْداح .. وہ شخص ہے جو موٹا کم قد کا ہو

کتاب كتاب الألفاظ (أقدم معجم في المعاني) المؤلف: ابن السكيت، أبو يوسف يعقوب بن إسحاق (المتوفى: 244هـ)
کے مطابق
الدحداح. وهو القصير المكتنز اللحم
الدحداح. وہ ہے جو چھوٹا گوشت میں بہت ہو

لہذا درست ترجمہ ہے
یہ محمدی تو بہت موٹے ہیں

روایت میں ہے کہ عبید الله نے یہ الفاظ طنز میں نہیں کہے کیونکہ اس نے کہا بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تمہارے لیے باعث عزت ہے ۔ اس میں کوئی عیب کی بات نہیں ہے

اصل میں عبید الله پر قاتلین حسین ہونے کا جھوٹا الزام مختار ثقفی کذاب کا تھا جس کو آج تک ایسے بیان کیا جاتا ہے کہ گویا یہ کوئی تاریخی حقیقت ہو اور اس سے متعلق روایت میں الفاظ کا ترجمہ بھی اس انداز میں کیا جاتا ہے کہ منفی پہلو غالب رہے

و اللہ اعلم


صحیح مسلم کی روایت ضعیف ہے

سندا اس میں مسئلہ انقطاع کا ہے

کتاب العلل از امام علی المدینی کے مطابق
سُئِلَ عَن حَدِيث الْحسن عَن عَائِذ بن عَمْرو فَقَالَ لَيْسَ بِشَيْء وَحَرَّكَ رَأْسَهُ مَا أَرَاهُ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا
وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ شَيْئًا
وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ شَيْئًا

امام علی سے سوال کیا حسن بصری کی حدیث عَائِذ بن عَمْرو پر انہوں نے کہا: کوئی چیز نہیں ہے اور سر کو ہلایا کہ حسن نے عَائِذ بن عَمْرو سے کچھ نہ سنا اور ابو برزہ نے بھی کچھ نہ سنا اور نہ ہی اسامہ بن زید نے سنا
یہی قول جامع التحصيل في أحكام المراسيل میں بھی ہے

کیا اس حدیث کی سند صحیح ہے

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الفِتَنِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «هَلاَكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ سُفَهَاءَ») صحیح بخاری: کتاب: فتنوں کے بیان میں (باب : نبی کریم ﷺ کا یہ فرمایا کہ میری امت کی تباہی چند بے وقوف لڑکوں کی حکومت سے ہوگی)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَمَعَنَا مَرْوَانُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ مَرْوَانُ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ لَفَعَلْتُ فَكُنْتُ أَخْرُجُ مَعَ جَدِّي إِلَى بَنِي مَرْوَانَ حِينَ مُلِّكُوا بِالشَّأْمِ فَإِذَا رَآهُمْ غِلْمَانًا أَحْدَاثًا قَالَ لَنَا عَسَى هَؤُلَاءِ أَنْ يَكُونُوا مِنْهُمْ قُلْنَا أَنْتَ أَعْلَمُ

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا سعید نے خبردی، کہا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے آپ نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند چھوکروں کے ہاتھ سے ہوگی۔ مروان نے اس پر کہا ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں ان کے خاندان کے نام لے کر بتلانا چاہوں تو بتلاسکتا ہوں۔ پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہوگئے تو میں اپنے دادا کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا۔ جب وہاں انہوں نے نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا کہ شاید یہ انہی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا کہ آپ کو زیادہ علم ہے۔

جواب

اول تو باب کا ترجمہ غلط ہے صحیح ہے کہ

نبی کریم ﷺ کا یہ فرمایا کہ میری امت کی تباہی چند  لڑکوں کے ہاتھوں سے ہوگی

یہ روایت صحیح ہے

اس میں دو آراء موجود ہیں

اول: ابو ہریرہ رضی الله عنہ ان لوگوں کو جانتے تھے جن کے ہاتھوں امت تباہ ہوئی

دوم : دوسری رائے راوی کی ہے : اس کی سند میں عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الأَشْدَقِ، وَاسْمُهُ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَبُو أُمَيَّةَ الأُمَوِيُّ السَّعِيدِيُّ الْمَكِّيُّ. [الوفاة: 171 – 180 ه] ہیں یہ اپنے دادا کے ساتھ دمشق جاتے تھے تو اس کا مطلب ہے کہ سن 120 ہجری کا دور ہو گا جب بنو امیہ کا اپس میں اختلاف تھا اور وہ اس کا آخری دور تھا

