یا النبی سلام علیک

نبی صلی الله علیہ وسلم  کے لئے  سلامتی  کی دعا یا درود کا حکم الله تعالی کا ہے-  درود پڑھنے کا ثواب ہے لیکن اس کا مقصد نبی صلی الله علیہ وسلم کو سنانا نہیں یا ان تک پہنچانا نہیں  ہے بلکہ قرآن کے مطابق تمام اعمال آسمان میں جاتے ہیں اور صحیح حدیث کے مطابق یہ سدرہ المنتہی پر آ کر رک جاتے ہیں –

فرشتے کیا الله تک پہنچا رہے ہیں اس کا ذکر صحیح بخاری کی روایت میں  ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:87]: “ إِنَّ لِلَّهِ مَلاَئِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ ” قَالَ: «فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا» قَالَ: ” فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ، مَا يَقُولُ عِبَادِي؟ قَالُوا: يَقُولُونَ: يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ ” قَالَ: ” فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ ” قَالَ: ” فَيَقُولُونَ: لاَ وَاللَّهِ مَا رَأَوْكَ؟ ” قَالَ: ” فَيَقُولُ: وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ ” قَالَ: ” يَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً، وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا وَتَحْمِيدًا، وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا ” قَالَ: ” يَقُولُ: فَمَا يَسْأَلُونِي؟ ” قَالَ: «يَسْأَلُونَكَ الجَنَّةَ» قَالَ: ” يَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ ” قَالَ: ” يَقُولُونَ: لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا ” قَالَ: ” يَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا؟ ” قَالَ: ” يَقُولُونَ: لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا، وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا، وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً، قَالَ: فَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ؟ ” قَالَ: ” يَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ ” قَالَ: ” يَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ ” قَالَ: ” يَقُولُونَ: لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا ” قَالَ: ” يَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ ” قَالَ: ” يَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا، وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً ” قَالَ: ” فَيَقُولُ: فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ” قَالَ: ” يَقُولُ مَلَكٌ مِنَ المَلاَئِكَةِ: فِيهِمْ فُلاَنٌ لَيْسَ مِنْهُمْ، إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ. قَالَ: هُمُ الجُلَسَاءُ لاَ يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ ” رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَرَوَاهُ سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور اللہ کی یاد کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ پھر جہاں وہ کچھ ایسے لوگوں کو پا لیتے ہیں کہ جو اللہ کا ذکر کرتے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ آؤ ہمارا مطلب حاصل ہو گیا۔ پھر وہ پہلے آسمان تک اپنے پروں سے ان پر امنڈتے رہتے ہیں۔ پھر ختم پر اپنے رب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے …. حالانکہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے …. کہ میرے بندے کیا کہتے تھے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے، تیری کبریائی بیان کرتے تھے، تیری حمد کرتے تھے اور تیری بڑائی کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ کہا کہ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر ان کا اس وقت کیا حال ہوتا جب وہ مجھے دیکھے ہوئے ہوتے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدار کر لیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی سب سے زیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح سب سے زیادہ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے، پھر وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ اے رب! انہوں نے تیری جنت نہیں دیکھی۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے ان کا اس وقت کیا عالم ہوتا اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ خواہشمند ہوتے، سب سے بڑھ کر اس کے طلب گار ہوتے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں، دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے جہنم دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ، انہوں نے جہنم کو دیکھا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ  بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر ان میں سے ایک فرشتے نے کہا کہ ان میں فلاں بھی تھا جو ان ذاکرین میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ کسی ضرورت سے آ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ(ذاکرین) وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں رہتا۔ اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا لیکن اس کو مرفوع نہیں کیا۔ اور سہیل نے بھی اس کو اپنے والدین ابوصالح سے روایت کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے

ابن مسعود  رضی الله عنہ سے منسوب روایات 

ایک راوی زاذان نے ان الفاظ کو تبدیل کیا اور مسند البزار کی روایت ہے

حَدَّثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ حُسَيْنٍ الْخَلْقَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ» ، قَالَ حُسَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي  الطُّرُقِ يُبَلِّغُونَ، عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ» ، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

حُسَيْنٍ الْخَلْقَانِيّ نے روایت کیا کہ عبد الله بن السَّائِبِ نے زاذان سے روایت کیا اس نے عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کیا کہ .. اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھ تک لاتے ہیں

معجم الشیوخ از امام الذہبی کے مطابق زاذان کبھی بھی ابن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں ملا لہذا یہ روایت انقطاع کے سبب ضعیف ہے- تلخیص الموضوعات میں بھی الذھبی نے کہا ہے زاذان کی ملاقات ابن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں ہے –الذھبی حیرت ہے  کہ تلخیص مستدرک میں اس روایت کو  صحیح کہہ گئے ہیں

زاذان اہل تشیع کے مطابق کٹر شیعہ ہیں اور  ابو بکر و عمر کی تنقیص کرتے ہیں اس کا ذکر بشار عواد المعروف نے تہذیب الکمال کے حاشیہ میں بھی کیا ہے

شیعہ عالم ابن داوود الحلي  کتاب رجال ابن داود میں کہتے ہیں

 أبو عمرو الفارسى زاذان، بالزاي والذال المعجمتين ى (جخ) خاص به

زاذان، علی کے خاص اصحاب میں سے ہے

رجال البرقي کے مطابق بھی زاذان خاص تھے

کہا جاتا ہے یہ قبیلہ مضر کا تھا

شیعہ عالم کتاب الكنى والالقاب ج1 از  عباس القمي   لکھتے ہیں

نقل الاغا رضا القزويني في ضيافة الاخوان عن القاضي ابى محمد ابن ابي زرعة الفقيه القزويني ان زاذان كان من اصحاب امير المؤمنين ” ع ” وقتل تحت رايته ثم انتقل اولاده إلى قزوين.  قال الرافعي زاذانية قبيلة في قزوين فيهم أئمة كبار من المتقدمين والمتأخرين انتهى

آغا رضا القزويني نے ضيافة الاخوان میں القاضي ابى محمد ابن ابي زرعة الفقيه القزويني سے روایت کیا ہے کہ زاذان امیر المومنین علی کے اصحاب میں تھا اور ان کے جھنڈے تلے قتل ہوا پھر اس کی اولاد قزوین منتقل ہوئی اور  الرافعي نے کہا کہ  زاذانية  قبیلہ ہے قزوين میں  جس سے بہت متقدمین اور متاخرین میں بہت سے (شیعہ) علماء آئے ہیں

اہل سنت میں ابن حجر نے بھی اس کو متشیع قرار دیا ہے –  اسی طرح اندلس کے مشہور محدث  امام أحمد بن سعيد بن حزم الصدفي المنتجالي    نے زاذان کو اصحاب علی میں شمار کیا ہے – الکمال از مغلطاي  میں ہے

وفي «كتاب المنتجالي»: زاذان أبو عمر كان صاحب علي

یاد رہے کہ امام أحمد بن سعيد بن حزم الصدفي المنتجالي ، امام ابن حزم  (علي بن أحمد بن سعيد بن حزم بن غالب) کے والد ہیں جو ایک عظیم محدث ہیں – اندلس  کے محدثین زاذان کی روایت کردہ  عود روح والی روایت کو رد کرتے تھے

ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ نے اس بات کا ذکر کتابچہ ایمان خالص میں کیا تھا

دراصل قبر میں مردے کے جسم میں روح کے لوٹائے جانے کی روایت شریعت ِجعفریہ کی روایت ہے جو اس روایت کے راوی زاذان (شیعہ) نے وہاں سے لے کر براء بن عازب سے منسوب کر دی ہے۔

( ایمانِ خالص ، دوسری قسط،ص : 18)

اس پر مولویوں نے ایک واویلا مچا دیا کہ زاذان کو اہل سنت میں سے کسی نے شیعہ نہیں کہا لہذا ڈاکٹر صاحب نے دلیل دی کہ اس کو ابن حجر  نے تقریب التہذیب میں شیعہ قرار دیا ہے- ابن حجر نے تقریب التہذیب میں کہا ہے

فیه شیعیة

اس میں شیعیت ہے

اس پر زاذان کے   کرم فرماؤں نے مزید خامہ فرسائی کی اس کا ذکر بھی ہونا چاہیے

ایک غیر مقلد مولوی صاحب نے لکھا

فیہ شیعیة  ( اس میں شیعیت ہے۔) تو اب کے شیعیت کو شیعہ بنانے والوں کو کچھ نہ کچھ تو ضرور حاصل ہوگا، کیونکہ یہ بھی تو ایک کارنامہ ہی ہے نا

http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/4888/156/

دوسری غیر مقلد مولوی رفیق طاہر صاحب لکھتے ہیں

احمد بن حجر جنہوں نے زازان پر شیعہ ہونے کی تہمت لگائی ہےاور یہ بھی نہیں کہا کہ وہ شیعہ ہے بلکہ یہ کہا ہے : ’فیہ تشیع قلیل‘ اس کے اندر تھوڑا سا تشیع ہے ، تھوڑی سی شیعیت ہے

http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=18614
http://forum.mohaddis.com/threads/منکرین-برزخ-کا-عقیدہ-اور-اس-کا-رد.3280/

اپ دیکھیں کس قدر دھوکہ ہے کہ ابن حجر کے الفاظ تک تبدیل کر دے ہیں کہ فیه شیعیة  کو فیہ تشیع قلیل بنا دیا اور یہ حوالہ بھی نہیں دیا کہ کس کتاب سے اس کو اخذ کیا

رفیق طاہر کی تقریر (٢٣ منٹ پر ) یہاں سن سکتے ہیں جہاں وہ زاذان کو فیه تشیع قلیل کہہ رہے ہیں

رفیق طاہر کے التباس کا رد اسی سے ہو جاتا ہے کہ

تاریخ ابن خلدون ج ٢ ص ٢٩٩ کے مطابق رفض کا لفظ زید بن علی (المتوفی ١٢٢ ھ) نے سب سے پہلے شیعوں کے لئے استعمال کیا.  شیعوں نے زید بن علی سے پوچھا کہ آپ کی ابو بکر اور عمر کے بارے میں کیا رائے ہے. انہوں نے کہا کہ ہم ان سے زیادہ امارت کے حقدار تھے لیکن انہوں  نے یہ حق ہم سے چھین لیا لیکن یہ کام کفر تک نہیں پہنچتا. اس پر شیعوں نے ان کو برا بھلا کہا اور جانے لگے. زید نے کہا

 رفضونی  تم نے مجھے چھوڑ دیا

اسی وقت سے شیعہ رافضیہ کے نام سے موصوف ہوۓ

 زید بن علی سے پہلے شیعہ چاہے سبائی ھو یا غالی یا غیر غالی سب کو شیعہ ہی بولا جاتا رہا اور یہ انداز جرح و تعدیل کے ائمہ کا ہے اس کی متعدد مثالیں ہیں

تفصیل کے لئے دیکھیں

⇑ ائمہ جرح و تعدیل جب کسی راوی کو شیعہ کہتے ہیں اس سے کیا ان کی مراد علی کا خاص ساتھی ہوتی ہے ؟

علم الحدیث

مولانا نیاز احمد جن کا ڈاکٹر عثمانی کی تنظیم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے وہ فیه شیعیة کا ترجمہ کرتے ہیں

ابو جابر دامانوی کتاب دین الخالص میں اثر پیش کرتے ہیں

اس پر محدثین کا کہنا ہے کہ اس میں عطاء بن السائب الثقفي الكوفي ہے جس سے خالد بن عبد الله نے روایت کیا ہے کتاب المختلطين  از صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

من سمع منه بأخرة فهو مضطرب الحديث. منهم: هشيم، وخالد بن عبد الله.

جس نے عطاء بن السائب الثقفي الكوفي  سے آخر میں سنا ہے تو وہ مضطرب الحدیث ہے اور ان سننے والوں  میں ہیں  هشيم اور خالد بن عبد الله.

لہذا یہ اثر قابل رد ہے کیونکہ یہ دور  اختلاط کا  ہے

میزان الاعتدال از الذھبی میں ہے کہ عطاء بن السائب کو بصرہ میں  وہم ہوتا تھا محدثین میں ابن علیہ نے کہا

ابن علیہ :  قدم علينا عطاء بن السائب البصرة، فكنا نسأله، فكان يتوهم فنقول له: من؟ فيقول: أشياخنا ميسرة، وزاذان، وفلان.

عطاء بن السائب ہمارے پاس بصرہ پہنچا تو ہم نے اس سے سوال کیے پس یہ وہم کا شکار ہوتا ہم اس سے کہتے کس نے کہا ؟ تو کہتا  ہمارے شیوخ ميسرة،  اور زاذان  اور فلاں نے

محدثین میں مشھور ہوا کہ جب بھی تین نام ایک ساتھ بیان کرے تو یہ اس کا  اختلاط ہے

دامانوی صاحب اثر پیش کرتے ہیں کہ

لیکن جیسا واضح کیا یہ مشکوک اثر ہے کیونکہ اس  میں نے تین نام لئے ہیں

طبقات ابن سعد میں ہے ابن علیہ نے کہا

  وسألت عنه شعبة فقال: إذا حدثك عن رجل واحد فهو ثقة. وإذا جمع فقال زاذان وميسرة وأبو البختري فاتقه .