———

راقم کے نزدیک ابوہریرہ رضی الله عنہ اپنے دور میں یعنی سن ٥٩ ہجری سے پہلے کے چھوکروں کا ذکر کر رہے ہیں
راقم کے نزدیک یہ دو ہیں
ایک محمد بن ابی بکر اور دوسرا محمد بن أبي حذيفة بن عتبة بن ربيعة ہے جو اصحاب رسول کی اولاد ہیں قریشی ہیں اور ان کی وجہ سے عثمان رضی الله عنہ کا قتل ہوتا ہے

یہاں تک کہ حسن بصری ، محمد بن ابی بکر کو الفاسق کہا کرتے
المعجم الكبير کی روایت ہے
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: «أُخِذَ الْفَاسِقُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي شِعْبٍ مِنْ شِعَابِ مِصْرَ فَأُدْخِلَ فِي جَوْفِ حِمَارٍ فَأُحْرِقَ
ہیثمی کہتے ہیں رواه الطبراني ورجاله ثقات
حسن نے کہا : الفاسق محمد بن ابی بکر مصر کی وادیوں میں سے ایک میں سے پکڑا گیا اور اس کو گدھے کے پیٹ میں ڈال کر جلایا گیا
اس کو طبرانی نے ثقات سے روایت کیا ہے

ابن سعد کے مطابق
قال أبو الأشهب : وكان الحسن لا يسميه باسمه إنما كان يسميه الفاسق
أبو الأشهب نے کہا : حسن اس کا (محمّد بن ابی بکر کا) نام تک نہیں لیتے تھے اس کا نام الفاسق رکھ دیا تھا

و الله اعلم

صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ غَزْوَةِ الخَنْدَقِ وَهِيَ الأَحْزَابُ) صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں (باب: غزوئہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوئہ احزاب ہے ۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ غزوئہ خندق شوال 4 ھ میں ہوا تھا۔)
4108 . حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَسْوَاتُهَا تَنْطُفُ قُلْتُ قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ فَقَالَتْ الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ قَالَ مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَهَلَّا أَجَبْتَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ قَالَ حَبِيبٌ حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ قَالَ مَحْمُودٌ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَنَوْسَاتُهَا

مجھ سے ابرا ہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ‘ انہیں معمر بن راشد نے ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم بن عبد اللہ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور معمر بن راشد نے بیان کیا کہ مجھے عبد اللہ بن طاؤس نے خبر دی ‘ ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ‘ لوگ تمہارا انتظار کررہے ہیں ۔ کہیں ایسا نہ کہ تمہارا موقع پر نہپہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے ۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبد اللہ رضی اللہ عنہ گئے ۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے ۔ یقینا ہم اس سے ( اشارہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا ) زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی ( جواب دینے کو تیار ہوا ) اور ارادہ کرچکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی ۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے ۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آگئیں جو اللہ تعالیٰ نے ( صبر کر نے والوں کے لیے ) جنتوں میں تیار کر رکھی ہیں ۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھاہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لئے گئے ‘آفت میں نہیں پڑے ۔ محمود نے عبد الرزاق سے ( نسواتھا کے بجائے لفظ ) ونوساتھا بیان کیا ( جس کے معنی چوٹی کے ہیں جو عورتیں سر پر بال گوندھتے وقت نکالتی ہیں )

—–

پوچھنا یہ ہے کہ یہاں یہ کیوں کہا گیا

جواب

جب یہ بات پیش کی گئی ہے یزید بن معاویہ مستقبل کے خلیفہ ہوں گے تو اس وقت اس پر بعض نے اعتراض کیا اور بعض نے صبر کیا

عبد الرحمان بن ابی بکر رضی الله عنہ نے اس کو قیصر کی سنت قرار دیا
ابن عمر رضی الله عنہ کو خواہش تھی کہ شاید ان کو خلافت مل جائے لیکن اس کا برملا اظہار نہ کیا
حسین رضی الله عنہ کو بھی خواہش تھی کہ یہ ان کو مل جائے لیکن اس کا برملا اظہار نہ کیا
عبد الله بن زبیر رضی الله عنہ کو بھی خواہش تھی لیکن اس کا برملا اظہار نہ کیا

ابن عمر اور حسین سابقہ خلفاء کے بیٹے تھے لیکن عبد الرحمان بن ابی بکر رضی الله عنہ کے نزدیک یہ صحیح نہیں تھا کہ ان کو خلافت ملے – لہذا اس میں اختلاف ہوا نہ صرف معاویہ رضی الله عنہ سے بلکہ اپس میں بھی – حسین رضی الله عنہ اس وقت مکہ میں تھے

معاویہ رضی الله عنہ نے چیلنج دیا لیکن کسی نے کلام نہ کیا اور ابن عمر نے صبر کیا – معاویہ رضی الله عنہ نے ایک عمومی جملہ بولا ہے ان کا اشارہ خاص ابن عمر کے لئے نہیں ہے کیونکہ ابن عمر نے مجمع میں کوئی کلام نہیں کیا

جواب

شمر بن ذي الجوشن الضّبابى
اس کا قتل مختار ثقفی کذاب نے کیا اور اس کذاب نے ہی شمر پر حسین کا سر قلم کرنے کا الزام لگایا

بعد میں مورخین اس کو بس نقل کرتے رہے ابن قتیبہ المعارف میں کہتے ہیں
شمر بن ذي الجوشن الضّبابى أحد قتلة «الحسين»
شمر ان سے ایک تھا جس نے حسین کا قتل کیا

شمر کے والد ایک صحابی ہیں جن کا نام ذو الجوشن الضبابي رضی الله عنہ ہے یہ اپنے باپ سے روایت کرتا ہے

البغوي نے کتاب معجم الصحابة میں اس کی ایک روایت لکھی ہے اور کہا ہے کہ شمر نے صرف ایک حدیث روایت کی ہے

ابن سعد اپنی طبقات، 3/343، پر ایک روایت درج کرتے ہیں

قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: ” مَنْ أَسْتَخْلِفْ لَوْ كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ؟ فَقَالَ: قَاتَلَكَ اللَّهُ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ اللَّهَ بِهَذَا، أَسْتَخْلِفُ رَجُلًا لَيْسَ يُحْسِنُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ”

حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اگر میں کسی کو خلیفہ بناؤ، تو ابو عبیدہ کو بناؤ۔ ایک آدمی نے پوچھا کہ عبداللہ بن عمر کہاں گئے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خدا تمہیں غارت کرے، خدا کی قسم میں اللہ کا ارادہ ایسا نہیں دیکھتا، ایسے شخص کو خلیفہ بناؤ جو کہ بیوی کو اچھے طریقے سے طلاق بھی نہیں دے سکتا

جواب

اس کی سند منقطع ہے ابراہیم النخعی کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہوئی کتاب جامع التحصیل کے مطابق وقال علي بن المديني إبراهيم النخعي لم يلق أحدا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم

علی بن المدینی کہتے ہیں کہ ابراہیم کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہوئی

موطا امام مالک، اردو ترجمہ، تحقیق شیخ زبیر علی زئی، صفحہ 515، روایت 437 پر ایک طویل روایت ہے