میں نے امام شعبہ سے اس کے متعلق پوچھا: کہا جب یہ ایک شخص سے روایت کرے تو صحیح ہے لیکن جب یہ زاذان اور ميسرة اور أبو البختري کو ایک ساتھ جمع کرے تو بچو 

اسی طرح تاریخ الاسلام از الذھبی میں ہے

قال ابن المديني: قُلْتُ لِيَحْيَى الْقَطَّانِ: مَا حَدَّثَ سُفْيَانُ وَشُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ صَحِيحٌ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ إِلا حَدِيثَيْنِ كَانَ شُعْبَةُ يَقُولُ: سَمِعْتُهُمَا بِأَخَرَةٍ عَنْ زَاذَانَ

ابن المدینی نے کہا میں نے یحیی سے پوچھا کہ جو شعبہ اور سفیان نے عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ سے روایت کیا کیا صحیح ہے ؟ کہا ہاں سوائے دو حدیثوں کے جو شعبہ کہتے عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ نے آخر میں زاذان سے سنی تھیں

یعنی محدثین کو عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ  کی زاذان سے روایت تک پر اعتبار نہ تھا

دوسری طرف  عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ کی بنیاد پر زاذان کو پابند تراویح ثابت کیا جا رہا ہے

حبل الله کیایک اشاعت میں کتاب  إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از کے حوالے سے ابو بشر دولابی کا قول لکھا گیا تھا

 كان فارسيا من شيعة علي، ومات سلطان عبد الملك

زاذان شیعہ تھا عبد الملک بن مروان کے دور میں مرا

غیر مقلد عالم ابو جابر دامانوی نے الدولابی کو  زاذان کو بچانے کے لئے ضعیف قرار دے دیا ہے لہذا کتاب دعوت قرآن کے نام پر قرآن و حدیث سے انحراف میں لکھا

جبکہ کتاب وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان  از  ابن خلكان میں ابو بشر الدولابی کا تعارف اس طرح کرایا گیا ہے

أبو بشر محمد بن أحمد بن حماد بن سعد، الأنصاري بالولاء، الوراق الرازي الدولابي؛ كان عالما بالحديث والأخبار والتواريخ

أبو بشر محمد بن أحمد بن حماد بن سعد، الأنصاري … حدیث کے عالم اور تاریخ کے عالم ہیں

لسان المیزان کے مطابق  الدولابی کے حوالے سے اس قول کو نعیم بن حماد نے کہا ہے

قال ابن عَدِي: ابن حماد متهم فيما قاله في نعيم بن حماد لصلابته في أهل الرأي.
ابن عدی نے کہا نعیم نے کہا اہل رائے کی اولاد میں سے ہے متہم ہے

یہ جرح غیر مفسر ہے کیونکہ کسی کا اہل رائے میں سے ہونا قابل جرح نہیں ہے- صحیح بخاری کی کتاب کی سند میں بہت سے اہل رائے کے لوگ ہیں

دارقطنی، الدولابی کے بارے میں  کہتے ہیں
تكلموا فيه، لما تبين من أمرة الأخير
ان پر کلام کیا جاتا ہے میں ان کے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتا

امام دولابی کا تذکرہ  ارشاد الحق اثری نے مقالات  اثری میں تفصیل سے ذکر کیا ہے

دامانوی نے الدولابی پر خوب بھڑاس نکالنے کے بعد رخ محدث  مغلطاي بن قليج بن عبد الله البكجري المصري الحكري الحنفي، أبو عبد الله، علاء الدين (المتوفى: 762هـ) کی طرف کیا اور کتاب دعوت قرآن کے نام پر قرآن و حدیث سے انحراف میں لکھا

اور ” کنجری” قرار دیا ؟

اس کتاب کی اشاعت سال ١٩٩٥  میں ہوئی تب سے اب تک وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ لفظ   مغلطاي بن قليج کے لئے کیوں زبیر علی زئی نے استمعال کیا

خطوط میں زبیر علی محدثین کو گالیاں لکھ کر ابو جابر دامانوی کو پوسٹ کرتے رہے اور وہ بھی بلا تحقیق بیان کرتے رہے

ممکن ہے یہ ٹائپ کی غلطی ہو لیکن کیا یہ علماء کے لئے مناسب ہے کہ نظر ثانی کیے بغیر مسودے کی تشہیر کرتے ہیں

اس سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب اغلاط سے پر ہے جس میں تحقیق کم اور مخالف پر بھڑاس زیادہ ہے

چند سال پہلے ارشد کمال نے کتاب المسند فی عذاب القبر میں اسی قسم کی حماقتوں کا مظاہرہ کیا

دوسری طرف  یہ حیرت انگیز ہے کہ ابن حجر نے ٢٠٠ سے زائد مرتبہ تہذیب التہذیب  میں واقدی کا حوالہ دیا ہے اور خبر کو لیا ہے

الکنی میں محدث دولابی نے ٣٥ مرتبہ اسی سند سے رجال پر کلام کیا ہے

ارشد کمال نے تاریخ بغداد کے حوالے سے محمد بن ابراہیم کو غیر ثقہ قرار دیا ہے جبکہ اس کتاب میں ان پر کوئی جرح منقول نہیں ہے

ابن تیمیہ نے فتووں میں واقدی کو جرح کو رد کیا ہے مثلا راس حسین میں کہا

ومعلوم أن الواقدي نفسه خير عند الناس

اور معلوم ہے کہ بے شک واقدی نفسا لوگوں کے نزدیک خیر والا ہے

ابن ہمام   نے کہا: وهذا تقوم به الحجة عندنا إذا وثقنا الواقدي إلخ [فتح القدير ج 1ص 69 

محدثین نے رجال کے حالات اور پیدائش و وفات میں واقدی کے اقوال پر بھروسہ کیا ہے  اور یھاں بھی ایسا ہی ہے کہ واقدی نے خبر دی کہ زاذان شیعان میں سے تھا واقدی نے یہ خبر دی ہے جرح نہیں کی

مزید علتیں

اس سند میں  عَبد اللهِ بْنُ السائب  پر محدثین کی آراء ہیں

الجرح و التعدیل از ابن ابی حاتم میں ہے

حدثنا عبد الرحمن نا صالح بن أحمد بن حنبل نا علي – يعني ابن المديني – قال سمعت يحيى – يعني ابن سعيد – قال: أنكر سفيان في حديث عبد الله بن السائب عن زاذان (والأمانة في كل شئ في الوضوء وفي الركوع) قال سفيان: أنا ذهبت بالأعمش إلى عبد الله بن السائب

یحیی بن سعید نے سفیان کی روایت کا انکار کیا حدیث (والأمانة في كل شئ في الوضوء وفي الركوع)  جو عبد  الله بن السائب عن زاذان سے ہے- سفیان نے کہا میں اعمش کے ساتھ  عبد الله بن السائب کے پاس گیا تھا 

یعنی عبد  الله بن السائب عن زاذان  کی سند سے   روایات کو  امام یحیی بن سعید نے رد کیا

خود عبد  الله بن السائب  پر امام احمد کا کوئی قول نہیں ہے نہ جرح ہے نہ تعدیل ملتی ہے

  عبدللہ کی کتاب   العلل ومعرفة الرجال میں الثوري  کی تدلیس پر ہے 

سَمِعت أبي يَقُول قَالَ يحيى بن سعيد مَا كتبت عَن سُفْيَان شَيْئا إِلَّا مَا قَالَ حَدثنِي أَو حَدثنَا إِلَّا حديثين ثمَّ قَالَ أبي حَدثنَا يحيى بن سعيد عَن سُفْيَان عَن سماك عَن عِكْرِمَة ومغيرة عَن إِبْرَاهِيم فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ قَالَا هُوَ الرجل يسلم فِي دَار الْحَرْب فَيقْتل فَلَيْسَ فِيهِ دِيَة فِيهِ كَفَّارَة قَالَ أبي هذَيْن الْحَدِيثين الَّذِي زعم يحيى أَنه لم يسمع سُفْيَان يَقُول فيهمَا حَدثنَا أَو حَدثنِي