عن سمي مولى أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام أنه سمع أبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام يقول : كنت أنا وأبي عند مروان بن الحكم ، وهو أمير المدينة ، فذكر له أن أبا هريرة يقول : من أصبح جنبا أفطر ذلك اليوم . فقال مروان : أقسمت عليك يا عبد الرحمن لتذهبن إلى أم المؤمنين عائشة وأم سلمة فلتسألنهما عن ذلك ، فذهب عبد الرحمن وذهبت معه حتى دخلنا على عائشة فسلم عليها ثم قال : يا أم المؤمنين ، إنا كنا عند مروان فذكر له أن أبا هريرة يقول : من أصبح جنبا أفطر ذلك اليوم . قالت عائشة : ليس كما قال أبو هريرة يا عبد الرحمن ، أترغب عما كان رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يصنع ؟ قال عبد الرحمن : لا والله ، قالت عائشة : فأشهد على رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه كان يصبح جنبا من جماع غير احتلام ثم يصوم ذلك اليوم . قال : ثم خرجنا حتى دخلنا على أم سلمة فسألها عن ذلك ، فقالت مثل ما قالت عائشة ، قال فخرجنا حتى جئنا مروان بن الحكم فذكر له عبد الرحمن ما قالتا ، فقال مروان : أقسمت عليك يا أبا محمد لتركبن دابتي فإنها بالباب فلتذهبن إلى أبي هريرة فإنه بأرضه بالعراق فلتخبرنه ذلك ، فركب عبد الرحمن وركبت معه حتى أتينا أبا هريرة ، فتحدث معه عبد الرحمن ساعة ثم ذكر له ذلك ، فقال أبو هريرة : لا علم لي بذلك ، إنما أخبرنيه مخبر .

ابو بکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد ایک دن مروان کے پاس تھے، جب وہ مدینہ کے امیر تھے۔ ان کے پاس ذکر ہوا کہ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جو شخص صبح کے وقت جنبی ہو، وہ اس دن افطاری کر لے، یعنی روزہ نہ رکھے، اس پر مروان نے کہا کہ اے عبدالرحمن ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ عائشہ یا ام سلمہ کے پاس جائیں،اور ان سے سوال کریں۔پس وہ اور راوی گئے، اور عائشہ کے پاس جا کر سلام کیا۔ پھر کہا کہ اے مومنوں کی ماں! ہم مروان کے پاس تھے جب ابو ہریرہ کی اس بات کو ذکر ہوا کہ جو جنبی حال میں صبح کرے، وہ افطاری کر لے۔ اس پر عائشہ نے کہا کہ جیسا ابو ہریرہ نے کہا، ایسا نہیں ہے۔ کیا تم اس طریقے سے دور ہو گے جو نبی پاک کرتے تھے؟
ہم نے کہا: خدا کی قسم نہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ بغیر احتلام کے جب جنبی حال میں صبح ہوتے، تو اس دن روزہ رکھتے۔ پھر ہم وہاں سے نکلے اور ام سلمہ کے پاس گئے۔ ان سے پوچھا۔ انہوں نے بھی اسی مثل جواب دیا۔ پھر ہم مروان کے پاس آئے، اور ان کو سب بتایا۔ اس پر مروان نے کہا کہ آپ میری سواری لے جاؤ اور ابوہریرہ سے جا کہ عراق میں ملو، اور انہوں خبر دو ۔ پس ہم گئے اور ابو ہریرہ سے ملے اور اسے بتایا۔ اس پر ابو ہریرہ نے کہا: مجھے اس کا علم نہیں، مجھے تو ایک مخبر نے خبر دی تھی

جبکہ مسند احمد میں ہے
26672 – حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن الزهري عن أبى بكر بن عبد الرحمن بن الحرث بن هشام قال سمعت أبا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أدركه الصبح جنبا فلا صوم له قال فانطلقت أنا وأبي فدخلنا على أم سلمة وعائشة فسألناهما عن ذلك فأخبرتانا ان رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصبح جنبا من غير حلم ثم يصوم فلقينا أبا هريرة فحدثه أبى فتلون وجه أبي هريرة ثم قال هكذا حدثني الفضل بن عباس وهن أعلم
تعليق شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح على شرط الشيخين

ابو بکر بن عبدالرحمن نے کہا کہ میں نے ابو ہریرہ سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ نبی پاک نے کہا کہ جس نے صبح جنبی حال میں پائی، وہ روزہ نہ رکھے۔ پس میں اور میرے والد ام سلمہ و عائشہ سے ملے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جب آپ کی صبح بغیر احتلام کے جنبی حال میں ہوتی، تو آپ روزہ رکھتے۔ جب ہم ابو ہریرہ سے ملے اور اسے بتایا تو اس کی چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اور اس نے کہا کہ مجھے تو فضل بن عباس نے بتایا تھا۔ امہات المومنین زیادہ علم رکھتی تھیں