عبدللہ کہتے ہیں کہ میرے باپ احمد نے کہا کہ یحیی بن سعید نے کہا میں نے سفیان سے کچھ نہ لکھا سوائے اس کے جس میں انہوں نے حدثنی یا حدثنا بولا      –    اور دو حدیثین ہیں (جن میں انہوں نے   تحدیث نہیں کی )-       قَالَ أبي حَدثنَا يحيى بن سعيد عَن سُفْيَان عَن سماك عَن عِكْرِمَة ومغيرة عَن إِبْرَاهِيم فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ قَالَا هُوَ الرجل يسلم فِي دَار الْحَرْب فَيقْتل فَلَيْسَ فِيهِ دِيَة فِيهِ كَفَّارَة  عبد الله نے کہا میرے باپ نے کہا یہ دو حدیثین ہیں جن پر یحیی کا دعوی ہے ان کو سفیان نے نہیں سنا اور ان میں حدثنا اور حدثنی کہا ہے  

دوسری طرف  احمد کا قول تہذیب الکمال میں ہے جس کے مطابق عبد الله بن السائب الكندي، الشيباني، الكوفي سے الثوري  نے صرف تین روایات سنی ہیں

وقال: أحمد بن حنبل: سمع منه الثوري ثلاثة أحاديث. «تهذيب الكمال» 14/ (3289

اب یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ امام سفیان باوجود اس کے کہ انہوں نے حدیث سنی نہیں ہوتی تھی اس پر بھی حدثنی کہہ دیتے تھے – اس علم کے بعد سفیان پر کذب کا فتوی جاری کیوں نہیں ہوا؟ یہ محدثین نے وضاحت نہیں کی کیونکہ اگر راوی نے سنا نہ ہو اور وہ حدثنی کہے تو یہ سراسر جھوٹ ہے

ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے ہی منسوب دیگر روایات ہیں

مسند احمد میں ہے

 حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا سريج قال ثنا عبد الله بن نافع عن بن أبي ذئب عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تتخذوا قبري عيدا ولا تجعلوا بيوتكم قبورا وحيثما كنتم فصلوا علي فإن صلاتكم تبلغني

معجم الاوسط طبرانی میں ہے

 حدثنا موسى بن هارون ، نا مسلم بن عمرو الحذاء المديني ، نا عبد الله بن نافع ، عن ابن أبي ذئب ، عن سعيد بن أبي سعيد المقبري ، عن أبي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : « لا تجعلوا بيوتكم قبورا ، ولا تجعلوا قبري عيدا ، وصلوا علي ، فإن صلاتكم تبلغني حيث ما كنتم » «

ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری قبر کو میلہ کے لئے اختیار مت کرو اور نہ اپنے گھروں کو قبر بناؤ اور جہاں کہیں بھی تم ہو مجھ پر درود کہو کہ یہ مجھ تک پہنچتا ہے

طبرانی کہتے ہیں

لم يصل هذا الحديث عن ابن أبي ذئب إلا عبد الله بن نافع

صرف عبد الله بن نافع نے اس  روایت کو ابن ابی ذئب سے ملایا ہے

 الہیثمی  مجمع الزوائد میں کہتے ہیں

  رواه أبو يعلى وفيه عبد الله بن نافع وهو ضعيف

اس کو أبو يعلى نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں  عبد الله بن نافع ہے جو ضعیف ہے

اپ اوپر دونوں سندوں کو دیکھ سکتے ہیں اس میں عبد الله بن نافع  ہے جو ضعیف ہے

اسی سند سے سنن ابوداود میں یہ روایت ہے

 علی  رضی الله عنہ سے منسوب روایات

مسند ابویعلی میں اس قسم کی ایک روایت علی رضی الله عنہ سے بھی منسوب کی گئی ہے

حدثنا موسى بن محمد بن حيان ، حدثنا أبو بكر الحنفي ، حدثنا عبد الله بن نافع ، أخبرني العلاء بن عبد الرحمن قال : سمعت الحسن بن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « صلوا في بيوتكم ، لا تتخذوها قبورا ، ولا تتخذوا بيتي عيدا ، صلوا علي وسلموا ، فإن صلاتكم  وسلامكم يبلغني أينما كنتم »

علی نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : گھروں میں نماز پڑھو – ان کو قبر مت کرو – میرے گھر پر میلہ  نہ لگاو – اور مجھ پر سلام کہو اور درود کیونکہ تمہارا درود و سلام مجھ تک اتا ہے جہاں کہیں بھی تم ہو

یہاں بھی عبد الله بن نافع الصائغ  (پیدائش ١٢٠ کے اس پاس – وفات  ٢٠٦ ہجری ) کا تفرد ہے

الکامل از ابن عدی میں ہے امام احمد نے کہا

لم يكن صاحب حديث كان ضيقا فيه

یہ صاحب حدیث نہیں بلکہ اس سے تو اس کا سینہ تنگ ہوتا ہے

امام احمد کے بقول یہ ٤٠ سال امام مالک کے ساتھ رہا لیکن کچھ روایت نہیں کیا جبکہ ابن عدی کہتے ہیں

وعبد الله بن نافع قد روى عن مالك غرائب یہ امام مالک سے عجیب و غریب باتیں روایت کرتا ہے

شیعہ عالم کی کتاب أصحاب الامام الصادق (ع)از  عبد الحسين الشبستري کے مطابق عبد الله بن نافع الصائغ اصحاب محمد بن عبد الله المہدی میں سے ہے  جو اس امت کے المہدی تھے اور ان سے متعلق روایات گھڑی گئیں ہیں جن کا ذکر راقم نے اپنی کتاب میں کیا ہے

ہیثمی کی کتاب  كشف الأستار عن زوائد البزار میں ایک اور سند ہے

حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ اللَّيْثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عِيسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الطَّالِبِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا، وَلا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ وَسَلِّمُوا، فَإِنَّ صَلاتَكُمْ تَبْلُغُنِي» .
قَالَ الْبَزَّارُ: لا نَعْلَمُهُ عَنْ عَلِيٍّ إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَدْ رَوَى بِهِ أَحَادِيثَ مَنَاكِيرَ، وَفِيهَا أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ، وَهَذَا غَيْرُ مُنْكَرٍ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ: «لا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا، وَلا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا» .

البزار نے کہا علی سے منسوب ہم اس روایت کو اسی سند سے جانتے ہیں اور اس نے منکر روایات بیان کی ہیں اور اس کی احادیث صالح بھی ہیں اور یہ روایت کئی طرق سے ہے قبر کو میلہ مت کرو اور نہ گھروں کو قبر

سند میں عِيسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مجھول ہے اور علي بن عمر  کو ابن حجر نے مستور قرار دیا ہے

حسن رضی الله عنہ سے منسوب روایات

معجم الکبیر طبرانی کی روایت ہے

 حدثنا أحمد بن رشدين المصري ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن جعفر أخبرني حميد بن أبي زينب : عن حسن بن حسن بن علي بن أبي طالب عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : حيث ما كنتم فصلوا علي فإن صلاتكم تبلغني

حسن بن حسن بن علی  نے حسن رضی الله عنہ سے روایت کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تم جہاں بھی ہو درود کہو کیونکہ یہ مجھ تک پہچ رہا ہے

 ہیثمی مجمع الزوائد میں کہتے ہیں

رواه الطبراني في الكبير والأوسط وفيه حميد بن أبي زينب ولم أعرفه، وبقية رجاله رجال الصحيح.

اس کو طبرانی نے روایت کیا الکبیر میں اور الاوسط میں اس میں حميد بن أبي زينب  ہے جس کو میں نہیں جانتا اور باقی رجال صحیح کے ہیں

حیرت ہے کہ سخاوی کتاب القول البديع ص 153  میں اس سند کو حسن کہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں

إنّ فيه من لم يعرف

اس میں راوی ہے جس کو میں نہیں جانتا

کتاب سير أعلام النبلاء از الذھبی میں حسن رضی الله عنہ کے ترجمہ میں ہے

ابْنُ عَجْلاَنَ: عَنْ سُهَيْلٍ، وَسَعِيْدٍ مَوْلَى المُهْرِيِّ، عَنْ حَسَنِ بنِ حَسَنِ بنِ عَلِيٍّ:
أَنَّهُ رَأَى رَجُلاً وَقَفَ عَلَى البَيْتِ الَّذِي فِيْهِ قَبْرُ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَدْعُو لَهُ، وَيُصَلِّي عَلَيْهِ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ (1) : لاَ تَفْعَلْ، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: (لاَ تَتَّخِذُوا بَيْتِيَ عِيْداً، وَلاَ تَجْعَلُوا بُيُوْتَكُم قُبُوْراً، وَصَلُّوا عَلَيَّ حَيْثُ مَا كُنْتُم، فَإِنَّ صَلاَتَكُم تَبْلُغُنِي) (2) .
هَذَا مُرْسَلٌ، وَمَا اسْتَدَلَّ حَسَنٌ فِي فَتْوَاهُ بِطَائِلٍ مِنَ الدَّلاَلَةِ، فَمَنْ وَقَفَ عِنْدَ الحُجْرَةِ المُقَدَّسَةِ ذَلِيْلاً، مُسْلِماً، مُصَلِيّاً عَلَى نَبِيِّهِ، فَيَا طُوْبَى لَهُ، فَقَدْ أَحْسَنَ الزِّيَارَةَ، وَأَجْمَلَ فِي التَّذَلُّلِ وَالحُبِّ، وَقَدْ أَتَى بِعِبَادَةٍ زَائِدَةٍ عَلَى مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ فِي أَرْضِهِ، أَوْ فِي صَلاَتِهِ، إِذِ الزَّائِرُ لَهُ أَجْرُ الزِّيَارَةِ، وَأَجْرُ الصَّلاَةِ عَلَيْهِ، وَالمُصَلِّي عَلَيْهِ فِي سَائِرِ البِلاَدِ لَهُ أَجْرُ الصَّلاَةِ فَقَطْ، فَمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ وَاحِدَةً، صَلَّى الله عَلَيْهِ عَشْراً، وَلَكِنْ مَنْ زَارَهُ – صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ – وَأَسَاءَ أَدَبَ الزِّيَارَةِ، أَوْ سَجَدَ لِلْقَبْرِ، أَوْ فَعَلَ مَا لاَ يُشْرَعُ، فَهَذَا فَعَلَ حَسَناً وَسَيِّئاً، فَيُعَلَّمُ بِرفْقٍ، وَاللهُ غَفُوْرٌ رَحِيْمٌ.
فَوَاللهِ مَا يَحْصَلُ الانْزِعَاجُ لِمُسْلِمٍ، وَالصِّيَاحُ وَتَقْبِيْلُ الجُدْرَانِ، وَكَثْرَةِ البُكَاءِ، إِلاَّ وَهُوَ مُحِبٌّ للهِ وَلِرَسُوْلِهِ، فَحُبُّهُ المِعْيَارُ وَالفَارِقُ بَيْنَ أَهْلِ الجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ، فَزِيَارَةُ قَبْرِهِ مِنْ أَفَضْلِ القُرَبِ، وَشَدُّ الرِّحَالِ إِلَى قُبُوْرِ الأَنْبِيَاءِ وَالأَوْلِيَاءِ، لَئِنْ سَلَّمْنَا أَنَّهُ غَيْرُ مَأْذُوْنٍ فِيْهِ لِعُمُوْمِ قَوْلِهِ – صَلَوَاتُ اللهُ عَلَيْهِ -: (لاَ تَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ) (3) .
فَشَدُّ الرِّحَالِ إِلَى نَبِيِّنَا -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-مُسْتَلْزِمٌ لِشَدِّ الرَّحْلِ إِلَى مَسْجِدِهِ، وَذَلِكَ مَشْرُوْعٌ بِلاَ نِزَاعٍ، إِذْ لاَ وُصُوْلَ إِلَى حُجْرَتِهِ إِلاَّ بَعْدَ الدُّخُوْلِ إِلَى مَسْجِدِهِ، فَلْيَبْدَأْ بِتَحِيَّةِ المَسْجِدِ، ثُمَّ بِتَحِيَّةِ صَاحِبِ المَسْجِدِ – رَزَقَنَا اللهُ وَإِيَّاكُمْ ذَلِكَ آمِيْنَ

ابْنُ عَجْلاَنَ: عَنْ سُهَيْلٍ، وَسَعِيْدٍ مَوْلَى المُهْرِيِّ، عَنْ حَسَنِ بنِ حَسَنِ بنِ عَلِيٍّ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اس گھر میں رکا جس میں قبر النبی ہے اس سے دعا کر رہا تھا درود کہہ رہا تھا پس ایک رجل نے کہا یہ مت کر کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے میرے گھر کو میلہ مت کرو اور نہ اپنے گھروں کو قبر بنا دو اور مجھ پر درود کہو جہاں بھی تم ہو کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے -یہ مرسل ہے پر اس فتوے میں جو اچھا ہے اس پر اور دلائل سے نشاندھی ہوتی ہے  –  پس جو حجرہ مقدس کے پاس اپنے اپ کو تذلل میں رکھتے ہوئے مسلم بنا   اور درود نبی پر کہتے ہوئے رکا تو اس کے لئے بشارت ہے تو پس یہ بہترین زیارت ہے اور تذلل میں سب سے اجمل ہے اور محبت میں اور جو زائر نبی صلی الله علیہ وسلم پر ان کی زمین پر درود کہے تو یہ عبادت میں زائد ہے تو اس پر اجر بھی زائد ہے اور درود کہنے کا اجر ہے اور تمام شہروں میں جو درود کہیں ان کے تو فقط اجر ہے اور جس نے ایک بار کہا اس پر دس بار سلامتی ہے لیکن جس نے نبی صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی اور ادب زیارت میں خرابی کی یا قبر کو سجدہ کیا یا کوئی غیر شرعی کام کیا تو یہ کام اچھا و برا ہے پس فرق کو جانو اور الله تو غفور و رحیم ہے – الله کی قسم مسلمان کو جو مشکل ملتی ہے  اور جو وہ روتا ہے اور دیواروں کو چومتا ہے اور بہت روتا ہے تو یہ کچھ نہیں صرف الله اور اس کے رسول سے محبت ہے تو اس محبت کا معیار ہے اور یہ اہل جنت و جہنم کو الگ کرنے والی ہے پس قبر نبی کی زیارت قرب میں افضل ہے اور سواری کسنا انبیاء اور اولیاء کی قبور کے لئے ہے اور اس میں قول نبوی سے ممانعت نہیں ہے کہ اپ نے فرمایا سواری نہ کسی جائے صرف تین مسجدوں کے لئے پس ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم کے لئے سواری کسنا تو لازم ہے کہ ان کی مسجد کا سفر ہو اور یہ مشروع ہے اس میں نزاع نہیں ہے کیونکہ حجرہ نہیں ملے گا جب تک مسجد میں داخل نہ ہو لیں پس تَحِيَّةِ المَسْجِدِ سے شروعات کرو پھر تَحِيَّةِ صاحب المَسْجِدِ سے شروع کرو الله تم کو اور ہم کو یہ دے امین