شیخ شعیب نے سند کو بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح مانا

جواب

یہ بات کہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے قسم کھائی اس کو عَبد الله بن عبد القارئ المدني نے ان سے روایت کیا ہے یہ شخص مجھول ہے
اس کی توثیق کوئی نہیں کرتا یھاں تک کہ ابن حجر اس کو مقبول کہا ہے یعنی ان کو بھی کوئی توثیق نہیں ملی

مسند احمد میں اس کی سند میں عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ہے
اس کے نسب میں جھگڑا ہے
امام احمد کہتے ہیں یہ نام عبد الرزاق نے لیا
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ، أَخْبَرَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الْقَارِيُّ

صحیح ابن خزیمہ کی تعلیق میں محمد مصطفى الأعظمي کہتے ہیں
(رجاله ثقات غير عبد الله بن عمرو القاري فلم أجد من وثقه
اس کی سند میں سب ثقہ ہیں سوائے عبد الله بن عمرو کے مجھ کو کوئی نہ ملا جو اس کی توثیق کرے

راقم کہتا ہے اس مجھول کو صرف ابن حبان نے حسب روایت ثقہ کہا ہے اور اس کی بنیاد پر البانی اور شعیب نے اس روایت کو صحیح سمجھ لیا ہے

——-
دوسری روایت کہ ابو ہریرہ نے کہا أخبرنيه مخبر انہوں نے کسی سے سنا تھا وہ صحیح ہے
لہذا صحیح بات یہ ہے کہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے ایک رائے لی لیکن جب حدیث پہنچی تو اپنے قول سے رجوع کیا
اور یہ بات ضعیف ہے کہ انہوں نے اس پر الله کی قسم کھائی

جواب

صحیح مسلم کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ: أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ، أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَلَكِنْ حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا، فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ» لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ

حذیفہ رضی الله عنہ کی حدیث ہے
حذیفہ نے حدیث بیان کی اور غندر نے کہا میں بھی یہی خیال کرتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت میں بارہ منافق ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجائے ان میں سے آٹھ کے لئے دبیلہ (آگ کا شعلہ) کافی ہوگا جو ان کے کندھوں سے ظاہر ہوگا یہاں تک کہ ان کی چھاتیاں توڑ کر نکل جائے گا۔

یہ روایت صحیح ہے لیکن اس سلسلے میں تمام صحیح نہیں ہیں  ابن حزم نے اس سلسلے میں ایک روایت کو کذب قرار دیا

أما حديث حذيفة فساقط: لأنه من طريق الوليد بن جميع – وهو هالك – ولا نراه يعلم من وضع الحديث فإنه قد روى أخباراً فيها أن أبا بكر، وعمر وعثمان، وطلحة، وسعد بن أبي وقاص – رضي الله عنهم – أرادوا قتل النبي صلى الله عليه وآله وسلم وإلقاءه من العقبة في تبوك – وهذا هو الكذب الموضوع الذي يطعن الله تعالى واضعه – فسقط التعلق به – والحمد لله رب العالمين

المحلى ابن حزم

اور جہاں تک حذيفة کی حدیث کا تعلق ہے پس ساقط ہے – وہ الوليد بن جميع (الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ الزُّهْرِيُّ) کے طرق سے روایت ہے جو ہلاک کرنے والا راوی ہے اور ہم نہیں دیکھتے کہ جان سکیں کہ اس کو کس نے گھڑا ہے (سوائے اسی کے ) کیونکہ اس نے روایت کی ہیں خبریں جن میں ہے کہ ابو بکر اور عمر اور عثمان اور طلحہ اور سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہم نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور ان سے عقبہ تبوک میں ملے اور یہ بات کذب ہے گھڑی ہوئی ہے

اب ہم دیکھتے ہیں کہ الوليد بن جميع  کے طرق سے روایت امام مسلم نے بیان کی ہے

 أَبُو أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ؟ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ، قَالَ: كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ، وَأَشْهَدُ بِاللهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ، وَعَذَرَ ثَلَاثَةً، قَالُوا: مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ، وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى فَقَالَ: «إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ، فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ» فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ، فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ

: زہیر بن حرب، ابواحمد کوفی ولید بن جمیع حضرت ابوطفیل سے روایت ہے کہ اہل عقبہ (گھاٹی والوں ) میں سے ایک آدمی اور حضرت حذیفہ (رض) کے درمیان عام لوگوں کی طرح جھگڑا ہوا تو انہوں نے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ بتاؤ اصحاب عقبہ کتنے تھے (حضرت حذیفہ (رض) سے) لوگوں نے کہا آپ ان کے سوال کا جواب دیں جو انہوں نے آپ سے کیا ہے حضرت حذیفہ (رض) نے کہا ہم کو خبر دی جاتی تھی کہ وہ چودہ تھے اور اگر تم بھی انہیں میں سے ہو تو وہ پندرہ ہوجائیں گے میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ ایسے تھے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں اللہ اور اس کے رسول کے رضامندی کے لئے جہاد کیا۔

مصنف ابن ابی شیبہ میں الولید بن جمیع کہتا ہے کہ عقبہ والے (گھاٹی والوں ) شخص أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ تھے جن سے حُذَيْفَةَ کا جھگڑا ہوا تھا گویا اس نے ان کو منافق قرار دیا نعوذ باللہ
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ حُذَيْفَةَ وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ , فَقَالَ: أُنْشِدُكَ بِاللَّهِ , كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ فَقَالَ الْقَوْمُ: فَأَخْبِرْهُ فَقَدْ سَأَلَكَ , فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ: قَدْ كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ , فَقَالَ حُذَيْفَةُ: ” وَإِنْ كُنْتُ فِيهِمْ فَقَدْ كَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ , أَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حِزْبُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ , وَعُذِرَ ثَلَاثَةٌ , قَالُوا: مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا عَلِمْنَا مَا يُرِيدُ الْقَوْمُ “

یہ واقعہ معجم طبرانی میں اور مسند البزار ولید بن جمیع کی سند سے آیا ہے

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْعَقَبَةَ فَلَا تَأْخُذُوهَا فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقَبَةِ، وَعَمَّارٌ يَسُوقُ، وَحُذَيْفَةُ يَقُودُ بِهِ فَإِذَا هُمْ بِرَوَاحِلَ عَلَيْهَا قَوْمٌ مُتَلَثِّمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُدْ قُدْ، وَيَا عَمَّارُ سُقْ سُقْ» ، فَأَقْبَلَ عَمَّارٌ عَلَى الْقَوْمِ فَضَرَبَ وُجُوهَ رَوَاحِلِهِمْ فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَقَبَةِ قَالَ: ” يَا عَمَّارُ، قَدْ عَرَفْتُ الْقَوْمَ، أَوْ قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الْقَوْمِ أَوِ الرَّوَاحِلِ أَتَدْرِي مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟ “، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے کہا جب جنگ تبوک ہوئی اپ صلی الله علیہ وسلم نے منادی کا حکم دیا کہ وہ گھاٹی میں سے جائیں گے کوئی اور اس میں سے نہ گزرے پس اپ گھاٹی میں سے گزرے اور عمار اونٹنی ہانک رہے تھے اور اس کی نکیل پکڑے تھے کہ ایک قوم ڈھاٹے باندھے آئی پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عمار کو حکم کیا پس عمار آگے بڑھے اور ان کے چہروں پر ضربیں لگائیں نکیل سے پس جب اس گھاٹی سے اترے اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے عمار کیا تم ان کو جانتے ہو؟ یہ کیا چاہتے تھے ؟ میں نے کہا الله اور اس کا رسول جانتے ہیں فرمایا
یہ ہمیں (گھاٹی میں ) دھکیلنا چاہتے تھے

صفی الرحمٰن مبارکپوری نے اپنی کتاب ” الرحیق المختوم ” میں اس واقعہ کو صحیح سمجھتے ہوئے بیان کیا ہے