الذھبی نے چند جملوں سے ابن تیمیہ کی کتاب کا رد کر دیا

حسین رضی الله عنہ سے منسوب روایات

 مسند ابی یعلی، مصنف ابن ابی شیبہ  میں حسین رضی الله عنہ سے منسوب ایک روایت ہے

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ، حدثنا زيد بن الحباب ، حدثنا جعفر بن إبراهيم ، من ولد ذي الجناحين ، قال : حدثنا علي بن عمر ، عن أبيه ، عن علي بن حسين ، أنه رأى رجلا يجيء إلى فرجة كانت عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم ، فيدخل فيها فيدعو ، فنهاه ، فقال : ألا أحدثكم حديثا سمعته من أبي ، عن جدي ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال : « لا تتخذوا قبري عيدا ، ولا بيوتكم قبورا ، فإن تسليمكم يبلغني أينما كنتم »

علی بن حسین نے ایک آدمی کو دیکھا جو اس سوراخ تک آیا جو قبر النبی میں ہے اس میں سے قبر میں داخل ہوا اور وہاں دعا کی – پس انہوں نے منع کیا اور کہا میں تم سے حدیث بیان کرتا ہو جو میں نے حسین سے سنی انہوں نے علی سے انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کہ اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : میری قبر کو میلہ کا مقام مت کرو –اور نہ اپنے گھروں کو قبر کرو  کیونکہ  تمہارا درود مجھ تک پہنچ رہا ہے جہاں کہیں بھی تم ہو

ہیثمی  مجمع الزوائد میں کہتے ہیں

رواه أبو يعلى وفيه جعفر بن إبراهيم الجعفري ذكره ابن أبي حاتم ولم يذكر فيه جرحاً وبقية رجاله ثقات

اس کو ابو یعلی نے روایت کیا ہے اس میں جعفر بن إبراهيم الجعفري ہے جس کا ذکر ابن ابی حاتم نے کیا ہے اور اس پر کوئی جرح ذکر نہیں کی اور باقی سب ثقات ہیں

ابن حجر لسان المیزان میں کہتے ہیں

فلعل إبراهيم نسبه إلى جده الأعلى جعفر إن كان الخبر لجعفر

اگر یہ خبر جعفر ہی کی ہے تو ممکن ہے کہ جعفر کو اس کے جد اعلی ابراہیم کی طرف نسبت دی گئی ہے

 ساتھ ہی ابن حجر کہتے ہیں

وذكره ابن أبي طي في رجال الشيعة

اور ابن أبي طي نے  جعفر بن إبراهيم کا ذکر رجال شیعہ میں ذکر کیا ہے

اس سند میں زيد بن الحباب بھی ہے جس کو کثیر الخطا  امام احمد نے قرار دیا ہے

سب سے بڑھ کر قبر نبوی میں ایک سوراخ بھی تھا ؟ جس میں سے انسان گزر کر قبر میں داخل ہو جاتا تھا ایسا کسی بھی صحابی نے بیان نہیں کیا- اس سوراخ کو بند کیوں نہیں کیا گیا- یہ روایت منکر ہے

حسن بن حسن بن علی کی روایت

مصنف عبد الرزاق [ص:577]  6726  ٤٨٣٩  اور مصنف ابن ابی شیبہ ٧٥٤٣ کی روایت ہے

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، – عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: سُهَيْلٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: رَأَى قَوْمًا عِنْدَ الْقَبْرِ فَنَهَاهُمْ وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا، وَلَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَصَلُّوا عَلِيَّ حَيْثُمَا كُنْتُمْ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي»

ابن عجلان نے کہا کہ ایک شخص جس کو سہیل کہا جاتا تھا اس نے حسن بن حسن بن علی سے روایت کیا کہ  حسن بن حسن بن علی نے ایک بار ایک قوم کو دیکھا کہ وہ قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں  پس انہوں نے منع کیا اور کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے  کہ لوگوں میرے گھر پر میلا نہ لگاو اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان بناو ،البتہ جہاں کہیں بھی رہومیرے اوپر درود بھیجتے رہو، اسلئے کہ تمھارا درود مجھ تک یقینا پہنچے گا

روایت مقطوع ہے اس میں  صحابی کا نام نہیں جس سے یہ روایت سنی

ابن تیمیہ اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقيم 1/ 298 – 299 و 2/ 656  میں سنن سعید بن منصور کے حوالے سے سند دیتے ہیں

عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي أني سهيل بن أبي سهيل قال: رآني الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالب عند القبر فناداني وهو في بيت فاطمة يتعشى، فقال: هلم إلى العشاء، فقلت: لا أريده، فقال: ما لي رأيتك عند القبر؟ قلت: سلمت على النبي – صلى الله عليه وسلم -، فقال: إذا دخلت المسجد فسلم. ثم قال: إنّ رسول الله – صلى الله عليه وسلم – قال “لا تتخذوا قبري عيدا، ولا تتخذوا بيوتكم مقابر، لعن الله اليهود اتخذوا قبور أنبياءهم مساجد، وصلوا عليّ، فإنّ صلاتكم تبلغني حيث ما كنتم” ما أنتم ومن بالأندلس إلا سواء.

سهيل بن أبي سهيل نے کہا مجھ کو حسن بن حسن نے دیکھا میں قبر کے پاس تھا پس انہوں نے مجھے پکارا اور وہ فاطمہ کے گھر میں رات کا کھانا کھا رہے تھے انہوں نے کہا کھا لو – میں نے کہا مجھے ضرورت نہیں- پوچھا کہ میں نے تم کو قبر کے پاس کیوں دیکھا ؟ میں نے کہا نبی صلی الله علیہ وسلم پر سلام کہہ رہا تھا – انہوں نے کہا جب مسجد میں داخل ہو سلام کہو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری قبر کو میلہ مت بناؤ اور نہ گھروں کو قبریں – الله کی لعنت ہو یہود پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا – مجھ پر درود کہو کیونکہ تم جہاں بھی ہو یہ مجھ تک اتا ہے اور یہ برابر ہے تم میں اور اندلس والوں میں

امام بخاری تاریخ الکبیر میں کہتے ہیں سہیل کا سماع حسن سے نہیں ہے

سهيل عن حسن بن حسن روى عنه محمد بن عجلان منقطع

سہیل جس سے حسن بن حسن نے روایت کیا اور اس سے ابن عجلان نے – منقطع ہے

ابو مسعود الانصاری رضی الله عنہ سے منسوب روایات

  الحاكم  کتاب   المستدرك على الصحيحين میں روایت پیش کرتے ہیں

حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه ، أنبأ أحمد بن علي الأبار ، ثنا أحمد بن عبد الرحمن بن بكار الدمشقي ، ثنا الوليد بن مسلم ، حدثني أبو رافع ، عن سعيد المقبري ، عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : « أكثروا علي الصلاة في يوم الجمعة ، فإنه ليس أحد يصلي علي يوم الجمعة إلا عرضت علي صلاته »

أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه  سے مروی ہے کہ  نبي صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تم کثرت سے جمعہ کے دن درود کہو کتونکہ ایسا کوئی نہیں جو درود  جمعہ کے دن اور وہ فرشتے مجھ تک نہ پہنچا دیں

اس کی سند میں أبو رافع إسماعيل بن رافع  ہے جس کو امام ابن معین نے ضعیف کوئی چیز نہیں کہا ہے اور احمد نے منکر الحدیث قرار دیا ہے –  نسائی نے متروک قرار دیا ہے

انس رضی الله عنہ سے منسوب روایات

حدثنا أحمد قال : نا إسحاق قال : نا محمد بن سليمان بن أبي داود قال : نا أبو جعفر الرازي ، عن الربيع بن أنس ، عن أنس بن مالك ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : « من ذكر الله ففاضت عيناه من خشية الله حتى تصيب الأرض دموعه لم يعذبه الله يوم القيامة » وقال النبي صلى الله عليه وسلم : « من صلى علي بلغتني صلاته ، وصليت عليه ، وكتبت له سوى ذلك عشر حسنات » « لم يرو هذين الحديثين عن أبي جعفر إلا محمد بن سليمان

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو الله کا ذکر کرے اور اس کے خوف سے اس کی آنکھ نم ہو جائے حتی کہ آنسو زمیں تک آ جائے تو  اس کو روز محشر عذاب نہ ہو گا  .. اور جس نے مجھ پر درود کہا وہ مجھ تک آ گیا اور میں نے اس کے لئے دعا کی اور اس کے لئے دس نیکییاں لکھ دی گئیں

اس کی سند میں أبو جعفر الرازي  عيسى بن ماهان ہے جس کو عقیلی نے  ليس بالقوي في الحديث قرار دیا ہے – احمد نے بھی کمزور اور مضطرب الحدیث کہا ہے

 قارئیں اپ دیکھ سکتے ہیں تمام اسناد ضعیف ہیں

کتاب ذہن پرستی از مسعود احمد بی ایس سی میں اوپر والی تمام روایات کی تصحیح و تحسین کی گئی ہے دیکھتے ہیں امیر جماعت المسلمین کیا لکھ گئے ہیں

اپ ہماری تحقیق  کو  غیر مقلدین کی تحقیق سے ملا کر دیکھ سکتے ہیں کہ حق کیا ہے

یاد رہے کہ جو الله کا حق ہے وہ اسی کا ہے جو اس کو چھیننے کی کوشش کرے گا وہ جواب دہ ہو گا

سلف کے متعدد  لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں درود و سلام سنتے ہیں یہاں تک کہ  بعض کے نزدیک اگر قبر نبوی کے قریب سلام کہا جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سنتے ہیں اور دور سے کہا جائے، تو خود نہیں سنتے، بلکہ فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ درود و سلام پہنچاتے ہیں۔ اس عقیدے کے قائل بڑے بڑے نام ہیں مثلا ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن کثیر، النووی وغیرہ – اسی عقیدے کے قائل وہابی علماء ہیں اور آج بھی روضہ رسول کے اوپر سوره الحجرات کی آیت لگی ہے کہ اپنی آواز کو رسول کی آواز سے پست رکھو – اس کا مقصد یہ ہے کہ قبر نبوی میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم،  سلام کا جواب دے رہے ہیں جو دھیمی آواز کی وجہ سے سنا  نہیں جا رہا لہذا جو یہاں مجمع لگائے ہوئے ہیں وہ بھی اسی قدر انداز  میں درود و سلام کہیں- اس کے بر عکس نبی   صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی قبر مبارک میں قریب یا دور سے سلام سننا قطعاً ثابت نہیں۔ جو لوگ ایسے عقائد  رکھتے ہیں ان کی اساس بعض ضعیف روایات ہیں-

کتاب الصَّارِمُ المُنْكِي في الرَّدِّ عَلَى السُّبْكِي میں  شمس الدين محمد بن أحمد بن عبد الهادي الحنبلي (المتوفى: 744هـ) کہتے ہیں

فأخبر أنه يسمع الصلاة من القريب وأنه يبلغ ذلك من البعيد

پس اپ صلی الله علیہ وسلم نے خبر دی کہ اپ قریب سے کہا جانے والا سلام سنتے ہیں اور دور کا پہنچا دیا جاتا ہے

ابن تيمية  ، مجموع الفتاوى ( 27 / 384 ) میں کہتے ہیں

 أنه صلى الله عليه وسلم يسمع السلام من القريب

بے شک اپ صلی الله علیہ وسلم قریب سے کہا جانے والا سلام سنتے ہیں

کتاب القَولُ البَدِيعُ في الصَّلاةِ عَلَى الحَبِيبِ الشَّفِيعِ میں امام السخاوی کہتے ہیں

 وعنه أيضاً – رضي الله عنه – قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – من صلى علي عند قبري سمعته ومن صلى علي من بعيد أعلمته أخرجه أبو الشيخ في الثواب له من طريق أبي معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عنه ومن طريقه الديلمي وقال ابن القيم أنه غريب قلت: وسنده جيد كما أفاده شيخنا

اور ابو ہریرہ رضی الله عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری قبر کے پاس درود پڑھا  گیا تو یہ میں سنتا ہوں اور جس نے دور سے پڑھا تو یہ مجھ تک پہنچتا ہے اس کی تخریج ابو الشیخ نے کی ہے أبي معاوية عن الأعمش عن أبي صالح کے طرق سے اور الديلمي کے طرق سے اور ابن قیم نے کہا یہ منفرد ہے میں السخاوی کہتا ہوں اس کی سند جید ہے جیسا فائدہ ہمارے شیخ ابن حجر نے دیا ہے