ورجع الجيش الإسلامي من تبوك مظفرين منصورين، لم ينالوا كيدا، وكفى الله المؤمنين القتال، وفي الطريق عند عقبة حاول اثنا عشر رجلا من المنافقين الفتك بالنبي صلى الله عليه وسلم، وذلك أنه حينما كان يمر بتلك العقبة كان معه عمار يقود بزمام ناقته، وحذيفة بن اليمان يسوقها، وأخذ الناس ببطن الوادي، فانتهز أولئك المنافقون هذه الفرصة، فبينما رسول الله صلى الله عليه وسلم وصاحباه يسيران إذ سمعوا وكزة القوم من ورائهم، قد غشوه وهم ملتثمون، فبعث حذيفة فضرب وجوه رواحلهم بمحجن كان معه، فأرعبهم الله، فأسرعوا في الفرار حتى لحقوا بالقوم، وأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم بأسمائهم، وبما هموا به، فلذلك كان حذيفة يسمى بصاحب سر رسول الله صلى الله عليه وسلم، وفي ذلك يقول الله تعالى: وَهَمُّوا بِما لَمْ يَنالُوا.
اسلامی لشکر تبوک سے مظفر و منصور واپس آیا ۔ کوئی ٹکر نہ ہوئی ۔ اللہ جنگ کے معاملے میں مومنین کے لیے کافی ہوا ۔ البتہ راستے میں ایک جگہ ایک گھاٹی کے پاس بارہ منافقین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی سے گزر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حضرت عمار رضی اللہ عنہ تھے جو اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے جو اونٹنی ہانک رہے تھے ۔ باقی صحابہ کرام دور وادی کے نشیب سے گزر ہے تھے اس لیے منافقین نے اس موقع کو اپنے ناپاک مقصد کے لیے غنیمت سمجھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قدم بڑھایا ۔ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھی حسب معمول راستہ طے کررہے تھے کہ پیچھے سے ان منافقین کے قدموں کی چاپیں سنائی دیں ۔ یہ سب چہروں پہ ڈھاٹا باندھے ہوئے تھے اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تقریباً چڑھ ہی آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کی جانب بھیجا ۔ انہوں نے ان کی سواریوں کے چہروں پر اپنی ایک ڈھال سے ضرب لگانی شروع کی ، جس سے اللہ نے انہیں مرعوب کردیا اور وہ تیزی سے بھاگ کر لوگوں میں جا ملے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام بتائے اور ان کے ارادے سے باخبر کیا اسی لیے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’ رازدان ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ اسی واقعہ سے متعلق اللہ کا یہ ارشاد نازل ہوا کہ ’’ وَھَمُّوْا بِمَا لَم یَنَالُوْا (9: 74) انہوں نے اس کام کا قصد کیا جسے وہ نہ پا سکے

الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ الزُّهْرِيُّ نے بعض روایات میں ان اصحاب رسول کے نام لئے ہیں جو جلیل القدر ہیں اس کی یہ روایت ابن حزم تک پہنچیں اور انہوں نے اس کو کذب قرار دیا

قال العقيلي: فِي حديثه اضطراب.
وقال ابْن حبّان: فحش تفرُّده.

امام مسلم نے حُذَيْفَةَ اور ایک شخص کے جھگڑے کی جو روایت نقل کی ہے اسمیں الولید کا تفرد ہے

کتاب التَّكْميل في الجَرْح والتَّعْدِيل ومَعْرِفة الثِّقَات والضُّعفاء والمجَاهِيل از ابن کثیر کےمطابق
قال الحاكم : لو لم يذكره مسلم في صحيحه كان أولى
امام حاکم نے کہا اگر مسلم نے اس کا صحیح میں ذکر نہ کیا ہوتا تو وہ اولی تھا

گھاٹی والا واقعہ ساقط الاعتبار ہے البتہ یہ بات معلوم ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے حذیفہ رضی الله عنہ کو منافقین کے نام بتائے تھے

جواب

حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال أول من خطب جالسا معاوية حين كبر وكثر شحمه وعظم بطنه

شعبی نے کہا سب سے پہلے بیٹھ کر معاویہ رضی الله عنہ نے خطبہ دیا جب وہ بوڑھے ہوئے اور ان پر چربی بڑھ گئی اور پیٹ بڑا ہوا
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

یہ روایت منقطع ہے شعبی نے معاویہ رضی الله عنہ کو نہیں دیکھا

ولا أعلم سمع الشعبي بالشام إلا من المقدام أبي كريمة
انہوں نے شام میں صرف مقدام ابی کریمہ سے سنا ہے
جامع التحصيل في أحكام المراسيل

Comments are closed.