 جو یہ مانتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم درود نہیں سنتے وہ یہ عقیدہ اختیار کر گئے ہیں کہ درود فرشتے  رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر پیش کر رہے ہیں – فرقہ پرستوں کے مطابق جب بھی کوئی درود کہتا ہے تو روح نبوی جسد نبوی میں واپس ڈالی جاتی ہے اور پھر امت کا عمل درود و دعا  پیش ہوتا ہے-

کتاب القَولُ البَدِيعُ في الصَّلاةِ عَلَى الحَبِيبِ الشَّفِيعِ میں امام السخاوی، قبر نبوی میں روح کی واپسی والی روایت پر  کہتے ہیں

وقال شيخنا رواته ثقات، قلت لكن أفرد به يزيد عبد الله بن قسيط براوية له عن أبي هريرة وهو يمنع من الجزم بصحته لأن فيه مقالاً وتوقف مالك فقال في حديث خارج الموطأ ليس بذاك وذكر التقي بن تيمية ما معناه أن رواية أبي داود فيها يزيد بن عبد الله وكأنه لم يدرك

ہمارے شیخ ابن حجر کہتے ہیں اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن میں کہتا ہوں اس میں یزید بن عبد الله بن قسیط کا تفرد ہے جو ابو ہریرہ سے روایت پر ہے اور جزم کے ساتھ اس کی روایت کی صحت کا کہنے پر منع ہے کیونکہ اس پر کلام ہے اور امام مالک کا توقف ہے  اور ایک حدیث جو موطا  میں نہیں ہے اس پر ان کا کہنا ہے کہ یہ لیس بذاک ہے اور ابن تیمیہ نے ذکر کیا اس کی روایت کا جو سنن ابو داود میں اس معنوں میں کہ گویا عبدالله نے ابوہریرہ کو نہیں پایا

یعنی مسلک پرستوں کی ممدوح شخصیت خود کہہ رہی ہیں کہ رد الله علی روحی والی روایت مشکوک ہے

راقم کہتا ہے سخاوی کا قول صحیح ہے لیکن ابن تیمیہ کے حوالے سے جو انہوں نے سمجھا ہے وہ صحیح نہیں کہ وہ اس روایت کو رد کرتے ہیں

سردست یہاں نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پیش ہونے والی روایات کا جائزہ پیش کیا گیا  ہے  تاکہ اپ اس عقیدہ  سے متعلق روایات میں ضعیف راویوں کی حثیت کو جان سکیں

درود سلام الله تک جاتا ہے نبی صلی الله علیہ وسلم تک اس کو پہنچانا اصل میں علم غیب کا دعوی کرنا ہے اپ صلی الله علیہ وسلم کو ان کی زندگی ہی میں معلوم تھا کہ کون مومن ہے اور کون منافق ہے جبکہ قرآن میں ہے  تم ان کو نہیں جانتے ہم جانتے ہیں- شیعہ راویوں یا شیعہ نواز راویوں  نے اس عقیدہ کو گھڑا تاکہ اس کو پہلے نبی صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے قبول کروایا جائے پھر ائمہ کے لیے بھی اس کا دعوی کیا جائے-

اہل تشیع کا یہ عقیدہ ہے کہ امت کا عمل ائمہ پر پیش ہوتا ہے

کتاب الأمالي للطوسي کی روایت ہے

 أخبرنا محمد بن محمد، قال أخبرنا أبو الحسن علي بن بلال المهلبي، قال حدثنا علي بن سليمان، قال حدثنا أحمد بن القاسم الهمداني، قال حدثنا أحمد بن محمد السياري، قال حدثنا محمد بن خالد البرقي، قال حدثنا سعيد بن مسلم، عن داود بن كثير الرقي، قال كنت جالسا عند أبي عبد الله )عليه السلام( إذ قال مبتدئا من قبل نفسه يا داود، لقد عرضت علي أعمالكم يوم الخميس

 داود بن كثير الرقى (مجھول الحال ہے نسائی نے خصائص علی میں روایت لی ہے) نے کہا امام ابو عبد الله نے کہا .. تمہارے اعمال  مجھ پر جمعرات کو پیش ہوتے ہیں 

الکافی میں باب عرض الاعمال على النبي صلى الله عليه وآله والائمة عليهم السلام دیکھا جا سکتا ہے

عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن الحسين بن سعيد، عن النضر بن سويد، عن يحيى الحلبي، عن عبدالحميد الطائي، عن يعقوب بن شعيب قال: سألت أبا عبدالله عليه السلام عن قول الله عزوجل: ” اعملوا فسيرى الله عملكم ورسوله والمؤمنون ” قال: هم الائمة.

يعقوب بن شعيب نے کہا میں نے امام ابو عبد الله سے قول الله  اعملوا فسيرى الله عملكم ورسوله والمؤمنون  پر سوال کیا- فرمایا اس سے مراد ائمہ ہیں

تفسیر القمی میں ہے

وعن محمد بن الحسن الصفار عن ابي عبدالله عليه السلام قال ان اعمال العباد تعرض على رسول الله صلى الله عليه وآله كل صباح ابرارها وفجارها فاحذروا فليستحيي احدكم ان يعرض على نبيه العمل القبيح، وعنه صلوات الله عليه وآله قال ما من مؤمن يموت او كافر يوضع في قبره حتى يعرض عمله على رسول الله صلى الله عليه وآله وعلى امير المؤمنين عليه السلام

اور  محمد بن الحسن الصفار سے روایت ہے کہ امام ابو عبد الله علیہ السلام نے کہا بے شک  بندوں کا عمل رسول الله صلی الله علیہ و الہ پر پیش ہوتا ہے ہر صبح کو نیکو کاروں اور گناہ گاروں کا پس حیا کرو کہ تمہارا عمل قبیح نبی پر پیش ہو اور اپ صلوات الله عليه وآله نے فرمایا ہے کوئی مرنے والا مومن یا کافر نہیں جو قبر میں ہو  حتی کہ اس کا عمل رسول الله صلی الله علیہ و الہ اور امیر المومننیں علیہ السلام پر پیش نہ ہو

عقیدہ عرض اعمال کا سیاسی پہلو

شیعہ راویوں یا شیعہ نواز رویوں نے اغلبا عرض اعمال کا عقیدہ اس لئے  گھڑا کہ بنو ہاشم نے دور بنو امیہ میں کئی بار خروج کیا اس دوران یہ ثابت کرنے کے لئے کہ مخالف اصل میں مسلمان نہیں بلکہ منافق ہیں اس عقیدہ کا اجراء ہوا کہ یہ کہا جائے کہ امت میں منافق ختم نہیں  ہوئے بلکہ اقتدار نشیں ہو گئے ہیں ان کے خلاف خروج کرنا ہو گا اور یہ بات کہ مخالف منافق ہیں اس کی خبر درود سے مل رہی ہے کہ ان منافقوں کا درود نبی صلی الله علیہ وسلم پر پیش نہیں ہوتا اور ائمہ پر بھی پیش نہیں ہوتا

عرض اعمال کی روایات پر مزید تحقیق یہاں ہے

http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2015/11/مصطفی-سراپا-رحمت-پہ-لاکھوں-سلام.pdf
This entry was posted in Aqaid. Bookmark the permalink.

2 Responses to یا النبی سلام علیک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *